Home Blog Page 154

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان کی خصوصی ہدایت

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا لیبر ڈیپارٹمنٹ نے نیشنل ووکیشنل ٹریننگ کمیشن کے تعاون سے مختلف سکلز ڈیولپمنٹ کورسز کیلئے خیبر پختونخوا کے 7 اضلاع میں 8سٹیشز پر ٹیسٹ کا انعقاد کیا امیداروں کے کورسز میں سلیکشن کو شفاف طریقے سے بنانے کیلئے ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے امتحانی ٹیسٹ لیاگیا ای ٹیسٹ نظام کے ذریعے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے 8ٹیکنیکل انسٹی ٹیوشنز میں امیدواروں کو ٹیسٹ میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کئے گئے ٹیسٹ پشاور، ہری پور، ٹانک، نوشہرہ، سوات، بنوں اور ڈی آئی خان کے ٹیکنیکل انسٹی ٹیوشنز میں منعقد ہوئے ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے امیداروں کو شارٹ لسٹ کرنے کے بعد مختلف سکلز ڈیولپمنٹ کورسز میں داخلہ دیا جائیگا جہاں پر ان امیداروں کو کورسز سکھانے کے ساتھ ساتھ ماہانہ سکالرشپ بھی دیا جائیگا نیوٹیک پراجیکٹس کے تحت شارٹ لسٹیڈ امیدواروں کو 6 اور 3 مہینے کے دورانیہ کی ٹریننگ دی جائے گی انٹرنیٹ آف تھنگز سسٹم ڈیویلپمنٹ اینڈ اپلیکیشن، گرافک ڈیزائننگ آف مینجمنٹ، ای کامرس اور جنرل الیکٹریشن میں امیدواروں کو ٹریننگ دی جائیگی ٹریننگ مکمل ہونے پر امیدواروں کو سرٹیفیکیٹس بھی دئیے جائینگے اوریہی امیدوار بین الاقوامی سطح پر سکلڈ لیبر کے مواقع کیلئے اہل تسلیم کئے جائینگے اور آسانی سے باہر ممالک میں انکو روزگار بھی ملے گا۔

مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن میاں عین اللہ نے کہا

مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن میاں عین اللہ نے کہا ہے کہ فاؤنڈیشن ضم اضلاع میں تعلیمی بہتری کے لیے انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ قابل اور ذہین طلباء و طالبات کو صوبے کی بہترین تعلیمی درسگاہوں میں سکالرشپ فراہم کر کے بارہویں جماعت تک مفت تعلیم بھی فراہم کی جاتی ہے جبکہ فاؤنڈیشن کے نئے شروع کردہ پروگرامز کے ذریعے جہاں پر پرائمری سے اوپر لیول کے تعلیمی ادارے موجود نہیں وہاں مڈل سکول پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضم اضلاع اورکزئی اور باجوڑ کے کمیونٹی سکولوں کے اساتذہ کو چار روزہ تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ سے کہا کہ ٹیچنگ ایک مقدس پیشہ ہے اور آپ لوگوں پر اس ملک کے مستقبل کو سنوارنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہے آپ لوگوں نے یہاں دوران تربیت جو کچھ سیکھا وہ اپنے طلباء و طالبات کو منتقل کریں بچوں کی درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاقیات پر بھی خصوصی توجہ دیں اور ان کو ایک مفید شہری بنائیں تاکہ وہ ملک و قوم کی بہتر خدمت کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کریں آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہمیں بین الاقوامی لیول پر مقابلے کے لیے اپنے بچوں کو تیار کرنا ہوگا جس کے لیے ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
مینجنگ ڈائریکٹر میاں عین اللہ نے مزید کہا کہ ہمارے فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد آؤٹ آف سکول کو کنٹرول کر کے بچوں کو سکول میں لانا ہے اور نئے تعلیمی سینٹرز قائم کر کے بچوں کو ان کی دہلیز پر بہترین تعلیمی مواقعوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کمیونٹی سکولوں میں موجود طلباء و طالبات کو کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرنا ہے۔ میاں عین اللہ نے فاؤنڈیشن کے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے حوالے سے کہا کہ فاؤنڈیشن کا یہ سسٹم مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے طلبہ و اساتذہ اور سکولوں کی تفصیلات مکمل کر لی گئی ہیں اور طلبہ و اساتذہ کی روزانہ حاضری کے ساتھ ساتھ درسی کتابوں کی فراہمی، روزانہ کی مانیٹرنگ اور امتحانات و نتائج بھی اسی سسٹم کے تحت منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے چار روزہ تربیت کے حوالے سے کہا کہ تربیت مینول اساتذہ کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے جس کے لیے کمیونٹی سکولوں کے اساتذہ کو درپیش تدریسی مشکلات کے مطابق تربیت مینول تیار کیا گیا ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اس تربیت کے بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔ اس چار روزہ تربیت پروگرام کے تحت اساتذہ کو کلاس روم مینیجمنٹ، ایس ایل او بیسڈ تربیت، سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت لائحہ عمل، ملٹی گریڈ ٹیچنگ، ٹیچنگ سکلز، گروپ ایکٹیویٹیز، جائزہ اور دوسری اہم سکلز سکھائی گئیں۔ ماسٹر ٹرینرز کی خدمات خالدہ ادیب اور طارق علی نے دیں تقریب کے اختتام پر تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کو سرٹیفیکیٹس اور توصیفی اسناد دی گئیں۔

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا

0

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں کامیابی کے بعد جعلی حکومت کی بنیادیں ہل چکی ہیں، دونوں ہائیکورٹس عمران خان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھے ہیں، جعلی حکومت کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ہائی کورٹس کے نو منتخب صدور کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ جیت دراصل پی ٹی آئی اور عمران خان کے نظریے کی فتح ہے۔انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت کو بار انتخابات میں فارم 47 کے ذریعے دھاندلی کا موقع نہیں ملا۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ اس شاندار کامیابی نے ثابت کر دیا کہ اس ملک کے حقیقی لیڈر عمران خان ہیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وکلاء کی نومنتخب قیادت آئین کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گی اور عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ یہ الیکشن جعلی حکومت کے غیر قانونی اور اوچھے ہتھکنڈوں کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ شفاف انتخابات کے ذریعے جعلی حکومت کو ہر جگہ پر رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان بھر میں جیت کا جشن منایا جارہا ہے کیونکہ بار کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے نظرئیے کی جیت ہوئی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ عمران خان سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی قریب ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے ٹیوٹا ہیڈ کوارٹر میں درخت لگا کر ٹری پلانٹیشن مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ درخت ہمارے ماحول کو نہ صرف خوبصورت بناتے ہیں بلکہ ماحولیاتی الودگی کو ختم کرنے کے لئے درخت انتہائی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹیوٹا ہیڈ کوارٹر میں درخت لگا کر ”ٹری پلانٹیشن مہم کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر ٹیوٹا و دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ٹری پلانٹیشن مہم کے حوالے سے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن نے ٹیوٹا کے زیرِ نگرانی تمام ٹیکنیکل کالجز اور سنٹرز کو باقاعدہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام کالجز اور ٹیکنیکل سنٹرز ٹری پلانٹیشن مہم میں حصہ لے اور اپنے اپنے اداروں میں اس پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹری پلانٹیشن مہم میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلباء بھی حصہ لے اور اپنے کالجز کو درخت لگا کر کالجز کے ماحول اور آب و ہوا کو سبز اور صاف بنانے میں آپنا کردار ادا کریں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں معدنی اور قدرتی وسائل کی ترقی اور اس سے استفادے حاصل کرنا ہے انہوں نے کہا،پاکستان بالعموم اور خاص طور پر خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ ہمارے صوبے میں کوئلہ، نیفرائٹ، جپسم اور تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں صوبائی وزیر نے ان خیالات کااظہار نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس ان جیالوجی یونیورسٹی آف پشاور کیقدرتی وسائل کے پائیدار استعمال پر چوتھی بین الاقوامی دو روزہ کانفرنس کے اختتامی تقریب سے بطورمہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا قومی نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس ان جیالوجی پشاور کی جانب سے منعقد کی گئی قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال پر چوتھی بین الاقوامی کانفرنس دو روز کے کامیاب مباحثے اور پیشکشوں کے بعد جمعرات کو اختتام پذیر ہوئی اپنے خطاب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صوبے بھر میں معدنی سائٹس کے لیے لیز کے معاہدوں کو بہتر کرنے کے طریقوں پر عمل پیرا ہے اور وہ ان لیز داروں سے لیز کے لائسنس واپس لے لے گی جو اپنے لیز معاہدے کے دو سال کے اندر کام شروع نہیں کرپاتے۔صوبائی وزیر نے صوبے کے قدرتی وسائل کی قدروقیمت میں جدیدیت لانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہاکہ ”پائیدار کان کنی اور اسکی قیمت میں اضافہ صوبے کی طویل مدتی اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں معاون ثابت ہوں گے،” انہوں نے نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس ان جیالوجی پشاور کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی کی محنت اور اس تحقیقی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر ان کی تعریف کی۔تقریب سے ڈاکٹر امجد علی، ڈائریکٹر جنرل سپارک ونگ سپارکو,پاک-آسٹریا فکاشولے انسٹی ٹیوئٹ آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عبدالمتن، پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم قاضی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف پشاور،چین کی سینٹرل ساؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر روجن چن نے بھی خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر ابراہم جالبوٹ، سی ای او آگزیلیم ٹسکان ایریزونا امریکہ نے کانفرنس میں آن لائن خطاب کی اختتامی تقریب میں مہمانوں اور کانفرنس کے منتظمین کی محنت اور خدمات کے اعتراف میں صوبائی وزیر مینا خان نے پروفیسر ڈاکٹر روجن چین اور نیشنل سینٹرکی ٹیم سمیت ممتاز مہمانوں کو شیلڈز پیش کیں۔

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کا ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس سے خطاب

0

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے پروگریسو کلائمیٹ فاؤنڈیشن (PCF) اور ڈائریکٹوریٹ اف یوتھ افیرز خیبر پختونخوا کے اشتراک سے منعقدہ ماحولیاتی تبدیلی پر ایک روزہ کانفرنس میں شرکت کی۔ اس موقع پر نوجوانوں، طلبہ اور ماحولیاتی کارکنوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز اور ان کے حل میں نوجوانوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ماحولیاتی تبدیلی کو انسانیت اور تمام جانداروں کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اس چیلنج کو مثبت اور عملی اقدامات کے ذریعے سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ماحولیاتی پالیسیوں کی تشکیل میں نوجوانوں کے کلیدی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں اس معاملے کی ذمہ داری لینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، خاص طور پر نوجوان نسل کو اس میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ کم ہے، لیکن یہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے اپنے تجربات کی مثالیں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بلند مقامات جیسے سیاچن میں ماحولیاتی خرابی اور کچرے کے انتظام کا مسئلہ دونوں اطراف کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ڈاکٹر سیف نے سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر آگاہی مہمات کو مؤثر پالیسی تبدیلیوں کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں پلاسٹک بیگز پر پابندی کی کامیاب مثال دی، جسے طلبہ اور نوجوانوں نے رپورٹنگ اور متبادل کے فروغ کے ذریعے مؤثر بنایا۔انہوں نے پروگریسو کلائمیٹ فاؤنڈیشن اور دیگر تنظیموں کی ماحولیاتی بہتری کے لیے مقامی سطح پر کی جانے والی کاوشوں کو سراہا اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والے منصوبوں کی حکومتی سرپرستی کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے گرین کلائمیٹ فنڈ جیسے بین الاقوامی وسائل کو بروئے کار لانے کے حکومتی عزم کا بھی اعادہ کیا۔اپنے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر سیف نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی کاوشوں کو دستاویزی شکل دیں، ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دیں اور پالیسی سازی میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے نوجوان ماحولیاتی کارکنوں کے ساتھ تعاون اور ان کے خیالات کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری پلیٹ فارمز فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے ماحولیاتی وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی پالیسیوں پر توجہ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں محکمہ سوشل ویلفیئر کے وزیر سید قاسم علی شاہ نے بھی شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے ضلعی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے ضلعی دفتر سماجی بہبود صوابی میں جمعرات کے روز منعقدہ تقریب میں افراد باہم معذوری میں امدادی رقم کے چیکس تقسیم کیئے۔ تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی مرتضی خان کے علاؤہ ضلعی افسر سماجی بہبود ظفر،پاکستان تحریک انصاف تحصیل لاھور کے صدر سہیل خان اور جنرل سیکریٹری مختیار خان و دیگر عمایدین بھی موجود تھے۔معاون خصوصی نے اس موقع پر 10،10 ہزار کے چیک ضرورت مند افراد میں تقسیم کیئے۔انھوں نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں افراد باہم معذوری کا ایک اہم کردار ہے۔یہ حضرات ہمارے لیئے اہمیت کے حامل ہیں اور حکومت خصوصی افراد، غربا اور خواتین کی فلاح و بہبود کو اپنا اولین فرض سمجھتی ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے محکمہ سماجی بہبود کے تحت افراد باہم معزوری،خواتین اور ٹرانس جینڈر کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے بلاسود قرضہ سکیم کا آغاز کیا ہے تاکہ ان میں کاروباری سوچ بڑھے اور اپنے لیئے معاشی ذرایع خود پیدا کریں۔انھوں نے کہا کہ یہ طبقات حکومت کی جانب سے شروع کردہ ان قرضہ سکیموں سے استفادہ اٹھائیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ حکومت نے سرکاری نوکریوں میں بھی افراد باہم معذوری کیلئے مختص کوٹہ 1 سے 2 فیصد تک بڑھایا ہے اور ان کو ہر طرح سے سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے صوابی میں تحصیل لاہور اور رزڑ میں 2 ہزار افراد کو امدادی رقم کے یہ چیک دئے جائیں گے۔ جبکہ ویل چیرز،ایر ڈیوائسز کی فراہمی کیساتھ جہیز پروگرام کے تحت بھی آئندہ ان کے ساتھ تعاون کی جائے گی۔

مشیر صحت احتشام علی کی سربراہی میں ضلع مردان کے لائن ڈیپارٹمنٹس کا اجلاس۔

مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی کی سربراہی میں ضلع مردان کے لائن ڈیپارٹمنٹس کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی افسران نے اپنی کارکردگی اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں ڈی ایچ او مردان ڈاکٹر شعیب، ڈی ای او فی میل ثمینہ غنی، ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر جاوید سمیت تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں جاری ترقیاتی اسکیموں، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور سروس ڈلیوری کو مزید موثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیر صحت احتشام علی نے تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کو ہدایت دی کہ ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے گڈ گورننس اور خدمات کی بروقت فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ادارے باہمی روابط مضبوط کریں تاکہ غیر ضروری مسائل سے بچا جا سکے۔مشیر صحت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پہلے سڑک تعمیر کر دی جاتی ہے اور بعد میں گیس یا پبلک ہیلتھ کی پائپ لائن گزاری جاتی ہے، جس سے نئی بنی سڑک متاثر ہوتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تمام محکمے ایک مربوط حکمت عملی اپنائیں اور منصوبہ بندی کے ساتھ کام کریں۔اجلاس میں مردان میں صاف پانی کی فراہمی، بجلی کی ترسیل، ٹرانسفارمرز کی تنصیب و تجدید، سکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر، سڑکوں کی توسیع، اور مراکز صحت کی بہتری کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مشیر صحت نے محکمہ سماجی بہبود کو ہدایت کی کہ رمضان المبارک کے دوران مختلف مقامات پر مفت افطار پروگرامز کا انعقاد کیا جائے تاکہ مستحق افراد کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی سے چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ کی ملاقات

مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی سے نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ (NCRC) کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملاقات کی۔ ملاقات میں سپیشل سیکرٹری ہیلتھ پولیو عبدالباسط، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ منظور آفریدی، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اصغر خان، ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر خضر حیات، نادیہ بی بی ممبر خیبرپختونخوا نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ، اور پروگرام آفیسر ماہم آفریدی بھی شریک تھے۔ملاقات میں بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن، کرم میں ادویات کی فراہمی کی صورتحال، جنوبی اضلاع میں ویکسینیشن، اور بگ کیچ اپ کمپین کے دوران آؤٹ ریچ سرگرمیوں کو مزید موثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیر صحت نے چیئرپرسن کو کرم میں ادویات اور صحت کے دیگر معاملات سے آگاہ کیا اور بگ کیچ اپ کمپین کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی۔چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق نے مشیر صحت کو پیدائش کی رجسٹریشن کے قوانین کی باقاعدہ منظوری کے لیے سفارشات پیش کیں اور صحت کے مربوط نظام اور ڈیٹا انٹیگریشن ماڈل کی توثیق پر زور دیا۔ مشیر صحت نے اس موقع پر کرم میں ادویات کی مبینہ قلت اور بچوں کی اموات سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں کی وضاحت کی اور حکومتی اقدامات سے چیئرپرسن کو آگاہ کیا۔پولیو ویکسینیشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر صحت نے بتایا کہ جنوبی اضلاع میں ویکسینیشن کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونرز کو حکمت عملی کا تعین کرنے کے بجائے فنڈز فراہم کرنے چاہئیں، جبکہ صوبائی حکومت خود طے کرے گی کہ کام کہاں اور کیسے کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو پروگرام میں سٹریٹیجک رد و بدل ناگزیر ہے۔مشیر صحت نے چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دفتر ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے پر کمیشن کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور محکمانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

پاکستان میں طلبہ اور انڈسٹری کے درمیان تعلق اور تعاون کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز میں خطاب

اینٹرپرینورشپس، سسٹارٹاپس شروع کرنے والے کے پاس کیپیٹل مارکیٹ کا علم ہونا بہت ضروری ہے اسٹاک ایکسچینج میں اکاؤنٹ کھولنے چاہیئے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز پشاور کا گزشتہ روز دورہ کیا اور انسٹیٹیوٹ کے فیکلٹی، طلباء و طالبات اور ایلومینائی نے کامیاب سٹارٹ اپ بزنس اور انکے مختلف ائیڈیاز مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کے سامنے پیش کئے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز ڈاکٹر عثمان غنی، ڈائریکٹر جنرل ہائیر ایجوکیشن کمیشن ناصر شاہ، فیکلٹی، طلباء و طالبات اور ایلومینائی نے شرکت کی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے مختلف اسٹارٹ اپس آئیڈیاز اور ان سے جوڑے کامیاب کرداروں پر اپنے خطاب میں تفصیلی گفتگو کی اور طلباء و طالبات اور ایلومینائی کی حوصلہ افزائی کی۔ مزمل اسلم نے ایلومینائی اور طلبہ کی جانب سے پیش کئے گئے ائیڈیاز اور اسٹارٹ اپس کو سراہا اور انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز کو ڈبلیو کیٹگری رینکنگ میں جگہ برقرار رکھنے کو بھی سراہا۔ ڈائریکٹر ائی ایم سائنسز ڈاکٹر عثمان غنی نے مشیر خزانہ کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے انسٹیٹیوٹ کیلئے 20 کنال متصل اراضی کی منظوری دی ہے جس پر وہ صوبائی حکومت اور وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے مشکور ہیں جس میں انسٹیٹیوٹ کو وسعت دی جائے گی۔ بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ انسٹیٹیوٹ میں چار ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں جس کیلئے چار سٹوڈنٹس ہوسٹل بھی موجود ہیں۔ ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ نے بتایا کہ ادارے میں 56 سے زائد پی ایچ ڈی اساتزہ بھی موجود ہیں۔