خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے حوالے سے اپنی نوعیت کے سب سے بڑے ایونٹ”خیبر پختونخوا گیمز 2025” باقاعدہ طور پر شروع ہوگئے۔ان کھیلوں کا باضابطہ افتتاح جمعرات کے روز وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پشاور سپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ ایک رنگا رنگ تقریب میں کیا جس میں صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان سید فخر جہان کے علاؤہ دیگر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی،سیکرٹری سپورٹس محمد ضیا الحق،ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصرخان سمیت مختلف اعلی سرکاری حکام، شائقین کھیل،کھلاڑیوں،طلبہ اور مرد وخواتین نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب میں آتش بازی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا جبکہ ثقافتی رنگوں پر مشتمل علاقائی روایتی رقص بھی پیش کی گئی۔تقریب میں امن کی علامت کے طور پر ہوا میں کبوتر اور غبارے بھی چھوڑے گئے اور مارشل آرٹ کے مظاہرے کیساتھ ساتھ اتھلیٹ سمیع اللہ و دیگر نے ان گیمز کا مشال روشن کیا۔منعقدہ تقریب میں صوبہ بھر کے سات ریجنز کے کھلاڑیوں پر مشتمل دستوں نے مارچ پاسٹ کیا اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے ان سے سلامی لی۔خیبر پختونخوا گیمز 2025 اس لحاظ سے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ ہے کہ اس میں پشاور،مردان،ہزارہ،کوہاٹ،ملاکنڈ،ایبٹ اباداور ڈی آئی خان کے سات ریجنز کے 2500 مرد و خواتین کھلاڑی حصہ لے رہیں۔یہ گیمز 23 فروری تک جاری رہیں گے جن میں مردوں کے 16 اور خواتین کی 12 کھیلیں شامل ہیں اور یہ پشاور، چارسدہ اور کوہاٹ میں کھیلیں جائیں گی۔مردوں کے مقابلوں میں اتھلیٹکس،فٹبال،ہاکی،والی بال،باسکٹ بال،کراٹے،تائکوانڈو،باکسنگ،اسکواش،ٹیبل ٹینس،بیڈ منٹن،جمناسٹک،تھرو بال،جوڈو،ہینڈ بال اور ووشو کے مقابلے شامل ہیں جبکہ خواتین کے مقابلوں میں اتھلیٹکس،ہاکی،کرکٹ،والی بال،باسکٹ بال،کراٹے،تائکوانڈو،جوڈو،نیٹ بال،اسکواش،ٹیبل ٹینس اور بیڈ منٹن کے مقابلے ہوں گے۔ منعقدہ تقریب سے صوبائی وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بانی چیرمین عمران کے ویژن کے مطابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی ہدایت پر ان کھیلوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا گیمز میں ٹیموں اور انفرادی حیثیت کے مقابلوں میں جیتنے والے کھلاڑیوں کو 25 ہزار روپے کا ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال کی حکومتی عرصہ میں یہ ہمارے صوبے کیلئے اعزاز ہے کی پی ٹی آئی کی حکومت نے زیادہ سپورٹس ایونٹس کا انعقاد کرایا جو کہیں اور نہیں ہوئے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ کھیلوں کی ان سرگرمیوں کے کامیاب انعقاد کا سارا سہرا وزیر اعلی علی امین خان گنڈاپور کو جاتا ہے جو اس شعبے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔انھوں نے بہترین انتظامات پر محکمہ سپورٹس کے حکام اور پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے میں کھیلوں کے مختلف ایونٹس کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آئندہ بڑا ایونٹ ڈیرہ جات کا منعقد کیا جائے گا جبکہ صوبے میں پولو گیمز بھی کرائیں گے۔انھوں نے کہا ارباب نیاز سٹیڈیم کو رونقیں بھی جلد از جلد بحال ہونے والی ہیں۔اس سٹیڈیم میں پی ایس ایل بھی ہوگا اور کوشش ہے کہ پشاور زلمی کے میچز بھی یہاں پر ہوں اور انٹرنیشنل کرکٹ یہاں پر لانے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔تقریب میں صوبائی وزیر کھیل نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو شیلڈ بھی پیش کی۔
خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ذوالفقار علی شاہ نے کہا ہے کہ تمام
خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ذوالفقار علی شاہ نے کہا ہے کہ تمام افسران عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور بلا تفریق عوام کی خدمت کریں۔آپ کی سروس کیلئے یہ ایک اہم سنگ میل ہے کہ آپ لوگوں کی ٹریننگ مکمل ہو گئی اور آپ پراونشل منیجمنٹ سروسز گروپ میں شامل ہو گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سول آفیسر میس میں ٹریننگ کورس کے اختتام پر اسناد کی تقسیم کے موقع پر شرکاء سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر سٹاف ٹریننگ انسٹیٹیوٹ دلدار محمد،پراؤیٹ سیکرٹری برائے معاون خصوصی بہبود آبادی سید شاہ باچا،ڈپٹی سیکرٹری وزیر اعلی سیکرٹریٹ ہاشم خان،تحصیلدار اجمل خان،سکندر خان،ارباب شاہی روم،تحصیلدار سکندر زمان اور دیگرتعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی سیکرٹری ہاشم خان نے تمام شرکاء کو ٹریننگ مکمل کرنے پر مبارکباد دی اور سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کو پروگرام آمد پر خوش آمدید کہا۔انہوں نے سینئر ٹریننگ سٹاف کو تربیت دینے پر انکا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر سٹاف ٹریننگ انسٹیٹیوٹ دلدار محمد دانش نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹریٹ سٹاف کی سکلز اور گورننس کو مزید بہتر بنانیکیلئے یہ ٹریننگ اور کورسز لازمی ہے تاکہ یہ افسران مختلف اضلاع میں جاکر عوام کی خدمت کرسکیں۔انہوں نے تمام افسران کو پی ایم ایس کیڈر میں ضم ہونے پر مبارکباد دی اور انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ذولفقار علی شاہ اور ڈائریکٹر ٹریننگ سٹاف دلدار محمد نے تمام شرکاء میں اسناد تقسیم کئے اور انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کی جمعیت علمائے اسلام (شیرانی) کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی سے ملاقات
اسلام (شیرانی) کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی سے ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کی جمعیت علمائے اسلام (شیرانی) کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے سینیئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی اور سابق سینیٹر اسلم بلیدی بھی ملاقات میں موجود تھے۔قائدین کا ملک میں مفاہمت کے فروغ، سیاسی تعاون اور اتفاق رائے سے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔قائدین نے مولانا محمد خان شیرانی سے ان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی۔بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی طرف سے مولانا محمد خان شیرانی کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کا پیغام بھی پہنچایا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے عمران خان اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی طرف سے مولانا محمد خان شیرانی اور ان کی جماعت کے قائدین کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا محمد خان شیرانی کی سیاسی و دینی خدمات کا عمران خان اور پی ٹی آئی کے ہاں بہت احترام ہے،ملک میں مفاہمت، باہمی تعاون اور اعتماد کی فضا کے فروغ میں ان کے اہم کردار کے خواہشمند ہیں، انہوں نے وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈا پور کی طرف سے مولانا شیرانی کو خیبرپختونخوا آنے کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر مولانا شیرانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمت کے ذریعے ملک کو ٹکراؤ سے نجات دلانی چاہیے،ملک میں مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے محمد علی درانی کو مزید فعال اور اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب کہ سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ مولانا شیرانی کی دینی و سیاسی خدمات کو سراہتے ہیں، زندگی کے ہر شعبے میں ان کا بے حد احترام اور عزت ہے، مولانا محمد خان شیرانی نے عمران خان اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور دعا کے لیے آنے والے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس*
خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چئیرمین کمیٹی محمد خورشید کی زیر صدارت جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ سائنس و ٹیکنالوجی اور خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے اراکین نیلوفر بابر اور محمد یامین کے علاوہ محکمہ قانون،ٹیلی کام، ایجوکیشن اور صوبائی اسمبلی کے افسران بھی موجود تھے۔اجلاس کے موقع پر کمیٹی ممبران کو محکمہ کی طرف سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی محمد خورشید نے کہا کہ صوبے میں سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فروغ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں جائیں اور بچوں کو مصنوعی ذہانت میں مہارت حاصل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا نے کی اشد ضرورت ہے اور تمام محکموں میں شفافیت لانے کے لیے ٹیکنالوجی سے مدد لی جائے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی ممبران کی صوبے میں واقع سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی مراکز کا دورہ کرنے کے لئے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔اور صوبے کے دور دراز اضلاع میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک قائم کئے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ جوان مستفید ہوسکیں۔ اس موقع پر نیلوفر بابر نے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر زور دیا کہ بچوں کو ڈیجیٹل اکانومی اور فری لانسنگ میں آگاہی اور اس حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔اجلاس کے دوران محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے درپیش مسائل کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا،جس پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے محکمہ کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور آئندہ اجلاس کو جلد منعقد کرنے کے احکامات جاری کئے۔
*چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی زیر صدارت رمضان المبارک کی تیاریوں کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس*
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت رمضان المبارک کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز عابد مجید، سیکرٹری خوراک، سیکرٹری سماجی بہبود، سیکرٹری صنعت، سیکرٹری بلدیات اور پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ (PMRU) کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران عوامی سہولت کے لیے مارکیٹ کے نظم و نسق، قیمتوں کے تعین، نگرانی کے نظام، اشیائے خورد و نوش کے معیار کی جانچ، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، مارکیٹ کا تجزیہ، صفائی و ستھرائی، ٹریفک کنٹرول، اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک مؤثر میکانزم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تاجروں، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور صارفین کے نمائندوں کو قیمتوں کے تعین کے عمل میں شامل کیا جائے گا تاکہ منصفانہ نرخ مقرر کیے جا سکیں۔ مقررہ نرخوں کو سوشل میڈیا، ایف ایم ریڈیو، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے تشہیر کیا جائے گا جبکہ قیمتوں کو پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم (IPMS) میں بھی اپ لوڈ کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں کم از کم ایک پرائس مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیا جائے گا، جبکہ ضلعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ان ڈیسکوں پر عوامی شکایات وصول اور فوری ازالے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ عوام کو معیاری دودھ اور اشیائے خورد و نوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تفصیلی میکانزم تشکیل دیا جائے گا۔ حلال فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں سحری اور افطاری کی اشیاء کے معیار کی جانچ کریں گی جبکہ دودھ میں ملاوٹ کی جانچ کے لیے چیک پوائنٹس قائم کی جائیں گی۔ مزید برآں، ویٹس اینڈ میئرز انسپکٹوریٹ کے ساتھ مربوط اقدامات کیے جائیں گے تاکہ معیار اور وزن کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے گوداموں اور ذخیرہ کرنے والی جگہوں کی مانیٹرنگ کی جائیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسی طرح، مارکیٹ میں کسی بھی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے ہفتہ وار بنیادوں پر اشیائے خورد و نوش کے ذخائر اور سپلائی چین کا جائزہ لیا جائے گا۔ صفائی و ستھرائی کے لیے رمضان المبارک سے ایک ہفتہ قبل سے ہی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو بازاروں میں صفائی کے انتظامات کو یقینی بنائیں گی، خاص طور پر افطار سے قبل کے اوقات میں۔رمضان کے دوران ٹریفک کے بہتر انتظام کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو بالخصوص افطار سے قبل رش والے علاقوں میں ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائیں گی۔ عارضی پارکنگ کا بندوبست کیا جائے گا جبکہ عوامی سہولت کے لیے اضافی عملہ بھی تعینات کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ رمضان المبارک کے دوران ان اقدامات کو بروقت اور مؤثر انداز میں نافذ کریں اور عوامی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیتے ہوئے مارکیٹ کے نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ رمضان المبارک کے لیے خصوصی ڈیوٹی روسٹر جاری کیا جائے جس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران اور عملے کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس، خوراک، زراعت، بلدیات، صنعت اور فوڈ اتھارٹی کے افسران کی فعال موجودگی رمضان المبارک میں گورننس کے مؤثر اقدامات کے لیے نہایت ضروری ہے۔ مزید برآں، چیف سیکرٹری نے پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ (PMRU) کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک مؤثر نظام متحرک کیا جائے، جس میں موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے شکایات کے اندراج کی سہولت فراہم کی جائے۔ تمام اضلاع میں کنٹرول رومز قائم کیے جائیں جن میں پی ٹی سی ایل اور واٹس ایپ نمبر مختص کیے جائیں تاکہ عوام اپنی شکایات آسانی سے درج کروا سکیں۔ اسی طرح، پرائس مانیٹرنگ کیمپس/ڈیسک اور فیلڈ میں موجود مانیٹرنگ ٹیموں کے ذریعے بھی عوامی شکایات وصول کرنے اور ان کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی زیر صدارت، رمضان المبارک کے دوران گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر ویڈیو لنک اجلاس
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں گڈ گورننس اور رمضان المبارک کے دوران عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ (PMRU) کے افسران نے شرکت کی۔ پی ایم آر یو کے عملے نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک جامع بریفنگ دی، جس میں گڈ گورننس کے حوالے سے حاصل کردہ اہداف اور رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف اقدامات کی تیاریوں پر روشنی ڈالی گئی۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے مؤثر گڈ گورننس اور رمضان المبارک کے دوران عوامی ریلیف کے اقدامات کی جامع اور ہمہ وقت مانیٹرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اشیائے ضروریہ کی دستیابی، قیمتوں کے کنٹرول، اور عوامی خدمات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں۔
صوبائی وزیر ظاہر شاہ طورو نے پلاٹو پل تا نوے کلے روڈ کا افتتاح کیا
پی کے-57 کی ترقی اولین ترجیح ہے، ترقی کا جال بچھا کر عوام کے امنگوں پر پورا اتریں گے، ظاہر شاہ طورو
خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے پلاٹو پل تا نوے کلے روڈ کا باقاعدہ افتتاح کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس سڑک کی پختگی علاقے کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جو وعدے کے مطابق پورا کر دیا گیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ حلقہ پی کے 57 میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا جائے گا اور مضافاتی علاقوں کی محرومیوں کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں نے عوام کو صرف نعروں اور وعدوں سے بہلایا اور ووٹ حاصل کیے، لیکن اب حقیقی ترقی کے عمل میں عوام کو شامل کرنا ان کا مشن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور ان شاء اللہ ہر وعدے کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔افتتاحی تقریب کے موقع پر علاقہ عمائدین اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور سڑک کے افتتاح پر صوبائی وزیر کا تہہ دل سے شکریہ بھی ادا کیا۔
مشیر صحت احتشام علی کی زیر صدارت صوبے کی پہلی ایم ایس کانفرنس کا انعقاد
صوبے کے تمام ہسپتالوں کے ایم ایس کی بھرپور شرکت، ایم ایس کی کارکردگی جانچنے کیلئے اکائیاں ترتیب دی گئی ہیں، سکور کے مطابق سزا و جزا کا عمل ہوگا,ڈی ایچ اوز میں جن کا سکور 60 سے نیچے ہے ان کی شفلنگ ہورہی ہے، اگلی باری ایم ایس کی ہوگی، جن کی کار کردگی اچھی رہے گی ان کو کوئی نہیں ہٹاسکتا, مشیر صحت احتشام علی کا ایم ایس کانفرنس سے خطاب
مشیر صحت احتشام علی کی زیر صدارت صوبے کی پہلی ایم ایس کانفرنس کا انعقاد
خیبرپختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (ایم ایس) کانفرنس کا انعقاد مشیر صحت احتشام علی کی زیر صدارت کیا گیا۔ اس کانفرنس کا مقصد صوبے کے تمام ہسپتالوں کے ایم ایس کی کارکردگی کا جائزہ لینا، درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کرنا اور صحت عامہ کی سہولیات میں بہتری کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کرنا تھا۔کانفرنس میں سیکرٹری صحت شاہداللہ خان، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم، ڈائریکٹر آئی ایم یو، چیف ایچ ایس آر یو اور تمام اضلاع کے ہسپتالوں کے ایم ایس نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر آئی ایم یو ڈاکٹر اعجاز نے فورم کو ایم ایس کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔مشیر صحت احتشام علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ صحت ایم ایس کو درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے۔ ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ہی چیک لسٹ فراہم کی جا چکی ہے، جس کی بنیاد پر ان کا احتساب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ“عوام کو بروقت ادویات اور معیاری صحت سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے صحت کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔”مشیر صحت نے ہسپتال منتظمین کو یقین دلایا کہ جب تک وہ ایمانداری سے کام کرتے رہیں گے، انہیں کسی قسم کے دباؤ یا غیر ضروری تبادلوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آپ کام کر رہے ہیں، میں اور وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈا پور آپ کی پشت پر کھڑے ہیں۔ اگر آپ میرے ساتھ ہیں تو محکمہ صحت بہترین کارکردگی دکھائے گا۔ اللہ نے آپ کو عوامی خدمت کا موقع دیا ہے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔”انہوں نے ایم ایس کو ہدایت کی کہ وہ شکایات کے ازالے کے لیے ایک منظم نظام بنائیں اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ آر ڈی جیز (ریجنل ڈائریکٹر جنرلز) ہسپتالوں کا دورہ کریں گے اور ان کی کارکردگی چیک کریں گے۔ مشیر صحت نے واضح کیا کہ“میں اپنے محکمے میں غیر ضروری مداخلت ہرگز برداشت نہیں کروں گا، اور میرے ذاتی کام کے لیے کوئی آپ کو فون نہیں کرے گا۔ آپ صرف اور صرف اپنے کام پر توجہ دیں۔”کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری صحت شاہداللہ خان نے کہا کہ محکمہ میں“سزا اور جزا”کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا:“جو افسران اور عملہ بہترین کارکردگی دکھائیں گے، انہیں انعام دیا جائے گا، جبکہ ناقص کارکردگی پر تادیبی کارروائی ہوگی۔ ایم ایس اپنے انڈیکیٹرز بہتر بنائیں اور غیر حاضر ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ کو رپورٹ کریں۔”سیکرٹری صحت نے مزید کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ اچھے برتاؤکو یقینی بنایا جائے، کیونکہ ایک مطمئن مریض ہی ہسپتال کی کارکردگی کا اصل ترجمان ہوتا ہے۔ انہوں نے ایم ایس کو ہدایت کی کہ وہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں تاکہ ہسپتالوں کی ساکھ مزید بہتر ہو۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کا گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر حیات آباد کا دورہ
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ فنی تعلیم کی ترقی اور اس میں جدت حاصل کرنا اولین ترجیح ہے، طلباء کو جدید تقاضوں کے عین مطابق فنی تعلیم فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر حیات آباد کے ایک روزہ دورے کے موقع پر کیا ہے۔ اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ ٹریننگ سنٹر سجاد خان ودیگر بھی موجود تھے۔ دورے پر معاون خصوصی کو سنٹر کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی گئی ہے۔ سنٹر میں طلباء کو معیاری تربیت دینے ان کی حاضری اساتذہ کی خاضریوں اور سنٹر میں مختلف ٹریڈز کے حوالے سے بھی معاون خصوصی کو بریفننگ دی گئی ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے بذات خود مختلف ٹریڈ کا معائنہ کیا اور سٹاف اور طلباء کے ساتھ ملے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دورے کا مقصد طلباء کو دی جانے والی ٹریننگ اور مختلف سہولیات کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا جبکہ اساتذہ اور طلباء کی حاضری یقینی بنائی جائے ہم نے اپنے صوبے میں فنی تعلیم کو عام کرنا ہے تاکہ نوجوانوں کو اس قابل بنا سکیں کہ وہ مستقبل میں اپنے لئے خود روزگار شروع کر سکیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ تعلیم کے فروغ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ تعلیم کے فروغ کے لیے ہماری خاص توجہ خواتین کی تعلیم پر ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کی تعلیم کی شرح کم ہے، لیکن حالیہ پالیسیوں کے نتیجے میں یہ تناسب حیران کن حد تک بڑھا ہے۔ 2013 سے اب تک اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی شرح بہت بڑھ چکی ہے، اور ہم پرامید ہیں کہ موجودہ صوبائی حکومت کا دور مکمل ہونے تک طالبات کی تعداد طلبا سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ حالیہ کالج انرولمنٹ میں دیکھا ہے کہ طالبات کی انرولمنٹ 70 سے 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ایک خوش آئند امر ہے صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار ویمن یونیورسٹی صوابی میں منعقدہ سپورٹس گالا کے افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر نے ویمن یونیورسٹی صوابی میں سپورٹس گالا کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا اس موقع پر انکے ہمراہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، صوبائی وزیر کھیل و امور نوجوانان سید فخر جہان، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز خان اور وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی صوابی میاں سید خان بھی موجود تھے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت نے انٹرمیڈیٹ سطح پر بچیوں اور یتیم بچوں کا تعلیم مفت کردیا ہے۔ اس اقدام سے ہزاروں طالبات کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملے گی، جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ سلیکشن بورڈ کے لیے تیاریاں تیز کریں ہم میرٹ اور شفافیت پر یقین رکھتے ہیں، اور تمام بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر کی جائیں گی، تاکہ تعلیمی معیار مزید بہتر ہو تقریب میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی خطاب کیا اور نوجوانوں کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں جو کسی بھی قوم کے لیے ایک سنہری موقع ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو مثبت انداز میں تیار کریں، انہیں مواقع فراہم کریں اور ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کریں، تو پاکستان تیزی سے ترقی کر سکتا ہے اور اپنی معیشت اور معاشرت کو مضبوط بنا سکتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی اللہ تعالیٰ دیتا ہے، لیکن محنت اور کوشش ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں نیک نیتی اور بھرپور محنت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ہم اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں اس موقع پر وزیر برائے کھیل فخر جہاں نے کھیلوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت خواتین کے کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ صحت مند سرگرمیاں نوجوان نسل کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ کھیل نہ صرف جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں بلکہ ذہنی نشوونما میں بھی مدد دیتے ہیں۔ حکومت خواتین کے کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ طالبات اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی صوابی میاں سید خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو آگے لانے کے لیے یونیورسٹی اپنی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ طالبات کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بہترین مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں حاجی رنگیز خان نے ویمن یونیورسٹی صوابی کو ایک بہترین تعلیمی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی ترقی سے علاقے میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کو مزید فروغ ملے گا اور پورے صوبے میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمیں فخر ہے کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کی تعلیم کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے تقریب کے اختتام پر بہترین کارکردگی دکھانے والی طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کو کیش پرائز اور شیلڈز دی گئیں، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور شرکاء نے اس کامیاب ایونٹ کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا۔
