خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختونیار خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی آمین خان گنڈا پور نے حالیہ قبائلی عمائدین کے اعلیٰ سطحی جرگے میں پورے صوبے، خاص طور پر جنوبی اضلاع، قبائلی علاقوں اور بنوں ڈویژن کے عوام کا مقدمہ نہایت جرات اور حکمت کے ساتھ وزیر اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جرگے میں خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش حقیقی مسائل کی کھل کر نمائندگی کی جن میں صوبے میں امن و امان کی خراب صورت حال، این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے ساتھ ناانصافی، آبی منافع کی عدم ادائیگی، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی، ڈرون حملوں سے شہریوں میں خوف و بے چینی، آئی ڈی پیز کے مسائل اور ان کی واپسی، افغانستان امن مذاکرات میں خیبر پختونخوا کے عوامی مفادات کی عدم ترجمانی اور خاص طور پر بنوں ڈویژن کی مسلسل نظراندازی شامل تھے,وزیر اعلیٰ نے جرگے میں واضح کیا کہ اچھے اور برے طالبان کی تفریق کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ حقیقی امن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب دہشت گردی کو کسی بھی قسم کا تحفظ نہ دیا جائے انہوں نے کہا کہ اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی اور حالات کو نارمل کرنا ہوگا تاکہ خیبر پختونخوا اور خاص طور پر بنوں ڈویژن کو امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنایا جاسکے,انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی بے باک قیادت اور عوام کی حقیقی ترجمانی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر فورم پر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے تاکہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے پاک اور خوشحال صوبہ بنایا جاسکے۔
آسٹریا کی سفیر کی خیبرپختونخوا اسمبلی آمد – باہمی تعاون اور پارلیمانی اصلاحات پر تبادلہ خیال
آسٹریا کی سفیر محترمہ اینڈریا ورک نے بدھ کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کا دورہ کیا۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے وفد کی میزبانی کی۔ ان کے ہمراہ اراکینِ اسمبلی جلال خان، تاج محمد ترند، داؤد شاہ، میاں شرافت علی اور محبوب شیر بھی ملاقات میں موجود تھے۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے سپیشل سیکریٹری ایڈمن سید وقار شاہ نے معاونت فراہم کی۔ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے جمہوری اداروں، خواتین کی پارلیمانی شرکت، اور بجٹ سازی کے عمل میں صنفی مساوات پر تفصیلی گفتگو کی۔ ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے آسٹریا کی سفیر کو خواتین کاکس کے کردار سے آگاہ کیا اور بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین نمائندگان نہ صرف پارلیمانی اصلاحات میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ صنفی بنیاد پر بجٹ سازی اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔اس موقع پر رکنِ صوبائی اسمبلی جلال خان نے کہا: ”آسٹریا کے مضبوط جمہوری ادارے ابھرتی ہوئی اسمبلیوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں۔ ہم آسٹریا کے ساتھ استعدادِ کار بڑھانے کے لیے شراکت داری قائم کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بین الاقوامی معیار کی پارلیمانی روایات کو فروغ دیا جا سکے۔”جلال خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون سازی، بجٹ سازی، اور پارلیمانی نگرانی کے عمل میں بہتری کے لیے بین الاقوامی تعاون نہایت اہم ہے۔سپیشل سیکریٹری ایڈمن سید وقار شاہ نے دونوں ممالک کی قومی اور علاقائی اسمبلیوں کے درمیان ممکنہ باہمی تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ:”خیبرپختونخوا اسمبلی آسٹریا کی قومی اور ریجنل پارلیمنٹس کے ساتھ بہترین پارلیمانی روایات اور تجربات کے تبادلے کی خواہاں ہے۔ آئندہ چند ماہ میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا ایک وفد آسٹریا کا دورہ کرے گا جہاں وہ آسٹریا کے بجٹ آفس، نیشنل پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا تفصیلی دورہ کرے گا تاکہ باہمی فہم و فراست اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔”ملاقات کے بعد آسٹریا کی سفیر کو اسمبلی ہال اور اس کے مختلف حصوں کا تفصیلی دورہ کرایا گیا۔ اس موقع پر مہمان سفیر اور پارلیمانی نمائندگان کے ہمراہ ایک یادگاری گروپ فوٹو بھی لی گئی۔
ڈاکٹر شفقت آیاز کی زیرِ صدارت سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس
معاون خصوصی سائنس وآئی ٹی ڈاکٹر شفقت آیاز کی زیرِ صدارت سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2024-25 کے تحت جاری اور 2025-26 کے مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کے دوران محکمے کے افسران نے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز، اخراجات، ریلیزز، اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔بریفنگ کے دوران معاون خصوصی نے خاص طور پر ضم اضلاع میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروگرام، ڈیجیٹل معیشت اور مہارت مراکز، مردان اور خیبرپختونخوا میں مشترکہ سہولت مراکز کا قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا، اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کی جانب سے صوبائی سطح پر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔معاون خصوصی ڈاکٹر شفقت آیاز نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو“ڈیجیٹل خیبرپختونخوا”کے وژن کے مطابق مکمل شفاف انداز میں جلد مکمل کیا جائے تاکہ عام عوام مستفید ہوں۔معاون خصوصی نے کہا کہ عوامی فلاحی منصوبے بانی چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے عوامی خدمت کے وژن کی عملی تصویر ہیں، انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد ایک بااختیار، جدید اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ خیبرپختونخوا کی تشکیل ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پشاور جرگے میں صوبے کے حقوق کا مقدمہ کامیابی سے لڑاہے بیرسٹر ڈاکٹرسیف
وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیراطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹرڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پشاور جرگے میں صوبے کے حقوق کا مقدمہ کامیابی سے لڑاہے اور وفاقی قیادت کو ایک بار پھر این ایف سی میں ضم اضلاع کے حصے کی صوبے کو منتقلی، ٹوبیکو سیس اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے حوالے سے آگاہ کیاگیا ہے۔ اسکے علاوہ وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع میں ڈرون حملوں کی روک تھام اور خطے میں پائیدار امن کے لئے افغانستان سے بات چیت کے عمل میں خیبر پختونخوا حکومت کو شامل کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔ اپنے دفتر سے جاری بیان میں بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت ضم اضلاع کے فنڈز اب جلد صوبے کو منتقل کرے گی۔وفاق نے غیر قانونی طور پر ضم اضلاع کے فنڈز اپنے پاس رکھے ہیں، ضم اضلاع خیبر پختونخوا کااب باقاعدہ حصہ ہیں، اس لئے فنڈز کی منتقلی ناگزیر ہے، بیرسٹر سیف نے کہا کہ فنڈز کی منتقلی میں تاخیر ضم اضلاع کی ترقی میں رکاوٹ ہے، وہاں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ وفاق اور صوبے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کی ترقی دہشت گردی کے خاتمے کی ضمانت ہے۔ دہشت گردی صرف خیبر پختونخوا کا نہیں، پورے ملک کا مسئلہ ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے بقایاجات بھی فوری ادا کیے جائیں، وفاقی حکومت اہم قومی معاملات پر سیاست سے گریز کرے، ایک صوبے کو ترقی سے محروم رکھنا وفاق کے لیے نقصان دہ ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے مزید کہا کہ ضم اضلاع کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شدید متاثر ہوئے ہیں انضمام کے بعد متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی عمل تیز کرنا اور انکی محرومیاں دور کرنا ضروری ہے جسکے لئے وفاق کو خیبر پختونخوا کا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اس لئے وفاق صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے اور تمام واجب الادا بقایات جات صوبے کو دے۔ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وسائل کے مطابق ضم اضلاع میں ترقیاتی کام کررہی ہے تاہم وفاق کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں صوبے کی مدد کرے مگر وفاق نے الٹا صوبے فنڈز روک رکھے ہیں اور پورا حصہ نہیں دے رہا۔ وفاق سیاست سے گریز کرتے ہوئے اس اہم معاملے میں خیبر پختونخوا حکومت کی مدد کرے کیونکہ انضمام کے بعد ضم اضلاع کی ترقی اور انکی کئی دہائیوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنا پورے پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 74ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب کا انعقاد
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 74ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب کا انعقاد
پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 74ویں سالگرہ منگل کے روز خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں منائی گئی۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے اپنی دیرینہ شراکت داری کی تجدید کرتے ہوئے باہمی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب کی میزبانی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کی جبکہ تقریب میں چین کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن کیانگ، سفارتکاروں، سرکاری عہدیداران، اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ یہ تقریب پاکستان چائنا فرینڈشپ ایسوسی ایشن (خیبرپختونخوا شاخ) کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں 21 مئی 1951 سے جاری تعاون اور باہمی اعتماد کی سات دہائیوں پر مبنی تعلقات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر بابر سلیم سواتی نے پاکستان کی جانب سے 1950 میں عوامی جمہوریہ چین کو ابتدائی طور پر تسلیم کیے جانے کا ذکر کیا اور دوطرفہ تعلقات کو ”اعتماد اور تسلسل کی علامت“ قرار دیا۔ انہوں نے پشاور اور ارومچی کے درمیان 40سالہ تعلقات اور ایبٹ آباد و کاشغر شراکت داری کے آئندہ 30سال مکمل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے تجویز دی کہ مانسہرہ کو تاریخی شاہراہِ ریشم کی اہمیت کے پیش نظر کسی چینی شہر کے ساتھ ”سسٹر سٹی(جڑواں شہر)“قرار دیا جائے۔انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے ساتھ روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور سال 2026 میں سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے وفد کو خیبرپختونخوا کے دورے کی دعوت دی۔ انہوں نے تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، صاف توانائی، اور ٹیکنالوجی میں اشتراک کے فروغ پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا ”پاکستان اُور چین کے تعلقات کا مستقبل نوجوانوں، اداروں اور عوامی سطح پر باہمی روابط میں پوشیدہ ہیں۔ ہمیں روایتی سفارت کاری سے بڑھ کر ایک جدید، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی پر مبنی شراکت داری کی جانب بڑھنا ہوگا۔“پاکستان چین فرینڈشپ ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا شاخ کے صدر یوسف ایوب خان نے تقریب کا آغاز روایتی گرمجوشی کے ساتھ ”السلام علیکم اور نی ہاوو“کے خیرمقدمی کلمات سے کیا۔ مقررین جن میں سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، چین کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن کیانگ، صوبائی وزیر ارشد ایوب خان،صوبائی وزیرسید قاسم علی شاہ اور سیدعلی نواز گیلانی شامل تھے نے دونوں ممالک کے مابین تقلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے مسلط کردہ جنگ میں چین کی غیرمشروط حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس دوستی کو قابل فخر قراردیا۔انہوں نے اس دور کو بھی یاد کیا جب پشاور، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ثقافتی تقریبات کا انعقاد معمول کی بات تھی۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ چینی سفارتخانے کے تعاون سے یہ سرگرمیاں ایک بار پھر بحال ہوں گی۔مستقبل کی جھلک پیش کرتے ہوئے، انہوں نے مئی 2026 میں سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ (پلاٹینم جوبلی) کی تقریبات کا اعلان کیا، جو خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں منعقد ہوں گی اور دونوں ممالک کو مزید قریب لانے کا ذریعہ بنیں گی۔ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن کیانگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے چین کے کلیدی معاملات پر مسلسل حمایت کو سراہا اور پاکستان کی خودمختاری و ترقی میں چین کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے 74سالہ تعلقات کے دوران قدرتی آفات اور بحرانوں میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا، اور یہ دوستی ”پہاڑوں سے بلند اور سمندروں سے زیادہ گہری“ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے کلیدی ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا اُور سوکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن، اور رشکئی اسپیشل اکنامک زون کا حوالہ دیا۔ انہوں نے شمسی توانائی سے چلنے والی اسٹریٹ لائٹس، تعلیمی وظائف اور فوڈ ایڈ پیکجز جیسے کمیونٹی اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے زراعت، توانائی، کان کنی، ای کامرس، اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا، بالخصوص خیبرپختونخوا اور سنکیانگ کے مابین مضبوط صوبائی شراکت داری کے ذریعے اس تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان چین فرینڈشپ ایسوسی ایشن (خیبرپختونخوا شاخ) کے سیکرٹری جنرل سیّد علی نواز گیلانی نے پاک چین دوستی کے فروغ میں مختلف اداروں کے اہم کردار ادا کا ذکر کیا اُور اس بات پر زور دیا کہ پاک چین دوستی کی انجمن 1970سے عوامی سطح پر تعلقات مضبوط بنانے میں سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم دونوں ممالک میں دوستی کے فروغ میں ایک پل جیسا کلیدی کام کر رہی ہے جس کی مدد سے دونوں ممالک کے لوگوں ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ مختلف ثقافتی پروگراموں، دوروں اور عوامی رابطوں کے ذریعے پاک چین فرینڈشپ ایسوسی ایشن برسوں سے دوستی کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ تعاون و ترقی کے نئے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہو اور ایک روشن مستقبل کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔تقریب کا اختتام ایک مشترکہ اعلامیے پر ہوا، جس میں دونوں ممالک نے ہر سطح پر تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کی توثیق کی۔
۔۔۔۔۔۔۔
اپر چترال پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری کی تقریب
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ مقامی خصوصاً دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحافی، شفافیت، احتساب اور عوامی شمولیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر تے ہیں۔ وہ اپر چترال ضلعی پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے کابینہ کے ارکان سے حلف لیا۔ تقریب میں سیکریٹری اطلاعات محمد خالد، ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات حیات شاہ، دیگر سینئر افسران اور ضلع اپر چترال پریس کلب کی نومنتخب کابینہ نے شرکت کی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اپر چترال جیسے دور افتادہ اور پہاڑی اضلاع میں کام کرنے والے صحافی حقیقی معنوں میں جمہوریت کی نچلی سطح کے محافظ ہیں۔ ان کا کام عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ حکومت مقامی پریس کلبوں کو انفراسٹرکچر کی فراہمی اور مالی استحکام کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ نومنتخب عہدیداران نے اس موقع پر پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پاسداری، آزادی صحافت کے تحفظ، اور علاقائی مسائل کی دیانتداری سے نمائندگی کا عزم کیا۔ اپر چترال پریس کلب کے صدر محمد علی مجاہد نے مشیر اطلاعات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پریس کلب کو ذمہ دار صحافت کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بنایا جائے گا، جو اپر چترال کے عوام کی حقیقی آواز بنے گا۔ اس موقع پر ضلع اپر چترال پریس کلب کے ارکان نے بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی، جو صوبے میں میڈیا کی ترقی کے لیے ان کی انتھک کاوشوں اور حکومت و عوام کے درمیان مؤثر رابطے کے فروغ کے اعتراف کے طور پر پیش کی گئی۔ تقریب کا اختتام اس عہد کے ساتھ ہوا کہ نومنتخب کابینہ صحافتی اقدار کی پاسداری، آزادی صحافت کے فروغ اور عوام کی مؤثر نمائندگی جاری رکھے گی۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت پشاور میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ کی صوبے کو ممکنہ منتقلی کے تناظر میں مجوزہ صوبائی ٹوبیکو بورڈ کے لیئے قانون کے ابتدائی مسودے پر مشاورت اور سٹیک ہولڈرز کی آراء سننے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ زراعت کے ایڈیشنل سیکریٹری دل نواز خان،ڈی جی زراعت ریسرچ ڈاکٹر عبد الروف،ڈائریکٹر زراعت مراد علی،ڈپٹی ڈائریکٹر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ایاز محمد،سابق ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان ٹوبیکو بورڈ محمد ایاز،سیکرٹری پاکستان ٹوبیکو بورڈ فخرالدین،لیگل آفیسر محکمہ قانون صائمہ سہیل اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وفاقی ادارے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے صوبے کو متوقع منتقلی کے تناظرمیں اسکے لئے متعلقہ محکمے کی جانب سے تیار کئے جانے والے صوبائی ایکٹ کے ابتدائی مسودے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس سلسلے میں محکمہ زراعت سے محکمہ قانون بھیجے جانے والے مسودے اور اس سلسلے میں معاون خصوصی کی جانب سے اس کے بعض پہلوں میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے بعض نکات و شقوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا جبکہ اجلاس کے شرکاء نے بھی اس سلسلے میں اپنی تجربات کی بنیاد پر تجاویز دیں۔اس موقع پر محکمہ زراعت کے حکام نے فورم کے تجاویز کو مجوزہ ایکٹ کے مسودے میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی جسے حتمی شکل دینے سے پہلے شرکا ء کیساتھ دوبارہ زیر بحث لایا جائے گا۔اس موقع پر معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ تمباکو اس صوبے کی پیداوار ہے اس کی ترقی کیلئے تحقیق اور معیار میں جدت لانا ضروری ہے تاکہ یہ شعبہ زیادہ منافع بخش ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی قانون لانے میں تمباکو پیدا کرنے والے کسانوں کا فائدہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے تاکہ حکومتی قوانین سے انھیں ریلیف پہنچے
ید سے قبل جعلی کولڈ ڈرنکس کے خلاف کریک ڈاؤن، خیبرپختونخوا فو اتھارٹی کی بڑی کارروائیاں 8 ہزار لیٹرز سے زائد جعلی مشروبات برآمد کرکے ضبط، 2 ہزار لیٹرز غیر معیاری دودھ بھی تلف
وزیر خوراک ظاہرشاہ طورو کی ہدایات پر عیدالاضحیٰ کے پیش نظر عوام کو محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال اتھارٹی نے جعلی اور غیر معیاری کولڈ ڈرنکس اور مشروبات کے خلاف صوبہ بھر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران گزشتہ روز پشاور،مردان اور صوابی سے مجموعی طور پر تقریباً 8000 لیٹرز سے زائد جعلی مختلف برانڈڈ کولڈ ڈرنکس اور کاربونیٹیڈ مشروبات جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تقریباً 2000 لیٹرز دودھ برآمد کر لیا گیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے فردوس بازار کے قریب واقع گودام اور جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی سے نمونوں کے نتائج غیر تسلی بخش ثابت ہونیپر 4000 لیٹرز سے زائد جعلی برانڈڈ کولڈ ڈرنکس ضبط کر لیں۔اسی طرح صوابی فوڈ سیفٹی ٹیم نے بھی علاقہ چھوٹا لاہور میں کارروائی کے دوران ایک دوکان سے 600 لیٹرز جعلی مشروبات برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لے لیا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مردان میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ملاکنڈ روڈ جھنڈی کے علاقے اور چارسدہ چوک میں کولڈ ڈرنکس لے جانے والی گاڑیوں کا معائنے کرنے پر 3500 لیٹرز جعلی کاربونیٹیڈ ڈرنکس اور 65 کلو چائنہ سالٹ برآمد کر کے ضبط کر لیا گیا۔اسی طرح ڈی آئی خان میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے بھی مین شاہراہوں پر ناکہ بندی کیدوران 2000 لیٹرز سے زائد غیر معیاری و مضر صحت دودھ پکڑ کر موقع پر تلف کر دیا۔تفصیلات کیمطابق خلاف ورزی کرنے والے مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائیوں پر ٹیموں کو شاباس دی اور کہا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کی ٹیمیں صوبہ بھر میں روزانہ کی بنیاد پر معائنے کر رہی ہیں تاکہ غیر معیاری، مضر صحت اور جعلی اشیائے خورونوش کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے سیدو گروپ
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سیدوشریف کے حوالے سے پشاور میں منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا، عید کے بعد سوات کے عمائدین کا جرگہ طلب کرینگے جس میں سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے مستقبل کے حوالے سے اُن سے تجاویز لی جائیں گی عوام مطمئن رہیں کوئی بھی فیصلہ عوام کی مرضی کے خلاف نہیں کیا جائے گا، عوام نے ہمیں اپنے مسائل کے حل کیلئے منتخب کیا ہے عوامی مفادات پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، سوات ہمارا گھر ہے اس کی بہتری کیلئے اقدامات اُٹھائیں گے، وہ پشاور میں سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کو ایم ٹی آئی میں تبدیل کرنے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے اجلاس میں سوات سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، ممبران صوبائی اسمبلی حمید الرحمان، سلطان روم خان، محمد نعیم کے علاوہ وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن برائے ہیلتھ ڈاکٹر مدیر خان، انصاف ڈاکٹرز فورم کے ڈاکٹر محمد خالد، انصاف ڈاکٹرز فورم کے فنانس سیکرٹری ڈاکٹر علینہ علی شاہ اور دیگر حکام بھی شریک تھے، اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے مستقبل کا فیصلہ عوامی رائے کے بغیر نہیں کیا جائے گا پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جائے گا اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے حوالے سے عوام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا اور اس سلسلے میں عید الاضحیٰ کے فوراً بعد سوات کے سیاسی و علاقائی مشران کا جرگہ بلائیں گے جس میں اُن سے تجاویز لئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم عوامی مفادات سے ہر گز غافل نہیں اور عوامی رائے کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان نے کینابس پودے کی ادویاتی،
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان نے کینابس پودے کی ادویاتی، تحقیقی، صنعتی اور تجارتی مقاصد کے حوالے سے قائم کمیٹی کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں کمیٹی ممبران وصوبائی وزیر زراعت سجاد بارکوال،سیکرٹری ایکسائز خالد الیاس،ایڈیشنل سیکرٹری زراعت دل نواز خان، ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان، ڈی جی ڈرگ کنٹرول ڈاکٹرعباس خان اور دیگر متعلقہ ممبران نے شرکت کی۔ اس موقع پرشرکائے اجلاس کو کینابس قوانین 2025 کے حوالے سے پرزنٹیشن دیتے ہوئے کینابس کے فوائد کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ یہ کاسمیٹکس، سکن کیئر، بیکری پراڈکٹس، دوائیوں، بایؤ فیول اور دوسرے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر کمیٹی اراکین نے کہا کہ کینابس ایکٹ کے رولز کے حولے سے تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹ نے باہمی مشاورت سے ایسے رولز ترتیب دینے ہیں جو فیڈرل ایکٹ کے رولز کے ساتھ تصادم نا ہو ں تاکہ ان رولز سے کینابس کو مثبت مقاصد میں استعمال کے لئے بڑے پیمانے پر متعارف کرایا جاسکے اور اس سے زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کی جا سکے جس کے لئے فیڈرل گورنمنٹ کے ساتھ بھی مل بیٹھ کر متفقہ رولز کو وضح کیا جائیگا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اس حولے سے پہلے مرحلے میں ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کی ریسرچ برانچ کے ساتھ مل کر ایک بہتر ماحول میں پائلٹ پراجکٹس پر کام کیا جائیگا اور اس کی کاشت، افزائش اور مقررہ پیداوار کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ اجلاس میں ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو موجودہ 2019 ایکٹ اور اس کے قوانین کا مفصل جائزہ لیگی اور کینابس فصل کے لائسنس کے اجرا، مارکیٹ میں اس کے دوسرے مقاصد کے لئے استعمال پر کام کرے گی۔اسی طرح کینابس کی ا دویاتی اور صنعتی مقاصد کے استعمال کے لئے لائحہ عمل بنانا، اس سے اقتصادی۔مقاصد کا حصول، مانیٹرینگ، ٹیکسیشن اور ریونیو کے حوالے سے قوانین وضح کئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر ایکسائز نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا اس حولے سے یہ پہلہ اجلاس ہے اور تمام متعلقہ ممبران کو اس لئے مدعو کیا گیا ہے کہ وہ باہمی مربوط روابط اور قیمتی تجربے کی مدد سے ان رولز اور ایکٹ کو مزید بہتر اور جامع بنایئں تاکہ مسقبل میں یہ ایک اچھی پالیسی بنے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نا ہو۔
