بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی ماہانہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کی زیر صدارت 3 جون بروز منگل صبح 11 بجے ڈائریکٹریٹ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حیات آباد پشاور میں ماہانہ کھلی کچہری کا انعقاد کیا جارہاہے۔ اسی طرح تمام ریجنل اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اپنے دفاتر میں کھلی کچہری کا انعقاد کریں گے۔ عوام اپنی شکایات ان کھلی کچہریوں میں اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کے حکام کے سامنے پیش کریں۔
مفادعامہ کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل ترجیح ہے،معاون خصوصی برائے توانائی
نجینئرطارق سدوزئی کا سوات میں پن بجلی منصوبوں کے مقامات کا دورہ،جاری کام تیزکرنے پرزوردیا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی نے عالمی بینک کے مالی تعاون سے ضلع سوات میں جاری88میگاواٹ گبرال کالام اور157میگاواٹ مدین پن بجلی منصوبوں کے مقامات کادورہ کیاجہاں انہوں نے منصوبے کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔انہوں نے حکام پرزوردیا کہ عوامی مفاد کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر سمیت پی ایم اوکے سربراہ چیف انجینئر نے منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔معاون خصوصی نے منصوبوں کے لے آوٹ اورڈیزائن کے بارے میں پراجیکٹ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں اورآئندہ برفباری کے موسم شروع ہونے سے پہلے سول ورک پرکام تیز کرنے پر زوردیا۔بعدازاں انہوں نے گبرال کالام کی زیرتعمیر کالونی کا بھی معائنہ کیا اوروہاں پرجاری کام پر اطمینان کا اظہارکیا جبکہ باقی ماندہ کام جلدازجلد مکمل کرنے پرزوردیا۔
مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے شندور پولو فیسٹول کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایات جاری کردیں
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے پاکستان کی میگا پولو فیسٹیول شندور2025 کی تاریخ 20 جون مقرر کردی گئی ہے۔ا سلسلے میں مشیر برائے سیاحت و ثقافت، آثار قدیمہ و عجائب گھر، زاہد چن زیب نے تمام تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ یہ فیسٹیول 20 سے 22 جون تک اپر چترال میں منعقد ہوگا۔زاہد چن زیب نے فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے پر زور دیا اور ڈی جی کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کو ہدایت کی کہ فیسٹیول میں آنے والے سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے فیسٹیول کی آگاہی مہم ابھی سے شروع کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو آگاہ کیا جا سکے۔مشیر سیاحت نے فیسٹیول کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شندور پولو فیسٹیول نہ صرف ایک کھیل کا مقابلہ ہے بلکہ یہ علاقہ کی ثقافت اور روایات کا بھی عکاس ہے۔ اس فیسٹیول میں چترال لوئر اور چترال اپر کی ٹیمیں گلگت بلتستان کی ٹیموں کے ساتھ مدمقابل ہوں گی، جو کھیل اور بھائی چارے کا ایک شاندار منظر پیش کرے گا۔ڈی جی کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے کہا کہ یہ فیسٹیول پاک فوج، کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ چترال لوئر و اپر، پولیس اور چترال سکاؤٹس کے باہمی اشتراک سے منعقد کیا جائے گا۔شندور پولو فیسٹیول، جو اپنی بلند ترین پولو گراؤنڈ کے لیے مشہور ہے، ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے اور اس سال بھی اس میں اضافہ متوقع ہے۔ صوبائی حکومت اس فیسٹیول کو فروغ دینے اور صوبے میں سیاحت کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے
کرک سیف سٹی پراجیکٹ کو ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے پروزیر زراعت اور چیئرمین ڈیڈاک کرک کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا تہہ دل سے شکریہ
خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال اور چیئرمین ڈیڈاک کرک ایم پی اے خورشید خٹک نے ایک ارب روپے سے زائد لاگت کے کرک سیف سٹی پراجیکٹ کو آئندہ مالی سال کے اے ڈی پی کی سفارشات میں باقاعدہ طور پر شامل کرنے پر تمام خٹک زینہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم پراجیکٹ کی تکمیل سے امن و امان سمیت کرک سٹی کے ماحول اور دیگر اہم ایشوز پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔منصوبے میں پورے کرک سٹی، تنگوڑی چوک، کے ڈی اے، نیا بننے والا بائی پاس اور کالج سمیت بنیادی اہمیت کے حامل تمام پاکٹس شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس اہم پراجیکٹ پر پوری قوم قائد عوام عمران خان اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی بیحد مشکور ہے۔دریں اثناء وزیر زراعت نے عوام کو خوشخبری دی کہ وزیر اعلیٰ نے صحت و خزانہ کے محکموں کو بی ایچ یو منڈوہ اور بی ایچ یو شاہیدان کی باقاعدہ ایس این ای کی منظوری سمیت تمام لوازمات پورا کرنے اور فوری طور پر فعال کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے ہیں۔اسی طرح چیئرمین ڈیڈاک و ایم پی اے خورشید خٹک اور ایم این اے شاہد خٹک کی خصوصی ہدایات پر صابر آباد اور مخ بانڈہ واٹر سپلائی سکیموں پرسولرائزیشن کا کام مکمل ہو چکا ہے اور بہت جلد ان سکیموں سے متعلقہ علاقوں کو پینے کے پانی کی فراہمی شروع ہو جائے گی جو یہاں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا۔
دریائے سندھ میں کشتی کے حادثہ میں لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے جاری ریسکیو آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے صوبائی وزیر قانون کا دورہ
ضلع کوہاٹ میں علاقہ خوشحال گڑھ کے نزدیک دریائے سندھ میں کشتی کے حادثہ میں لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے ضلعی انتظامیہ کوہاٹ کی زیر نگرانی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ ریسکیو آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے چیئرمین تحصیل گمبٹ ساجد اقبال اور پی ٹی آئی رہنما اشتیاق قریشی کے ہمراہ جائے حادثہ پر چوتھے روز بھی موجود رہے۔صوبائی وزیر روز اول سے آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کوہاٹ اور ریسکیو حکام نے صوبائی وزیر قانون کو بتایا کہ آپریشن میں 1122 کی 4 ٹیمیں، پاک فوج کی ایس ایس جی کی ایک ٹیم اور تربیلا ڈیم سے خصوصی غوطہ خوروں کی ٹیم مشترکہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔چوتھے روز بھی آپریشن صبح 6 بجے تا شام 6 بجے جاری رہا لیکن تاحال نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا۔ریسکیو ٹیموں اور لواحقین نے موجودہ کشتیوں کو امدادی کارروائیوں کیلئے ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید 2 کشتیوں کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔صوبائی وزیر نے ریسکیو آپریشن کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے زیر اہتمام پشاور میں ترک تمباکو نوشی کا عالمی دن منایا گیا
پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے زیر اہتمام پشاور میں ترک تمباکو نوشی کا عالمی دن منایا گیا
عوام میں آگاہی کے ذریعے تمباکو نوشی کا استعمال محدود کیا جا سکتا ہے۔ صوبائی صدر پاکستان چیسٹ سوسائٹی ڈاکٹر سعدیہ اشرف
تمباکو نوشی استعمال کرنے والے 10 میں سے ایک فرد کی موت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سعدیہ اشرف
پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے زیر اہتمام ترک تمباکو نوشی کا عالمی دن پشاورکے ایک نجی سکول میں منایا گیا۔ پاکستان چیسٹ سوسائٹی کی صوبائی صدر پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ اشرف تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ اس موقع پر سکول سٹاف اور طلبہ کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے آگاہ کیا گیا جس میں پھیپھڑوں، دائمی تنگی تنفس، منہ، زبان کا سرطان، معدے کا زخم، انسانی مزاج میں تبدیلی، دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، فالج، مثانہ، گردہ، لبلبہ، حلق، ہونٹ، السر، دمہ جیسی مہلک بیماریاں شامل ہیں۔ ڈاکٹر سعدیہ اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی 80 فیصدآبادی کا تعلق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے ہے جو تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ لوگوں کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی آگاہی دینے سے اس کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے اور تمباکو نوشی کے استعمال کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی ہر 10 بالغ افراد میں سے ایک فرد کی موت کا باعث ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ50 لاکھ افراد کی اموات ہوتی ہیں اور 2030 تک یہ تعداد 80 لاکھ سے بھی تجاوز کر جائے گی۔31 مئی کا دن تمباکو نوشی سے چھٹکارے سے منسوب کیا گیا ہے اور اس دن کا عنوان عالمی ادارہ صحت نے ”خوراک اگاؤ نہ کہ تمباکو” رکھا ہے۔شرکاء کو بتایا گیا کہ تمباکو میں چار ہزار کیمیکلز ہوتے ہیں جو کہ سرطان کا باعث بنتے ہیں۔ اس موقع پر تمام طلبہ اور سٹاف کا ٹیسٹ کیا گیا۔مہمان خصوصی نے والدین سے اپیل کی کہ صحت مند زندگی کے لیے تمباکو نوشی سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دیں۔ اس موقع پر خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ جاوید، ڈاکٹر یاسر اور چیسٹ ڈیپارٹمنٹ کے تمام ٹرینی میڈیکل افسر بھی موجود تھے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا تولیدی صحت
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا تولیدی صحت، آبادی کے معیار اور قومی ترقی کے درمیان اہم تعلق پر زور
میڈیا کولیشن کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ تولیدی صحت محض ایک صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ پائیدار قومی ترقی کا سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملک کی ترقی کا تعین صرف اس کی آبادی کے حجم سے نہیں بلکہ اس کی معیار سے ہوتا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں خیبر پختونخوا حکومت نے تولیدی صحت کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں حاملہ خواتین کے لیے غذائی معاونت،‘نورِش ما’مہم اور صحت کے فراہم کنندگان کی تربیت شامل ہے۔ انٹرگریٹڈ ہیلتھ پروجیکٹ کے تحت مختلف صحت کی خدمات کو یکجا کیا گیا تاکہ بہتر انداز میں خدمات فراہم کی جا سکیں۔ ان اقدامات کا مقصد ماں کی اموات کو کم کرنا اور صوبے بھر میں صحت کی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے طور پر اپنی مدتِ حکومت میں، پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے پاکستان میں مٹیریتی ہیلتھ کی بہتری کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے۔ صحت سہولت پروگرام کے تحت لاکھوں افراد کو مٹیریٹی کیئر کے لیے مفت صحت انشورنس فراہم کی گئی۔ انہوں نے والدہ اور بچے کے لیے ہسپتالوں کی تعمیر کا آغاز کیا، خاص طور پر اٹک میں 200 بیڈ کا اسپتال قابل ذکر ہے۔ احساس پروگرام کے ذریعے ماں کی غذائی ضروریات کو ترجیح دی گئی اور مٹیریٹی نیوٹریشن کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی گئی۔ نیز کامیاب پاکستان کے تحت مائیکرو ہیلتھ انشورنس کے ذریعے لاکھوں افراد کو مفت خدمات فراہم کی گئیں، جن میں مٹیریٹی کیئر بھی شامل تھی۔ ان اقدامات نے پورے ملک میں معیاری مٹیریٹی ہیلتھ خدمات تک رسائی کو بہتر بنایا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پالیسی اور اس کی عملدرآمد کے درمیان مسلسل فرق پاکستان کے اہم چیلنجز میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قومی سطح پر پالیسی کے فریم ورک موجود ہیں، حقیقی ترقی کے لیے پالیسی سازی اور اس کے عملدرآمد کے درمیان فرق کو کم کرنا ضروری ہے۔“ایک ترقی یافتہ قوم وہ نہیں ہوتی جو صرف اچھے قوانین تیار کرے، بلکہ وہ قوم ہوتی ہے جو ان کی بروقت اور مساوی عملدرآمد کو یقینی بناتی ہے۔ ہمیں سماجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک متحرک حکمرانی کی طرف قدم بڑھانا ہوگا”، انہوں نے کہا۔تولیدی صحت کے ثقافتی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر سیف نے وضاحت کی کہ پچھلے اقدامات زیادہ تر اوپر سے نیچے تک، بیرونی طور پر چلائے گئے تھے اور مقامی کمیونٹیز، مذہبی علما اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی و ثقافتی پہلوؤں کو عوامی صحت کی حکمت عملی میں شامل کیا جانا چاہیے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے واضح کیا کہ تولیدی صحت کے حوالے سے ” سماجی آگاہی” پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہمات کو مقامی رسم و رواج، اقدار اور مذہبی حساسیتوں کے مطابق ڈیزائن کرنا ضروری ہے۔”سماجی آگاہی کا مقصد غیر ملکی تصورات کو مسلط کرنا نہیں ہے، بلکہ ایسی سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہے جو مقامی حقیقتوں کے مطابق ہو”، انہوں نے کہا۔ ”اگر ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے، تو ہم ردعمل، مزاحمت، اور آخرکار ناکامی کا سامنا کریں گے۔”اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے میڈیا کو ترقی میں ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور اس کے پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے آگاہی بڑھانے، غلط معلومات کو مسترد کرنے اور صحت کے بارے میں شواہد پر مبنی مہمات کی حمایت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا ”آپ کے ہاتھ میں قلم اس مکالمے کو تشکیل دے سکتا ہے، غلط فہمیوں کو دور کر سکتا ہے، اور ریاست کو معنی خیز اصلاحات کی طرف بڑھا سکتا ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے ضلع بنوں کے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر آفس میں نئے میٹنگ روم کا افتتاح کیا
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے ڈپٹی کمشنر بنوں کے دفتر میں نئے تعمیر شدہ میٹنگ روم کا افتتاح کیا۔اس موقع پر کمشنر بنوں ڈویژن محمد علی شاہ، ڈپٹی کمشنر بنوں محمد فہیم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آمین اللہ خان، اور شمس الزماں،چیف ایگزیکٹو ڈبلیو ایس ایس بی، اسسٹنٹ کمشنر و دیگر افسران بھی موجود تھے۔قبل ازیں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے مختلف محکموں کے مقامی سربراہان سے انکی کارکردگی انتظامی امور، عوامی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں اور گورننس سے متعلق معاملات پر تفصیلی آگاہی حاصل کی۔انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں اور عوام کو سہولیات و ریلیف دینے کے عمل کو مزید بہتر بنائیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے جامعہ پشاور میں پہلی“جیم سٹونز اور انڈسٹریل منرلز ایگزیبیشن”کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈی جی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ساجد حسین شاہ، یونیورسٹی انتظامیہ اور معدنیات کی صنعت سے وابستہ سرکردہ شخصیات بھی موجود تھیں۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر شفقت ایاز نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، طلبہ اور ماہرین سے ملاقات کی اور ان کے منصوبوں اور ریسرچ کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا معدنی وسائل سے مالا مال ہے، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو سائنسی بنیادوں پر استعمال میں لا کر صوبے کی معیشت کو مضبوط کیا جائے۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے وژن کے مطابق حکومت خیبرپختونخوا صوبے میں قیمتی پتھروں (Gemstones) اور صنعتی معدنیات کی جانچ، تحقیق اور معیار (Quality) کے تعین کے لیے جدید لیبارٹری قائم کرنے جا رہی ہے، تاکہ یہ قیمتی خزانے صرف مقامی سطح تک محدود نہ رہیں بلکہ بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچ سکیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان طلبہ، ریسرچرز اور نجی شعبہ اس شعبے میں بھرپور کردار ادا کریں، کیونکہ یہ شعبہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ خیبرپختونخوا کو معاشی خود کفالت کی راہ پر گامزن کرے گا۔
توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے،انجینئرطارق سدوزئی
توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے،انجینئرطارق سدوزئی
توانائی منصوبوں کی تکمیل سے معاشی استحکام اورصوبے میں صنعتی ترقی کے دورکاآغازہوگا،معاون خصوصی
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئر طارق سدوزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں جاری توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے حکومت بروقت فنڈز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تمام وسائل بروئے کارلارہی ہے۔ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے آنے والے دنوں میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ روزگارکے نئے مواقع پیداہونگے اورصوبے میں صنعتی ترقی کے دورکا آغاز ہوگا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بحرین سوات میں 36میگاواٹ درال خوڑ پن بجلی گھر اورسوات میں 84میگاواٹ گورکن مٹلتان پن بجلی کے جاری منصوبے کے سائٹ دورہ کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ریزیڈنٹ انجینئر سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کو متعلقہ افسران نے درال خوڑ پن بجلی گھر سے توانائی کی پیداوار اور حاصل آمدنی،اہم کامیابیوں، 2022 کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور اب تک کی بحالی کی کوششوں، موجودہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی، عملے کی کمی سمیت دیگر درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، اس موقع پر معاون خصوصی نے درال خوڑ پن بجلی گھر میں کام کرنے والی ٹیم کی مجموعی کوششوں کو سراہا اور درپیش چیلنجز کو حل کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا یقین دلایا، انھوں نے بجلی گھر سے توانائی کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے ہدایات جاری کیں اورکمپلیکس میں اسپیئر پارٹس کا مناسب ذخیرہ کی موجودگی پرزوردیاتاکہ اسپیئر پارٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے توانائی کی پیداوار اور آمدنی پر کوئی اثر نہ پڑے۔ دریں اثناء انجینئر طارق سدوزئی نے 84 میگاواٹ گورکن مٹلتان پن بجلی منصوبے کے سائٹ کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے پن بجلی منصوبے پر جاری کام کے حوالے سے معاون خصوصی کو تفصیلی بریفنگ دی، طارق سدوزئی نے منصوبے پر جاری کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مقررہ مدت جون 2026 کی کمرشل آپریشن ڈیٹ کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے متعلقہ حکام کو منصوبے پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور انھیں منصوبے میں درپیش مشکلا ت کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ معاون خصوصی انجنئیر طارق سدوزئی کو 132/220 کے وی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی معاون خصوصی کو بتایا گیا کہ ٹاور کے مقامات کے لیے رائٹ آف وے کلیئرنس میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے قائم ہیں، جس کی وجہ سے مختلف ٹاور مقامات پر کام جاری ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی نے پراجیکٹ کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
