Home Blog Page 178

خوشحال گڑھ اور بلی ٹنگ یونین کونسلز میں دو سڑکوں اور خیرماتو روڈ پرآرسی سی پل کے ٹینڈرز ہو چکے ہیں، عنقریب کام شروع ہو گا، وزیر قانون

خوشحال گڑھ اور بلی ٹنگ یونین کونسلز میں دو سڑکوں اور خیرماتو روڈ پرآرسی سی پل کے ٹینڈرز ہو چکے ہیں، عنقریب کام شروع ہو گا، وزیر قانون
خیبرپختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وعدوں سے تکمیل تک کا سفر کامیابی سے جاری ہے اور حسب وعدہ عوام کے تمام مسائل بتدریج حل کریں گے۔انہوں نے اپنے عزم کا ارادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ حلقے کے لوگوں سے ایسا کوئی وعدہ نہیں کریں گے جسے پورا نہ کیا جا سکے۔وزیر قانون نے کہا کہ ان کے اور ایم این اے شہریار آفریدی کے مشترکہ فنڈز سے چیئرمین تحصیل گمبٹ ساجد اقبال کی کاوشوں سے ان کے حلقہ نیابت پی کے- 90 میں ترتیب وار ہر یونین کونسل میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور کام کے معیار کو یقینی بنانے کیلئے تمام منصوبوں کی کڑی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔آفتاب عالم نے کہا کہ حلقہ پی کے- 90 کے یونین کونسل خوشحال گڑھ میں 10 کلومیٹر طویل کمر ڈھوک روڈ، یونین کونسل بلی ٹنگ میں 5 کلومیٹر طویل سیاب تا کوٹ روڈ براستہ بندی ڈھوک اور آر سی سی پل خیرماتو روڈ بلی ٹنگ کے ٹینڈرز ہو چکے ہیں جن پر عنقریب عملی کام شروع کر دیا جائے گا جس سے علاقے میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا اور لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔اس طرح شیخان روڈ پر بھی اسفالٹ کا کام شروع کردیاگیاہے جو تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے۔دریں اثناء وزیر قانون کی ہدایت پر ان کے حلقے کے علاقہ مندونی میں چیئرمین تحصیل گمبٹ ساجد اقبال کی نگرانی میں محکمہ زراعت کے زیر اہتمام جنگلی زیتون کے درختوں میں پھلدار زیتون کی گرافٹنگ کا عمل جاری ہے۔مجموعی طور پر9ہزار6سو37جنگلی زیتون کے درختوں کے اندر25 ہزار7سو پھلدار زیتون کی گرافٹنگ کی گئی ہے۔

وفاقی حکومت بجٹ سے قبل ضم شدہ اضلاع کا حصہ اور نیٹ ہائیڈل منافع کے بقایاجات خیبر پختونخوا کومنتقل کرے: بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وفاقی حکومت بجٹ سے قبل ضم شدہ اضلاع کا حصہ اور نیٹ ہائیڈل منافع کے بقایاجات خیبر پختونخوا کومنتقل کرے: بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وفاق نے ضم شدہ اضلاع کے فنڈز غیر آئینی طور پر اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔بیرسٹر سیف
وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے۔مشیر اطلاعات
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل فوری طور پر این ایف سی کا اجلاس بلا کر ضم شدہ اضلاع کا آئینی حصہ خیبر پختونخوا کو منتقل کرے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے ضم شدہ اضلاع کے فنڈز اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جوکہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ صوبے کے ساتھ سنگین ناانصافی بھی ہے کیونکہ ضم اضلاع اب باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں۔بیرسٹر سیف نے زور دے کر کہا کہ نیٹ ہائیڈل منافع کے بقایاجات بھی بجٹ سے پہلے خیبر پختونخوا کو ادا کئے جائیں تاکہ صوبے کے مالی معاملات کو بہتر انداز میں چلایاجا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت آئندہ بجٹ میں ضم شدہ اضلاع کو ریلیف دینا چاہتی ہے، لیکن وفاق کی جانب سے مالی تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔انہوں نے یاددہانی کرائی کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ان اہم معاملات پر وزیراعظم کو باضابطہ طور پر خطوط بھی لکھے ہیں، تاہم اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی نہ صرف وہاں کے عوام کا حق ہے بلکہ اس سے دہشت گردی میں بھی واضح کمی آ سکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت واقعی دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو اسے فوری طور پر ضم شدہ اضلاع کے فنڈزصوبائی حکومت کو منتقل کرنے چاہئیں۔ دہشت گردی صرف خیبر پختونخوا کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، اور اس کے حل کے لیے وفاق کو صوبے کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے صوبے کو اس کا جائز حق فی الفور دیا جائے۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت گورننس روڈ میپ کے تحت صحت و صنعت کے محکموں کا اجلاس

خیبر پختونخوا حکومت کے ”گورننس روڈ میپ” کا جائزہ لینے کے لئے اجلاسوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اس سلسلے میں صحت اور صنعت کے محکموں سے متعلق دو علیحدہ علیحدہ اجلاسوں کا انعقاد ہوا جس کی صدارت چیف سیکر ٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔اجلاس میں محکمہ صحت کے لیے تیار کردہ حکمت عملی پر غور خوص کیا گیا جس کا مقصد بنیادی طبی سہولیات کو مستحکم کرنا، ثانوی ہسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور افرادی قوت کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ عوام کو ایمرجنسی اور مخصوص علاج کی بہتر سہولیات فراہم ہوں،اس کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے کو ڈیجیٹائزیشن اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے مزید مستحکم کرنے کے اہداف کا بھی جائزہ لیا گیا۔محکمہ صنعت کے روڈ میپ میں صنعتی زونز کی ڈیجیٹائزیشن، صنعتی بستیوں کے قیام میں رکاوٹوں کے خاتمے، مزید آسانیاں پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کے لئے چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینے، اور تکنیکی تربیتی ادارے (ٹیوٹا) کی استعداد کو بڑھاتے ہوئے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا جیسے اہداف کا جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ روڈ میپ اور ایکشن پلان کے تحت پیش رفت کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے مؤثر نگرانی یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فیلڈ اور آپریشنل سٹاف کو بھی ان اہداف سے آگاہ کیا جائے تاکہ ان کی بھرپور شمولیت سے مؤثر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔اجلاس میں دونوں محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ اور محکمانہ اہداف کا بھی جائزہ لیا گیا۔گورننس روڈ میپ ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت تمام محکموں کی ترجیحات کو یکجا اور ہم آہنگ کر کے اصلاحات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا۔چیف سیکرٹری نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ جامع اور مربوط حکمت عملی صوبے میں گورننس کو بہتر بنانے، ترقی کو تیز کرنے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ریسرچ ہی ترقی کی بنیاد ہے، خیبر پختونخوا حکومت تحقیق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے: مینا خان آفریدی

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی نے آرکائیوز لائبریری ہال پشاور میں“خیبر پختونخوا ہائیر ایجوکیشن ریسرچ انڈومنٹ فنڈ” کے تحت ایوارڈ تقسیم کی ایک سادہ مگر باوقار تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب کے دوران 26 کامیاب تحقیقی منصوبوں کے پرنسپل انویسٹی گیٹرز (PIs) اور کو-پرنسپل انویسٹی گیٹرز (CoPIs) کو تحقیقی گرانٹس سے نوازا گیا۔ یہ گرانٹس اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیاری تحقیق کے فروغ، مقامی مسائل کے حل اور سائنسی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے دی جا رہی ہیں۔اپنے خطاب میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے کہا کہ تحقیق کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہے، اور خوش آئند امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا اب اس شعبے میں سنجیدگی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ صوبے نے تحقیق میں تاخیر سے پیش رفت کی، لیکن موجودہ حکومت عزم اور شفاف حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا کردار صرف تعلیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تحقیق کو فروغ دینا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ تحقیقی منصوبے اور صنعتوں کے مابین روابط نہ ہونے کے باعث متعدد تحقیقی ماڈلز کو عملی شکل نہیں دی جا سکی۔وزیر تعلیم مینا خان آفریدی نے بطور چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز،تحقیقی منصوبوں کے جائزہ عمل کی خود نگرانی کرنے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرانٹس کی تقسیم مکمل میرٹ، شفافیت اور منصفانہ بنیادوں پر کی گئی ہے، جس سے تحقیقی کلچر کو فروغ حاصل ہوگا۔صوبائی وزیر نے شرکاء سے کہا کہ وہ تحقیقاتی گرانٹس کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کریں تاکہ مستقبل میں اسے مزید موثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے انڈؤمنٹ فنڈ کے اس اقدام کو پہلی بارش کا پہلا قطرہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں تحقیق کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اسلام آباد میں

خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اسلام آباد میں ہدیۃ الہادی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پلوامہ حملے جیسے من گھڑت واقعے کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف جارحیت کی، جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی تھی بلکہ اس سے پورے خطے کے امن کو بھی شدید خطرات لاحق ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا بیانیہ خود ان ہی کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نے جھوٹا ثابت کر دیا، جو پاکستان کو ایک غیر ذمہ دار ریاست قرار دینے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کے ناطے نہایت ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا اور عالمی برادری کے سامنے اپنا مثبت اور اصولی کردار پیش کیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے انکشاف کیا کہ بھارت نے نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر بلکہ جنیوا کنونشن کی بھی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے عام شہریوں اور سول تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں مظفرآباد، بہاولپور اور آزاد کشمیر کے علاقے شامل ہیں۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے اعلان کو بھی عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور زور دیا کہ پاکستان کو اس اقدام کے خلاف عالمی فورمز پر بھرپور قانونی اور سفارتی جدوجہد کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر دعویٰ بے بنیاد ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش اس حقیقت کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس پر بھارت کا قبضہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اس اعترافی تقریر کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ روکی گئی ہے، ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے اس نازک صورتحال میں تدبر، جرات اور قومی اتحاد کے ذریعے کامیابی حاصل کی، اور پوری قوم نے اللہ کے حضور شکرانے کے سجدے ادا کیے۔آخر میں، بیرسٹر سیف نے آل پارٹیز کانفرنس کے منتظم سید پیر ہارون گیلانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے تمام سیاسی جماعتوں نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستانی قوم ملکی سلامتی، خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحد ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیرنے بدھ کے روز

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیرنے بدھ کے روز پشاور میں گودام ایکٹ 2021 کے حوالے سے محکمہ صنعت اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ایک مشترکہ اجلاس کی صدارت کی جس میں گوداموں کی رجسٹریشن کے حوالے سے تاجروں اور کاروباری حضرات نے متعلقہ نافذالعمل قانون میں مزید فصاحت اور بہتری لانے کے حوالے سے اپنی آرا پیش کیں۔اجلاس میں محکمہ صنعت کی جانب سے سپیشل سیکرٹری محمد انور خان،ایڈیشنل سیکرٹری مجیب الرحمٰن،ڈپٹی ڈائریکٹر انڈسٹریز شہاب نواز،محکمہ قانون و دیگر محکموں کے افسران کے علاؤہ،صدر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز فضل مقیم،صنعتکار اور سابق صدر سرحد چیمبر آف کامرس فواد اسحاق اور تاجر برادری کے معتدد دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تاجروں اور صنعتی تنظیموں کے عہدیداروں نے اس قانون کے استعمال میں بعض تحفظات سے فورم کو آگاہ کیا اور کہا کہ قانون کے تحت رجسٹریشن میں ان روزگاروں اور جگہوں کو مبرا قرار دیا جائے جن کی اس نوعیت کی رجسٹریشن قانون کی روح کے مطابق دوسرے صوبائی اداروں کیساتھ ہوئی ہو۔تاجر برادری کی جانب سے گودام،کولڈ سٹوریج اور ویئر ہاؤسز کی تشریحات میں بھی مزید وضاحت لانے کی گزارش کی گئی۔ اجلاس کے دوران محکمہ صنعت کے حکام نے بھی مذکورہ قانون کے حوالے سے اپنا نقظہ پیش کیا جبکہ اس بات پر اصولی اتفاق کیا گیا کہ اس حوالے سے تاجر برادری، کاروباری حضرات اور محکمہ کے حکام کا آئندہ اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کے قانون اور اس کے قواعد و ضوابط میں ممکنہ ترامیم پر مشترکہ مشاورت کی جائے گی اور اتفاق رائے سے تجویز کردہ ترامیم کو اس قانون میں شامل کرنے کیلئے اس پر مزید کاروائی کی جائیگی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ گودام ایکٹ کی مقصد کے مطابق جن روزگاروں اور کاروباری سہولیات کی اس نوعیت کی رجسٹریشن کسی دوسرے محکمے کیساتھ نہیں ہوئی ہو تو اس کی رجسٹریشن محکمہ صنعت کیساتھ ہی ہوگی۔اس موقع پر معاون خصوصی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری قانون سازی عوام اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی سہولت اور آسانی کیلئے ہی کی جاتی ہے اور حکومت کی یہ کوشش ہے کہ صوبے میں کاروباری اور تجارتی شعبے کو مزید سہولیات فراہم کیئے جائیں۔لہذا کسی بھی قانون سازی میں انھیں کاروبار کو آسان بنانے کیلئے کوشش کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ کاروباری حضرات اپنے چیمبرز میں متعلقہ سرکاری قوانین کو سمجھنے کیلئے ان کی آگاہی حاصل کریں جبکہ مختلف یونیورسٹیوں میں تجارتی و کاروباری فروغ کیلئے کی جانے والی تحقیقی پروجیکٹس سے استفادہ اٹھانے کیلئے یونیورسٹیوں سے روابط بڑھائے۔انھوں نے اجلاس میں تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس صوبے میں کء شعبوں میں سرمایہ کاری کے نمایاں مواقع موجود ہیں جن کیلئے ان جیسے لوگوں کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ٹریڈز کی بحالی انکی ترجیح ہے اور یہاں پر سرمایہ کاری کیلئے این او سی کی فراہمی میں صوبائی سرمایہ کاری و تجارتی بورڈ اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔اس طرح دیگر درکار پہلوؤں میں بھی حکومت اور محکمہ انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کا چکدرہ اور دیر لوئر کا ایک روزہ دورہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ صوبے میں فنی تعلیم کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے،انہوں نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ پسماندہ علاقوں میں فنی تعلیم کے فروغ اور ڈیجیٹائز یشن پر خصوصی توجہ دی جائے جسکی بدولت نوجوان فنی تعلیم سے آراستہ ہوں اور وہ خود اپنے لئے روزگار شروع کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ لوئر دیر اور گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ سنٹر چکدرہ کے ایک روزہ دورہ کے موقع پر کیا۔ دورہ کے موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر ٹیوٹا قیصر منصور ودیگر متعلقہ حکام بھی معاون خصوصی کے ہمراہ تھے۔ اس دوران معاون خصوصی برائے فنی تعلیم طفیل انجم نے جی پی آئی، جی ٹی وی سی چکدرہ اور دیر لوئر کا معائنہ کیا اور فنی تعلیم سے جوڑے مسائل پرنہ صرف تبادلہ خیال کیا بلکہ مسائل کے دیرپا حل کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیکنکل ایجوکیشن کو فروغ دینا وقت کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے ٹیکنکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز کو ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ صوبے کے کونے کونے میں فنی تعلیم کو عام کر سکیں تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار فراہم ہو اور صوبہ ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن ہوسکے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیراطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیراطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف تاریخی فتح کے موقع پر پاکستانی قوم متحد ہو چکی ہے اور قوم کے اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے عمران خان پر درج سیاسی مقدمات کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے مقبول لیڈر ہیں اور ان کو فوری رہا کرنا چاہیے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ عمران خان کو جعلی مقدمات میں مزید جیل میں رکھنا قوم کو پھر سے تقسیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ جعلی حکومت قوم کے اتحاد کے اس سنہری موقع کو ضائع نہ کرے، جعلی حکومت کو قومی اتحاد کی خاطر فسطائی رویہ ترک کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی بھارت کے خلاف مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے بھارت کے خلاف سوشل میڈیا کا محاذ نہ صرف کامیابی سے سنبھالے رکھا بلکہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم نے بھارتی بیانیے کو چاروں شانے چت کیا اورسوشل میڈیا ٹیم نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو زمین بوس کیا۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ عمران خان عوامی لیڈر ہے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد انکے پیچھے کھڑی ہے اس لئے موجودہ حالات میں عمران خان کی رہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے تمام قائدین اور کارکنان کے خلاف جعلی مقدمات کا سلسلہ فوری روکے اور قوم کو تقسیم کرنے سے بچائے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ مالیاتی نظام میں بددیانتی اور خیانت سرکاری خزانے کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ مالی سرگرمیوں میں حکومتی پالیسی کے مطابق چلنا نہایت ضروری ہے تاکہ قومی خزانے کو فائدہ پہنچے۔یہ بات انہوں نے نشتر ہال کمپلیکس اور خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کے اچانک دورے کے دوران کہی۔مشیر سیاحت و ثقافت نے نشتر ہال کمپلیکس کی بکنگ سے متعلق واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ادائیگیاں پیشگی اور صرف نامزد بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ہی وصول کی جائیں، اور ہاتھ سے لکھا کوئی بھی چالان قابلِ قبول نہیں ہوگا۔انہوں نے ہدایت دی کہ ہال کے داخلی دروازے پر اردو اور انگریزی زبان میں واضح بورڈز آویزاں کیے جائیں جن پر کرایہ جات اور ادائیگی کی شرائط درج ہوں تاکہ مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔دورے کے دوران زاہد چن زیب نے دفاترکی مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا اور متعدد افسران و اہلکاروں کی دورانِ ڈیوٹی غیر موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمت کے اداروں میں عملے کی مالی بددیانتی اور غیر حاضری ناقابلِ برداشت ہے، اور اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صوبائی وزیر زراعت، میجر (ر) سجاد بارکوال کا زرعی تحقیقاتی سٹیشن احمد والا ضلع کرک کا دورہ

خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کاشتکار برادری کی بہتری کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنیکی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر ہم آہنگی اور روابط سے ہی پالیسی کے فوائد اور تکنیکی مدد کاشتکاروں تک مؤثر طریقے سے پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی زرعی پالیسی بنائی جا رہی ہے جو ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے میں کارآمد ثابت ہوگی، فصلوں کے اعداد و شمار کی رپورٹنگ کے سسٹم کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ بروقت اور درست فیصلے ہو سکیں۔ موجودہ اعداد و شمارسے زرعی ترقی کے فیصلے اچھی طرح نہیں ہو سکتے۔ ان خیالات کا اظہا انہوں نے ر زرعی تحقیقاتی سٹیشن احمد والا ضلع کرک کے دورہ کے موقع پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے فصلوں اور زمین کی زوننگ پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ زرعی عمل خطے کے ماحولیاتی حالات کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مٹی اور آب و ہوا سے ہم آہنگ فصلوں کی اقسام تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ صوبائی وزیر نے ضلعی کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاسوں میں افسران کے غیر حاضری رہنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے وضاحت طلب کی جائے گی، کیوں کہ ان اجلاسوں کا مقصد محکموں کے مابین ہم آہنگی بڑھانا ہے۔ اجلاس میں تحقیقی و ترقیاتی سرگرمیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مقامی زرعی چیلنجز کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اسی طرح ربیع اور خریف کے تحت چنے، ہارٹیکلچر پروگرام، مونگ پھلی اور مونگ،مسور اور دیگر دالوں کے تیار کردہ اور زیر تکمیل اقسام کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ جبکہ سٹیشن کو درپیش نمکین پانی اوربارانی زمین جیسے دیگر مسائل بھی پیش کئے گئے۔ اجلاس میں میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے محکمہ زراعت کی تمام ونگز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اقدامات کو پالیسی اصلاحات سے ہم آہنگ کریں اسی طرح جنوبی علاقے خصوصاً ضلع کرک کے کاشتکاروں کو بہتر خدمات،نئی تحقیق اور بنیادی ڈھانچے سے مستفید کریں۔