وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کیمشیر برائے سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ و عجائب گھر، زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ صوبے میں موجود سیاحتی امکانات کو مؤثر طور پر بروئے کار لانے کے لیے نئے سیاحتی زونز کو سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 میں قانونی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کئی ایسے مقامات موجود ہیں جو سیاحت کے فروغ کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جنہیں قانونی طور پر سیاحتی زونز کا درجہ دینا ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر پشاور میں سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت خیبر پختونخوا، ڈاکٹر محمد بختیار خان اور نئے تعینات ہونے والے ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی (KPCTA)، حبیب اللہ عارف سے بات چھیت کرتے ہوئے کیا دوران کیا۔مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے نئے ڈائریکٹر جنرل کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قائدانہ صلاحیتیں اتھارٹی کے دیرینہ اور پیچیدہ مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت، ڈاکٹر محمد بختیار خان نے بتایا کہ نئے سیاحتی مقامات کو قانونی حیثیت دینے کے لیے تمام دستاویزی کارروائی مکمل ہوچکی ہے، اور یہ اقدامات آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کوششوں کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے، جس سے نہ صرف سیاحت کا شعبہ مستحکم ہوگا بلکہ صوبے کی معیشت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ملاقات کے دوران ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی، حبیب اللہ عارف نے ادارے کی جانب سے سیاحت و ثقافت کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کو ایک نئی اور مؤثر جہت دی جائے۔مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا سیاحت کے فروغ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے صوبے کو ایک بین الاقوامی سطح پر نمایاں سیاحتی مقام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ اجلاس
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف محکموں کو ترقیاتی و فلاحی اقدامات سے متعلق تفویض کردہ ذمہ داریوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اہم ترقیاتی منصوبوں اور گورننس میں اصلاحات سے متعلق اقدامات پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ ٹھنڈیانی ٹورازم پراجیکٹ کی تشہیر کے لیے رواں ہفتے روڈ شو منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ اجلاس میں گھنول انٹیگریٹڈ ٹورازم زون، سوات موٹروے فیز ٹو، پشاور-ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے اور درابن اکنامک زون کے منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا گیا۔چیف سیکرٹری نے مکمل ہونے کے قریب منصوبوں کے لئے مالی وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تاکہ یہ منصوبے جلد از جلد مکمل ہوں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے حامل اہم منصوبوں کو مالیاتی امور کی تیاری میں دوران ترجیح دی جائے۔ انہوں نے منصوبوں پر پیشرفت کی مانیٹرنگ کے لئے ٹریکنگ شیٹ کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کو ہدایت کی کہ اسے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ فیصلہ سازی بہتر انداز میں ممکن ہو سکے۔اجلاس میں ڈیجیٹل گورننس اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ای-آفس سسٹم کا آزمائشی عمل رواں ہفتے شروع کیا جائے گا، جس کے تحت ای-سمری، ڈائری اور ڈسپیچ جیسے فیچرز متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد شفافیت، کارکردگی اور سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنانا ہے۔صوبے کے ای-پروکیورمنٹ پورٹل ای-پیڈز پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 175 ٹینڈرز اپ لوڈ کیے جا چکے ہیں جبکہ رنگ روڈ پشاور (نارتھ سیکشن) کے مسنگ لنک کے تکنیکی بولی کھولنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔شہر پشاور میں ٹریفک کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کو ہدایت کی کہ صوبائی دارالحکومت کی خوبصورتی کے لئے ایک جامع منصوبہ 30 جون تک پیش کیا جائے۔ بتایا گیا کہ حیات آباد پشاور میں ایک ماڈل سیکٹر کی تیاری پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت شفافیت، کارکردگی اور بہتر سروس ڈیلیوری کے لئے وضع کردہ گڈ گورننس روڈمیپ پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان اصلاحاتی اقدامات کے تسلسل سے عوامی فلاح کے اقدامات میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔
ضلع کرک کے پہاڑی علاقے میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ ضلع کرک کے دشوار گزار پہاڑی پر لگی آگ پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے اس سلسلے میں محکمہ جنگلات،ریسکیو 1122 کی ٹیمیں، ضلعی انتظامیہ اور مقامی لوگ آگ کو بجھانے کے لئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں،یہاں سے جاری ایک بیان میں معاون خصوصی پیر مصور خان کا کہنا تھا کہ کرک میں کندوخیل گاؤں سے تقریباً 3 گھنٹے کی پیدل مسافت پر واقع پہاڑی علاقے سوکا سر غر میں لگی ہے،یہ ایک انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جس کی وجہ سے آگ بجھانے کے عمل میں شدید مشکلات درپیش ہیں لیکن صوبائی حکومت آگ پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھارہی ہے،معاون خصوصی پیر مصور خان نے کہا کہ پشاور سمیت دیگر اضلاع سے بھی محکمہ جنگلات کے افسران کرک پہنچ گئے ہیں، تمام متعلقہ افسران سے رابطے میں ہوں، آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ معلومات حاصل کررہا ہوں، آگ لگنے کی وجوہات بارے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ابھی تک اطلاعات کے مطابق مذکورہ علاقے میں کچھ لوگ پکنک کے لئے گئے تھے جن کی غفلت اور لا پرواہی کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں آگ لگی، انھوں نے عوام سے اپیل کہ سیاحتی مقام پرکھانا پکانے کے دوران انتہائی احتیاط کریں اور اگ کو صحیح طریقے سے بجھائے کیونکہ جنگلات ہمارا قیمتی اثاثہ ہے اس لیے ذمہ دار شہری کا ثبوت دیتے ہوئے جنگلات کے تحفظ میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں
مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف سے برٹش ہائی کمیشن کے وفد کی ملاقات
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف سے برٹش ہائی کمیشن کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔وفد میں پولیٹیکل سیکشن کی سربراہ زوئے وئیر اور پولیٹیکل قونصلر کورمک شامل تھے۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خطے میں امن و امان کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور پہیلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفد کو بھارت کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے گئے بے بنیاد الزامات سے آگاہ کیا اور مودی سرکار کے مزموم عزائم پر روشنی ڈالی۔ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال سمیت عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر اسیران کے مقدمات پر بھی گفتگو ہوئی۔اس دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور حکومت کی جانب سے ان کی روک تھام کے لئے کئے گئے مؤثر اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ کی قیادت میں خیبر پختونخوا حکومت قبائلی اضلاع میں صحت, امن امان اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔اس موقع پر وفد نے خیبر پختونخوا میں عوامی فلاح کے منصوبوں اور دہشت گردی کے خلاف حکومت کے اقدامات کو سراہا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات کے اختتام پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفد کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
گلبرگ عیسیٰ خان کالونی مسجد چترالی میں سولر سسٹم کی تنصیب کا آغاز
خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ اور رکنِ قومی اسمبلی شیر علی ارباب کی ہدایت پر گلبرگ عیسیٰ خان کالونی کی مسجد چترالی میں سولر سسٹم کی تنصیب کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مسجد کو مستقل اور ماحول دوست توانائی فراہم کرنا ہے تاکہ نمازیوں کو بجلی کی بندش کے مسائل سے نجات مل سکے۔افتتاح کے موقع پر چیئرمین ملک عادل، شہزاد نبی اور عثمان بھی موجود تھے۔ مقامی کمیونٹی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے صوبائی وزیر اور ایم این اے کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے فلاحی منصوبے جاری رہیں گے۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی رہی ہے اور مزید ترقیاتی کام مکمل کیے جائیں گے۔
زیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ علم و تحقیق کا حصول نہ صرف ایک بنیادی انسانی فریضہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک مقدس ذمہ داری بھی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ حیات آباد کے زیر اہتمام منعقدہ ”انٹرنیشنل کانفرنس برائے ہیلتھ ریسرچ 2025” سے خطاب کے دوران کیا۔ کانفرنس میں ملک بھر سے اسکالرز، طلبہ، ماہرین صحت اور محققین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ سالانہ تقریب صحت کے شعبے میں تحقیق کو فروغ دینے کے لیے منعقد ہوتی ہے۔ اس سال کانفرنس میں پاکستان اور بیرون ملک سے 500 سے زائد تحقیقی مکالمے جمع ہوئے، جبکہ 2000 سے زیادہ رجسٹریشنز اور 55 سے زائدکانفرنس ورکشاپس منعقد ہوئیں۔ کانفرنس ہائبرڈ فارمیٹ میں ہوئی، جس میں روس، افریقہ،برطانیہ اور اٹلی کے معروف مقرررین نے شرکت کی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں پر علم کے نئے افق تلاش کرنا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم ایک مقدس امانت ہے اور تہذیبوں کی ترقی اور زوال کا انحصار بھی علم پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محققین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ استدلال کے ذریعے کائنات کے پوشیدہ رازوں کی جستجو کریں۔ انہوں نے قرآن کریم میں کائنات کے مسلسل وسعت پذیر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل فکری جستجو انسانیت کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔انسانی فکر کی تاریخی ارتقاء کا ذکر کرتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے تاریخی مادیت (Historical Materialism) اور جدلیاتی عمل (Dialectical Process) جیسے فلسفیانہ نظریات کا حوالہ دیا اور کہا کہ فکری ترقی سوالات اور جوابات کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔انہوں نے ترقی پذیر ممالک میں تحقیق اور عملی اطلاق کے درمیان پائے جانے والے خلا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے طرز حکمرانی کی خامیوں سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف شعبہ صحت تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبہ جات کو متاثر کر رہا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے علم کی تجارت کاری (Commercialization) پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مادی مفادات اجتماعی اور اخلاقی ذمہ داریوں پر غالب آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، ”ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معاشی مفادات نے اجتماعی ترقی کے جذبے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔”علامہ اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نئے افکار (افکار تازہ) کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ترقی یافتہ تہذیبیں ہمیشہ نئے نظریات کی مرہون منت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن بار بار غور و فکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے علم و عقل کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔حکومتی کردار پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں حالیہ اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گردے، جگر، بون میرو ٹرانسپلانٹ اور کوکلیئر امپلانٹ جیسے مہنگے علاج اب حکومت کی مالی معاونت سے عام لوگوں کے لیے دستیاب ہوں گے۔کانفرنس میں ملک بھر سے ماہرین اور محققین نے شرکت کی، جس کا مقصد تحقیق اور عملی اطلاق کے درمیان موجود خلاء کو ختم کرنے کے لیے جدید طریقوں پر غور کرنا تھا
صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امورصاحبزادہ محمد عدنان قادری کا سندھ میں پھنسے ٹرانسپورٹرز کے لئے اظہارِ تشویش
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے سندھ کے علاقے ببرلو بائی پاس، سکھر میں جاری وکلاء دھرنے کے باعث خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ٹرانسپورٹرز کی زبوں حالی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو اپنے آفس سے ایک خصوصی بیان جاری کرتے صوبائی وزیر نے کہا کہ کینال ایشوز پر احتجاج اور دھرنے کی آڑ میں معصوم اور محنت کش ڈرائیورز کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈرائیورز دن کو چوروں اور رات کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں۔ دن دیہاڑے لوڈ ڈ گاڑیوں سے بیٹریاں، موبائل فونز اور نقدی لوٹنے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی موثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔عدنان قادری نے کہا کہ زیادہ تر متاثرہ ڈرائیورز کا تعلق بالعموم خیبرپختونخوا اور بالخصوص ضلع خیبر سے ہے، جو اس وقت 45 ڈگری گرمی میں سڑکوں پر گاڑیوں کے ساتھ بے یار و مددگار پڑے ہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری ایکشن لے اور غریب ٹرانسپورٹرز کو اس اذیت سے نجات دلائے۔صوبائی وزیر نے وفاقی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت کی سیاسی چپقلش کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے محنت کش ڈرائیورز بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہروں کے پانی سے لوگ بعد میں متاثر ہوں گے، جبکہ ہمارے ڈرائیورز پر زمین ابھی سے تنگ کر دی گئی ہے۔آخر میں عدنان قادری نے پختونخوا کی وکلاء برادری سے اپیل کی کہ وہ ببرلو بائی پاس میں جاری دھرنے میں پھنسے ڈرائیورز کے نکالنے میں اپنا انسانی و قانونی کردار ادا کریں تاکہ یہ افراد اپنے گھروں کو بخیریت واپس لوٹ سکیں۔
وزیر اعلی خیبر پختونخواکے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے
وزیر اعلی خیبر پختونخواکے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ مودی سرکار کے فالس فلیگ آپریشن کا پول خود بھارت میں کھل رہا ہے۔ بھارت کی اہم سیاسی، صحافتی اور سماجی شخصیات اس فلاپ ڈرامے کو بے نقاب کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی اپوزیشن سمیت سیاسی حلقے اس کمزور اسکرپٹ کو سچ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بھارتی عوام میں اب شعور بیدار ہو چکا ہے اور وہ مودی کے ڈراموں پر مزید یقین نہیں کرتے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ مودی اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو واپس حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور ان کا ٹریک ریکارڈ قتل و غارت پر مبنی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کے مہم جوئی کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ موجودہ سنگین حالات میں عمران خان جیسی مقبول اور دلیر قیادت کی ضرورت ہے۔انہوں نے فارم 47 کی بنیاد پر قائم موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسے نہ قانونی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی عوامی حمایت۔بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ فارم 47 پر بننے والے وزیر دفاع خواجہ آصف میں درکار صلاحیت موجود نہیں ہے۔ اس وقت ملک کو اصلی مینڈیٹ کی ضرورت ہے جس کو عوام نے منتخب کیا ہو نہ کہ چور دروازے سے آئے ہوں
خیبر پختونخوا کے وزیرخوراک ظاہر شاہ طورونے اپنے حلقے میں
خیبر پختونخوا کے وزیرخوراک ظاہر شاہ طورونے اپنے حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کی تیزی سے تکمیل کی روایت برقرار رکھتے ہوئے ولیج کونسل غلہ ڈھیر میں سیرئے کورونہ روڈ کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ منصوبے پر دو کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ افتتاحی تقریب میں صدر ویلج کونسل غلہ ڈھیر فیض محمد، نورمحمد سمیت پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز،علاقے کے معززین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ علاقے کے لوگوں نے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سڑک برسوں سے عوام کی بنیادی ضرورت تھی، جس کی تعمیر سے اب ہزاروں افراد کو سفر میں سہولت حاصل ہوگی۔ اس موقع پر وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حلقے سمیت صوبے کے تمام علاقوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔اُنہوں نے کہا کہ علاقے کی ترقی کے لئے مزید منصوبے بھی جلد شروع کیے جائیں گے۔ علاقہ عمائدین نے اس ترقیاتی قدم پر حکومت خیبرپختونخوا اور خاص طور پر ظاہر شاہ طورو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
صوبائی وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے اپنے حجرہ
صوبائی وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے اپنے حجرہ مکان باغ سوات میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ کھلی کچہری کا مقصد عوام کے مسائل براہ راست سننا، ان کے فوری حل کو یقینی بنانا اور حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کو کم کرنا تھا۔ فضل حکیم خان نے کھلی کچہری کے دوران شہریوں کے مسائل سنے اورمتعدد شکایات کا فوری ازالہ کیا جبکہ بعض معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے واضح کیا کہ عوامی خدمت کو سیاست کا محور بنانا ہی پاکستان تحریک انصاف کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھلی کچہری قائد عمران خان کے اُس خواب کی تعبیر ہے جس میں عوام کی عزت اور ان کے حقوق کی پاسداری کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ہمارا مشن عوام کو حکمرانی میں شراکت دار بنانا ہے تاکہ ایک شفاف، جوابدہ اور عوام دوست نظام قائم ہو۔ عوامی مسائل کا بروقت اور منصفانہ حل ہماری اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول میں کوئی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ فضل حکیم خان نے کہا کہ عوام سے براہ راست رشتہ ہمارے عزم اور وژن کی بنیاد ہے۔ ہماری ترجیح عوامی مسائل کا فوری ادراک اور ان کے حل میں شفافیت رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ترقی، انصاف، اور خوشحالی اسی وقت ممکن ہے جب عوام کی آواز براہ راست سنی جائے اور ان کی توقعات پر پورا اتراجائے جس کے لئے ہماری قیادت ہر سطح پر عوام سے مسلسل رابطے میں ہے۔عوام سے براہ راست تعلق نہ صرف ہماری پالیسیوں کی رہنمائی کرتا ہے بلکہ ایک مضبوط، بااعتماد، اور خوشحال معاشرے کی تعمیر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اعتماد ہی ہمارا اصل سرمایہ ہے اور اس سرمائے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔اس موقع پرعوام نے فضل حکیم خان کی عوام دوست پالیسیوں، دروازے ہر وقت عوام کے لیے کھلے رکھنے اور فوری عملدرآمد کے انداز کو خراج تحسین پیش کیا۔ صوبائی وزیر نے اعادہ کیاکہ وہ قائد عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کی خدمت کو اپنی سیاست کا مرکز بنائے رکھیں گے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔
