Home Blog Page 189

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ امسال داخلہ مہم

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ امسال داخلہ مہم کے دوران جو 10 لاکھ بچے سکولوں میں داخل ہوں گے ان کو مفت در سی کتابوں اور دیگر سہولیات بشمول مفت سکول بیگز بھی فراہم کئے جائیں گے۔ جبکہ رحمت اللعالمین سکالرشپ پروگرام کے تحت میرٹ پر منتخب شدہ طلبہ و طالبات کو عنقریب سکالرشپس بھی جاری کئے جائیں گے۔ جس کے ریلیز کے لیے متعلقہ امتحانی بورڈز کو ہدایات جاری کی گئی ہے۔ سیکنڈ شفٹ سکولز پروگرام کے تحت صوبے کے تمام اضلاح کو 1.3 بلین روپے کے بقایا جات جاری کیے جا چکے ہیں۔ وزیر تعلیم نے اس پروگرام کے اگلے سال کے 2 ارب روپے بجٹ پروپوزل اگلے سال کے بجٹ میں شامل کرنے کیلئے بھیجنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ سائیڈ بجٹ کے اخراجات بھی 85 فیصد سے اوپر ہیں جو کہ تسلی بخش ہے۔ امسال صوبہ بھر میں 86 سے زائد سکولوں کی تعمیر مکمل کی گئی ہے جن کے عنقریب افتتاح ہوں گے۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ گرلز کیڈٹ کالج مردان کو فوری طور پر نئے تعمیر شدہ بلڈنگ میں منتقل کرنے کے لیے پیسے ریلیز ہو چکے ہیں تعمیراتی کام میں تیزی لائی جائے اور وہ خود اگلے ہفتے کالج کا دورہ کریں گے۔ اور جاری تعلیمی سرگرمیوں بشمول نئے بلڈنگ کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیں گے اور منتخب مقامی عوامی نمائندوں سے مشاورت بھی کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم کرنٹ سائیڈ بجٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری قیصر عالم، ڈائریکٹریس ایجوکیشن ناہید انجم اور پلاننگ سیکشن کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ مینجمنٹ کیڈر ملازمین کی تربیت کا پروگرام اگلے سال کے جنوری مہینے سے شروع کی جائے اور ڈی پی ڈی سے تربیت کے حوالے سے بجٹ تجاویز اور دیگر تفصیلات طلب کی جائیں۔ جبکہ ڈی پی ڈی کو جاری تربیتی پروگرام کے باقایا جات ریلیز کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایٹا کے تخت جو نئے 16 ہزار اساتذہ منتخب ہوں گے ان کو ابتداء سے ہی ڈی پی ڈی میں تربیت دی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو یہ بھی ہدایت جاری کی کہ ایجوکیشن سیکٹریٹ، ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اور تمام ضلعی دفاتر پر لازم ہے کہ وہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک ڈیوٹی پر موجود ہوں گے۔ اور ان تمام دفاتر میں بائیو میٹرک مشینوں کی تنصیب و فعالیت یقینی بنائی جائے۔ ڈیوٹی کے دوران کسی بھی ملازم کو غیر حاضر پایا گیا تو ان کے خلاف کاروائی ہوگی اور قصورواروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم اولین ترجیح ہے اور اس سے وابستہ لوگوں کے مسائل حل کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ہر کلاس میں استاد کی موجودگی ضروری ہے تاکہ درس و تدریس کا عمل جاری رہے انہوں نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلباء وطالبات کو محکمہ تعلیم میں ماہانہ وظیفہ یا انٹرنشپ پروگرام کے تحت اسکولوں میں عارضی طور پر منتخب کرنے کے لیے اقدامات کی جائے تاکہ اساتذہ کی کمی ہنگامی بنیادوں پر پوری کی جا سکے اور ہر کلاس روم میں استاد کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے اس کے علاوہ ڈونرز، پیرنٹس ٹیچر کونسلز اور دیگر ذرائعوں سے بھی عارضی طور پر اساتذہ کو منتخب کیا جائے گا۔

وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ طلبہ و طالبات کو بھی سہولیات اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں موجودہ حکومت نے بارہویں کلاس تک مفت تعلیم کے مواقع حاصل کرنے کے لئے جاری پروگرام ایٹا سکالرشپس کے سیٹوں کی تعداد کو بھی دگنا کر کے 506 کر دیا ہے جس سے زیادہ طلبہ و طالبات کو سہولیات میسر ہوں گی۔ جبکہ ضم اضلاع کے کمیونٹی سکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے بھی یہ پروگرام امسال شروع کیا گیا ہے۔

وزیر تعلیم نے ایجوکیشن پلاننگ سیکشن حکام کو ہدایت کی کہ اسکولوں میں باقی ماندہ سہولیات جیسے باؤنڈری وال، واش رومز، بجلی اور پانی کی فراہمی کے لئے مختص شدہ بجٹ کو فوری طور پر ریلیز کر دیا جائے اور جتنے کام ہو چکے ہیں ان کے کام سے پہلے اور بعد کے تصاویر مانیٹرنگ ٹیم اکٹھا کرے۔ اور اگلے بجٹ اجلاس میں ان سہولیات کو ضلع وائز پوری کرنے کے لیے تجاویز بھیج دی جائے جبکہ ڈائریکٹریٹ لیول پر ڈسٹرکٹ پرفارمنس سکور کارڈ پروگرام شروع کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں

مشیر صحت احتشام علی کی ہدایت پر صوبہ بھر کے نجی و سرکاری بلڈ بینکس کی رجسٹریشن کا عمل شروع، بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی جانب سے بلڈ بینکس کو رجسٹریشن کا نوٹس جاری، تیس اپریل تک کی ڈیڈ لائن

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صحت احتشام علی کی ہدایت پر صوبہ بھر کے نجی و سرکاری بلڈ بینکس کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہوچکا ہی۔ اس بابت چیف ایگزیکٹیو بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی خیبرپختونخوا ڈاکٹر عابد کی جانب سے بلڈ بینکس کو رجسٹریشن کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق بلڈ بینکس کو رجسٹریشن کیلئے تیس اپریل تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ نوٹس کے مطابق رجسٹریشن فارم محکمہ صحت کے ویب سائٹ سے ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ مشیر صحت احتشام علی کے مطابق یہ اقدام غیر محفوظ اور غیر قانونی انتقال خون کا سدباب ہوگا اور خون کے انتقال سے پھیلنے والی بیماریوں کا روک تھام ممکن ہوگا۔انہوں اس اقدام کو صوبے بلڈ سروسز کے ریگولیشن اور رجسٹریشن کو احسن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں فعال بلڈ بینکس کو قانون کے تحت چلنا ہوگا جس کے لئے یہ اقدام اہم سنگ میل ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد نے آل خیبر پختونخوا گڈز ٹرانسپورٹ اینڈ اڈا اونر فیڈریشن کمیونٹی کے چیئرمین حاجی لیاقت علی خان اور صدر حاجی لیاقت اور ٹرانسپورٹرز کمیونٹی کے وفد سے ملاقات کی۔اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ مسعود یونس، سیکرٹری پی ٹی اے اکبر افتخار، ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ حامد علی، سیکرٹری آر ٹی اے ابرار وزیر اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ملاقات میں معاون خصوصی نے پی ٹی اے اور آر ٹی اے کے درمیان اختیارات سمیت ٹرانسپورٹرز کمیونٹی کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ٹرانسپورٹرز برادری کا کہنا تھا کہ پرمٹ فیس محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک اکاؤنٹ میں جمع کرائی جاتی ہے تاہم ضلعی سطح پر آر ٹی اے کے پاس 1 ٹن سے 12 ٹن وزنی گاڑیوں کو پرمٹ جاری کرنے کا اختیار ہے جبکہ پی ٹی اے 13 ٹن سے 80 ٹن وزنی گاڑیوں کو پرمٹ جاری کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹر برادری نے معاون خصوصی سے درخواست کی کہ وہ علاقائی سطح پر ہر زمرے کے لیے پرمٹ جاری کرنے کا اختیار RTA کو دیدے تاکہ انھیں ایک جگہ پر سہولت فراہم کی جائے۔ٹرانسپورٹرز کمیونٹی نے مزید درخواست کی کہ ٹریفک چالان میں کمیشن سسٹم کو ختم کیا جائے کیونکہ اس سے گڈز ٹرانسپورٹرز کی بے عزتی ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جن ڈرائیوروں کے پاس محکمہ پولیس کا این او سی ہے انہیں محکمہ ٹرانسپورٹ کی طرف سے لائسنس دئیے جائیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ کو ٹریفک پولیس کا این او سی قبول کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ درخواست کے عمل کو آسان بنایا جائے اور اسے محکمہ پولیس کے TMA اور NOC سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔معاون خصوصی نے اعلیٰ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ وہ ٹرانسپورٹرز برادری کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل حل کریں اور انہیں سہولیات فراہم کریں۔

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے ڈائریکٹر جنرل نیب خیبرپختونخوا فرمان اللہ کی ملاقات

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے ڈائریکٹر جنرل نیب خیبرپختونخوا فرمان اللہ نے پشاور میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران صوبے میں نیب کی مجموعی کارکردگی، احتسابی عمل کی شفافیت اور عوامی اعتماد کی بحالی کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر خیبرپختونخوا اسمبلی میں قائم ”اکاؤنٹبیلٹی فیسیلیٹیشن سیل” کی کارکردگی پر بھی غور کیا گیا۔ سپیکر اسمبلی نے سیل کے مؤثر کردار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور شفاف طرز حکمرانی کے فروغ میں یہ سیل کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ملاقات میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کی کارکردگی اور دائرہ کار کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ سپیکر اسمبلی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسمبلی کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو فعال، بااختیار اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے تمام ضروری قانون سازی عمل میں لائی جائے گی۔سپیکر اسمبلی نے ڈی جی نیب فرمان اللہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیب ایک اہم ادارہ ہے جو بدعنوانی کے خاتمے اور شفاف نظام حکمرانی کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ادارہ آئندہ بھی اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور دیانتداری سے سرانجام دیتا رہے گا۔اس موقع پر ڈی جی نیب نے سپیکر اسمبلی کے سسر کی وفات پر بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

چشمہ رائٹ بینک لفٹ کنال منصوبے کو سندھ اسمبلی کی قرارداد میں شامل کرنا قابل مذمت ہے۔بیرسٹر ڈاکٹرسیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے سندھ اسمبلی میں مجوزہ نہروں کے خلاف پیش کی گئی قرارداد میں چشمہ رائٹ بینک کینال (لفٹ کم گریویٹی) کو شامل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو اس قرارداد سے فوری طور پر خارج کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ چشمہ رائٹ بینک لفٹ کم گریویٹی کنال پراجیکٹ کی منظوری 1991 میں دی گئی تھی، جب چاروں صوبوں کے لیے نہریں نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان تمام نہروں کی فنڈنگ وفاق کے ذمے تھی۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں نہریں نکالی گئیں، مگر خیبر پختونخوا کو آج تک اس کا حق نہیں دیا گیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ سندھ حکومت چشمہ رائٹ بینک کنال کے معاملے میں مداخلت سے باز رہے اور اپنا مقدمہ وفاق اور پنجاب کے ساتھ لڑے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس منصوبے کے لیے 35 فیصد فنڈ فراہم کرنے کی پیش کش بھی کی ہے، اس کے باوجود یہ منصوبہ تاحال تاخیر کا شکار ہے، جو صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے

خیبر تدریسی ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کا ہسپتال کا پہلا تفصیلی دورہ

ہسپتال کو جدید طبی سہولیات کا ایک مثالی ادارہ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ڈاکٹر وقار اجمل

خیبر ٹیچنگ ہسپتال، خیبر میڈیکل کالج، اور خیبر کالج آف ڈینٹسٹری کے نئے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ڈاکٹر وقار اجمل اور دیگر معزز بورڈ ممبران، ڈاکٹر روبینہ نعمان گیلانی، ڈاکٹر واجد علی، محمد اشتیاق احمد، انجینئر جاوید احسن اور تیمور شاہ نے 18 اور 19 اپریل 2025 کوکے ٹی ایچ کا ایک جامع دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب، ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ظفر آفریدی، میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد دواڑ اور ڈین کے سی ڈی پروفیسر ڈاکٹر سید ناصر شاہ، شعبہ جات کے سربراہان، اور انتظامی عملے نے بھی شرکت کی۔اس تفصیلی دورے میں ہسپتال کے تمام کلیدی شعبوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں آؤٹ پیٹینٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی)، ایمرجنسی وارڈ، ٹرانسپلانٹ سینٹر، آئی سی یو، نیورولوجی یونٹ، برن یونٹ، فارمیسی، ماڈولر آپریشن تھیٹر، وارڈز، نرسری، ہیومن ریسورسز، آئی بی پی کلینکس، فیسیلیٹیشن سیل، اور ڈائیلاسس یونٹ شامل تھے۔ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ظفر آفریدی نے اپنی بریفنگ میں واضح کیا کہ 2020 سے قبل ہسپتال میں ترقیاتی کام بہت محدود تھے، لیکن 2021 کے بعد سے ہسپتال نے ایک نئے عہد کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے مریضوں کی بہتر دیکھ بھال اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے متعدد مکمل اور جاری منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ اپنی گفتگو میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر وقار اجمل نے کے ٹی ایچ کو صحت کے شعبے میں ایک ماڈل ادارہ بنانے کے لیے بورڈ کے ویژن کو دہرایا۔ انہوں نے دستیاب وسائل کے بہترین استعمال اور ہسپتال کی ترقی کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ عوامی صحت کی بہتری کے لیے پرعزم ہے اور ہسپتال کو جدید طبی سہولیات کا ایک مثالی ادارہ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔انکا مزید کہنا تھا کہ بورڈ کا وژن نہ صرف موجودہ ضروریات کو پورا کرنا ہے بلکہ آنے والے وقت میں کے ٹی ایچ کو عالمی معیار کے طبی اداروں کی صف میں لانا بھی اس مشن کا حصہ ہے۔ اس مقصد کے تحت، ہسپتال میں تحقیق، تربیت، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں انقلابی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مریضوں کو بہتر علاج، ڈاکٹروں کو جدید تعلیم، اور عملے کو بہترین تربیت میسر آسکے۔ یہ وژن مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا اور کے ٹی ایچ کو پاکستان کے طبی نقشے پر ایک ممتاز مقام عطا کرے گا۔

خیبر پختونخوا میں ضم اضلاع کے اہلکاروں کو پولیس میں ضم کرنے سے متعلق اہم اجلاس، وزیر قانون کی زیر صدارت تفصیلی مشاورت

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ کی زیر صدارت منگل کے روزپشاور میں ایک اہم اجلاس کا انعقاد ہوا، جس کا مقصد ضم شدہ اضلاع میں تعینات رسالدار، جمعدار اور دفعدار اہلکاروں کی خیبر پختونخوا پولیس میں شمولیت کے حوالے سے درپیش قانونی و انتظامی امور کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس میں سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ زبیر احمد،ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر قاسم، محکمہ قانون کے سینئر قانون دان رئیس خان، اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی متفقہ قرارداد نمبر 120، جو ان اہلکاروں کو پولیس میں ضم کرنے سے متعلق ہے، پر عمل درآمد سے متعلق تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم قومی معاملے میں قانونی تقاضوں کی تکمیل، شفافیت اور انصاف پر مبنی فیصلے یقینی بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضم شدہ علاقوں کے اہلکاروں کو ان کا جائز مقام دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اجلاس میں شرکاء نے پولیس، محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ عمل خوش اسلوبی اور توازن کے ساتھ مکمل ہو۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ کے تحت انضمام کے قانونی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی اور اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ مذکورہ معاملہ قانونی قواعد کے مطابق متوازن طریقہ سے حل کیا جاسکے۔

صوبائی وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ کا فیضانِ مدینہ کراچی کا دورہ، دعوتِ اسلامی کی خدمات کو سراہا

صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے دعوتِ اسلامی کے مرکزی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین وزیراعلیٰ شکایات سیل ایم پی اے سمیع اللہ خان اور چیئرمین صوبائی زکوٰۃ کونسل ایڈووکیٹ امتیاز خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔صوبائی وزیر نے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ، اسلامک ریسرچ سینٹر، فیضان آن لائن اکیڈمی اور اسپیشل بچوں کی نگہداشت و تربیت کے مراکز سمیت مختلف شعبہ جات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہیں دعوتِ اسلامی کی ڈاکومنٹری، موبائل ایپلیکیشنز اور دیگر دینی و فلاحی منصوبوں پر مفصل بریفنگ دی گئی۔دورے کے دوران صوبائی وزیر نے معروف اسلامی سکالر مفتی محمد سجاد عطاری سے ملاقات کی اور مختلف دینی و مذہبی امور پر تبادلہ خیال کیا۔صوبائی وزیر نے دعوتِ اسلامی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ”جس احسن انداز سے یہ ادارہ مذہبی اُمور کو فروغ دے رہا ہے، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔”انہوں نے کہا کہ دعوتِ اسلامی کی فلاحی و تعلیمی کاوشیں معاشرے کے ہر طبقے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں اور حکومت ایسے مثبت اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ اور عجائب گھر کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ اور عجائب گھر کا اجلاس کمیٹی کے چیئرپرسن و رکن صوبائی اسمبلی شرافت علی کی زیر صدارت منگل کے روز اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں اراکین صوبائی اسمبلی سمیع اللہ خان، ارباب محمد عثمان، زر عالم خان، مرتضیٰ خان تراکئی، رجب علی خان عباسی اور جلال خان، محکمہ ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ اور میوزیم کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ کمیٹی نے محکمہ سیاحت کی کارکردگی کو متاثر کرنے والی مشکلات کے حل کے لئے محکمہ جنگلات، محکمہ لوکل گورنمنٹ، اور محکمہ ماحولیات کے ساتھ قواعد و ضوابط اور ذمہ داریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی کے ارکان نے ان محکموں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان پر تشویش کا بھی اظہار کیا جو صوبہ بھر میں سیاحت کے اقدامات کی موثر منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ کمیٹی نے اس حوالے سے کارکردگی بہتر بنانے اور ادارہ جاتی وضاحت اور بین الاضلاع کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ 15 دنوں کے اندر ایک جامع منصوبہ تیار کر کے پیش کریں، جس میں کام کی اوورلیپنگ کو حل کرنے کے لیے واضح حل کی وضاحت کی گئی ہو۔ چئیر مین نے کہا کہ محکمہ کو ایک مضبوط فریم ورک بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے جو ہموار کام کرنے میں سہولت فراہم کرے اور محکمہ کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر بیان کرے۔ کمیٹی اراکین نے یہ بھی متنبہ کیا کہ مقررہ مدت میں مطلوبہ منصوبہ پیش کرنے میں ناکامی کی صورت میں، کمیٹی اس معاملے کو مناسب طریقے سے حل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے اپنے احکامات جاری کرے گی۔ مزید برآں، کمیٹی نے سیاحت کی مجموعی بہتری اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے بھی ہدایات جاری کیں جن میں سیاحتی مقامات پر انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے، سیاحوں کے لیے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے، محکمہ ماحولیات کے ساتھ مل کر ماحولیاتی طور پر پائیدار سیاحت کو فروغ دینے اور ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایات شامل تھیں۔ کمیٹی نے سیاحت سے متعلقہ منصوبوں کے لیے مختص عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ مزید برآں، محکمہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے سیاحوں کے تاثرات اور شکایات کے ازالے کے لیے مناسب میکانزم قائم کرے۔ چیئرپرسن اور ایم پی اے شرافت علی نے اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ثقافتی تحفظ کے لیے سیاحت کو ایک اہم شعبے کے طور پر ترقی دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کی پائیدار ترقی کے لیے اجتماعی اور فعال طور پر کام کریں۔

خیبرپختونخوا بجٹ مالی سال2025-26کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبروں میں کسی قسم کی صداقت نہیں ہے۔ مزمل اسلم

محکمہ فنانس خیبرپختونخوا نے آئندہ بجٹ کے حوالے سے کسی قسم کے اعدادوشمار ابھی جاری نہیں کیے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

ملک میں کسانوں کا معاشی استحصال اور نقصان 900 ارب سے زیادہ ہے، صرف پنجاب کے کسانوں کا نقصان 600 ارب سے زیادہ ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا بجٹ مالی سال 2025-26 کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبروں میں کسی قسم کی صداقت نہیں ہے اور اس حوالے سے محکمہ فنانس خیبرپختونخوا نے آئندہ بجٹ کے حوالے سے کسی قسم کے اعدادوشمار ابھی جاری نہیں کیے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ نئے بجٹ کے حوالے سے اعدادوشمار اگلے مہینے مئی میں آنا شروع ہو جائیں گے جبکہ خیبرپختونخوا کا اگلے مالی سال کا بجٹ بھی رواں مالی سال2024-25کی طرح سرپلس ہوگا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری پر کام جاری ہے۔ تاحال حتمی اعدادوشمار اور تاریخ کا اعلان کرنا قبل از وقت ہے اور رواں مالی سال کی طرح خیبرپختونخوا کا اگلا بجٹ عوامی، ترقیاتی اور تاریخ ساز ہوگا