وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایازسے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) خیبرپختونخوا کے وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔اس ملاقات میں صوبے میں سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جاری اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں، ڈیجیٹل تبدیلی اور باہمی تعاون کے مواقع پر غور و خوض کیا گیا۔ ڈاکٹر شفقت ایاز نے UNDP کی جانب سے صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس تعاون سے خیبرپختونخوا میں ٹیکنالوجی کے فروغ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی اور مجموعی طور پر صوبے کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ویژن کے تحت سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدید تحقیق اور اختراعات کی حوصلہ افزائی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔ UNDP کے وفد نے بھی صوبے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اپنی مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور امید ظاہر کی کہ اس شراکت داری سے خیبرپختونخوا میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
صوابی میں ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کا تعارفی اجلاس،وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر کی بطور مہمان خصوصی شرکت
صوابی میں ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے تعارفی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیرنے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے سینئر عہدیداران سریر خان یوسفزئی، اسفندیار خان، ڈاکٹر عباس، ظفر علی، محمد شمویل، محسن احمد، محمد سلیمان اور نئے نومنتخب ارکان پارلیمنٹ شریک ہوئے اور مستقبل کے لیے نوجوانوں کے مذکورہ پلیٹ فارم کے حوالے سے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی عبدالکریم تورڈھیر نے نوجوانوں کو حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری نوجوان روزگار سکیم اور ضلع میں جاری ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے آگاہی دی اور ان سے صوبے میں ترقیاتی عمل اور گورننس کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے بارے میں اظہار خیال کیا۔معاون خصوصی نے نوجوانوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اپنی جانب سے انھیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کا مقصد نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
صوبائی وزیر لائیو سٹاک،فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے
صوبائی وزیر لائیو سٹاک،فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے محکمہ زکوٰۃ کی جانب سے سینور کینسر ہسپتال سیدوشریف میں مستحق افرادکے علاج ومعالجے کیلئے 80 لاکھ روپے کا امدادی چیک ہسپتال انچارج کے حوالہ کیا، اس موقع پر میئر تحصیل بابوزئی شاہد علی خان، ڈسٹرکٹ زکوٰۃ چیئرمین ملک آصف علی شہزاد اور دیگر بھی موجود تھے اس دوران صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے سینور ہسپتال سیدو شریف کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے لیب میں جدید تشحیصی مشین کا افتتاح بھی کیا جس سے کینسر کے مریضوں کی بہتر انداز میں تشحیص ممکن ہوگی،اس موقع پرفضل حکیم خان نے کہا کہ صوبائی حکومت غریب عوام کی ہر قسم تعاون کیلئے کوشاں ہے، انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بہترین علاج فراہم کریں، انہوں نے کہا کہ غریب کو ریلیف دینا ہماری اولین ترجیح ہے اس موقع پر صوبائی وزیر نے سینور سیدو شریف ہسپتال میں دستیاب صحت کی سہولیات سمیت ہسپتال میں عوام کو علاج معالجے کے معیار کا جائزہ لیا فضل حکیم خان نے وہاں پر زیر علاج مریضوں سے ملاقات کی اور ان سے ہسپتال کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے ہسپتال میں مریضوں کی تیمار داری کے لئے موجود اہل خانہ سے بھی گفتگو کی اس موقع پرزیر علاج مریضوں نے ہسپتال کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا فضل حکیم خان نے ہسپتال انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں اور مریضوں کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو بہترین طبی سہولیات یقینی بنائیں گے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کی گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی پشاور اور گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سینٹر بوائز ایبٹ آباد کے پرنسپلز سے اپنے دفتر میں ملاقات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم طفیل انجم نے کہا ہے کہ فنی تعلیم کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی پشاور اور جی ٹی وی سی بوائز ایبٹ آباد کے پرنسپلز سے اپنے دفتر میں ملاقات کرتے ہوئے کیا ہے۔اس موقع پر پرنسپلز نے اپنے اپنے اداروں کو درپیش چیلنجز اور مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی، جس پر معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ دونوں کالجز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے جبکہ ان کے تحفظات ترجیحی بنیادوں پر دور کئے جائیں گے۔ معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد صوبے میں فنی تعلیم کو عام کرنا ہے اور عام آدمی کے لئے فنی تعلیم کا حصول سہل اور ممکن بنانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام کالجز طلباء کو معیاری فنی تعلیم باہم پہنچانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں اور سٹاف طلبہ کو معیاری فنی تعلیم پہنچا نے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں فنی تعلیم کو عام کرنا ہے تاکہ طلبہ کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ٹیوٹا ملک منصور قیصر اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
صوبائی وزیر سید قاسم علی شاہ صوبائی رہائشگاہ پر پبلک ڈے کا انعقاد، صوبائی مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی
صوبائی وزیر سید قاسم علی شاہ نے آج پبلک ڈے کے موقع پر اپنی رہائشگاہ پر علاقے کے عوام، تنظیمی عہدیداران، چیئرمینوں اور پارٹی کارکنان سے ملاقات کی۔اس موقع پر بڑی تعداد میں سائلین نے صوبائی وزیر سے اپنے مسائل اور مشکلات بیان کیں۔ عوام نے پانی، بجلی، صفائی، سڑکوں، صحت، تعلیم اور دیگر مسائل کے حوالے سے درخواستیں پیش کیں۔صوبائی وزیر سید قاسم علی شاہ نے سائلین کے مسائل توجہ سے سنے اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مسائل کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے اور وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ملاقات میں پارٹی رہنماؤں اور مقامی چیئرمینوں نے صوبائی وزیر کے اقدامات کو سراہا اور انہیں اپنی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دھانی کرائی.
مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ مخالفین
مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ مخالفین پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبریں بڑھاچڑھاکر پیش کرکے خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں، پی ٹی آئی میں جتنے اختلافات ہیں اس سے کہیں زیادہ تو صرف شریف خاندان کے اندر ہر وقت پائے جاتے ہیں،شریف خاندان میں اقتدار کے حصول کی جنگ ہر وقت جاری رہتی ہے۔اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو بھی بھٹو کے اصل وارث کی فکر کرنی چاہیے، بلاوجہ بھٹو کی جگہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی شکل میں اصلی بھٹو سامنے آیا ہے، بھٹو کے اصلی وارث سامنے آنے کے بعد پیپلز پارٹی حواس باختہ ہوچکی ہے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی میں معمولی اختلافات کو بڑھا کر پیش کرنا محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے پاکستان تحریک انصاف مکمل طور پر متحد ہے، کارکنان سے لے کر مرکزی و صوبائی قیادت تک سب عمران خان کی رہائی کے لیے یک زبان ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ عمران خان پر قائم تمام جعلی مقدمات جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے، وہ دن دور نہیں جب عمران خان ایک بار پھر عوام کے درمیان ہوں گے۔ مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ جعلی حکومت عمران خان سے خوفزدہ ہیں اسلئے پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبریں بڑھا چڑھاکر چلاکر اپنے دل کو بہلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جڑیں عوام میں ہیں اور عمران خان عوام کے دلوں میں رچ بس چکا ہے۔ جعلی حکومت کچھ بھی کریں عوام کے دلوں سے عمران خان کو نہیں نکال سکتے ہیں۔
قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس/نوشہرہ میڈیکل کالج ایم ٹی آئی نوشہرہ میں ایسوسیشن آف کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی شراکت سے ٹی بی کے عالمی دن کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد ہوا
نوشہرہ میڈیکل کالج کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر انور خان وزیر اور قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سردار سہیل آفسر سیمینار کے مہمان خصوصی تھے۔ سیمینار میں ٹی بی آگاہی کے حوالے سے مقررین نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹی بی کا پانچوا ملک ہے جوکہ بہت تشویشناک ہے اور اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ 668000 ٹی بی کیسز نمودار ہوتے ہیں۔ مقررین میں ڈاکٹر میر عالم درانی ڈی ٹی او، ڈاکٹر نوشین صاحبزادہ ریجنل کورڈینیٹر آے سی ڈی، ڈاکٹر ابوزر ڈپٹی ڈی ایچ او نوشہرہ اور اسسٹنٹ پروفیسر و میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر نیاز علی شامل تھے۔مذکورہ سیمینار میں متعدد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس نوشہرہ، ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف اور میڈیکل کالج طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔سیمینار کے اختتام میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف میں تعریفی اسناد اور شیلڈ تقسیم کی گئیں۔
کے ایم یو میں پانچویں بین الاقوامی پبلک ہیلتھ کانفرنس 2025 کا آغاز
کانفرنس کا آغاز مختلف موضوعات پر 22 پری کانفرنس ورکشاپس کے انعقاد سے ہوا
ورکشاپس کا افتتاح سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کامران آفریدی نے وی سی کے ایم یو کے ہمراہ کیا
خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اینڈ سوشل سائنسز (آئی پی ایچ ایس ایس)پشاور کے زیراہتمام پانچویں بین الاقوامی پبلک ہیلتھ کانفرنس کا آغاز دو روزہ پری-کانفرنس ورکشاپس سے ہوگیا۔پری کانفرنس ورکشاپس کا افتتاح کامران آفریدی سیکریٹری ہائر ایجوکیشن نے پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق وائس چانسلر کے ایم یوکے ہمراہ کیا جب کہ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر خالد الرحمن، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اینڈ سوشل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر عبدالجلیل ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف فیملی میڈیسن اور دیگر فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ یہ چارروزہ کانفرنس ”پبلک ہیلتھ میں جدت اور اشتراک” کے موضوع کے تحت منعقد کی جا رہی ہیجو ماہرین کے دلچسپ مباحثوں، منفرد علمی نکات اور عملی تربیت کے مواقع پر مشتمل ایک جامع ایجنڈا پیش کر رہی ہے۔7اور 8اپریل کو منعقد ہونے والی پری کانفرنس ورکشاپس کے علاوہ کانفرنس 9 اور 10 اپریل 2025 کو کے ایم یو کے مرکزی کیمپس پشاور میں منعقد ہو رہی ہے جس میں کثیر تعداد میں ملکی اور بین الاقوامی مندوبین شرکت کریں گے۔ مختلف عنوانات کے تحت منعقد ہونے والی 22پری کانفرنس ورکشاپس میں پبلک ہیلتھ سے متعلق کئی اہم موضوعات پر توجہ دی گئی ہے جن میں پرائمری کیئر میں اخلاقیات اور قیادت، کمیونٹی نیوٹریشن اسسمنٹ، صحت سے متعلق تحقیق میں عوامی و مریض شراکت، غیر متعدی امراض، متعدی بیماریوں پر کنٹرول اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات شامل ہیں۔ دیگر اہم موضوعات میں ڈینٹل پبلک ہیلتھ، ذہنی صحت کے چیلنجزاور فیملی میڈیسن و پرائمری کیئر کے طریقہ کار بھی شامل ہیں جو صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ افتتاح کے بعد ورکشاپس کے شرکاء سے اپنے خطاب میں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کامران آفریدی نے کہا کہ یہ کانفرنس شرکاء کو اپنے شعبے کے ممتاز ماہرین سے سیکھنے، جدید معلومات سے باخبر رہنے اور تحقیقی منصوبوں پر ماہرین سے رائے حاصل کرنے کا نایاب موقع فراہم کر نے میں کلیدی کرداراداکرے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ ورکشاپس محققین، پالیسی سازوں، اور ہیلتھ کیئر لیڈرز سے ملاقات اور روابط بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوں گی۔ پری کانفرنس ورکشاپس شرکاء کو عملی مہارتوں میں بہتری لانے کا موقع فراہم کرنے کے علاوہ جدت طرازی کے لیے مختلف زاویوں سے سوچنے کی ترغیب دینے میں ممد ومعان ثابت ہوں گی۔ کامران آفریدی نے کہا کہ چاہے آپ طالب علم ہوں، محقق، معالج یا پالیسی ساز، پبلک ہیلتھ کی پانچویں بین الاقوامی کانفرنس 2025 آپ کو ایک ایسا نادر موقع فراہم کرے گی جہاں آپ موجودہ صحت سے متعلق چیلنجز کو سمجھ کر عوامی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر حل تلاش کر نے کے قابل ہو سکیں گے۔
ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوااسمبلی ثریا بی بی کی صدارت میں منی پاور ہاؤس کمیٹی کے اجلاس کا انعقاد، بحالی کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت
ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی زیر صدارت منی مائیکرو ہائیڈل پاور ہاؤسز کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بونی اپر چترال میں منعقد ہوا، جس میں پیڈو اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) کے اشتراک سے جاری منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر چترال اپر حسیب الرحمن خان، منصوبوں کے ٹھیکیداران، پاور ہاؤس کمیٹی کے ممبران اور اے کے آر ایس پی کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار، عوام کو بجلی کی فراہمی میں تاخیر کی وجوہات اور بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے متعلقہ اداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ بحالی کے کام فوری طور پر شروع کیے جائیں اور تمام منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجلی بنیادی عوامی ضرورت ہے، اور اس کی فراہمی مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کمیٹی ممبران کو تلقین کی کہ وہ جاری منصوبوں پر کڑی نظر رکھیں اور وقتاً فوقتاً سائٹ کا معائنہ کرکے پیش رفت کی نگرانی کریں تاکہ شفافیت اور رفتار کو یقینی بنایا جاسکے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی اسپیکر نے متعلقہ اداروں کو اگلے اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کہ اور کہا کہ سست روی پر جوابدہی ہوگی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی تحصیل ہسپتال چھوٹا لاہور کے حوالے سے خبر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے
واقعے کے وقت ہسپتال میں تمام عملہ موجودتھا۔ متعلقہ عملے نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی۔اے ایچ ڈی
سوشل میڈیا پر چند روز قبل تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چھوٹا لاہور سے متعلق ایک خبر گردش کر رہی ہے، جس میں پوسٹ مارٹم کے وقت ڈاکٹر کی غیر موجودگی کا تاثر دیا گیا ہے۔ یہ خبر مکمل طور پر بے بنیاد، جھوٹ پر مبنی اور حقائق کے منافی ہے، جس کا مقصد محض ہسپتال کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔واقعہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ چند روز قبل رات کے وقت ایک ڈیڈ باڈی لوڈر گاڑی میں ہسپتال لائی گئی، جہاں ورثاء نے بغیر ایف آئی آر کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا۔ متعلقہ ڈاکٹر نے قانونی تقاضوں کے تحت ایف آئی آر کے بغیر پوسٹ مارٹم کرنے سے معذرت کی۔ اس انکار پر ورثاء نے نہ صرف ہسپتال کے عملے سے بدتمیزی کی بلکہ ڈاکٹر کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔بعد ازاں، لاش کو باچا خان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا، جہاں پہلے قانونی کارروائی (ایف آئی آر) مکمل کی گئی اور پھر پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ یاد رہے کہ باچا خان میڈیکل کمپلیکس بھی ایم ٹی آئی ہسپتال ہے۔قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اسی رات، جس شخص کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لائی گئی، اُس کا بھتیجا ایک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہو کر ہسپتال لایا گیا تھا، جس کا علاج اسی ڈاکٹر نے کیا جسے دھمکیاں دی جارہی تھیں۔واقعے کے وقت ہسپتال میں تمام ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا، اور اُن کی حاضری باقاعدہ رجسٹرڈ ہے۔ اُس رات ہسپتال میں 48 ایمرجنسی کیسز بھی رپورٹ ہوئے، جس کے تمام شواہد موجود ہیں۔مزید یہ کہ ہسپتال میں دن کے وقت بلا تعطل بجلی کی فراہمی سولر سسٹم کے ذریعے جاری رہتی ہے، جبکہ رات کے وقت مکمل طور پر فعال جنریٹر سسٹم موجود ہے۔ہسپتال انتظامیہ عوام کو یقین دلاتی ہے کہ ادارہ مکمل سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ 24 گھنٹے اپنی دستیاب سہولیات کے تحت خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ واضح کیا جاتا ہے کہ ہسپتال کی ساکھ کو بار بار نقصان پہنچانے کی کوششوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق انتظامیہ محفوظ رکھتی ہے۔عوام سے گزارش ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے مستند ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات پر ہی اعتماد کریں۔
