Home Blog Page 202

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت سماجی، فلاحی تنظیموں کی بھر پور حوصلہ افزائی کر رہی ہے خدمت خلق کے تحت فلاحی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا قابل ستائش عمل ہے جذبہ خدمت خلق سے سرشار اور اپنی مدد آپ کے تحت رضا کارانہ کام کرنے والی رضا کار تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے پر عزم ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے خان ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر ڈاکٹر فرمان، ایکٹنگ صدر امان روم، جنرل سیکرٹری محبوب خان، میڈیا سیکرٹری حضرت حسین سے ملاقات کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا وفد نے صوبائی وزیر سے ان کی رہائش گاہ مکانباغ میں ملاقات کی، وفد نے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کو تنظیم کی کارکردگی بارے آگاہ کیا جس پر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ لوگوں کی خدمت کرنے اور خود کو عوام کی خدمت کیلئے پیش کرنے والے لوگوں کو عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت بھی اس طرح کے لوگوں اور تنظیموں کی بھر پور حوصلہ افزائی کر رہی ہے عوامی خدمات کے حوالے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرنا اولین ترجیح ہے اسی طرح رضاکار صوبائی حکومت کا دست و بازو بن کر لوگوں کی خدمت کرنا اپنا شعار بنائیں انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عام آدمی کی حالت زندگی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس مقصد کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لار ہی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے ”لائف انشورنس سب کے لیے،،منصوبے کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت خیبرپختونخوا حکومت گھر کفیل کی وفات پر خاندان کی مالی معاونت کرے گی اور60 سال سے زائد عمر کے فردکی وفات پر 5 لاکھ اور 60 سال سے کم عمر کے فرد کی وفات پر 10 لاکھ تک معاوضہ دے گی اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت صوبائی اسلامی تکافل انشورنس کمپنی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اورملک میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی اسلامک لائف انشورنس کمپنی ہوگی انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ملک کی پہلی یونیورسل ہیلتھ کوریج متعارف کرائی۔ دیگر فلیگ شپ منصوبوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پشاور تا ڈیرہ کنٹرولڈ انٹری ایگزٹ اسپیڈ روڈ کوریڈور بنا یا جائے گا جو کہ 365 کلومیٹر پر محیط ہو گا اور صوبے کے 12 اضلاع سے گزرے گا یہ کوریڈور صوبے کو بلوچستان اور پنجاب کے صوبوں سے منسلک کر گے گا اوربین الاقوامی تجارتی راہداری کے طورپر کا م کرے گابجلی کے فلیگ شپ منصوبوں کے حوالیس سے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت 220 KV کی 120 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بچھائے گی اور سوات کے 10 پن بجلی منصوبوں سے 1100 میگاواٹ سستی بجلی فراہم کرے گی انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ”ہوم اسٹے ٹورازم” کا نیا تصور متعارف کرانے جا رہی ہے جس کے تحت صوبائی حکومت اضافی کمروں کی تعمیر کیلئے 40 لاکھ روپے تک قرضے فراہم کرے گی ہوم اسٹے ٹورازم سے ماحول دوست سیاحت کے ساتھ دور دراز علاقوں کے مکینوں کو اپنی روزی کمانے میں بھی مددگار ہو گی۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے غریب گھرانوں کے لئے سولر پلیٹس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں 65000 غریب گھرانوں کو مفت شمسی پلیٹس و آلات فراہم کیے جائیں گے اوردوسرے مرحلے میں 65000 گھرانوں کو شمسی یونٹس آسان قرض ادائیگی کی شرائط پر فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پشاور میں گڈز کلیئرنس فسیلیٹیشن سینٹرز بھی قائم کرے گی جس کا مقصدطورخم بارڈر پر بوجھ کم کرنے کے علاوہ سڑکوں پر رش میں کمی لانا ہے۔سنٹر کے قیام سے افغانستان، وسطی ایشیائی ممالک کو سامان کی برآمد کے لیے نئی راہیں پیدا ہوں گی۔ صوبائی قرضوں کے حوالے سے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ قائم کر دیا گیاہے،ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ صوبائی قرض اتارنے اور ہنگامی حالات کیلئے استعمال کیا جائے گا اوراس کی بدولت متوازن قرض پروفائل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو سے تحریک انصاف مردان کی ضلعی تنظیم کمیٹی ممبران کی ملاقات

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو سے پاکستان تحریک انصاف مردان کی ضلعی تنظیم کمیٹی ممبران نے پشاور میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع مردان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور گرفتار پارٹی کارکنان کی رہائی کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔صوبائی وزیر نے پارٹی کارکنان سے کہا کہ تمام کارکنان ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں اور کسی بھی مسئلے کی فوری اطلاع دیں تاکہ وقت پر اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع مردان کو ماڈل ضلع بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے اور عوام سے کیے گئے تمام ترقیاتی وعدے پورے کیے جائیں گے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کے گزشتہ احتجاج کے دوران مردان سے تعلق رکھنے والے گرفتار کارکنان کی رہائی پر بھی گفتگو کی گئی،صوبائی وزیر خوراک نے ضلعی کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ تمام گرفتار کارکنان کی جلد رہائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ملاقات میں موجود ضلعی رہنماؤں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے صوبائی وزیر کے اقدامات کو سراہا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اسلامیہ کالج پشاور

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اسلامیہ کالج پشاور میں سکواش کورٹ کا افتتاح کردیا۔ صوبائی وزیر کے ہمراہ سابق عالمی سکواش چمپئین قمر زمان، ڈائریکٹر سپورٹس علی ہوتی، رجسٹرار داؤد زاہد، پرووسٹ سید کمال، ڈائریکٹر ایڈمن شبیراحمد، حیات اباسپورٹس کمپلیکس کے ایڈمنسٹریٹر عابدافریدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر پی این ڈی ظہور بھی موجود تھے صوبائی وزیر کو نئے تعمیر ہونے والے سکواش کورٹ کا دورہ کرایا گیا اور تفصیلی بریفنگ دی افتتاحی تقریب کے موقع پر صوبائی وزیر میناخان آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینا صحتمندانہ زندگی کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کھیلوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ نوجوان نسل اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو بہترین انداز میں بروئے کار لا سکیں انہوں نے مزید کہا کہ اسلامیہ کالج پشاور تاریخی اہمیت کا حامل ادارہ ہے، جہاں طلبہ نے نہ صرف تعلیمی میدان بلکہ مختلف کھیلوں میں بھی اعلیٰ کارکردگی دکھا کر ملک اور صوبے کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر سپورٹس اسلامیہ کالج کے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کی بدولت یہاں کھیلوں کی جدید سہولیات میسر ہیں جن سے طلبہ بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔قبل ازیں صوبائی وزیر کی کالج آمد پر شاندار استقبال کیا گیا انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ حکومت

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ حکومت مزدوروں کی فلاح و بہبود اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے مزدوروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے محکمہ عملی اقدامات اٹھارہا ہے معیشت کی مضبوطی میں مزدور اہم کردار ادا کررہے ہیں مزدوروں کو انکاحق ملے گا کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے مزدوروں کو درپیش مسائل کے حو الے سے پشاور میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں وائس کمشنر ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن، ڈائریکٹر لیبر اور مختلف لیبر یونین اور ایسوسی ایشن کے صدور، جنرل سیکرٹریز اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی صوبائی وزیر کو لیبر یونین اور ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے فردّا فردّا مزدوروں کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے ان مسائل کو بغور سنتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے محکمہ لیبر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اپنی ذمہ داریوں کو باطریقے احسن نبھانے اور محکمہ میں بہتر لانے کیلیے بھرپو کوشش کرونگا انہوں نے محکمہ کے افسران کو ہدایت کی کہ ٹیم ورک کی طرح کام کریں اور محکمہ کو آگے لیجانے میں اپنا کردار اداکریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کے پیسوں میں خردبرد کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی عوام کا پیسہ عوام پر لگے گا انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مزدوروں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔

رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی کی سربراہی میں صوبائی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کا اجلاس

صوبائی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز رکن صوبائی اسمبلی اور چیئر پرسن سپیشل کمیٹی منیر حسین لغمانی کی سربراہی میں منعقد ہواجس میں ممبران صوبائی اسمبلی افتخار علی مشوانی، محمد عارف، شفیع اللہ جان، جوہر محمد، آصف خان، احمد کنڈی، عدنان خان اور محمد نثار سمیت محکمہ ہائے داخلہ، ایڈ منسٹریشن، پولیس، مواصلات و تعمیرات کے نمائندوں، ایڈو کیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمنا خیل و دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات ہمایون خان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس پر حملے کو وفاقی اکائی اور صوبائی خود مختاری پر حملہ کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے اس واقعہ سے لاتعلقی کے تناظر میں مذکورہ واقعے کاکیس متعلقہ فرد یا ادارے پر دائر کرنے پر غور کیا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہونے والے نقصان کے ازالے کے لئے عدالت سے رجوع کرتے وقت محکمہ قانون کی خدمات بھی بروئے کار لانے پر اتفاق کیا گیا۔اسپیشل کمیٹی کے چیئرپرسن نے خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے مالی معاملات کی ذمہ داریوں اور متعلقہ ایس او پیز کے بارے میں جامع تحقیقات کرتے ہوئے کمپٹرولر خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آبادکو کمیٹی کے سامنے رپورٹ جمع کرنے کے احکامات جاری کئے۔ کمیٹی کے چیئرپرسن منیر حسین لغمانی نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کو فاٹا ہاؤس کہنا اور لکھنا غلط ہے کیونکہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد اس کی ملکیت خیبر پختونخوا حکومت کے دائرہ کار میں آچکی ہے،انہوں نے خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کی ملکیت سے متعلق واضح دستاویزی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔سپیشل کمیٹی کی میٹنگ کے دوران ممبر صوبائی اسمبلی احمد کنڈی نے 5 اکتوبر سے لے کر 15 اکتوبر کے دوران خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کو پہنچائے گئے مالی نقصانات کے تحریری ریکارڈ کی فراہمی کو ضروری قرار دیا۔اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کمیٹی کو بتایا کہ واقعہ سے متعلق مقدمہ کی نوعیت کار سرکار میں مداخلت کی ہے اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں مقدمہ کے لئے لازمی دستاویزی امور مکمل کر لئے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آبادواقعے پر بننے والی صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا یہ تیسرا اجلاس تھا یہ خصوصی کمیٹی پراونشل اسمبلی پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس رولز 1988 کے رول 194 کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔

مویشی پال زمینداروں کو بلاسود آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک،ماہی پروری، اورامداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ لائیو سٹاک کے شعبہ سے وابستہ کاشتکاروں اور مویشی پال لوگوں کو بلاسود قرضے فراہمی کئے جائیں گے اوراس منصوبے کا مقصد چھوٹے پیمانے پر کسانوں کو اپنے مویشیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے، دودھ اور گوشت کی پیداواری اور اپنی مالی صلاحیت بہتر کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ لائیو سٹاک کے جاری منصوبوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لائیو سٹاک،فیشریز و کوآپریٹیو فخرعالم خان، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک ریسرچ ڈاکٹر اعجاز علی، ڈائریکٹر لائیوسٹاک ضم اضلاع ڈاکٹر عبد الوحید وزیر، رجسٹرار کوآپریٹیو محمد اسحاق اور محکمہ لائیو سٹاک فیشریز و کوآپریٹیو کے دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں ڈی جی لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان نے لائیو سٹاک توسیع میں اب تک کئے گئے اقدامات ا و رمنصوبوں کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مویشی پال حضرات کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لیے بینک کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھر پور اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ جبکہ اصل رقم آسان اقساط میں جمع کرائی جائے گی۔ ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ (ریسرچ) ڈاکٹر اعجاز علی نے اجلاس میں لائیو سٹاک ریسرچ کے سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مویشیوں اور پولٹری کی بیماریوں پر تحقیق کا عمل جاری ہے اور اس کے لئے شعبہ لائیو سٹاک ریسرچ کے تحت پشاور،ایبٹ آباد، چترال، سوات، کوہاٹ اور ڈی آئی خان میں جدید سہولیات سے آراستہ ریسرچ سینٹر قائم ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے ماہی پروری کے شعبہ میں تحقیق پر زور دیتے ہوئے لائیو سٹاک ریسرچ کے افسران سے کہا کہ وہ مچھلیوں کی پیداوار بڑھانے، بہترین افزائش، بیماریوں کے سدباب پر تحقیق کریں اور کوآپریٹیو بنک کی بحالی اور امداد باہمی کو مزید فعال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ اجلاس میں لائیو سٹاک سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جانوروں کی شناخت اور سراغ لگانے کے نظام کو متعارف کررہے ہیں جو مویشیوں کے انتظام اور نگرانی میں اضافہ کریں گے ان اقدامات کی بدولت مجموعی پیداواری صلاحیت بہتر ہوگی اور بیماریوں پر قابو پانے میں بھی مددملے گی۔

مریم نواز الزام تراشی بند کریں اور پنجاب کالج کے معاملے میں انصاف کو یقینی بنائیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی پر بے بنیاد الزامات لگانے کی بجائے پنجاب کالج کے واقعہ کی شفاف تحقیقات پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی بھی غلیظ اور بیہودہ سیاست کا سہارا نہیں لیا، جو شریف خاندان کا وطیرہ رہا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ زیادتی جیسے حساس معاملے پر غیر جانبدار تحقیقات کی بجائے دوسرے صوبے کی حکومت پر الزام تراشیاں کر کے عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ ناکام ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی بیان بازی اور الزامات لگانا اس اہم مسئلے پر افسوسناک ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے واضح کیا کہ مریم نواز انصاف فراہم کرنے کی بجائے انتظامیہ کے ذریعے احتجاج کرنے والے طلباء پر لاٹھیاں برسا رہی ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ تاہم نہتے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے ان پر تشدد کرنا مسلم لیگ ن کا وطیرہ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد پی ٹی آئی نہیں بلکہ مسلم لیگ ن ہے جو طلباء پر تشدد کر رہی ہے۔ اسی قسم کے واقعات ماڈل ٹاؤن لاہور میں بھی کیے گئے تھے جہاں انصاف کی فراہمی کو نظر انداز کر کے حاملہ خواتین پر گولیاں برسا کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ علی امین گنڈاپور مریم نواز کے اعصاب پر سوار ہو چکے ہیں اور وہ اپنے اعصاب پر قابو نہیں رکھ پا رہیں۔ واقعہ پنجاب میں ہوا اور مریم نواز نے بلاوجہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ مریم نواز بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور ان کی یہ حالت انہیں کچھ بھی بولنے پر مجبور کر دیتی ہے

صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت سوات موٹر وے فیز2 اور دیر موٹر وے کے حوالے سے ایک اجلاس کا انعقاد

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پروزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت سوات موٹر وے فیز2 اور دیر موٹر وے کے حوالے سے ایک اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں ممبر صوبائی اسمبلی و چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، اراکین صوبائی اسمبلی انور خان ایڈوکیٹ اور اعظم خان سمیت سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو محمد اسرار، منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اسد خان اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ عوام کو آمدورفت کی سہولیات دینے اور تجارت و سیاحت کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سڑکوں اور موٹرویز کی تعمیر ضروری ہے جس کے لئے صوبائی حکومت بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے اور سوات موٹروے فیز۔ II اور دیر موٹر وے کا منصوبہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جسے علاقے کے عوام کی امنگوں کے عین مطابق مکمل کیا جا رہا ہے اجلاس میں سوات موٹروے فیز۔II اور دیر موٹر وے منصوبوں کے موجودہ تعمیراتی ڈیزائن اور اس منصوبوں کو عوامی توقعات کے مطابق مفید بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 36.50بلین روپے کی لاگت پر مشتمل سوات موٹر وے فیز۔IIتقریبا 80 کلومیٹر طویل ہوگی اور 9پلوں کی تعمیر کے ساتھ 7انٹرچینج بھی منصوبے میں شامل ہیں جبکہ درکار اراضی کے حصول کے لیے 21.5 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ سوات موٹروے فیز۔I کی کامیابی کے بعد صوبائی حکومت اب سوات موٹر وے فیز۔II اور دیر موٹر وے کی تعمیر شروع کررہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ تعمیراتی منصوبے عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہوتے ہیں اور سوات موٹر وے فیز۔II اور دیر موٹر وے میں جہاں کہیں بھی مقامی لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے تو صوبائی حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ انہیں حل کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر حکومتی سطح پرایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو مقامی لوگوں کے منصوبے کے حوالے سے تحفظات دور کرنے، ڈیزائن میں مزید بہتری پیدا کرنے اور اسے عوامی ضرورتوں سے ہم آہنگ بنانے کے لئے اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کرے گی، اجلاس میں حکام نے صوبائی وزیر کو مذکورہ منصوبوں پر اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔

مشیر صحت احتشام علی کی سربراہی میں محکمہ صحت کی پرفارمنس ریویو کا پہلا اجلاس

مشیر صحت احتشام علی کی سبربراہی میں محکمہ صحت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ عدیل شاہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم، ایڈیشنل ڈی جیز اور ڈائریکٹر انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ڈاکٹر اعجاز سمیت تمام ڈی ایچ اوز نے شرکت کی۔ اجلاس میں بنیادی و دیہی مراکز صحت میں روزانہ کی او پی ڈی، ادویات کی دستیابی، طبی آلات کی فعالی، انتظامی ڈھانچے کی فعالی اور صفائی کی صورتحال پر ڈی ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ مشیر صحت احتشام علی نے اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس ماہانہ ہوا کرے گا جس میں محکمہ صحت کے مختلف امور پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرناہے۔ ادویات کی فراہمی، بیسک ایمرجنسی آن نیونیٹل کئیر سنٹر کا قیام، ہیومن ریسورس کا صحیح استعمال، امیونائزیشن اور پرائمری کئیر مینجمٹ کمیٹیوں کی فعالی و بحالی سے محکمہ صحت میں گورننس بہتر ہوسکے گی۔ جس ڈی ایچ او اور ایم ایس کے زیر انتظام ہسپتال کی او پی ڈی کم ہو تو ان کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ اس سیٹ پر مزید بیٹھے۔ مفت ادویات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے یہ ذمہ داری ڈی ایچ او کی ہے کہ ہر میرض کو جو کسی بھی بنیادی مرکز صحت آتا ہے اسے تجویز کردہ ادویات مفت فراہم کی جائیں۔ ڈی ایچ او نے پہلے ہی ادویات کے آرڈر دئے ہیں جس میں ابھی تک صرف چالیس فیصد ادویات پہنچ چکی ہیں باقی ادویات کی جلد سے جلد دستیابی کو ممکن بنائیں۔ سیکرٹری ہیلتھ عدیل شاہ نے ڈی ایچ اوز کو ہدایت کی کہ جون میں ادویات کی خریداری کے جو آرڈرز دئے گئے ہیں وہ ابھی تک کیوں نہیں پہنچے؟۔ نوے دن کے اندرد اندر ادویات کی سپلائی نہیں ہوتی تو سپلائیر کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے محکمہ صحت کو لکھے۔ پیسے پہلے ہی ریلیز ہوچکے ہیں۔ جن ادویات کا ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کلئیر ہے انہیں فوری طور پر مراکز صحت میں منتقل کیا جائے۔مسلسل غیر حاضر میڈیکل سٹاف کیخلاف فوری کاروائی کیلئے ضلعی افسران فوری خط و کتابت شروع کریں۔ ڈائریکٹر آئی ایم یو نے اجلاس میں ریجنل اور اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی سکورکارڈ کے مطابق ستمبر میں بنیادی مراکز صحت کی روزانہ اوسط او پی ڈی 20 مریض، دیہی مراکز صحت میں اوسط روزانہ او پی ڈی 68 مریض جبکہ 20 ضروری ادویات کی موجودگی 51 فیصد رہی۔ طبی آلات کی فعالی 91 % انتظامی ڈھانچے کی فعالی 81 % اور صفائی کی صورتحال 71 % رہی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وسطی اور جنوبی ریجنز میں او پی ڈی میں بہتری جبکہ ہزارہ اور ملاکنڈ ریجنز میں او پی ڈی میں واضح کمی آئی ہے۔ 90 ضروری ادویات کی دستیابی میں صوبائی سکور 40 فیصد رہا۔ میڈیکل آفیسرز کی دستیابی میں صوبائی سکور 63 فیصد رہا۔ ستمبر میں 356 میڈیکل افسران غیر حاضر پائے گئے۔تمام ہسپتالوں میں پرائمری مینجمنٹ کمیٹیاں فعال کردی گئی ہیں۔ ہسپتالوں کے پرائمری اور ہاسپٹل مینجمنٹ کمیٹیوں میں 87 ملین روپے موجود ہیں۔ ستمبر میں بنیادی مراکز صحت میں 1400 سے زائد زچگیاں ہوئی ہیں۔