Home Blog Page 209

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا واحد راز تعلیم ہے

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا واحد راز تعلیم ہے۔ سابقہ ادوار میں تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی تاہم پاکستان تحریک انصاف کے حکومت نے تعلیم کو اولین ترجیح دے کر ریفارمز کی جو بنیاد رکھی اس کے ثمرات بہترین نتائج اور شرحِ خواندگی میں واضح اضافے کی صورت میں آگئی ہے تاہم ابھی بھی بہت کام کرنا ہے جس کے لیے اساتذہ، والدین، سیاست سے وابستہ رہنماؤں، علماء کرام اور علاقہ عمائدین پر لازم ہے کہ اسکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ اور تعلیم کے مقدس شعبے سے وابستہ افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے شبانہ روز محنت کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی پبلک سکول پشاور میں انٹرنیشنل لٹریسی ڈے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کیا۔ تقریب سے سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد مینیجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن میاں عین اللہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ یہ تقریب محکمہ تعلیم، ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن، این سی ایچ ڈی، دوستی فاؤنڈیشن، جائکا اور دیگر پارٹنرز اداروں کی تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔

وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختون خوا ریکارڈ بجٹ تعلیم کے لیے مختص کرتے ہوئے اصلاحات کی بدولت گورننس اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں ملک کے دیگر صوبوں سے سبقت لے گئی ہے۔ اور ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ سسٹم میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں سابقہ ادوار میں خراب حالات اور دہشتگردی کی وجہ سے ہمارے ہزاروں سکول تباہ کئے گئے ہیں اور خصوصاً بچیوں کی تعلیمی درسگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے مگر ہماری شبانہ روز محنت اور بلند حوصلے کی بدولت ان سکولوں کی فعالی اور دوبارہ آباد کاری کا کام جاری ہے اور ضم اضلاع تک باقی صوبے میں جاری تمام ریفارمز اور منصوبوں کو توسیع دی گئی ہے۔ اور ضم اضلاع بشمول پورے صوبے میں کامیاب داخلہ مہم کی بدولت پہلے فیز میں 12 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کو داخلہ دیا گیا ہے اور داخلہ مہم کے فیز ٹو میں مزید تین لاکھ طلبہ و طالبات کو داخل کروایا جائے گا۔

انہوں نے پورے خیبر پختونخوا کے عوام سے پرزور مطالبہ کیا کہ جاری داخلہ مہم میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ اس صوبے سے ڈراپ اؤٹ اور آؤٹ آف سکول بچوں کا مکمل خاتمہ کر سکیں انہوں نے کہا کہ ہم امتحانی نظام میں بھی مزید اصلاحات لا رہے ہیں جس کے لیے تعلیمی بورڈز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ صوبہ بھر کے تعلیمی بورڈز میں ایس ایل او بیسڈ امتحانات منعقد کریں۔ اور عنقریب پرائمری لیول سے طلبہ و طالبات کو ایس ایل او بیسڈ پڑھائی شروع کر رہے ہیں۔

وزیر تعلیم کا بجٹ کے حوالے سے کہنا تھا کہ صوبے کا 21 فیصد بجٹ تعلیم پر خرچ ہو رہا ہے اور حکومت سخت معاشی حالات کے باوجود بھی تعلیمی بجٹ میں کوئی کمی نہیں کر رہی۔ ہم ضم اضلاع کے لئے بھی خصوصی پروگرام مرتب کر رہے ہیں تاکہ ان علاقوں میں بھی شرح خواندگی مزید بڑھائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبہ و طالبات کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دے اور ان کو صوبے اور ملک کا بہترین شہری بنائے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے جاری منصوبوں کے حوالے سے کہا کہ ہم طلبہ و طالبات کو ڈیجیٹل لٹریسی پروگرامز کے تحت جدید تربیت دے رہے ہیں جبکہ اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کی فراہمی کے لیے تربیتی ادارے ڈی پی ڈی کو مزید فعال بنا رہے ہیں۔ جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی خصوصی ہدایت پر محکمہ تعلیم میں طلبہ کے لیے ایجوکیشن کارڈ متعارف کر رہے ہیں جس کا باقاعدہ اغاز چترال کے دور افتادہ علاقوں بونی مستوج سے ہوگا۔ ایٹا سکالرشپس میں موجودہ حکومت نے اضافہ کر کے سکالرشپس کی تعداد 550 کر دی ہے۔ فوری طور پر تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کی غرض سے رنٹڈ بلڈنگ سکول پروگرام منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔ دینی مدارس میں اے ایل پی سینٹرز کھو لے جا رہے ہیں۔ اور ہزاروں کی تعداد میں سکولوں کو اپگریڈ کر رہے ہیں۔ اسی طرح میرٹ پر اساتذہ کی تبادلوں کے لئے ای ٹرانسفر پالیسی کا اجراء بھی کیا گیا ہے۔ تقریب کے اختتام پر وزیر تعلیم نے طلبہ کے ساتھ اگاہی واک میں بھی حصہ لیا اور لگائے گئے مختلف سٹالز کا معائنہ کیا۔

وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی طرف سے کینٹ جنرل ہسپتال پشاور کو ادویات اور کارڈیک مانیٹرز کا عطیہ

ادویات اور کارڈیک مانیٹرز کا عطیہ ممبر کینٹ بورڈ محمداُسید سیٹھی اور ایگزیکٹیو آفیسر کینٹ بورڈ پشاور کے درخواست پر فراہم کیا گیا۔ وزیر صحت کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کینٹ بورڈ ہسپتال نوتھیہ، سواتی پھاٹک، گلبرگ، لال کرتی، کالا باڑی اور لنڈی ارباب سمیت دیگر ملحقہ علاقوں کے عوام کو صحت کی بہتر خدمات فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان ادویات میں گولیاں، شربت وائل و دیگر ضروری ادویات شامل ہیں جبکہ امراض قلب میں مبتلا مریضوں کو فوری علاج کی فراہمی کیلئے کارڈیک مانیٹرز بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے یہ بھی بتایا کہ اس اقدام سے ملحقہ علاقوں کے عوام کو صحت کی بہترین سہولیات مہیا ہونگیں جبکہ ادویات کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی ہوگی۔ ادویات اور کارڈیک مانیٹرز کی فراہمی پر کینٹ بورڈ کے وائس پریزیڈنٹ ید اللّہ بنگش، ممبر محمد اسید سیٹھی، نعیم بخش، نعمان فاروق اور علی جان نے عوام کی جانب سے وزیر صحت کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے پی کے 51 صوابی کے متعدد علاقوں میں صحت تعلیم اور آبنوشی منصوبوں کاباضابطہ افتتاح کیا۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے پی کے 51 صوابی کے متعدد علاقوں میں صحت تعلیم اور آبنوشی منصوبوں کاباضابطہ افتتاح کیا۔انھوں نے اس سلسلے میں حلقہ نیابت کے بنیادی مراکز صحت مانکی میں واقع زچہ بچہ لیبر روم،واٹر سپلائی سکیم،اندرونی سڑکوں اور کئی دیگر سہولیات کے اجتماعی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔معاون خصوصی نے نبی کلے میں گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کو اپگریڈ کرکے اسے گرلز ہائی سکول کا درجہ دینے کے ترقیاتی منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔اسی طرح انھوں نے نبی کلے میں ایک ٹیوب ویل واٹر سپلائی سکیم کے ترقیاتی سکیم کا بھی افتتاح کیا۔اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران،علاقہ عمائدین اور پارٹی کے کارکنان بھی موجود تھے۔افتتاحی تقریبات سے خطاب کے دوران معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت کی یہ اولین کوشش ہے کہ عوام کے دیرینہ مسائل و مشکلات کا خاتمہ ہو کر انھیں ہر شعبے میں سہولیات فراہم کیئے جا سکیں۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیحی نظر صحت کے نظام کی بہتری اور قوم کے بچوں کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے دونوں اہم اور بنیادی شعبوں پر مرکوز ہے۔ صحت کے شعبے میں صحت سہولت کارڈ کا اجراء ہماری حکومت اور پارٹی چیرمین کے وژن کا عکاس وہ شاندار منصوبہ ہے جس کو عالمی سطح پر پزیرائی مل رہی ہے اور اسکے ذریعے لاکھوں کی تعداد میں غریب عوام کو مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم ہو رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار کی بلندی پر بھی خاص توجہ دے رہی ہے تاکہ عوام کو سرکاری سطح میں ہر علاقے میں تعلیمی اداروں کی دستیابی ممکن بنائی جا سکیں۔انھوں نے اس موقع پر کہا کہ نبی کلے زنانہ سکول کی اپگریڈیشن سے اپنے ہی علاقے میں قوم کی بچیوں کو میٹرک تک تعلیم کا حصول ممکن ہو سکے گا۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ اگر چہ موجودہ حالات میں مالی مشکلات موجود ہیں تاہم صوبائی حکومت کی یہ کوشش ہے کہ وہ ممکنہ حد تک اپنی استعداد کے مطابق عوام کیلئے ترقیاتی منصوبے لائے اور انھیں اہم معاشرتی شعبوں میں ریلیف اور سہولت فراہم کی جا ئے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وہ حلقے کے عوام کی خدمت کیلئے اپنی جانب سے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

کو آپریٹوبینک اور محکمہ امداد باہمی کو مزید فعال بنانے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں وزیر امداد باہمی

خیبر پختونخواکے وزیر لائیو سٹاک امداد باہمی اور ماہی پروری فضل حکیم خان یوسفزئی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ کوآپریٹو بینک اور شعبہ امداد باہمی کو عوامی ضرورتوں کے مطابق ان کے مسائل کے حل کے لیے حقیقی معنوں میں مزید بحال بنانے کے لیے تمام تراقدامات اٹھائیں اور اس حوالے سے درپیش رکاوٹوں اور مسائل کو ان کے نوٹس میں لایا جائے تاکہ انہیں بروقت دور کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پشاور میں محکمہ امداد باہمی کے حوالے سے منقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رجسٹرار کوآپریٹو محمد اسحاق اور دیگر افسران بھی موجود تھے اجلاس میں محکمہ امداد باہمی کے مختلف امور خاص کر کوآپریٹ بینک کوفعال بنانے اور مختلف سوسائٹیوں کی ترقی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے محکمہ کے مسائل کو بروقت حل کرنے متعلقہ عملہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے ساتھ امداد بامی کے ضلعی دفاتر کے ساتھ روابط مضبوط کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے مسائل کو لوگوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے خواہاں ہیں اور محکمہ امداد باہمی کو دیگر صوبوں سے بھی زیادہ فعال دیکھنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ محکم امداد باہمی کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کے اراکین سے کمیٹی کی سفارشات جلد بھیجنے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ اس حوالے سے جلد پالیسی کو ترتیب دے کر صوبائی کابینہ کو منظوری کے لیے بھیجا جا سکے۔ قبل ازیں صوبائی وزیر کو محکمہ امداد باہمی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت مردان میں اجلاس

> صوبائی حکومت کے ”عوامی ایجنڈا پروگرام” کے تحت عوام کے بہتر مفاد کے تمام منصوبوں پر کام تیز کیا جائے، ظاہر شاہ طورو کی متعلقہ حکام کو ہدایت

خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے ہدایت دی اور کہا کہ عمران خان کے وژن کیمطابق اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ہدایت پر ”عوامی ایجنڈا پروگرام”کے تحت مردان میں تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے اوراس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، یہ ہدایات انہوں گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر مردان کے دفتر میں عوامی ایجنڈا پروگرام کے تحت ضلع مردان میں جاری منصوبوں پر پیش رفت بارے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی و ڈیڈک چیئرمین زرشاد خان، امیر فرزند خان اور عبدالسلام آفریدی سمیت ڈپٹی کمشنر میاں بہزاد عادل اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو ڈپٹی کمشنر مردان نے عوامی ایجنڈا پروگرام کے تحت جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ضلع مردان میں مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جن میں ہسپتالوں اور تدریسی اداروں کی صفائی، پبلک پارکس کی تزئین و آرائش، سپورٹس گراؤنڈز کی بحالی، غیر قانونی بل بورڈز کی ہٹاؤ، تجاوزات کا خاتمہ اور ٹرانسپورٹ اڈوں کی صفائی جیسے اہم منصوبے شامل ہیں اور متعلقہ حکام ان منصوبوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر خوراک نے اس موقع متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت دی کہ کوالٹی کنٹرول کی کڑی نگرانی، محصولات کی ڈیجیٹائزیشن، ضلعی انتظامیہ کی عوام کیلئے اوپن ڈور پالیسی، کھلی کچہریوں کے انعقاد، خواتین و خصوصی افراد اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری، فائل ٹریکنگ سسٹم، درختوں کی ٹریمنگ، جنگلی پودوں کا خاتمہ، وال چاکنگ، گندگی کو ٹھکانے لگانا اور بجلی کے پرانے تاروں کو ہٹانا جیسے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور انکی بروقت تکمیل یقینی بناکر عوامی مفادات کے پیش نظر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ان منصوبوں کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔

کے ایم یو ٹیم کاصوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کی ہدایت پر ڈی آئی خان،کرک، باجو ڑاورمہمند اضلاع کا دورہ

> ضم شدہ قبائلی اور صوبے کے دوردراز پسماندہ اضلاع میں تعلیم اور صحت کی سہولیات دینا صوبائی حکومت کی ترجیح ہے،مینا خان آفریدی

صوبائی وزیربرائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہاہے کہ ضم شدہ قبائلی اور صوبے کے دوردراز پسماندہ اضلاع میں خیبرمیڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو) کے زیر انتظام الائیڈ ہیلتھ انسٹی ٹیوٹس کے قیام کا مقصد ان اضلاع میں عوام کوتعلیم اور صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرناہے،تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی موجو دہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اس ضمن میں متعدد اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن میں ایک اہم قدم ہیلتھ انسٹی ٹیوٹس کاقیام ہے۔انہوں نے ان خیالات کااظہار اس ضمن میں ہونے والے متعدد اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے کیاہے جب کہ اس حوالے سے ایک اہم اجلاس گزشتہ روز منعقد ہواجس میں وائس چانسلرکے ایم یوپروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کے علاوہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور کے ایم یو کے متعلقہ عملینے بھی شرکت کی۔ صوبائی وزیربرائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہاکہ اس اہم منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے نوجوانوں کو ان کی دہلیز پرطبی تعلیم کے بہترین مواقع فراہم ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان،کرک اورچترال کے علاوہ ضم شدہ تمام قبائلی اضلاع میں معیاری ہیلتھ انسٹی ٹیوٹس کاقیام ہمارا مشن ہے اور اس سلسلے میں کے ایم یو کوتمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ مجوزہ اداروں کے قیام کے لیئے کے ایم یو کی ٹیم، صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن کی ہدایت پرڈی آئی خان،کرک، باجو ڑ اورمہمند اضلاع کا دورہ کرچکی ہے جب کہ ان انسٹی ٹیوٹس کو جدید صحت کی دیکھ بھال کی تعلیم، طبی خدمات اور تربیت کے مراکز کے طور پر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس سے صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد کی فوری ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح ان ہیلتھ انسٹی ٹیوٹس کے قیام سے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، گیسٹرو اینٹرالوجی، فزیوتھراپی، نیوٹریشن،ریڈیالوجی اور لیبارٹری کی خدمات پر توجہ مرکوز کرنے والی کلینیکل خدمات بھی فراہم کی جائیں گی جو کے ایم یو کے مرکزی ہسپتال سے منسلک ہوں گے۔ اس پراجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے میں محکمہ ہائیر ایجوکیشن خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کو بنیادی ڈھانچے سمیت تمام ضروری سہولت فراہم کرے گا۔ اس منصوبے کی نگرانی صوبائی وزیربرائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی ہفتہ وار بنیادوں پر کریں گے جب کہ وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کلاسز اور کلینیکل سروسز موجودہ تعلیمی سیشن سے شروع ہوں۔ صوبائی حکومت کے اس اقدام سے مقامی کمیونٹیز کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا اورصوبے بھر میں صحت کی دیکھ بھال کے معیارات کو بڑھانے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

جعلی حکومت نے پی ٹی آئی کے حالیہ پر امن جلسے کے لئے پھر 9 مئی کا پلان بنایا تھا مگرپرامن کارکنوں نے اسے ناکام بنادیا، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

0

> جلسہ میں شریک عوام کا سمندر جعلی حکومت کے خلاف ایک ریفرنڈم تھا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیربرائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ جعلی حکومت نے پی ٹی آئی کے حالیہ پر امن جلسے کے لئے پھر 9 مئی کا پلان بنایا تھا مگر پاکستان تحریک انصاف کے پرامن کارکنوں نے اسے ناکام بنادیا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ جعلی حکومت نے حالات خراب کرنے کے لئے جلسہ کے متعین کردہ راستوں کو بند کرکے کارکنوں کو اشتعال دلانے کی بھر پور کوشش کی مگراس سب کچھ کے باوجود جب وہ پرامن رہے تو ان پر شیلنگ کی گئی اورلاٹھیاں بھی برسائی گئیں تاکہ وہ اشتعال میں آکر بدامنی کی جانب بڑھنے پر مجبور ہوں۔لیکن کارکنان پھر بھی پر امن رہے تو اس کے لئے پولیس پر پتھراو کی جھوٹی کہانی گھڑی گئی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہاکہ اشتعال دلانے کا مقصد جلسے کے بعد پی ٹی آئی رہنماوں اور کارکنوں پر جھوٹی ایف آئی آرز اور آئندہ این او سی نہ دینے کا بہانہ بنانا تھا. بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ انہوں نے ہفتے کے دن صبح ہی کارکنوں کو جلسے کی کامیابی کی مبارکباد دے دی تھی کیونکہ جعلی حکومت پر شدید خوف طاری تھا اور جلسے کے روز یہ ثابت ہوا کہ جعلی حکومت کتنی حواس باختہ ہوچکی تھی اورعوام کا سمندر جعلی حکومت کے خلاف ایک ریفرنڈم تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور کارکن داد کے مستحق ہیں. انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت نے اپنے متعین کردہ تمام راستوں کو بھی بند کیا تھا اور متعین کردہ راستوں کی بندش کیوجہ سے ہزاروں کی تعداد میں کارکن جلسہ گاہ پہنچنے سے محروم بھی رہے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ جب وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور عظیم الشان قافلے کے ساتھ جلسے میں شریک ہوئے اور ان کی قیادت میں خیبر پختونخوا سے کثیر تعداد میں عوام نے جلسے میں شرکت کے لئے روانگی شروع کی تو نام نہا د حکمرانوں کے اوسان خطا ہونے لگے تھے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے جلد ہی خود ختم ہو جائے گی۔

خیبرپختونخوا حکومت کا باغبانی کے فروغ کیلئے ہارٹیکلچر اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں باغبانی کے فروغ کے لئے ایک اہم اقدام کے طور پر ہارٹیکچر اتھارٹی کے قیام کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ مجوزہ ہارٹیکلچر اتھارٹی باقاعدہ ایکٹ کے تحت قائم کیا جائے گا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ ایکٹ کے مسودے کی تیاری پر کام شروع کریں۔ یہ فیصلہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی زیر محکمہ بلدیات کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب کے علاوہ محکمہ ہائے بلدیات اور قانون کے انتظامی سیکرٹریز اور پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ بلدیات خصوصا بلدیاتی حکومتوں کے مسائل اور دیگر متعلقہ اُمور پر تفصیلی غوروخوص کیا گیا۔ اجلاس میں پی ڈی اے کو پشاور کے تین شہری ٹی ایم ایز کی حدود میں خصوصی ذمہ داریاں دینے سے متعلق اُمور بھی غور و خوص کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ پی ڈی اے کو دی جانے والی مجوزہ ذمہ داریاں ٹی ایم ایز کی معمول کی ذمہ داریوں اور کاموں سے ہٹ کر ہونگی جن سے ٹی ایم ایز کے معمول کا کام اور عملہ متاثر نہیں ہوگا۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ہوم ورک مکمل کرکے حتمی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہم سب کا شہر اور صوبے کا چہرہ ہے، موجودہ صوبائی حکومت اس کی تعمیر و ترقی کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر کرنے کے لئے ٹی ایم ایز کو مستحکم کرنا ہے اور ٹی ایم ایز کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں بقایاجات کو ترجیحی بنیادوں پر کلئیر کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح کے عوامی مسائل فوری حل کرنے میں بلدیاتی حکومتوں کا کردار انتہائی اہم ہے، موجودہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق بلدیاتی نظام کو با اختیار بنانے اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لئے پر عزم ہے اور اس مقصد کے لئے بلدیاتی نمائندوں کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے حج، اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ عدنان قادری نے حالیہ پولیو مہم کے دوران عوام الناس بالخصوص علماء کو دعوت دی ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے حج، اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ عدنان قادری نے حالیہ پولیو مہم کے دوران عوام الناس بالخصوص علماء کو دعوت دی ہے کہ وہ اس پولیو مہم میں بھرپور حصہ لے کر اپنے بچوں کو اس موذی مرض سے بچائیں تاکہ اس مرض کا ملک سے جڑ سے خاتمہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں نو ستمبر سے تیرہ ستمبر تک یہ مہم چلائی جائے گی جبکہ باقی اضلاع میں یہ مہم اس مہینے کی 23 سے 27 ستمبر تک چلائی جائے گی۔ اس مہم میں 64 لاکھ 25 ہزار 27 سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس مہم میں 35 ہزار ٹیمیں حصہ لیں گی اور گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔ان پولیو ٹیموں کی حفاظت پر 50 ہزار پولیس اہلکار مامور ہونگے۔ انہوں نے عوام الناس سے ایک بار پھراپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے بروقت پلائیں تاکہ وہ اس موذی مرض سے محفوظ رہ سکیں۔

ضم اضلاع کی پائیدار ترقی کےلئے اور وہاں کے مسائل کے حل کےلئے ایک ہمہ جہت اور جامع حکمت عملی تیار کی ہے، وزیراعلیٰ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں جمعرات کو قبائلی گرینڈ جرگہ منعقد ہوا۔ اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے، قبائلی عمائدین اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔ جرگے میں امن، صحت، تعلیم، پانی، مواصلات، بجلی اور انتظامی مسائل پر بات چیت ہوئی اور حل تجویز کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع کے مسائل کا جامع جائزہ لیا گیا ہے اور ان کے پائیدار حل کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ بنیادی سہولیات کی فراہمی، معدنیات اور زراعت کی ترقی، مقامی بھرتی، بلاسود قرضے، اور سیاحت کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے امن و امان کے قیام کی اہمیت پر زور دیا اور حکومت و عوام کو مل کر اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ وزیراعلیٰ نے سابقہ قبائلی اضلاع کے صوبے میں انضمام کے تحت ترقیاتی پروگراموں کا اعلان کیا اور فنڈز مختص کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ منشیات کے تدارک، پولیس کی مضبوطی، اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے این ایف سی شیئر اور دیگر فنڈز کی فراہمی کی درخواست کی۔ اختتامی خطاب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع میں مزید جرگے منعقد کیے جائیں گے تاکہ عوامی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ شرکاء نے وزیر اعلیٰ کے اقدامات کی تعریف کی اور امن و امان کی بحالی کی حمایت کا اظہار کیا۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت علی امین گنڈاپور کی قیادت میں عوام کی توقعات پر پورا اترے گی۔