Home Blog Page 210

خیبر میڈیکل یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ضیاء الحق اور سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ ارشد خان نے کہا ہے

خیبر میڈیکل یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ضیاء الحق اور سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ ارشد خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت صحت کے شعبے میں ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات لا رہی ہے اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات مفت فراہم کرنے کیلیے کوشاں ہے جس کیلئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات کی تحصیل بریکوٹ میں بریکوٹ کالج آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انہوں نے باقاعدہ فیتہ کاٹ کر کالج کا افتتاح کیا اس موقع پر سوات بورڈ کے چیر مین تسبیح اللہ خان،سیکرٹری عمر حسین خان اور علاقہ عمائدین کی بڑی تعداد موجود تھی، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صحت کی سہولیات صوبے کے کونے کونے تک پہنچانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔جس کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات لا رہی ہے اور موجودہ صوبائی حکومت کا کارنامہ ہے کہ اس صوبے کے ہر فرد کو صحت کے تمام سہولیات مفت فراہم کر رہی ہے جو کہ پورے ملک کیلیے ایک مثال ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے نرسنگ کالجز میں 64ہزار طلباء و طالبات پڑھ رہے ہیں جو آگے بڑھ کر ملک وقوم کی خدمت میں اپنا کردار ادا کرینگے جسکا مقصد بھی یہی ہے کہ یہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں باعزت روزگار کی فراہمی بھی کی جائے، انہوں نے کہا کہ صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی نرسنگ اور دیگر سٹاف کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اس طرح کے کالجز اس میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اس موقع پر بریکوٹ نرسنگ کالج کے پرنسپل اشفاق احمد نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کالج کی افادیت پر روشنی ڈالی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک و فشریز فضل حکیم خان یوسفزئی نے امانکوٹ سوات میں بجلی گریڈ سٹیشن کا دورہ کیا

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک و فشریز فضل حکیم خان یوسفزئی نے امانکوٹ سوات میں بجلی گریڈ سٹیشن کا دورہ کیا اس موقع پر صوبائی وزیر نے مختلف فیڈرز اور لوڈ شیڈنگ شیڈول کے ریکارڈ چیک کئے فضل حکیم خان یوسفزئی نے واپڈا حکام کو ہدایت کی کہ شیڈول لوڈ شیڈنگ کے علاوہ بجلی کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ سوات میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور ظالمانہ لوڈشیڈنگ اور عوام کی تکلیف کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی لہٰذا عوام کو ہر صورت ریلیف دیا جائے۔ دورہ کے موقع پر صوبائی وزیر نے واپڈا کے اعلیٰ حکام سے ملاقات بھی کی اور عوام کی تشویش سے آگاہ کر دیا حکام نے فضل حکیم خان یوسفزئی کو یقین دہانی کرائے کہ شیڈول کے علاوہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی صوبائی وزیر نے واپڈا حکام سے بجلی لوڈ شیڈنگ کے شیڈول بھی لئے، اس موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ایک طرف بجلی کے زیادہ بل اور دوسری طرف لوڈشیڈنگ نے عوام کا برا حال کردیا ہے لہذا عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہو انہوں نے کہا کہ حلقہ پی کے 6 کے غیور عوام میرے لئے قابل قدر ہیں ان کے ہر جائز مطالبات کو حل کرنا میرا فرض اور مشن ہے انہیں کبھی بھی سہولیات سے محروم نہیں کیا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمت میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انسدادِ بدعنوانی بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی کی زیر صدارت انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تیسری ماہانہ کھلی کچہری

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انسدادِ بدعنوانی بریگیڈیئر (ر) محمد مصدق عباسی نے کہا ہے کہ کھلی کچہریوں کا مقصد شکایات کنندگان اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے افسران کو آمنے سامنے لانا ہے تاکہ شکایات کنندگان اپنی شکایات متعلقہ حکام تک باآسانی پہنچا سکیں اور محکمانہ امور میں غفلت و سستی کو روکا جاسکے۔ شہریوں کی سہولت کیلئے واٹس ایپ نمبر جاری کردیا ہے جس پر وہ اپنی شکایات درج کرسکتے ہیں۔ اسطرح ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں شکایت بکس لگائے ئے جا رہے ہیں جہاں وہ اپنی شکایات ڈال سکتے ہیں۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے افسران تواتر سے شکایات اکھٹا کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں منعقدہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تیسری ماہانہ کھلی کچہری کے دوران کیا۔ کھلی کچہری میں ڈائریکٹر انٹی کرپشن صدیق انجم سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی اور سائلین کی شکایات تفصیل سے سنیں۔ کھلی کچہری میں گفتگو کرتے ہوئے معاون حصوصی برائے انسداد بدعنوانی بریگیڈیئر ر مصدق عباسی کا کہنا تھا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ پہلی کھلی کچہری میں درج کی گئی شکایت پر کاروائی کرتے ہوئے 511 کنال اراضی محکمہ جنگلات کے حوالے کی گئی۔ کھلی کچہریوں کے باقاعدگی کے ساتھ انعقاد سے ادارے اور عوام میں فاصلے کم ہورہے ہیں۔ صوبے میں بدعنوانی کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ بریگیڈیئر ر مصدق عباسی کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی سہولت کیلئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے واٹس ایپ نمبر 03319988848 جاری کردیا ہے۔ جس کے ذریعے عوام کرپشن کی نشاندھی و شکایات واٹس ایپ پر کرسکتے ہیں۔محکمہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ڈائریکٹوریٹ کے علاؤہ آٹھ ریجنل دفاتر میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 138 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ جبکہ تین شکایات درج کی گئیں۔معاون حصوصی بریگیڈیئر ر مصدق عباسی نے شکایات پر ہونے والے کاروائی سے آگاہ رکھنے کی ہدایت کی۔ جبکہ درج شکایات کے حوالے سے انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حکام کو درج شکایات کو ٹریک کرتے ہوئے پیشرفت سے مسلسل آگاہ رہنے کی ہدایت بھی کی۔ شہریوں نے معاون حصوصی بریگیڈیئر (ر)مصدق عباسی کی جانب سے کھلی کچہری کے مسلسل انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد سے محکمے و عوام میں فاصلے کم ہورہے ہیں۔ انٹی کرپشن کے ریجنل دفاتر میں بھی کھلی کچہریوں کا انعقاد کر کے عوامی شکایات و مسائل سنے گئے۔

وفاقی حکومت نے اپنی گردن آئی ایم ایف کے ہاتھ میں دے دی ہیں،مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی پریس کانفرنس

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو مہینے پہلے ہم سے شکایت کی گئی تھی کہ پہلی دفعہ آپ لوگوں نے روایت کیوں تھوڑی اور وفاق سے پہلے بجٹ کیوں دیا اور آپ لوگوں نے سیاست کی ہے، بنیادی طور پر وفاقی بجٹ پائیدار نہیں ہوتے وفاق کا بجٹ صرف میڈیا کو دکھانے کے لیے ہوتا ہے،صوبہ وفاق کے بجٹ اہداف دیکھ کر بجٹ دیتے ہیں پچھلے 20 سال سے وفاق کے بجٹ کور کر رہا ہوں ایک بھی ٹھیک نہیں نکلا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ اگر اس سال 11200 ارب روپے بھی اگر یہ ٹیکس کے اہداف کو حاصل کر لیں تو بہت بڑی کامیابی ہوگی لیکن آخر میں کیا ہوا وفاقی حکومت نے اپنی گردن آئی ایم ایف کے ہاتھ میں دے دی ہے، ان سے 12 ہزار 900 ارب روپے کا ٹیکس کا ٹارگٹ کا اعلان کرایا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا خزانہ 76 سال کی بہترین پوزیشن پر ہے جبکہ وفاقی حکومت نے اگست کے مہینے میں 98 ارب روپے کم ٹیکس کیلکش کی ہے جس سے صرف خیبرپختونخو کو ساڑھے آٹھ ارب کم ملیں گے باقی صوبوں کو تو پتہ ہی نہیں ہے جبکہ پنجاب کو 29 ارب اور سندھ کو 16 ارب روپے کم ملیں گے۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منی بجٹ تو پہلے مہینے میں ہی آنا شروع ہوگئے ہیں آپ لوگ کس منی بجٹ کی انتظار میں ہیں اب تو مائیکرو بجٹ آنا شروع ہو جائیں گے ہر مہینے ایک مائکرو بجٹ آئے گا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 44 فیصد اضافہ کے ساتھ پہلے دو مہینے میں سات ارب روپے ٹیکس کولیکشن کی ہے اور یہ ایسے وقت جب معیشت ڈگمگا رہی ہے وفاق اور دوسرے صوبوں نے ٹیکسز بڑھائے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا نے کم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سیلز ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے 13 فیصد کر دیا ہم نے جو پراپرٹی ٹیکسز وہ آدھے کر دیے۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب شہباز شریف اور اسحاق ڈار فیل ہو گئے تھے تو عمران خان نے اپنے گرفتار ہونے سے پہلے آئی ایم ایف پروگرام کی گارنٹی دی تھی تو 9 مہینوں کا آئی ایم ایف پروگرام ملا تھا ابھی آئی ایم ای پروگرام جولائی میں سائن ہوا ہے ابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ خطرناک بات یہ ہے کہ صوبہ پنجاب نے 14 اگست کے دن 14 روپے فی یونٹ بجلی سبسڈی کا اعلان بغیر سوچے سمجھے کیا تھا جبکہ اگلے دن مراسلہ لکھا کہ کتنے کنزیومرز ہیں اور کتنا خرچہ آئے گا۔ پنجاب کے وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ 90 ارب روپے کی سبسڈی ہے وزیراعلیٰ پنجاب کہتی ہیں کہ 45 ارب روپے کی سبسڈی ہے۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ جب ہم سے سوال پوچھا گیا کہ آپ ریلیف دیں گے تو ہم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کی سب سے سستی بجلی پیدا کرتا ہے ہم چھ سے سات روپے فی یونٹ بجلی دیتے ہیں اور 70 روپے کی واپس خریدتے ہیں اور سرپلس بجلی پیدا کرتے ہیں ہمارا کیا قصور ہے کہ ہم سات روپے کی بجلی پیدا کر کے 70 میں خریدیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ہائیڈرو پاور منصوبوں سے 171 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے جو 2029 تک مزید دس منصوبوں سے 600 میگاواٹ بجلی حاصل کرکے ٹوٹل 771 میگاواٹ سستی بجلی سے سات سے دس روپے تک حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا طرز کی بجلی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کیلئے کابینہ کے پاس معاملہ منظوہری کے لئے جائے گا جبکہ اپنی ٹرانسمیشن لائن لگانے پر بھی کام کر رہے ہیں۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ میڈیا میں عام ہے کہ اس وقت پاکستان کا دارالحکومت جو اسلام آباد نہیں بلکہ لاہور ہے اور لاہور میں فیصلے ہوتے ہیں تو پھر اسلام آباد والے انکی پیروی کرتے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب کی غلطی کے بعد وزیراعظم صاحب نے صوبوں کو بھی غیر قانونی کام کرنے کی تلقین کی کہ جب پنجاب نے سبسڈی دی ہے تو دوسرے صوبے بھی دیں جبکہ آئی ایم ایف کاکہنا ہے کہ وفاق اور صوبے بجلی سبسڈی نہیں دے سکتے۔مزمل اسلم نے کہا کہ خبروں میں آرہا ہے کہ وفاق نے پلان بنا لیا ہے کہ 2800 ارب روپے کا بجلی سبسڈی دینے کیلئے صوبوں سے فنڈز کاٹے جائیں گے جس میں خیبرپختونخوا کے 231 ارب روپے کاٹ لئے جائینگے۔ اگر پورے پاکستان کو 6 روپے یونٹ ریلیف دیتے ہیں تو 600 ارب روپے بنتے ہیں یہ جمع تفریق کون کرتا ہے کون یہ ارسطو بنا ہے ایسی کوئی تجویز نہ ہمیں منظور ہے اور نہ ہمارے پاس بھیجی جائے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ احسن اقبال جو خود چیرمین اور ڈپٹی چیئرمین پلانگ کمیشن بنے ہیں انہوں نے ترقیاتی بجٹ 700 ارب روپے کردیا ہے کہ ملک کی معاشی حالت خراب ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ ایک سال میں مہنگائی کی رفتار میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آگئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ادرہ شماریات کے مطابق پیاز کی قیمتوں میں صرف 144 فیصد اضافہ ہوا ہے سبزیوں کی قیمت میں 57 فیصد، دال کی قیمت میں 23 فیصد اور گوشت میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف پی ٹی آئی کے بغض کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں بلوچستان میں دہشت گردی پر اعلان کرتے ہیں کہ این ایف سی سے اضافی فنڈز دینگے جبکہ خیبرپختونخوا جیسے دہشتگردی سے متاثرہ صوبے کیلئے دوسرا رویہ ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ پی ڈی ایم والے کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ یہ ٹوٹی پھوٹی پی ٹی آئی پی ڈی ایم سے زیادہ مضبوط اور متحد ہے اور آٹھ ستمبر کا جلسہ یہ ثابت بھی کرے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال کا ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایگریکلچر ریسرچ پشاور کا دورہ

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ زرعی تحقیق کا شعبہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تحقیقی سرگرمیوں کو تیز کرکے زمینداروں کو اچھی اقسام کے تخم فراہم کئے جائیں تاکہ انکے فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوسکے۔ جس سے انکی اپنی مالی حالت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ صوبہ غذائی خودکفالت کی جانب گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فرائض کی انجام دہی میں غفلت و کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ بدعنوان عناصر کی محکمے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پشاور میں واقع ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایگریکلچر ریسرچ کے تفصیلی دورہ کے دوران کیا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل پہنچنے پر ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ ڈاکٹر عبدالرؤف، اور سینئر ڈائریکٹر آوٹ ریچ ڈاکٹر عبدالباری نے صوبائی وزیر سجاد بارکوال کا پرتپاک استقبال کیا۔ صوبائی وزیر زراعت کو ایگریکلچر ریسرچ کی جاری تحقیقی سرگرمیوں، محکمانہ امور اور ذمہ داریوں کے حوالے سے جامع بریفنگ دی گئی۔انہیں مختلف منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر تحقیقی اقدامات کے نفاذمیں درپیش چیلنجز کے حل پر بھی غور و خوض کیا گیا۔ بریفنگ کے دوران صوبائی وزیر سجاد بارکوال نے ہدایا کی کہ اس شعبے میں تحقیقی امور پر عمل در آمد بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی نتائج کو عمل میں لانے کی بڑی اہمیت ہے جس کی بدولت کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ صوبائی وزیر زراعت نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں زرعی تحقیق کے اہم کردار کر سرہاتے ہوئے اس شعبے میں مسلسل جدت اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور باغبانی کے شعبے کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ہدایات جاری کیں اور کہا کہ صوبے میں مناسب علاقوں کے اندر پھلوں کے باغات کو پھیلانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ خان نے اجلاس کی صدارت کی

پیہور ہائی لیول کنال توسیعی منصوبہ کے بارے میں ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت خیبرپختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ خان نے کی،اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت، حرفت و فنی تعلیم عبدلکریم طور ڈھیر، رکن قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی، ایم پی اے رنگیز خان، ایم پی اے مرتضی خان، سیکرٹری ایریگیشن اور ڈی سی صوابی کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پیہور ہائی لیول کنال توسیعی منصوبہ، بالخصوص لاٹ نمبر 4 کے حوالے سے غور و خوض کیا گیا۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے اجلاس کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ لاٹ نمبر 2 رواں سال دسمبر تک جبکہ فروری2025 تک لاٹ نمبر 3 بھی مکمل ہو جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ لاٹ نمبر 4 جس میں 14 کلومیٹر پائپ توسیع اور تقریباً 20 کلومیٹر کے واٹر چینلز شامل ہیں، پر اپریل 2025 تک کام شروع کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔اجلاس کو ڈیجیٹائز یشن کی مدد سے منصوبہ میں بہتری اور اس ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے پیہور ہائی لیول کنال توسیعی منصوبہ اور بالخصوص لاٹ نمبر 4 کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مزید تقریباً 11 ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہو گی۔ جس سے جلب، جلسء، نندرک، جہانگیرہ اور مغل کے علاقے زیادہ مستفید ہو گے۔انہوں نے کہا کہ لاٹ نمبر 2 میں ٹوپی روڈ تا جہانگیرہ روڈ پانچ کلو میٹر بائی پاس کی تعمیر بھی شامل ہے جس سے ٹریفک کے مسائل حل ہو جائیں گے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی چترال اور کمراٹ کی وادیوں میں سڑکوں کی جلد بحالی کی ہدایت

چی ورکسف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ (سی اینڈ ڈبلیو) کو چترال اور کمراٹ کی وادیوں میں لنک روڈز کی بحالی میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقے حالیہ گلیشیر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلف) سے متاثر ہوئے ہیں اور سردیوں کے آغاز سے قبل بحالی کے کام کو مکمل کرنے میں عجلت کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آمدورفت ہمہ وقت بحال رہے۔انہوں نے متاثرہ مقامی آبادی اور سیاحوں کی مدد کے لیے تیزی سے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں پر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اور لائن ڈیپارٹمنٹس کے کام کو بھی سراہا اور ساتھ ہی ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اپر اور لوئر چترال کے اضلاع میں متاثرہ گھرانوں کی مکمل بحالی و آبادکاری کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کریں۔اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری نے بالائی چترال میں مقامی آبادی کی جانب سے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے تعلیمی مطالبات کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ اپر اور لوئر چترال کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے تعلیمی سہولیات کے سلسلے میں مقامی آبادی کی درخواست پر ایلیمنٹری اور ہائر ایجوکیشن کے محکموں کو ہدایت کی کہ وہ ضلع کے اندر کالجوں کے قریب میٹرک کی طالبات کے لیے ہاسٹل کی سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کریں۔ اس اقدام کا مقصد دور دراز دیہی علاقوں میں بچیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔ چیف سیکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ اسی طرح کی سہولت صوبے کے دیگر دیہی علاقوں میں بھی فراہم کی جائیں۔مزید برآں، چیف سیکرٹری نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور انڈسٹری، کامرس اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کے محکموں کو ہدایت کی کہ وہ سکول سے فارغ التحصیل طلباء کو ہنر مند بنانے کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صوبہ بھر میں سکول انفراسٹرکچر کا بہتر استعمال یقینی بناتے ہوئے ہر طالب علم کو گریجویشن کے بعد کم از کم ایک پیشہ ورانہ مہارت سے آراستہ کرنا ہے۔ اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، ڈپٹی کمشنر چترال اپر و لوئر اور ڈپٹی کمشنر دیر اپر اور دیگر افسران نے شرکت کی جس میں چترال اور وادی کمراٹ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کا مقصد خیبر پختونخوا کے عوام کو چھت کے نیچے سہولیات پہنچانا ہے یہی منشور ہمارے قائد عمران خان, وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا علی آمین گنڈا پور اور ہم سب کا ہے، صوبائی حکومت کا عزم عوام کی تکالیف اور مشکلات کو کم کرنا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنوں کے علاقہ غوریوالہ میں 38 ملین کی لاگت سے نئی لوکل گورنمنٹ عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے پودا بھی لگایا۔ افتتاحی تقریب میں لوکل گورنمنٹ کے ضلعی آفیسر عمر فاروق خان،سابق ناظم فیض اللہ خان,واجد خان,معصوم وزیر, امجد خان,حاجی اقلیم خان,ناظم عمران اللہ اعوان و دیگر بھی موجود تھے، صوبائی وزیر پختون یار خان کو تقریب کے موقع پر روایتی پگڑی پہنائی گئی انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت عوامی حکومت ہے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے ضلعی انتظامیہ کو عوامی ایجنڈا دیا گیا ہے اس پر خیبر پختونخوا کی مقامی ضلعی انتظامیہ عملدرآمد کرکے عوام کی مشکلات کو دور جبکہ ان کے تحفظ کیلئے کوشاں رہے گی اور علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے اقدامات اٹھاکر عوام کی محرومیاں دور کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ وزارتیں عارضی ہیں اصل کام عوام کے دلوں پر راج کرنا اور ان کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے، مشکلات زیادہ ہیں لمحہ بہ لمحہ دور کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت خیبرپختونخوا کو ایک رول ماڈل صوبہ بنائے گی اور عوام حقیقی معنوں میں تبدیلی محسوس کریں گے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹیچرز ٹریننگ سنٹر حیات آباد پشاور کا دورہ کیا

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹیچرز ٹریننگ سنٹر حیات آباد پشاور کا دورہ کیا جہاں پر انھوں نے صوبہ بھر کے گورنمنٹ وومن ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز کی پرنسپلز کے ساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں کالج کے پرنسپل ڈاکٹر حضرت حسین کے علاؤہ صوبے کے وومن جی ٹی وی سیز کی سربراہوں نے شرکت کی۔معاون خصوصی نے اجلاس کے دوران زنانہ تکنیکی سنٹرز کے حوالے سے ان اداروں میں ضروری سہولیات کی دستیابی،درکار سازوسامان،عملے اور دیگر مسائل کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔انھوں نے اس موقع پر ان اداروں کے بعض مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس ضمن میں ان کی فراہمی کے حوالے سے ہدایات بھی جاری کیئے۔معاون خصوصی نے زنانہ تعلیمی اداروں کی پرنسپلز کو ٹیوٹا اور اسکے ماتحت تعلیمی اداروں کی پائیداری اور خود انحصاری کے حوالے سے حکومتی وژن سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ اس ضمن میں اس آئیڈیا کی عملداری کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔انھوں نے کہا کہ زنانہ اداروں کے پیداواری امکانات پر توجہ دے کر پروڈکشن کم سروسز کے اصولوں پر ان اداروں کے وسائل کو بروئے کار لایا جائے تاکہ یہ شعبہ مالی لحاظ اپنے ذاتی ذرائع آمدن کے ذریعے خود انحصار بنایا جاسکے۔انھوں نے کہا کہ زنانہ اداروں میں ڈریس میکنگ،ڈریس ڈیزائننگ،آئی ٹی،مصنوعات کی تیاری اور کئی دیگر مخصوص شعبوں میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں لہذا یہ تیکنیکی ادارے اپنی اہمیت واضح طور پر دکھا کر اپنی سہولیات و خدمات سے عوام کو آگاہی فراہم کرے تاکہ ان کے خدمات سے خواہشمندطالبات اور خواتین زیادہ تعداد میں مستفید ہو سکیں۔انھوں نے اس موقع پر ہدایت کی کہ مقامی سطح پر محکمہ صنعت کے حکام،تجارتی چیمبرز،اور صنعتی انجمنوں کیساتھ ان زنانہ تیکنیکی اداروں کی رابطہ کاری قائم کی جائے تاکہ یہاں پر فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات سے استفادہ اٹھانے کی خاطر انھیں شناسائی حاصل ہوں۔

فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے نئی زرعی پالیسی کو صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا، میجر (ریٹائرڈ) سجاد بارکوال

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ فوڈسیکورٹی کو یقینی بنانے کیلیے موجودہ زرعی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ 10 سال کیلیے نئی زرعی پالیسی کو صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد نافذ کیا جائیگا وہ محکمہ زراعت کے جوائنٹ کوارڈینیشن کمیٹی کی جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے اجلاس میں سیکرٹری زراعت عطائالرحمان، تمام ونگز کے ڈی جیز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، صوبائی وزیر نے صوبے میں زرعی ترقی کیلیے متعلقہ افسران کو بہترین روابط قائم کرنے کی ہدایت کی تاکہ زمینداروں کے فصلوں میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ہوسکے انہوں نے کہا کہ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلیے اپنی صلاحییتوں کو بروئے کار لائیں انہوں نے کہا کہ زعفران کی کامیاب کاشتکاری اور ان کی پیداوار میں اضافہ کیلیے موزوں زمین کا انتخاب کیا جائیگا انہوں نے ہدایت کی کہ ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو مختلف زرعی منصوبوں کیلیے حکومت کی طرف سے مختص کردہ فنڈز کو بروقت اور زمینداروں کی بہتر مفاد میں استعمال کو یقینی بناسکے اجلاس میں صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 25-2024 میں کل 49 زرعی منصوبے شامل ہے جن میں خیبر پختونخوا کے بندوبستی اضلاع کیلیے21 اور ضم اضلاع کیلیے 8 اے ڈی پی سکیمیں ہے جبکہ اے آئی پی میں 7 منصوبے، 8 نئے منصوبے اور فارن فنڈنگ کے 5 منصوبے ہے مذکورہ منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی اجلاس میں صوبے میں زراعت کی ترقی کیلیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں،