وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت محکمہ صنعت کے کمیٹی روم میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں صنعتی شعبے کی اراضیات کے بہتر استعمال اور اس سلسلے میں انتقالات میں شفافیت لانے کے حوالے سے غوروخوض کرنے کی غرض سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری بورڈ آف ریونیو محمد سلیم،ڈپٹی سیکرٹری صنعت اعزازاللہ،ڈپٹی ڈائریکٹر صنعت حنیف خان و دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف مقاصد کیلئے صنعتی اراضیات کے انتقالات میں ممکنہ غلطیوں کی وجہ سے متعلقہ شعبے کی اراضیات کو نقصان سے بچانے کیلئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں انڈسٹریز و بورڈ آف ریونیو کے افسران نے اپنی اپنی آرا پیش کیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ جنرل انڈسٹریز کے افسران نے موقف اختیار کیا کہ 1953 میں ون یونٹ کے دوران لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا تاہم بعد میں 1980 کے دوران وہ قانون واپس لے لیا گیا اور دیگر صوبوں میں انڈسٹریل لینڈ کلیکٹر کا اختیار نظامت صنعت کے پاس چلا گیا جبکہ خیبر پختونخوا میں صنعتی اراضیات کے لینڈ کلیکٹر کے اخراجات ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہیں۔نظامت اعلیٰ صنعت کے افسران نے بتایا کہ دیگر صوبوں کے ماڈل کو اپنانے سے یہاں کے صنعتی شعبے کی قیمتی اراضی کے استعمال میں شفافیت آئے گی اور اس کے حصول و انتقالات میں کسی بھی قسم کی غلطی کا ابہام نہیں رہے گا اور یہاں پر قیمتی صنعتی اراضیات کی ایکوزیشن کا مکمل ریکارڈ بھی محکمہ کے پاس محفوظ رہے گا۔اس موقع پر بورڈ آف ریونیو کے افسران نے بتایا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت اراضیات کے انتقالات کا اختیار بورڈ آف ریونیو کے پاس ہے تاہم انڈسٹریل اراضیات کے زمرے میں متعلقہ محکمہ کو بورڈ سے ہی بطور لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر درکار عملہ فراہم کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے اس نوعیت کے کیسز کے معاملات کے حل میں تیزی آئے گی۔اس موقع پر معاون خصوصی نے محکمہ صنعت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل انڈسٹری کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ دیگر صوبوں میں صنعتی اراضیات کے انتقالات اور حصول کے مروجہ قوانین و اختیارات کے تفصیلات اور صوبے میں زیر استعمال طریقہ کار و بورڈ آف ریونیو کی رائے پر مشتمل سمری/رپورٹ مرتب کرے جسے مزید عملدرآمد کیلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں کے طلبہ کے لیے پہلا کمپیوٹر بیسڈ سکالرشپ ٹیسٹ کا کامیابی سے انعقاد
ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) نے خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں کے چھٹی اور ساتویں جماعت کے طلبہ کے لیے پہلے کمپیوٹر بیسڈ سکالرشپ ٹیسٹ (CBT) کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ یہ اہم اقدام حکومت خیبر پختونخوا کے تعلیمی معیار میں بہتری، شفافیت اور انصاف کے عزم کا عکاس ہے۔
وظائف کے منعقدہ یہ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ 11 جنوری سے 27 جنوری 2025 تک صوبے کے تمام اضلاع میں کامیابی سے منعقد کیا گیا، اس امتخان میں کامیابی حاصل کرنے والے 506 ہونہار طالب علموں کو خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صوبہ کے بہترین تعلیمی اداروں میں بارہوں جماعت تک مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ایٹا کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، اس سکالرشپ پروگرام کے لیے صوبہ بھر سے 13,251 طلبہ نے درخواستیں جمع کی تھی جن میں سے 12,104 طلبہ نے ٹیسٹ میں شرکت کی۔ نتائج کے مطابق 3,152 طلبہ کامیاب ہوئے، جب کہ 8,939 طلبہ کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔ اور اس امتحان میں فیل قرار پائے گئے۔ 13 امیدواروں کو امتحانی قواعد کی خلاف ورزی اور نقل کی کوشش پر تادیبی کارروائی کا سامنا ہے۔
مقابلے کے اس امتحان میں کل 12,104 امیداروں میں سے 9,902 لڑکے اور 2,202 لڑکیاں شریک تھیں۔ لڑکوں کی کامیابی کی شرح 26.8 فیصد جبکہ لڑکیوں کی کامیابی کی شرح 22.6 فیصد رہی۔ ماضی میں کامیابی کی مجموعی شرح صرف 10 فیصد تھی، جس سے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ کے نفاذ کے فوائد کی واضح نشاندہی ہوتی ہے۔ کمپوٹر بیسڈ ٹیسٹ کے نفاذ کے بعد ایٹا 24 گھنٹوں کے اندر نتائج کا اعلان کرتا ہے جو کہ نظام کی تیز رفتاری اور پائیداری کی نشانی ہے۔ ماضی میں یہ امتحانات روایتی پیپر بیسڈ طریقے سے ہوتے تھے، جس میں غلطیوں، تاخیر اور بدعنوانیوں کے امکانات موجود تھے۔ جبکہ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ شفاف، معیاری اور محفوظ امتحانی عمل فراہم کرتا ہے۔وظائف کے لئے منعقدہ اس امتحان میں سرکاری سکولوں کے تین طالب علموں نے 99 نمبر حاصل کئے جس سے اس نئے نظام کی افادیت ثابت ہوتی ہے۔حکومت خیبر پختونخوا کا عزم ہے کہ وہ تعلیمی معیار میں مزید بہتری لائے گی، اور تمام طلبہ کو برابر کے مواقع فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کامیاب ہو سکیں۔ ایٹا اس عزم کے تحت مسلسل اپنے امتحانی نظام میں بہتری کے لیے کام کر رہا ہے اور کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ کے ذریعے ایک شفاف، منصفانہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی امتحانی نظام قائم کر رہا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے، اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خصوصی افراد کی مالی معاونت کا پروگرام بھی شروع کر دیا ہے جس کے تحت خصوصی افراد کی مالی معاونت کی جارہی ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز خرکی درگئی ملاکنڈ میں خصوصی افراد کے لئے قائم سکول میں صوبائی حکومت کی جانب سے خصوصی افراد میں دس دس ہزار روپے کے مالی معاونت کے چیکس کی تقسیم کے موقع پر کیا ا س موقع پر ضلعی سوشل ویلفئیر آفیسر صابر خان، سکول پرنسپل نصیب گل، محکمہ سماجی بہبود کے دیگر افسران سمیت خصوصی افراد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی پیر مصور خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ خصوصی افراد بھی ہماری خصوصی توجہ کی مستحق ہیں یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے میں انکے لئے مالی معاونت کا آغاز کیا ہے، انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ضلع ملاکنڈ کے تقریباً 2700 خصوصی افراد میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کئے جارہے ہیں جس کے بعد حکومتی ڈیٹا کے مطابق دیگر خصوصی افراد کو مرحلہ وار چیکس دئیے جائینگے، پیر مصور خان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے معاشرے کے دیگر کمزور طبقات اور بے سہارا افراد کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں صوبائی حکومت نے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں جسکی بدولت صوبے کی عوام کا پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر اعتماد بڑھ گیا ہے پیر مصور خان کا کہنا تھا کہ صحت انصاف کارڈ، مستحقِ افراد کو مفت سولر سسٹم کی فراہمی،صوبے میں پناہ گاہوں کا قیام، نشے کے عادی افراد کی بحالی اور انھیں معاشرے کا کار آمد شہری بنانے جیسے منصوبے اسکی واضح مثال ہیں، دریں اثناء معاون خصوصی پیر مصور خان نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال درگئی کا بھی دورہ کیا جہاں وہ ہسپتال میں داخل مریضوں اور انکے تیمارداروں سے ملے اور ان سے ہسپتال میں علاج و معالجے کی سہولیات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں، معاون خصوصی نے ہسپتال میں لیبارٹری سمیت مختلف وارڈز کا بھی معائنہ کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو مریضوں کو بہتر ین علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیراطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیراطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پیکا ایکٹ ترامیم میں برابر کی شریک ہے، پیپلز پارٹی نے پیکا ایکٹ کے حق میں ووٹ دیا ہے، صدر زرداری کے دستخط کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون بن چکا ہے۔اپنے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اب میڈیا پر ایکٹ کی مخالفت کر کے دوغلے پن کا مظاہرہ نہ کرے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، دونوں پارٹیاں ملک میں کالے قوانین کے نفاذ کی برابر ذمہ دار ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں نے مل کر ملک میں لاقانونیت کو فروغ دیا ہے، دونوں پارٹیوں کو اپنے کالے دھن کا مکمل حساب دینا ہوگا۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو اپنے کرتوتوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ دونوں سیاسی اشرافیہ ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں عوام کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے صرف اپنے کرسیوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام دونوں سیاسی اشرافیہ سے پورا پورا حساب لیں گے۔ اس وقت اقتدار کے نشے میں دونوں پارٹیاں عوام کو روند رہی ہیں اقتدار ہمیشہ انکے ساتھ نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہے اور عوام عمران خان کے ساتھ ہے۔ 8 فروری کو پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کرکے جعلی حکومت بنائی گئی ہے جو زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اشرافیہ نے ریاستی اداروں کی بنیادیں کھوکھلی کی ہوئی ہیں۔
بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کا آل پاکستان اقرا لٹریری فیسٹیول سے خطاب
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے اقرا نیشنل یونیورسٹی، پشاور میں منعقدہ آل پاکستان اقرا لٹریری فیسٹیول سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے ادب کے انسانی ترقی میں بنیادی کردار کو اجاگر کیا۔اپنے فکر انگیز خطاب میں ڈاکٹر سیف نے اس بات پر زور دیا کہ ادب انسانی تجربات، علم اور فکری ارتقا کو نسل در نسل منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی کے تمام پہلو—چاہے وہ سماجی ہوں، سیاسی، سائنسی یا فلسفیانہ—ان کی بنیاد ادب میں ہی ہے۔ ”اگر ہم انسانی ترقی کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہر پیش رفت کسی نہ کسی فکر کا نتیجہ ہوتی ہے، اور ادب وہ وسیلہ ہے جو ان خیالات کو آنے والی نسلوں تک پہنچاتا ہے،”بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید وضاحت کی کہ ادب مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے، جیسے شاعری، نثر، بصری اور اسٹیج آرٹ، موسیقی اور رقص، اور یہ سب انسانی اجتماعی ذہانت کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی پائیدار ترقی کا دار و مدار اس کے ادبی اثاثے اور تخلیقی صلاحیتوں پر ہوتا ہے اورکسی قوم کی فکری گہرائی ہی اس کی ترقی کا پیمانہ ہوتی ہے۔ڈاکٹر سیف نے کہا کہ نئے خیالات ہی نئی دنیا کے قیام کا باعث بنتے ہیں اور فکری ترقی ہی تمام مادی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے سائنسی ترقیات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خلا کی تسخیر جیسے کارنامے سب سے پہلے انسانی فکر میں جنم لیتے ہیں اور پھر عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ محض معلومات اکٹھی کرنے کے بجائے اپنے کردار کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دیں، کیونکہ ایک مضبوط کردار ہی عظیم خیالات کی بنیاد رکھتا ہے۔”آپ کی فکری صلاحیت کا دار و مدار آپ کے کردار کی مضبوطی پر ہے۔ اگر آپ کا اخلاقی اور فکری کردار مضبوط نہ ہو، تو آپ کی علمی کامیابیاں محض سطحی ہوں گی،”اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر سیف نے ادب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی فکر کی تشکیل اور فکری ورثے کی حفاظت کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے نوجوان اپنی علمی اور ادبی تخلیقات کے ذریعے قومی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔آل پاکستان اقرا لٹریری فیسٹیول میں ملک بھر سے آئے ہوئے طلبہ نے شرکت کی، جہاں انہیں مختلف علمی، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ ان سرگرمیوں میں قرات/نعت، تقریری مقابلے، بیت بازی، فائن آرٹس، تھیٹر پرفارمنس، مختصر فلمیں، فوٹوگرافی نمائش، مضمون نویسی، کوئز مقابلے اور دیگر سرگرمیاں شامل تھیں، جن کا مقصد نوجوانوں میں علمی مکالمے کو فروغ دینا اور ادبی و فکری ماحول پیدا کرنا تھا۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اجلاس
صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اجلاس چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیرصدارت سول سیکریٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام، کوآرڈینیٹر ای او سی، عالمی معاون اداروں یونیسف اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد کے حکام، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ ماحولیاتی نمونے مثبت آنے والے اور پولیس کیسسز رپورٹ ہونے والے اضلاع کی یونین کونسل میں پولیو وائرس کو کنٹرول کرنے کے لئے مربوط حکمت اپنائی جائے، فیک فنگر مارکنگ و ڈیٹا رپورٹنگ میں کوتاہیوں کو روکا جائے, اس ضمن میں کوتاہی کے مرتکب سٹاف کے خلاف ضابطے کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔ مختلف اضلاع میں کیسسز رپورٹ ہونا،ماحولیاتی نمونوں کا مثبت آنا خطرے کی علامت ہے اور اس کے تدارک کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔ ایسے میں ٹیموں کو پوری ذمہ داری سے کام کرنے کی ضرورت ہے. ماحولیاتی نمونے مثبت آنے والے علاقوں پر بات کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے حکام پر زور دیا کہ وہ تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے وجوہات کا تعین کریں اور اس ضمن میں اقدامات جاری رکھے جائیں۔ انہوں نے حکام کو مہم کے معیار پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ پولیو وائرس کے انسداد کا دارومدار معیاری پولیو مہم پر منحصر ہے. چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ پولیو مہمات کی معیار اور مانیٹرنگ کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انسداد پولیو ایک قومی فریضہ ہے۔ معیاری اور بروقت اقدامات سے ہی پولیو کا مکمل تدارک کیا جاسکتا ہے اور ہم اپنے بچوں کو ایک محفوظ مستقبل دے سکتے ہیں۔ اجلاس میں گزشتہ ٹاسک فورس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری نے فکس پوانٹس اور ہسپتالوں میں پولیو ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ والدین کی سہولت کے لئے ڈور ٹو ڈور ویکسین مہم کے ساتھ صحت مراکز میں بھی یہ ویکسین دستیاب ہونی چاہیے۔ چیف سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ پولیو مہم کیساتھ ساتھ بچوں کی حفظان صحت اور غذائیت، بچوں کے لئے صاف پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے معاملات کے حوالے سے اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ چیف سیکرٹری نے اضلاع کی کارکردگی کا بغور جائزہ بھی لیا اور بعض اضلاع بشمول ضلع بنوں کی کارکردگی کو سراہا۔
روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کے 44 کروڑ روپے بنک آف خیبر میں انویسٹمنٹ کی عرض سے جمع کر دئے گئے، رنگیز احمد معاون خصوصی ٹرانسپورٹ
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے محاصل میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکے انہوں نے کہا ہے کہ بنک آف خیبر میں محکمہ ٹرانسپورٹ روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کے 44 کروڑ روپے جو کہ سر پلس سرمایہ تھا بنک آف خیبر میں 11.30 فیصد منافع پر انویسٹ کردئیے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز بنک آف خیبر کے بزنس ہیڈ سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران کیا ہے، اس موقع پر ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ ودیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی نے اپنے ہاتھوں سے بینک آف خیبر کو 44 کروڑ روپے کا چیک دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کے اس سرپلس سرمایہ سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے محاصل میں اضافہ ہوگا جس سے صوبے کی معیشت میں حاطر خواہ بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ ملاقات کے دوران معاون خصوصی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی ریونیو کو مزید بہتر کریں اور محکمہ میں حقیقی مثبت تبدیلی لاسکیں۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کی کے پی ٹیوٹا ملازمین کی ایسوسی ایشن سے ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے جارہے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ کے پی ٹیوٹا ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کے پی ٹیوٹا ملازمین ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد سے ایک ملاقات کے دوران کیا ہے۔ ملاقات کے دوران کے پی ٹیوٹا ملازمین کی ایسوسی ایشن اور منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ٹیوٹا منصور قیصر و دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ملازمین (پبلک سرونٹس) کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ انہوں نے تمام ملازمین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے جتنے بھی جائز مطالبات ہیں ان کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اجلاس کے دوران ایسوسی ایشن نے کے پی ٹیوٹا کے امور اور ملازمین کو درپیش مسائل پر تفصیلی بریفننگ دی ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے کہا ہے کہ کے پی ٹیوٹا کے ملازمین کے مسائل جن میں سی پی فنڈ کا مسئلہ، سروس سٹرکچر، لازمی ٹر یننگ،ملازمین کی پروموشن کیلئے آسامیوں کی تخلیق،پی ایچ ڈی اور ایم پل الاوئنس،EOBI،اور ڈیتھ گرانٹ وغیرہ کے مسائل حل کئے جائیں گے۔ اجلاس کے دوران ایسوسی ایشن کے وفد نے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ ان کے تمام حل طلب مسائل حل کئے جائیں گے۔
محکمہ ریلیف کا اعلیٰ سطحی اجلاس، میرٹ اور شفافیت پر زور
محکمہ ریلیف کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری ملک نیک محمد خان داوڑ کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری ریلیف یوسف رحیم، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122، ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران معاون خصوصی ملک نیک محمد خان داوڑ نے میرٹ اور شفافیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے امور کو دیانتداری اور قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت اور ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔اجلاس میں ضلع شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور علاقے میں جاری ریلیف سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس کے شرکاء نے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور مزید اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری محکمہ ایکسائز سید فیاض علی شاہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری محکمہ ایکسائز سید فیاض علی شاہ کی زیر صدارت ایکسائز تھانہ جات اور ایکسائز اینٹیلیجنس بیورو کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں تمام سرکل افسران اور انچارج ایکسائز اینٹیلیجنس بیورو کو منشیات کے تدارک کے لیے موئثر اقدامات اٹھانے اور اس حوالے سے کاروائی مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ تمام سرکل افسران، ایس ایچ اوز اور ایکسائز اینٹلیجنس سکواڈز انچارج 15 دن کے اندر منشیات کے خلاف نمایاں کارکردگی سرانجام دیں اور اس کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔ اسی طرح صوبہ بھر میں منشیات فروشوں کے فہرستیں مرتب کرنے، بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کی منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے، ان کے خلاف انویسٹیگیشن نظام کو جدید خطوط کے مطابق کرنے، مقدمات کی بھر پور پیروی کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ لوگوں کو منشیات کا عادی بنانے اور انہیں برباد کرنے والوں کو عدالتوں سے سخت سے سخت سزائیں دلوائی جا سکیں۔ اجلاس میں منشیات کے خلاف غیر تسلی بخش کارکردگی والے افسران کے تبادلوں، ایکسائز تھانوں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے مزید سٹاف تعینات کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر نارکوٹکس کنٹرول نے سیکریٹری ایکسائز کو ماہ جنوری میں منشیات کی روک تھام کے حوالے سے کئے گئے اقدامات،پکڑی گئی منشیات ا و رگرفتار ملزمان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر فیصل خورشید برکی نے ڈائریکٹر جنرل کو منشیات کیسز میں عدالتی مقدمات کی پیروی اور پیش رفت پر بریفنگ دی۔، سیکریٹری ایکسائز نے اس موقع پر منظم منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کے مطابق منشیات کی کسی بھی قسم سرگرمی کے خلاف ہمہ وقت الرٹ رہنے اور مشیات نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلیجنس کا دائرہ کار بڑھانے کے ہدایات جاری کیں۔
