Home Blog Page 228

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اسلامیہ کالج پشاور ہاسٹل میں طلب علم کی مبینہ خودکشی کا نوٹس لے لیا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اسلامیہ کالج پشاور ہاسٹل میں طلب علم کی مبینہ خودکشی کا نوٹس لے لیا صوبائی وزیر نے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن خیبر پختونخوا کو واقعہ کی حقیقت جانچنے کیلیے ٹاسک سونپ دیا صوبائی وزیر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن واقعہ کی معلومات کرکے رپورٹ پیش کریں گے اور واقعہ کی مکمل تحقیقات کے بعد حقائق کو سامنے لائیں گے پولیس کیس کی تحقیقات کررہی ہے انہوں نے طلب علم کی مبینہ خودکشی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اسلامیہ کالج ہاسٹل میں طلب علم کی مبینہ خودکشی کا واقعہ سن کر دل افسردہ ہوا متعلقہ حکام کو واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال نے 2024 میں 17 لاکھ 75 ہزار مریضوں کا علاج کیا

خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے عوامی شعبے کے طبی مراکز میں سے ایک، خیبر ٹیچنگ ہسپتال نے سال 2024 کے دوران 17 لاکھ 75 ہزار 532 مریضوں کا علاج کیا۔ ان میں سے 11 لاکھ 56 ہزار 848 مریضوں کو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں طبی سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ 6 لاکھ 18 ہزار 684 مریضوں نے او پی ڈی سے استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ، 2 لاکھ 1 ہزار 370 مریضوں نے شام کے وقت ہسپتال کے انسٹیٹیوشن بیسڈ پریکٹس (آئی بی پی) سے رجوع کیا، جہاں 5 ہزار 591 مریضوں کے آپریشن کیے گئے۔خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ترجمان سجاد خان کے مطابق، 2024 کے دوران ہسپتال میں 39 ہزار 651 آپریشنز کیے گئے، 15 لاکھ 92 ہزار 923 لیبارٹری ٹیسٹ، 2 لاکھ 79 ہزار 59 ایکسرے، 1 لاکھ 23 ہزار 250 الٹراساؤنڈ، 15 ہزار 911 سی ٹی اسکین، اور 8 ہزار 925 ایم آر آئیز کی سہولیات فراہم کی گئیں۔کے ٹی ایچ نہ صرف پشاور اور اس کے قریبی اضلاع بلکہ خیبر پختونخوا کے تمام علاقوں اور افغانستان سے آنے والے مریضوں کو بھی طبی خدمات فراہم کرتا ہے۔ 1,600 بستروں کی گنجائش کے ساتھ، یہ ہسپتال روزانہ ہزاروں مریضوں کو جدید طبی خدمات مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔کلینکل خدمات کے ساتھ ساتھ، 2024 میں ہسپتال نے کئی ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کیے۔ ان منصوبوں میں اعلیٰ معیار کی انسیینیٹر مشین کی تنصیب، یو این ایچ سی آر کی جانب سے مریضوں کی سہولت کے لیے 80 موٹرائزڈ بیڈز کا عطیہ، ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے لیے 180 کلو واٹ سولر سسٹم کی تنصیب، اور ہسپتال کے لیے 1.5 میگاواٹ لانگی سولرائزیشن منصوبے کی منظوری شامل ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کا جائزہ اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے محکمہ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایجوکیشن کوالٹی کے لیے قائم ایس۔ کیو۔ ایم -آئی(SQMI) اور ڈویلپمنٹ کے لیے قائم ڈی۔ ڈی۔ یو(DDU) سیکشنز کو دوبارہ فوری طور پر فعال کریں اور اس ضمن میں ایک ہفتے کے اندر رپورٹ دیں انہوں نے کہا کہ ان دونوں یونٹس کے زمرے میں جتنے بھی کام آتے ہیں وہ تمام فعال کئے جائیں اور ان کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اقدامات کئے جائیں انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ اساتذہ کی پرفارمنس رپورٹس پی ای آرز، ٹرانسفرز، انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسفرز، مانیٹرنگ اور دیگر تمام عوامل فوری طور پر ڈیجیٹائز کئے جائیں تاکہ شفافیت پر قرار رہے۔ انہوں نے یہ ہدایات ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن قیصر عالم، ایڈیشنل سیکرٹریز محمد شعیب اور فیاض عالم کے علاوہ ڈائریکٹر ایجوکیشن ثمینہ الطاف اور ایڈیشنل ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایجوکیشن حکام کو یہ ہدایت بھی دی گئی کہ محکمہ تعلیم کے تمام ملازمین کا ڈیٹا فوری طور پر ایچ آر ایم آئی ایس پر اپڈیٹ کیا جائے جبکہ محکمہ تعلیم کے ذیلی ادارے ڈی پی ڈی بھی اب تک اساتذہ کو دی گئی تربیت کی مکمل تفصیلات فراہم کریں اور جاری تربیتی پروگرامز کی مکمل مانیٹرنگ کی جائے اور اس ضمن میں ادارہ تربیت کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کیا کرے جس میں خوبیاں،خامیاں اور تجاویز شامل ہوں جبکہ تربیت لینے والے اساتذہ کی تربیت سے پہلے اور بعد میں اسسمنٹ بھی کرائی جائے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اضلاح کی سطح پر اپنی کمیونیکیشن ٹولز کو مزید فعال بنائیں اور ہر ضلعی دفتر روزانہ کی بنیاد پر عوامی آگاہی کے لئے سوشل میڈیا پر معلومات فراہم کرے اور تمام ضلعی دفاتر محکمہ تعلیم کے مین پیجز کے ساتھ لنک کیے جائیں تاکہ طلبہ والدین اور عام عوام کو محکمہ تعلیم کے متعلق معلومات تک بروقت رسائی ہو۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ضلع میں کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش آنے کی صورت میں فوری طور پر ان کے دفتر کے ساتھ رابطہ کیا جائے تاکہ بروقت اقدامات کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے بورڈز امتحانات کے لئے بہترین حکمت عملی تیار کی گئی ہے پرچہ جات کی تیاری سے لے کر امتحانی عملے کی تعیناتی، مانیٹرنگ، مارکنگ پرچوں کی ترسیل اور دیگر تمام عوامل کے لئے ابھی سے منصوبہ بندی کی گئی ہے اور امتحانی نظام کی بذریعہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ ہوگی اور تمام امتحانی ہالز متعلقہ بورڈز کے ساتھ منسلک ہوں گے۔ وزیر تعلیم کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اساتذہ کی بھرتی، فنڈز کے اجراء اور نئے منصوبوں کی منظوری جیسے اہم امور پر محکمہ خزانہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہو گئے ہیں اور ہم پر امید ہیں کہ اپریل سے شروع ہونے والے نئے سیشن کے لیے رینٹڈ بلڈنگ سکول منصوبے کے تحت سکول بھی قائم کئے جائیں گے۔ انہیں بتایا گیا کہ سکالرشپ پروگرام بشول دیگر جاری پروگرامز پر کام تسلی بخش ہے۔وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں جتنے بھی کام ہو رہے ہیں ان کا محور طلبہ و طالبات کو معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی ہے انہوں نے کہا کہ تمام تر توجہ طلبہ کی بہتر تعلیم پر دینی چاہیے اور ڈائریکٹوریٹ لیول پر بھی اساتذہ کو آسانی فراہم کریں تاکہ ان کا وقت غیر ضروری کاموں میں ضائع نہ ہو۔

خیبر پختونخوا حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری

حکومت سنبھالتے ہی پی ڈی ایم کے نگراں دور میں بند کیا گیا صحت کارڈ پروگرام دوبارہ فعال کیاگیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے خیبر پختونخوا حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے اقتدارسنبھالتے ہی پی ڈی ایم کے نگراں دور میں بند کیا گیا صحت کارڈ پروگرام دوبارہ فعال کیا۔ صحت کارڈ کے ذریعے مارچ سے دسمبر تک 7 لاکھ 89 ہزار 721مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جاچکا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں 5 ارب روپے کی ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔اسی طرح میگا پراجیکٹ پشاور ہیلتھ سٹی منصوبہ متعارف کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں لائف انشورنس پروگرام شروع کیا گیا ہے اور 60 سال سے کم عمر میں وفات پانے والے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دئیے جائیں گے جبکہ   60 سال سے زیادہ عمر میں وفات پانے والے افرادکے لواحقین کو 5 لاکھ روپے دئے جائیں گے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے (Debt managment fund)ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ضم اضلاع میں پولیس کی ٹیکنکل ٹریننگ کے لئے 7 ارب روپے کی خطیر رقم منظور کی گئی ہے اسی طرح سی ٹی ڈی کے لئے ایک ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے اور رمضان میں 7 بلین روپے سے زائد پیکج دیا گیا جس سے 7 لاکھ 28 ہزار سے زائد خاندان مستفید ہوئے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کرغستان میں پھنسے افراد کے لئے خصوصی فلائٹس چلائیں جن کے ذریعے 143 ملین روپے کی لاگت سے 1408 پھنسے پاکستانیوں کو باحفاظت وطن پہنچایا گیا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو باروزگار بنانے کے لئے 3 ہزار ملین روپے کے بلاسود قرضے فراہم کئے جارہے ہیں۔محکمہ داخلہ خیبر پختون خوا کے پبلک سروس ایپ ”دستک” کی بین الاقوامی سطح پر پزیرائی ہوئی ہے جبکہ 25 بلین روپے کی خطیر لاگت سے خیبر پختون خوا فوڈ سیکورٹی سپورٹ پراجیکٹ بھی متعارف کیا گیاہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ایٹا سکالرشپ کی تعداد 253 سے بڑھا کر 500 سٹوڈنٹس کردی گئی ہے اسی طرح سکالرشپ کی رقم بھی 1500 سے بڑھا کر3000 کردی گئی ہے۔خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں 17 نئی ہاوسنگ سکیموں پر کام کا آغاز کیا ہے جو 38 ہزار 630 پلاٹوں پر مشتمل ہیں اسی طرح انڈسٹریز کو براہ راست بجلی سپلائی کرنے کے پراونشل ریگولیٹری اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے قیام کے لئے بھی کام شروع کیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو نشے سے دور رکھنے کے لئے ٹاسک فورس اور وزیراعلیٰ ہاوس میں کنٹرول روم قائم کیا گیاہے۔ حکومت کی کوششوں سے پناہ گاہوں اور شیلٹر ہوم کی دوبارہ بحالی عمل میں لائی گئی ہے اور رمضان المبارک میں پناہ گاہوں میں 20 ملین روپے کی لاگت سے روزہ داروں کے لئے سحری وافطاری کا بندوبست کیا گیا۔رمضان میں 115 حلقوں میں مستحقین میں ایک بلین سے زائد رقم تقسیم کی گئی ہے اور 10 ہزار روپے فی کس دئیے گئے ہیں۔ ضم آضلاع میں سپیشل سٹوڈنٹس کے لئے 5 سپیشل سکولز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران 244 صحافیوں کو طبی اخراجات، وفات کی صورت میں معاوضہ، شادی گرانٹ، شہید پیکیج وغیرہ کے طور پر 18.938 ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں۔

* صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن جائزہ اجلاس

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت دی ہے کہ ایجوکیشن کوالٹی کے لیے قائم SQMI اور ڈویلپمنٹ کے لیے قائم DDU سیکشنز کو دوبارہ فوری طور پر فعال کریں اور اس ضمن میں ایک ہفتے کے اندر رپورٹ دیں انہوں نے کہا کہ ان دونوں یونٹس کے زمرے میں جتنے بھی کام آتے ہیں وہ تمام فعال کئے جائیں اور ان کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اقدامات کئے جائیں انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ اساتذہ کی پرفارمنس رپورٹس پی ای ارز، ٹرانسفرز، انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسفرز، مانیٹرنگ اور دیگر تمام عوامل فوری طور پر ڈیجیٹائز کئے جائیں تاکہ شفافیت پر قرار رہے۔
انہوں نے یہ ہدایات ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن قیصر عالم، ایڈیشنل سیکرٹریز محمد شعیب اور فیاض عالم کے علاوہ ڈائریکٹر ایجوکیشن ثمینہ الطاف اور ایڈیشنل ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایجوکیشن حکام کو یہ ہدایت بھی دی گئی کہ محکمہ تعلیم کے تمام ملازمین کی ڈیٹا فوری طور پر ایچ آر ایم ائی ایس پر اپڈیٹ کیا جائے جبکہ محکمہ تعلیم کے زیلی ادارے ڈی پی ڈی بھی اب تک اساتذہ کو دی گئی تربیت کی مکمل تفصیلات فراہم کریں اور جاری تربیتی پروگرامز کی مکمل مانیٹرنگ کی جائے اور اس ضمن میں ادارہ تربیت کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کیا کرے جس میں خوبیاں ،خامیاں اور تجاویز شامل ہوں جبکہ تربیت لینے والے اساتذہ کی تربیت سے پہلے اور بعد میں اسسمنٹ بھی کرائی جائے۔

وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اضلاح کے سطح پر اپنی کمیونیکیشن ٹولز کو مزید فعال بنائے اور ہر ضلعی دفتر روزانہ کی بنیاد پر عوامی آگاہی کے لئے سوشل میڈیا پر معلومات فراہم کریں اور تمام ضلعی دفاتر محکمہ تعلیم کے مین پیجز کے ساتھ لنک کیے جائیں تاکہ طلبہ والدین اور عام عوام کو محکمہ تعلیم کے متعلق معلومات تک بروقت رسائی ہو انہوں نے کہا کہ جلد ہی محکمہ تعلیم کی طرف سے کمیونٹیشن سٹریٹجی بھی بنائی جائے گی۔

وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ضلع میں کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش آنے کی صورت میں فوری طور پر منسٹر آفس کے ساتھ رابطہ کیا جائے تاکہ بروقت اقدامات کئے جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے بورڈز امتحانات کے لئے بہترین سٹریٹجی تیار کی گئی ہے پرچہ جات کی تیاری سے لے کر امتحانی عملے کی تعیناتی، مانیٹرنگ، مارکنگ پرچوں کی ترسیل اور دیگر تمام عوامل کے لئے ابھی سے منصوبہ بندی کی گئی ہے اور امتحانی نظام کی بذریعہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ ہوگی اور تمام امتحانی ہالز متعلقہ بورڈز کے ساتھ منسلک ہوں گے۔

وزیر تعلیم کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اساتذہ کی بھرتی، فنڈز کے اجراء اور نئے منصوبوں کی منظوری جیسے اہم امور پر محکمہ خزانہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہو گئے ہیں اور ہم پر امید ہے کہ اپریل سے شروع ہونے والے نئے سیشن کے لیے رینٹڈ بلڈنگ سکول منصوبے کے تحت سکول بھی قائم کئے جائیں گے۔ انہیں بتایا گیا کہ سکالرشپ پروگرام بشول دیگر جاری پروگرامز پر کام تسلی بخش ہے۔

وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں جتنے بھی کام ہو رہے ہیں ان کا محور طلبہ و طالبات کو معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی ہے انہوں نے کہا کہ تمام تر توجہ طلبہ کی بہتر تعلیم پر دینی چاہیے اور ڈائریکٹریٹ لیول پر بھی اساتذہ کو آسانی فراہم کریں تاکہ ان کا وقت غیر ضروری کاموں میں ضائع نہ ہو۔

خیبرپختونخوا میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے ون مین کمیشن کا اجلاس

خیبرپختونخوا میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے ون مین کمیشن کا اجلاس ڈاکٹر شعیب سڈل کی سربراہی میں سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔محکمہ اوقاف و مذہبی امور خیبرپختونخوا کی جانب سے کمیشن کو صوبے میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے اب تک کئے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اقلیتی برادری کے مذہبی پیشواؤں کو باقاعدہ طور پر صوبائی حکومت کے اعزازیہ پیکج میں شامل کر لیا گیا ہے اور اعزازیہ کی فراہمی جاری ہے. اسی طرح صوبے میں بین المذاھب ہم آہنگی کی کمیٹیاں صوبائی اور ضلعی سطح پر فعال کام انجام دے رہی ہیں۔کمیشن کے اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اقلیتی برادری کے لیے رکھے گئے فنڈز پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بریف کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے رواں مالی سال کے مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 16 فیصد اقلیتوں کے لیے مختص ہے، جن میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر و مرمت، رہائشی کالونیوں، مذہبی رسومات، بین المذاھب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اقدامات، نوجوانوں کی ایکسپوژر وزٹ و دیگر متعلقہ امور شامل ہیں۔اجلاس میں اقلیتی برادری کی جانب سے پیش کئے گئے درپیش چیلنجز پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی جن میں واضح کیا گیا کہ صوبائی کابینہ نے اپنے انیسویں اجلاس میں کرسمس کی مناسبت سے ہر چرچ کو پانچ لاکھ روپے کے فنڈز بھی جاری کر دئیے ہیں. اجلاس کو بتایا گیا کہ مسیحی برادری کی اراضی پر تجاوزات کے خاتمے، ایڈورڈ کالج پشاور کے امور، اقلیتوں کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے فوکل پرسن کی تعیناتی، اقلیتی عبادت گاہوں کی سولرائزیشن، اقلیتی برادری کے قبرستان میں باؤنڈری وال کی تعمیر، روزگار کے مواقع میں پانچ فیصد کوٹے پر عملدرآمد اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کے حوالے سے بھی ٹھوس و عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

محکمہ صحت کاسال 2024: اصلاحات اور کامیابیاں

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے صحت احتشام علی نے محکمہ صحت کے سال 2024 کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات بھی کیے۔تفصیلات کے مطابق ابتداء میں مارچ 2024 میں حکومت کے قیام پر صحت کا شعبہ کئی مسائل کا شکار تھا، جن میں صحت کارڈ کی معطلی، ادویات کی قلت، اور اقربا پروری کے مسائل شامل تھے۔جس موثر اور ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں صحت کارڈ بحال کیا گیا، جس سے 7 لاکھ 89 ہزار 721 افراد کا مفت علاج ممکن ہوا۔ اس پروگرام پر 20 ارب روپے خرچ کیے گئے۔اس کے علاوہ حکومت نے پانچ ارب روپے جاری کر کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا، جس سے مریضوں کو بڑا ریلیف ملا۔محکمہ صحت میں 120 منصوبے زیر عمل ہیں، جن میں 90 پرانے جبکہ 30 نئے منصوبے2024-25 کے مالی سال میں منظور کیے گئے۔مزید برآں ڈرگ ریگو لیٹر ی میں پیش رفت کرتیہوئے2024 کے دوران 15,159 انسپکشنز کی گئیں، 2,134 غیر قانونی مراکز کو سیل کیا گیا، اور غیر معیاری ادویات پر 95 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔16 اضلاع میں جدید ڈیجیٹل رپورٹنگ نظام (DHIS2) متعارف کرایا گیا، جسے آئندہ سال 30 اضلاع تک وسعت دی جائے گی۔18 وباؤں سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے گئے، جن میں ویکٹر اور واٹر بورن بیماریوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔انسولین فار آل پروگرام کے تحت87 ہزار سے زائد ذیابیطس کے مریضوں کو مفت انسولین فراہم کی گئیں، جبکہ 6 ہزار سے زائد افراد کی اسکریننگ کی گئی۔مشیر صحت احتشام علی نے کہا کہ صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور اقدامات سے عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے اور یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ میں پارلیمنٹیرینز کے ساتھ ‘فیملی پلاننگ 2030:قانون سازی و پالیسی سازی’ کے عنوان سے سیشن کا انعقاد

خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ میں پارلیمنٹیرینز کے ساتھ ‘فیملی پلاننگ 2030:قانون سازی و پالیسی سازی’ کے عنوان سے ایک سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ سیشن کی صدارت سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کی، جبکہ ڈپٹی سپیکر ثریاء بی بی بھی موجود تھیں۔ سیشن اسمبلی کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا. سیشن میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے معزز اراکین ایم پی اے تاج محمد خان ترند، محمد نعیم، اجمل خان، محمد نسار باز، ڈاکٹر محمد اسرار، محبوب شیر، عبدالغنی، زر عالم خان، نیلوگر بابر، ریحانہ اسماعیل، عبدالقابرحان، اور حامد الرحمن نے شرکت کی۔اجلاس میں فیملی پلاننگ کی اہمیت، قانون سازی،پالیسی سازی اور دیہی علاقوں میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کم عمری کی شادیوں کے مضر اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا، جو نہ صرف بچوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ ماؤں کی صحت کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے۔اس موقع پر سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ مختلف اداروں کی آبادی میں اضافے کے مسئلے کو حل کرنے کی جاری کوششوں کے باوجود نتائج اب تک تسلی بخش نہیں ہیں۔ کرپشن اور پیچیدہ پرانے قوانین نے ان اداروں کے لیے کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔ جب بین الاقوامی تنظیمیں مدد کے لیے آتی ہیں تو غیر مؤثر نظام دیکھ کر ان کا جزبہ مایوسی میں بدل جاتا ہے۔سپیکر بابر سلیم سواتی نے سپیشل سیکرٹری صوبائی اسمبلی سید وقار شاہ کو ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ وزیر اور سیکرٹری کی شرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان اہم مسائل کے حل کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جا سکے۔سپیکر نے ہر ضلع میں دستیاب انسانی وسائل کو منظم اور مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

مشیر صحت احتشام علی کی قیادت میں محکمہ صحت کا ایک اور انقلابی اقدام

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے صحت احتشام علی کی سربراہی میں محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے ڈیجیٹائزیشن اور شفافیت کے لیے ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے پاکستان کا پہلا آن لائن میڈیسن آرڈرنگ پورٹل تیار کر لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور جلد ہی اس کا افتتاح کریں گے۔مشیر صحت احتشام علی نے کہا کہ یہ سسٹم ڈی ایچ اوز اور ایم ایس کو ادویات کے آرڈرز آن لائن دینے کے قابل بنائے گا۔ سسٹم میں ایم سی سی لسٹ پہلے سے فیڈ ہوگی، جس کی بنیاد پر آرڈر خودکار طور پر تیار ہوگا۔ آرڈر دینے والے افسر کو صرف بجٹ درج کرنا ہوگا، باقی تمام عمل سسٹم خودکار طریقے سے مکمل کرے گا۔انہوں نے اس سسٹم کی خصوصیات بتاتے ہوئے کہا کہ آرڈرز ایم سی سی لسٹ کے مطابق ہوں گے اور اگر کوئی آرڈر اس سے مختلف ہوگا تو سسٹم ریکارڈ میں انحراف (Deviation) ظاہر کرے گا۔ادویات کے آرڈرز QR کوڈ کے ساتھ آن لائن جنریٹ ہوں گے، جو آسانی سے ٹریس کیے جا سکیں گے۔سٹور کیپر سٹاک انٹری کرے گا، اور ڈیش بورڈ کے ذریعے تمام اسٹاک کی دستیابی کا مکمل ریکارڈ موجود ہوگا۔مشیر صحت نے مزید کہا کہ یہ نظام ادویات میں کرپشن کو روکنے، وقت اور وسائل کی بچت، اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ادویات کی خریداری کا عمل پہلے ہی ڈی سنٹرلائزڈ کیا جا چکا ہے، اور یہ اقدام نگران حکومت کے دوران ادویات میں مبینہ خردبرد کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

وفاقی حکومت بتائے کہ فرٹیلائزرز گیس کی قیمتوں میں اضافہ معیشت میں کونسی بہتری ہے، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی میں مجموعی طور پر 13 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مختلف اشیاء کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوا ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخو مزمل اسلم

ابھی بھی اسٹاک ایکسچینج دس سال کی ایوریج سے کم ہے جبکہ وفاقی حکومت کا دعوی ہے کہ تاریخ کی بلند ترین اسٹاک ایکسچینج شرح ہے، مزمل اسلم

آئی ٹی، زراعت، ٹیکسٹائل اور باقی دس سیکٹرز میں اضافہ کیوں نہیں ہوا،مشیر خزانہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کے معیشت اور اسٹاک ایکسچینج بلندی کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف حکومت اسٹاک ایکسچینج میں 78 فیصد اضافہ کو معیشت کی بہتری تصور کرتی ہے اور اسٹاک ایکسچینج کی ابھی مالیت 52 ارب ڈالر ہے جب ایک لاکھ گیارہ ہزار انڈکس ہے جبکہ 2017 میں جب انڈکس 51 ہزار تھا تب اسٹاک ایکسچینج کی مالیت 100 ارب ڈالر تھی۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کیا اور کہاہے کہ ابھی بھی اسٹاک ایکسچینج دس سال کی ایوریج سے کم ہے جبکہ وفاقی حکومت کا دعوی ہے کہ تاریخ کی بلند ترین اسٹاک ایکسچینج شرح ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ رواں سال اسٹاک ایکسچینج میں تقریباً 40 ہزار کا اضافہ ہوا ہے اور 40 ہزار انڈکس میں سے صرف تین سیکٹرز بینکس، فرٹیلائزرز اور آئل اینڈ گیس میں 32 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ باقی تقریباً دس سیکٹرز میں مجموعی اضافہ تقریباً 8 ہزار انڈکس ہوا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بینکس سیکٹر کا اضافہ عوام اور حکومت کیلئے فائدہ مند نہیں ہے جبکہ بینکس 22 فیصد شرح سود کا فا ئدہ اٹھا رہے تھے جبکہ فرٹیلائزرز شئیرز کا اضافہ دو بڑی کمپنیوں کو ہوا، پیداور اور سیل کی وجہ سے نہیں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے جبکہ قیمتوں میں اضافے کا نقصان عوام کو ہی ہوا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے آئل اینڈ گیس کمپنیوں کے شئیرز میں اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بتائیں کہ فرٹیلائزرز گیس کی قیمتوں میں اضافہ معیشت میں کونسی بہتری ہے جبکہ آئی ٹی، زراعت، ٹیکسٹائل اور باقی دس سیکٹرز میں اضافہ کیوں نہیں ہوا اور اسٹاک ایکسچینج میں اضافہ صرف ان تین سیکٹرز کی وجہ سے ہوا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ان تینوں سیکٹرز کے شئیرز میں اضافہ کی وجہ سے الٹا عوام کو نقصان ہوا ہے۔مزمل اسلم نے مہنگائی بارے ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی میں مجموعی طور پر 13 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ویسے تو مختلف اشیاء کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ٹماٹر کی قیمت میں 140 فیصد آلو میں 62 فیصد اضافہ ہوا ہے اسی طرح دال کی قیمت میں 51 جبکہ مونگ دال کی قیمت میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاؤڈر ملک کی قیمت میں 25 فیصد، بیف میں 24 فیصد اور لیڈیز سینڈلز کی قیمتوں میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گیس کی قیمتوں میں 15 اور فائر ووڈ میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ یہ اعداد و شمار میرے نہیں حکومت کے جاری کردہ ہیں اور حکومت کہہ رہی ہے کہ بجلی قیمتوں میں 5.6 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ عوام کا قیمہ بنا دیا گیا مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت کہہ رہی ہے کہ ڈیزل میں سات فیصد کمی ہوئی وہ کمی تو عالمی مارکیٹ میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔