Home Blog Page 240

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و پی ٹی آئی ملاکنڈ ریجن کے صدر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و پی ٹی آئی ملاکنڈ ریجن کے صدر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ ملک میں حقیقی آزادی قریب ہے 24 نومبر جعلی وفاقی حکومت کے خاتمے کا دن ثابت ہوگا اور قائد عمران خان اور پاکستانی عوام کی حقیقی آزادی اور ملک میں امیر اور غریب کیلئے ایک قانون کی تمنا اور انصاف کے بول بالے کا خواب ضرور پورا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عوامی سیاست کی ہے قائد عمران خان کی قیادت میں مینڈیٹ چورنااہل حکمرانوں کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے کبل سوات میں 24 نومبر فائنل کال کے حوالے سے پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سلیم الرحمان، سہیل سلطان ایڈوکیٹ، حمید الرحمان اور چیئرمین تحصیل کبلسعید خان نے بھی خطاب کیا جبکہ چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ اور تحصیل کبل کے پی ٹی آئی عہدیداران و کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتخابات میں پاکستانیوں کے مینڈیٹ کو کھلے عام چرایا گیا ہے جب تک قائد عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی عہدیداروں سمیت کارکنوں اور پورے ملک میں ہمیں ہمارا چرایا ہوا مینڈیٹ واپس نہیں ملتا ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ہماری وفاق میں دو تہائی اکثریت کو تبدیل کیا گیا ہے ہم پر فارم 47 کی وفاقی حکومت مسلط کی گئی انشائاللہ فائنل کال فیصلہ کرے گی کہ عوام عمران خان اور پاکستان کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس احتجاج کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ہم کشتیاں جلا کر نکلے گے اور اپنا حق لے کر رہیں گے۔

کے ایم یو میں صوبہ بھر کی یونیورسٹیوں کے درمیان ماحولیاتی صفائی اور حفظانِ صحت پر دوسرا تقریری مقابلہ

واٹسین سیل اور لوکل کونسل بورڈ خیبرپختونخوا نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ا یم یو) پشاور کے تعاون سے ماحولیاتی صفائی اور حفظانِ صحت پر یونیورسٹیوں کے درمیان دوسرا تقریری مقابلہ کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔ یہ ایونٹ ”ماحولیاتی صفائی کے ذریعے صحت مند معاشرے کی تشکیل میں کردار” کے موضوع پر ورلڈ ٹوائلٹ ڈے کی مناسبت سے منعقد کیا گیا۔ اس تقریب کی میزبانی اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخوا عمران اللہ خان مہمند نے کی۔ مقابلے میں صوبے کی 14 جامعات کے طلبہ نے شرکت کی، جہاں 20 امیدواروں نے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تقاریر کیں۔ ان تقاریر میں ماحولیاتی صفائی کی اہمیت، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حدت، اور عوامی شمولیت کے ذریعے ان چیلنجز سے نمٹنے جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی گئی۔ انگریزی مقابلے میں سرحد یونیورسٹی کے عبدالباسط نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ سٹی یونیورسٹی کی لائبہ یوسف نے دوسری اور اقراء نیشنل یونیورسٹی کی نوال سہیل نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اردو مقابلے میں گومل یونیورسٹی، ڈی آئی خان کے حسیب احمد نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ اقراء یونیورسٹی، پشاور کی مناحل ثاقب نے دوسری اور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے عبداللہ شاہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے اپنیخطاب میں صفائی اور حفظان صحت کے ذریعے بیماریوں کی روک تھام اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی صحتِ عامہ اور صفائی پر توجہ کو سراہا اور صفائی کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے نوجوانوں کی فعال شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب کے اعزازی مہمان خصوصی گندھارا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اعجاز خٹک اور جامعہ پشاور کے ڈاکٹر اویس قرنی نے بھی حاضرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے صحت مند معاشرے کی تشکیل میں صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مستقل آگاہی مہمات اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ماحولیاتی صفائی کے چیلنجز کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ تقریب کا اختتام ایک پروقار تقسیمِ انعامات کی تقریب پر ہوا، جہاں نمایاں کارکردگی دکھانے والے امیدواروں کو شیلڈز اور اسناد پیش کی گئیں۔ اس ایونٹ میں فیکلٹی ممبران، انتظامی افسران، اور مختلف اداروں کے طلبہ نے شرکت کی، جو صحتِ عامہ کے فروغ کے لیے اجتماعی عزم کا مظہر تھا۔ یہ مقابلہ صوبے کے تعلیمی اداروں کی جانب سے پائیدار طرز عمل کو فروغ دینے اور اہم صحتِ عامہ کی مہمات کو آگے بڑھانے کے عزم کا عکاس تھا، جس کا مقصد صحت مند اور مستحکم معاشروں کی تشکیل ہے۔

معاون خصوصی برائے فنی تعلیم (TEVTA) طفیل انجم کی ڈپٹی کمشنر مردان دفتر میں مردان کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم (TEVTA) طفیل انجم اور ڈپٹی کمشنر مردان ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر دفتر مردان میں منعقد ہوا جس میں تمام ضلعی محکموں کے افسران نے شرکت کی، اجلاس میں مردان کی مختلف ترقیاتی سکیموں پر کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ضلعی افسران نے اپنے اپنے محکمے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی طفیل انجم اور ڈپٹی کمشنر نے تمام ضلعی محکموں کو عوامی خدمات احسن و شفاف طریقے سے ادا رنے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے مختلف ترقیاتی سکیمز پر بھی بریفنگ لی اور متعلقہ محکموں کو کام کے معیار اور شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت بھی کی، طفیل انجم نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس مردان کے ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے اہم اور مفید ثابت ہوگا۔

خیبر پختونخوازکوٰۃ وعشر کونسل کے چیئرمین امتیاز خان نے کونسل کے ممبران سے کہا ہے کہ

خیبر پختونخوازکوٰۃ وعشر کونسل کے چیئرمین امتیاز خان نے کونسل کے ممبران سے کہا ہے کہ وہ زکوٰۃ و عشر کونسل میں مزید بہتری لائیں اور اس کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کے لیے بہتر سے بہتر اقدامات اٹھائے جائیں نیز کونسل کی جانب سے مستحقین زکوٰۃ کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں سے متعلق عوم کو بھی باخبر ر کھیں تاکہ صوبے کے غریب اور نادار افراد حکومت کی فراہم کردہ سہولیات سے زیادہ تعداد میں استفادہ کر سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر پختونخوازکوٰۃ وعشر کونسل کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابقہ رکن قومی اسمبلی ساجد نواز خان اور زکوٰۃ و عشر کونسل کے ممبران اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ زکوٰۃ و عشر کونسل کے چیئرمین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زکوٰۃ فنڈز کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے گزارا الاؤنس کی رقم 25 ہزار روپے اور جہیز فنڈز 2 لاکھ رو پہ کرنے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ صوبے کے مدارس کی رجسٹریشن میں آسانی پیدا کریں تاکہ صوبے کے یتیم اور نادار افراد اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوازکوٰۃ و عشر کونسل کے ایسے ملازمین جو دوسری جگہوں پر بھی ملازمت کر رہے ہیں کے خلاف انکوائری کی جائے اور پھر قانونی کارہ جوئی عمل میں لا کر ان کے ذمے جتنی بھی واجب الادا رقم ہے وہ ان سے وصول ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ و عشر کونسل میں ضم اضلاع کے لیے فنڈز کا زیادہ حصہ دیا گیا ہے۔ کونسل نے رواں اور ا ٓئندہ مالی سال تک بجٹ خرچ کرنے کے لیے سفارشات بھی پیش کیں جبکہ بجٹ میں ناگہانی آفات کے لیے رقم رکھنے کے لیے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیا ت و دہی ترقی ارشد ایوب خان نے متعلقہ افسران سے کہا ہے کہ

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیا ت و دہی ترقی ارشد ایوب خان نے متعلقہ افسران سے کہا ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنے دفاتر سے باہر نکلیں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور میں صوبہ بھر کے چیف ایگزیکٹو آفیسرزڈبلیو ایس ایس سی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی حاجی فضل الٰہی، سپیشل سیکرٹری بلدیات ارشد آفریدی اور صوبہ بھر کے تمام سی اوز ڈبلیو ایس ایس سی بھی موجود تھے۔ اجلاس میں ارشد ایوب کو صوبے کے مختلف ڈبلیو ایس ایس سی کے چیف ایگزیکٹو نے اپنی اپنی کارکردگی اور مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی وزیر بلدیات و دہی ترقی ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ پشاور ڈبلیو ایس ایس سی کے تیار کردہ فارمیٹ کو تمام سی اوز ڈبلیو ایس ایس سی فالو کریں اس طرح تمام پراگریس روزانہ کی بنیادوں پر ان لائن اپ ڈیٹ ہوتی رہے گی جس کی بدولت بجٹ،صفائی، واٹر اینڈ سینی ٹیشن، واٹر کنکشن،ٹیو ب ویلز بجلی کے بلز، گاڑیوں کے فیول کے اخراجات، کوڑا کرکٹ اٹھانے سے متعلق رپورٹس، ملازمین کی تعداد اور دیگر امور میں بھی شفافیت آئے گی اور اس عمل سے حکومت کو کافی بچت ہوگی انہوں نے مزید کہا ہے کہ ناقص کارکردگی کے حامل ملازمین کو واپس کردیا جائے۔ انہوں نے تمام سی او ز ڈبلیو ایس ایس سی کو ہدایت کی کہ انہیں تمام لائبلٹی کی تفصیلات اور جہاں مزید بجٹ کی ضرورت ہے رپورٹ بنا کر فراہم کی جائے اور جو بھی ملازم غیر حاضر پایا جائے اس کی تنخواہ کاٹ لی جائے انہوں نے کہا ہے کہ پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے باقاعدہ کمشنرز سے رابطہ کیاجائے گا کیونکہ پانی کا ضیا ع ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویلج کونسلوں کے چیئرمینوں اور ممبران کے ذریعے عوام میں شعور اور آگاہی فراہم کی جائے۔ انہوں نے سی ای اوز ڈبلیو ایس ایس سی کو اپنی اپنی حدود میں ڈینگی سپرے کر نے اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے دفتر میں ایک ڈش بورڈ قائم کی ہدایت کی جس میں تمام سی اوز ڈبلیو ایس ایس سی اپنا اپنا ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر اپلوڈ کریں انہوں نے کہا کہ یہی پر فا مہ تمام ٹی ایم ایز کو بھی فراہم کیا جائے کیونکہ یہ پر فارمہ فیلڈ آپریشن کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے انہوں نے کہا کہ پی ڈی کے پی سیپ جہاں جہاں سائیڈ کلیئر ہیں ان پر فورا ٹینک کا کام شروع کریں مزید کہا کہ ٹیول کی بجلی کے بلوں کے بہت زیادہ اخراجات حکومت اٹھا رہی ہے اس کے تدارک کے لیے فوری طور پر ٹیوب ویلز کو سولرائزیشن پر منتقل کیا جائے انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایس ایس سی سی کے ماہانہ اور اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ہفتہ وار اجلاس طلب کیئے جائیں تاکہ ان کی کارکردگی جانچی جاسکے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے امداد، بحالی اور آبادکاری ملک نیک محمد خان داوڑ کی زیر قیادت

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے امداد، بحالی اور آبادکاری ملک نیک محمد خان داوڑ کی زیر قیادت صوبائی حکومت نے عوامی فلاح و بہبود اور متاثرین کی بحالی کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت شہداء اور زخمیوں کے لواحقین میں مالی امداد تقسیم کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد دہشت گردی اور دیگر حادثات کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کی مالی مشکلات کو کم کرنا ہے۔اس سلسلے میں میران شاہ کے مقام پر ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں شہداء کے خاندانوں اور زخمیوں کو امدادی چیک فراہم کیے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا شہداء اور زخمیوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے خاندانوں کی ہر ممکن مدد کے لیے پُرعزم ہے۔ ملک نیک محمد خان داوڑ نے شہداء کے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے فی کس کے امدادی چیک فراہم کیے، جو کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امداد متاثرہ خاندانوں کی زندگی میں کچھ سکون اور سہارا فراہم کرے گی اور ان کے مالی معاملات میں آسانی پیدا کرے گی۔علاوہ ازیں، اس تقریب میں زخمی ہونے والے افراد کو بھی 50000 روپے فی کس کے امدادی چیک دیے گئے۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ زخمیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی صحت یابی کے عمل میں مدد دینا حکومت کا فرض ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر زخمی شہری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کے بہترین علاج اور بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ معاون خصوصی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ہمیشہ عوام کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت دہشت گردی اور دیگر آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔تقریب میں دیگر اعلیٰ حکام، مختلف عوامی نمائندے، اور مقامی عمائدین نے بھی شرکت کی۔

جعلی حکومت فسطائیت سے پرہیز کرے ورنہ نتائج بھگتنا ہوں گے،مشیر اطلاعات

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام حلقوں میں احتجاج کے لئے زور وشور سے تیاریاں جاری ہیں، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تمام منتخب نمائندگان کو اپنے حلقوں میں مہم تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، تمام حلقوں میں 24 نومبر کی تیاری کے لئے ریلیوں اور کارنر میٹنگز کا بندوبست بھی کیا جارہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تمام حلقوں سے منتخب نمائندوں کی سربراہی میں ہزاروں کے قافلے نکلیں گے، موٹروے پر تمام قافلے جمع ہوکر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں اسلام آباد کی طرف گامزن ہوں گے، مینڈیٹ چور حکومت کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے کر دھڑن تختہ کیا جائیگا، انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت فسطائیت سے پرہیز کرے ورنہ نتائج بھگتنا ہوں گے، 24 نومبر ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کا دن ہوگا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ جعلی حکومت خواس باختہ ہوچکی ہے اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ جعلی حکومت کان کھول کر سن لے کہ اس دفعہ مطالبات کی منظوری کے بغیر واپسی نہیں ہوگی۔ مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ہمارا مطالبہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام کارکنوں کی رہائی اور 8 فروری کو چوری کیا گیا مینڈیٹ واپس کرنا اور ملک میں آئین وقانون کی سربلندی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ جعلی حکومت نے ہمیشہ آئین وقانون کو روندتے ہوئے حکمرانی کی ہے مگر اب عمران خان ایسا نہیں کرنے د ینگے۔ جعلی حکومت کے جعلی حکمرانوں سے پورا پورا حساب لیا جائیگا۔ ملک پر مسلط سیاسی مافیا نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے بلدیات ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے مالی معاملات میں

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے بلدیات ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے مالی معاملات میں شفافیت لانے کے لئے ان اداروں کے اکاؤنٹس کو ڈیجیٹائز کیا جارہا ہے جبکہ بلدیاتی افسران کی ترقی کو کارکردگی سے مشروط کیا جائے گا تاکہ یہ ادارے مالی طور پر مستحکم ہوں اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو سکیں۔ وہ ضلع مردان کے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو، ڈیڈک چیئرمین زرشاد خان، ارکان صوبائی اسمبلی افتخار علی مشوانی، عبد السلام آفریدی، امیر فرزند خان، ڈپٹی کمشنر مردان ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر، ڈبلیو ایس ایس سی ایم بورڈ کے چیئرمین انجنیئر عادل نواز، چیف ایگزیکٹیو آفیسر شاہد خان، محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو ٹی ایم ایز،اے ڈی لوکل گورنمنٹ اور ڈبلیو ایس ایس سی ایم کی کارکردگی اور مالی معاملات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے بلدیاتی اداروں کی جائیدادوں کے کرایہ جات مارکیٹ ریٹ کے مطابق بڑھانے اور سرکاری اراضی کی آلائنمنٹ نئی لیز پالیسی کے مطابق کرنے اور اپنی متعلقہ کونسل کی منظوری سے ٹی ایم ایز کے وسائل بڑھانے کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹی ایم اے مردان اور گڑھی کپور ہ کے مابین اثاثوں کی تقسیم کا مسئلہ جلد نمٹانے کی ہدایت بھی کی۔ارشد ایوب خان نے کہاکہ مفاد عامہ کے منصوبوں میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ٹی ایم ایز اور دیگر بلدیاتی اداروں کو ریونیو بڑھانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ مردان میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوساٹیز کے خلاف آپریشن تیز کئے جائیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بلدیاتی اداروں اور شہریوں کے مابین فاصلوں کو کم کرنے کے لئے تمام ادارے اقدامات اٹھائیں اور شہریوں کودرپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر اور ٹیوب ویلوں میں بجلی کی بچت کے لئے سولرائزیشن پر کام کررہے ہیں جس سے بلدیاتی اداروں کو بجلی کی مد میں کافی بچت ہو گی۔ بلدیاتی اداروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے لیکن ان اداروں کوبھی چاہیئے کہ اپنی آمدن بڑھائیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و صدر پی ٹی آئی ملاکنڈ ریجن فضل حکیم خان یوسفزئی نے 24 نومبر کے

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و صدر پی ٹی آئی ملاکنڈ ریجن فضل حکیم خان یوسفزئی نے 24 نومبر کے احتجاج کی تیاریوں کے سلسلے میں عہدیداران اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائد عمران خان کی رہائی کیلئے احتجاجی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے کا وقت آن پہنچا ہے، اس بار واپسی نہیں ہو گی 24 نومبر کو کوئی طاقت عوام کو نہیں روک سکے گی، وزیراعلیٰ سردار علی امین گنڈا پور کی قیادت میں خیبرپختونخوا کے عوام 24 نومبر کو اسلام آباد مارچ کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور قائد عمران خان کی فائنل کال پر لبیک کہیں گے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے ضلع سوات کے تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، پی ٹی آئی سوات کے صدر ایم این اے سلیم الرحمان، سٹی میئر شاہد علی خان اور پی ٹی آئی مینگورہ سٹی کے صدر حیدر علی نے بھی خطاب کیا اس کے علاوہ مختلف جگہوں پر تقریبات میں پی ٹی آئی پی کے ضلع سوات میں مختلف ویلج کونسلز کے چیئرمین سمیت پی ٹی آئی ورکرز بھی موجود تھے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ احتجاج کی فائنل کال کے لیے خیبر پختونخوا میں تمام تر تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں وزیراعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور خود تمام تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں 24 نومبر کو خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک بھر سے پی ٹی آئی کے عہدیداران و کارکنان، آئی ایس ایف سمیت عوام کا سمندر اسلام آباد کا رخ کریگا اور جب تک عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی کارکنان و قائدین کو رہا نہیں کیا جاتا اور دیگر مطالبات جس میں 26ویں ترمیم کا خاتمہ، جمہوریت اور آئین کی بحالی، مینڈیٹ کی واپسی شامل ہیں مانے نہیں جاتے تب تک گھروں کو واپس نہیں لوٹے گے انہوں نے کہا کہ فائنل کال جعلی وفاقی حکومت کے لئے خاتمہ ثابت ہوگی انہوں نے کہا کہ جعلی وفاقی حکومت کچھ بھی کرے اس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں عالمی اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس ہفتہ آگاہی 2024 کا آغاز ہوگیا

خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاورنے عالمی اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (اے ایم آر) آگاہی ہفتہ 2024 کا آغاز کر دیا، جو 18 سے 22 نومبر تک جاری رہے گا۔ اس سال کا موضوع ”آگاہی، وکالت، اور فوری عمل ” کوقراردیاگیاہے۔واضح رہے کہ یہ مہم عالمی ادارہ صحت کی منظوری سے ہر سال دنیا بھر میں عالمی صحت کو لاحق ایک بڑے مسئلے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس سے نمٹنے کے لیے منعقد کی جاتی ہے جسے اکثر ”خاموش وباء” کہا جاتا ہے۔ یہ ہفتہ کے ایم یو کے انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی اینڈ ڈائیگناسٹک میڈیسن (آئی پی ڈی ایم)، آفس آف ریسرچ، انوویشن، اینڈ کمرشلائزیشن (او رک)، انسٹی ٹیوٹ آف فارماسوٹیکل سائنسز(آئی پی ایس)،انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (آئی پی ایچ) اور پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری (پی ایچ آر ایل) کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ہفتہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کا افتتاح کرتے ہوئے وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے جو عالمی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس معاملے کو ہر سطح پر سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وباء کے پیچھے بلین ڈالرز سرمایہ کام کررہاہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا جیسے روایتی اور غیر تعلیم یافتہ صوبے میں اینٹی بائیوٹکس کااستعمال اور اس کی روک تھام ایک بہت بڑ اچیلنج ہے۔پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس مافیا کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھانا جہاد سے کم نہیں ہے اور اس ضمن میں میڈیا اہم کرداراداکرسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ اینٹی بائیوٹکس کے بے دریغ استعمال سے نت نئے طبی مسائل جنم لے رہے ہیں جن سے بچاؤ اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال کی روک تھام کے ذریعے ممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ آئی پی ڈی ایم،او رک، آئی پی ایس،آئی پی ایچ اور پی ایچ آر ایل مبارک باد کے مستحق ہیں جو اس اہم بین الاقوامی مسئلے پر مختلف سرگرمیوں کے ذریعے ہفتہ آگاہی منا رہے ہیں۔انہوں نے کہ اکہ اینٹی بائیوٹکس کے بے دریغ اور غیر محتاط استعمال سے اگر ایک طرف لوگوں کی عمریں کم ہو رہی ہیں تودوسری جانب اس سے درمیانی عمر کے لوگوں کو بڑھاپے کے پریشان کن امراض کاسامنابھی کرنا پڑ رہاہے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس طرح آگاہی سرگرمیوں کے نتیجے میں جہاں لوگوں میں اینٹی بائیوٹکس کے بے تحاشہ استعمال کے حوالے سے شعورپیدا ہوگا تووہاں اس سے اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔دریں اثناء ڈائریکٹر آئی پی ڈی ایم پروفیسر ڈاکٹر یاسر محمود یوسفزئی نے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس ہفتے کے دوران مختلف سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی جن میں 18 نومبر کو افتتاحی تقریب اور آگاہی واک، 19 نومبر کو اے ایم آر کوئز مقابلہ، 20 نومبر کو پوسٹر مقابلے اور عملی ورکشاپس، 21 نومبر کو مہمان اسپیکرز کے سیشنز، ماہرین کے پینل مباحثے، اور ماہرین سے ملاقا ت کے سیشنز شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں صحت کے پیشہ ور افراد، مائیکرو بائیولوجسٹس، لیبارٹری عملے، پبلک ہیلتھ طلباء و افسران، محققین، تعلیمی ماہرین، بائیوٹیکنالوجسٹس، ویٹرنیرینز اور فارماسیوٹیکل سائنسدانوں جیسے مختلف شرکاء کو شامل کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ یہ مہم کے ایم یو کے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور اس عالمی خطرے سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینے کے عزم کو اجاگر کرتی ہے جو صحت مند اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں معاون ثابت ہوگی۔