چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، انرجی اینڈ پاور، سوشل ویلفیئر اور ہائیر ایجوکیشن محکموں کے گڈ گورننس روڈ میپ پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ سیکرٹریز اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) محکمے کے اہم گڈ گورننس اقدامات میں پانی کی فراہمی اور صفائی کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنا، گرین انرجی اور ماحولیاتی لحاظ سے مؤثر انفراسٹرکچر کی طرف منتقلی شامل ہیں، جن میں واٹر سپلائی سکیموں کی سولرائزیشن، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور اورکزئی میں پائلٹ بنیادوں پر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے، اور کوہاٹ، ہنگو اور ہری پور میں گراؤنڈ واٹر ری چارج کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محکمے نے بیہیویئرل چینج کمیونیکیشن سٹریٹجی تیار کی ہے اور خیبر پختونخوا کے لیے پینے کے صاف پانی اور صفائی کی پالیسیوں پر کام جاری ہے۔ اب تک 11 فکسڈ اور 19 موبائل لیبارٹریز کے ذریعے 4,247 پانی کے معیار کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔محکمہ انرجی اینڈ پاور نے ہائیڈل منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کے لئے ایک جامع روڈ میپ پیش کیا، جس میں 300 میگا واٹ بالاکوٹ، 69 میگا واٹ لاوی اور 84 میگا واٹ مٹلتان جیسے منصوبوں کیلئے ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ہے۔پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) میں اصلاحات جاری ہیں تاکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ محکمہ 300 سے زائد مکمل شدہ مائیکرو ہائیڈل منصوبوں کی مرمت و پائیداری کو یقینی بنانے، ایک لاکھ 30 ہزار مستحق گھروں کے لئے سبسڈائزڈ فنانسنگ پر سولر ہوم سسٹمز کی فراہمی، 40 ہزار سرکاری اداروں میں سولر سسٹمز کی تنصیب اور گرڈ انٹیگریشن کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔محکمہ سوشل ویلفیئر نے غریب اور پسماندہ طبقات کے لئے مختلف فلاحی اقدامات پیش کئے جن میں احساس روزگار پروگرام کے تحت بلاسود قرضے، روشن مستقبل کارڈ کے ذریعے 9,000 یتیم بچوں کو ماہانہ وظیفہ، مختلف اضلاع میں 10 زمونگ کور اداروں کا قیام، پشاور میں بزرگ شہریوں کے لئے اولڈ ایج ہوم کا قیام، 10 دارالامان کی بہتری اور پانچ نئے دارالامان کی تعمیر شامل ہیں۔ محکمہ نے صنفی تشدد کے متاثرین کے لیے ”بولو ہیلپ لائن” کو مؤثر بنانے کے اقدامات گڈ گورننس روڈ میپ کا حصہ ہیں۔ مزید برآں، 15,000 بیواؤں کو سہارا کارڈ کے تحت ماہانہ وظائف، جبکہ جامعہ پشاور میں بصارت سے محروم افراد کے لیے بریل اکیڈمی کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔محکمہ اعلیٰ تعلیم نے کالجوں کو اپ گریڈ کرنے، مارکیٹ سے ہم آہنگ تعلیمی پروگرام متعارف کرانے، اساتذہ کے لیے سٹیم سرٹیفیکیشن پروگرام، طلبہ کے لئے انٹرن شپ مواقع، داخلوں کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے، 50 فیصد جامعات میں کیریئر ڈیولپمنٹ سینٹرز قائم کرنے، بعض کالجوں کی آؤٹ سورسنگ اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی و ترقیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی پیش کی۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ اس روڈ میپ پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ صوبے کے عوام اس کے ثمرات حاصل کر سکیں۔
خیبر پختونخوا کے زرعی شعبے میں انقلابی اقدامات، کسانوں کے مسائل کے فوری حل کی ہدایت
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے محکمہ زراعت ڈیرہ اسماعیل خان کیدفتر دورے کے موقع پر تمام افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور ان کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائیں۔صوبائی وزیر زراعت نے محکمہ زراعت توسیع ڈیرہ اسماعیل خان میں اجلاس کی صدارت کی، جہاں انہیں محکمے کے افسران کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس میں تحصیل مئیر عمر امین, ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اپر اور لوئر وزیرستان کے زرعی محکمہ افسران بھی موجود تھے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کا اصل مقصد کسانوں کی ہر ممکن مدد، زرعی پیداوار میں اضافہ اور فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔وزیر زراعت نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی قیادت میں زرعی شعبے میں انقلابی اقدامات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور بجٹ میں زرعی شعبے کیلیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے اس حوالے سے محکمہ زراعت کے افسران کے ساتھ مشاورت مکمل کی جا چکی ہے تاکہ ان اقدامات پر موثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے زرعی افسران پر زور دیا کہ وہ زمینی پیداوار بڑھانے کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں تاکہ صوبے میں زرعی خودکفالت کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ وزیر زراعت نے کہا کہ صوبائی حکومت زمینداروں کے مسائل کو حل کرنیکے لیے ہر سطح پر اقدامات کر رہی ہے انہوں نے ضلعی افسران کو مذید ہدایت جاری کی کہ کوآرڈینشن کمیٹی کے اجلاس ماہانہ کی بنیاد پر ضرور منعقد کئے جائیں تاکہ زمینداروں کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ فصلی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ بھی ممکن ہوسکے انہوں نے تمام ضلعی افسران کو حاضری یقینی بنانے کی سختی سے ہدایت کی اور کہاکہ اس ضمن میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائیگی اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروئی عمل میں لائی جائیگی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومٹ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلیے اہم منصوبہ شروع کررہی ہے جبکہ انہوں نے منافع بخش فصلوں ترویج اور باغبانی کے شعبے پر زور دیا۔ صوبائی وزیر نیڈیرہ اسماعیل خان میں زرعی کمپلیکس بنانے کیلیے 3ہزار ایکڑ زمین خریدنے کی بھی ہدایت کی۔
سوات میں ترقیاتی انقلاب کا آغاز، اربوں کے منصوبے جاری: ایم پی اے اختر خان
چیئرمین ڈیڈک سوات ایم پی اے اخترخان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ سوات میں حقیقی ترقیاتی انقلاب برپاکرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی ترتیب دی گئی ہے، سوات میں ترقی اورخوشحالی کے سفرکاآغاز ہوچکاہے، ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جائینگے سوات کے لئے منظور کردہ ترقیاتی فنڈز ختم کرنے اورفنڈز کی واپسی کے حوالے سے اطلاعات غلط اور بے بنیا دہے وزیراعلیٰ امین گنڈاپور علاقائی ترقی اورخوشحالی پرخصوصی توجہ دے رہے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے دفترسیدوشریف میں سینئرصحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ سوات کی تعمیروترقی کے لئے اربوں روپے منظورہوچکے ہیں اوران منصوبوں کی تعمیرمیں میٹریل کاخاص خیال رکھاجارہاہے اورعوام کاپیسہ عوام پر ہی خرچ کیاجارہاہے لوگوں کی مسائل اورمشکلات کومدنظررکھتے ہوئے سوات میں مسائل کے حل کے لئے مرتب حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تمام صوبائی حلقوں کے لئے اربوں روپے منظورکی ہے جو متعلقہ ایم پی اے اپنے حلقہ میں ان منصوبوں پرخرچ کریں گے جس سے عوام کو فائدہ ہو، انہوں نے کہا کہ سوات کی ترقی اورخوشحالی پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے اورمیرے حلقہ میں سڑکوں اورتعلیم کے حوالے سے مسائل ہیں جس کو توجہ کامرکز بناتے ہوئے سڑکوں اور سکولوں کی تعمیر کیلئے کوششیں جاری ہے، علاقے میں سیاحت کے بہترین مقامات موجود ہے، ان سیاحتی مقامات کو متعارف کرانے کے لئے میرے حلقہ میں سڑکوں کی تعمیراولین ترجیح ہے تاکہ سیاح ان علاقوں تک پہنچ سکے انہوں نے کہا کہ علاقے کے تعمیروترقی اورلوگوں کی خوشحالی کیلئے خطیرفنڈ خرچ کی جارہی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے خیبر پختونخوا اور خاص طور پر بنوں ڈویژن کا مقدمہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے سامنے جرات مندی سے پیش کیا,صوبائی وزیر پختونیار خان
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختونیار خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی آمین خان گنڈا پور نے حالیہ قبائلی عمائدین کے اعلیٰ سطحی جرگے میں پورے صوبے، خاص طور پر جنوبی اضلاع، قبائلی علاقوں اور بنوں ڈویژن کے عوام کا مقدمہ نہایت جرات اور حکمت کے ساتھ وزیر اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جرگے میں خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش حقیقی مسائل کی کھل کر نمائندگی کی جن میں صوبے میں امن و امان کی خراب صورت حال، این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے ساتھ ناانصافی، آبی منافع کی عدم ادائیگی، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی، ڈرون حملوں سے شہریوں میں خوف و بے چینی، آئی ڈی پیز کے مسائل اور ان کی واپسی، افغانستان امن مذاکرات میں خیبر پختونخوا کے عوامی مفادات کی عدم ترجمانی اور خاص طور پر بنوں ڈویژن کی مسلسل نظراندازی شامل تھے,وزیر اعلیٰ نے جرگے میں واضح کیا کہ اچھے اور برے طالبان کی تفریق کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ حقیقی امن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب دہشت گردی کو کسی بھی قسم کا تحفظ نہ دیا جائے انہوں نے کہا کہ اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی اور حالات کو نارمل کرنا ہوگا تاکہ خیبر پختونخوا اور خاص طور پر بنوں ڈویژن کو امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنایا جاسکے,انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی بے باک قیادت اور عوام کی حقیقی ترجمانی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر فورم پر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے تاکہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے پاک اور خوشحال صوبہ بنایا جاسکے۔
آسٹریا کی سفیر کی خیبرپختونخوا اسمبلی آمد – باہمی تعاون اور پارلیمانی اصلاحات پر تبادلہ خیال
آسٹریا کی سفیر محترمہ اینڈریا ورک نے بدھ کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کا دورہ کیا۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے وفد کی میزبانی کی۔ ان کے ہمراہ اراکینِ اسمبلی جلال خان، تاج محمد ترند، داؤد شاہ، میاں شرافت علی اور محبوب شیر بھی ملاقات میں موجود تھے۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے سپیشل سیکریٹری ایڈمن سید وقار شاہ نے معاونت فراہم کی۔ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے جمہوری اداروں، خواتین کی پارلیمانی شرکت، اور بجٹ سازی کے عمل میں صنفی مساوات پر تفصیلی گفتگو کی۔ ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے آسٹریا کی سفیر کو خواتین کاکس کے کردار سے آگاہ کیا اور بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین نمائندگان نہ صرف پارلیمانی اصلاحات میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ صنفی بنیاد پر بجٹ سازی اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔اس موقع پر رکنِ صوبائی اسمبلی جلال خان نے کہا: ”آسٹریا کے مضبوط جمہوری ادارے ابھرتی ہوئی اسمبلیوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں۔ ہم آسٹریا کے ساتھ استعدادِ کار بڑھانے کے لیے شراکت داری قائم کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بین الاقوامی معیار کی پارلیمانی روایات کو فروغ دیا جا سکے۔”جلال خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون سازی، بجٹ سازی، اور پارلیمانی نگرانی کے عمل میں بہتری کے لیے بین الاقوامی تعاون نہایت اہم ہے۔سپیشل سیکریٹری ایڈمن سید وقار شاہ نے دونوں ممالک کی قومی اور علاقائی اسمبلیوں کے درمیان ممکنہ باہمی تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ:”خیبرپختونخوا اسمبلی آسٹریا کی قومی اور ریجنل پارلیمنٹس کے ساتھ بہترین پارلیمانی روایات اور تجربات کے تبادلے کی خواہاں ہے۔ آئندہ چند ماہ میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا ایک وفد آسٹریا کا دورہ کرے گا جہاں وہ آسٹریا کے بجٹ آفس، نیشنل پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا تفصیلی دورہ کرے گا تاکہ باہمی فہم و فراست اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔”ملاقات کے بعد آسٹریا کی سفیر کو اسمبلی ہال اور اس کے مختلف حصوں کا تفصیلی دورہ کرایا گیا۔ اس موقع پر مہمان سفیر اور پارلیمانی نمائندگان کے ہمراہ ایک یادگاری گروپ فوٹو بھی لی گئی۔
ڈاکٹر شفقت آیاز کی زیرِ صدارت سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس
معاون خصوصی سائنس وآئی ٹی ڈاکٹر شفقت آیاز کی زیرِ صدارت سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2024-25 کے تحت جاری اور 2025-26 کے مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کے دوران محکمے کے افسران نے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز، اخراجات، ریلیزز، اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔بریفنگ کے دوران معاون خصوصی نے خاص طور پر ضم اضلاع میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پروگرام، ڈیجیٹل معیشت اور مہارت مراکز، مردان اور خیبرپختونخوا میں مشترکہ سہولت مراکز کا قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا، اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کی جانب سے صوبائی سطح پر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی۔معاون خصوصی ڈاکٹر شفقت آیاز نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو“ڈیجیٹل خیبرپختونخوا”کے وژن کے مطابق مکمل شفاف انداز میں جلد مکمل کیا جائے تاکہ عام عوام مستفید ہوں۔معاون خصوصی نے کہا کہ عوامی فلاحی منصوبے بانی چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے عوامی خدمت کے وژن کی عملی تصویر ہیں، انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد ایک بااختیار، جدید اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ خیبرپختونخوا کی تشکیل ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پشاور جرگے میں صوبے کے حقوق کا مقدمہ کامیابی سے لڑاہے بیرسٹر ڈاکٹرسیف
وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیراطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹرڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پشاور جرگے میں صوبے کے حقوق کا مقدمہ کامیابی سے لڑاہے اور وفاقی قیادت کو ایک بار پھر این ایف سی میں ضم اضلاع کے حصے کی صوبے کو منتقلی، ٹوبیکو سیس اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے حوالے سے آگاہ کیاگیا ہے۔ اسکے علاوہ وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع میں ڈرون حملوں کی روک تھام اور خطے میں پائیدار امن کے لئے افغانستان سے بات چیت کے عمل میں خیبر پختونخوا حکومت کو شامل کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔ اپنے دفتر سے جاری بیان میں بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت ضم اضلاع کے فنڈز اب جلد صوبے کو منتقل کرے گی۔وفاق نے غیر قانونی طور پر ضم اضلاع کے فنڈز اپنے پاس رکھے ہیں، ضم اضلاع خیبر پختونخوا کااب باقاعدہ حصہ ہیں، اس لئے فنڈز کی منتقلی ناگزیر ہے، بیرسٹر سیف نے کہا کہ فنڈز کی منتقلی میں تاخیر ضم اضلاع کی ترقی میں رکاوٹ ہے، وہاں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ وفاق اور صوبے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کی ترقی دہشت گردی کے خاتمے کی ضمانت ہے۔ دہشت گردی صرف خیبر پختونخوا کا نہیں، پورے ملک کا مسئلہ ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے بقایاجات بھی فوری ادا کیے جائیں، وفاقی حکومت اہم قومی معاملات پر سیاست سے گریز کرے، ایک صوبے کو ترقی سے محروم رکھنا وفاق کے لیے نقصان دہ ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے مزید کہا کہ ضم اضلاع کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شدید متاثر ہوئے ہیں انضمام کے بعد متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی عمل تیز کرنا اور انکی محرومیاں دور کرنا ضروری ہے جسکے لئے وفاق کو خیبر پختونخوا کا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اس لئے وفاق صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے اور تمام واجب الادا بقایات جات صوبے کو دے۔ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وسائل کے مطابق ضم اضلاع میں ترقیاتی کام کررہی ہے تاہم وفاق کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں صوبے کی مدد کرے مگر وفاق نے الٹا صوبے فنڈز روک رکھے ہیں اور پورا حصہ نہیں دے رہا۔ وفاق سیاست سے گریز کرتے ہوئے اس اہم معاملے میں خیبر پختونخوا حکومت کی مدد کرے کیونکہ انضمام کے بعد ضم اضلاع کی ترقی اور انکی کئی دہائیوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنا پورے پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 74ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب کا انعقاد
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 74ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب کا انعقاد
پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 74ویں سالگرہ منگل کے روز خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں منائی گئی۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے اپنی دیرینہ شراکت داری کی تجدید کرتے ہوئے باہمی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب کی میزبانی سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کی جبکہ تقریب میں چین کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن کیانگ، سفارتکاروں، سرکاری عہدیداران، اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ یہ تقریب پاکستان چائنا فرینڈشپ ایسوسی ایشن (خیبرپختونخوا شاخ) کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں 21 مئی 1951 سے جاری تعاون اور باہمی اعتماد کی سات دہائیوں پر مبنی تعلقات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر بابر سلیم سواتی نے پاکستان کی جانب سے 1950 میں عوامی جمہوریہ چین کو ابتدائی طور پر تسلیم کیے جانے کا ذکر کیا اور دوطرفہ تعلقات کو ”اعتماد اور تسلسل کی علامت“ قرار دیا۔ انہوں نے پشاور اور ارومچی کے درمیان 40سالہ تعلقات اور ایبٹ آباد و کاشغر شراکت داری کے آئندہ 30سال مکمل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے تجویز دی کہ مانسہرہ کو تاریخی شاہراہِ ریشم کی اہمیت کے پیش نظر کسی چینی شہر کے ساتھ ”سسٹر سٹی(جڑواں شہر)“قرار دیا جائے۔انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے ساتھ روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور سال 2026 میں سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے وفد کو خیبرپختونخوا کے دورے کی دعوت دی۔ انہوں نے تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، صاف توانائی، اور ٹیکنالوجی میں اشتراک کے فروغ پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا ”پاکستان اُور چین کے تعلقات کا مستقبل نوجوانوں، اداروں اور عوامی سطح پر باہمی روابط میں پوشیدہ ہیں۔ ہمیں روایتی سفارت کاری سے بڑھ کر ایک جدید، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی پر مبنی شراکت داری کی جانب بڑھنا ہوگا۔“پاکستان چین فرینڈشپ ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا شاخ کے صدر یوسف ایوب خان نے تقریب کا آغاز روایتی گرمجوشی کے ساتھ ”السلام علیکم اور نی ہاوو“کے خیرمقدمی کلمات سے کیا۔ مقررین جن میں سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، چین کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن کیانگ، صوبائی وزیر ارشد ایوب خان،صوبائی وزیرسید قاسم علی شاہ اور سیدعلی نواز گیلانی شامل تھے نے دونوں ممالک کے مابین تقلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے مسلط کردہ جنگ میں چین کی غیرمشروط حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس دوستی کو قابل فخر قراردیا۔انہوں نے اس دور کو بھی یاد کیا جب پشاور، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ثقافتی تقریبات کا انعقاد معمول کی بات تھی۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ چینی سفارتخانے کے تعاون سے یہ سرگرمیاں ایک بار پھر بحال ہوں گی۔مستقبل کی جھلک پیش کرتے ہوئے، انہوں نے مئی 2026 میں سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ (پلاٹینم جوبلی) کی تقریبات کا اعلان کیا، جو خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں منعقد ہوں گی اور دونوں ممالک کو مزید قریب لانے کا ذریعہ بنیں گی۔ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن کیانگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے چین کے کلیدی معاملات پر مسلسل حمایت کو سراہا اور پاکستان کی خودمختاری و ترقی میں چین کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے 74سالہ تعلقات کے دوران قدرتی آفات اور بحرانوں میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا، اور یہ دوستی ”پہاڑوں سے بلند اور سمندروں سے زیادہ گہری“ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے کلیدی ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا اُور سوکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن، اور رشکئی اسپیشل اکنامک زون کا حوالہ دیا۔ انہوں نے شمسی توانائی سے چلنے والی اسٹریٹ لائٹس، تعلیمی وظائف اور فوڈ ایڈ پیکجز جیسے کمیونٹی اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے زراعت، توانائی، کان کنی، ای کامرس، اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا، بالخصوص خیبرپختونخوا اور سنکیانگ کے مابین مضبوط صوبائی شراکت داری کے ذریعے اس تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان چین فرینڈشپ ایسوسی ایشن (خیبرپختونخوا شاخ) کے سیکرٹری جنرل سیّد علی نواز گیلانی نے پاک چین دوستی کے فروغ میں مختلف اداروں کے اہم کردار ادا کا ذکر کیا اُور اس بات پر زور دیا کہ پاک چین دوستی کی انجمن 1970سے عوامی سطح پر تعلقات مضبوط بنانے میں سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم دونوں ممالک میں دوستی کے فروغ میں ایک پل جیسا کلیدی کام کر رہی ہے جس کی مدد سے دونوں ممالک کے لوگوں ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ مختلف ثقافتی پروگراموں، دوروں اور عوامی رابطوں کے ذریعے پاک چین فرینڈشپ ایسوسی ایشن برسوں سے دوستی کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ تعاون و ترقی کے نئے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہو اور ایک روشن مستقبل کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔تقریب کا اختتام ایک مشترکہ اعلامیے پر ہوا، جس میں دونوں ممالک نے ہر سطح پر تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کی توثیق کی۔
۔۔۔۔۔۔۔
اپر چترال پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری کی تقریب
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ مقامی خصوصاً دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحافی، شفافیت، احتساب اور عوامی شمولیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر تے ہیں۔ وہ اپر چترال ضلعی پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے کابینہ کے ارکان سے حلف لیا۔ تقریب میں سیکریٹری اطلاعات محمد خالد، ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات حیات شاہ، دیگر سینئر افسران اور ضلع اپر چترال پریس کلب کی نومنتخب کابینہ نے شرکت کی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اپر چترال جیسے دور افتادہ اور پہاڑی اضلاع میں کام کرنے والے صحافی حقیقی معنوں میں جمہوریت کی نچلی سطح کے محافظ ہیں۔ ان کا کام عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ حکومت مقامی پریس کلبوں کو انفراسٹرکچر کی فراہمی اور مالی استحکام کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ نومنتخب عہدیداران نے اس موقع پر پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پاسداری، آزادی صحافت کے تحفظ، اور علاقائی مسائل کی دیانتداری سے نمائندگی کا عزم کیا۔ اپر چترال پریس کلب کے صدر محمد علی مجاہد نے مشیر اطلاعات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پریس کلب کو ذمہ دار صحافت کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بنایا جائے گا، جو اپر چترال کے عوام کی حقیقی آواز بنے گا۔ اس موقع پر ضلع اپر چترال پریس کلب کے ارکان نے بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی، جو صوبے میں میڈیا کی ترقی کے لیے ان کی انتھک کاوشوں اور حکومت و عوام کے درمیان مؤثر رابطے کے فروغ کے اعتراف کے طور پر پیش کی گئی۔ تقریب کا اختتام اس عہد کے ساتھ ہوا کہ نومنتخب کابینہ صحافتی اقدار کی پاسداری، آزادی صحافت کے فروغ اور عوام کی مؤثر نمائندگی جاری رکھے گی۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت پشاور میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ کی صوبے کو ممکنہ منتقلی کے تناظر میں مجوزہ صوبائی ٹوبیکو بورڈ کے لیئے قانون کے ابتدائی مسودے پر مشاورت اور سٹیک ہولڈرز کی آراء سننے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ زراعت کے ایڈیشنل سیکریٹری دل نواز خان،ڈی جی زراعت ریسرچ ڈاکٹر عبد الروف،ڈائریکٹر زراعت مراد علی،ڈپٹی ڈائریکٹر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ایاز محمد،سابق ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان ٹوبیکو بورڈ محمد ایاز،سیکرٹری پاکستان ٹوبیکو بورڈ فخرالدین،لیگل آفیسر محکمہ قانون صائمہ سہیل اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وفاقی ادارے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے صوبے کو متوقع منتقلی کے تناظرمیں اسکے لئے متعلقہ محکمے کی جانب سے تیار کئے جانے والے صوبائی ایکٹ کے ابتدائی مسودے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس سلسلے میں محکمہ زراعت سے محکمہ قانون بھیجے جانے والے مسودے اور اس سلسلے میں معاون خصوصی کی جانب سے اس کے بعض پہلوں میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے بعض نکات و شقوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا جبکہ اجلاس کے شرکاء نے بھی اس سلسلے میں اپنی تجربات کی بنیاد پر تجاویز دیں۔اس موقع پر محکمہ زراعت کے حکام نے فورم کے تجاویز کو مجوزہ ایکٹ کے مسودے میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی جسے حتمی شکل دینے سے پہلے شرکا ء کیساتھ دوبارہ زیر بحث لایا جائے گا۔اس موقع پر معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ تمباکو اس صوبے کی پیداوار ہے اس کی ترقی کیلئے تحقیق اور معیار میں جدت لانا ضروری ہے تاکہ یہ شعبہ زیادہ منافع بخش ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی قانون لانے میں تمباکو پیدا کرنے والے کسانوں کا فائدہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے تاکہ حکومتی قوانین سے انھیں ریلیف پہنچے
