وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت بچوں بالخصوص بچیوں کو معیاری تعلیمدینے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات اُٹھارہی ہے اور Alternate Learning Pathways (ALP) پروگرام اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت صوبے کے 27 اضلاع میں قائم 1267 مراکز میں 42,644 طلبہ زیر تعلیم ہیںجبکہ اب تک 62,000 طلبہ اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔ ALP پروگرام شروع کرنے کا بنیادی مقصد اُن بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے جو سکولوں سے باہر ہیں اور ان کی عمریں زیادہ ہونے کی وجہ سے سکولوں میں داخلہ نہیں لے سکتے۔ اُنہوںنے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں ایجوکیشن کارڈ متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے جس میں ضم اضلاع اور پسماندہ اضلاع کو ترجیح دی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ضم اضلاع کے سکولوں میں بچیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جارہا ہے تاکہ ان اضلاع میں شرح خواندگی کو بڑھایا جائے ۔ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری سکولوں میں کرسی اور میز فراہم کیا جائے گااور اس بات کویقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی بچہ بغیر کرسی اور میز کے نہ بیٹھے ۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے پیر کے روز نشتر ہال پشاور میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے زیر اہتمام منعقدہ گریجویشن تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی کابینہ اراکین فیصل خان ترکئی، میجر (ر)محمد سجاد ، سید قاسم علی شاہ اور زاہد چن زیب کے علاوہ سرکاری حکام ، شراکت دار اداروں کے نمائندوں ، طلبہ اور اساتذہ نے تقریب میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے زیر نگرانی Alternate Learning Pathways پروگرام کے تحت تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ میں سرٹیفکٹیس تقسیم کیں ۔اے ایل پی پروگرام کے پیکج E) ( کے تحت 14,487 طلبہ نے تعلیم مکمل کی ہے جبکہ مجموعی طور پر 62,000 طلبہ اس پروگرام کے تحت اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور صوبائی حکومت اس ذمہ داری کو بطریق احسن نبھانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ” ہمارا بنیادی مقصد لوگوں کو تعلیم اور علاج کی سہولیات دینا ہے ، صرف عمارتیں تعمیر کرنا نہیں ، سکول کی تعمیر میں وقت لگتا ہے ہم نے فوری طور پر کرائے کی عمارتوں میں سکولز شروع کرنے کی پالیسی بنائی ہے تاکہ بغیر کسی تاخیر کے تعلیم کا عمل شروع کیا جائے اور بچوں کا وقت ضائع نہ ہو”۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ صوبائی حکومت کی توجہ تعلیم نسواں پر زیادہ ہے کیونکہ پڑھی لکھی مائیں ہی بہترین قوم بناتی ہیں۔ صوبائی حکومت ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے میں 16,000 اساتذہ کی بھرتی کا عمل بہت جلد شروع کرے گی اور بھرتی کے عمل میں سو فیصد شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ میرٹ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اُنہوںنے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کسی ایک ناکامی کی وجہ سے اپنے ہدف سے پیچھے نہ ہٹیں بلکہ اپنے اندر کچھ کر دکھانے کا جذبہ پیدا کریں اور اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ طلبہ جب کچھ کرنے کا فیصلہ کرلیں تو اس کے حصول کیلئے خوب محنت کریں کیونکہ محنت کا کوئی متبادل نہیں ہے، اگر زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنے والدین اور اساتذہ کی عزت و احترام کریں ۔صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔
خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی اور معاون خصوصی پیر مصور خان غازی
خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی اور معاون خصوصی پیر مصور خان غازی کی سربراہی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم، عالمی ادارہ صحت پشاور کے انچارج ڈاکٹر بابر عالم،اے ڈی جی پبلک ہیلتھ ڈاکٹر شاہد یونس، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اصغر خان و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس سے قبل عالمی ادارہ صحت پشاور کے انچارج ڈاکٹر بابر عالم اور ان کی ٹیم نے ڈائریکٹر جنرل کی موجودگی میں مشیر صحت احتشام علی پچاس لاکھ ادویات اور کلین ڈلیوری کٹس کا عطیہ پیش کیا۔ اجلاس کے دوران موبائل ہیلتھ یونٹس کی فعالی اور پشاور سمیت دور دراز علاقوں میں ان ہیلتھ یونٹس کو زیراستعمال لانے بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں مشیر صحت کو بتایا گیا کہ پرائمری ہیلتھ کئیر کو فعال کرکے ایم ٹی آئیز پر بوجھ کم کرنے کیلئے انقلابی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ پائیدار امن
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ پائیدار امن وامان کو برقرار رکھنا موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے جرائم پر قابو پانے کیلیے پولیس کو مضبوط بنانا ہوگا جب تک پولیس مضبوط نہیں ہوگی وہ مقابلہ نہیں کرسکیگی، انہوں نے کہا کہ جوڈیشری، جیل خانہ جات اور پولیس میں بہتر اصلاحات لارہے ہیں پولیس ایکٹ میں تبدیلی کی ہے جس سے بہت بہتری آئیگی پولیس میں سزا اور جزا کا عمل شروع ہوگا، انہوں نے کہا کہ پرامن ماحول مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں کمزور اورطاقتور کیلیے ایک جیسا قانون ہوناچاہیے، صوبائی وزیر کا مذید کہنا تھا کہ ہر ادارے کی حدود ہوتی ہے اگر ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داری ادا کرے تو بہت سے مسائل حل ہوجائینگے وہ پشاور یونیورسٹی میں تیسری قومی کریمینالوجی کانفرنس کے پہلے روز بطور مہمان خصوصی شرکاء سے خطاب کررہے تھے تین روزہ کانفرنس کا انعقاد پشاور یونیورسٹی کے شعبہ کریمینالوجی نے کیا ہے کانفرنس سے جسٹس شریعت ایپیلیٹ بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پروفیسر ڈاکٹر قبلہ آیاز، وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم قاضی، فیکلٹی سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی، ڈپٹی ہیڈ آف سب ڈیلیگیشن آئی سی آر سی خیبر پختونخوا زرتاشہ قیصرخان، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات خیبر پختونخوا محمد عثمان محسود اور کریمینالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین۔پروفیسر ڈاکٹر بشارت حسین نے بھی خطاب کیا جبکہ کانفرنس میں یونیورسٹی اساتذہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سمیت سٹیک ہولڈرز اور طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں پچھلے 40سال سے حالات معمول پر نہیں آرہے ہیں خیبر پختونخوا فرنٹ فٹ پر دہشتگردی کا سامنا کررہاہے جس سے صوبے میں دہشتگردی بڑھی ہے جوکہ بہت بڑا چیلنج ہے لیکن موجودہ صوبائی حکومت امن وامان برقرار رکھنے کیلیے ہرممکن اقدامات اٹھارہی ہے انہوں طلبہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف ڈگری کے حصول تک تعلیم حاصل نہ کرو بلکہ عملی ذندگی میں اس استفادہ حاصل کرو اس سے جرائم پر قابو پانے میں بھی مدد ملیگی انہوں نے مذید کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کو ہنر سکھانے کیلیے مختلف انڈسٹریز قائم کی گئیں ہیں جبکہ قیدیوں کی بنائی گئی مصنوعات کیلیے شوروم کھل رہے ہیں جن کا 30فیصد منافع قیدیوں کو ملے گا جس سے وہ اپنے کنبے کی کفالت کریگا جبکہ 70فید جیل خانہ کو جائیگا انہوں نے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے حوالے سے اس تین روزہ کانفرنس سے مختلف تجاویز بھی سامنے آئیں گی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی آزادی اور عمران خان کی رہائی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ہم اپنے قائد عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور یہ حق کوئی بھی ہم سے نہیں چھین سکتا جب تک عمران خان کو جھوٹے کیسز میں رہائی نہیں ملتی ہماری جہدوجہد جاری رہے گی، ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے جیل سے رہائی پانے والے عمر حیات سے قمبر سوات میں ملاقات کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایم این اے سلیم الرحمان، پی ٹی آئی مینگورہ سٹی صدر و چیئرمین حیدر علی خان، خلیل احمد، سلطان روم اور چئیرمین فضل اکبر بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ تھے، انہوں نے عمر حیات کو جیل سے رہائی پانے پر مبارکباد دی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انھیں عمران خان کا حقیقی سپاہی قرار دیا، اس موقع پر پی ٹی آئی کارکن عمر حیات نے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ان کی رہائش گاہ آئے اور ان کیساتھ ملاقات کی اور اپنے وعدے کے مطابق ہر قسم تعاون کی فضل حکیم خان یوسفزئی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن سے بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کارکنان اور عمران خان سے محبت رکھنے والے عوام نے پی ٹی آئی کیجانب سے ہر کال پر احتجاج میں شرکت کی اور اپنے ہر دلعزیز لیڈر عمران خان کی جلد سے جلد اور بحفاظت رہائی، حقیقی آزادی، ملک میں بدترین مہنگائی کے خاتمے اور فارم 47 کی جعلی وفاقی حکومت کے خاتمے کیلئے ہر قسم قربانی دی، انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے سپاہی ہیں اور ان کی ہر کال پر لبیک کہتے ہیں اور ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں قبل ازیں صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی اور ایم این اے سلیم الرحمان رحیم آباد میں پی ٹی آئی مینگورہ سٹی کے سینئر نائب صدر فاروق احمد کی رہائش گاہ بھی گئے اور ان کے والد محترم کی عیادت کی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ نان فارمل ایجوکیشن کے
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ نان فارمل ایجوکیشن کے تحت تعلیم سے محروم رہنے والے بچوں اور بچیوں کو بہترین تعلیمی مواقع ان کے اپنے ہی علاقوں میں میسر کر رہے ہیں۔ کنڈنس کورس کے ذریعے مختصر مدت میں ان کو مڈل لیول تک تعلیم دے کر ان کو فارمل ایجوکیشن سسٹم میں شامل کر رہے ہیں۔ ہمارے نان فارمل ایجوکیشن کے طلبہ و طالبات نے حالیہ امتحانات میں بورڈز میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے میں 4.7 ملین بچے اسکولوں سے باہر تھے جن میں حالیہ داخلہ مہم کے ذریعے 1.3 ملین بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا گیا ہے جبکہ آؤٹ آف سکول بچوں کے لئے آلٹرنیٹو لرننگ پاتھ ویز پروگرام 2019 سے شروع کیا گیا تھا اور اس پروگرام میں صرف 10 اضلاع شامل تھے۔ موجودہ حکومت نے اس پروگرام کو مزید 27 اضلاع تک وسعت دی۔جبکہ پارٹنر آرگنائزیشنز یونیسیف اور بنک بشمول ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ اور اسپائر پروگراموں کے تحت ابھی تک تقریبا 63 ہزار طلبہ و طالبات کو سکولوں میں داخل کروایا گیا تھا۔ جن میں 38 ہزار طالبات بھی شامل تھی۔ ان میں 34 ہزار طلبہ و طالبات نے کورس مکمل کیا ہے اور فارمل ایجوکیشن سسٹم میں شامل ہو چکے ہیں۔ ابھی ہمارے 840 اے ایل پی سنٹرز میں 28 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نشترہال پشاور میں اے ایل پی سینٹرز کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کے لئے منعقدہ گریجوایشن سرمنی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور اور اسپیشل سیکرٹری اسفندیار خٹک نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں محکمہ تعلیم اور اے ایل پی پروگرام کے اعلیٰ حکام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران، طلبہ و طالبات اور ان کے والدین نے شرکت کی۔ تقریب میں طلبہ و طالبات نے ٹیبلوز، ملی نغمے اور تقاریر پیش کیں۔صوبائی وزیر تعلیم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہم نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کے حصول کے لیے 248 دینی مدارس میں اے ایل پی سینٹرز کھول رکھے ہیں اور ضم اضلاع میں مزید 300 اے ایل پی سینٹرز دینی مدارس میں قائم کرنے کے لیے پروگرام منظور کیا ہے۔ جس کا عنقریب آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہماری موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اربوں روپے کا بجٹ تعلیم پر خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ خواتین کی تعلیم کے لیے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ ضم اضلاع کے بچیوں کے لئے بھی اقدامات کریں اور ان کو ہر صورت سکولوں میں لانے کے لئے ماہانہ وظیفہ پروگرام بھی شروع کیا جا چکا ہے جس سے ضم اضلاع کی ہزاروں بچیاں مستفید ہوں گی۔ جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی خصوصی ہدایت پر تعلیم کارڈ اور رینٹڈ بلڈنگ سکولز پروگرام شروع کئے جا چکے ہیں۔ تعلیم کارڈ سے ضرورت مند اور ذہین طبہ و طالبات کو تعلیم حاصل کرنے کے تمام مواقع میسر آئیں گے۔ جبکہ رینٹڈ بلڈنگز اسکول پروگرام فوری طور پر سکولوں می درس و تدریس کا عمل جاری رکھنے کے لئے شروع کیا جا چکا ہے۔ تاکہ طلباء و طالبات کا مزید وقت ضائع نہ ہو۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے محکمہ تعلیم کے تمام پارٹنر آرگنائزیشنز کا بھی شکریہ ادا کیا۔ جن کی کاوشوں سے یہ منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر گریجویٹ طلبہ و طالبات کو سرٹیفیکیٹس اور پوزیشن لینے والوں میں شیلڈ انعامات اور نقد رقم تقسیم کئے گئے۔
شمالی وزیرستان کے تعلیمی شعبے میں نمایاں پیشرفت – ہائی سکول دتہ خیل کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ مل گیا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف و آباد کاری ملک نیک محمد خان داوڑ نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان، خصوصاً تحصیل دتہ خیل، تعلیمی لحاظ سے شدید پسماندگی کا شکار رہی ہے، جس کے سبب یہاں کی نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم نہیں ہو پا رہے تھے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی اولین ترجیح ہے کہ علاقے میں تعلیمی سہولتوں کو فروغ دے کر معیار تعلیم کو بلند کیا جائے اور جدید تعلیمی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ملک نیک محمد خان داوڑ کی خصوصی کوششوں سے گزشتہ روز ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے تحت شمالی وزیرستان کے ہائی سکول دتہ خیل کو ہائیر سیکنڈری سکول کا درجہ دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ خزانہ نے باضابطہ طور پر 18.105 ملین روپے کی لاگت سے 17 نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری دی ہے۔ ان نئی آسامیوں میں اساتذہ، معاون عملہ اور دیگر تدریسی و انتظامی عملہ شامل ہوگا جو کہ دتہ خیل ہائیر سیکنڈری سکول کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ملک نیک محمد خان نے کہا کہ اس اہم قدم سے تحصیل دتہ خیل کے لوگوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر ہی ثانوی تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر ہوگا اور علاقے کے طلباء کو میٹرک کے بعد مزید تعلیم کے لیے میران شاہ یا دوسرے دور دراز علاقوں کا سفر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف تعلیم کا فروغ ہوگا بلکہ نوجوان نسل کو درپیش مشکلات میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ترقیاتی اقدام شمالی وزیرستان کے تعلیمی نظام میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ہماری کوشش ہے کہ تعلیم کے میدان میں زیادہ سے زیادہ اقدامات کیے جائیں تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو جدید تعلیم کے مواقع میسر آسکیں اور انہیں مستقبل میں معاشرے میں ایک اہم اور مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ملک نیک محمد خان داوڑ نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا شمالی وزیرستان سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے جو علاقے کی تعلیمی اور معاشرتی ترقی کے ضامن بنیں۔
مریم نواز کا پنجاب ائیر لائن بنانے کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
تعجب ہے کہ چچا قومی اثاثے اونے پونے داموں بیچ رہے ہیں جبکہ بھتیجی خرید رہی ہے، مشیر اطلاعات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے پنجاب ائیر لائن بنانے کے فیصلے کومضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا ہے کہ مریم نواز کے چچا قومی اثاثے اونے پونے داموں بیچ رہے ہیں جبکہ بھتیجی خرید رہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کاپی کیٹ مریم نواز نے پی آئی اے خریدنے میں بھی علی امین کی کاپی کی ہے،علی امین گنڈاپور کے منصوبے کاپی کرنے میں راج کماری مریم نواز کا کوئی ثانی نہیں ہے اورسوال یہ ہے کہ مریم نواز پی آئی اے خرید کر اپنے لئے ٹھیک کرسکتی ہیں تو ان کے والد اور چچا حکمرانی کی کئی باریاں لے کر کیوں ٹھیک نہ کرسکے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر قربان کرنا شریف خاندان کا شیوہ ہے اور اب عوام کے پیسوں سے بنائی جانے والی پی آئی اے کی ائیر لائن شریف خاندان کے لئے استعمال ہوگی اور شریف خاندان سر درد کی دوائی لینے کے لئے بھی طیارہ لندن بھیجے گا۔ بہتر یہی ہوگا کہ ائیر لائن کا نام جاتی امراء ائیر لائن رکھ لیں۔ انہوں نے کہا ایسا نہ ہو کہ اب مریم نواز پائلٹ کی وردی پہن کر ٹک ٹاک بنانے لگ جائیں۔
مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ڈیل کا الزام لگانے والوں کو کرارا جواب
مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ڈیل کا الزام لگانے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف،زرداری اور بے نظیر سمیت ہر رہنما ڈیل کے بعد باہر گئے جبکہ عمران خان رہائی کے بعد پاکستان ہی میں رہیں گے، بشری بی بی بھی رہائی کے بعد پاکستان ہی میں ہیں،پی ٹی آئی رہنما باعزت بری ہوکر اپنے ہی عوام کے درمیان رہیں گے، اپنے دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ڈیل وہ کرتے ہیں جو ملک اور عوام چھوڑ کر باہر اپنے عالیشان محلات میں بسیرا کرتے ہیں، عوام کا پیسہ لوٹ کر شریف اور زرداری خاندان نے اسی مقصد کے لئے باہر محلات بنائے ہیں، مشیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کے نہ باہر عالیشان محلات ہیں اور نہ ہی عوام کا پیسہ لوٹا ہے، انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت بتائیں ڈیل کس سے ہورہی ہے؟ حکومت تو آپ ہی کی ہے،ڈیل کا الزام لگانے والے اپنی جعلی حکومت پر جعلی ہونے کا مہر تصدیق ثبت کررہے ہیں، بیرسٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت نے پی ٹی آئی کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا مگر ناکام رہے۔
صوبائی مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے اپنے پبلک ریلیشن آفیسر اور انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے
صوبائی مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے اپنے پبلک ریلیشن آفیسر اور انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انور خان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے لیے انکے گاؤں ضلع کرک کے علاقہ ورانہ شوبلی بانڈہ تشریف لائے اس موقع پر دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے، مشیر خزانہ نے انور خان کی اہلیہ کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا، مرحومہ کے درجات بلندی اور انور خان و انکے دیگر خاندان کو صبر جمیل نصیب ہونے کی دعا کی اس دوران مشیر خزانہ انکے چھوٹے بیٹوں سے بھی ملے اور انکے ساتھ گپ شپ لگائی، مشیر خزانہ مزمل اسلم نے انور خان کو ہر مشکل اور تکلیف میں ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی، بعد ازاں مشیر خزانہ علاقے میں روڈ، پانی، ہسپتالوں کے مسائل کا سن کر اور پسماندگی دیکھ کر انتہائی حیران ہوئے اور رائلٹی ملنے کے باوجود مسائل کا سن کر افسوس کا اظہار کیا، انہوں نے سڑک اور پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے انور خان کو تعزیت کے خاتمے اور انکے حالات کے ٹھیک ہونے کے بعد رپورٹ کرکے حل ہونے کی یقین دہانی کرائی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ عوام کی خدمت ہی ہمارا شعار ہے عوامی ایجنڈے کے مطابق ان کی خدمت کرونگا، سوات کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات پریس کلب میں سوات موٹر سائیکل ٹریڈرز یونین کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم، ترجمان ڈاکٹر خالد محمود خالد اور سوات موٹر سائیکل ٹریڈرز یونین کے نومنتخب صدر حسن خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل خان یوسفزئی نے کہا کہ میں نومنتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید ظاہر کرتا ہوں کہ نومنتخب عہدیداران اپنے ساتھیوں کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھر پور کوشش کریں گے اور ان کی خدمت اپنا شعار بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ میں عوامی نمائندہ ہوں اور عوام کی خدمت کرنا ہم پر فرض ہے، عوامی ایجنڈے کے مطابق سوات کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے، انہوں نے کہا کہ سوات موٹر سائیکل ٹریڈرز یونین کی نومنتخب کابینہ کے ساتھ ہر قسم تعاون کریں گے، ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرونگا، اس موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے سوات موٹر سائیکل ٹریڈرز یونین کی نومنتخب کابینہ سے حلف لیا، تقریب کے آخر میں نومنتخب صدر حسن خان نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کا ان پر اعتماد کرتے ہوئے یہ ذمہ داری سوپنے کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا میں ساتھیوں کے اعتماد کو برقرار رکھ کر انہیں کبھی ٹھیس نہیں پہنچا ؤنگا اور ساتھیوں کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن کوشش کرونگا۔
