Home Blog Page 25

مون سون بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے خطرات: چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا اداروں کو احتیاطی تدابیر کے تحت مؤثر اقدامات کا حکم

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں مون سون بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں گلاف (گلیشیئر پھٹنے) کے خطرے کے پیش کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
مون سون بارشوں کے دوران اداروں کی تیاریوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبے بھر میں ندی نالوں کی صفائی کا کام جاری ہے۔ محکمہ آبپاشی نے اب تک پانی کے بہاؤ کے راستوں سے 703 کنال اراضی واگزار کروا لی ہے اور 227 غیر قانونی تعمیرات کو ہٹا دیا گیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 نے گزشتہ سالوں میں سیلاب سے متاثر رہنے والے 17 حساس اضلاع سمیت پورے صوبے میں تیاریاں مکمل کر لی ہیں جس کے تحت اس ماہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے خصوصی مشقیں (موک ڈرلز) کی جائیں گی، ماہر تیراک 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے۔ اسی طرح صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بھی امدادی سامان کا سٹاک مکمل رکھا ہے. چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ پہاڑی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم (پیشگی اطلاع) کو مکمل فعال رکھا جائے۔اس نظام کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں اطلاع زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مقامی آبادی کو موسم اور خطرات کی صورتحال سے مسلسل باخبر رکھا جائے۔ انہوں نے دریاؤں کے کنارے دفعہ 144 کے نفاذ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ یقینی بنائیں اور تمام ادارے آپس میں مضبوط رابطہ رکھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیلاب و گلف سے بچاؤ کی حکمت عملی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام افسران کی ذمہ داریوں کی کڑی نگرانی ہوگی۔

محکمہ ایکسائز کی پشاور میں کارروائیاں، 1005 گرام آئس اور شراب برآمد، ملزمان گرفتار

محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا نے تھانہ ایکسائز پشاور ریجن کے تحت منشیات کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں آئس اور شراب برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔محکمہ سے موصولہ تفصیلات کے مطابق تھانہ ایکسائز پشاور ریجن نے خفیہ اطلاع پر ایچ گول چوک پشاور کے قریب کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص سے تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے 1005 گرام آئس برآمد ہوئی۔ ملزم کی شناخت مشتاق احمد ولد محمد شاہد، سکنہ باڑہ کے نام سے ہوئی، جسے موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ملزم کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔دریں اثناء، ایک اور کارروائی کے دوران ایکسائز ٹیم نے 3 بوتل شراب برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ اس حوالے سے بھی مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔محکمہ ایکسائز حکام کے مطابق منشیات کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت سنٹر ریجن میں جاری اور مجوزہل ترقیاتی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس پیر کے روز صوبائی وزیر کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت سنٹر ریجن میں جاری اور مجوزہل ترقیاتی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس پیر کے روز صوبائی وزیر کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف انجینئر سنٹر امجد شمشیر نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو سنٹر ریجن میں جاری ترقیاتی منصوبوں، تکمیل کے قریب سکیموں اور نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت مجوزہ منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف انجینئر سنٹر نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس موقع پر ہدایت جاری کی کہ تمام جاری سکیموں پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے اور ان میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تکمیل کے قریب سکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات فراہم کیے جا سکیں۔ صوبائی وزیر نے افسران کو تاکید کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور جاری منصوبوں کی خود نگرانی کریں۔فضل شکور خان نے نئے اے ڈی پی منصوبوں کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ ایسے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شامل کیے جائیں جو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں اور پائیدار حل فراہم کریں۔ انہوں نے شفافیت، میرٹ اور موثر نگرانی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں تاکہ صوبے بھر میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں۔

پی کے 26 بونیر کے علاقے پرشالئی میں کمیونٹی حجروں کا افتتاح کیا گیا

خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے حلقہ نیابت پی کے 26 بونیر کے علاقے پرشالئی میں تین مختلف مقامات پر کمیونٹی حجروں کے قیام کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔یہ عوامی فلاحی منصوبے صوبائی وزیر کے ترقیاتی فنڈ سے مکمل کیے گئے ہیں۔افتتاحی تقریبات میں صوبائی وزیر سید فخر جہان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ مقامی عمائدین و مشران کے ہمراہ فیتہ کاٹ کر ان عوامی مراکز کا افتتاح کیا گیا۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان کے بھائی اور ضلعی رہنما احمد خان، بخراد خان، وقارالملک خان، قیصر علی ایڈووکیٹ، ارشاد عالم سمیت تحریک انصاف کے دیگر قائدین بھی موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید فخر جہان نے کہا کہ کمیونٹی حجرے ہماری ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کا اہم حصہ ہیں جہاں عوامی مسائل کے حل، مشاورت اور باہمی روابط کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایسے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے جو براہِ راست عوام کو سہولت فراہم کریں اور مقامی سطح پر سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں۔مقامی مشران نے صوبائی وزیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سید فخر جہان علاقے کی تاریخ میں پہلے رکن اسمبلی ہیں جو حلقہ پی کے 26 کے ہر گاؤں کی یکساں ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے ان عوامی و روایتی ثقافتی منصوبوں پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔مقامی زعماء کا کہنا تھا کہ علاقے میں عمران خان کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت اور صوبائی وزیر سید فخر جہان کی سرپرستی میں مختلف شعبہ جات میں نمایاں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔دریں اثناء، صوبائی وزیر نے مقامی قیادت کے ہمراہ گاؤں امنور، نری تنگی اور غوحدرہ کا خصوصی دورہ کیا جہاں انہوں نے مقامی عمائدین، معززین اور پارٹی کارکنان سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل سنے۔ صوبائی وزیر نے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو مسائل کے فوری حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔صوبائی وزیر نے دورے کے دوران گاؤں امنور علیخا میرہ میں ایک بڑی شمولیتی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جس میں عوامی ورکرز پارٹی تحصیل چغرزی کے صدر اور جماعت اسلامی کے اہم رکن صفدر خان نے اپنے خاندان اور عزیز و اقارب سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا پشاور زلمی کی پاکستان سپر لیگ کا فائنل جیتنے پر مبارکباد

پاکستان سپر لیگ 11 میں پشاور زلمی نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا، شفیع جان

پشاور زلمی کے کھلاڑیوں نے محنت، جذبے اور ٹیم ورک سے پاکستان سپر لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا، شفیع جان

محنت اور لگن سے ہر میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، شفیع جان

پاکستان میں نوجوان ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ایسے ایونٹس کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، شفیع جان

کھیلوں کے فروغ سے مثبت سرگرمیوں کو تقویت ملتی ہے، شفیع جان

صوبائی حکومت نوجوان ٹیلنٹ کی تلاش اور نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، شفیع جان

Provincial Government Introducing Interest-Free Loan Scheme for Journalists, CM’s aide on information

Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, has said that the Khyber Pakhtunkhwa government firmly believes in free and responsible journalism and has placed the welfare of journalists among its top priorities.

He stated that the seed money of the endowment fund established for the welfare of journalists has been doubled to enable more journalists to benefit from it.

Shafi Jan further said that a special grant of Rs. 400 million has been approved for the payment of outstanding advertisement dues to newspapers, while an additional Rs. 400 bmillion will be released in the upcoming budget. He clarified that the payment of these dues to newspapers is being made conditional upon the clearance of journalists’ salaries and dues to ensure protection of their rights.

He added that the provincial government, under the leadership of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi, is also introducing an easy interest-free loan scheme for journalists.
He expressed these views while addressing a ceremony held at the National Press Club Islamabad in connection with World Press Freedom Day, organized by the Pakistan Federal Union of Journalists.

The Special Assistant said that the current federal government’s attitude towards journalists is regrettable. Actions are being taken against journalists under laws such as the PECA Act, and prominent journalists are being taken off air. He paid tribute to the martyred journalists who sacrificed their lives for press freedom.

He said that there is complete political and media freedom in Khyber Pakhtunkhwa, and criticism of any government member, including the Chief Minister, is fully allowed without any punitive action. He added that political parties have full freedom to hold gatherings, whereas in other provinces, Pakistan Tehreek-e-Insaf is being restricted from political activities.

He further said that during the general elections, election results were changed through Form 47; however, despite this, the party continues to enjoy public trust.

KP Leads in Good Governance with Record 52 Cabinet Meetings: Muzzammil Aslam

Advisor to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Finance Muzzammil Aslam has issued an important statement regarding cabinet meetings and good governance, stating that Khyber Pakhtunkhwa has surpassed other provinces in good governance. Compared to other provinces, the Khyber Pakhtunkhwa cabinet has held the highest number of meetings. He said that since February 8, 2024, a total of 52 cabinet meetings have been held in Khyber Pakhtunkhwa, while the Punjab government has held 32 meetings. Similarly, according to an estimate, Sindh has held between 40 to 50 meetings, whereas Balochistan has held fewer than 30. He added that the Khyber Pakhtunkhwa government believes in revolutionary reforms and initiatives.

وزیر ایکسائز سید فخرجہان کا ضلع بونیر میں تحصیل گاگرا ٹی ایم اے کیلئے جدید سینیٹیشن مشینری فراہمی منصوبے کا افتتاح

خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول نے اتوار کے روز ضلع بونیر میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن گاگرا کیلئے جدید سینیٹیشن مشینری فراہمی منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔
تحصیل سطح پر شہری علاقوں کی صفائی وستھرائی کیلئے اس اہم سینیٹیشن منصوبے پر مجموعی طور پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے لاگت آئی ہے جس کے تحت جدید گاڑیاں اور مشینری خریدی گئی ہے تاکہ صفائی کے نظام کو مؤثر اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔افتتاحی تقریب میں تحصیل میونسپل افیسر امیر عالم خان، پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے بھائی احمد خان،سابق سپیکر تحصیل گاگرا وقارالملک خان اورقیصر علی ایڈوکیٹ موجود تھے۔
اس موقع پر افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید فخرجہان نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی خدمت، شفافیت اور گڈ گورننس کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے صوبے میں ترقیاتی عمل کو تیز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف بلدیاتی نظام کی بہتری کی عکاسی کرتا ہے بلکہ بانی چیئر مین عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کی عملی مثال بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی ایم اے گاگرا کیلئے جدید سینیٹیشن مشینری کی خریداری و فراہمی ایک اہم سنگِ میل ہے جس سے عوامی سہولت میں آسانی آئے گی اور صفائی کے نظام کو مزید مؤثر، منظم اور پائیدار بنایا جائے گا۔جدید مشینری کی دستیابی سے کچرے کی بروقت منتقلی اور محفوظ تلفی ممکن ہوگی جس کے نتیجے میں شہری علاقوں میں صفائی کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی اور عوام کو بہتر بلدیاتی سہولیات میسر آئیں گی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی وژن کے تحت ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ہر شہری کو یکساں سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس طرح کے عوامی منصوبوں کا سفر حلقے میں جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ماحولیاتی آلودگی میں کمی، صحتِ عامہ کے تحفظ اور ایک صاف ستھرے معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفافیت اور مؤثر سروس ڈلیوری کے ذریعے عوامی خوشحالی کیلئے حلقے میں ایسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔

CM’s aide on Information Shafi Jan’s message on World Press Freedom Day

Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, in his message on the occasion of World Press Freedom Day on 3rd May,has said that free and responsible journalism forms the foundation of any democratic society and plays a vital role in promoting transparency, accountability, and public awareness.
He emphasized that access to reliable information, along with the role of media in fostering dialogue and mutual trust, is of paramount importance for peace, economic stability, sustainable development, and the protection of human rights.
Shafi Jan noted that in the present era, while the speed of information dissemination has increased significantly, challenges such as fake news, propaganda and the misuse of artificial intelligence are also emerging, which undermine public trust.
He also expressed concern over the growing pressures on press freedom worldwide. He further stated that the threats and economic hardships faced by journalists require urgent attention.
The Special Assistant reaffirmed that the Government of Khyber Pakhtunkhwa remains committed to safeguard press freedom, ensuring the protection of journalists, and promoting their professional rights, and is taking all possible steps in this regard.
He also paid tribute to journalists who sacrificed their lives in the line of duty, stating that their services and sacrifices will always be remembered with respect and honor.

صوبائی کابینہ کا 52واں اجلاس

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری ڈرون حملوں اور وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کا اجلاس خصوصی طور پر مسلسل ڈرون حملوں کے خلاف بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سمجھتی ہے کہ ڈرون حملے اور فوجی آپریشنز، جن کے نتیجے میں کولیٹرل ڈیمیج ہو رہا ہے، صوبے کی عوام کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام میں انتقام کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جو پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کولیٹرل ڈیمیج کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا مسلسل ضیاع ہو رہا ہے جس کی صوبائی حکومت شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اجلاس کا دوسرا مقصد صوبے کے حقوق پر ڈاکے اور وفاق کی جانب سے مسلسل ناانصافی کے خلاف مؤثر لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ صوبائی کابینہ نے صوبے کو درپیش گیس بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہے، جس سے کمرشل سرگرمیاں اور سی این جی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جبکہ گھریلو صارفین بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت قدرتی وسائل پر پہلا حق اسی صوبے کا ہے جہاں وہ پیدا ہوتے ہیں، تاہم اس آئینی تقاضے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ اپنی ضرورت سے زائد 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس وفاق اور دیگر صوبوں کو فراہم کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود مقامی، کاروباری اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بند ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی شیئر، بقایاجات، گندم، گیس اور بجلی سمیت متعدد شعبوں میں خیبر پختونخوا کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے جبکہ پنجاب کی جانب سے گندم کی فراہمی بھی روکی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا گیس، بجلی، معدنیات اور جنگلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر کے ملک کی خدمت کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کے ساتھ امتیازی رویہ رکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر گیس کا مسئلہ دو دن کے اندر حل نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر بھرپور احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام، بزنس کمیونٹی، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ کھڑی ہوگی اور مشترکہ احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف بھی بھرپور عوامی ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کل قبائلی مشران اور تمام سیاسی جماعتوں کا لویہ جرگہ طلب کیا گیا ہے جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو صوبائی حکومت سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی کابینہ کے 52ویں اجلاس کے اہم فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ نے ماحولیاتی تحفظ، اقلیتی فلاح، آبپاشی، صحت، تعلیم، بلدیات اور غذائی تحفظ سے متعلق کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا کلائمیٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی، جس کا مقصد خیبرپختونخوا کلائمیٹ کونسل کے ذریعے کلائمیٹ ایکشن بورڈ کی نگرانی اور مؤثر رہنمائی کو یقینی بنانا ہے۔ اس ترمیم کے تحت ہنگامی صورتحال، بحالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ متاثرہ علاقوں میں بروقت بحالی اور تعمیرِ نو ممکن بنائی جا سکے۔

شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے وزیراعلیٰ ڈیجیٹل انکلوژن پروگرام برائے اقلیتی طلبہ کے لیے 11 کروڑ 25 لاکھ روپے کی خصوصی گرانٹ کی منظوری دی۔ اسی طرح دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتوں کے لئے قائم انڈومنٹ فنڈ کی رقم 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 30 کروڑ روپے کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خصوصی رعایت دیتے ہوئے مردان، نوشہرہ اور ہری پور میں مختلف واقعات کے متاثرین کے لیے امدادی پیکج منظور کیا، جس کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 10 لاکھ روپے فی کس ادا کیے جائیں گے۔

کابینہ نے خیبرپختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 16 کروڑ 81 لاکھ روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ بہائی برادری کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ 1872 کے تحت دو میرج رجسٹرار مقرر کرنے اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے لیے مختلف کیڈرز کی چھ نئی آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی۔

شفیع جان کے مطابق کابینہ نے خیبرپختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے مالیاتی قواعد 2026، خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کے سروس رولز و ضوابط میں ترمیم اور مزید سکول لیڈرز کی کنٹریکٹ بنیادوں پر دوبارہ تعیناتی کی بھی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ سائنسز (فاؤنٹین ہاؤس) پشاور کو ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کا زیلی ادارہ قرار دینے کی منظوری دی۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ پر تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے محکمہ زراعت کو مالاکنڈ ڈویژن میں ٹمپریٹ رائس ریسرچ اسٹیشن قائم کرنے کے لیے اراضی کی منتقلی کی بھی منظوری دی۔

شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے مینگورہ سوات میں میاں گل عبدالحق جہانزیب کڈنی ہسپتال کو جدید کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر بنانے کے لیے 18 کروڑ روپے اضافی گرانٹ کی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے جدید طبی سہولیات فراہم ہوں گی اور مریضوں کو اپنے علاقے میں ہی گردوں کی پیوندکاری کی سہولت میسر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے عوام کو پیدائش، وفات، شادی، طلاق اور دیگر اہم اندراجات کی آن لائن رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ فراہمی کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کی منظوری بھی دی ہے۔

غذائی تحفظ کے حوالے سے شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے سرکاری شعبے سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے۔ گندم کی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی 40 کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ اس خریداری پر مجموعی طور پر 19 ارب 68 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔