Home Blog Page 258

74 کنال زمین پر بغیر کسی سرکاری دستاویزات کے مکان تعمیر کر کے قبضہ کر لیا گیا ہے، پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی، شہری کی آر ٹی ایس کمیشن کو درخواست

ڈی پی او ایبٹ آباد کو رپورٹ جمع کروانے کے احکامات جاری۔ شہری سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، درخواست دے کر حاضر نہیں ہوتے، جج محمد عاصم امام

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں دو شہریوں کی شکایت کی شنوائی ہوئی۔جج محمد عاصم امام نے شہریوں کی شکایت سنیں۔ ایبٹ آباد سے ایاز سرور نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ شہری کمیشن کے سامنے حاضر ہوا اور تمام ریکارڈ بشمول تصاویر اور ویڈیوز کمیشن کو پیش کیں۔ شہری کا کہنا ہے کہ اس کی 74 کنال 14 مرلے زمین لیز پر لیکر، قانونی کاروائی پوری کیے بغیر، انکی مرضی کے خلاف قبضہ کر لیا گیا ہے اور زمین سے معدنیات نکالی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غیر قانونی مایئنگ کی وجہ سے سرکار کو تقریباً ڈھائی کروڑ روپے روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کام بند کرنے کے احکامات جاری ہونے کے باوجود مسلسل کام ہو رہا ہے۔ ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن لیز ہولڈر کسی بھی فورم پر حاضر نہیں ہوتا، قانونی طور پر یہ قبضہ تجاوزات کے ذمرے میں آتا ہے۔ پولیس کے پاس گیا وہ ایف آئی آر درج نہیں کروا رہی۔ کمیشن نے ڈی پی او ایبٹ آباد کو مکمل انکوائری رپورٹ ایک مہینے کے اندر کمیشن کو جمع کروانے کے احکامات جاری کر دیئے۔اسی طرح پشاور سے تعلق رکھنے والے ضیاء الدین نامی شہری نے بھی کمیشن کو ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست دی تھی۔ مسلسل تیسری بار غیر حاضری پر کمیشن نے انکی درخواست کو خارج کر دیا۔ جج محمد عاصم نے کہا کہ شہری کی مشکلات کے ازالے کے لئے آر ٹی ایس کمیشن بنا ہے۔ شہریوں کو شکایت ہوتی ہیں کہ انکو سننے والا کوئی نہیں لیکن شہری بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے، درخواست دے کر حاضر نہیں ہوتے۔ کمیشن بروقت خدمات کے فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی عبدالکریم تورڈھیر نے ڈی سی نوشہرہ کے ہمراہ ایکسپو کا افتتاح کیا

نمائش میں سائنس، آئی ٹی، اور ای کامرس سے متعلق جدید تخلیقی منصوبے پیش کئے گئے

یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ میں مقامی ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے SCIE-TECH 2024 ایکسپوکا انعقادکیا گیا جس میں سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای-کامرس، اور فنی تعلیم کے شعبوں میں جدید تخلیقی منصوبوں کی نمائش کی گئی۔مذکورہ ایکسپو کا مقصد طلباء، موجدین، اور صنعت کے ماہرین کو ان کے شعبوں میں کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے حوالے سے ایک ہی جگہ پر اکھٹا کرنا تھا۔ایکسپو کا باضابطہ افتتاح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر اورڈپٹی کمشنر نوشہرہ عرفان اللہ محسود نے کیا جبکہ وائس چانسلر نے افتتاحی تقریب میں خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مستقبل کے موجدین کی تشکیل میں تکنیکی تعلیم کے کردار پر روشنی ڈالی۔سائنس اور تیکنیکی علوم و مہارت کے امتزاج پر مبنی اس اہم ایکسپو میں طلباء نے سائنس، آئی ٹی، اور ای-کامرس میں جدید منصوبے پیش کیے اور ماہرین کے ایک پینل نے ان کا جائزہ لیا۔اسی طرح تخلیقی صلاحیتوں کے شاہکار اور اعلیٰ معیار پر پورا اترنے والے بہترین تین منصوبوں کو انعامات سے بھی نوازا گیا۔ایکسپو کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے معاون خصوصی نے خطاب کرتے ہوئے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا اور انکی سائنسی، تخلیقی اور تحقیقی سعی کو نکھارنے اور اجاگر کرنے کیلئے اس نمائش کو ایک اہم قدم قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ فنی تعلیم کی اکڈیمیااور انڈسٹری کے مابین روابط انتہاء ضروری ہیں کیونکہ آج کی دنیا کی ضروریات اور انڈسٹری کی طلب کے مطابق ہی ہمیں اپنی نوجوان نسل کو تیار کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ تیکنیکی اداروں سے محض ڈگری ہولڈرز گریجویٹس کی فراغت ہمارا مطمع نظر نہیں بلکہ ہماری کوشش ہے کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے طلبہ محض اسناد حاصل کرنے کی بجائے انڈسٹری کے معیار کے مطابق ہنر یافتہ ماہرین بھی ہوں اور وہ پریکٹیکل تربیت بھی حاصل کریں۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا”نیشنل ریزیلینس ڈے”پر پیغام

8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے دوران پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، یہ ایک دل دہلانے والہ سانحہ تھا لیکن پاکستان اور کشمیر کے عوام استقامت اور یکجہتی سے اس سانحے سے نمبرد آزما ہوئے. ہم ان تمام لوگوں کی بے لوث خدمات کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ایسی آفات کے وقت انتھک محنت کی، خصوصاً رضاکاروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کا جو قدرتی آفات کے دوران نسل انسانی کو محفوظ بنانے کے لئے فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات نہایت ضروری ہے کہ ہم مجموعی قومی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بہتر طریقے اپنائیں، آگاہی عام کریں، اور ملکر مضبوط خیبر پختونخوا اور پاکستان کے لئے اداروں کو مستحکم کریں. رب العالمین ہم سب کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھے،

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ

ُخیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مقامی سیاسی نمائندوں کے ساتھ مل کر ان تجاوزات کو ختم کیا جائے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ تمام ٹی ایم ایز کی جائیدادوں کو مارکیٹ ریٹ پر کرایا اور لیز پر دیا جائے، اور یہ بھی ہدایت کی کہ ٹی ایم ایز اپنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے اپنے آمدنی میں اضافہ کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع ایبٹ آباد میں محکمہ بلدیات کے زیر اہتمام مختلف اداروں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم این اے علی خان جدون، ایم این اے علی اصغر خان، سیکرٹری بلدیات داؤد خان، سیکرٹری ریجنل میونسپل آفیسر وحید الرحمان، محمد افضال، اور تحصیل چیئرمین ایبٹ آباد، لوئر تناول، لورہ اور حویلیاں سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔اجلاس میں ٹی ایم او ایبٹ آباد، حویلیاں، لوئر تناول، لورہ، سی ای او واسا اور ڈائریکٹر یو اے ڈی اے نے صوبائی وزیر کو محکموں کی کارکردگی، اخراجات، آمدن اور پراپرٹی کی تفصیلات کے بارے میں بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت ٹی ایم ایز کی پراپرٹی کے لیے نئی لیز اور کرایہ پالیسی لا رہی ہے، جو عوام اور اداروں دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگی۔انہوں نے تمام ٹی ایم ایز کو ہدایت کی کہ کسی بھی تعمیرات کے لیے نقشے کی منظوری لازمی قرار دی جائے، اور غیر قانونی تعمیرات کی رپورٹ فوری طور پر پیش کی جائے۔ انہوں نے جناح پلازہ ایبٹ آباد کی لیز اور کرایہ کو مارکیٹ ریٹ پر مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی، اور ٹی ایم ایز کی وہ پراپرٹی جس پر عدالت میں مقدمات زیر سماعت ہیں، ان کی تفصیلی رپورٹ فراہم کرنے کا حکم دیا۔اجلاس میں چونا واٹر پلانٹ اور کے پی سپ کے جاری منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ ٹی ایم اوز کو مشینری کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔بعد ازاں صوبائی وزیر بلدیات نے اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زیر نگرانی ایبٹ آباد ٹاؤن شپ کا دورہ کیا۔ انہوں نے ٹاؤن شپ کی ترقی کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے سڑکوں کی بہتری کے لیے 10 ملین روپے کا اعلان کیا، تاکہ علاقے کے رہائشیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ صوبائی وزیر نے ٹاؤن شپ میں تجاوزات کے خلاف فوری کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے۔

مشیر صحت احتشام علی کو صحت کی ترقیاتی سکیموں اور بجٹ بارے بریفنگ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی کو محکمہ صحت میں جاری ترقیاتی منصوبوں بارے چیف پلاننگ آفیسر قیصر عالم نے بریفنگ دی۔مشیر صحت نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں میں پایہ تکمیل کے قریب منصوبوں کی تکمیل کو مقدم رکھنا ہے تاکہ ان کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوجائیں۔ انہوں نے ہدایات دیں کہ منصوبوں پر کام تیز کیا جائے اور انھیں جلد سے جلد عوام کیلئے کھول دیا جائے تاکہ عوام کے پیسوں پر بننے والے منصوبے عوام کی دسترس میں آجائیں۔ چیف پلاننگ آفیسر نے بتایا کہ محکمہ صحت کے 120 منصوبوں کیلئے 147 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 95 بندوبستی اضلاع کے منصوبوں کیلئے 114 ارب، ضم اضلاع کے 10 منصوبوں کیلئے 12 ارب اور تیز تر ترقیاتی پروگرام کے تحت 15 منصوبوں کیلئے 20 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک ان منصوبوں پر 57 ارب روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔ کچھ منصوبے مکمل ہوچکے ہیں اور افتتاح کیلئے تیار ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم سے چیف ایگزیکٹو آفیسر

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم سے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی شعیب جاوید حسین نے پشاورمیں ملاقات کی۔ اس موقع پرخیبرپختونخوا میں جاری صحت کارڈ کو مزید موثر بنانے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ ملاقات کے دوران ایڈیشنل چیف سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ و خزانہ خیبرپختونخوا اکرام اللہ خان، کنسلٹنٹ وقاص پراچہ، زونل چیف اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی فیاض نور سمیت صحت کارڈ کے حکام بھی موجود۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے سی ای او نے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کو بتایا کہ صحت کارڈ کی بائیو میٹرک فعالی کیلئے جلد اسٹیٹ لائف اور نادرہ کے درمیان معاہدہ کیاجائے گا جس کے تحت صحت کارڈ بہت جلد بائیو میٹرک میکنزم کے تحت چلایا جائے گا جس پر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بائیو میٹرک سسٹم کی فعالی سے صحت کارڈ کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ اس انقلابی منصوبے سے عوام کو مزید بہتر صحت سہولیات میسر ہو سکیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی صحت سہولیات کی بات ہوتی ہے تو صحت کارڈ کو بطور کیس سٹڈی لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ پلس میں کچھ دیگر بیماریوں کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کے ساتھ خیبرپختونخوا کے 10.2 ملین فیملیز رجسٹرڈ ہیں اور رواں سال صحت کارڈ کی مد میں 15 ارب روپے ریلیز کر چکے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ رواں ہفتہ صحت کارڈ کی مد میں مزید چار ارب روپے جاری کریں گے جس سے صحت کارڈ ریلیز 19 ارب روپے ہو جائے گی۔ ملاقات کے آخر میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم اور سی ای او اسٹیٹ لائف انشورنس حکام نے صحت کارڈ پلس میں مزید بہتری لانے پر اتفاق کا اظہار کیا۔

خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے 39ویں اجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کا 39واں اجلاس منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری خیبر پختونخوا ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ عنبر علی، ڈائریکٹر جنرل عمران وزیر اور محکمے کے دیگر افسران کے علاوہ متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پرسیکرٹری ہاؤسنگ نے اتھارٹی کے گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر اب تک کی پیش رفت سے متعلق معاون خصوصی کو آگاہ کیا۔ا جلاس میں سی پیک سٹی ہاؤسنگ سکیم کے لئے مختص اراضی کی مجاز حکام کو منتقلی کا معاملہ زیر بحث آیا جس کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ کے پی ایچ اے بورڈ اتھارٹی کو معاملہ ڈپٹی کمشنر نوشہر ہ کے ساتھ اٹھانے کا اختیار دے دے تاکہ مذکورہ اراضی کی ملکیت کا معاملہ نمٹاتے ہوئے کنٹریکٹر کے زریعے باقی اقدامات شروع کئے جا سکے۔ اس موقع پر رحمان بابا کمپلیکس کی باؤنڈری وال اور اس کے مین گیٹ کی تنصیب کے بارے میں بھی شرکائے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حیات آباد پشاور میں ہائی رائز فلیٹس کمرشل ایر یا اور ورسک ون سکیم میں باقی ماندہ فلیٹس کے ٹینڈرکی تشہیر کا عمل آخری مر حلے میں ہے جبکہ مختلف سکیوموں کے الاٹیز کے جانب سے بروقت اقساط ادا نہ کرنے پر جو جرمانے عائد کیے گئے تھے وہ بھی یکسر ختم کر دیئے گئے ہیں اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے ملازمین کے موجودہ سروس ریگولیشن 2022 میں بھی ضروری ترامیم کردی گئی ہیں۔ اس موقع پر معاون خصوصی ڈاکٹر امجد علی نے واضح ہدایت کی کہ ضرورت سے زیادہ ملازمین بھرتی نہ کیے جائیں تاکہ محکمے کے بجٹ پر اضافی بوجھ نہ پڑے اور کنٹریکٹ کا دورانیہ دو سالوں کی بجائے ایک سال کیاجائے اور ساتھ ہی پرانے ورکرز کو ہی بھرتیوں میں ترجیح دی جائے۔اس موقع پر سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ عنبر علی اور ڈائریکٹر جنرل عمران وزیر نے معاون خصوصی کو مزید بتایا کہ سی پیک سٹی نوشرہ کا کل رقبہ 80 کنال اور چھ موضہ جات پر مشتمل ہے جس میں تین موضے خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی نے ہاؤسنگ سکیم کے لیے مختص کئے ہیں اور باقی تین موضے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ادارے کو کاشت کی غرض کے لیے دئے جائیں گے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو صحیح سمت پر گامزن کرنے کے لیے اس میں ضروری اصلاحات شروع کی جا رہی ہیں جن سے محکمہ کی استعداد کار میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں عوامی منصوبوں کے لیے مختص فنڈزکو صاف و شفاف انداز میں ہر قسم کے سیاسی اثر و رسوخ سے بالا تر ہو کر منصفانہ انداز میں استعمال کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور میں آل ٹرائبل کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے ایک وفدسے ملاقات کے دوران کیا۔وفد میں چیئر مین آل ٹرائبل ایسوسی ایشن بادشاہ خان، جنرل سیکرٹری لائق مرجان،جائنٹ سیکرٹری عدنان حبیب ڈپٹی سیکرٹری جنرل ذوالفقار علی اور دیگر عہدہ داران شامل تھے۔ اس موقع پر آل ٹرائبل کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے وفدنے معاون خصوصی کو ضم اضلا ع میں ٹھیکیدار برادری کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ضم اضلاع کو وفاق نے ٹیکسوں سے چھوٹ دی ہے جبکہ کے۔پی۔ آر۔ اے صوبائی سطح پر ان سے دو فیصد ٹیکس لے رہاہے۔ وفد نے ضم اضلا ع میں عوامی منصوبوں کے لیے فنڈز کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھا نے کا مطالبہ کیا۔ جس پر معاون خصوصی نے آل ٹرائبل کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل کے حل کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے، انہوں نے بتایا کہ محکموں کے نظام کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے ا ہم اصلات کی جا رہی ہیں جن کی بدولت عوام جلد ہی نمایاں تبدیلی محسوس کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ مواصلات کے پاس تقریبا15 ارب روپے کی ملکیت کی اراضی ہے جس سے بہتر استفادے کے لئے منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ دستیاب فنڈز کو عوامی فلاح و بہبود کے لئے شفاف طریقے استعمال کیا جا رہا ہے اور مزید یہ کہ امور میں شفافیت کے لئے اقدامات کا آغاز کیا جا چکا ہے، انہوں نے کہا کہ ایسا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس سے بڑی بڑی فائلوں سے چھٹکارا ملے گا اور منظور نظر افراد کے نوازنے کی روایات کا بھی تدارک ہوگا۔اسی طرح محکمے میں ایڈیشنل چارج رکھنے کے عمل کا بھی سختی سے نوٹس لیا گیا ہے۔

لائیو سٹاک، ماہی پروری و کوآپریٹیو سوسائٹیز کی دو روزہ انٹرنیشنل لائیو سٹاک ایگری فشریز ایکسپو۔ 2024 آج بروز بدھ سے پشاور میں شروع ہورہی ہے

محکمہ لائیو سٹاک خیبر پختونخوا، لائیو سٹاک فارمز ویلفیئر ایسوسی ایشن اورلائیو سٹاک کوآپریٹیو سوسائٹیز کے زیر اہتمام لائیو سٹاک ایکسٹنشن اینڈ ڈیری سروسز کے تعاون سے دوسری سالانہ دوروزہ انٹرنیشنل لائیو سٹاک ایگری،فشریز میگا ایکسپو آج(9 اکتوبر 2024)کو پشاور میں شروع ہو رہی ہے جس کا افتتاح خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فیشریز و کوآپریٹیو سوسائٹیز فضل حکیم خان کریں گے۔ اس دو روزہ میگا ایکسپو کا انعقاد 9 اور 10 اکتوبر 2024 کوخیبر پختونخوا میں کیا گیا ہے۔ ایکسپو سے پیشہ ورانہ طور پر B2B اور B2C نمائش کا اہتمام کرنے والے مینو فیکچررر کی دیرینہ ضروریات بھی پوری ہوں گی اور اسے سمندر پار اور قومی سطح پر آنے والے متعلقہ ماہرین کے لئے پر کشش بنایا جا رہا ہے اسی طرح ایکسپو کے انعقاد کی بدولت معروف بین الاقوامی زرعی اور لائیو سٹاک ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ قومی مفاد کے تحت کاروباری امور طے کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ اس نمائش کی بدولت پورے پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔

اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی جانب سے خیبر پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنا غیر قانونی ہے، یہ عمل فیڈریشن کی اکائی پر حملہ ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

کامیاب احتجاج پر تمام پارٹی کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کامیاب احتجاج پر تمام پارٹی کارکنان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی کامیاب حکمت عملی کی بدولت پی ٹی آئی نے اپنا احتجاج پرامن طور پر ریکارڈ کرا دیا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے واضح کیا کہ پارٹی کی پالیسی ہے کہ رینجرز اور فوج کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں کی جائے گی اور واضح کیا کہ براہمہ باہتر انٹرچینج پر جعلی حکومت نے آرٹیکل 245 کے تحت رینجرز اور فوج کو تعینات کیا تھا۔ محاذ آراء سے بچنے اور ڈی چوک تک پہنچنے کے لیے مصلحت کے تحت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کچھ کارکنان کے ہمراہ سنگجانی انٹرچینج کے راستے ڈی چوک پہنچے، جہاں انہوں نے کارکنان سے خطاب بھی کیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ، ساتھیوں سے مشاورت اور اگلا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے پختونخوا ہاؤس گئے، لیکن جعلی حکومت نے وزیر اعلیٰ کی گرفتاری کے لیے غیر قانونی طور پر پختونخوا ہاؤس کا محاصرہ کیا اور چار مرتبہ چھاپے مارے۔ڈاکٹر سیف کے نے واضح کیا کہ جعلی حکومت نے سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ کی غیر قانونی گرفتاری کا منصوبہ بنایا تھا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہاؤس میں محفوظ مقام پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت نے عوام اور افواج پاکستان کے درمیان ٹکراؤ کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن پی ٹی آئی کی کامیاب حکمت عملی کے باعث رینجرز اور فوج کے ساتھ کوئی محاذ آرائی نہیں ہوئی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی جانب سے خیبر پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا اور اسے فیڈریشن کی اکائی پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا ہاؤس صوبائی حکومت کی ملکیت ہے اور جعلی حکومت کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے الزام لگایا کہ جعلی حکومت خیبر پختونخوا کی حکومت کے خلاف فسطائیت کے ہر حربے کا استعمال کر رہی ہے، لیکن ہم اس غیر قانونی اقدام کے خلاف عدالت میں جائیں گے اور عوام کیلئے حقیقی انصاف حاصل کریں گے۔