Home Blog Page 258

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سیدو شریف میں مریضوں کو جدید اور معیاری علاج کی سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہسپتال کے عملے پر زور دیا کہ وہ خدمت خلق کو عبادت سمجھ کر اپنے فرائض سرانجام دیں اور مریضوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے دورہ کے موقع پر کیا۔ دورے کے دوران صوبائی وزیر نے زیر تعمیر کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کا معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جمیل احمد، خلیل احمد، چیئرمین و پی ٹی آئی سٹی صدر حیدر اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے ہسپتال میں مریضوں کی سہولت کے لیے درجنوں ویل چیئرز کا افتتاح کیا اور یہ سہولیات ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیں۔ ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں ان ویل چیئرز کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ فضل حکیم خان نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات اور وارڈز کا دورہ کیا، مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کی اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے مریضوں کی شکایات اور تجاویز کو بغور سنا اور فوری اقدامات کی یقین دہانی کروائی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر کے زیر صدارت جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان (HODs) نے شرکت کی۔ اجلاس میں دماغی فالج (Stroke) کے مریضوں کے لیے تھرومبولائٹک تھراپی، پلازما فریسس مشین اور منشیات کے عادی مریضوں کے علاج کے لیے صحت کارڈ پر فراہمی جیسے اہم دیگر امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایچ او ڈی ڈاکٹر واصل خان نے تھرومبولائٹک تھراپی کی اہمیت پر بریفنگ دی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ تھراپی عام طور پر اُن فالج کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جو دماغ کی شریان میں خون کے لوتھڑے بننے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس تھراپی میں ایک مخصوص دوا دی جاتی ہے، جو عموماً انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔ یہ دوا خون کے لوتھڑے کو گھلا کر شریان میں خون کی روانی بحال کر دیتی ہے۔ تاہم، یہ تھراپی صرف اُس وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اسے علامات ظاہر ہونے کے تقریباً تین گھنٹوں کے اندر اندر دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھرومبولائٹک تھراپی کو صحت کارڈ پر فراہم کیا جائے، جسے صوبائی وزیر نے سراہا۔ فضل حکیم خان نے اجلاس کے دوران ضروری فیصلے کیے اور کہا کہ وہ ان سہولیات کی منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈاپور سے جلد ملاقات کریں گے تاکہ سوات کے عوام کو مزید جلد از جلد معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ اختتام پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صحت کے شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور ہر شہری کو برابر کی بنیاد پر علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت امیر و غریب کے درمیان کسی قسم کا فرق نہیں رکھتی۔

صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کی ٹل اور ہنگو میں عوامی آگاہی مہمات

صوبائی محتسب خیبر پختونخوانے حال ہی میں تحصیل ٹل اور ہنگو میں عوامی آگاہی مہمات منعقد کیں۔ ان مہمات کا مقصد شہریوں کو صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے کردار اور عوامی شکایات کے حل کے بارے میں معلومات فراہم کرنا تھا۔تحصیل ٹل میں ٹی ایم اے آفس میں منعقدہ مہم میں تحصیل چیئرمین، اسسٹنٹ کمشنر، ٹی ایم اوز اور مقامی کونسلرز نے شرکت کی۔ شرکاء نے صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اس مہم کے ذریعے صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے 2011 میں قیام کے باوجود پہلی بار اس کے کام کے بارے میں آگاہی ملی، جو کہ خوش آئند ہے۔اسی طرح، 22 اپریل کو گورنمنٹ ڈگری کالج ہنگو میں کالج پرنسپل، اساتذہ اور طلباء نے آگاہی سیشن میں حصہ لیا۔ طلباء نے بتایا کہ صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے بارے میں علم نہ ہونے سے ان کے کئی کام رکے ہوئے تھے، اور انہوں نے کالج میں ادھورے تعمیراتی کام سمیت دیگر مسائل صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے نوٹس میں لانے کا عزم کیا۔ انہوں نے اس مہم کو صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے ادارے کے بارے میں جاننے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔دونوں مہمات میں شرکاء میں معلوماتی پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے۔ یہ مہمات عوام کو ان کے حقوق سے آگاہی اورصوبائی سرکاری اداروں کے بارے میں شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے کردار کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہیں۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت گورننس اور ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا، جس میں صوبے میں گورننس اقدامات اور ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور اہم منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔چیف سیکرٹری نے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور مؤثر نفاذ کو بہتر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ بدھ تک اپنے منصوبوں کی تفصیلات ٹریکنگ شیٹ سسٹم پر اپڈیٹ کریں، بصورت دیگر ذمہ دار پلاننگ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔اجلاس میں محکموں کے مالی اخراجات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ مختص بجٹ اور جاری کردہ فنڈز کے مطابق جلد از جلد اخراجات یقینی بنائے جائیں تاکہ عوامی فلاح کے اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔شمالی سیکشن رنگ روڈ کے ’مسنگ لنک‘ منصوبے سے متعلق بتایا گیا کہ اسے ای پیڈز میں شامل کر لیا گیا ہے اور فنانشل بڈ کا عمل آج مکمل کیا جا رہا ہے۔ چیف سیکرٹری نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بنانے کیلئے ادارے میں اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا۔اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سرمایہ کاری کے لئے مختلف شعبوں کے منصوبوں پر مشتمل ’پچ بک‘ پر کام کیا جارہا ہے جس کے ذریعے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے گا۔صوبے میں ڈیجیٹل گورننس کی طرف پیش رفت کرتے ہوئے ای آفس سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر سات محکموں میں ای سمری سے آغاز کرتے ہوئے مشق اور تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا نفاذ 30 مئی سے کردیا جائے گا۔ جبکہ ای پروکیورمنٹ کیلئے بنائے گئے ای پیڈز سسٹم میں اب تک 706 ٹینڈرز اپلوڈ کیے جا چکے ہیں۔ ای پیڈز سسٹم کے اجراء سے شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آرہی ہے۔سیاحت کے فروغ کے لیے محکمہ سیاحت کو ہدایت دی گئی کہ سیاحتی مقامات کے ماسٹر پلان اور لینڈ یوز پلان سے متعلق منصوبہ بندی میں تمام شراکت داروں کو شامل کیا جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام سیاحتی مقامات پر ہوٹل اور دیگر کاروباروں کے نکاسی آب کا نظام حکومتی قوانین اور اصولوں کیمطابق ہو تاکہ ماحول کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے اور پائیدار سیاحتی کاروباری مواقع فروغ پائیں۔ چیف سیکرٹری نے اس بات پر زور دیا کہ ماسٹر پلان کی تیاری میں مقامی شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں ”خیبرپختونخوا گورننس روڈ میپ” کا بھی جائزہ لیا گیا، جو کہ گورننس، ترقی اور سیکیورٹی سے متعلق ترجیحات اور عملی منصوبہ بندی پر مشتمل ہے، گورننس روڈ میپ کے ذریعے عوامی خدمات کی جلد اور مؤثر فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ اس کے تحت ہر محکمہ اپنی ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرے گا اور ان شعبوں میں اہداف کے حصول کے لئے ایکشن پلان ترتیب دیا جائے گا۔ ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے ٹائم لائنز رکھے جائیں گے۔

کریٹیو وینگ نے حکومتی بیانیہ کو بہتر انداز میں پیش کیا، سیکرٹری محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، محمد خالد

پاک بھارت جنگ کے دوران کرئیٹو ونگ کی غیر معمولی خدمات کی پذیرائی

پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا کے 24 گھنٹے فعال ایمرجنسی انفارمیشن مینجمنٹ ڈیسک میں کرئیٹو ونگ کی شاندار کارکردگی کو سراہنے کے لیے سیکرٹری اطلاعات وتعلقات عامہ کے دفتر میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری محمد حیات خان، پریس رجسٹرار انصار خلجی اور ڈائریکٹر کرئیٹو ونگ ڈاکٹر دانش بابر سمیت وینگ کے ممبران نے شرکت کی۔ اس موقع پرسیکرٹری محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ محمد خالد نے ایمرجنسی کے دوران کرئیٹو ونگ ٹیم کو اس کی پیشہ ورانہ خدمات اور بھر وقت معیاری پروڈکشن پر تعریفی سرٹیفکیٹس سے نوازا۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات محمد خالد کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران کرئیٹو ونگ نے نہ صرف حکومتی بیانیہ کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بروقت اور موثر انداز میں پیش کیا بلکہ معیاری مواد کی تیاری اور پروڈکشن میں بھی کلیدی کردار ادا کیا، جو قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے ٹیم کے عزم، تخلیقی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کو خراج تحسین پیش کیا۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی چمکنی خودکش حملے کی مذمت، شہداء کو خراج عقیدت

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی چمکنی خودکش حملے کی مذمت، شہداء کو خراج عقیدت
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے چمکنی میں پولیس موبائل وین پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واقعے میں شہید ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی ہے۔چیف سیکرٹری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس نے ہمیشہ قوم کے تحفظ اور امن کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، قوم ان ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔حکومت شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی تاکہ امن دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔گزشتہ مہینوں کے دوران خیبرپختونخواہ پولیس نے دہشت گردوں کے خلاف تیز و مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے نہ صرف ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا بلکہ ریاست کی رٹ کو بھی مضبوط کیا

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے رکن قومی اسمبلی

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے رکن قومی اسمبلی اور سابق سپیکر اسد قیصر کے ہمراہ باچاخان میڈیکل کمپلیکس شاہ منصور صوابی میں جدید لیبارٹری کے اپگریڈیشن اور ٹیوب ویل سولرائزیش کے منصوبوں کا افتتاح کیا۔اس موقع پرہسپتال انتظامیہ کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقین موجود تھے۔ منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ لیب کی اپگریڈیشن ایم ٹی آئی ہسپتال میں جدید سہولتوں کے سلسلے میں ایک اہم اقدام ہے جس سے ہسپتال میں مختلف طبی تجزیوں کے حوالے سے سہولیات میسر آسکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ٹیوب ویل کی سولرائزیشن بھی ایک اہم منصوبہ ہے جو صوبائی حکومت نے سرانجام دیا۔انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور ہماری حکومت آنے کے بعد ہم نے نہ صرف بند کیا ہوا صحت کارڈ سہولت دوبارہ شروع کیا بلکہ اس میں مزید سہولتیں بھی شامل کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں تعمیر وترقی کا سفر جاری رہے گا اور اس ضمن میں ہر شعبے کو ترجیح دی جائے گی۔

قائد عمران خان کو فی الفور رہا کیا جائے، فضل حکیم خان

وطن عزیز پاکستان ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے،صوبائی وزیر
ملک کی حفاظت ہمارا قومی، دینی اور اخلاقی فرض ہے،فضل حکیم خان
صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے گرین چوک مینگورہ میں عمران خان کی رہائی کیلئے منعقدہ پرامن احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ عمران خان کی گرفتاری نہ صرف قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے عوام کے جمہوری حق کی توہین بھی ہو رہی ہے۔ آج جب ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ قوم کو ایک ایسے رہنما کی اشد ضرورت ہے جو دیانت، جرأت اور عوامی خدمت کا نشان ہو۔ عمران خان کی رہائی نہ صرف انصاف کی بحالی ہوگی بلکہ یہ سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے جب ملک کے سب سے مقبول اور عوامی لیڈر سابق وزیر اعظم عمران خان کو غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے گرفتار کیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار، عدالتی خودمختاری اور سیاسی آزادی پر ایک سنگین حملہ بھی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری نے ملک بھر میں عوامی غصے اور اضطراب کو جنم دیا۔ قوم کے ہر طبقے نے اس غیر قانونی اقدام کی مذمت کی اور سوال اٹھایا کہ ایک قانون پسند اور عوامی قائد کو اس طرح زبردستی گرفتار کرنا کون سے قانون اور انصاف کے دائرے میں آتا ہے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام گرین چوک مینگورہ سوات میں بڑے پُرامن احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ڈاکٹر امجد علی، سلطان روم، محمد نعیم خان، حمید الرحمان، مئیر تحصیل بابوزئی شاہد علی خان، تحصیل چیئرمین کبل سعید خان، تحصیل چیئرمین بحرین میاں شاید علی اور بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کارکنوں، یوتھ، آئی ایس ایف اور عوام نے بھی شرکت کی۔ مظاہرے کی قیادت صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے کی۔ انہوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا منشور آئین، قانون، عوامی حقوق اور شفاف جمہوریت پر مبنی ہے اور اسی نظریے کی حفاظت کے لیے سوات کے عوام سڑکوں پر نکلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی غیر آئینی گرفتاری عوام کی رائے اور ووٹ کی توہین ہے جو کسی صورت قبول نہیں، ہم سیاسی انتقام، آئین شکنی اور جمہوری اقدار کی پامالی کے خلاف ہیں۔یہ احتجاج اسی قومی جدوجہد کا حصہ ہے جو پاکستان کو ایک آزاد، خوددار اور قانون پر مبنی ریاست بنانے کے لیے جاری ہے۔ فضل حکیم خان نے کہا کہ پُرامن احتجاج عوام کا آئینی حق ہے اور خیبرپختونخوا کے عوام، بالخصوص سوات کے باشعور شہری اس جدوجہد میں عمران خان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قومی یکجہتی، اداروں کی آئینی حدود اور جمہوری استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔ عمران خان کی رہائی ملک کے سیاسی و معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے تمام کارکنان پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور ہر ایسے اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہیں جو ریاستی طاقت کے غلط استعمال اور جمہوری اصولوں کی پامالی پر مبنی ہو۔ فضل حکیم خان نے مزید کہا کہ وطن عزیز پاکستان ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے اس سر زمین کے ایک ایک ذرے کی حفاظت ہمارا قومی، دینی اور اخلاقی فرض ہے ہماری عظیم اور بہادر افواج خصوصاً پاک فضائیہ نے جس جرات و دلیری سے حالیہ دنوں میں دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا، وہ لائق تحسین اور باعث فخر ہے۔ دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر پاک فضائیہ نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کا دفاع ہر حال میں ناقابل تسخیر ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمن کی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ قوم اپنے سپاہیوں، شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور عہد کرتی ہے کہ ہم ہر قیمت پر اپنے ملک کا دفاع کریں گے۔

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے 10 مئی کو بنوں میں منعقدہ ایٹا کے

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے 10 مئی کو بنوں میں منعقدہ ایٹا کے اسکریننگ ٹیسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک ہونے کے واقعے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کے نوٹس کا خیر مقدم کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی مخالفین نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف بے بنیاد اور مذموم پراپیگنڈا شروع کر رکھا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس معاملے میں گرفتار ہونے والے افراد میں شامل ایک شخصیت کا تعلق مخالف سیاسی جماعت سے ہے جو سیاسی میدان میں شکست کے بعد اب اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پشاور میں موجود ایک ہارا ہوا شخص جو خود کو آئینی عہدے دار ظاہر کرتا ہے اور ایک بڑے سرکاری گھر پر قابض ہے، وہ بھی ان عناصر کا سہارا لے رہا ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جس گیسٹ ہاؤس پر چھاپہ مارا گیا اس کے مالک کا تعلق بھی اس جماعت سے ہے جو خود کو قانون کی بالادستی کا دعویدار بتاتی ہے اور وہ جماعت کے صوبائی کونسل کا رکن بھی ہے۔ صوبائی وزیر پختون یار خان نے واضح کیا کہ وہ اپنے خلاف کی جانے والی کردار کشی پر قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

متحدہ علماء بورڈ خیبر پختونخوا نے آئندہ جمعے کو صوبہ بھر میں یوم فتح و یوم تشکر منانے کا اعلان کر دیا

متحدہ علماء بورڈ خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام پشاور کے تاریخی مقام قلعہ بالا حصارپرایک عظیم الشان یومِ فتح ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر بورڈ سے وابستہ تمام مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام نے شرکت کی اور اپنے بیانات میں افواجِ پاکستان کی جرأت مندانہ اور بروقت کارروائی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔علمائے کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ ملک کے دفاع میں افواجِ پاکستان کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عزم اور حوصلے نے پوری قوم کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔ریلی کے دوران تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قومی وحدت اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور یہی ہمارے امن و استحکام کی بنیاد ہے۔ شرکاء نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ آئندہ جمعہ کو صوبے بھر میں“یومِ فتح”اور“یومِ تشکر”کے طور پر منایا جائے گا تاکہ قوم کی استقامت اور افواجِ پاکستان کی خدمات پر اظہارِ تشکر کیا جا سکے۔ریلی میں علماء نے اتحاد، بھائی چارے، اور امن کے فروغ کے لیے دعا کی اور قوم سے اپیل کی کہ وہ انتشار پھیلانے والے عناصر سے ہوشیار رہیں۔ علماء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے خطبات، بیانات اور کردار کے ذریعے معاشرے میں برداشت، رواداری اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے سرگرم رہیں گے۔ریلی کا اختتام ملک و قوم کی سلامتی، اتحاد اور خوشحالی کے لیے اجتماعی دعا پر ہوا

محکمہ سیاحت کی جانب سے دیر میں سیاحت کے فروغ کیلئے ماسٹر پلان تیار

محکمہ سیاحت کی جانب سے دیر میں سیاحت کے فروغ کیلئے ماسٹر پلان تیار
صوبہ بھر میں سیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے دو ارب روپے کا ہمہ گیر منصوبہ بنایا گیا ہے، سیکرٹری سیاحت
دیر ویلفیئر آرگنائزیشن کی سیکرٹری سیاحت وثقافت سے ملاقات، دیر کا ثقافتی دن صوبائی سطح پر منانے کی درخواست
خیبرپختونخوا کے سیکرٹری سیاحت و ثقافت محمد بختیار خان سے دیر ویلفیئر آرگنائزیشن پشاور کے وفد نے صدر حاجی سلطان یوسف دیر لالہ کی زیرقیادت ملاقات کی۔ وفد نے صوبے میں سیاحت اور ثقافت کے فروغ کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر وفد نے سیکرٹری کلچر اور سیکشن آفیسر قابل سید کو دیر کی ثقافتی پہچان ”سفید دیروجی ٹوپی” پہنائی جبکہ سیکرٹری سیاحت محمد بختیار خان نے وفد کو پاکستان کے قومی جانور مارخور کی علامتی شبیہ اور محکمہ ثقافت کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔ وفد نے نشاندہی کی کہ ضلع دیر بالا اور دیرپایاں میں مواصلاتی سہولیات کی کمی کے باعث سیاح صرف کمراٹ کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ دیگر سیاحتی مقامات جیسے لڑم ٹاپ، خدنگو، چنارونہ، بخت بلندہ، نوا پاس، لام چڑ، شاہی ٹاپ، لواری ٹاپ، ڈوگ درہ، شیل ڈب، شبانال، جہاز بانڈہ اور باڈگوئی ٹاپ بھی قدرتی حسن سے مالامال اور سیاحتی اہمیت میں بے مثال ہیں۔ سیکرٹری سیاحت نے واضح کیا کہ جہاز بانڈہ روڈ کا ٹینڈر ہو چکا ہے جبکہ باقی علاقوں میں سیاحتی سہولیات کی بہتری کیلئے باقاعدہ ماسٹر پلان کے تحت عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کی بدولت دیر کے پوشیدہ سیاحتی مقامات بھی ملکی و غیر ملکی سیاحوں کیلئے پرکشش بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مکمل طور پر فعال بنا دیا گیا ہے اور چترال کی طرز پر شرینگل تا کمراٹ مقامی افراد کو اپنے گھروں میں سیاحوں کو ٹھہرانے کیلئے مالی معاونت کی سکیم بھی متعارف کی گئی ہے۔ اسی طرح ضم شدہ اضلاع، ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن سمیت صوبہ بھر کیلئے دو ارب روپے کا ایک ہمہ گیر ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، مشیر سیاحت زاہد چن زیب اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی سیاحت کے فروغ میں خصوصی دلچسپی کابھی ذکر کیا۔ وفد نے ”سفید دیرو جی ٹوپی” اور دیر کے ثقافتی دن کے انعقاد میں محکمہ ثقافت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اس دن کو صوبائی سطح پر منانے کی درخواست پیش کی۔ سیکرٹری سیاحت نے کہا کہ اگر یہ تجویز منتخب نمائندوں کے ذریعے وزیراعلیٰ تک پہنچائی جائے تو اس میں مثبت پیشرفت ممکن ہے۔ انہوں نے اس امر سے بھی اتفاق کیا کہ ثقافتی تہوار لوگوں میں خوشیاں بانٹنے کا سبب بننے کے علاوہ انکی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں اور یقین دلایا کہ حکومت صوبہ میں سیاحت و ثقافت کے فروغ میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔