Home Blog Page 259

غیر قانونی سرگرمیوں پر بروقت کارروائی، شفافیت کے لیے ایٹا کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں: مینا خان آفریدی

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی نے ہفتے کے روز ضلع بنوں کے ایک امتحانی ہال میں ہونے والے پرائمری سکول ٹیچنگ ٹیسٹ کے دوران کچھ افراد کے غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایولویشن ایجنسی (ایٹا) کی جانب سے بروقت کارروائی پر داد دی ہے۔ اتوارکے روز اپنے دفتر سے خصوصی بیان جاری کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ ایٹا نے شفافیت برقرار رکھتے ہوئے ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے، جس سے نظام میں بہتری کی امید مزید مضبوط ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر کو ایٹا کی جانب سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی، جس کے مطابق 10 مئی کو ہونے والے پرائمری سکول اساتذہ کی بھرتی ٹیسٹ کے دوران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں میں قائم ایٹا کے امتحانی مرکز سے ایک امیدوار پرچہ اور جوابی شیٹ لے کر ایک گیسٹ ہاؤس پہنچا، جہاں پرچہ حل کرنے اور لیک کرنے کا عمل جاری تھا۔ خفیہ اطلاع پر ایٹا حکام نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ہمراہ گیسٹ ہاؤس پر چھاپہ مارا، جہاں سے 10 افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد سے ایک لیپ ٹاپ، سکینر کے ساتھ فوٹو اسٹیٹ مشین، 10 موبائل فونز اور متعدد ایٹا کے پیپرز برآمد ہوئے۔ مزید بتایا گیا کہ یہ گروہ بنوں کے 10 امتحانی ہالز میں موجود امیدواروں سے رابطے میں تھا۔ پولیس سٹیشن میرا خیل بنوں میں واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ پورے گینگ کو گرفتار کر کے نظام سے گندے انڈے نکالے جا رہے ہیں۔ ہم میرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے۔ انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی کے قیام کی بھی ہدایت جاری کر دی ہے۔ صوبائی وزیر نے ایٹا، ضلعی انتظامیہ بنوں اور پولیس حکام کی مستعدی اور بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات ہی میرٹ اور شفافیت کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔

جنگ بندی کے بعد بالآخر نواز شریف منظر عام پر آگئے۔بیرسٹر سیف

جنگ بندی کے بعد بالآخر نواز شریف منظر عام پر آگئے۔بیرسٹر سیف
دوران جنگ باپ بیٹی نے چپ کا روزہ رکھا تھا۔مشیر اطلاعات
بھارت کو للکارنے والا مرد مجاہد عمران خان ہی ہے۔ بیرسٹر سیف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا ہے کہ سیز فائر کے بعد بالآخر نواز شریف نمودار ہوئے ہیں۔ نواز شریف کی خدمت میں عرض ہے کہ جو مکا اور تھپڑ جنگ کے بعد یاد آئے، اُسے اپنے ہی منہ پر مار لینا چاہیے۔ سیز فائر کے بعد نواز شریف کے بیانات خود اُن پر الٹ رہے ہیں۔اپنے دفتر سے جاری بیان میں مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ دوران جنگ باپ بیٹی دونوں نے منہ پر پٹی باندھی تھی اور چپ کا روزہ رکھا تھا جبکہ اب سیز فائر کے بعد دونوں ایسے نمودارہوئے ہیں جیسے بھارت انہوں نے فتح کرلیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حقیقی لیڈر عمران خان نے قید میں رہ کر بھی مودی کو للکاراجبکہ نواز شریف نے آزاد ہو کر بھی مودی اور بھارت کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا۔ پھر کہتے ہیں قوم عمران خان کے پیچھے کیوں کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں نواز شریف نے مودی سے یاری کاپاس رکھا اور مکمل خاموش رہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ مودی کو للکارنے والا مردِ مجاہد صرف عمران خان ہے، نواز شریف میں یہ جرأت نہیں، نواز شریف صرف جاتی امرا میں مودی کی خاطر تواضع کر سکتے ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ جعلی حکومت صرف عمران خان کے خلاف جعلی مقدمات بنانے میں مہارت رکھتی ہے، فارم 47 کی حکومت موجودہ حالات میں بھی سیاسی بغض و عناد سے باز نہیں آ رہی، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ایک قوم بنانے والا واحد لیڈر عمران خان ہے۔ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ موجودہ کشیدہ حالات میں خیبر پختونخوا سمیت پوری قوم دشمن کے خلاف متحد ہے اور سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے، دشمن کے خلاف شاہینوں نے شاندار فتح حاصل کرکے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے

صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللّٰہ خان نے کہا ہے کہ دفاع پاکستان کے لیے

صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللّٰہ خان نے کہا ہے کہ دفاع پاکستان کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں بھارتی ناپاک عزائم کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ محکمہ آبپاشی کے تمام منصوبوں میں عوام کی بہتری اور ترقی کو اولین ترجیح ہر رکھا جائے۔ منصوبوں پر اولین حق علاقہ مکینوں کا ہوتا ہے پہلے حق دیا جائے گا اور اگر کسی کا تھوڑا بھی نقصان ہوا ہو اس کا ازالہ ضرور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ترقی، انصاف اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے بانی لیڈر عمران خان کے ویژن کے مطابق کرپشن کے لیے زیرو ٹالیرنس پالیسی ہے۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا پختونخوا علی امین گنڈاپور عمران خان کی سلیکشن ہے پارٹی کو اس پر پورا اعتماد ہے وہ صوبہ کی ترقی کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع ملاکنڈ اور ضلع دیر میں محکمہ آبپاشی کے مختلف منصوبوں پر کام کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کے موقع پر کیا۔ دورہ میں معاون خصوصی جیل خانہ جات ملک ہمایوں خان، ممبر صوبائی اسمبلی اور ڈیڈک چیئرمین ضلع دیر عبید الرحمن، سیکرٹری محکمہ آبپاشی آیاز خان، چیف انجینئر نارتھ غلام اسحاق خان، ضلعی انتظامیہ کے افسر، محکمہ آبپاشی کے افسران اور پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی ورکرز بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر عاقب اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے عدم تعاون کے باوجود بھی ہم محدود وسائل میں اپنے پراجیکٹس مکمل کررہے ہیں۔ جب ہماری حکومت آئی تو 36 ڈیم زیر تعمیر تھے جس میں 8 کو ہم نے مکمل کرلیا ہے جس میں 2 ڈیمز کا افتتاح بھی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کیا ہے جبکہ 6 ڈیمز کا افتتاح جلد متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پی اینڈ ڈی نے آبپاشی کے 44 منصوبوں کی نشاندہی کی تھی اور ان منصوبوں کو رواں سال مکمل کرنے کا ٹارگٹ دیا تھا لیکن الحمد اللہ ہم نے 51 منصوبے مکمل کروائے ہیں جو ہماری کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم صرف باتیں نہیں کرتے بلکہ عملی کام پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے ضلع لوئر دیر کے سب ڈویژن ادینزئی میں صانام ڈیم دورے کے موقع پر کہا کہ صانام ڈیم وفاقی اور صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کا مشترکہ منصوبہ ہے جس میں 73 فیصد اخراجات وفاقی حکومت جبکہ باقی ماندہ اخراجات خیبر پختونخوا حکومت خرچ کررہی ہے۔ اس ڈیم پر 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور انشاء اللہ اس کو ٹارگٹ سے پہلے دسمبر 2025 میں مکمل کرینگے۔ صانام ڈیم پر کام سے پہلے متاثرہ اراضی مالکان کو معاوضہ ادا کرینگے اور کسی کیساتھ بھی نا انصافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ صانام ڈیم کی تعمیر سے یہاں پر زرعی اراضی سیراب ہوگی اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ اس کیساتھ ساتھ زراعت ترقی کریگا اور عوام کی معیار زندگی بہتر ہو جائیگی۔ صانام ڈیم میں تمام ملازمیتیں مقامی لوگوں کو دی جائیگی۔ عاقب اللہ خان نے کہا کہ ہماری حکومت کے پراجیکٹس کا مقصد عوام کی معیار زندگی بہتر بنانا ہے اور عوام کے اعتماد کے بغیر یہ کام ناممکن ہے۔ انہوں نے محکمہ آبپاشی کے آفیسران سے کہا کہ تمام پراجیکٹس پر کام کو تیز کیا جائے اور جہاں پر مسائل ہیں ان کی نشاندہی کریں تاکہ ان کو حل کرکے عوام کی ترقی کے پراجیکٹس تیز کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ کی جنگیں پانی پر ہوگی اور ہمیں اپنے پانی کو محفوظ بنانا ہوگا۔ اس سے قبل صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے ضلع ملاکنڈ کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے اماندرہ ہیڈ ورکس کا بھی معائنہ کیا۔ صوبائی وزیر نے محکمہ آبپاشی کے حکام کو سختی سے تاکید کی کہ عام عوام کو ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ سے کوئی بھی شکایت نہیں ہونی چاہیئے۔

چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت اربن پالیسی و بلڈنگ کنٹرول سے متعلق جائزہ اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں شہروں میں منصوبہ بندی کو مؤثر بنانے میں اربن پالیسی اینڈ پلاننگ یونٹ اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شہروں سمیت سیاحتی مقامات کے لئے ماسٹر پلان اقدامات اور لینڈ یوز و بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فعال بنانے پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اربن پالیسی اینڈ پلاننگ یونٹ اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جیسے اداروں کے ذریعے شہری منصوبہ بندی کو جدید تقاضوں کے مطابق کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس میں سیکرٹری پی اینڈ ڈی، سپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر اربن پالیسی یونٹ، ڈائریکٹر جنرل بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو جلد از جلد فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو اتھارٹی کو تمام درکار وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کی تاکہ صوبے میں اربن پلاننگ کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے منظور شدہ ماسٹر پلانز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں ماسٹر پلاننگ کے عنصر پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں مختلف شہروں اور علاقوں کے ماسٹر پلانز مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ سیاحتی مقامات کی ماسٹر پلاننگ کیلئے ضم اضلاع سمیت دیگر اضلاع میں اہم سیاحتی مقامات کی نشاندہی کرلی گئی ہے جس کی ماسٹر پلاننگ پر کام جاری ہے۔ صوبے میں سیاحتی اہمیت کے حامل پانی کے ذخائر، ڈیمز اور دریاؤں کے اطراف مقامات کو بھی ماسٹر پلاننگ میں شامل کیا جارہا ہے۔ جس میں تانڈہ ڈیم، گنڈیالی ڈیم، چشمہ، باران ڈیم، ورسک، دربند، مالاکنڈ ہائیڈل پراجیکٹ سٹریم، دریائے سندھ، سوات، کابل، سرن پر مختلف سیاحتی مقامات کی ماسٹر پلاننگ کی جائے گی۔ چیف سیکرٹری نے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی فعالیت میں جدید منصوبہ بندی کے اصولوں اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔

یونیسف پاکستان کی ٹیم کی مشیر صحت احتشام علی خان سے ملاقات

یونیسف پاکستان کی ٹیم نے ڈاکٹر گنٹر بوسری کی قیادت میں جمعرات کے روز مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی خان سے پشاور میں ملاقات کی۔ ڈاکٹر گنٹر کے ہمراہ ڈاکٹر سفینہ عبداللہ (ہیلتھ مینیجر یونیسف پاکستان) اور ڈاکٹر انعام اللہ خان (ہیلتھ ٹیم لیڈ خیبر پختونخوا) بھی موجود تھے۔احتشام علی خان نے یونیسف ٹیم کو خوش آمدید کہا اور صوبائی حکومت کی صحت سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے صحت کے نظام کو بہتر بنانے، زچہ و بچہ کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات اور ہنگامی ردعمل کے شعبوں میں یونیسف کی دیرینہ شراکت اور محکمہ صحت کے ساتھ قریبی تعاون کو سراہا۔یونیسف ٹیم نے حکومت کی جانب سے بنیادی صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کی کوششوں، خصوصاً لیڈی ہیلتھ ورکرز (LHWs) پروگرام کو بہتر بنانے کے منصوبوں کی تعریف کی۔ مشیر صحت نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی ٹیکس آمدن میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی بدولت نئے صحت پروگرامز شروع کیے جا رہے ہیں۔ڈاکٹر گنٹر نے تجویز دی کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کارکردگی اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے لیے درکار اخراجات کو مقامی وسائل سے پورا کرنے پر غور کیا جائے، تاکہ اضافی آمدن کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔یونیسف ٹیم نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم سے ان کے دفتر میں بھی ملاقات کی۔

صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر، اسپیشل ایجوکیشن اور ویمن ایمپاورمنٹ سید قاسم علی شاہ نے بٹگرام کا دورہ کیا

صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر، اسپیشل ایجوکیشن اور ویمن ایمپاورمنٹ سید قاسم علی شاہ نے بٹگرام کا دورہ کیا جہاں ضلعی انتظامیہ اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے افسران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔صوبائی وزیر سید قاسم علی شاہ نے باضابطہ طور پر چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان تاج محمد خان ترند، سمیع اللّٰہ خان، ڈپٹی کمشنر بٹگرام آصف علی خان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ایڈیشنل سیکریٹری عمرا خان، چیف چائلڈ پروٹیکشن آفیسر اعجاز محمد خان، یونیسف کے چائلڈ پروٹیکشن اسپیشلسٹ سہیل احمد اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جہاں ایک مکمل اور مربوط چائلڈ پروٹیکشن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس میں صوبائی سطح پر وزیر سوشل ویلفیئر کی سربراہی میں فوکل پوائنٹ قائم کیا گیا ہے، 19 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس فعال کیے گئے ہیں، ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں ضلعی چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، اور مقامی سطح پر کمیونٹی بیسڈ چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں بچوں کے تحفظ کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔چیف چائلڈ پروٹیکشن آفیسر خیبرپختونخوا اعجاز محمد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اب تک 21 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں اور باقی اضلاع میں بھی جلد فعال کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک کمیشن کی جانب سے 34,086 بچوں کو مختلف خدمات فراہم کی گئی ہیں جو استحصال یا تشدد کا شکار تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قاسم علی شاہ نے کہا کہ بچوں کے تحفظ، ان کے حقوق کی فراہمی اور ان کے محفوظ مستقبل کے لیے حکومت خیبرپختونخوا پرعزم ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا قیام اسی عزم کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یونٹ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے استحصال، تشدد یا ناانصافی کی روک تھام میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کار کا مرکز ہوگا۔وزیر قاسم علی شاہ نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ سوشل ویلفیئر، یونیسف اور خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ یونٹ بٹگرام سمیت پورے علاقے میں بچوں کے لیے ایک محفوظ اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھے گا۔ انہوں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کے لیے گرانٹ ان ایڈ بجٹ میں اضافہ کرے گی تاکہ مزید اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام کو ممکن بنایا جا سکے۔

تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے صحت کارڈ پلس میں علاج شامل کرنے کا اعلان، بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا عالمی یوم تھیلیسیمیا پر اہم خطاب

خیبر پختونخوا میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ افراد کے لیے ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت اس موروثی مرض کے علاج کو باضابطہ طور پر صحت کارڈ پلس سکیم میں شامل کرے گی۔ یہ اقدام پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی عملی تعبیر قرار دیا گیا ہے۔یہ اعلان انہوں نے پشاور میں الخدمت ہسپتال میں منعقدہ عالمی یومِ تھیلیسیمیا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد تھیلیسیمیا کے مریضوں کو درپیش مشکلات میں کمی لانا اور علاج معالجے کی بروقت اور باعزت سہولیات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نہ صرف تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے صحت کی سہولیات کو وسعت دے گی بلکہ اس بیماری کے خلاف کام کرنے والے رفاعی اداروں اور این جی اوز کو بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ایسے ادارے جو عملی طور پر مریضوں کی خدمت میں مصروف ہیں، ہمارے لیے حکومتی شراکت دار کی حیثیت رکھتے ہیں،”۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے تھیلیسیمیا کو ایک سماجی اور قومی چیلنج قرار دیتے ہوئے میڈیا، سول سوسائٹی اور مذہبی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس مرض کی روک تھام اور آگاہی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف ایم ریڈیو، سوشل میڈیا اور مساجد کے خطبات کو بطور پلیٹ فارم استعمال کیا جائے تاکہ عوام میں بیماری کی وجوہات، بچاؤ اور بروقت تشخیص سے متعلق شعور اجاگر ہو۔انہوں نے کہا کہ کیا کہ محکمہ مذہبی امور کے ساتھ اس ضمن میں تعاون جاری ہے تاکہ علمائے کرام اپنے خطبات میں اس اہم موضوع پر روشنی ڈالیں۔خون کے عطیہ سے متعلق معاشرتی غلط فہمیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ”یہ تاثر کہ خون دینے سے جسم کمزور ہوتا ہے یا یہ مذہبی طور پرناجائز ہے، بالکل بے بنیاد ہے۔ عوام کو سچائی سے آگاہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔”اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے الخدمت فاؤنڈیشن اور دیگر رفاعی اداروں کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ان کی خدمات الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ ایسے لوگوں کا اجر صرف اللہ کے پاس ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و دیہی ترقی ارشد ایوب نے کہا ہے کہ ریگی ماڈل ٹاؤن ایک بڑا ٹاؤن ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و دیہی ترقی ارشد ایوب نے کہا ہے کہ ریگی ماڈل ٹاؤن ایک بڑا ٹاؤن ہے جو پانچ زون پر مشتمل ہے اس میں رہنے والے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ریگی ماڈل ٹاؤن پشاور کے دورہ کے موقع پرافسران اور اہلکاروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئیرنگ،ڈی جی پی ڈی اے،سیکرٹری ایل ڈی بی اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیر بلدیات و دیہی ترقی ارشد ایوب نے ریگی ماڈل ٹاؤن پشاور کے زون 3اور 4 کی مختلف جگہوں خاص کر فیملی پارک کا معائنہ کیا اور اس میں لگائے گئے سولر سسٹم لائٹس کا افتتاح کیا، انہوں نے گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کی بلڈنگ اور اس میں کی گئی پلانٹیشن اور تعمیرہونے والے گارڈن کا بھی معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ پارک میں میل اور فیمیل ٹائلٹ کی صفائی اور ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ یہاں آنے والے افراد کو کسی قسم کی کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ انہوں نے گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کی بلڈنگ میں پائن کا پودا بھی لگایا اور کہا کہ سولر سسٹم لائٹس ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ آئے روز بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس موقع پر ڈی جی پی ڈی اے بتا یا کہ ہم ریگی ماڈل ٹاؤن پشاور میں مزید سہولیات کی فراہمی پر کام کر رہے ہیں اور روڈ پر ایل ای ڈی لائٹس کی بھی تنصیب کر دی گئی ہے۔

بھارت پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر جارحانہ کارروائیاں کر رہا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر جارحانہ کارروائیاں کر رہا ہے۔ مغربی سرحد پر بھارت دہشت گردوں کو اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کر رہا ہے، اسی طرح وہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی پشت پناہی بھی کر رہا ہے اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی تخریبی کارروائیوں میں وہ ملوث ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاک فوج اور عوام، دونوں سرحدوں پر بھارتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ بھارت کو حالیہ کارروائیوں کا مؤثر جواب دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں مساجد کو نشانہ بنایا ہے لیکن پا کستان آرمی نے دشمن کو اس کا منہ توڑ جواب دے کر سفید جھنڈا لہرانے پر مجبور کر دیا اب بزدل دشمن ہمارے سرپرائز کا انتظار کرے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور عوام اپنے ملک کے دفاع کے لئے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں کاروائی کرکے معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ہے، بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے مزید کہا کہ مودی سرکار نے خطے کا امن داؤ پر لگایا ہے جسکے بھیانک نتائج سامنے آئینگے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے بروقت کاروائی کرکے دشمن کے دانت کھٹے کئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کابینہ کا ہنگامی اجلاس

بھارتی جارحیت کے تناظر میں خیبر پختونخوا کابینہ کا ہنگامی اجلاس بدھ کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپیکر صوبائی اسمبلی اورقائد حزب اختلاف نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ صوبائی کابینہ کے اراکین کے علاوہ، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، انتظامی سیکرٹریز اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کا آغاز وطن پر قربان ہونے والے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحتیابی اور ملک کی سلامتی و تحفظ کے لیے دعا سے ہوا۔ کابینہ نے بھارتی جارحیت سے متاثرہ شہریوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ان کی بحالی اور امداد کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی۔وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے ہنگامی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے بھارتی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے پاکستان کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور وطن کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا۔بیرسٹرڈاکٹر سیف نے کہا کہ کابینہ نے سیکورٹی فورسز کو بھرپور تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے کابینہ اجلاس میں پیش کیے گئے اقدامات کی منظوری بھی دی۔کابینہ نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کو بھارتی جارحیت کے فوری اور مؤثر جواب پر خراج تحسین پیش کیا اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ کابینہ کے اجلاس میں زور دیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور ملک کے مقبول ترین رہنما عمران خان کو فوری رہا کر کے قومی مشاورت میں شامل رکھا جائے تاکہ قومی اتحاد کے ساتھ بھارت کے خلاف مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ کابینہ اراکین نے عمران خان کے بھارت کی کسی بھی جارحیت کے خلاف آخری سانس تک لڑنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایسے رہنما کو اس نازک مرحلے میں پابند سلاسل رکھتے ہوئے اقدامات کرنا سودمند ثابت نہیں ہو سکتااور انکی شمولیت سے ہی قومی اتحاد کو تقویت مل سکتی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کابینہ نے ایسے نازک مرحلے میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کے خلاف بھی چوکس رہنے اور قوم دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کے عزم کا بھی اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ”ہمارے لیے پاکستان سب سے مقدم ہے اور ہم اپنے وطن کی ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔ مزید برآں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے پرتشدد کاروائیوں میں بھی فاشست بھارت ملوث ہے، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، جس طرح وہ بھارت کے مقابلے میں متحد ہیں۔کابینہ نے بھارت کی اشتعال انگیزی کو قابلِ مذمت اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے شہری آبادی کو اندھیرے میں نشانہ بنانے کو بزدلانہ فعل اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔کابینہ نے بھارت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ” ہم اپنی مادرِ وطن کی ایک ایک انچ کا دفاع ہر قیمت پر کریں گے اور پوری قوم اس کے لئے متحد ہے۔“اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کہاکہ ”ہم غزوہ ہند کے وقوع ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اس میں فتح مسلمانوں کی ہوگی۔ ہمارے لئے یہ باعثِ فخر ہوگا کہ ہم اس میں حصہ لیں۔ بطور مسلمان شہادت سب سے بڑا اعزاز ہے اور ہم ہر وقت اس کے لیے تیار ہیں۔“بیرسٹر سیف نے مزید بتایاکہ کابینہ نے کشمیریوں اور پنجاب کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور عزم کیا کہ 25 کروڑ پاکستانی ایک فوج کی طرح متحد ہو کر وطن کا دفاع کریں گے۔کابینہ نے بھارتی وزیر اعظم مودی کی جارحانہ پالیسیوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت اور اس کے عوام کے لیے بھی خطرہ قرار دیا۔ کابینہ اجلاس میں کہا گیاکہ بھارت کا جنگی جنون خطے کے امن کے لیے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔کابینہ نے خبردار کیا کہ” بھارت ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے، ہم بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔“بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کابینہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے جارحانہ رویے کا نوٹس لے کیونکہ یہ پورے خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا رہا ہے۔