Home Blog Page 26

Provincial Minister for Health, Khaliq-ur-Rehman, presided over an important meeting with the representatives of the Insaf Doctors Forum to discuss matters related to the improvement of healthcare services and the role of young doctors in strengthening the health system.

Provincial Minister for Health, Khaliq-ur-Rehman, presided over an important meeting with the representatives of the Insaf Doctors Forum to discuss matters related to the improvement of healthcare services and the role of young doctors in strengthening the health system. The meeting was held in a cordial and constructive environment.

During the meeting, the Provincial Minister appreciated the role of the Insaf Doctors Forum and stated that it is a positive and effective platform which can contribute significantly towards bringing meaningful and sustainable improvements in the healthcare delivery system of the province. He reaffirmed that the Health Department is fully committed and serious about moving forward with collective efforts, setting aside all personal or group interests for the greater good of public health.

The Minister emphasized that the doctors associated with the forum are young, energetic, and highly talented, and their skills, dedication, and innovative ideas are vital for the growth and improvement of the health sector. He added that the health system can only progress when all stakeholders work together with unity, professionalism, and a sincere sense of responsibility.

He further stated that the government is determined to utilize the energies and capabilities of young doctors for institutional development and service delivery. The Minister highlighted that constructive criticism, identification of gaps, and positive feedback are essential for reform and strengthening of the healthcare system.

The representatives of the Insaf Doctors Forum assured the Provincial Minister of their full cooperation and support in making the health system more efficient, transparent, and responsive to public needs. They reaffirmed their commitment to play a proactive role in identifying shortcomings, proposing practical solutions, and contributing positively towards the improvement of healthcare services across the province.

The Provincial Minister, in his concluding remarks, assured the forum of complete support and cooperation from the Health Department. He stated that the government values the input of young professionals and will continue to engage with all stakeholders to ensure better healthcare facilities for the people of Khyber Pakhtunkhwa.

سابقہ فاٹا کا انتظامی انضمام ہوگیا مگر مالیاتی انضمام ابھی تک نہ ہو سکا: شفیع جان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ نوجوان وزیراعلی محمد سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبے کے وسائل، این ایف سی شیئرز اور مسائل کے حل پر عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کے لئے خیبرپختونخوا کے تمام جامعات میں سیمینارز منعقد کیے گئے ہیں۔ ان سیمینارز کا مقصد طلباء و طالبات کو صوبے کے وسائل، این ایف سی شیئرز، مسائل و حل سے متعلق آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی این ایف سی پر تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لینگے۔کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوہاٹ میں این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ سابقہ فاٹا کا انتظامی انضمام ہوگیا مگر مالیاتی انضمام ابھی تک نہ ہو سکا جو صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ 2018 سے 2025 تک کا جائز این ایف سی شیئر نہیں دیا جا رہا۔ اس طرح سابقہ فاٹا کے انضمام کے باوجود این ایف سی کے ہمارے شیئر میں اضافہ نہیں کیا گیا، خیبر پختونخوا اور ضم اضلاع کی ضروریات کیلئے این ایف سی میں عبوری ایڈجسٹمنٹ وقت کی ضرورت ہے۔ اس طرح ضم اضلاع کی آبادی و رقبہ شامل کرکے صوبے کا حصہ دوبارہ مقرر کیا جائے۔ این ایف سی شیئر اس وقت عملاً ساڑھے تین صوبوں میں تقسیم ہو رہا ہے جو آئین کے سراسر خلاف ہے۔ دوسری جانب این ایف سی ایوارڈ کے اربوں روپے کے بقایاجات بھی صوبے کو ادا نہیں کیے جا رہے جو صوبے کے ساتھ نا انصافی ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے 1335 ارب روپے کے بقایاجات ادا کئے جائیں گے تاکہ ضم اضلاع کی پسماندگی دور کی جاسکے۔انضمام کے بعد خیبر پختونخوا کو مطلوبہ مالی وسائل نہیں دیے گئے۔ مستقبل میں ضم اضلاع کا حصہ آبادی، غربت اور دیگر اشاریوں کی بنیاد پر الگ نکالا جائے اور خیبر پختونخوا کو دئے جائیں۔سابقہ فاٹا کو بلوچستان و دیگر صوبوں کے مقابلے میں مسلسل کم فنڈز ملے۔ اسطرح دہشتگردی کے مد میں ملنے والا ایک فیصد حصہ بڑھا کر تین فیصد کیا جائے۔ مالی تاخیر سے ضم اضلاع میں امن و امان متاثر ہو رہا ہے۔ شفیع جان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مکاتب فکر صوبے کے جائز حقوق کے حصول میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ایک دوسرے بیان میں معاون خصوصی شفیع جان نے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات اپنی حکومت کی ناکامیوں کا ملبہ خیبرپختونخوا پر ڈالنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر بھی نظر ڈالیں جو کہ مایوس کن ہے۔ الزام تراشی سے پہلے وفاقی حکومت 5300 ارب روپے کرپشن کا جواب دے۔ وفاقی حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کرکے مہنگائی کو آسمان پر پہنچایا دیا ہے۔ قوم جانتی ہے کہ کون کام کر رہا ہے اور کون میڈیا پر صرف بیانات دے رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف پر ملک دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ کا الزام دراصل مسلم لیگ ن کی “خوف عمران خان” کا واضح ثبوت ہے۔ ایسی بے تکی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے خود ملک کو عالمی اداروں کے سامنے گروی رکھا ہوا ہے۔معاون خصوصی شفیع جان نے وفاقی وزیر عطاء تارڑ کے خیبر پختونخوا حکومت پر الزام تراشیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت پر الزام تراشیاں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، مضحکہ خیز اور حقائق کے منافی ہیں۔

ہزارہ ڈویژن کی جامعات میں این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی مالیاتی حقوق سے متعلق آگاہی سیمینارز کا انعقاد

ہزارہ ڈویژن کی دو بڑی جامعات؛ یونیورسٹی آف ہری پور اور ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ، صوبائی شیئرز اور مالی مسائل سے متعلق آگاہی سیمینارز منعقد ہوئے۔ ان سیمینارز کا مقصد عوام اور خصوصاً طلبہ کو صوبائی وسائل، این ایف سی شیئرز اور مالی چیلنجز سے آگاہ کرنا تھا تاکہ ہر طبقہ فکر صوبے کے جائز مالی حقوق کے حصول کے عمل میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
یونیورسٹی آف ہری پور میں منعقدہ سیمینار سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمن، چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس ڈاکٹر احتشام، معروف صحافی رفعت اللہ اورکزئی اور یونیورسٹی آف پشاور کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عرفان اشرف نے خطاب کیا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ مضبوط مالی نظم و نسق ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ کے اثرات، برین ڈرین اور آبادی کی نقل مکانی جیسے مسائل سے دوچار ہے، جس سے صوبے کی معیشت مسلسل دباؤ کا شکار رہی ہے۔ڈاکٹر احتشام نے این ایف سی ایوارڈ کے ڈھانچے، تشکیل اور متعلقہ امور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے 11واں این ایف سی ایوارڈ متوقع ہے، مگر چھوٹے صوبوں کو اکثر پروجیکٹڈ تخمینوں سے کم وسائل ملتے ہیں۔ انہوں نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ وفاقی محصولات پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنے مالی وسائل بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فعال بینکنگ سسٹم اور زرعی اجناس — خصوصاً تمباکو — کو صوبائی سطح پر منظم کرنے سے خیبر پختونخوا کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔رفعت اللہ اورکزئی نے کہا کہ وفاق کے ذمہ خیبر پختونخوا کے ایک ہزار ارب روپے سے زائد واجبات ہیں۔ صوبہ سالانہ 20 ارب یونٹ پن بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ اپنی ضرورت صرف 10 ارب یونٹ ہے، مگر سستی بجلی کا فائدہ صوبے کو پوری طرح نہیں مل رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئل کی رائلٹی گزشتہ 12 سال سے صوبے کو نہیں دی گئی، جبکہ چشمہ لفٹ کینال منصوبے کی تاخیر کی وجہ سے خیبر پختونخوا کا پانی دیگر صوبوں کو منتقل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے این ایف سی شیئر میں دہشت گردی کے نقصانات کے پیش نظر اضافہ ناگزیر ہے۔ڈاکٹر عرفان اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلک روٹ خطے کی ترقی کا اہم ذریعہ رہاہے۔ اگر اس روٹ کے پوٹینشل کو پوری طرح استعمال کیا جائے تو خیبر پختونخوا سمیت پورا پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے۔
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ سیمینار
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں سیمینار کے ریسورس پرسن ڈاکٹر عادل سیماب (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، پولیٹیکل سائنس) نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ، جغرافیائی حساسیت اور قبائلی اضلاع کے انضمام جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ ضم شدہ اضلاع کی بحالی، سکیورٹی کی بہتری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سماجی سہولیات کی فراہمی کے لیے اضافی مالی وسائل کی ضرورت ہے، جس کے لیے صوبے کو این ایف سی میں اپنا مؤثر مؤقف پیش کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ملکی مالیاتی ڈھانچے، صوبائی حقوق اور آئینی تقاضوں سے باخبر ہونا چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں مضبوط معاشی نظام کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف لکی مروت کے گیس ذخائر ملک کی 70 فیصد ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ وائس چانسلر نے یہ بھی بتایا کہ یونیورسٹی میں مائنز اینڈ منرلز پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ معدنی وسائل پر تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔سیمینار میں یونیورسٹی کی تمام فیکلٹیز کے ڈینز، پروفیسرز، انتظامی افسران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کو 15 دنوں کے اندر تمام شکایت کنندہ کو لائسنس جاری کرے۔ آر ٹی ایس کمیشن

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوامیں چھ عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی۔ چیف کمشنر محمد علی شہزادہ اور کمشنر ذاکر حسین آفریدی نے شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ محمد سلمان کمیشن کے سامنے حاضر ہوئے۔ کمیشن نے محکمہ کو 15 دنوں کے اندر تمام شکایت کنندہ شہریوں کو لائسنس جاری کرنے کے احکامات دئیے۔ اسلحہ لائسنس کی شکایات پر کمیشن نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ایک ہفتے میں شکایات نمٹانے کے ہدایت جاری کی۔ چارسدہ سے گل نواز نامی شہری نے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ کمیشن نے ڈی سی چارسدہ سے مکمل رپورٹ طلب کرلی۔ سردار حسین نے لکی مروت سے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ کمیشن نے ڈی پی او لکی مروت سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ ہری پور سے عابد خان نے موبائل فون چوری کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ کمیشن نے ڈی پی او ہری پور سے رپورٹ مانگ لی۔ مانسہرہ سے مس سکینہ نے بارہ سال پہلے لاپتہ بیٹے کی ایف آئی آر کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ کمیشن نے ڈی پی او سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ کمیشن نے سرکاری افسران کو عوام کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی خدمات کا حصول عوام کا حق ہے نا کہ ان پر حکومت کا احسان۔

خیبر پختونخوا کے وزیر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ارشد ایوب کی زیر صدارت پیر کے روز پشاور میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کاجائزہ اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ارشد ایوب کی زیر صدارت پیر کے روز پشاور میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کاجائزہ اجلاس منعقد ہوا اس موقع پر سیکٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد ڈپٹی سیکرٹری اور متعلق افسران بھی موجود تھے۔سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے صوبائی وزیر کو محکمے کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی اور محکم کے سالانہ فنڈز-26 2025 اور سپیشل فنڈز کے حوالے سے غور و خوض ہوا اور وزیراعلی خیبر پختونخواکے محکمہ تعلیم سے متعلق ہدایات پر مکمل عمل درامد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نئے تعلیمی سال پر نویں سے لے کر بارویں تک مفت نصابی کتب دے گی اورسمسٹر کے لیے مفت کتابیں فراہم کرے گی اسی طرح حکومتی تعلیمی کتابوں کی پرنٹنگ کے طریقہ کار کو مزید سیل بنایا جائے گا صوبائی وزیر تعلیم نے اجلاس کو بتایا کہ موجودہ حکومت تعلیم کے فروخت کے لیے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے اور حکومت کی اولین خواہش ہے کہ صوبے کے عوام کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم کے مفت اور تمام تر سہولیات فراہم ہوں تاکہ خیبر پختونخوادوسرے شعبوں کی طرح اس شعبے میں بھی نمایاں ترقی کر سکے۔

ایڈز کا عالمی دن ہر سال یکم دسمبر کو اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے

ایڈز کا عالمی دن ہر سال یکم دسمبر کو اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ ایڈز ایک لاعلاج بیماری نہی ہے بلک اس کی بروقت تشخیص سے اس کا علاج ممکن ہے اور افراد ایک صحتمند زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر صحت خیبر پختونخواخلیق الرحمان اور سیکٹری صحت نے عوام کو اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج کے حوالے سے اپنے الگ الگ پیغامات اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس حوالے سے محکمہ صحت کی داخلی رپورٹ میں یہ امر واضح کیا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کیسز کی حالیہ بڑھتی ہوئی تشخیص دراصل انٹیگریٹڈ ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور تھیلیسیمیا کنٹرول پروگرام، محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ اضافہ بیماری کے پھیلاؤ کی علامت نہیں بلکہ بہتر اسکریننگ، توسیع شدہ طبی سہولیات اور عوام میں بڑھتی ہوئی آگاہی کا نتیجہ ہے۔صوباء وزیر خلیق الرحمان نے کہا ہیکہ دسمبر 2023 تک صوبہ خیبر پختونخوا میں 06 ایچ آئی وی علاج و اسکریننگ مراکز فعال تھے۔ جنوری 2024 میں محکمہ صحت نے 07 مزید مراکز کا افتتاح کیا، جس سے صوبہ بھر میں تشخیصی اور علاج کی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی۔ ان مراکز کے قیام کے ساتھ ہی صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پوشیدہ کیسز کی نشاندہی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔آئی بی بی ایس سروے اور کامن مینجمنٹ یونٹ (CMU) کے تخمینوں کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی کے000 35, سے زائد کیسز موجود ہیں، جن میں سے اب تک ,600 9کیسز کی باقاعدہ شناخت ہو چکی ہے۔ محکمہ صحت اور صوباء حکومت خیبر پختونخوا اس امر کے لیے پرعزم ہے کہ زیادہ سے زیادہ پوشیدہ کیسز کو اسکریننگ کے ذریعے سامنے لا کر انہیں علاج کے نظام میں شامل کیا جائے۔ جتنی زیادہ اسکریننگ ہوگی، اتنے ہی زیادہ کیسز سامنے آئیں گے، اور بروقت تشخیص ہی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ایچ آئی وی/ایڈز کا علاج صوبے کے تمام 13 علاج مراکز میں زندگی بھر مفت فراہم کیا جا رہا ہے، جس کے لیے گلوبل فنڈ کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔صوباء وزیر نے واضح کیا کہ محکمہ صحت علاج کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آگاہی اور بچاؤ کی سرگرمیوں کو بھی مسلسل مزید مضبوط بنا رہا ہے، اور یہ ایک حوصلہ افزا امر ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اب خود آگاہی کے تحت ٹیسٹنگ اور علاج کے لیے مراکز سے رجوع کر رہی ہے۔محکمہ صحت یکم دسمبر سے عالمی ایڈز ڈے کے حوالے سے ایک ماہ پر مشتمل خصوصی آگاہی سرگرمیوں کا آغاز کرے گا۔ محکمہ صحت اور صوبائی حکومت پر عزم ہے کہ بیماریوں کے علاج اور طبی صحولیات کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اور اگاہی کے حوالے سے بھی کام ہو رہا ہے تاکہ عوام اور محکمہ صحت مل کر ایک صحتمند اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت بن سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی روڈمیپ امپلیمنٹیشن کمیٹی کا اجلاس سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ داؤد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت جاری منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی روڈمیپ امپلیمنٹیشن کمیٹی کا اجلاس سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ داؤد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت جاری منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع ایبٹ آباد میں واٹر سپلائی سسٹمز سے متعلق ڈیٹا کلیکشن مقررہ مدت سے قبل مکمل کرلیا گیا ہے Community-Based Information System Module سے متعلق اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع سے ڈیٹا کی اکٹھا اور اپ ڈیٹیشن مکمل ہوچکی ہے، جسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منظم انداز میں شامل کردیا گیا ہے خیبر پختونخوا رورل انوسمنٹ اینڈ انسٹیٹوشنل سپورٹ پراجیکٹ کے بارے اجلاس کو بتایاگیا کہ خیبر، مہمند اور باجوڑ کے لیے تیار کردہ پی سی ون کا ابتدائی مسودہ نظرثانی کے مرحلے میں ہے جبکہ نئی ڈیڈ لائنز بھی مقرر کردی گئی ہیں چس پر سیکرٹری نے متعلقہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ پی سی ون کو تکنیکی معیار اور زمینی ضروریات کے مطابق جلد از جلد حتمی شکل دی جائے آگاہی مہمات اور پانی کے معیار سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ کمیونٹی سینٹرز، مقامی عمائدین اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دی جارہی ہے تاکہ عوام میں محفوظ اور معیاری پانی کی اہمیت سے متعلق شعور اجاگر کیا جاسکے۔ فیلڈ لیبارٹریز اور ٹیموں کو پانی کے معیار کی مسلسل جانچ کے لیے مزید فعال کیا گیا ہے اجلاس کو مذید بتایا گیا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی موبائل ایپ کا پروٹو ٹائپ آخری مراحل میں ہے۔ ایپ کو اگلے آرآئی سی اجلاس میں باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا یہ ایپ شکایات کے اندراج، معلومات کی فراہمی اور فیلڈ ڈیٹا مینجمنٹ میں اہم کردار ادا کرے گی سیکرٹری داؤد خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پوری شفافیت، جدید ٹیکنالوجی اور ٹیم ورک کے ذریعے صوبے کے عوام کو معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس روڈمیپ نہ صرف محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا بلکہ عوامی اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ کرے گاصوبے میں پائیدار ترقی، شفافیت اور عوامی خدمات میں بہتری کے لیے محکمہ مسلسل مؤثر اقدامات کررہا ہے.

معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان/ این ایف سی ایوارڈ

نوجوان وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبے کے وسائل ، این ایف سی شیئرز اور مسائل کے حوالے سے عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کے لیے خیبرپختونخوا کے تمام جامعات میں آج سیمینارز منعقد کیے جارہے ہیں – شفیع جان

سیمینارز کا مقصد طلبہ کو صوبے کے وسائل ، این ایف سی شیئرز اور مسائل سے آگاہ کرنا ہے : شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی این ایف سی پر تمام پارٹیز کے پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لینگے۔ شفیع جان

تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو بھی صوبے کے جائز حقوق کے حصول میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

سابقہ فاٹا کا انتظامی انضمام ہوگیا مگر مالیاتی انضمام ابھی تک نہ ہو سکا جو صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ شفیع جان

2018 سے 2025 تک کا ہمارا جائز این ایف سی شیئر نہیں دیا جا رہا، سابقہ فاٹا کے انضمام کے باوجود این ایف سی کے ہمارے شیئر میں اضافہ نہیں کیا گیا : شفیع جان

کے پی اور ضم شدہ اضلاع کی ضروریات کیلئے این ایف سی میں عبوری ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے : شفیع جان

ضم شدہ اضلاع کی آبادی و رقبہ شامل کرکے صوبے کا حصہ دوبارہ مقرر کیا جائے : شفیع جان

این ایف سی شیئر اس وقت عملاً ساڑھے تین صوبوں میں تقسیم ہو رہا ہے جو آئین کے سراسر خلاف ہے : شفیع جان

دوسری جانب این ایف سی کے اربوں روپے کے بقایاجات بھی صوبے کو ادا نہیں کیے جا رہے جو صوبے کے ساتھ کھلی نا انصافی ہے۔ شفیع جان

ساتویں این ایف سی سے پیدا ہونے والی 1335 ارب روپے کی پسماندگی دور کی جائے : شفیع جان

مستقبل میں ضم شدہ اضلاع کا حصہ آبادی، غربت اور دیگر اشاریوں کی بنیاد پر الگ نکالا جائے : شفیع جان

دہشتگردی کے مد میں ملنے والا ایک فیصد حصہ بڑھا کر تین فیصد کیا جائے — شفیع جان

فاٹا کو بلوچستان و دیگر صوبوں کے مقابلے میں مسلسل کم فنڈز ملے : شفیع جان

انضمام کے بعد کے پی کو مطلوبہ مالی وسائل نہیں دیے گئے : شفیع جان

مالی تاخیر سے ضم شدہ اضلاع میں امن و امان متاثر ہو رہا ہے : شفیع جان

از دفتر معاون خصوصی اطلاعات و تعلقات عامہ

وفاقی وزیر عطا تارڑ کاخیبر پختونخوا حکومت پر الزام تراشیاں/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا سخت ردعمل

وفاقی وزیر اطلاعات کا خیبرپختونخوا حکومت پر الزام تراشی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ،مضحکہ خیزاور حقائق کے منافی ہیں،شفیع جان

عطاتارڑ، نوجوان وزیر اعلی سہیل آفریدی کی حکومت و سیاسی میدان کی حکمت عملی سے بوکھلاہٹ کاشکار ہے، شفیع جان

وفاقی حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کیا،مہنگائی کو آسمان پر پہنچایا،شفیع جان

کارکردگی کی بات وہ کرے جس کے پاس اپنی کامیابی دکھانے کو کچھ ہو،شفیع جان

پی ٹی آئی پر ملک دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ کا الزام دراصل مسلم لیگ ن کی خوف عمران خان کا واضح ثبوت ہے، شفیع جان

ایسی بے تکی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے خود ملک کو عالمی اداروں کے سامنے گروی رکھا ہوا ہے، شفیع جان

وفاقی وزیر اپنی ناکام حکومت کی بدترین کارکردگی چھپانے کے لئے خیبرپختونخوا پر مسلسل الزامات لگا رہے ہیں،شفیع جان

خیبرپختونخوا حکومت پر الزام تراشی سے پہلے وفاق 5300 ارب روپے کرپشن پر جواب دیں، شفیع جان

قوم جانتی ہے کہ کون کام کر رہا ہے اور کون میڈیا پر صرف بیانات دے رہا ہے، شفیع جان

وفاقی وزیر اطلاعات اپنی حکومت کی ناکامیوں کا ملبہ خیبرپختونخوا پر ڈالنے کے بجائے اپنی کارکردگی دیکھیں، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ کر لیا ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے پارٹی کو اختیار دیدیا ہے۔ ضمنی الیکشن میں کلاس فور سے لیکر ڈپٹی کمشنر تک تک کی مکمل انکوائری ہوگی۔ کسی بھی اہلکار یا افسر کے ملوث ہونے پر انکے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ صوبائی حکومت کے ماتحت ملازمین اور افسران دھاندلی میں ملوث نہیں لیکن پھر بھی شفافیت کے لیے انکوائری کر رہے ہیں۔ مبینہ دھاندلی پر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیج رہے ہیں۔ پریذائیڈنگ افسران کے بیانات اور بیان حلفی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے اہلخانہ و پارٹی رہنماؤں کی ملاقات نہ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ منگل کو تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہائی کورٹ جائیں گے – جس کے بعد عمران خان کی فیملی کے ساتھ اڈیالہ جیل جائیں گے۔ اگر بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں سے ملاقات نہ کرائی گئی تو دھرنا اور احتجاج ہوگا۔ مسلم لیگ نون اپنے ماضی کو بھول جاتی ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ رہنما اپنے مجرم قائد سے لندن میں ملاقاتیں کرتے رہے – کابینہ نواز شریف سے لندن میں رہائش کے دوران مشورے کرتے تھے – جبکہ عمران خان کے بیانات و تصویر سے خوفزدہ ہیں۔عمران خان ملک کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ہیں۔ ان کے بیانات روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شفیع جان نے بانی چیئرمین عمران خان کے صحت کے حوالے سے کہا کہ عمران خان کی 4 نومبر سے فیملی کے ساتھ ملاقات نہیں ہورہی- صحت سے متعلق تشویش موجود ہے۔ گڈ گورننس کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اقدامات کا ذکر کرتے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس نوجوان وزیراعلیٰ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تعلیم و صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس کا ہر جمعہ کو انعقاد ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے عوامی نمائندوں کو ووٹ عمران خان کی رہائی کے نام پر ملا، عوام کا واحد سوال یہی ہوتا ہے کہ عمران خان کی رہائی کب ہوگی۔ صوبے کو ضم اضلاع کے واجبات اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے فنڈز نہیں دیے گئے۔ 3 ہزار ارب روپے—این ایف سی، این ایچ پی، آئل گیس ریزرو وغیرہ کی مد میں وفاق پر صوبے کے واجبات ہیں، 4 دسمبر کو این ایف سی اجلاس میں صوبہ بھرپور انداز میں اپنا مقدمہ لڑے گا۔