وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈا پور نے بدھ کے روز محکمہ خوراک کے پراونشل ریزو سنٹر ڈی آئی خان کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے رواں سیزن کیلئے گندم کی خریداری کے عمل کا باضابطہ افتتاح کیا ہے ۔ صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو بھی وزیر اعلی کے ہمراہ تھے جبکہ محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کے اعلی حکام بھی موقع پر موجود تھے۔ متعلقہ حکام کی طرف سے وزیر اعلی کو گندم خریداری اور سٹوریج سے متعلق اُمور پر بریفنگ دی گئی۔اس سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے مقامی کسانوں سے تین لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جائے گی جس میں ڈی آئی خان کے مقامی کسانوں سے 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری بھی شامل ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ مجموعی طور پر 29 ارب روپے مالیت کی گندم خریدی جار ہی ہے، گندم کی خریداری 3900 روپے فی 40 کلو کے حساب سے کی جائے گی۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کسانوں کی خوشحالی، حوصلہ افزائی اور اُن کو سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جس کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں،اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسان کو اس کا حق بغیر سفارش کے ملے۔علاوہ ازیں گندم کی خریداری میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں، خریداری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ڈسٹرکٹ کی سطح پر کمیٹیاں بنائی گئی ہیںاور اس مقصد کے لئے کنٹرول روم کے قیام کے علاوہ آن لائن ایپ متعارف کرائی گئی ہے۔اُنہوںنے کہاکہ مقامی کاشتکاروں سے گندم خریدنے سے 12 ارب روپے کا فائدہ ہوا جو کہ گوداموں کی تعمیر و مرمت میں استعمال کریں گے۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ مقامی کاشتکاروں سے گندم کی خریداری پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر ہوگی۔اُنہوںنے اس موقع پر گندم کی خریداری کیلئے محکمہ خوراک کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور کہاکہ بے شک اُن کاکام لائق تحسین ہے ۔ علی امین خان گنڈا پور نے اس موقع پر کسان برادری سے اپیل کی کہ وہ شفاف انداز میں گندم کی خریدو فروخت یقینی بنانے کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں ۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ گندم کے معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور رشوت دینے اور لینے والے دونوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ صوبائی حکومت تمام محکموں میں کرپشن اور رشوت ستانی کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے ۔ تبادلوں ، تعیناتیوں سے لے کر تمام سرکاری اُمور میں ہرلحاظ سے شفافیت یقینی بنائی جائے گی ۔ عوام بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنے جائز حق کے حصول کیلئے ہر گز رشوت نہ دیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ رشوت دینے اور رشوت لینے والے دونوں کو سزاد ی جائے گی۔ اُنہوں نے مزید واضح کیاکہ اگر کسی شخص نے رشوت کے ذریعے کوئی تبادلہ وغیرہ کرابھی لیا تو معلوم ہو جائے گا، رشوت لینے والے کو تو فارغ کیا ہی جائے گا مگر اُس کے ساتھ رشوت دینے والے کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں تمام اداروں پر کڑی نظر رکھے گی ۔ اُنہوںنے کہا کہ کرپشن اور رشوت خوری ہمارے معاشرے کا نا سور بن چکی ہے ،ہمیں اس بیماری کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا ہو گااور اس سلسلے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر سے بدھ کے روز پشاور میں صرافہ زرگران جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر سے بدھ کے روز پشاور میں صرافہ زرگران جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی اور انکے ساتھ پشاور میں مجوزہ جیمز پروسسنگ اینڈ ایکسپورٹ سنٹر کے قیام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور انھیں اس ضمن میں اپنی ایسوسی ایشن کی جانب سے آرا پیش کیں۔ معاون خصوصی نے وفد کو یقین دلایا کہ مذکورہ سنٹر کے قیام کا مقصد صوبے میں جیمز سٹون کو فروغ دینا ہے اور اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں تمام ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لیکر اپنے اہداف کو حاصل کریںنگے۔انھوں نے کہا کہ جدید جیمز سنٹر کا قیام ملک اور صوبے کی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔اس سے ہماری ایکسپورٹ بھی بڑھے گی جبکہ اس شعبے سے وابسطہ ہزاروں افراد کو روزگار کے موقع میسر آسکیں گے اور ملک کو روینیو کی مد میں خاطر خواہ اضافہ میسر آسکے گا۔انھوں نے کہا کہ پشاور اس خطے میں قیمتی پتھروں کے کاروبار کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس نئے مرکز کے قیام سے یہ شعبہ مزید ترقی کرے گا جو ہمارے صوبے کی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم ذریعہ بنے گا۔
مینجنگ ڈائریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن عین اللہ کی دعوت پر، قبائلی علاقوں میں تعلیمی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات
مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن عین اللہ نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں شرح خواندگی بڑھانے، بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی اور سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں واپس لانے کے لیے فاؤنڈیشن نے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہمارے کمیونٹی بیسڈ ایجوکیشن سینٹرز میں ہزاروں کی تعداد میں موجود طلبہ و طالبات کو مفت تعلیم اور دیگر تمام سہولیات مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کے نئے پروگرامز میں مڈل اور ہائی لیول پر تعلیمی ادارے قائم کر رہے ہیں تاکہ بچوں کو اپنے ہی علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات میسر آسکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرجڈ ایریا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے جاری و نئے پروگرامز اور کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ بریفنگ کے موقع پر کیا۔ ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر شوکت حیات اور فاؤنڈیشن کے دیگر اہلکار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ نو تعینات مینجنگ ڈائریکٹر کو مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مختلف پروگرامز، کارکردگی، بجٹ اور دیگر مختلف سیکشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔مینجنگ ڈائریکٹر عین اللہ نے حکام کو ہدایت کی کہ نئے مالی سال کے لیے قبائلی اضلاع میں تعلیمی بہتری، شرح خواندگی بڑھانے اور آؤٹ آف سکول بچوں پر قابو پانے کے لیے نئے پروگرامز شامل کیے جائیں اور تمام قبائلی اضلاع میں ضرورت کے مطابق نئے تعلیمی ادارے کھولنے اور پہلے سے قائم سکولوں کو اپگریڈ کرنے کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ترقی کا واحد ذریعہ ہے اور بذریعہ تعلیم ہم ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں اپنے مینڈیٹ کے مطابق اے ایل پی پروگرامز، سیکنڈ شفٹ سکولز پروگرام، سکالرشپس کی فراہمی اور اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کرنے کے لیے نئے پروگرامز شروع کیے جائیں گے۔ اور جاری پروگرامز کو دیگر تمام اضلا ح تک توسیح دی جائے گی۔ بریفنگ کے موقع پر انہیں بتایا گیا کہ جاری پروگرامز میں لٹریسی فار آل، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز اور این سی ایچ ڈی سنٹرز کے علاوہ سباون سکولز، مڈل کمیونٹیز سکولز اور اساتذہ کی تربیت کے دیگر پروگرام شامل ہیں لٹریسی فار آل پروگرام کے سینٹرز میں 17 ہزار 625 طلبہ و طالبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ 267 اساتذہ بھی شامل ہیں۔ اسی طرح کمیونٹی سکولوں کی کل تعداد 337 ہیں۔ کل 639 اساتذہ ہیں اور 27 ہزار 293 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں اور سباون پروگرام کے تحت مزید 25 سکول بھی قائم کئے جا رہے ہیں۔ جن میں بچوں کو وظائف فراہم کیے جائیں گے۔اس موقع پر مینجنگ ڈائریکٹر عین اللہ نے مرجڈ ایریا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی کارکردگی کو سراہا اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر اعلیٰ کی مشیر برائے سماجی بہبود و ترقی خواتین کی خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے تقریب
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی مشیر برائے سماجی بہبود و ترقی خواتین مشال اعظم یوسفزئی نے کہا ہے کہ خصوصی بچے معاشرے اور حکومت کی توجہ کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ صوبائی حکومت خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ وہ سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس مردان میں سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کر رہی تھیں۔ تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی طفیل انجم، سابق رکن صوبائی اسمبلی ساجدہ حنیف، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر رفیق مہمند، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر جنید خالد نے شرکت کی۔ جبکہ تقریب سے ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفئیر جمال شاہ اور ادارے کے ڈپٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر انیق احسن نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سماعت گویائی سے محروم، جسمانی معذوری کے شکار اور نابینا بچوں نے حمدونعت، ٹیبلوز اور ملی نغمے پیش کیے۔ انیق احسن نے بتایا کہ ادارے میں مختلف قسم کی معذوریوں کے شکار 421 بچے زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے ادارے کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ کی مشیر مشال اعظم یوسفزئی نے خصوصی بچوں کی صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے ایسے بچوں کے والدین اور خاص طور پر ٹیچرز کو خراج تحسین پیش کیا جو ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا مشکل فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد عمران خان کا وژن غریب اور پسے ہوئے طبقات کی خدمت ہے۔دکھی انسانیت کی خدمت میرا بھی مشن ہے اور سماجی بہبود کا محکمہ میں نے اپنی خوشی سے چنا ہے تاکہ لوگوں کی خدمت کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے سے میٹرک کرنے والے 23 طلباء و طالبات کو حیات آباد میں خصوصی بچوں کے ادارے میں سال اول میں داخلہ اور ہاسٹل کی سہولت دیں گے۔ جبکہ ایک سال کے اندر مردان میں انٹرمیڈیٹ تک تعلیم کی سہولت مہیا کر دی جائے گی۔بہت سے اسپیشل بچے سکولوں سے باہر ہیں انکو سکولوں میں داخل کرنے کیلئے کرایہ پر بلڈنگ حاصل کریں گے جہاں پر انکو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا۔ اسی طرح معذور افراد کے حوالے سے تفصیلی اعداد وشمار اکھٹا کررہے ہیں۔ جس سے پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔مشیر وزیراعلیٰ نے اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی دونوں ہاتھوں اور پیروں سے محروم بچی کی بطور خاص حوصلہ افزائی کی اور ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کو اس بچی کو الیکٹرانک وہیل چیئر کی فراہمی کی ہدایت کی۔ مشال اعظم یوسفزئی نے خصوصی بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت رستم تک بڑھانے کی ہدایت کی جبکہ سوشل ویلفیئر کے ڈسٹرکٹ آفیسر کو مردان میں موجود بس فوری طور پر سپیشل بچوں کی آمد و رفت کے لیے سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس کو دینے اور اسپیشل ایجوکیشن کیمپلکس کی بسوں میں خواتین اٹڈینٹ بھرتی کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کی مشیر مشال اعظم یوسفزئی نے مختلف کلاسز میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے خصوصی بچوں میں انعامات اور شیلڈز تقسیم کیں جبکہ ادارے کی جانب سے مشیر وزیر اعلیٰ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اور دیگر مہمانوں کو بھی شیلڈز دی گئیں۔
خیبر پختونخوا کابینہ کا پانچواں اجلاس
خیبر پختونخوا کابینہ کا پانچواں اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور کی صدارت میں پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔کابینہ اجلاس کے فیصلو ں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے اپنے پانچویں اجلاس میں اہم فیصلے کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے وزراء جن کا تعلق پشاور سے نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس سرکاری رہائش گاہ ہے کو کرائے کی مد میں دو لاکھ روپے دئیے جائیں گے اور اگر وزراء پشاور میں دو لاکھ تک گھر لے لیں تواس کے کرائے کی ادائیگی حکومت کرے گی جبکہ گھر کے یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بھی اسی دو لاکھ روپے میں شامل ہوگی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ 2014 سے لیکر اب تک جن وزراء کے پاس سرکاری رہائش کی سہولت مو جود تھی ان کی تنخواہ سے 70 ہزار روپے کی کٹوتی ہوتی تھی اوروہ وزراء جن کے پاس سرکاری رہائش نہیں تھی انہیں انکی تنخواہ میں 70 ہزار روپے گھر کے کرائے کے لیے دئیے جاتے تھے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ 2024 میں گھر کے کرایوں میں اضافہ ہوچکا ہے اور مناسب گھر ڈیڑھ لاکھ تک مل سکتاہے اور وزراء کے لیے دو لاکھ روپے کی کابینہ کی منظوری کے بعد وہ اپنے لیے پشاور میں مناسب گھر کرائے پر لے سکیں گے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے آئندہ تین سالوں کے لیے ضم اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے لیے 503 ملین روپے کی منظوری بھی دی ہے اورضم اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو دی جانے والی یہ رقم خفیہ نہیں ہے۔ڈپٹی کمشنرز کو یہ فنڈز بنک کے ذریعے جاری ہوں گے اور ان کا باقاعدہ آڈٹ بھی ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ2021 سے 24 20تک قبائلی اضلاع اور ایف آر میں 1303 ملین روپے ڈپٹی کمشنرز کے لیے مختص کیے گئے تھے۔خیبرپختونخوا کابینہ نے مئی کے مہینے کے لیے صوبے کے ضروری اخراجات کی منظوری دے دی جبکہ تمام محکموں کو آئندہ مالی سال کے لیے اپنی بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔ ضروری اخراجات کی منظوری اس لیے ضروری تھی کہ اسمبلی کی عدم موجودگی میں رواں مالی سال کے بجٹ کی نگران کابینہ نے مختلف وقفوں سے منظوری دی۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بروقت بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولر اتھارٹی کی شق میں نرمی کرتے ہوئے مارکیٹ ویلیو کی ادائیگی پر دفتر و رہائشی رہائش کی تعمیر کے لیے ضلع جمرود میں تحصیل بلڈنگ کے اندر واقع 02 کنال سرکاری اراضی وفاقی حکومت کو الاٹ کرنے کی بھی منظوری دی۔
ورلڈ بینک کے کثیر رکنی وفد کی صوبائی حکومت کے اعلی حکام سے ملاقات
ورلڈ بینک کے ایک کثیر رکنی وفد نے منگل کے روز صوبائی حکومت کے اعلی حکام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا میں عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے متعلق امورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں مختلف سماجی شعبہ جات بشمول ایجوکیشن ، روڈز انفرا سٹرکچر ، ہیومن کیپیٹل، کلائمٹ چینج و دیگر شعبوں میں باہمی اشتراک کار پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر تعلیم ، صحت، سماجی بہبود، زراعت، سیاحت، روڈز انفرا سٹرکچر ، ٹیکنیکل ایجوکیشن کے شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ عالمی بینک کے وفد کی قیادت ورلڈ بینک کے ریجنل وائس پریزیڈنٹ برائے ساؤتھ ایشیاء مارٹن ریزر کر رہے تھے۔وفد کے دیگر اراکین میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نجی بن حسن بھی شامل تھے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر سید فخر جہان اور ایم این اے فیصل امین گنڈاپور کے علاؤہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور دیگر سرکاری حکام ملاقات میں موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حکام نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ترقیاتی منصوبوں میں ورلڈ بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور مستقبل میں صوبے کے سماجی شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کے سلسلے میں عالمی بینک کے تعاون کی خواہاں ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عالمی شراکت دار اداروں کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گی، چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اس لئےخیبر پختونخوا کو عالمی شراکت دار اداروں کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں انفراسٹرکچر کی تعمیر، کاروباری سرگرمیاں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اس لئے نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ٹیکنیکل سکلز سکھانے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور چونکہ خیبرپختونخوا کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اس لئے صوبائی حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور انہیں مالی طور پر بااختیار بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے نوجوانوں کو خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ وفد کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بلین ٹری پلس کا منصوبہ شامل کرنے جارہی ہے جبک آمدن کا ذریعہ بننے والے شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفد کے اراکین نے صوبے میں عالمی بینک اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے چلنے والی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت تکمیل ہر ممکن تعاون فراہم کرنے اور اشتراک کار کو مزید وسعت دینے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر صحت کا انتخابی حلقہ کا دورہ، عوام کی خدمت کی ترجیحات ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان۔
صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے اپنے حلقہ پی کے 81 لنڈی ارباب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے رباب نثار کی رہائش گاہ پر ناظمین، کونسلرز اور عہدیداروں سے ملاقات کی۔ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ عام انتخابات میں آپ لوگوں نے منتخب کیا،2024-25 کے بجٹ کی منظوری کے بعد حلقہ پی کے 81 میں ترقیاتی منصوبے شروع کروں گا۔ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ آپ لوگ میری ٹیم ہیں، ٹیم ورک سے حلقہ پی کے 81 میں ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوگا۔وزیر صحت خیبرپختونخوا سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر کو بھی جلد شروع کریں گے۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ میرا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے، آپ کو جو بھی مسائل ہوں مرحلہ وار تمام مسائل حل کریں گے۔ مساجد اور مدارس میں سولر سسٹم لگائے جائیں گے اور سرکاری سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ ہمارے طلباء اچھے ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ صحت سے متعلق حلقہ پی کے 81 میں مطلوبہ کام میری اولین ترجیح ہے۔وزیر صحت خیبرپختونخوا سید قاسم علی شاہ نے گیس سے متعلق کہا کہ مجھے علم ہے گیس کی لوڈشیڈنگ بھی کی جارہی ہے اس حوالے سے گیس کے اعلیٰ حکام سے بات چیت ہوگی، ہم اپنے حلقہ کا حق ہر صورت ان سے لیں گے۔خیبرپختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے گیس کے حوالے سے کہا کہ گرمیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کسی صورت قبول نہیں۔
طلبہ میں کھیل اور ہم نصابی سرگرمیوں کا جذبہ ہونا ایک زندہ قوم کی نشانی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ تفریحی مواقع کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ طلبہ میں کھیل اور ہم نصابی سرگرمیوں کا جذبہ ہونا ایک زندہ قوم کی نشانی ہے اور ذہنی نشونما کیلئے بچوں کو کھیلوں کے موقع فراہم کرنے چاہئیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور گرائمر سکول پشاور میں منعقدہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔مشیر کھیل نے تعلیمی ادارے میں منعقدہ ٹورنامنٹ میں فائنل جیتے والی ٹیم اور رنر آپ ٹیم میں میڈلزاور انعامات تقسیم کئے اور انھیں انکی کامیابی پر حوصلہ افزائی کی۔مشیر کھیل نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ ہمارے بچوں میں کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کا جزبہ بدرجہ اتم موجود ہے جو زندہ قوموں کی نشانی ہے۔انھوں نے کہا کہ کھیلوں میں حصہ لینا ذہنی نشونما اور تندرستی کیلئے انتہائی ضروری ہوتا ہے اسلئے ہمارے تعلیمی اداروں میں اس طرح کے مقابلوں کا انعقاد ایک خوش آئند بات ہے۔انھوں نے طلبہ سے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں شرکت ہی آگے نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر مقام حاصل کرنے کیلئے پہلی سیڑھی ہے لہذا وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں، انکا مستقل انتہائی شاندار ہوگا۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں کھیلوں کے فروغ کو انتہائی اہمیت دیتی ہے تاکہ یہاں ہمارے کھلاڑی آگے آئیں اور صوبے کے نوجوانوں کو تفریحی سرگرمیوں کے موقع میسر آسکیں۔دریں اثنا مشیر کھیل نے لاہور گرائمر سکول کے مختلف حصوں کامعائنہ بھی کیا اور وہاں پر تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
وزیر جنگلات و ماحولیات نے کہا کہ عوام کی خدمت، ترقی اورحقیقی خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیرجنگلات وماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ عمران خان کے وژن کے مطابق لوگوں کی خدمت کرنااولین ترجیح ہے کیونکہ عمران خان کے وژن میں عوام الناس کی بلاتفریق خدمت، ترقی اورحقیقی خوشحالی کاراز پوشیدہ ہے، تحریک انصاف پر لوگوں نے جس بھرپور اعتماد کااظہارکیاہے ان کے اعتماد کوٹھیس نہیں پہنچائیں گے اورہم سمجھتے ہیں کہ عوامی اعتماد ہی ہمارے لئے باعث اطمینان ہے، عوام کاپیسہ عوام پر خرچ کرناہی عوامی اعتماد پر پورااُترناہے، ان خیالات کااظہارانہوں نے میڈیا کے نمائندوں اورلوگوں سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ترقی اورخوشحالی کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے، ترقی وخوشحالی کے لئے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دی ہے، انشاء اللہ علاقائی خوشحالی اور عام لوگوں کی حالت بہتر بنائی جائیگی اورجن مقاصد کے لئے عوام نے تحریک انصاف پر اعتماد کیاہے ان مقاصد کے حصول کو یقینی بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ عوام نے تحریک انصاف سے کافی توقعات وابستہ کررکھی ہیں انشاء اللہ لوگوں کے اعتماد کے مطابق اقدامات اٹھائیں گے، انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں اوراہل علاقہ کو عزت واحترام دیناہماری ترجیحات میں شامل ہے،ہم حاکم نہیں بلکہ خادم بن کر لوگوں کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے، خودکو عوام کی خدمت کیلئے وقف کررکھا ہے اورلوگوں کی خدمت کومدنظر رکھتے ہوئے تمام تروسائل عوام کے بہتر مفادکیلئے بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کاتقاضہ ہے کہ عوام موجودہ حکومت کا دست وبازو بن کر فلاح وبہبود کیلئے اٹھائے گئے اقدامات میں اپناکرداراداکریں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی رہنمائی میں پولیو اور سائیٹ بورڈ کے اعلی سطح وفد کی ملاقات۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور سے ڈاکٹر کرسٹوفر الیئیس کی سربراہی میں پولیو اورسائیٹ بورڈ کے اعلی سطح وفد نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسف سمیت دیگر عالمی شراکت دار اداروں کے نمائندے وفد میں شامل تھے جبکہ صوبائی وزیر صحت اور محکمہ صحت کے دیگر حکام کے علاوہ نیشنل ایمرجنسی آپریشن کے حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے اقدامات، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غوروخوص کیا گیا اور پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے مل جل کر مربوط اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پولیو وائرس کا خاتمہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ صوبے سے پولیو وائرس کے خاتمے کا سہرا موجودہ صوبائی حکومت کے سر سجے۔وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے موجودہ صوبائی حکومت ایک نئے عزم کے ساتھ کام کررہی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں شراکت دار اداروں کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لئے شراکت دار اداروں کو ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی۔ وزیر اعلی نے مزید واضح کیا کہ پولیو کے خاتمے کے لئے شراکت دار ادارے اگر ایک قدم لیں گے تو صوبائی حکومت تین قدم لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کو آگہی دینے کی ضرورت ہے، اس مقصد کے لئے مقامی منتخب عوامی نمائندوں، علمائے کرام اور علاقہ عمائدین کی خدمات سے استفادہ کریں گے، منتخب عوامی نمائندے اپنے اپنے علاقوں میں پولیو مہم کا حصہ بنیں گے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اس حوالے سے صوبے کے حساس علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے
حساس علاقوں میں مقامی انتظامیہ اور شراکت دار اداروں کی باہمی مشاورت اور کوآرڈینیشن کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں ہر علاقے کے مخصوص حالات کے مطابق لائحہ عمل دے کر اس پر عملدرآمد کرنے سے بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعلی کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی دارالحکومت میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے دیگر اقدامات کے ساتھ سیوریج نظام کو مکمل طور پر انڈر گراونڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں کہا کہ صوبائی حکومت پولیو ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ دیگر حفاظتی ٹیکہ جات پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وفد نے خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لئے وزیر اعلی کے قائدانہ کردار کو سراہا اور یقین دلایا کہ وہ اس سلسلے میں بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔
