وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے پشاور میں واقع مراکز صحت کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی اور لوکل قیادت بھی ان کے ہمراہ تھی۔ انہوں نے زیر تعمیر کوہاٹی ہسپتال، پشاور جنرل ہسپتال اور ہشتنگری میں واقع میٹرنٹی سنٹر کا دورہ کیا۔پشاور جنرل ہسپتال پہنچنے پر انتظامیہ نے وزیر صحت کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال میں دس روپے کی پرچی پر تمام تر سپیشلیٹیز کا علاج اور تشخیص مہیا کیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ تکنیکی مشینری سے لیس لیبارٹری میں روزنہ کی بنیاد پر ڈھائی سے تین ہزار ٹیسٹ کئے جاتے ہیں جبکہ بریسٹ کینسر کی سکریننگ بھی ہسپتال میں دستیاب ہے۔ وزیر صحت نے ہسپتال میں دی جانیوالی صحت سہولیات اور صفائی پر عملے اور انتظامیہ کو شاباش دی۔وزیر صحت نے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کے ہمراہ مراکز صحت میں دی جانیوالی تمام سہولیات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر میڈیا اہلکاروں سے گُفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ کوہاٹی ہسپتال کو عوام کے لیے بہت جلد کھول دیا جائے گا،ہمارا مقصد عوام کو بہتر صحت سہولیات مہیا کرنا ہے، تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسزز ودیگر عملہ کی کمی کو پورا کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا کے تمام ہسپتالوں میں صحت کی خدمات کی فراہمی کو بہتر کیا جا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ 24 گھنٹے عوام کے لیے حاضر رہینگے،ہم عوام کے خادم ہیں اور عوام کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ نگران حکومت نے محکمہ صحت کا برا حال کر دیا ہے، تمام نظام ٹھیک کریں گے، عمران خان کی حکومت نے پچھلے دور میں جو ڈیلیور کیا، محکمہ صحت اب بھی بہتر ڈیلیور کرے گا،بہت سے چیلنجز ہیں لیکن انشاء اللہ ہم تمام چیلنجز کو بہتر طریقے سے عبور کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے عدلیہ کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کئی اقدامات اٹھائے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے عدلیہ کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے، مختلف عدالتوں کے ججز کی تعداد میں 100 مزید ججز کا اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ سالہا سال سے زیر التواءکیسز جلد نمٹائے جاسکیں اور عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی میں وکلاءبرادری کا کردار کلیدی ہے، موجودہ نظام کو بہتر بنانے کے عمل میں وکلاءسمیت تمام اسٹیک ہولڈرز صوبائی حکومت کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں صرف آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ڈیرہ اسماعیل خان میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈی آئی بینچ کی تقریب حلف برداری سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے بار ایسوسی ایشن کی نو منتخب کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ڈی آئی خان کی اعزازی ممبرشپ بھی دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی ہے اور کہا ہے کہ امید ہے نو منتخب کابینہ وکلاءبرادری کی فلاح و بہبود اور قانون کی بالادستی کے لئے فعال کردار ادا کرے گی۔ رول آف لاءاور فوری انصاف کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں سر فہرست ہیں اور صوبائی حکومت اسی وژن کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لئے کیسز کی نوعیت کے مطابق ان کی ڈسپوزل کے لیے ٹائم لائنز مقرر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کم سے کم مدت میں کیسز نمٹائے جائیں، اس سلسلے میں وکلاءاور عدلیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ہمارا صوبہ غریب نہیں بلکہ وسائل سے مالامال ہے اور موجودہ صوبائی حکومت صوبے کی ترقی کے لئےان وسائل کے موثر اور بہتر استعمال پر کام کر رہی ہے۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ یہ صوبہ سستی بجلی اور گیس پیدا کرکے مہنگی خریدنے پر مجبور ہے، خیبر پختونخوا سب سے زیادہ بجلی پیدا کررہا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں بد ترین لوڈشیڈنگ ہے۔لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے واپڈا کو صوبے کے لوگوں کو ریلیف دینا ہوگا۔ بجلی کی مد میں ہمارے واجبات بھی نہیں مل رہے، ہم وفاق سے صوبے کے حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور صوبے کی وکلاءبرادری اس جدوجہد میں صوبائی حکومت کا بھر پور ساتھ دے۔ صوبے کے حقوق کا حصول ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،تمام شعبوں میں اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے عوام بہت جلد تبدیلی محسوس کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی وکلاءبرادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے وکلاءکی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے انصاف لائرز فورم کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سخت وقت میں پارٹی کا بھر پور ساتھ دینے پر وہ انصاف لائرز فورم کے شکر گزار ہیں۔
فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے سربراہ سے خیبر پختونخوا میں لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے امور پر تبادلہ خیال۔
سیکرٹری لائیو سٹاک، فشریز اور کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا ڈاکٹرعنبر علی خان سے جمعرات کے روز خیبر پختونخوا میں اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے سربراہ فرخ تویروف نے ملاقات کی اور صوبے میں ایف اے او کے جاری اور نئے منصوبوں، خاص طور پر لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ڈائر یکٹر جنرل لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ خیبر پختونخواڈاکٹر اصل خان بھی موجود تھے۔ مسٹر فرخ نے ڈاکٹرعنبر علی کو ایف اے او کی سکیموں پربریفنگ دیتے ہوئے زرعی کاروبار کی ترقی، زرعی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور اس شعبے کو مرکزی دھارے کی منڈیوں سے منسلک کرنے کے لیے سہولت فراہم کرنے اور ان کی تربیت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی آرگنائزیشن صوبے کے اندر ڈیری سیکٹر کو بہتر اور جدید خطوط پر تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ یہ شعبہ بہتر نتائج اور زیادہ آمدنی کا حامل ہو۔اس موقع پر سیکرٹری لائیو سٹاک نے خیبر پختونخوا میں کسانوں کی خوشحالی اورغذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایف اے او کی مسلسل کوششوں کو سرہا۔مسٹر فرخ نے لائیو سٹاک فارمرز فیلڈ سکولز (LFFS) کے قیام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے او چھوٹے پیمانے پر ڈیری فارمرز کے لیے یہ سکولز ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا جو کسانوں کے مسائل کے بارے میں سمجھ اور مہارت میں اضافہ کے ساتھ اجتماعی طور پر انہیں حل کرنے میں مدد ملے گی اور اس شعبے کے اندر بہتری کے لئے متعدد کارروائیاں شروع ہوں گی۔ اس موقع پرمارکیٹ کنیکٹیویٹی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، د شہری منڈیوں کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دے کر مارکیٹنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ج اور کہا کہ یہ چھوٹے پیمانے پر ڈیری کاروبار کی کامیابی کے لیے اہم اقدام ہے اور ایل ایف ایف ایس بنیادی طور پر حکومت کے تعاون سے چھوٹے پیمانے کے ڈیری فارمرز پر مشتمل ہو گا، جس سے آس پاس کے علاقوں میں دیگر ترقی پسند ڈیری فارمرز کو مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی خوراک، چارے اور ٹیکنالوجیز تک بہتر رسائی سے خیبر پختونخوا کے ڈیری سیکٹر کی بہتری کی جانب تبدیلی مزید متحرک ہوگی جس کے نتیجے میں صوبے میں دودھ کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ مسٹر فرخ نے فش فارمنگ ایف اے اوکے تحت ٹی سی پی نئے منصوبے کا مقصد صوبے میں مچھلی کی کاشت کے طریقوں کو تقویت دینے کے ساتھ مجموعی معاشی ترقی فروغ دینا ہے۔
خیبر پختونخوا میں خواتین کے مسائل کا حل اور ترقی کیلئے اقدامات کی منظوری۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی مشیر برائے سماجی بہبود و ترقی نسواں مشال اعظم یوسفزئی نے کہا ہے کہ بہت جلد کے پی کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کی تعیناتی کررہے ہیں جس سے کیمشن مزید فعال ہوگا۔ خواتین کو مختلف قسم کی مشکلات و مسائل کا سامنا ہے جس میں صنفی امتیاز، گھریلو تشدد اور کم عمری کی شادی سر فہرست ہیں۔ خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لئے ہیلپ لائن بنارہے ہیں جو ہفتے کے سات دن اور 24 گھنٹے فعال ہوگی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار 22 ویں بین الصوبائی وزارتی گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بین الصوبائی وزارتی گروپ کے اجلاس میں چیئرپرسن نیشنل کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن نیلوفر بختیار، صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت رخشندہ ناز، یو این ویمن، چاروں صوبوں کے نمائندگان سمیت محکمہ سوشل ویلفیئر کے اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خواتین کو درپیش مسائل اور انکے حل پر بحث ہوئی۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی کا کہنا تھا کہ صوبے میں مشیر ہونا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے وکیل ہوں صوبے کی خواتین کے حقوق و ترقی کیلئے سب کچھ کروں گی۔ہم صنفی مساوات پر یقین رکھتے ہیں مگر یہاں خواتین کو وہ مواقعے نہیں فراہم کئے جاتے جو انکو ملنے چاہیے۔میں ایک سیاسی ورکر اور وزیراعلیٰ کی نمائندہ کی حیثیت سے آئی ہوں۔ اپنی بہنوں اوربیٹیوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کر وں گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے خواتین و بچوں کے حوالے سے صوبائی شراکت داروں کا اجلاس منعقد کیا گیا جسمیں مختلف قوانین کی اسمبلی سے منظوری کے لیے ایکشن پلان ترتیب دیا گیا۔ بہت جلد صوبائی اسمبلی سے چائلڈ میرج، گھریلو تشدد، احساس کے حوالے سے قانون سازی کریں گے۔ گھریلو تشدد کے روک تھام کیلئے ہیلپ لائن فار ویمن بنارہے ہیں۔ یو این ویمن خواتین کیلئے بہت کچھ کررہا ہے اور اسکی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ا سکے تعاون سے خواتین کیلئے مزید اقدامات کریں گے۔ یو این ویمن کی فاٹا میں خواتین کیلئے صحت و تعلیم کے شعبے میں اقدامات کے لئے تعاون درکار ہوگا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن نیشنل کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن نیلوفر بختیار نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اجلاس میں شرکت پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں خواتین کی وفاقی و صوبائی کابینہ میں نمائندگی، فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت، خواتین کے لیے صوبوں میں الگ الگ وزارت کے قیام,سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا میں کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن کے چیئرپرسن کی تعیناتی، صوبائی اسمبلیوں میں پارلیمنٹری ویمن کاکس کا قیام، چائلڈ میرج بل کے فوری اطلاق کا مطالبہ کیا گیا۔مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی نے کے پی کیمشن آن اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کی جلد تعیناتی کی یقین دھانی کرتے ہوئے کہا کہ اگر اکھٹے کام کریں گے تو کامیاب ہونگے اگر خواتین کو مواقع دئیے جائیں تو وہ سب کچھ کرسکتے ہیں۔ اجلاس میں مشیر وزیر اعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی کو چائلڈ میرج بل کا مجوزہ مسودہ پیش کیا گیا۔
خیبر پختونخوا: ماربل انڈسٹری کی ترقی اور میکانائز مائننگ کے لیے مشینری کے امور پر اجلاس
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت جمعرات کے روز محکمہ صنعت کے کمیٹی روم سول سیکریٹریٹ پشاور میں صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے میں ماربل انڈسٹری کی ترقی اور میکانائز مائننگ کیلئے پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی(پاسڈک) کو دی گئی مشینری کے امور کے حوالے سے محکمہ ہائیصنعت اور معدنیات کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکریٹری صنعت سید ذوالفقار علی شاہ،سپیشل سیکریٹری صنعت محمد انور خان،ایڈیشں ل سیکریٹری معدنیات مسرت زمان،چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے پی ایزڈمک جاوید اقبال خٹک،ڈائریکٹر ٹیوٹا منیر گل،ڈائریکٹر ٹیکنیکل معدنیات مجاہد علی کے علاؤہ دیگرمتعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ”کمپیٹیٹیو انڈسٹریز پراجیکٹ فار خیبر پختونخوا” کے تحت حاصل کی گئی مائننگ مشینری جو محکمہ معدنیات کے ذریعے وفاقی کمپنی پاسڈک کو صوبے میں ماربل سیکٹر کے اندر میکانائز مائننگ کو فروغ دینے کیلئے حوالے کی گئی تھی اس کی پرگراس کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ متعلقہ کمپنی کو ایک معاہدے کے تحت صوبائی حکومت نے 185 ایکڑ اراضی ماربل سٹی بنانے کیلئے فراہم کی تھی جسکے اندر کمیونٹی فیسلٹیشن سنٹر اور میکانائزمائننگ مشینری کیلئیایک پول قائم کرنا تھا تاکہ صوبے میں ماربل سیکٹر کو ترقی دی جا سکے اور روایتی مائننگ میں قیمتی معدنیات کے ضیاع کو روک کر میکانائز کان کنی کو فروغ دیا جائے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مذکورہ معاہدے کی رو سے 13 بھاری مشینیں حکومت نے کمپنی کو فراہم کیں جبکہ پول کو وسعت دینے کی غرض سے 13 مشینیں کمپنی نے ہی فراہم کرنی تھیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مبینہ طور پر معاہدے کے مندرجات کے مطابق کمپنی اپنی جانب سے کئے جانے والے عمل پر مکمل طور پر عمل نہیں کرسکی ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی نے کہا کہ مذکورہ کمپنی کو دی جانے والی مشینری اور معاہدے کی رو سے کمپنی کی جانب سے پول کوفراہم کرنے والی مشینری کا بغور جائزہ لیا جائے اور کمپنی کی جانب سے معاہدے کی روسے اگر کسی بھی قسم کی ممکنہ خلاف ورزی ہو چکی ہو تواس سلسلے میں قواعد وضوابط اور قانون کے تحت اس معاملے پر آگے عملدرآمد کیا جائے۔
خیبر پختونخوا کی طلباء کو با عزت روزگار کے مواقع مہیا کرنے کی ضرورت، خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ موجودہ ترقی کے اس دور میں طلبا کے ساتھ ساتھ طالبات کو بھی سکلڈ ایجوکیشن سے آراستہ کرنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ ڈگری مکمل ہونے سے پہلے پہلے مارکیٹ میں طلبہ کو باعزت روزگار کے مواقع مل سکیں اور ان کی مانگ بڑھے جس سے بیروزگاری پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے صوبائی وزیر نے۔ ان خیالات کا اظہار فرنٹیئر وومن گرلز کالج پشاور میں محکمہ اعلیٰ تعلیم اور دوستی فاؤنڈیشن کے مشترکہ تعاون سے منعقدہ دو روزہ نیشنل وومن یوتھ کیرئیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کالج کی پرنسپل روش ظہرا نے صوبائی وزیر کو کالج کے احاطے میں مختلف لگائے گئے سٹالز کا دورہ کرایا جبکہ ایونٹ کی چیف آرگنائزر سیدہ مہوش بخاری نے صوبائی وزیر کو دو روزہ تقریب کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تقریب کے انعقاد کا بنیادی مقصد طالبات کی کیریئر کونسلنگ کرانا ہے جس میں تقریبا 20 ڈیپارٹمنٹس کے ایمپلائرز آئے ہیں تاکہ ان طلبہ کو بتائیں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کہاں پر اپنی خدمات انجام دے سکتی ہیں کیونکہ ہماری زیادہ تر طالبات کو ٹیچنگ کے علاوہ کسی دوسرے شعبے کے بارے میں معلومات نہیں اس کے علاوہ کانفرنس میں مختلف مقابلے ہونگے جن میں پینٹنگ، سکلز، دستکاری، نعت، مہندی، کوکنگ اور بااختیار خواتین پر مبنی شاعری کے مقابلے شامل ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کے اندر جتنی خودار قومیں ہیں اور جن قوموں کے اندر خودی ہے وہ اونچی اڑان اڑتی ہیں انہوں نے طلبہ سے کہا کہ اپنے اندر کے ٹیلنٹ کو تلاش کریں اور اسے سامنے لائیں آپ میں ڈاکٹرز، سائنسدان، بیوروکریٹ، سیاستدان وغیرہ سب موجود ہیں آپکو اپنے اوپر اعتماد پیدا کرنا ہوگا کیونکہ مستقبل میں پاکستان کی باگ ڈور اور قیادت آپ نے سنبھالنی ہے پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ نوجوان ہیں جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔صوبائی وزیر نے منتظمین کی جانب سے کانفرنس کے انعقاد کے اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس طلبہ کی کیرئیر کونسلنگ میں مددگار ثابت ہوگی۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیر صدارت شندور پولو فیسٹیول کے انتظامات کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیر صدارت شندور پولو فیسٹیول کے انتظامات کے حوالے سے جمرات کے روز پشاور میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ، سیکرٹری محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، سیکرٹری ایڈمنسٹریشن، سیکرٹری کلچر اینڈ ٹورزم، ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن، سول ایویشن،چترال پولو ایسوسی ایشن، چیمبر آف کامرس،ٹریول ایجنٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ جبکہ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، ریجنل پولیس افسر ملاکنڈ ڈویژن، کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس، ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اپر اور لوئر چترال نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو شندور پولو فیسٹیول کے انعقاد کے حوالے سے اب تک کئے جانے والے انتظامات پر تفصیلی بریفننگ دی گئی۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے انتظامات کو حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز کرنے اور فیسٹیول کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع اور مکمل پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا کہ شندور پولو فیسٹیول سے عالمی سطح پر نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پاکستان کا ایک مثبت تاثر جائے گا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو فیسٹیول سے پہلے سیاحوں کی آمدروفت کے لیے سڑکوں پر جاری کام کو تیز کرنے اور لینڈ سلائیڈنگ ا رو دیگر حالات کے دوران ہنگامی اقدامات کے تحت بھاری مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دنیا کے سب سے بلند مقام پر واقع پولو گراؤنڈ میں منقعد ہونے والے ٹورنامنٹ کیلئے تاریخوں کا اعلان موسمی حالات کو دیکھ کر مشاورت کے بعد جلد کردیا جائیگا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیسٹیول کے انعقاد کے لیے تمام تر انتظامات کو جلد سے جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی و غیر ملکی سیاحوں، میڈیا نمائندوں و دیگر مہمانوں کی رہائش کے لیے تمام تر انتظامات کو مزید بہتر بنایا جارہا ہے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے فیسٹیول کے لیے بہترین انتظامات کی ہدایت کی تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ چترال کی دستکاری اور مقامی طور پر تیار شدہ مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے فیسٹول میں خصوصی سٹالز کا اہتمام کیا جائے۔ شندور پولو فیسٹیول کے کامیاب انعقاد سے چترال کی مقامی معشیت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد سے چترال پی آئی اے کی خصوصی فلائٹس ہوں گی جن سے سیاح استفادہ کرتے ہوئے شندور پولو فیسٹیول میں شرکت کرسکیں گے۔
خیبر پختونخوا کے مشیربرائے اطلاعات و تعلقات عامہ سے وزیرستان کے تاجر برادری نے ان کے دفتر پشاور میں ملاقات۔
خیبر پختونخوا کے مشیربرائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف سے شمالی وزیرستان کے تاجر اوردکاندار برادری اور قبائلی عمائدین نے ان کے دفتر پشاور میں ملاقات کی اور مشیر اطلاعات کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران میران شاہ بازار کو ملیامیٹ کیا گیا تھا تو ان کی دکانیں بمعہ سامان جنگ کی نذر ہوگئیں۔ وفد نے بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو بتایا کہ تحریک انصاف کی پچھلی حکومت نے متاثرہ دکانداروں کے نقصان کے ازالے اور معاوضے کیلئے فنڈ ریلیز کر دیئے تھے لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود انہیں مذکورہ رقم موصول نہیں ہوئی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفد کو ان کے معاوضے کے مسئلے کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کو اس معاملے میں آگاہ کریں گے۔ مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں دکاندار و تاجر برادری کے مسائل سے باخبر ہے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں میں بھی مصروف ہے۔ دکانداروں نے مشیر اطلاعات بیرسٹرڈاکٹر سیف کو بتایا کہ انتہاپسندوں کے خلاف آپریشن میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد دکانیں مکمل طورپر تباہ ہوگئی تھیں جن کے نقصانات کا تعین کرنے کیلئے قائم کمیٹی نے ساڑھے اکیس ارب سے زائد نقصانات کا تخمینہ لگایا، جس پر حکام نے ساڑھے چھ ارب تک کا معاوضہ دینے کی حامی بھرلی، تاہم آج دس سال گزر نے کے باوجود نقصانات کا ازالہ نہیں ہوسکا۔
وزیر صحت نے فاؤنڈیشن میں جدید مشینری کے ذریعے محفوظ انتقال خون فراہمی اور سکریننگ کوسراہا۔
حمزہ فاونڈیشن ویلفیئر تھیلیسیمیا اینڈ ہیموفیلیا سنٹر پشاور نے 8مئی تھیلیسیمیا کا عالمی دن منایا۔ اس حوالیسے منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی وزیرصحت سید قاسم علی شاہ تھے جنہوں نے کیک بھی کاٹا۔ اس موقع پر حمزہ فاؤنڈیشن کے بانی اعجازعلی خان، میڈیکل ڈائریکٹرڈاکٹر طارق نے وزیرصحت کو تفصیلی بریفنگ دی اوربتایاکہ تھیلیسیمیا میجر مریضوں کو ہر15روزبعدتازہ خون کی ضرورت ہوتی ہے اور حمزہ فاؤنڈیشن 1500رجسٹرڈ مریضوں کو ڈونیشن کے ذریعے انکیتمام اخراجات برداشت کررہی ہے تاہم اس میں حکومتی تعاون کی بھی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت صوبہ کے مختلف علاقوں سمیت دور درازاضلاع سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں غریب و مستحق تھیلیسیمیا کے مریض حمزہ فاؤنڈیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جہاں ادارے کی جانب سے ان مریضوں کوپلازما، ضروری ادویات اور خوراک مفت فراہم کی جارہی ہے۔ وزیر صحت قاسم علی شاہ نے حمزہ فاؤنڈیشن میں تمام سیکشنز و شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیاجہاں انہوں نے جدید مشینری کیذریعی مریضوں کو محفوظ انتقال خون کی فراہمی اور محفوظ سکریننگ کے اقدامات کوسراہا اور فاؤنڈیشن انتظامیہ کویقین دہانی کرائی کہ انکے ساتھ ہرقسم کا تعاون کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھیلیسیمیا کی روک تھام کیلئے وہ حکومتی سطح پرقدامات کرینگے تاکہ اس مرض کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ آخر میں تھییسیمیا کی روک تھام سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے واک کا بھی اہتمام کیا گیاجس میں تھیلیسیمیا بچوں انکے والدین اورمختلف مکاتب فکرکے لوگوں نے شرکت کی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے طلباء کو کھیلوں میں شرکت کی سرگرمیوں کے لئے حوصلہ افزائی کی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیاں ضروری ہیں طلباء کو کھیلوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے کھیل سے انسان کے اعصاب مضبوط اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے کھیل کے میدان اور عملی زندگی میں انصاف کیلیے لڑنا ہوتا ہے صوبے میں ایک ہزار گراؤنڈز بنانے کے کام کے سلسلے کو دوبارہ وہیں سے کام شروع کرینگے جہاں پر روکا تھا۔ وہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے زیر اہتمام انٹرزونل صوبائی سپورٹس مقابلوں کی تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر بطورمہمان خصوصی خطاب کررہے تھے تقریب گورنمنٹ سپرئیر سائنس کالج پشاور میں منعقد ہوئی جس میں ڈائریکٹر ہائیرایجوکیشن، ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس ہائیر ایجوکیشن، کالج پرنسل، مختلف کالجز کے پروفیسرز، اساتذہ اور سپورٹس کے مختلف مقابلوں میں اول، دوسری اور تیسری پوزیشن لینے والے ٹیموں کے کھلاڑیوں اور طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی صوبائی وزیر انے خطاب میں کہا کہ محکمہ کھیل کے ساتھ مل کر کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھیں گے خیبر پختونخوا میں کافی ٹیلنٹ موجود ہے۔ کے پی کے کھلاڑیوں کو پالش کرنے اور سہولیات دینے کی ضرورت ہے خیبر پختونخوا نے کھیل کی دنیا میں اچھے کھلاڑی پیدا کئے ہیں کے پی کے کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے اس وقت قومی کرکت ٹیم میں 7 کھلاڑیوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ ولی بال ٹیم کے 12کھلاڑیوں میں سے 11 کا تعلق کے پی سے ہے انہوں نے مذید کہا کہ انڈر16, 19, 21, اور انڈر 23 گیمز کو بہت جلد دوبارہ شروع کررہے ہیں کھلاڑیوں کے انعامات اور وظائف کو دگناہ کرینگے انہوں نے سپرئیر سائنس کالج کے پرنسپل کے مطالبہ پر ڈائریکٹر ہائیرایجوکیشن کو موقع پر ہدایت جاری کی کہ کالج میں سٹاف کی کمی کو فوری طور پر پورا کریں جبکہ انہوں نے یقین دلایا کہ کالج سے پولیس چوکی کو دوسری جگہ پر منتقل کرینگے انہوں کہا کہ ہماری حکومت کا مشن ہے کہ صوبے کے سرکاری کالجز اور جامعات کو سولرائزیشن، آٹومیشن اور ڈیجیٹالائزیشن کی طرف لے جارہے ہیں جبکہ بہت جلد محکمہ کو پیپرلیس کی طرف لے جارہے ہیں جس سے نہ صرف شفافیت ہوگی بلکہ وقت اور وسائل دونوں کی بچت ہوگی انہوں نے کہا کہ طلبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں پروفیسرز اور اساتذہ کو ایمانداری سے خدمات سر انجام دینی ہیں نظام میں بہتری لانے کیلیے ہر ایک نے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر نے انٹرزونل صوبائی سپورٹس کے مختلف مقابلوں میں اول، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے ٹیموں اور کھلاڑیوں میں ٹرافیاں، سرٹیفیکیٹس اور انعامات تقسیم کئے۔
