خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا جس میں توانائی کی پیداوار، تعلیم، فوڈ سیکیورٹی، گندم کی خریداری اور پائیدار ترقی کے علاوہ صوبے میں روزمرہ امور کے حوالے سے متعدد فیصلے کیے گئے۔کابینہ نے کوہستان لوئر میں 17 میگاواٹ کے رانولیا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بحالی کی منظوری دی۔ پراونشل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے پہلے ہی 8.1 بلین روپے کی لاگت سے اس منصوبے کی منظوری اس شرط کے ساتھ دی تھی کہ اسے صوبائی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ کابینہ نے اسے نان اے ڈی پی اسکیم کے طور پر شامل کرنے اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے اس کی مالی امداد کی منظوری دی۔کابینہ نے ضلع سوات میں ورلڈ بنک کی مالی معاونت سے 88 میگاواٹ کے گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 327 کنال اراضی کے حصول کی بھی منظوری دی۔ یہ فیصلہ پراجیکٹ کے پی سی ون کے مطابق کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے شروع ہونے پر صوبے کے لیے سالانہ 7.4 بلین روپے سے زیادہ کی آمدن متوقع ہے۔صوبائی کابینہ نے دریائے کنہار مانسہرہ پر 300 میگاواٹ کے بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر عمل درآمد کے لیے ویلیوایشن اسٹڈی کی بنیاد پر اراضی اور تعمیر شدہ جائیداد کے حوالے سے اضافی معاوضے کی منظوری بھی دی۔ اس معاوضے میں اضافہ (286.362 ملین روپے) کنسلٹنٹ کی سفارشات، علاقے کے لوگوں کی فلاح و بہبود اور پروجیکٹ سائٹ پر انجینئرز اور ورکرز کے لیے بہتر ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شروع ہونے کے بعد یہ رقم اس پروجیکٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے چار دنوں کے اندر وصول کر لی جائے گی۔کابینہ نے گاڑیوں کی مینوئل رجسٹریشن بکس کو خودکار موٹر وہیکل رجسٹریشن سمارٹ کارڈز میں منتقل کرنے کی منظوری دی۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے 2022 میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی فراہمی اور سمارٹ کارڈز کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت کی نیشنل سیکیورٹی پرنٹنگ کمپنی کے ساتھ پہلے ہی مفاہمت پر دستخط کیے تھے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کے مقابلے خیبرپختونخوا میں سمارٹ کارڈ رجسٹریشن کے ریٹ 574 روپے ہوں گے۔ یہ رجسٹریشن فیس اسلام آباد میں 1475، پنجاب میں 530 اور صوبہ سندھ میں 1600 روپے ہے۔ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع میں اے آئی پی کے تحت سابقہ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فنڈز کے استعمال کی بھی منظوری دی۔ یہ فنڈ 500 ملین پرنسپل اماونٹ اور 43 ملین جمع شدہ مارک اپ پر مشتمل ہے۔ فنڈ کے زریعے ضم اضلاع میں چھوٹے کاروباروں کو مائیکرو فنانس (اخوت اسلامی مائیکرو فنانس) کیا جائے گا۔کابینہ نے پناہ کوٹ اپر دیر میں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 34 کنال سے زائد اراضی کے حصول کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے خیبرپختونخوا گوڈاؤن رجسٹریشن ایکٹ 2021 کے مطابق خیبر پختونخوا رجسٹریشن رولز 2022 کے نفاذ کی منظوری دی۔ اس ایکٹ کے ذریعے گوداموں کو رجسٹرڈ اور ریگولیٹ کیا جاتا ہے تاکہ صوبے میں سامان کی مستحکم فراہمی اور دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے جامع نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔کابینہ نے صوبے کے سرکاری سکولوں کے ہونہار طلباء کو صوبے کے معیاری تعلیمی اداروں میں ساتویں سے بارہویں جماعت تک مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی کی منظوری دی۔ وزیر اعلیٰ کی تجویز پر کابینہ نے ماہانہ وظیفہ کی رقم اور طلباء کی تعداد کو اگلے تعلیمی سال سے دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ کابینہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ نصابی کتب اور متعلقہ سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کوئی بھی طالب علم تعلیم سے محروم نہ رہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سیاحت کی فروغ کیلئے جدید اقدامات کا فیصلہ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے سیاحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سیاحت کو بطور صنعت فروغ دینے کیلئے محکمہ سیاحت کے حکام سے تفصیلی پلان طلب کر لیا ہے وزیراعلیٰ نے سیاحت کے شعبے میں ملکی اورغیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کی خاطر خواہ استعداد موجود ہے اسے زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صوبے کیلئے آمدن بھی حاصل کی جاسکے ۔وہ گذشتہ روز محکمہ سیاحت کے پہلے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سیاحت زاہد چن زیب کے علاوہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان اور محکمہ سیاحت کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو محکمہ سیاحت کے انتظامی اُمور ، محکمہ کے زیر انتظام نیم سرکاری اداروں ، ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے علاوہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنز میں قائم کئے جانے والے انٹگریٹیڈ ٹوارزم زونز پر بھی بریفنگ دی گئی ۔وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت کے حکام کوایکو ٹوارزم کے فروغ کیلئے جامع پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ بنانے اور ماحول دوست سیاحت کو پروان چڑھانے کیلئے معمول سے ہٹ کر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اُنہوںنے گنجان آباد سیاحتی مقامات پر متبادل بازار قائم کرنے جبکہ نئے قائم کئے جانے والے سیاحتی مقامات کی پلاننگ میں کار پارکنگ ایریا کو بطور لازمی جز شامل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ علی امین گنڈا پور نے سیاحتی مقامات پر سیاحو ں کو تفریحی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھانے کے ساتھ ساتھ ان مقامات پر پینے کے صاف پانی اور پائیدار سیوریج سسٹم بنا نے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اُنہوںنے سیاحتی مقامات تک جانے والی سڑکوں پر مخصوص فاصلے پر ریسٹ ایریا ز اور مساجد تعمیر کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت کی ملکیتی جائیدادوں کے مو¿ثر اور دانشمندانہ استعمال کیلئے پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ جائیدادیں سیاحوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ صوبے کیلئے آمدن کا بھی ذریعہ بنیں گی ۔اُنہوںنے کہاکہ سرکاری سیاحتی مقامات کی لیز پالیسی کی درجہ بندی کی جائے تاکہ چھوٹے اور بڑے دونوں سرمایہ کاروں کو موقع مل سکے ۔ سیاحتی مقامات پر سرمایہ کاری میں لوگوں کو پہلی ترجیح دی جائے اور] سیاحت پر منحصرروزگاروالے علاقوں کو خصوصی توجہ دی جائے ۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ شعبہ سیاحت حکومت کی ترجیحی فہرست میں شامل ہے اس کے فروغ کیلئے غیر روایتی طریقے سے کام کرنا ہو گا کیونکہ اس شعبے کو ترقی دے کر ہی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ اُنہوںنے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایبٹ آباد ، مانسہرہ، سوات اور چترال میں انٹگریٹیڈ ٹوارزم زونز کے قیام پر کام تیز کیا جائے اور ان زونز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ علی امین خان گنڈا پور نے سیاحتی مقامات پر لوگوں کی سہولت کیلئے بین الاقوامی معیار کے مزید کیمپنگ پاڈز نصب کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت کے زیر انتظام نیم سرکاری اداروں کے بورڈ ز میں پیشہ ور افراد کو شامل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ بورڈز میں پرائیویٹ اراکین کی تعداد بڑھائی جائے جبکہ اس مقصد کیلئے متعلقہ قوانین میں ترامیم تجویز کی جائیں ۔
وزیر صحت خیبرپختونخوا سید قاسم علی شاہ کا ایل آر ایچ دورہ، آپریشن تھیٹرز کمپلیکس کا افتتا
ہسپتال ایکٹنگ ترجمان ناہید جہانگیر کے مطابق وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے ایل آر ایچ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بورڈ آف گورنرز چیئرمین پروفیسر محمد زبیر خان،ممبر بی او جی اسد اللہ چمکنی،ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابرار خان خٹک، ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر طارق برکی،میڈیکل ڈائریکٹر حامد شہزاد،نرسنگ ڈائریکٹر سمیت ہسپتال اعلیٰ حکام موجود تھے جن کی جانب سے مہمان وزیر صحت کو خوش آمدید کہا گیا۔ وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے ایل آر ایچ دورے کے موقع پر میڈ سرج میں جدید آپریشن تھیٹرز کمپلیکس کا افتتاح کیا۔ترجمان کے مطابق ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابرار خان نے سید قاسم علی شاہ وزیر صحت کو ہسپتال کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اس موقع پر ہسپتال ڈائریکٹر نے ہسپتال بجٹ،صحت سہولت کارڈ، ماس ایمرجنسی سمیت مالی بحران کے حوالے سے مکمل تفصیل بیان کی۔ چئیرمین بورڈ آف گورنرز پروفیسر محمد زبیر خان نے وزیر صحت قاسم علی شاہ کو ایل آر ایچ میں نرسنگ کالج اور میڈیکل کالج کے قیام کے حوالے سے بتایا جس کے بجٹ کی فراہمی کے لیے وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی۔اس دورے کے دوران وزیر صحت کی جانب سے ایل آر ایچ آئی سی یو بیڈز کو 100 تک بڑھانے کی بھی یقین دھانی کرائی گئی۔اختتام پر وزیر صحت قاسم علی شاہ نے میڈ سرج کے سامنے پودا لگایا جبکہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے مہمان کو شیلڈ پیش کی گئی۔
وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کا اظہار: چینی یونیورسٹیوں کی طلباء و طالبات کے لئے سکالرشپس کا اجراء مستحسن ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ چینی یونیورسٹیوں کی جانب سے پاکستان باالخصوص خیبر پختونخوا کے طلباء و طالبات کے لئے سکالرشپس کا اجراء لائق ستائش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں چینی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ ہمارے طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اپنے دورے کے موقع پر صوبائی وزیر نے چائنہ ونڈو کی مختلف گیلریاں دیکھیں، فرینڈ شپ وال پر دست خط اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے میڈیا سے بات چیت میں صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی مثالی ہے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لئے ہمیں ٹیکنالوجی کی ٹرانسفارمیشن کی جانب بڑھنا ہو گااور انہیں یقین ہے کہ سی پیک منصوبہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے بھی ایک اہم منصوبہ شمار کیا جائے گا۔ انہوں نے پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز کو پاک چین دوستی کا شاندار مرکز قرار دیتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ پشاور سے اہل چین کو دوستی کا پیغام بھیجنا لائق ستائش جبکہ چائنہ ونڈو میں چینی زبان سکھانے کا پروگرام بھی لائق تحسین ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے یقین دلایا کہ پاک چین تعلقات خاص طور پر عوامی سطح پر رابطوں کے لئے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ ان کی حکومت صوبے میں قائم یونیورسٹیوں کی مالی حالت بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدمات لینے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلہ میں چینی ماڈل کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ قبل ازیں صوبائی وزیر کو چائنہ ونڈو کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ چینی ادارے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر تعلیم کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرنے لئے پرجوش ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت ایبٹ اباد پبلک سکول کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ ہمارے سینٹر آف ایکسیلنس پبلک سکولز معیاری تعلیم کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات اعلیٰ پوزیشنز پر تعینات ہو کر ملک کو قوم کی بہتر خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن کے زیر انتظام ان پبلک سکول کو ہم مزید بہتر کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں اور ان کے جملہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ بیسڈ ٹیسٹس کے ذریعے صوبہ بھر کے تمام قابل اور ذہین طلباء و طالبات کو ان سکولوں میں داخلے کے یکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ آباد پبلک سکول کے بورڈ آف گورنرز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن ثمرگل، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عبدالاکرم ایبٹ آباد پبلک سکول کے پرنسپل خالد بشیر اور بورڈ اف گورنرز کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اس موقع پر سابقہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اور میٹنگ منٹس بشمول بجٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ملازمین کی پینشن میں اضافے اور فیس سٹرکچر میں اضافے کو زیر غور لایا گیا اسی طرح سیلف فائنانس سکیم کے تحت 20 فیصد داخلہ سکیم پر بھی تفصیلی بحث ہوئی جس کے متعلق فیصلہ ہوا کہ کمیٹی کے سفارشات کے مطابق اگلے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں کالج کے اکاؤنٹس آڈٹ کمیٹی کی منظوری بھی دی گئی۔ رضاکارانہ پنشن سکیم کے متعلق فیصلہ ہوا کہ تمام سفارشات اگلے اجلاس میں پیش کی جائیں۔ اجلاس میں کالج کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی قائم کرنے کے سفارشات کی بھی منظوری دی گئی۔ کالج پرنسپل نے فورم کو آگاہ کیا کہ سابقہ تین سالوں سے صرف کنٹریکٹ پر اساتذہ اور دیگر عملہ کی تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ تاکہ ادارے پر پینشن کا مزید بوجھ نہ پڑ سکے اسی طرح مختلف نصابی اور ہم نے نصابی سرگرمیوں میں کالج کی کارکردگی بھی قابل تعریف رہی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے پبلک سکولز کے حوالے سے مزید کہا کہ ہمارے یہ ادارے بورڈز امتحانات میں اچھے نتائج دے رہے ہیں۔ میرٹ پر بچوں کو داخلہ ملتا ہے اور ان کو بہترین تربیت فراہم کی جاتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ایٹا سکالرشپس کے تحت منتخب طلبہ و طالبات کو انہی بہترین اداروں میں مفت تعلیم دی جاتی ہے جس کے تمام احراجات حکومت برداشت کرتی ہے جبکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کسی بھی مقابلے کے امتحانات میں دیگر اداروں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں جو کہ ہمارے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کے بعد ان اداروں کے بورڈز اجلاس جلد بلائے جائیں گے تاکہ بروقت فیصلے کئے جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عنقریب ان اداروں کا دورہ بھی کریں گے اور وہاں موجود سہولیات اور مسائل کا جائزہ لے کر عملی اقدامات کریں گے۔
مشیر کھیل سے صوبے میں پختونخوا کرکٹ لیگ کے انعقاد کے حوالے سے تبادلہ خیال۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان سے منگل کے روز پشاور میں 1992 کے کرکٹ ورلڈ میں پاکستانی سکواڈ کے ممبر اور عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی راشد لطیف اور سابقہ عالمی کھلاڑی وجاہت اللہ واسطی نے ملاقات کی اور انکے ساتھ صوبے میں کرکٹ کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران ممبر صوبائی اسمبلی عبدالمنعم خان کے علاؤہ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس عبدالناصراور محکمہ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر مشیر کھیل اور عالمی کھلاڑیوں کے مابین صوبے میں کھیلوں کی ترقی اور خصوصی طور پر یہاں پر انٹرنیشل کرکٹ کے ایونٹس کے انعقاد کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات کے دوران مشیر کھیل کو دونوں کھلاڑیوں نے صوبے میں پختونخوا کرکٹ لیگ کے نام سے ایک کرکٹ ایونٹ منعقد کرانے کی تجویز پیش کی جس میں قومی اور بین الاقوامی کھلاڑی حصہ لیں گے۔اس سلسلے میں عالمی کھلاڑیوں سے مشیر کھیل کا کہنا تھا کہ مذکورہ ایونٹ کےانعقاد کے حوالے سے ایک معقول پروپوزل انھیں پیش کی جائے جس کا ہر پہلو سےتفصیلی جائزہ لیکر اس حوالے سےحتمی فیصلہ لیا جائے گا۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں کرکٹ کے فروغ کیلئے لیگز بھی کھیلے جائیں گے اور ہماری یہ کوشش ہے کہ صوبے میں انٹرنیشنل کرکٹ بھی جلد از جلد کھیلیں۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں عالمی کرکٹ کیلئے تمام ترانتظامات مکمل کرنے کیلئے چارج سنبھالنے کے ساتھ ہی یہ ہدایات دی ہیں کہ ارباب نیاز سٹیڈیم کو عالمی معیارات کے مطابق بنانے کیلئے اس کا تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام پرامن،مہمان نواز اور معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کے عکاس ہیں اور ان صحت مندانہ سرگرمیوں کے ذریعے ہم باہر دنیا کو صوبے کے بارے میں ایک مثبت تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔سید فخر جہان نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر اور کھلاڑیوں کو بہتر ماحول کی فراہمی اولین ترجیح ہے اور ہم یہاں پر نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کے فروغ کی خاطر یہاں پر کھیلوں کے فروغ کیلئے نتیجہ خیز کوششیں کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی: فنی تعلیمی اداروں کو مالی استحکام کے لئے ہنر سکھانے کی تربیت گاہوں بنایا جائے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر نے صوبے میں فنی تعلیم کے شعبے کی پائداری اورمالی خود انحصاری کیلئے فنی تعلیمی اداروں کو ہنر سکھانے کی تربیت گاہوں کے ساتھ ساتھ انھیں ریسورس جنریشن کا ذریعہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ٹیوٹا کے ورکشاپس اور لیبز کو طلبہ کی پریکٹیکل ٹریننگ کیساتھ ساتھ ادارے کی مالی استحکام کیلئے ایک ذریعہ آمدن بنانے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مستقبل میں یہ ادارہ اپنے مالی ضروریات کیلئے حکومت بر بجھ نہ بنے اور انکے اپنے وسائل بڑھ کر یہ ایک فعال اور کامیاب شعبے کے طور پر سامنے آئے۔انھوں نے اس سلسلے میں آج گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ فار بوائز سردار گڑھی کا دورہ کیا اور وہاں پر ادارے کے مختلف کلاسز اور تربیتی لیبز اور ورکشاپس کا معائنہ کیا۔منیجنگ ڈائریکٹر ٹیوٹا عامر آفاق ،ڈائریکٹر فنانس ٹیوٹا منیر گل اور انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل انجینئر عارف نعیم بھی اس موقع پر موجود تھے۔ معاون خصوصی نے ادارے میں مختلف کمرشل پروڈکشنز کیلئے امکانی شعبوں اور ذرائع کا جائزہ لیا اور موقع پر کالج انتظامیہ اور ٹیوٹا کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ کالج میں قائم ورکشاپس اور لیبز کو طلبہ کی تربیت کیساتھ کمرشل مقاصد کیلئے استعمال میں لانے کیلئے امکانی ماڈلز کے حوالے سے ایک جامع پلان تیار کرے تاکہ ان قومی وسائل اور اثاثوں کو ٹیوٹا کے قومی ادارے کی فلاح و بہبود اور پائداری کیلئے استعمال میں لایا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ پلان میں ان پہلووں کا خیال رکھا جائے کہ فنی ادارے کے تربیتی وسائل کو ہم کسطرح زیادہ مفید انداز میں استعمال میں لا سکتے ہیں اور یہاں کے پروڈکشن کو مارکیٹ کیساتھ لنک کرنے کے ذرایع کو بھی پلان کا حصہ بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اس اقدام سے ایک طرف اگر طلبہ کی پریکٹیکل تربیت کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی تو دوسری طرف یہاں بنائے جانے والے پیداواری اشیا سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ٹیوٹا کی مالی استحکام کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام پر زور
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپورکی زیر صدارت خیبر پختونخوا انٹیگریٹڈ سکیورٹی آرکیٹیکچر(KPISA) کی ایپکس کمیٹی کا چوتھا اہم اجلاس منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منقعد ہوا جس میں صوبے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کےلئے فورم کے گذشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور سول اور عسکری حکام کی جانب سے دہشتگردی میں معاون ثابت ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں بشمول بھتہ خوری، حوالہ ہنڈی، غیر قانونی اسلحہ، اسمگلنگ، جعلی دستاویز سازی، منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات،صوبائی کابینہ اراکین میاں خلیق الرحمن، بیرسٹر محمد علی سیف، مزمل اسلم ، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری،آئی جی پی خیبر پختونخوا اختر حیات خان گنڈا پور کے علاوہ اعلیٰ سول و عسکری حکام اور متعلقہ وفاقی اداروں کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کےلئے متعلقہ صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زوردیا گیا اور غیر قانونی سرگرمیوں کی مو¿ثر روک تھام کےلئے وفاق سے جڑے مسائل کو حل کرنے کےلئے سنٹرل ایپکس کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد کرنے کی سفارش کی گئی۔اجلاس میں این سی پی گاڑیوں کی پرو فائلنگ سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے علاوہ دہشتگردی میں معاون ثابت ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی موثر روک تھام کےلئے سخت اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، ان سرگرمیوں کے مو¿ثر تدارک کےلئے متعلقہ وفاقی و صوبائی محکمے اور انٹیلیجنس ادارے مل کر مربوط کاروائیاں کریں گے۔اجلاس میں بھتہ خوری اور منشیات کوسنگین مسئلہ قراردیا گیا جبکہ بھتہ خوری کے مو¿ثر سدباب کےلئے تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹاسک فورس بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بھتہ خوری کے مسئلے سے موثر انداز میں نمٹنے کےلئے سی ٹی ڈی کے اختیارات کو بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کرنے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا۔شرکاءنے اسمگلنگ ، بھتہ خوری اور منشیات کے استعمال سمیت دیگر غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث عناصر سے آ ہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اسمگلنگ میں معاونت فراہم کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسمگلنگ کی روک تھام کےلئے جوائنٹ چیک پوسٹوں کو مضبوط بنانے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا فیصلہ بھی ہواہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی پر خصوصی نظر رکھنے اور ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزائیں دینے کےلئے قوانین میں ترمیم کرنے جبکہ منشیات کی تیاری اور سپلائی میں ملوث بڑے مگر مچھوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کےلئے اسٹیٹ آف دی آرٹ بحالی مرکز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں غیر قانونی اور ممنوعہ اشیاءکی اسمگلنگ کی روک تھام کےلئے مو¿ثر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بنانے ،غیر قانونی سرگرمیوں کے تدارک کےلئے پولیس، ایکسائز، کسٹم، اے این ایف اور دیگر اداروں کو مضبوط بنانے جبکہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کےلئے اضلاع کی سطح پر بنائی گئی کمیٹیوں کو مزید موثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں مل بیٹھ کر قابل عمل پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں چلنے والی این سی پی گاڑیوں سے متعلق کوئی حتمی فیصلے کےلئے وفاق سے معاملہ اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ایپکس کمیٹی اجلاس میں دھماکہ خیز مواد کے غیر قانونی استعمال کے تدارک سے متعلق امور پر غوروخوض اور اہم فیصلے کئے گئے ۔صوبے میں شادی بیاہ اور دیگر تقاریب میں آتش بازی پر پابندی لگانے جبکہ دھماکہ خیز مواد کے کاروبار کےلئے پہلے سے جاری کردہ اجازت ناموں کے آڈٹ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔مزید برآں اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایکسپلوسیو کمیٹیوں کے مانیٹرنگ سسٹم کو مو¿ثر بنانے کا فیصلہ بھی ہواہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی عالمی ادارہ صحت کے وفد سے ملاقات، صحتی امور اور تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے پیر کے روز عالمی ادارہ صحت کے وفد نے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر لو دیپنگ کی سربراہی میں وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ملاقات کی جس میں صوبے میں عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے چلنے والے پروگراموں سے متعلق اُمور پر گفتگو کے علاوہ صوبائی حکومت اور عالمی ادارہ صحت کے مابین تعاون اور اشتراک کار کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کے علاوہ دیگر سرکاری حکام بھی موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ صوبائی حکومت عالمی ادارہ صحت کے اشتراک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ، صحت عامہ خصوصاً پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے عالمی ادارہ صحت کا کردار قابل ستائش ہے ۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت انسداد پولیو پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ خیبرپختونخوا اور پورے ملک سے اس موذی وائرس کا خاتمہ کیا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت پرائمری ہیلتھ کیئر کے شعبے کو مضبو ط بنانے پر کام کر رہی ہے اس مقصد کیلئے مقامی سطح پر قائم مراکز صحت کو تمام درکار طبی آلات اور عملہ فراہم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ لوگوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے وسیع پیمانے پر عوامی آگہی کا پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔رواں سیزن میں ڈینگی کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے پلان مرتب کر لیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت ان شعبوں میں ڈونر اداروں کے اشتراک اور تعاون کا خیر مقدم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع چارسدہ میں عالمی ادارہ صحت کا یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام قابل تحسین ہے اسے دوسرے اضلاع تک توسیع دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے زیادہ سے زیادہ لوگ اس پروگرام سے مستفید ہوں۔ عالمی ادارہ صحت کے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر لو دیپنگ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عالمی ادارہ صحت صوبائی حکومت کے اشتراک سے خیبرپختونخوا میں صحت عامہ کے مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے ، صوبائی حکومت کا صحت عامہ کے پروگراموں پر عمل درآمد کے سلسلے میں کردار قابل ستائش ہے ۔ ڈبلیو ایچ او انسداد پولیو پوگرام کے حوالے سے صوبائی حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ کے قائدانہ کردار کا معترف ہے ۔ ڈبلیو ایچ او صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی کا بجلی چوری کے الفاظ کی مذمت،سیاستی نشستوں کے بارے میں پریس کانفرنس
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ وہ کسی کے منہ سے صوبے کے عوام کے لئے بجلی چور کا لفظ برداشت نہیں کریں گے، صوبے کے عوام چور نہیں بلکہ واپڈا اور واپڈا والے چور ہیں جو لوگوں کو بجلی چوری کرنے پر مجبور کرتے ہیں، وفاقی حکومت ایک طرف صوبے میں بجلی چوری روکنے کےلئے خط لکھ رہی ہے تو دوسری طرف واپڈا کی طرف سے صوبے کے لوگوں پر ایف آئی آرز درج کی جارہی ہیں۔ اگر وفاقی حکومت صوبے میں بجلی کے معاملات درست کرنے میں سنجیدہ ہے تو ہم بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں لیکن یہ کسی صورت قبول نہیں ، ہمارے لوگوں کو بے جا تنگ کیا جائے۔ صوبے میں بجلی کا جو بھی خسارہ ہوگا میں اس کی ذمہ داری لینے کےلئے تیار ہوں ، وفاق کے ذمے بجلی کی مد میں ہمارے 1510 ارب روپے بقایا جات ہیں، وفاق ان بقایاجات کی بات کبھی نہیں کرتا اور صرف ہمارے صوبے کے لوگوں کو چور چور کہنے پر لگا ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔ وفاقی حکومت کو بجلی کے بقایاجات کی ادائیگی کے معاملے پر بات چیت کرنے کی کئی بار پیش کش کی ہے ، یہ بقایاجات ہمارے صوبے کے عوام کا حق ہے اور یہ حق ہم ہر صورت لے کر رہیں گے ، اگر میں صوبے کا حق نہیں لے سکا تو مجھے اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی شوق نہیں ۔ میں نے وفاق کو صوبے میں بجلی کے لاسز کے لئے ان بقایاجات سے کٹوتی کرنے کی بھی آفر کی ہے۔بجلی کے حوالے سے صوبے میں اگر کوئی غیر قانونی کام ہورہا ہے تو ہم اس کو روکنے کے لئے تیار ہیں لیکن ہمارے لوگوں کو چور کہنا بند کیا جائے ، صوبے کے عوام نے اس ملک کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں یہ ان قربانیوں کی توہین ہے۔ ہم ہر طرح کی بات چیت کےلئے تیار ہیں لیکن اگر کوئی ہمارے ساتھ بدمعاشی کرنا چاہتا ہے تو میں واضح پیغام دیتا ہوں کہ بدمعاشی نہیں چلے گی اور نہ ہم کسی کی بدمعاشی برداشت کریں گے۔
وہ پیر کے روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ملک میں حالیہ ضمنی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ پنجاب میں ضمنی انتخابات میں ٹرن آوٹ عام ا نتخابات کی نسبت 50 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے ، پنجاب میں حالیہ انتخابات میں 8 فروری کے انتخابات سے بھی زیادہ دھاندلی ہوئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں ضمنی انتخابات مکمل طور پر صاف وشفاف ہوئے ہیں، صوبائی حکومت نے ان انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کی اور ان انتخابات میں عوام نے جس کو بھی اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے ہم اسے مبارکباد دیتے ہیں اور عوام کی رائے کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں اور یہی عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا وژن ہے۔ سینٹ الیکشن کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سینٹ کا ایوان مکمل نہیں کیونکہ ایک صوبے میں سینٹ کے انتخابات ہی نہیں ہوئے ہیں ۔ مخصوص نشستوں سے متعلق علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کو دوسری پارٹیوں میں بانٹنا غیر آئینی اور غیر قانونی کام ہے اور پی ٹی آئی کے حق پر ڈاکہ ہے، ہم اپنا حق واپس لینے کےلئے ہر قانونی، آئینی اور سیاسی راستہ اپنائیں گے اور اپنا حق لے کر رہیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر اس سلسلے میں ایکسپوز ہواہے اور مزید ایکسپوز ہو رہا ہے ۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر جو ممبران نوٹیفائی ہوئے ہیں وہ غیر قانونی ہیں۔ ان سے حلف لینے کے معاملے پر ہم نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
