Home Blog Page 266

وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی کو جمعرات کے روزپشاور میں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی کو جمعرات کے روزپشاور میں محکمہ محاصلات ت و تعمیر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات محمد اسرار خان، پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔معاون خصوصی کو پراجیکٹ ڈائریکٹر زنے اپنے اپنے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ صوبے میں مواصلات و تعمیر رات کے زیر انتظام کئی ایک منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے جن میں سڑکوں ہائی ویز سکولوں ہسپتالوں اور محکمہ کی بلڈنگ کی تعمیرات شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ عوامی ترقی کے منصوبے ایشین ڈیوپلمنٹ بینک اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے صوبے کے تمام اضلاع میں مکمل کیئے جارہے ہیں۔ معاون خصوصی نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ترقیاتی عمل کو مقررہ مدت میں پایا تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ صوبے کے عوام حکومت کے ان ترقیاتی منصوبوں سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن کی بدولت محکمے کی آمدن میں اضافہ ہو سکے اوراس آمدن کو صوبے میں دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جا سکے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے عوامی مسائل کے حل کے لیے اختیار عوام کا پورٹل کا اجراء کر دیا۔

خیبرپختونخوا حکومت نے بہتر طرز حکمرانی کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر ‘اختیار عوام کا’ کے نام سے خصوصی پورٹل کا اجراءکر دیا ہے۔ اس سلسلے میں بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے پورٹل کا با ضابطہ اجراءکیا۔ اب سے شہری اپنے مسائل کے حوالے سے شکایات اس پورٹل پر درج کرا سکیں گے۔ ‘اختیار عوام کا’  پورٹل ہفتہ بھر 24 گھنٹے عوامی خدمت کی فراہمی اور شکایات کے ازالے پر کام کرے گا۔ مزید برآں شکایات کی ریئل ٹائم ٹریکنگ اور مانیٹرنگ بھی اسی پورٹل کے ذریعے کی جائےگی۔ سمندر پار پاکستانی بھی اپنے مسائل/ شکایات اسی پورٹل پر درج کرا سکیں گے۔ شہریوں کا فیڈ بیک، تجاویز اور آراءبھی اسی پورٹل کے ذریعے لی جائیں گی۔ اس پورٹل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تجزیات و رپورٹنگ بھی کی جائے گی۔ “اختیار عوام کا” پورٹل عوامی شکایات کے حل کے لئے ایک مربوط نظام کے علاو¿ہ حکومت اور عوام کے مابین رابطے کے ایک مو¿ثر نظام کے طور پر بھی کام کرے گا۔ پورٹل کے ذریعے حکومتی فیصلہ سازی میں عوام کی بھر پور شرکت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ علاو¿ہ ازیں پورٹل میں موجود آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بنیاد پر عوامی شکایات کی نوعیت کا تعین کیا جاسکے گا اور شکایات کی نوعیت کے مطابق ان کے حل لئے ٹائم لائینز کا بھی تعین کیا جائے گا۔عوام کی سہولت کے لئے اس پورٹل میں شکایات کے اندراج کا آسان طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور شکایت کنندگان کی معلومات کی حفاظت اور رازداری کا مو¿ثر نظام دیا گیا ہے۔یہ پورٹل موبائل ایپ، واٹس ایپ، ای میل، ٹیلی فون اور تحریری درخواست کی صورت میں صارفین کے لئے دستیاب ہوگا۔ تمام محکموں اور افسران کے لئے ڈیش بورڈ فراہم کیا گیا ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے حکومتی ایجنڈے اور فیصلوں پر تیز رفتار عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے گا۔حکومتی معاملات میں شفافیت اور سرکاری حکام کی جوابدہی یقینی ہوگی۔ اسی طرح حکومتی وسائل کا بہتر اور دانشمندانہ استعمال اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی پورٹل کی خصوصیات میں شامل ہیں۔ پورٹل کے ذریعے حکومت پر عوامی اعتماد میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت کے مثبت عوامی تاثر کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اختیار عوام کا پورٹل کے اجراءکا مقصد عوام کے مسائل کا فوری حل ہے، جب تک عوام اور حکومت کے درمیان روابط نہیں ہونگے، بہتر طرز حکمرانی ممکن نہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت کی اصل ٹیم عوام ہیں، اس لیے ہم  اختیار عوام کو دے رہے ہیں۔ عوام اپنے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا معیار یقینی بنانے اور خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں حکومت کی معاونت کریں۔ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ ماضی کے تجربات کو مد نظر رکھ کر اختیار عوام کا پورٹل بنایا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ اس پورٹل میں وہ کمی / خامی نہ ہو جو دیگر پورٹلز میں تھیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب تک شکایت گزار مطمئن نہیں ہوگا،اس کی شکایت بند نہیں کی جائے گی۔ ہم اختیار عوام کو دے رہے ہیں، انکے مسائل کا حل ہماری ترجیح ہے۔ عوام اپنی شکایات اس پورٹل پر درج کرائیں ، ہم انکا ازالہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے سول انتظامیہ کو 99نکات پر مشتمل عوامی ایجنڈا بھی دیا گیا ہے جس پر عملدرآمد کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ صوبائی کابینہ اراکین کے علاوہ قائم مقام چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے تقریب میں شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنرز، ریجنل پولیس آفسران، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک تقریب میں شرکت کی۔

خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ کا 13 واں اجلاس

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا13واں اجلاس بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ نے ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ڈبٹ مینجمنٹ فنڈ کے قیام اور اس کے لئے قواعد و ضوابط کی منظوری دی۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کی مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی درخواست دائر کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے صوبے میں بڑھتے ہوئے قرضوں اور اس ضمن میں اخراجات اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے منفی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈبٹ مینجمنٹ فنڈ کے قیام کو نہایت اہم قرار دیاہے تا کہ صوبے کے قرضوں کی واپسی کی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے منظم کرتے ہوئے مالیاتی استحکام کو یقینی بنا یا جائے۔فنڈ کے قیام کا فیصلہ خیبر پختونخوا پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ 2022 کے سیکشن 36 (1) کے تحت کیا گیا ہے، ڈبٹ مینجمنٹ فنڈ کے ذریعے سرکاری خزانے سے غیر استعمال شدہ بیلنس کو بہتر سرمایہ کاری کے لئے استعمال میں لایا جائیگا۔ یہ فنڈ نہ صرف بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کا ذریعہ بنے گا بلکہ بہتر مالی انتظام کو بھی یقینی بنائے گا، تاکہ صوبہ اپنی مالی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھا سکے اور عوامی خدمات کی فراہمی پر خرچ کرنے کے لیے وافر فنڈزبروقت دستیاب ہوں۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا ڈبٹ مینجمنٹ فنڈ کے قواعد 2024 کا مسودہ بھی منظور کیا گیا، جو مجوزہ فنڈ کے کنٹرول، انتظام، استعمال اور نگرانی کے حوالے سے ہے۔ صوبائی کابینہ نے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کی وفاقی وزارت کی جانب سے اسلامی ترقیاتی بینک سے ”انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے غربت سے نجات کے منصوبے” کے لیے 118.4 ملین امریکی ڈالر قرض لینے کی پیشکش/فیصلے کو مسترد کیا ہے۔ یہ فیصلہ خیبر پختونخوا کے موجودہ قرض کے بوجھ اور متبادل فنڈنگ ذرائع کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا، جو کم لاگت اور زیادہ سازگار شرائط پیش کرتے ہیں۔مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی درخواست دائر کرنے کے حوالے سے کابینہ نے کہا کہ اس وقت پارلیمنٹ، یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں نامکمل ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کو اس کی مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں، اس لیے کوئی بھی آئینی ترمیم منظور نہیں کی جا سکتی۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا کی کاربن مارکیٹ میں شرکت کے لیے پالیسی رہنما اصولوں کی بھی منظوری دی۔جس کے تحت قومی طور پر طے شدہ شراکت (NDCs) کے لیے 5% کٹوتی پر آمادگی کا اظہار کیا گیا اور کاربن کریڈٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والی خالص آمدنی کا 12% CAF کے لیے مختص کرنے پر اتفاق ہوا جس میں سے 50% اس صوبے کو منتقل کیا جائے گا جہاں منصوبہ واقع ہے، جبکہ باقی 50% پاکستان کلائمیٹ چینج فنڈ یا ملک بھر میں دیگر ماحولیاتی اقدامات کے لیے صوبے کی مشاورت سے دیا جائے گااور اسی طرح 1% انتظامی اخراجات وزارت کلائیمیٹ چینج کو دیگر صوبوں کی توثیق سے دینے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔صوبائی کابینہ نے 9139.895 ملین بجٹ سے صوبے میں سیلاب سے متاثرہ روڈ انفرا سٹرکچر کی بحالی و تعمیر نو کیلئے ایک سکیم کی منظوری دی ہے۔ اس سکیم کا مقصدخیبرپختونخوا میں سال2022 کے ماہ اگست اور سال2024 کے اپریل اور اگست کے مہینوں کے دوران سیلاب اور طوفانی بارشوں سے جن سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچا تھا ان کی بحالی اورتعمیر نوکرناہے۔صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لیے 1.5 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دی۔ یاد رہے کہ 2018 سے، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی صوبے کی یونیورسٹیوں کو دی جانے والی سالانہ گرانٹس منجمد کر دی گئی ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد، اعلیٰ تعلیم صوبائی ذمہ داری بن گئی ہے، جس کے تحت صوبے کو اپنی یونیورسٹیوں کو آزادانہ طور پر فنڈز فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح کابینہ نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے اکیڈمک سرچ کمیٹی کے قیام کی منظوری دی جس کے تحت پروفیسر ڈاکٹرکوثر اے ملک کا نام کمیٹی کے کنوینر کے طور پر منظور کیا گیا جبکہ دیگر ممبران میں پروفیسر ڈاکٹر انورالحسن، پروفیسر ڈاکٹر ایم اسلم بیگ اور پروفیسر ڈاکٹر سارہ صفدر شامل ہونگے۔جبکہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کے لیے دو سال کی مدت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی گئی ہے، کابینہ نے اس کے لئے ڈاکٹر شفیق الرحمان،پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ اور ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اکمل بطور ممبر ناموں کی منظوری دی۔
کابینہ نے گورنمنٹ ڈگری کالج بوئی ایبٹ آباد کے قیام کے لیے اے ڈی پی منصوبے کی منظوری دی۔اسی طرح ڈسٹرکٹ کورٹ کرم کے لیے ناکارہ گاڑی کو تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی میں نرمی کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے معزز جج کے سرکاری استعمال کے لیے گاڑی خریدنے کی مد میں 9,934,000 کی اضافی گرانٹ کی منظوری دی۔صوبائی کابینہ نے رٹ پٹیشن میں ہائی کورٹ کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے محکمہ قانون کے سالیسٹرز ونگ کے ملازمین کے لیے سیکرٹریٹ پرفارمنس الاؤنس مشروط طور پر منظور کر لیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت سالیسٹر کے دفتر میں افسران کے چار عہدے اور دیگر عہدیداروں کی 22 آسامیاں موجود ہیں جن پر دو افسران اور 15 اہلکار کام کر رہے ہیں۔ الاؤنس روکنے پر محکمہ خزانہ کے فیصلے سے ناراض سالیسٹرز ونگ کے ملازمین نے رٹ پٹیشن دائر کی جس کی بحالی کا حکم 23 اپریل 2015 کو ہائی کورٹ نے دیا تھا۔کابینہ نے سابق صوبائی محتسب عقل بادشاہ کی تنخواہ اور مراعات کے بقایا جات کی بھی مشروط طور پر منظوری دے دی جو ان کے دور کے دوران مروجہ نرخوں کی بنیاد پر ہائی کورٹ کے جج کی تنخواہ کے برابر ہوگی۔ یہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کردہ CPLA کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی۔
کابینہ نے ضلع نوشہرہ میں دیہی صحت مرکز (RHC) نظام پور کو کیٹیگری ڈی ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کے لیے 11 کنال سرکاری اراضی محکمہ صحت کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے مختلف اضلاع میں آؤٹ سورس ہسپتالوں کے حوالے سے کابینہ کی نگران کمیٹی (سی ایس سی) کے 5ویں اجلاس کی سفارشات کی توثیق کی اور فنڈز کی فراہمی کی منظوری دی
کابینہ نے رواں مالی سال کے لیے صحت کی دو اسکیموں کو غیر اے۔ڈی۔پی منصوبوں کے طور پر بحال کرنے کی منظوری دی۔ جن میں سوات میں بی ایچ یو کو آر ایچ سی میں اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ دیر لوئر میں میدان ہسپتال کو کیٹیگری ڈی سے سی میں اپ گریڈ کرنا شامل ہیں۔کابینہ نے چیسٹر یونیورسٹی، یو کے سے خیبر پختونخوا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی نرسوں کے لیے تربیتی پروگرام کی منظوری دی۔کابینہ نے ضم اضلاع میں غلنئی، مامد گٹ، میران شاہ، زم ٹانک، وانا، پاراچنار، صدہ کرم اور باجوڑ میں واقع 8 ماڈل سکولوں کے لیے 166.154 ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری دی۔مہمند غلنی میں ماڈل سکول کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز کی بھی کابینہ نے منظوری دی۔کابینہ نے ضم اضلاع میں ” خواندگی سب کے لئے “پروگرام کوایک سال کی توسیع دی، جس کی کل لاگت 223.872 ملین روپے ہیں۔ 2015 میں شروع ہونے والے اس پروگرام کا مقصد ناخواندگی کو ختم کرنا اور سکول سے باہر بچوں کا اندراج یقینی بنانا ہے۔ یہ توسیع یکم جولائی 2024 سے 30 جون 2025 تک ہوگی۔ مزید برآں، کابینہ نے اس منصوبے کو مستقبل میں تعلیم کارڈ پر منتقل کرنے کی منظوری دی،
غیر اے۔ ڈی۔پی اسکیم کے تحت گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ مانسہرہ کے لیے زمین کے معاوضے کے طور پر 30.594 ملین روپے کی فراہمی کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے خیبر پختونخوا تحصیل لوکل گورنمنٹ (پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیمز مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) رولز 2021 اور خیبر پختونخوا ماڈل بلڈنگ بائی لاز رولز 2017 کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی۔ لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول ایکٹ 2021 کے سیکشن 52 کے تحت، لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول کونسل کو قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے تحت خیبر پختونخوا ہاؤسنگ سوسائٹیز ریگولیشنز 2024 اور خیبر پختونخوا بلڈنگ ریگولیشنز 2024 کا مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول کونسل نے اپنی تیسری میٹنگ میں 3 جون 2024 کو ان قواعد و ضوابط کی منظوری دی ہے۔ ان قواعد کی منظوری کے بعد، یہ ضروری ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا تحصیل لوکل گورنمنٹ (پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیمز مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) رولز 2021 اور خیبر پختونخوا ماڈل بلڈنگ بائی لاز رولز 2017 کو ڈی نوٹیفائی کرے، جو خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت بنائے گئے تھے۔کابینہ نے اے ڈی پی سکیم کے تحت صوابی میں ٹی ایم اے لاہور کے دفتر کی عمارت کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی محکمہ لوکل گورنمنٹ کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے سیرائے نورنگ تحصیل لوکل گورنمنٹ کے تحصیل چیئرمین کو استنبول، ترکیے کی باگسیلر میونسپلٹی کے ساتھ ایک سسٹر سٹی تعلقات قائم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کا اختیار دیا۔ وزارت خارجہ، اسلام آباد نے پہلے ہی اس معاہدے کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) دیا ہے۔کابینہ نے پشاور کے نوتھیا بازار میں آتشزدگی کے واقعے کے متاثرین کے لیے 14.87 ملین روپے کے خصوصی معاوضے کے پیکیج کی منظوری دی۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے تیار کردہ نقصان کی تشخیص کی رپورٹ میں جن لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے انہیں معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔کابینہ نے تحصیل میرالی، ضلع شمالی وزیرستان کے دریائے ٹوچی کے ساتھ ہسو خیل پل کے قریب زرعی اراضی، گاؤں کی بستیوں اور پاک فوج کی چوکیوں کے تحفظ کے لیے فلڈ پروٹیکشن وال (ایف پی ڈبلیو) کی تعمیر کے لیے 30 ملین روپے کے بجٹ کے ساتھ ایک نان اے ڈی پی اسکیم کی منظوری دی۔کابینہ نے تین سال کی مدت کے لیے ماحولیاتی تحفظ ٹربیونل، پشاور کے لیے نئے چیئرپرسن ملک ہارون اقبال کی تقرری کی منظوری دی۔کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل گورننس کے لیے KFW کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کی منظوری دی۔ اسی طرح کابینہ نے گندھارا ڈیجیٹل کمپلیکس کے قیام کے لیے حاجی کیمپ بس اسٹینڈ، جی ٹی روڈ، پشاور کے قریب فوڈ گودام سے 20 کنال اراضی کے دوبارہ نوٹیفکیشن کی منظوری دی، جس کا مقصد صوبے میں ڈیجیٹل گورننس اور جدت کو آگے بڑھانا ہے۔صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے لئے ناصر خان کے نام کی منظوری دی یہ فیصلہ پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس رولز) 2013 کے قاعدہ 5(2) کے تحت لیا گیا ہے.کابینہ نے 39.224 ملین روپے کی نان اے ڈی پی سکیم کے تحت ضلع شانگلہ میں شانگلہ ٹاپ پر نیب کی ضبط شدہ اراضی پر ریسٹ ہاؤس کی تعمیر کی منظوری دے دی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی عید میلاد النبی پر امت مسلمہ کو مبارکباد

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پوری امت مسلمہ خصوصاًاہل پاکستان کو عید میلاد النبی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ حضور کی ولادت نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری عالم انسانیت کے لئے باعث رحمت ہے اور آپ سے محبت اور آپ کی تعلیمات کی پیروی ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ وہ منگل کے روز قومی رحمت العالمین کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا وہ عید میلاد النبی کی مناسبت سے صوبے میں عشرہ رحمت العالمین کے انعقاد پر محکمہ مذہبی امور اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ کا اسوہ حسنہ تمام انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے، آپ کی آفاقی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں، آپ نے خواتین، بچوں، یتیموں، اقلیتوں اور غلاموں سمیت سب کے حقوق کا واضح تعین کیا ہے اور آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر انسان دنیا اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ علی امین خان گنڈاپور کا کہنا تھا کہ آپ نے انسانیت، محبت، امن، عدل و انصاف اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیا ہے، آپ کا خطبہ حجتہ الوداع ایک ایسا منشور ہے جو رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کے لئے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ اسلام جنگوں سے نہیں بلکہ آپ کی حسن سیرت اور کردار سے پھیلا ہے، غیر مسلموں نے آپ کے عملی کردار سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا، آپ نے لوگوں کو عملی نمونہ پیش کرنے کے بعد انہیں اسلام کی طرف راغب کیا اور آپ نے ہمیشہ اصلاح کا موقع دیا اور فتح مکہ کے بعد سب کے لئے عام معافی کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہمیں اپنے بچوں کو آپ کی ان عظیم تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا کیونکہ آنے والی نسلوں کو آپ کا بتایا ہوا راستہ دکھائے بغیر اسلامی فلاحی معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے لیڈر عمران خان نے بین الاقوامی سطح پر اسلام اور ناموس رسالت کے بارے میں موثر آواز اٹھایا اور اپنی بات منوائی، عمران خان نے بین الاقوامی سطح پر امت کی نمائندگی کی اور ان کی کوششوں کی وجہ سے اب عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کے خلاف دن منایا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے کہ ہم پر امن لوگ ہیں۔ کانفرنس میں وزیر اعلیٰ نے عشرہ رحمت العالمین کی مناسبت سے منعقد حسن قرآت اور نعت خوانی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات تقسیم کئے۔ کانفرنس میں خطبہ حجتہ الوداع کا متن پڑھ کر سنایا گیا۔ کانفرنس کے آخر میں ملک کی تعمیر وترقی، خوشحال و استحکام اور امن و امان کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ کانفرنس میں منتخب عوامی نمائندوں، سرکاری حکام، سیاسی و سماجی شخصیات اور تمام مکتبہ ہائے فکر کے علماءکرام اور اقلیتی کمیونٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مذہبی امور عدنان قادری علمائے کرام نے سیرت النبی کے مختلف پہلوو¿ں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔کانفرنس عشرہ رحمت العالمین منانے کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی مختلف تقاریب کا اہم حصہ تھا۔ یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر صوبے میں پہلی دفعہ رحمت العالمین کانفرنسوں کا سرکاری سطح پر انعقاد کیا گیا اور یہ کانفرنسز صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر منعقد کئے گئے۔

عید میلاد النبی ﷺ 12 ربیع الاول کے حوالے سے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا پیغام

0

صوبائی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے عید میلاد النبی ﷺ 12 ربیع الاول کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 12 ربیع الاول، عید میلاد النبی ﷺ کی تمام امت مسلمہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور انکے بعد تاقیامت کوئی نبی نہیں آئیگا، ربیع الاول کا مہینہ بالعموم اور 12 ربیع الاول کا دن بالخصوص ہمارے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ عظیم دن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کا، اپنے اخلاق کا، اپنی زندگی کا محاسبہ کریں اور یہ دیکھیں کہ ہماری زندگی میں کس قدر تعلیمات نبوی کا اثر ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے، 12 ابیع الاول کے موقع پر سیرت النبیﷺ کے عنوان سے پروگراموں کا انعقاد انتہائی ضروری ہے تاکہ نوجوان سیرت النبیﷺ سے روشناس ہو ں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے صوبہ بھر میں جشنِ ولادتِ رسول ﷺ کا شایان شان اہتمام کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خاتم النبیین حضور ﷺ کی سیرت ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ آئیں مل کر عید میلاد النبی ﷺ پر امن و محبت کا پیغام عام کریں کیونکہ نبی آخر الزمان ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ترقی و خوشحالی ممکن ہے۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ سب مل کر فرمودات نبویﷺ پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی کو بدلنے کا عزم کریں اور عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر امن و استحکام کیلئے خصوصی دعائیں کریں۔

صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے عیدمیلادالنبیﷺ کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا

صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے عیدمیلادالنبیﷺ کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خاتم النبیین حضورﷺ کی ولادت باسعادت سے پوری دنیا میں جہالت کے اندھیرے ختم ہوئے اور آپؐ کی پیدائش سے کائنات میں انسانیت نے چین و سکون کی سانس لی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کو تمام کائنات کیلئے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا کی مسلم امہ کی پریشانیوں اور تکالیف کی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم سب آپؐ کے بتاء راستے سے ہٹ گئے ہیں، ہم سب کو نبی آخر زمان حضرت محمدﷺ کے اخلاق حسنہ کو اپنانا چاہیے، تمام امت مسلمہ کی کامیابی حضورﷺ کی سنتوں کی تقلید کرنے میں ہے۔ صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے کہا کہ خاتم النبیین پیغمبراسلامﷺ کی زندگی ایسی مشعل راہ ہے جس کی پیروی کرنے سے ہی دنیا کے مسائل ومشکلات سے چھٹکارا پایاجاسکتا ہے، حضورﷺ کی تعلیمات سے آج بھی ہم اپنی زندگیوں کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا: ماحولیاتی آلودگی کے خلاف سخت اقدامات، پلاسٹک بیگز پر پابندی کا فیصلہ

انوائرنمنٹل پروٹیکشن کونسل خیبر پختونخوا کا دوسرا اجلاس وزیر اعلی سردار علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ قائم مقام چیف سیکرٹری محمد عابد مجید کے علاوہ متعلقہ محکموں انتظامی سیکرٹریز، محکمہ ماحولیات کے حکام اور کونسل کے نجی ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں صوبے میں ماحولیاتی آلودگی کے سدباب کے لئے متعدد امور پر تفصیلی غوروحوض کے بعد اہم فیصلے کئے کئے۔ اجلاس میں صوبہ بھر خصوصا سیاحتی مقامات پر پلاسٹک بیگز کے استعمال پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے پلاسٹک بیگز کے استعمال اور فروخت پر مکمل پابندی کے لئے تین مہینے کا وقت مقرر کیا گیا جس کے بعد پلاسٹک بیگز کے استعمال پر سخت کاروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں اینٹ کی بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لئے منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت اینٹ بھٹہ مالکان کو نرم شرائط پر قرضے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی۔ اجلاس میں انوائرنمنٹل پروٹیکشن کونسل کے رولز آف پروسیجرز کی بھی منظوری دیدی گئی جبکہ صوبے کے سیاحتی مقامات کو ماحولیاتی طور پر حساس علاقہ قرار دینے کے معاملے پر تفصیلی غوروخوص کے بعد محکمہ ماحولیات کو اس سلسلے میں تمام شراکت داروں کی مشاورت سے کابینہ کی منظوری کے لئے حتمی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ان مقامات میں ناران، کاغان، شوگران، گلیات، کمراٹ اور کالام شامل ہیں۔اجلاس میں صوبے میں کلائمیٹ چینج سنٹر اور کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے قیام پر بھی غوروخوص کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ متعلقہ ماہرین اور شراکت داروں کی مشاورت سے عملدرآمد کے لئےقابل عمل تجویز پیش کریں۔ اجلاس میں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں کلائمیٹ چینج سے متعلق موادکو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس مقصد کے لئے متعلقہ حکام اور ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح اجلاس میں بی ٹی ایس ٹاورز کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئے اورمتعلقہ حکام کو شراکت داروں کی مشاورت سے مجوزہ گائیڈ لائنز کو حتمی شکل دے کر منظوری کے لئے کونسل کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں ماحولیاتی آلودگی کے سدباب کے لئے محکمہ صحت کو ایک مہینے کے اندر صوبے میں ہسپتالوں کے ویسٹ منیجمنٹ سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے چیلنجز نمٹنے کے لئے محکمہ ماحولیات کی استعداد کار کو بڑھانے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا اور محکمہ ماحولیات کے اعلی حکام کو اس سلسلے میں متعلقہ فورم کی منظوری کے لئے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو ایک چیلینج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے بروقت اور مربوط کوششوں کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے تمام متعلقہ محکمے اور ادارے مل بیٹھ کر ماحولیاتی آلودگی کے اسباب اور ان سے جڑے مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے موثر تدارک کے قابل عمل پلان تیار کریں۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو صوبے بھر میں پھلدار درخت لگانے کے لئے خصوصی شجرکاری مہم شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم میں سکولوں، ہسپتالوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں شجرکاری پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے سے پائیدار بنیادوں پر نمٹنے کے لئے ایک ٹھوس حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لئے تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر مربوط اقدامات اٹھانے ہونگے۔

پارلیمنٹ پر شب خون مارنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہئیے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

> جعلی حکومت 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن پر بہت واویلا مچاتی ہے مگر اپنے گھر پارلیمان کی بے توقیری پر خوش ہے،مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہ ہے کہ پارلیمان کی بے توقیری پر جعلی وزراء کی ڈھٹائی حیران کن اور پریشان کن ہے، بغض عمران خان اور پی ٹی آئی میں جعلی حکومت اور وزراء پارلیمنٹ کی بے توقیری پر بھی خوش ہیں، جعلی حکومت کے جعلی اور درباری وزراء سے یہی توقع کی جاسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت کچھ بھی کرلے مگر غیر قانونی ترامیم پاس نہیں ہونے دیں گے، جعلی حکومت 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن پر بہت واویلا مچاتی ہے مگر اپنے گھر پارلیمان کی بے توقیری پر خوش ہے، جعلی وزراء 9 مئی کے ڈرامے پر مگر مچھ کے آنسو بہانا بند کریں 10 ستمبر کا ماتم کریں، انہوں نے کہا کہ آج اصلی حکومت ہوتی تو پارلیمان کی اس طرح بے توقیری کبھی نہ ہونے دیتی،انہوں نے کہا کہ سپیکر ایاز صادق آئیں بائیں شائیں سے کام نہ لیں اور پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کریں، پارلیمنٹ پر شب خون مارنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی ہونی چاہئیے، 10 ستمبر جمہوریت کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور ہمیشہ یاد رکھا جائیگا اور پارلیمان کی بے توقیری کا پورا پورا حساب لیا جائیگا،

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان، صوبائی وزیر لائیو سٹاک، ماہی پروری و امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی اور مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کا ضلع صوابی میں کنڈل ڈیم کا دورہ

> کنڈل ڈیم صوابی سے تقریبآ 14 ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوگی، عاقب اللہ خان

کنڈل ڈیم صوابی سے نہ صرف ہزاروں ایکڑ اراضی سیراب ہوگی بلکہ اس سے ماہی پروری کی صنعت کو بھی فروغ ملے گا اور سیاحت کے لیے بھی وسیع مواقع میسر ہوں گے۔ اس منصوبے کی تعمیر پر 2 ارب 33 کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ یہ بات صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان، وزیر لائیو سٹاک، ماہی پروری و امداد باہمی فضل حکیم یوسفزئی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت زاہد چن زیب نے ضلع صوابی میں کنڈل ڈیم کے دورے کے موقع اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر صوبائی وزیرِ ماہی پروری فضل حکیم یوسفزئی کے ہاتھوں دیگر وزراء کے ہمراہ کنڈل ڈیم میں ساتھ ہزار سے زیادہ مچھلیاں چھوڑیں۔ اس موقع پر محکمہ آبپاشی اور سمال ڈیمز کے افسران نے صوبائی وزراء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیم میں 11 ہزار ایکڑ فٹ سے زائد پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جس سے سارا سال کنڈل، پنجمند، پابینی، جھنڈا، بولا اور ڈاگئی کی تقریباً 14 ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔ اسی طرح اس ڈیم سے نہ صرف زراعت ترقی کرے گی بلکہ ماہی پروری اور سیاحت بھی کو فروغ ملے گا۔ صوبائی وزیر ماہی پروری فضل حکیم یوسفزئی نے اس موقع پر ڈیم میں ساتھ ہزار سے زیادہ مچھلیاں چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ اس سائٹ پر ماہی پروری کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا جائے گا جس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سیاحت زاہد چن زیب نے کہا کہ یہ علاقہ قدرتی حسن سے مالامال ہے اور اس ڈیم کے گرد و نواح میں سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات ہیں اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا کہ کنڈل ڈیم سے زیادہ سے زیادہ اراضی کو زیر آب لانے کے لیے نہروں کے نٹ ورک کو وسیع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیم علاقے میں زراعت، ماہی پروری اور سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا اس سے روزگار کے مواقع وسیع ہوں گے اور علاقے میں خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں بادہ ڈیم کا افتتاح ہوا ہے جس سے تین ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور کی قیادت میں صوبے کے طول و عرض میں ترقی و خوشحالی کاسفر جاری ہے اور عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کی مشترکہ سربراھی میں

خیبر پختونخوا کے وزیرایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کی مشترکہ سربراھی میں وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ پشاور میں سرکاری اور پرائیویٹ ریہیبیلیٹیشن سنٹرز میں منشیات کے عادی مریضوں کے علاج اور صحتیابی کے ل? ایک وسیع پروگرام کے بارے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کمشنر پشاور ریاض محسود سیکٹری زکوات و عشر اورسوشل ویلفئر سید نظر حسین شاہ اورسیکٹری ایکسائز فیاض علی شاہ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں صوباء حکومت کی طرف سے شروع کئے جانے والیمنشیات کے عادی لوگوں کے علاج اور صحتیابی کے حوالے سے پاکستان کے سب سے بڑے اور جامع پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بحث ہوء۔ اس پروگرام کے تحت پشاور بھر سے دو ھزار سے زیادہ منشیات کے عادی مریضوں کے علاج کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے ل? سرکاری ریہیب سنٹرز کے علاوہ نجی ریہیب سنٹررز کو بھی شامل کیا جایگا۔ تاہم اس حوالے سے تمام نجی ریہیب سنٹرز کے ل? یہ ضروری ہوگا کہ وہ ریہیب سنٹرز کے ل? درکار ضرورتوں پر پورا اتر سکیں۔ ان کے پاس مناسب ہوادار عمارت صاف پانی کا انتظام درکار کیمرے کمپیوٹرز یو پی ایس اور اآلات نگرانی اور شفافیئت ہو۔ وزیر ایکسائز نے واضح کیا کہ صوباء حکومت منشیات کی روک تھام اور نوجوان نسل کی صحت و سلامتی کے حوالے سے کوء کوتاھی برداشت نہی کریگی اور اس جامع پروگرام کو نہ صرف پشاور ڈسٹرکٹ بلکہ باقی تمام اضلاع تک بھی پھیلایا جایگا۔ منشیات کی لعنت ہر جگہ پہنچ چکی ہے اور ہر تیسرا گھرانہ اس سے متاثر ہے۔ اس کا سدباب ہونا لازمی ہے۔ وزیر ایکسائز نے کہا کہ سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور کمشنر پشاور اآفس مل کر باہمی ہم اہنگی کے ساتھ اس پروگرام کو پایاتکمیل تک پہنچائیں گے۔ ایکسائز اینڈ نارکاٹکس ڈیپارٹمنٹ اس حوالے سے پہلے سے متحرک ہے اور جدید ڈیجیٹل اآلات کی مدد سے منشیات اد کے فروشوں اور اڈوں تک پہنچ رہی ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ ایک اینڈومنٹ فنڈ کا قیام کیا جا? تاکہ اس فنڈ کی رقم کو مستقبل میں عوام کے سوشل ویلفیئر کے ل? برو? کار لایا جا?۔ صوباء حکومت خیبر پختونخوا نے دو ہزار سے ذیادہ منشیات کے عادی مریضوں کے ل? بتتیس کروڑ سے ذائد خطیر رقم سرکاری اور نجی ریہیب سنٹرز کی مدد سے خرچ کر رہی ہے تاکہ صوبے کی نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے محفوظ رکھا جا سکے اور ایک صحتمند معاشرے کی مدد سے تخلیقی جسمانی ذہنی اور فکری نشونما کی مثال قائم کی جا سکے۔