خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اپنے حلقہ نیابت کے لوگوں سے پشاور کے اندرون شہر میں گھروں کی فروخت اور مرمت کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں بلایا جس میں ڈائریکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیم ڈاکٹر صمد سمیت پی ٹی آئی نئیبر ہوڈ 33 اور35 کے ناظم نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر کو اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اندرون شہر میں آثار قدیمہ نے سروے کیا ہے اور سروے رپورٹ کے مطابق 1800گھر سروے لسٹ میں شامل ہیں جو گھر آثار قدیمہ کی لسٹ میں نہیں ہیں ان کے مالکان کو گھر فرخت، مرمت اور مسمار کرنے کیلیے این او سی کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ مالکان این او سی حاصل کئے بغیر اپنے گھروں کو فرخت، مرمت اور مسمار کرسکتے ہیں تاہم وہ گھر جو آثار قدیمہ کی سروے لسٹ میں ہیں۔ ان کے مالکان این او سی حاصل کرنے کے بعدگھر فروخت اور مرمت کرسکتے ہیں لیکن مسمار نہیں کرسکتے گھروں کے سروے لسٹ آثار قدیمہ اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں موجود ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ شہری مطمئن رہیں موجودہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کیلیے کوشاں ہے صوبائی وزیر نے تحصیل پارک گورگھٹڑی کا دیرینہ مسئلہ حل کرتے ہوئے پارک کے لیے دروازہ جلد از جلد کھولنے کا اعلان کیا دروازہ کھولنے سے لوگوں کی مشکلات اور تکلیف ختم ہوجائیگی اور پارک میں باآسانی داخل ہوں گے۔
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت زراعت کی ترقی کیلئے بھر پور اقدامات اٹھارہی ہے
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت زراعت کی ترقی کیلئے بھر پور اقدامات اٹھارہی ہے جس سے زمیندار و اور کاشتکاروں کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر مردان جاوید مروت نے اپنی تبدیلی سے پہلے بحیثیت سیکرٹری محکمہ زراعت انتہائی قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں محکمہ زراعت کے اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹس کے ڈائریکٹر جنرلز کی جانب سے نوتعینات سیکرٹری زراعت عطاء الرحمن اور تبدیل ہونے والے سیکرٹری زراعت(موجودہ کمشنر مردان)جاوید مروت کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقارتقریب میں کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں سیکرٹری زراعت عطاء الرحمن، تبدیل ہونے والے سیکرٹری زراعت و (موجودہ کمشنر مردان) جاوید مروت، محکمہ زراعت کے مختلف ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرلز سمیت محکمہ زراعت کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے اپنے خطاب میں صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے تبدیل ہونے والے سیکرٹری زراعت جاوید مروت کی خدمات کو سراہتے ہوئے انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ جاوید مروت نے بھی بحیثیت سیکرٹری زراعت سرانجام دی گئی خدمات کے دوران حاصل کردہ تجربات اور اٹھائے گئے اقدامات کے بارے اظہار خیال کیا انہوں نے محکمہ زراعت کے حکام کی جانب سے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے نئے تعینات سیکرٹری زراعت عطاء الرحمن، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع عبد القیوم نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے اختتام پر تبدیل ہونے والے سیکرٹری زراعت جاوید مروت اور دیگر مہمانان گرامی کو شیلڈ و تحائف بھی دئیے گئے
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم شعبہ آئی ٹی کی تعلیم پرخصوصی توجہ
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم شعبہ آئی ٹی کی تعلیم پرخصوصی توجہ دے رہاہے اور ڈیجیٹل لیٹریسی پراگرام کے تحت صوبے کے منتخب 1177 سکولوں جن میں قبائلی اضلاع کے 36 سکول بھی شامل ہیں میں ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد طلباء و طالبات کو آئی ٹی کی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پراگرام کو صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی توسیع دی جائے گی۔ جس کیلئے 2 لاکھ 41 ہزار طلباء کو آئی ٹی کی تعلیم تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہمارے سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات نے کئی اہم ایورڈز اپنے نام کئے ہیں۔ اور کوڈنگ، گیمنگ، سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ اور پروگرامنگ میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیجیٹل لیٹریسی پروگرام کے طلباء و طالبات کو انعامات اور شیلڈز دینے کیلئے منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں کیا۔ تقریب میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری اسفندیار خٹک، پراجیکٹ ڈائریکٹر جہانگیر اعظم، ڈائریکٹر ایجوکیشن ثمینہ الطاف، طلباء و طالبات، ان کے والدین اور ٹرینرز نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ پوری دنیا ڈیجیٹائز یشن کی طرف جا رہی ہے اور اس ضمن میں ہم نے بھی بھر پور تیاری کر رکھی ہے۔ خصوصاً حواتین آئی ٹی کو استعمال میں لاکر گھر بیٹھے باعزت روزگار کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو آئی ٹی سیکٹر میں تربیت کے ساتھ ساتھ مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ریسرچ کو دیگر فورمز میں پیش کر سکیں۔ اور اس کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مقابلوں کیلئے بھی تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے طلباء کو ہدایت کی کہ مزید محنت کریں اور اپنے ملک اور صوبے کا نام روشن کریں۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ہم بچوں پہ سکالرشپ کی مد میں کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر عمران خان کے وژن کے مطابق تعلیم ہماری اولین ترجیح ہے اور صوبے کا 21 فی صد بجٹ تعلیم پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ اور اس کے ثمرات ان کامیاب طلباء کی صورت میں ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر کامیاب طلباء اور ٹرینرز کو انعامات، شیلڈز اور تعریفی اسناد بھی دی گئیں۔
بغض عمران میں جعلی حکومت نے انٹرنیٹ کا بھی ستیاناس کر دیا ہے، مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا
> انٹرنیٹ کی سروس نہ ہونے سے بزنس کمیونٹی کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے مگر جعلی حکمرانوں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ بغض عمران میں جعلی حکومت نے انٹرنیٹ کا بھی ستیاناس کر دیا ہے جس کے باعث آئی ٹی شعبے سے وابستہ بزنس کمیونٹی کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے مگر جعلی حکمرانوں کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے اور اگر انہیں کو ئی فکر ہے تو وہ صرف اپنے جعلی اقتدار کو بچانے کی فکر ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ انٹر نیٹ سروس میں رکاوٹ کی وجہ سے پاکستان کے تجارتی اور کاروباری طبقے انتہائی پریشان ہیں اور انہیں اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی جعلی حکومت کو عوام کے مسائل کے حل کرنے اور ملک کو ترقی سے ہمکنار کرنے کا کو ئی احساس ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ عوام کو اس وقت کئی ایک بحرانوں کا سامنا ہے مگر مینڈیٹ چور حکومت کی کانوں پر جو تک نہیں رینگتی۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ انٹرنیٹ کے بارے میں درباری وزراء کے بیانات میں بھی مماثلت نہیں ہے جو اس بات کو ثبوت ہے کہ جعلی حکمران طبقہ اس معاملہ میں جھوٹ بول رہا ہے۔ جعلی حکومت کا ایک وزیر کہتا ہے کہ فائر وال لگی ہے جب کہ دوسرا کہتا ہے کہ فائر وال نہیں لگی ہے۔ اسی طرح ایک وزیر کا بیان آتا ہے کہ زیر سمندر کیبل کٹ گئی ہے اور دوسرا کچھ اور کہتا ہے اس حوالے سے شعبہ آئی ٹی کی وفاقی وزیر شنزہ فاطمہ حماقت کی انتہا کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انٹر نیٹ وی پی این کے باعث سست ہوا ہے حالانکہ نیٹ ٹھیک ہو تو کسی کا دماغ خراب ہے کہ وی پی این لگائے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ جعلی حکمران اپنے اقتدار کے نشے میں ہیں اور ان پٹواریوں سے ایسے ہی بیانات کی توقع کی جاسکتی ہے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ حالیہ طویل ترین نگران حکومت کے بعد محکمہ سیاحت و ثقافت کو مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے مسائل، انفراسٹرکچر کی بہتری، ماحولیاتی چیلنج،بیرونی سرمایہ کاری، سیاحتی صنعت سے وابستہ اہلکاروں کی تربیت اور سیاحتی مصنوعات کی ترقی وہ چیلنجز ہیں جس کے لئے مضبوط منصوبہ بندی اور پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے تخلیقی ونگ کے پروگرام آسک دی منسٹر میں کیا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن اور وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں محکمہ سیاحت کا قلمندان سونپنے کے بعد سیاحتی مقامات پر بہتر سیاحتی ڈھانچہ کی تیاری، ڈیجیٹل ٹورازم، پبلک۔پرائیویٹ پارٹنرشپ، نئی سیاحتی راہوں کے تلاش،ثقافتی اور تہذیبی میلوں کا انعقاد، ماحولیاتی تحفظ سمیت دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے، جس سے سیاحتی صنعت مضبوط ہوگی اور معیشت کو فروغ ملے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کیساتھ مل کر تاریخی عمارات،مساجد و عبادت گاہوں کی بحالی اور مرمت کے حوالے سے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی ہے تاکہ یہ مقامات مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکیں۔تاریخی مقامات کی اہمیت کو زندہ رکھنے کیلئے وہاں سیاحتی سہولیات کی فراہمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مقامی کمیونٹی کی شمولیت کے لیے پر عزم ہیں۔ انہوں نے ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے کہا کہ اورکزئی فیسٹیول کے انعقاد سمیت وہاں کیمپنگ پاڈز اور ریسٹ ہاوسز کے قیام سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملا بلکہ مقامی معاشی حالات میں بھی بہتری آئی ہے۔ مشیر سیاحت نے ایکو ٹورازم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام ڈیویلپمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مل کر ایکو ٹورازم مہم کا آغاز کیا جا چکا ہے جس کے تحت سیاحتی مقامات پر صفائی کے بہتر انتظامات، قابل تحلیل بیگز کی تقسیم، شجر کاری مہم اور حیوانات کی تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ زاہد چن زیب نے مزید کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بحالی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی وجہ یہاں قدیم ثقافت مثلاً گندھارا آرٹ اور ثقافت کی موجودگی ہے اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی سیاح یہاں کا رخ کرکے معیشت کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر ملک کی ایک مثبت ایمیج پیش کرنے کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاحتی مقامات پر کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے ٹورازم پولیس کی خدمات اور ٹورازم ہیلپ لائن 1422 کی چوبیس گھنٹے سروس کی فراہمی یقینی بنادی گئی ہے جو ہنگامی حالات میں فوری ریسپانس دے گی۔ ورلڈبینک کائیٹ پراجیکٹ کے حوالے سے مشیر سیاحت نے کہا کہ مذکورہ مالی ادارے کے فنڈز پوری شفافیت اور واضح طریقے سے خرچ کئے جا رہے ہیں جس کے تحت سیاحتی مقامات پر سائن بورڈز کی تنصیب، بھاری مشینری، ریسکیو سٹیشنز، واش رومز کے قیام اور فضلے کے لئے کوڑا دان کی تنصیب کے منصوبے شامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاحتی مقامات پر انفراسٹرکچر کی بحالی اور شاہراہوں کے تعمیر میں وفاقی حکومت کی شمولیت اور تعاون ناگزیر ہے کیوں کہ بیشتر شاہراہیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں۔زاہد چن زیب نے کہا کہ گزشتہ چار مہینوں میں 10 ملین سے زائد سیاحوں نے خیبرپختونخوا کا رخ کیا جو صوبے میں سیاحت کے فروغ کا واضح ثبوت ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کارپ ہیچری اینڈ ٹریننگ سینٹر شیر آباد پشاور کا دورہ کیا
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کارپ ہیچری اینڈ ٹریننگ سینٹر شیر آباد پشاور کا دورہ کیا اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی سلطان روم، ڈائیریکٹر جنرل فشریز محمد ارشد عزیز، ڈی جی لائیو سٹاک ایکسٹینشن ڈاکٹر اصل خان، ڈی جی لائیو سٹاک ریسرچ اعجاز خان اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ تھے دورے کے موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کارپ ہیچری پشاور میں ماہی پروری اور کارپ مچھلیوں کی افزائشِ نسل کے لئے ہونے والی تمام سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور ادارے کی وسعت اور پیداوار بڑھانے کیلئے اپنی ذاتی دلچسپی کے ساتھ اہم تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کارپ ہیچری صوبے کی سب سے بڑی ہیچری کے ساتھ ساتھ ایک ٹریننگ سنٹر بھی ہے جہاں صوبے بھر سے مچھلی فارمرز کو سالہا سال بچہ مچھلی مہیا کی جاتی ہے اور انہیں ماہی پروری سے متعلق ہر قسم کی تربیت فراہم کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ٹریننگ سینٹر کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کو ریسرچ کی سہولیات مہیا کرتی ہے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ محکمہ ماہی پروری اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی خدمت اور ماہی پروری جیسے اہم شعبے کو فروغ دینے میں ہمہ وقت کوشاں رہے انہوں حکام کو ہدایت کی کہ فشریز اینڈ ایکوا کلچر ایکٹ 2022 جو کہ ابھی تک عمل میں نہیں لایا گیا ہے اس کے تمام فشریز رولز تیار کرکے صوبائی حکومت کو حوالہ کردیں تاکہ جلد صوبائی اسمبلی سے پاس کیا جا سکے اور نافذ العمل ہو سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کا نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیرنصابی
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کا نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں اور مختلف کھیلوں میں حصہ لینا صحت اور اعصابی مضبوطی کیلیے ضروری ہے کھیلوں میں حصہ لینے سے انسان نہ صرف جسمانی طور پرصحت مند رہتا ہے بلکہ انسان میں ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے ضلع دیر بالا کے دورہ کے موقع پر مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کے تقریب تقسیم انعامات میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا صوبائی وزیر کے ہمراہ اراکین صوبائی اسمبلی گل ابراہیم، محمد انورخان، یامین خان اور دیگر بھی موجود تھے صوبائی وزیر نے جیتنے والے ٹیم کے کپتان کو ونر اور دوسرے نمبر پر آنے والے ٹیم کو رنراپ ٹرافیاں دی جبکہ ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو بھی شیلڈز دئیے میناخان آفریدی کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے میں کھیلوں کی فروغ کیلیے سنجیدہ ہے صوبے میں کافی ٹیلنٹ موجود ہے خیبر پختونخوا نے اچھے کھلاڑی اور قومی ہیروز پیدا کئے ہیں جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر صوبے اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے انہوں نے جیتنے والوں کھلاڑیوں کو مبارکباد دی اور یقین دلایا کہ وہ صوبائی وزیر کھیل سے علاقہ میں گراؤنڈ بنانے اور کھلاڑیوں کو سہولیات مہیا کرنے کے حوالے سے بات کرینگے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانے اور ان پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں انکے سربراہوں کا کلیدی کردار ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کے معروضی حالات میں بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوان نسل کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے معیاری سکلز کی فراہمی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کیلئے پولی ٹیکنک اداروں کو پائدار بنیادوں پربہتر منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ ٹیوٹا کے ادارے صوبے میں نوجوانوں کی تربیت میں ایک اہم کردار سرانجام دے رہے ہیں تاہم اس سیکٹر کے سافٹ امیج کو اوپر لانے کیلئے اس سے فارغ ہنر مندوں اور ٹیکنیکل ماہرین کے کارہائے نمایاں کو سامنے لانے کی ضروت ہے تاکہ اس کی خدمات کے حوالے سے عوام کو مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹس اپنے انسٹی ٹیوٹ منیجمنٹ کمیٹیز کو مضبوط کرے اور مقامی سطح پر متعلقہ صنعتوں سے اپنے روابط بڑھائیں جبکہ حکومت کے ویژن کے مطابق پائدار ٹیوٹا کو عملی طور پر قائم کرنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔انھوں نے کہا کہ پولی ٹیکنک کے شعبے میں صوبے کے پسماندہ علاقوں کے اداروں پر توجہ دی جائے گی جبکہ مرد و خواتین کے اداروں میں مختصر دورانئے کے سافٹ سکلز کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ٹیوٹا کے اداروں کو پائدار ماڈل پر ڈالنا ہے جو حکومت کے ویژن کا اصل محور ہے۔ اس سلسلے میں فنی تعلیمی اداروں کے ذمہ دار اپنے فرائض احسن انداز میں پورے کریں جبکہ حکومت اس سیکٹر کی ترقی کیلئے اپنا تعاون فراہم کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کے روز گورنمنٹ ایڈوانس ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر حیات آباد پشاور میں صوبہ بھرکے زنانہ و مردانہ گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹس کیسربراہوں کیساتھ ہونے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں معاون خصوصی کو ڈپلومہ کورسز کے مذکورہ سرکاری انسٹی ٹیوٹس کی ترقی اور انھیں سکلزکی فراہمی کیلئے معیاری بنانے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں اور اداروں کو درپیش مسائل و چیلنجز سے بھی انھیں آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر مذکورہ انسٹی ٹیوٹس میں مختلف ٹیکنالوجیز میں فراہم کی جانے والی ڈپلومہ کورسز کے حوالے سے معاون خصوصی کو تمام معلومات سے آگاہ کیا گیا۔منعقدہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ بہتر کارکردگی کیلئے انسٹی ٹیوٹس اور پالیسی کے مابین پائی جانے والی ممکنہ خلا کو پر کرنے کی غرض سے انھوں نے پرنسپلز کی آرا معلوم کرنے کی غرض سے مذکورہ مشاورتی اجلاس بلایا جو اپنے اہداف کے حصول کیلئے مفید ثابت ہوگا۔ انھوں نے ان تیکنیکی اداروں کی تربیتی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انکے وسائل و اثاثہ جات کو پائدار ٹیوٹا کے لئے استعمال میں لانے پر زور دیا۔معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 4 ارب روپے کی خطیر رقم فنی تعلیم اور ہنر مندی کے شعبے کیلئے رکھی ہے جس کے سلسلے میں اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے 5 لاکھ تک قرضہ جات ٹیوٹا کے سند یافتہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر اپنے کاروبار اور روزگار کیلئے فراہم کیئے جائیں گے۔ جبکہ سوشل ویلفیر کے شعبے کے تحت بھی قرضہ سکیم شروع کی جائیں گی۔انھوں نے اداروں کے سربراہوں کو ہدایت کی کہ وہ اکیڈمک اور امتحانی نظام کی بہتری اور اس میں پائی جانے والی کمزوریوں کی نشاندہی کیلئے انھیں اپنی فیڈ بیک میں مفید تجاویز فراہم کریں تاکہ فنی تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔
چیف جسٹس کی توسیع کے لئے آئین میں ترمیم سپریم کورٹ پر شب خون مارنے کے مترادف ہوگا، مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا
> وفاق میں براجمان جعلی حکومت اعلیٰ عدلیہ کی آزادی چھیننے کی ناکام کوشش کررہی ہے،بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وفاق میں اقتدار پربراجمان جعلی حکومت اعلیٰ عدلیہ کی آزادی چھیننے کی ناکام کوشش کررہی ہے اورچیف جسٹس کی توسیع کے لئے آئین میں ترمیم کرنا سپریم کورٹ پر شب خون مارنے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس غیر آئینی اقدام کے ملک میں بھیانک نتائج سامنے آئیں گے جن سے بچنے کے لئے چیف جسٹس کو خود توسیع سے انکار کردینا چاہیئے تاکہ آئینی اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ سے پنگے لینا شریف خاندان کی پرانی عادت ہے اور فی الوقت سپریم کورٹ نے جوفیصلے کیئے ہیں ان پر عمل درآمد رکوانے کے لئے آئینی ترمیم کی کوشش کی جارہی ہے اورمینڈیٹ چور حکمرانوں کے اس غیر آئینی اقدام کا واحد مقصد اپنی حکومت بچا نے کی تگ و دو کرناہے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ شریف خاندان ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے قومی مفادات کو قربان کردیتے ہیں اسی طرح اب ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ کو بھی نقصان پہچاکر اس کی آزادی کو سلب کرنے میں مصروف عمل ہے۔شریف خاندان ہی کی وجہ سے ملک اس وقت بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ فارم 47 کے ذریعے حکومت بناکر شریف خاندان نے نہ صرف ملک و قوم اورالیکشن کمیشن سمیت دیگر اہم اداروں کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے بلکہ انہیں سیاست کی نذر کیاگیا ہے۔اس وقت بغض عمران میں شریف خاندان سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے لیکن جعلی حکومت کچھ بھی کرلے اس کے دن گنے جاچکے ہیں اور ان جعلی حکمرانوں کے اقتدار کا خاتمہ ناگزیر ہوچکاہے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم اور صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ فنی تعلیم کے شعبے کی مجموعی ترقی اور فروغ میں ہماری ترجیح طلبہ کو صحیح تربیت کی فراہمی اور انھیں معیاری ہنر سے آرستہ کرنے کیلئے ایسی سمت پر ڈالنا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے لیئے باعزت روزگار پا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ فنی تعلیم کے شعبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے جتنا بھی ہوسکیں اقدامات اٹھائے جائیں گے کیونکہ ہم نے اس ملک ہی میں رہنا ہے اور اپنی نئی نسل کے روشن مستقبل کیلئے سنجیدگی سیسوچنا ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا یہ واضح ویژن ہے کہ ٹیوٹا کو پائیداری پر لایا جا ئے تاکہ اسکی مالی لحاظ سے حکومت پر انحصار کے بجائے پروڈکشن ماڈلز کے تحت اپنی پیداواری صلاحیتوں کے ذرایع سے مضبوط کیا جاسکیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 4 ارب روپے فنی تعلیم اور ہنر مندی کے شعبے کیلئے رکھے ہیں جس کے سلسلے میں اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے 5 لاکھ تک قرضہ جات ہنرمند نوجوانوں کو اپنے کاروبار اور روزگار کیلئے فراہم کیئے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کے روز گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کوہاٹ روڈ پشاور میں صوبہ بھرکیگورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے پرنسپلز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں معاون خصوصی کو فنی تعلیمی اداروں کی ترقی اور ان درسگاہوں کو علم وہنر کی فراہمی کیلئے معیاری مراکز بنانے کی غرض سے پرنسپلز نے اپنی انفرادی آرا پیش کیں اور فنی تعلیمی اداروں کی پائیداری،انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے انکے ممکنہ پروڈکشن ذرایع کو بروئے کار لانے اور حائل چیلنجز کو حل کرنے کیلئے اپنی ماہرانہ تجاویز پیش کیں۔اجلاس میں کالج کے پرنسپل پروفیسر انجنیر سید قاسم شاہ نے معاون خصوصی کو تفصیلی پریزنٹیشن دی۔اس موقع پر صوبہ بھر کے کالجز میں مختلف ٹیکنالوجیز میں فراہم کی جانے والی ڈپلومہ اور بیچلرز ڈگریوں کے حوالے سے معاون خصوصی کو تمام معلومات سے بھی آگاہ کیا گیا جبکہ انھوں نے جی سی ٹی پشاور کے الیکٹرانکس اور الیکٹریکل ٹیکنالوجیز کے لیب میں تیار کی گئی انجینئرنگ مشینوں کا معائنہ بھی کیا اور کالج کے طلبہ کی تخلیقات کو سراہا۔منعقدہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ بہتر کارکردگی کیلئے فنی تعلیمی اداروں اور پالیسی کے مابین پائی جانے والی ممکنہ خلا کو پر کرنے کی غرض سے انھوں نے پرنسپلز کے آرا معلوم کرنے کی غرض سے مذکورہ مشاورتی اجلاس بلایا جو اپنے اہداف کے حصول کیلئے مفید ثابت ہوگا۔ انھوں کہا کہ اداروں کے حکام اپنے زیر تحت فنی اداروں میں موجود وسائل اور تربیتی اثاثہ جات کو بہتر پیداواری انتظام میں لاکر ادارے کی مالی ترقی کیلئے استعمال میں لائیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ انڈسٹری اور ٹیوٹا ملکر یہاں کی ضرورت کے مطابق نصاب کی تیاری کیلئے کوششیں کرے۔انھوں نے فنی تعلیمی اداروں کے امکانی آمدنی ذرایع اور کمرشل زونز کا ڈیٹا اکھٹا کرنے کی بھی ہدایت کی جس کو بروئے کار لانے کیلئے موزوں بزنس ماڈلز مرتب کیئے جائیں گے۔معاون خصوصی نے تین دنوں کے اندر اجلاس کے مقاصد کے حوالے سے اداروں کے سربراہوں کو تحریری فیڈ بیک دینے کی بھی ہدایت کی تاکہ اسے فنی تعلیم کی پایداری اور فعالیت کیلئے آئندہ کے روڈ میپ کا حصہ بنایا جا سکے۔
