خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہاہے کہ محکمہ تعلیم کے جاری منصوبے بروقت مکمل کئے جائیں تاکہ طلباؤطالبات کے مسائل بروقت حل ہوسکیں۔ انہوں نے پلاننگ حکام کو ہدایات کی ہے کہ جتنے منصوبے پائپ لائن میں ہیں ان کے پی سی ون اوردیگرضروریات بروقت مکمل کریں تاکہ وہ منصوبے بھی متعلقہ فورمز سے منظور کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ منصوبوں پر کام کی رفتار میں بہتری لانے کیساتھ ساتھ ان کی درجہ بندی کریں اور اولین ضرورت کے منصوبے جن سے زیادہ ثمرات مل رہے ہیں ان پر کام پہلے شروع کریں اوردرجہ وائز منصوبوں کی تکمیل کیلئے ٹائم لائن مکمل کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم کے ترقیاتی بجٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد اورمحکمہ تعلیم کے دیگرحکام نے شرکت کی۔ بریفنگ کے دوران وزیرتعلیم کو بتایاگیاکہ محکمہ تعلیم کے اس وقت کل 107 منصوبوں پر کام جاری ہیں جن میں بندوبستی اضلاع کے 58، ضم شدہ اضلاع کے 19 اور اے آئی پی کے 30 منصوبے شامل ہیں جن کی بروقت تکمیل ہرصورت یقینی بنائی جائیگی۔ انہیں بتایاگیا کہ ان منصوبوں میں آئی ٹی لیبز، ای سی ای رومز، امتحانی ہالز، سائنس لیبز، سکولوں کی تعمیرو اپ گریڈیشن، سولرائزیشن، کیڈٹ کالجز کا قیام، کمیونٹی سکولز کے قیام اور عوامی فلاح کے دیگر کثیرالمقاصد منصوبے شامل ہیں۔وزیرتعلیم فیصل خان ترکئی نے کہاکہ سابقہ دور حکومت میں بھی تعلیم اولین ترجیح تھی اور سکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور دیگر ضروری کاموں پراربوں روپے خرچ کئے جاچکے ہیں اور ترقی کا یہ سفر موجودہ دور حکومت میں بھی جاری رہے گا۔ صوبے میں تعلیم کواولین ترجیح دیکر زیادہ وسائل اس پر خرچ کئے جائیں گے۔جو ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔ وزیرتعلیم نے کہاکہ ہمارا بنیادی مسئلہ سکولوں سے باہر بچوں کو لاناہے اور ڈراپ آوٹ شرح کوکم کرنا ہے جبکہ سکولوں میں موجود بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرناہے۔انہوں نے حکام کو مزید ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاکہ ترقیاتی منصوبوں میں خواتین کی تعلیم اور نئے ضم اضلاع میں تعلیم کی ترقی پرخصوصی توجہ دی جائے تاکہ وہ پسماندہ علاقے بھی ترقی کے سفر میں شامل ہوسکیں۔
وزیر اعلیٰ کا دیرہ اسماعیل خان کا دورہ: عوام کی فلاح، امن و امان، اور صوبے کی ترقی پر توجہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورے پر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان آمد پر عوام اور پارٹی کارکنوں نے وزیر اعلیٰ کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پورے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں اور پورے صوبے کا امن و امان، ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود انکی ذمہ داری ہے۔ صوبے میں جو بھی ترقیاتی کام نہیں ہوئے وہ ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں گے۔ موجودہ صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح صوبے میں امن و امان کا قیام ہے جبکہ امن و امان کے حوالے سے مکمل ایک پلان بنایا گیا ہےجس پر جلد عملدرآمد شروع ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال ڈیڑھ سے معطل شدہ صحت کارڈ دوبارہ بحال کر دیا ہے،سرکاری ہسپتالوں کو بہتر کرنا ہے، وہ وقت دور نہیں کہ لوگوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ علی امین نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت کو ہٹانے کے بعد ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہے،ملک میں روزگار ہے نہ کاروبار، لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ساڑھے آٹھ لاکھ خاندانوں کو باعزت طریقے سے رمضان پیکج دیا جائے گا، لوگوں کو انکا حق دہلیز پر پہنچائیں گے اور تذلیل نہیں کریں گے۔پناہ گائیں دوبارہ کھول دی ہیں اور وہاں پر لوگوں کو تمام سہولیات میسر ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کو معاشی لحاظ سے اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنا انکی حکو مت کی ترجیح ہے جبکہ فوڈ سیکیورٹی کے لیے ٹھوس اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔سی آر بی سی لفٹ کنال منصوبے پر جلد کام شروع کیا جائیگا جبکہ ٹانک زام اور دیگر چھوٹے ڈیموں پر بھی کام کیا جائے گا۔صوبے کے نوجوانوں کو خود روزگاری کے مواقع فراہم کئے جائیں گے،خواتین کو گھروں میں روزگار اور نوجوانوں کو جدید سکلز ٹریننگز دی جائیں گی۔زراعت اور لائیو اسٹاک کو ترقی دے کر لوگوں کو خود روزگاری کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ڈی آئی خان کے لوگوں کو کاروبار پر لگانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبے کا ریونیو بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے، ایسے انقلابی اقدامات کریں گے جن سے خیبر پختونخوا ماڈل صوبہ بن جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاق کے ذمے صوبے کے بقایا جات کی ادائیگی کے لئے وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے،یہ بقایا جات صوبے کے عوام کا حق ہے، وفاق نے یہ حق صوبے کو دینا ہوگا۔ہمارا صوبہ سستی بجلی پیدا کر رہا ہے، وہی بجلی ہمیں مہنگے داموں مل رہی ہے، وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر مجھے عوام کا حق ادا کرنا ہے۔اگر میں عوام کا حق ادا نہیں کر سکتا تو پھر اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں، صوبے کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑتا رہوں گا۔جس طریقے سے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے، عوام کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے عوام اس پر آواز اٹھائیں۔عمران خان کو ایک چیز کی فکر ہے کہ ملک میں جو حالات چل رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس جگہ پر چلے جائیں کہ واپسی کا راستہ نہ ہو۔ عمران خان کے دور حکومت میں ملک درست سمت میں چل رہا تھا۔ دو سال کی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا طوفان لا کھڑا کیا ہے۔
صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان کی زیر صدارت، محکمہ ایکسائز بارے تعارفی اجلاس۔
خیبر پختونخوا کے وزیر خلیق الرحمان کو سیکرٹری ایکسائز اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نے محکمہ ایکسائز کے انتظامی امور، محاصل ریکوری،منشیات روک تھام، غیر قانونی گاڑیوں اور محکمہ میں جاری ریفارمز پر تفصیلی بریفنگ دی، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نے تمام ڈائریکٹرز سے انکے متعلقہ ایکسائز امور پر تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ صوبائی وزیر خلیق الرحمان نے اس موقع پر محکمہ کی کارکردگی کو سراہا اور محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے اصلاحات بارے اور منشیات کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے کے پرزور عزم کا اظہار کیا، خلیق الرحمان نے مزید کہا کہ مقرہ اہداف پورا کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ ایکسائز سے متعلق عوامی امور کی بہترین سہولیات اولین ترجیح ہے، انہوں نے محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے محکمہ کو درپیش مسائل اور اصلاحات بارے اپنی سفارشات پیش کرنے کے ہدایات جاری کیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مشیر برائے عشر و زکوٰۃ، سماجی بہبود اور ترقی خواتین مشال یوسفزئی کا دورہ۔
ضلع صوابی۔مشیر وزیراعلیٰ برائے عشر و زکوٰۃ، سماجی بہبود اور ترقی خواتین مشال یوسفزئی نے رمضان المبارک کا تیسرا روزہ افطار پناہ گاہ شاہ منصور صوابی میں کیا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال صوابی، پناہ گاہ شاہ منصور اور منشیات سنٹر صوابی میں محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے افطار پروگرام کا جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر صوابی طارق اللہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صوابی اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے ضلعی آفسر ظفر خان سمیت اعلی حکام موجود تھے۔ ضلعی افسر سوشل ویلفیئر ظفر خان نے مشیر وزیراعلیٰ مشال یوسفزئی کو پناہ گاہوں میں مسافروں کو دی جانے سہولیات کے بارے میں بریف کیا۔نیز مشال یوسفزئی نے سہولیات کا خود بھی جائزہ لیا۔ مشال یوسفزئی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا کے عوام نے خدمت کرنے کا تیسرا موقع دیا ہے۔عوامی امنگوں پر اُترنے کی بھرپور کوشش کرینگے۔ عوامی خدمت کا یہ سفر جاری رہے گا۔ مشیر وزیراعلیٰ مشال یوسفزئی نے پناہ گاہ میں دی جانے والی سہولیات کی مزید بہتری کے حوالے سے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجود تمام پناہ گاہوں میں سہولیات کی دستیابی مزید بہتر بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں تمام پناہ گاہوں کی خود مانیٹرنگ کر رہی ہوں تاکہ عوام کو خدمات کی فراہمی مزید بہتر بنائی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی عوام دوست و فلاحی پالیسیوں کے تحت پناہ گاہوں میں افطاری کا اہتمام ہر ضلع میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جاری رہیگا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ امجد علی خان کا محکمہ میں باقاعدہ چارج سنبھالنا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ امجد علی خان نے اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا، سیکرٹری ہاوسنگ عنبر علی نے معاون خصوصی سے انکے دفتر میں ملاقات کی، ملاقات میں محکمہ کے مختلف منصوبوں اور دیگر امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، معاون خصوصی امجد علی خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ ہاؤسنگ کی تمام جاری سکیموں کو عملی جامہ پہنا کر مقررہ وقت میں مکمل کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ میں بہتری لانے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائینگے، خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیں تیسری مرتبہ بھاری مینڈیٹ سے کامیابی دلائی ہے اور ہم عوام کی امنگوں کے مطابق محکمہ میں بہتر لانے کے لئے ضروری اصلاحات کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ پر تفصیلی بریفنگ تیار کرکے چند روز میں انہیں پیش کی جائے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر ریونیو اینڈ اسٹیٹ اور سئینر ممبر بورڈ آف ریونیو کی زیر صدارت بورڈ آف ریونیو کا تعارفی اجلاس
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریونیو و اسٹیٹ نذیر احمد عباسی اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اکرام اللہ خان کے زیر صدارت بورڈ آف ریونیو کا تعارفی اجلاس بورڈ آف ریونیو کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، اجلاس میں بورڈ آف ریونیو کے ممبران، سیکرٹریز اور مختلف پراجیکٹس کے ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈز کے ممبران و افسران کا صوبائی وزیر نذیر احمد عباسی سے تعارف کرایا گیا۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اکرام اللہ خان نے صوبائی وزیر ریونیو اینڈ اسٹیٹ کو خوش آمدید کہا اور بورڈ آف ریونیو کے تنظیمی ڈھانچے، بورڈ کے قیام کے پس منظر اور افعال پر تفصیلی پر روشنی ڈالی۔ نیز ریونیو کورٹس میں زیر سماعت کیسز سے آگاہ کیا۔لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن پراجیکٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کا فیز ون جون تک مکمل ہو جائے گا۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر ریونیو اینڈ اسٹیٹ نذیر احمد عباسی نے کہا کہ ہم نے ملکر کام کرنا ہے۔ مختلف سروسز کو آن لائن کرنے کیلئے اقدامات کرینگے تاکہ عوام کو انکے گھر کی دہلیز پر سہولت میسر ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ نے خدمت کا موقع دیا ہے۔ عوام کی بھرپور خدمت کرکے خوشی ہوگی۔ بریفینگ کے دوران سروس ڈیلیوری سنٹر، ضم اضلاع میں لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن، ای سٹامپ، مالی سال 2023-24 کیلئے مختص بجٹ و اخراجات، گڈ گورننس کے لئے اقدامات و اصلاحات اور بورڈ آف ریونیو کو درپیش چیلنجز و مشکلات سے آگاہ کیا گیا۔ صوبائی وزیر ریونیو اینڈ اسٹیٹ نذیر احمد عباسی نے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔
متعلقہ حکام کو زرعی کھاد و زرعی ادویات میں ملاوٹ کے خاتمے کے لئے یقینی اقدامات اٹھانے کی ہدایت، محمد سجاد
خیبر پختو نخوا کے وزیر زراعت محمد سجاد نے محکمہ زراعت شعبہ توسیع کا دورہ کیا، ممبر صوبائی اسمبلی خورشید خٹک، ڈائریکٹر جنرل زراعت شعبہ توسیع جان محمد،ڈائریکٹر جنرل ضم اضلاع مراد علی خان اور محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع نے وزیر زراعت کو محکمہ کی طرف سے کی جانے والی مختلف سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، وزیر زراعت خیبر پختونخوا نے محکمہ کے افسران کو ہدایت کی کہ ہمارا صوبہ خیبر پختونخوا قدرتی طور پر بہت زرخیز ہے اور اللہ تعالی نے اس کو مختلف موسموں سے نوازا ہے جو کہ ہر قسم کی فصلات و باغات اور سبزیاں اگانے کے لیے موضوع ہے وزیر زراعت نے محکمہ کے افسران کو مزید ہدایت کی کہ صوبے میں زراعت کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے اور صوبہ میں بیروزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو زراعت اور اس سے وابستہ کاروبار کی طرف راغب کرنے اور انہیں ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں وزیر زراعت نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کا زیادہ تر رقبہ بارانی ہے لہذا ان علاقوں میں زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ صوبے کو خوراک کی پیداوار کے حوالے سے خود کفیل بنایا جا سکے، وزیر زراعت نے متعلقہ حکام کو زرعی کھادوادویات میں ملاوٹ کے خاتمے کے لیے یقینی اقدامات ٹھانے کی ہدایات کی، وزیر زراعت نے متعلقہ حکام کو زرعی کھادوں اور ادویات میں ملاوٹ کی خاتمے کے لئے یقینی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
صوبے میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں۔وزیر محنت خیبر پختونخوا
خیبر پختونخواکے وزیر محنت فضل شکور خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے دورس اقدامات اٹھائیں اور جہاں کہیں مسائل درپیش ہوں ان کو فوری نوٹس میں لایا جائے تاکہ بروقت حل کیئے جاسکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز محکمہ محنت کے بارے بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لیبر، ایڈیشنل سیکرٹری لیبر، ڈائریکٹر لیبر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی،اس موقع پر صوبائی وزیر کو محکمہ کے منصوبوں، کارکردگی، اہداف اور اب تک کی کامیابیوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا، صوبائی وزیر نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صوبے میں انڈسٹریل اور سوشل سیکٹر میں کام کرنے والے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر سے بہتر اقدامات اٹھائے جائیں،انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کے بال بچوں کے تحفظ اور انہیں پوری اجرت کی فراہمی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے اور ان کی محنت کے اوقات آٹھ گھنٹے سے متجاوز نہ ہوں، صوبائی وزیر نے ضم اضلاع میں صنعتوں کے فروغ کو بندوبستی اضلاع کی طرز پر انڈسٹری ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ صنعتی مالکان اور مزدور دلجمعی سے صوبے کی تیز تر ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں، صوبائی وزیر نے پنجاب کی طرز پر انڈسٹری مالکان اور مزدوروں کے لیے سہولیات دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جنگلات کی بلین ٹری پلس منصوبہ اور پشاور ۔ڈی آئی خان موٹروے کے حوالے سے اہم اقدامات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے صوبے میں جنگلات کے رقبے میں اضافے کے لئے ایک اہم اقدام کے طور پر بلین ٹری پلس منصوبہ شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں محکمہ جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر جنگلات فضل حکیم کے علاوہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجدعلی خان، سیکرٹری جنگلات نذر حسین شاہ اور محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلی کو محکمے کے انتظامی معاملات، کارکردگی، اہداف اور دیگر امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو جنگلات کی کٹائی روکنے اور محکمے کا ریونیو بڑھانے کے لئے ٹھوس اور حقیقت پسندانہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے محکمہ جنگلی حیات کو ماہی پروری کے فروغ کے لئے قابل عمل تجاویز اور ایکشن پلان تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ صوبے میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے کے لئے جرمانوں کی موجودہ شرح کو اس حد تک بڑھایا جائے کہ جرمانوں کی یہ رقم کاٹی گئی لکڑی کی قیمت سے زیادہ ہو تاکہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کا موثر تدارک کیا جا سکے۔ انہوں نے ٹمبر کی اسمگلنگ پر کڑی نظر رکھنے کے لئے چیک پوسٹوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں جنگلات کی سائنٹفک مینجمنٹ پر عملدرآمد سے متعلق معاملات پر بھی غوروخوض کیا گیا۔
دریں اثناءوزیراعلیٰ نے پشاور ۔ڈی آئی خان موٹروے کے حوالے سے بھی ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں اُنہیں مذکورہ منصوبے پر اب تک کی پیشرفت ، منصوبے کی مجموعی لاگت اور مجوزہ الائمنٹ پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو پشاور۔ ڈی آئی خان موٹروے کو بی اوٹی موڈ (بلٹ آپریٹ ٹرانسفر )پر تعمیر کرنے کے آپشن کو بھی زیر غور رکھنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ موٹروے کی تعمیر پر صوبائی حکومت کا کم سے کم خرچہ ہو ۔ اجلاس کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پشاور۔ڈی آئی خان موٹروے کی کل لمبائی365 کلومیٹر ہے ، مذکورہ موٹروے پر 19 انٹر چینجز جبکہ دوٹنلز تعمیر کئے جائیں گے ۔مزید بتایا گیا کہ یہ منصوبہ سی پیک کے جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی )کے آٹھویں اجلاس میں بھی زیر بحث آچکا ہے اور دونوں اطراف سے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ جے ڈبلیو جی کے آئندہ اجلاس میں دوبارہ اس پر غور وخوص کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا: وزیر زراعت کا زرعی اراضیات کی حفاظت کے لئے اقدامات کیلئے اطلاع دینے کا فریضہ
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت محمد سجاد نے کہا ہے کہ صوبے میں زرعی مقاصد کیلئے پانی کا منظم استعمال انتہائی ضروری ہے اور اس سلسلے میں محکمہ زراعت کا شعبہ سائل اینڈ واٹر کنزرویشن موثر اقدامات اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی اراضیات پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام سے ہماری زراعت کو لاحق خطرات کے پیش نظر کوششیں کی جائیں گی تاکہ غیر قانونی تعمیرات کا راستہ روکا جا سکے۔انھوں نے ہدایت کی کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے پانی کی قلت کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کیلئے اس کے صحیح استعمال کیلئے منصوبہ بندی کی جائے تاکہ اس کا ضیاع روک کر اسے زراعت کی ترقی کیلئے بہتر انداز میں استعمال میں لایا جاسکے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کے روز پشاور میں سائل اینڈ واٹر کنزرویشن کے مرکزی دفتر کا دورہ کرنے کے موقع پر محکمہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران کیا۔بریفنگ میں رکن صوبائی اسمبلی خورشید خٹک نے بھی شرکت کی جبکہ ڈائریکٹر جنرل محمد یاسین وزیر نے صوبائی وزیر کو اس موقع پر محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں اور صوبے میں پانی اور زرعی اراضیات کے بچاؤ کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ محکمہ کا مذکورہ شعبہ صوبہ میں زرعی مقصد کیلئے بارانی اور دیگر ذرائع کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور منظم استعمال میں لانے کیلئے مختلف سرگرمیاں سر انجام دے رہا ہے جبکہ زرعی اراضیات کی حفاظت اور لیولنگ کیلئے بھی اقدامات اٹھاتا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے زرعی اراضیات کی حفاظت انتہائی ضروری ہے اور اس سلسلے میں کل وقتی اقدامات نا گزیر ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں محکمہ ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے تاکہ وہ صوبہ میں زرعی اراضیات کے بچاؤ کی نگرانی کرے جبکہ وہ ذاتی طور پر بھی اس کی مانیٹرنگ کریں گے۔انھوں نے محکمہ کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ زرعی ترقی کیلئے بہترین منصوبے سامنے لائے تاکہ ان پر عمل کرکے زرعی خودکفالت میں مدد مل سکے۔
