نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ بد عنوانی ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جو کسی بھی معاشرے کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، بدعنوانی پر مبنی نظام ہی کسی معاشرے کی تباہی اور بربادی کیلئے کافی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بدعنوانی کو ہمیشہ سے سماجی و معاشی ترقی کیلئے ناسور سمجھا جاتا ہے ۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ بد عنوانی کی وجہ سے کسی بھی ملک میں ترقیاتی سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں ، نظام پر عوام کا اعتماد اُٹھ جاتا ہے ۔ کرپشن کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس میں ہمیں اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ صوبائی حکومت شفافیت کو فروغ دینے اور بد عنوانی کے خاتمے کیلئے نہ صرف پر عزم ہے بلکہ سنجیدہ اقدامات بھی اُٹھا رہی ہے ۔ ہم خوشحال خیبرپختونخوا وژن متعارف کرا رہے ہیں جس کا اہم ترین جز بد عنوانی کے خلاف زیر و ٹالرنس پالیسی ہے ۔ ہم عوامی خدمات کی فراہمی کے تمام مراکز او ردفاتر کی کڑی نگرانی کریں گے اور برائی اور بدعنوانی جہاں شروع ہو تی ہے ہم وہیں پر اسے ختم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے جمعرات کے روز نشتر ہال پشاور میںقومی احتساب بیورو خیبرپختونخوا اور صوبائی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کے زیر اہتمام انسداد بدعنوانی کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگران کابینہ اراکین ، اعلیٰ سرکاری حکام ، طلبہ اورسول سوسائٹی کے نمائندوں نے سمینار میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بدعنوانی کی وجہ سے بہت سے سماجی، معاشی اور مالی مسائل جنم لیتے ہیں جو رفتہ رفتہ پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ بدعنوانی سے معاشرے میں عدم مساوات ، عدم انصاف اور ظلم کو فروغ ملتا ہے اور اس طرح مجموعی طور پر پورا معاشرہ اخلاقی گراوٹ ، پستی اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اسلئے بدعنوانی کا تدارک ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ کرپشن کا خاتمہ ایک جہاد ہے جس میں ہم سب کو اپنا اجتماعی اور انفرادی کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ نگران دور کے مختصر وقت میں ہم کوئی اور بڑا کام نہ بھی کر سکیں تاہم کرپشن کے خلاف ایک موثر میکنزم ضرور تیار کریں گے ۔ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ نیب خیبرپختونخوا اور صوبائی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ بدعنوانی کے خلاف متحرک ہیں۔ نیب میں اصلاحات کا عمل بھی قابل تعریف ہے ۔ صوبائی حکومت صوبے سے کرپشن کے خاتمے کیلئے نیب کے شانہ بشانہ رہے گی ۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ عوام میں بدعنوانی کے خلاف شعور اُجاگر کرنے اور سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ مساوات ، شفافیت ، عدل و انصاف اور میرٹ کا بول بالا ہی بہتر طرز حکمرانی کی اصل روح ہیں ۔بد عنوانی ایک معاشرتی برائی ہے اور معاشرتی برائیاں معاشروں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں ۔ معاشرتی برائیوں کو روکنے کیلئے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ صوبے سے کرپشن کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔
خیبر پختونخوا حکومت کی ہدایت پرمحکمہ لائیو سٹاک کے تحت آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد
خیبر پختونخوا حکومت اور نگران صوبائی وزیر زراعت،لائیو سٹاک،فشریز،خوراک اورجنگلات آصف رفیق اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخواکی ہدایت پر محکمہ لائیو سٹاک کے حوالے سے عوام کو درپیش مسائل اور ان کے فوری حل کے لیے محکمہ لائیو سٹاک کے زیراہتمام آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری لائیو سٹاک،ماہی پروری اور کوآپریٹو ڈاکٹر محمد اسرار اور دیگر متعلقہ حکام نے کسانوں سے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لئے احکامات جاری کیئے۔آن لائن کھلی کچہری میں ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر عالمزیب مہمند، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ریسرچ ڈاکٹر اعجاز علی، ڈائریکٹر جنرل فشریز ڈاکٹر حسرو کلیم، کوآپریٹیو رجسٹرار فرحان خان اور دیگر افسران و عملے نے شرکت کی۔آن لائن کھلی کچہری میں صوبہ بھر کے مختلف اضلاع سے زمینداروں نے درپیش مسائل اور شکایات کے بارے میں حکام کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔آن لائن اور ویڈیو کالز کے ذریعے 50 سے زائد سائلین نے اپنے مسائل اور مشکلات کو ریکارڈ کروایا۔ مویشی پال زمینداروں نے مویشیوں کی ادویات کی کمی،ان کے معیار، لیباٹریوں کے قیام، ویکسین کی بروقت فراہمی کوآپریٹوبینک کے لیے فنڈز کی دستیابی، مچھلیوں کے لئے ہچری فارمز کے قیام،بعض علاقوں میں موبائل وٹرنری کلینکس کی عدم موجودگی،ماڈل ڈیری فارمز کا قیام، ہسپتالوں میں جانوروں کے علاج معالجے کے امور اور درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ آن لائن کھلی کچہری میں زیادہ تر مویشی پال زمینداروں نے حکومت اورمحکمہ لائیو سٹاک کی جانب سے زمینداروں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ اس موقع پر شکایات اور تجاویز سننے کے بعد سیکرٹری لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد اسرار نے آن لائن کھلی کچہری کے دوران بڑی تعداد میں زمینداروں کی شرکت کو خوش آئند قرار دیااور کہا کہ زمینداروں کی جانب سے آن لائن فراہم کی جانے والی تجاویز انتہائی مفید ہیں اوران پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آ ن لائن کھلی کچہری کا بنیادی مقصد لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بروقت اور بھر پور اقدامات اٹھانا ہے اور اور ترقی میں جہاں پر کوئی کمی یا حکومتی منصوبے کسی تاخیر کا شکار ہوں ان کی نشاندہی کرنا ہے کھلی کچہری کے موقع پر سیکرٹری لائیو سٹاک نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مویشی پال زمینداروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے کیونکہ دیہی علاقوں کے عوام کے روزگارکا زیادہ تر انحصار مال مویشی پر منحصرہے۔
نگران وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا کی زیر صدارت جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کمیٹی کا اجلاس۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات،ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے ہدایت کی ہے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ رولز کے تحت مالی مشکلات سے دوچار صحافیوں کی درخواستوں پر کارروائی تیز کی جائے اور تمام پہلوؤں سے مکمل درخواستیں کمیٹی میں پیش کی جائیں تاکہ صحافیوں کو بروقت امداد مل سکے. یہ ہدایات انہوں نے سول سیکریٹریٹ میں منعقدہ جرنلسٹس انڈوومنٹ ویلفیئر فنڈ کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے د یں. اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ حکومت خیبرپختونخوا سید جبار شاہ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ محمد عمران خان، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز لیاقت آمین، پریس رجسٹرار انصاراللہ خلجی کے علاوہ کمیٹی ممبران بجٹ آفیسر محکمہ فنانس محمد ایوب، صدر پریس کلب پشاور ارشد عزیز ملک، صدر مردان پریس کلب بخت محمد و دیگر نے شرکت کی. اجلاس کو بتایا گیا کہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں فنڈ رولز میں ترامیم پر کام جاری ہے. نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے فنڈ رولز میں ترامیم پر کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی. انہوں نے کہا کہ بیروزگاری اور پنشن الاؤنس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ بیروزگار اور مالی مشکلات سے دوچار سینئر صحافیوں کی بہتر طریقے سے مدد ہو سکے، انہوں نے کہا کہ فنڈ سے متعلق اجلاس باقاعدگی کے ساتھ منعقد کئے جائیں تاکہ مالی معاونت کی درخواستیں تاخیر کا شکار نہ ہوں. یاد رہے کہ نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کی زیر صدارت کمیٹی کا یہ دوسرا اجلاس تھا جس میں مختلف صحافیوں کی جانب سے مالی معاونت کے لئے بھیجی گئی درخواستیں پیش کی گئیں اس موقع پر مکمل درخواستوں پر مالی معاونت کی منظوری دی گئی. اجلاس سے خطاب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافی مشکل حالات میں فرائض انجام دیتے ہیں جبکہ حکومتی معاملات میں شفافیت لانے اور حکومتی اقدامات عوام تک پہنچانے میں صحافیوں کا کلیدی کردار ہے. ایسے میں جب صحافی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کے دوران بیماری کا شکار ہوں یا ضعیف العمر ہوجائیں تو فنڈ رولز کے تحت ان کی دیکھ بھال کے لئے ہمیں اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن ادا کرنی چاہیے جبکہ اس نیک کام میں دیر نہیں ہونی چاہیئے۔
نگران وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت امریکن قونصل جنرل کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور تعاون پر گفتگو
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ سے منگل کے روز پشاور میں تعینات امریکن قونصل جنرل شانتی مور نے وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کی امور اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیا ل کیا گیا ۔ مختلف شعبوں میں صوبائی حکومت اور امریکی ترقیاتی اداروں کے درمیان اشتراک کار اور تعاون سے متعلق معاملات پر گفتگو ہوئی ۔ نگران وزیراعلیٰ ارشد حسین شاہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت مختلف شعبوں میں امریکی حکومت اور اداروں کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ، امید ہے سوشل سیکٹرز میں امریکی حکومت صوبے کے ساتھ تعاون کا یہ سلسلہ مزید بہتر انداز میں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت اور امریکی ترقیاتی ادارے مختلف شعبہ جات بشمول پولیس، تعلیم، صحت، زراعت میں تعاون فراہم کر رہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں دوست ممالک اور ڈونر ایجنسیوں کے تعاون کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کئی دہائیوں پر محیط بد امنی کی وجہ سے یہ علاقے ترقی کے میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ ان جنگ زدہ علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ضم اضلاع میں روڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر ، امن و امان کو بہتر بنانا، تعلیم و صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ نگران صوبائی حکومت ان شعبوں میں امریکی تعاون کا خیر مقدم کرے گی اور اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ امریکی قونصل جنرل شانتی مور نے اپنی گفتگو میں کہا کہ امریکی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین دوستانہ اور دیرینہ تعلقات قائم ہیں جنہیں مزید مستحکم اور مضبوط بنایا جائے گا۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت امن و امان کے اجلاس میں اقدامات پر غور
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت منگل کے روز امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ ہاو¿س پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضم اضلاع میں پولیس کو مستحکم کرنے سے متعلق امور پر غور و خوص کیا گیا۔ نگران صوبائی وزراءڈاکٹر عامر عبداللہ، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کا کاخیل کے علاو¿ہ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چودھری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈاپور، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محمد عابد مجید اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ریجنل پولیس آفیسرز بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر اعلی کو صوبہ بھر میں امن وامان کی مجموعی صورتحال، درپیش مسائل، پولیس کے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔ نگران وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااوراس مقصد کے لئے پولیس کو تمام تر درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لئے پولیس فورس کی کوششیں قابل تحسین ہیں تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں پولیس فورس کو مزید بہتر اور مربوط انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کو بحال رکھنے کے لئے پولیس کی تمام درکار ضروریات پوری کی جائیں گی اور پولیس جوانوں کے مورال کو ہر قیمت پر بلند رکھا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ضم اضلاع میں پولیس کی استعداد کو بڑھانے کے لئے فوری طور پر قابل عمل پلان ترتیب دیا جائے جبکہ صوبائی حکومت اس پلان پر عملدرآمد کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ اچھی کارکردگی کے حامل پولیس جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے میکنزم تیار کیا جائے جبکہ سنگین جرائم اور دہشتگردی کے واقعات میں ملوث عناصر کو سزائیں دلانے کے لئے استغاثہ کے موجودہ نظام کو بہتر بنانے پر کام کیا جائے۔
نگران وزیر اطلاعات، ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ و عجائب گھر کا لاہور اور قصور کا ایک روزہ دورہ۔
نگران وزیر اطلاعات، ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ و عجائب گھر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے لاہور اور قصور کا ایک روزہ دورہ کیا،دورے کے موقع پر پنجاب کے نگران وزیر برائے ہاؤسنگ، اربن ڈولپمنٹ و پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سید اظفر علی ناصر ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے موقع پر انہوں نے لاہور میں پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔دوسری جانب قصور کے دورے کے موقع پر انہوں نے سابق وزیر اعظم کے سابق سپیشل اسسٹنٹ برائے دفاع اور ممتاز سیاسی شخصیت ملک احمد خان سے ان کے ماموں کی وفات پر تعزیت کی اور رب العالمین کے حضور مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے صبر جمیل کی دعا کی۔لاہور میں پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر سے ملاقات کے دوران نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے بین الصوبائی امور کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور خیبرپختونخوا میں جاری اینٹی سمگلنگ، بھتہ خوری، اوردیگر کرائم کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ملاقاتوں کے دوران بین الصوبائی ثقافتی تقاریب، میڈیا کے تبادلوں سمیت دیگر شعبوں میں پنجاب کے تجربات سے استفادہ کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر سے گفتگو میں انہوں نے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے اطلاعات و تعلقات عامہ اور ثقافت کے محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور مشترکہ تجربات سے استفادے کے لئے حکمت عملی ترتیب دینے پر بات کی۔نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ لاہور شہر کے تاریخی ورثہ کو محفوظ بنانے کے لئے جو اقدامات کئے گئے ہیں وہ قابلِ تقلید ہیں اور اس ماڈل کو اپنا کر پشاور اور خیبرپختونخوا کے تاریخی شہروں کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اور سیاحت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
اوسط عمر میں مسلسل اضافہ کے سبب جسمانی معذوری سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر الیاس سید
پیراپلیجک سنٹر پشاور کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس نے کہا ہے کہ میڈیکل سائنس میں انقلابی ترقی کے باعث انسان کی اوسط عمر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تاہم ایسے حالات میں جسمانی معذوری ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے جس کی تمام وجوہات پر توجہ ضروری ہے جسمانی معذوری کے عالمی دن کے موقع پر ریڈیو پختونخوا پشاور کے خصوصی پروگرام دارودرمل میں میزبان ڈاکٹر لطیف اللہ عمرزئی کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر الیاس سید کا کہنا تھا کہ ترقیافتہ اقوام کی طرح مناسب غذا اور ورزش کے اصول اپنائے جائیں تو پاکستان میں شوگر اور بلڈ پریشر سمیت بیشتر امراض اور ادویات کا تدارک ممکن ہے اسی طرح کزنز کی شادیوں اور بچوں کے موٹر سائیکل چلانے کی حوصلہ شکنی سے بھی جسمانی معذوری کے راستے مسدود ہو سکتے ہیں موٹر سائیکل کیلئے ہیلمٹ کا استعمال اور ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی بھی لوگوں کو اپاہج ہونے سے بچا سکتی ہے اسی طرح انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف حادثات میں سر پر شدید چوٹ لگنے والے مریضوں کی تعداد لاکھوں اور سپائنل کارڈ انجری سے معذور افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے مگر انکے موثر علاج کے اداروں کا شدید فقدان ہے جس پر حکومتی اور عوامی ہر سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اس موقع پر میزبان ڈاکٹر لطیف اور کئی سامعین نے اپنے تاثرات میں پاکستان میں سپائنل کارڈ انجری کا واحد ادارہ کامیابی سے چلانے اور جسمانی معذوروں کی بحالی کیلئے بے لوث خدمات پر ڈاکٹر الیاس سید کو خراج تحسین پیش کیا اور انکے لئے اعلیٰ سول ایوارڈ کا مطالبہ کیا۔
پشاور پریس کلب سولرائزیشن منصوبہ کامیابی کے ساتھ مکمل، نگران وزیر اطلاعات و تعلقات کا دورہ اور اہم اعلان
پشاور پریس کلب سولرائزیشن منصوبہ کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے، یہ پشاور پریس کلب کے صحافیوں کے لئے نہایت ہی اہم منصوبہ تھا جو نگران حکومت میں مکمل کیا گیا، منصوبے میں سابق نگران وزیر اعلیٰ مرحوم محمد اعظم خان نے خصوصی دلچسپی لی اور اسکوقلیل وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کی گئی، عہدہ سنبھالنے کے بعد نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی قیادت میں مسلسل کوششوں کے ذریعے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا، منصوبے سے پریس کلب کو سالانہ لاکھوں روپوں کی بچت ہوگی، پریس کلب کو مزید مستحکم کرنے کے لئے دیگر اقدامات بھی کئے جائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب کا دورہ کرتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا گیا. نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے تقریب میں شریک صحافیوں سے خطاب میں کہا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا اور پریس کلب ایک گاڑی کے دو پہیوں کے مانند ہیں جو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں، صوبے میں صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے پریس کلبوں کو مستحکم کرنے اور بیروزگاری سے دوچار صحافیوں کے لئے بھی جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کے تحت اقدامات جاری ہیں. نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اس موقع پر کہا کہ سوشل میڈیا کے غیرذمہ دارانہ اور منفی استعمال سے معاشرتی مسائل نے جنم لیا ہے، کوہستان واقعہ ایسی ہی غیر ذمہ دارانہ سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے رونما ہوا، ایسے لوگوں کے لئے سوشل میڈیا قوانین سخت کرنے کی ضرورت ہے، نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ پچھلی ایک دہائی سے سوشل میڈیا کے منفی کردار نے ہمارے معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچایا اور اداروں کی کردارکشی بھی کی گئی، سوشل میڈیا کے منفی استعمال کو کم کرنے میں صحافیوں کا کردار نہایت اہم ہے، ذمہ دارانہ صحافت سے ہی سوشل میڈیا کے منفی کردار کو زائل کیا جاسکتا ہے. دورے کے موقع پر نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ نے پریس کلب میں کی گئی تزین و آرائش کا بھی معائنہ کیا. اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری, سیکرٹری اطلاعات سید عبدالجبار شاہ، ڈی جی اطلاعات و تعلقات عامہ محمد عمران خان اور پریس کلب کے صدر ارشد عزیز ملک، سینئر صحافی ایم ریاض و دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور ڈیجیٹائزیشن میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت گزشتہ روز بورڈ آف ریونیو کا اجلاس منعقد ہوا جس میں گزشتہ اجلاس میں وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اور صوبے میں جاری لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن اور ڈیجیٹائزیشن کے بارے میں اب تک کی پیشرفت سے وزیر اعلی کو آگاہ کیا گیا۔ نگران صوبائی وزیر برائے ریونیو و خزانہ احمد رسول بنگش، نگران وزیربرائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اﷲ، سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اکرام اﷲ خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔شرکاءکو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن میں سست روی پر وزیراعلیٰ کے نوٹس کے بعد زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آپریشنل موضع جات میں 30 موضع جات کا اضافہ ہوا ہے جس سے مجموعی طو رپر آپریشنل موضع جات کی تعداد2356 سے بڑھ کر 2386 ہو گئی ہے۔ اسی طرح ایک ہفتے میں مینوئل موضع جات کی تعداد 813 سے کم ہو کر 474 رہ گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ گزشتہ 11 دنوں میں بنوں کے 10 ، ایبٹ آباد6 ، چارسدہ 7 ، پشاور3 ، بٹگرام 3 اور سوات اور شانگلہ کے ایک ایک موضع جات لائیو کر دیئے گئے ہیں جبکہ اسی عرصے میں ہری پور کے 15 ،سوات10 ، شانگلہ 11 ،بنوں44 ،پشاور15 ، ڈی آئی خان159 اور بٹگرام کے 7 موضع جات کے مینوئل انتقالات بند کر دیئےگئے ہیں۔ مزید برآں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کم سے کم عرصے میں مکمل کرنے کیلئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کیلئے اہداف مقرر کر دیئے گئے ہیںجبکہ روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے پی ایم آر یو کے پورٹل پر لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن ٹریکنگ سسٹم تیار کر لیا گیا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں بورڈ آف ریونیو کی ٹیموں نے مختلف اضلاع بشمول کوہاٹ، پشاور، چارسدہ، لکی مروت، ڈی آئی خان اور ٹانک کے اچانک دورے کئے ہیں۔ اچانک دوروں کے دوران مختلف اضلاع میں تعینات ریونیو افسران اوراہلکاروں کو ناقص کارکردگی اور سرکاری امور کی انجام دہی میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف انکوائریاں شروع کی گئی ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو لینڈ ریکارڈ اور ریکارڈ روم کی حفاظت کیلئے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ان سے ریکارڈ روم کیلئے آگ بجھانے والے آلات، الیکٹریفکیشن ، ریکنگ ، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سے متعلق معلومات طلب کر لی گئی ہیںتاکہ درکار فنڈز فراہم کئے جائیں۔ اجلاس میں خانہ کاشت سے متعلق مختلف ا±مورکا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو خانہ کاشت سمیت پورے پٹوار سسٹم کو ٹھیک کرنے کیلئے دی گئی ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ پٹوار سسٹم کو ٹھیک کرنا جہادکے مترادف ہے اوراس میں ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر کی چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سے ملاقات
یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر (جنوبی ایشیا) سنجے وجیسیکرا کی صدارت میں ایک وفد نے بدھ کے روز چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری سے پشاور میں ملاقات کی اور مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔چیف سیکرٹری نے اہم شعبوں میں یونیسیف کی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیسیف نے ہر مشکل وقت میں خیبرپختونخوا حکومت کا ساتھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے لئے کوشاں ہے۔ صوبے کے تمام اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام، ابتدائی وثانوی تعلیم بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم اور اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے حکومت کو یونیسیف کی مدد کی ضرورت ہے۔چیف سکرٹری نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن متعارف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں تعلیم سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ ہنرمند بھی بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے صحت کے شعبے خصوصاً غذائیت، حفاظتی ٹیکوں اور انسداد پولیو میں یونیسیف کے کردارکی بھی تعریف کی۔اس موقع پرریجنل ڈائریکٹر یونیسیف نے بچوں کی تعلیم، ان کے حقوق کے تحفظ اور دیگر اہم شعبوں میں حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو صحت، تعلیم، بچوں کے تحفظ اور دیگر شعبوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں نگران صوبائی وزراء، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
