Home Blog Page 282

پٹرولیم مصنو عات میں نمایاں کمی کرکے وفاقی حکومت نے عوام کو بڑا ریلیف دیا ہے، نگران صوبائی وزیر اطلاعات

خیبر پختونخوا کینگران وزیر اطلاعات،سیاحت و ثقافت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اسلام آباد میں نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی سے ملاقات کی، ملاقات میں ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کی تعمیر و بحالی، تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے، خیبرپختونخوا میں ڈالر و دیگر اشیاء کی سمگلنگ کی روک تھام، ذخیرہ اندوزی، بھتہ خوری، غیر قانونی سم کارڈ و دیگر جرائم کی بیخ کنی، مجموعی امن و امان کے لئے کئے گئے اقدامات و دیگر اہم حکومتی امور پر گفتگو کی گئی۔گفتگو میں نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 9 مئی کے دلخراش واقعہ کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو بڑا نقصان پہنچا گیا، ریڈیو عملہ کی کوششوں سے نشریات تو جلد بحال کردی گئی تھیں مگر عمارت کی بحالی و تعمیر نو تاحال نہیں ہوسکی ہے، اس تاریخی عمارت کی بحالی و تعمیر نو اہمیت کی حامل اور ناگزیر ہے، خیبرپختونخوا خصوصاً پشاور کے عوام اس کی بحالی کے منتظر ہیں. نگران وفاقی وزیر سے گفتگو میں بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرکے وفاقی حکومت نے عوام کو بڑا ریلیف دیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ عوام اس ریلیف سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اور اس ضمن میں ضروری اقدامات کئے جائیں گے. ملاقات کے دوران نگران صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈالر و دیگر سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بھتہ خوری و غیر قانونی سم کارڈز کے استعمال کی روک تھام کے لئے صوبے میں بھرپور اقدامات جاری ہیں جس کے بڑے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں. ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن او امان کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ظفراللہ خان عمرزئی کا ٹرانسپورٹ محکمہ کا جائزہ، ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کارروائی کی ہدایت۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ ظفراللہ خان عمرزئی کی زیرصدارت محکمہ ٹرانسپورٹ کا اجلاس ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ پشاورمیں منعقدہوا جس میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ، ڈائریکٹر جنرل، سیکرٹری پرووینشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر نگران معاون خصوصی ظفراللہ خان عمرزئی کو سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے محکمہ کی کارکردگی اور مختلف شعبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں موٹر لائسنسنگ اتھارٹی، موٹر وہیکل ایگزامینر، وہیکل ایمیشن ٹیسٹنگ سٹیشن، گورنمنٹ ڈرائیونگ سکول، پشاور بس ٹرمینل، بنوں ٹرانسپورٹ کمپلیکس، روڈ زٹرانسپورٹ بورڈ اور دیگر امورپر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔علاوہ ازیں محکمہ کے مستقل، پراجیکٹ اور کنٹریکٹ کام کرنے والے ملازمین کی اسامیوں اور کام کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ سارا نظام کمپیوٹرائزڈ ہے، ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کیلئے وہیکل ایمیشن ٹیسٹنگ سٹیشن 1997 سے کام کررہا ہے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو باقاعدہ جرمانہ کیا جاتاہے۔ اس موقع پر ظفراللہ خان عمرزئی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات کے بارے میں صوبے کے مختلف شہروں میں ڈرائیوروں میں آگاہی پیدا کرنے کی مہمات شروع کی جائیں اور محکمہ کے تمام افسران ایک ٹیم ورک طرح کام کریں اور محکمہ میں بہتری لانے کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔

چترال کے معدنی وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے کوشاں ہیں، نگران صوبائی مشیر معدنیات

نگران وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے معدنیات و معدنی ترقی، منصوبہ سازی و ترقی اور توانائی و برقیات ڈاکٹر سید سرفرازعلی شاہ نے کہا ہے کہ معدنی وسائل کا کسی بھی ملک و علاقے کی ترقی میں ایم کردار ہوتا ہے۔ چترال میں کئی اقسام کے قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں جنہیں بروئے کار لانے کیلئے محکمہ معدنیات و معدنی ترقی خیبرپختونخوا عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز لوئر چترال میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سمیت اسسٹنٹ کمشنر چترال، محکمہ معدنیات کے حکام، چترال مائنز اینڈ منرل ایسوسی ایشنز کے نمائندے، علاقائی عمائدین اور کثیر تعداد میں لوگوں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر نگراں صوبائی مشیر ڈاکٹر سید سرفرازعلی شاہ کو معدنیات سے متعلق مختلف یونینز صدور، لیز مالکان و علاقہ عمائدین نے انہیں درپیش مسائل، تحفظات و تجاویز کے بارے میں آگاہ کیا۔ مشیرِ معدنیات نے کھلی کچہری میں شرہک حکام و ضلعی انتظامیہ کو بعض حل طلب مسائل موقع پر حل کرانے کی ھدایت کی جبکہ چند مسائل کے حل و تجاویز بارے اعلٰی حکام سے بات کرنے اور تفصیلات وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کے نوٹس میں بھی لانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر علاقائی عمائدین و مشران نے چترال میں کھلی کچہری منعقد کرانے پر نگراں صوبائی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

نگران وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ کی زیرصدارت اجلاس، ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام پر زور

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ ظفراللہ خان عمرزئی کی زیرصدارت محکمہ ٹرانسپورٹ کا اجلاس ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ پشاورمیں منعقدہوا۔اجلاس میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ، ڈائریکٹر جنرل، سیکرٹری پرووینشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں نگران معاون خصوصی ظفراللہ خان عمرزئی کو سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے محکمہ کی کارکردگی اور مختلف شعبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں موٹر لائسنسنگ اتھارٹی، موٹر ویہکل ایگزامینر، ویہکل ایمیشن ٹیسٹنگ سٹیشن، گورنمنٹ ڈرائیونگ سکول، پشاور بس ٹرمینل، بنوں ٹرانسپورٹ کمپلیکس، روڈ زٹرانسپورٹ بورڈ اور دیگر امورپر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔اجلاس میں محکمہ کے مستقل، پراجیکٹ اور کنٹریکٹ کام کرنے والے ملازمین کی اسامیوں اور کام کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی اجلاس میں بتایاگیا کہ سارا نظام کمپیوٹرائزڈ ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کیلیے ویہکل ایمیشن ٹیسٹنگ سٹیشن 1997 سے کام کررہا ہے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو باقاعدہ جرمانہ کیا جاتاہے۔ اس موقع پر ظفراللہ خان عمرزئی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات کے بارے میں صوبے کے مختلف شہروں میں ڈرائیوروں میں آگاہی پیدا کرنے کی مہمات شروع کی جائیں اور محکمہ کے تمام افسران ایک ٹیم ورک طرح کام کریں اور محکمہ میں بہتری لانے کیلیے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔

صوبائی حکومت نوجوانوں کو روزگار کے لئے آسان شرائط پر قرضے فراہم کرے گی۔ وزیر امور نوجوانان

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے امور نوجوانان،کھیل،سائنس وٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نوجوانوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری طبقات کو آسان و رعایتی شرائط پر قرضے فراہم کرے گی۔بنک آف خیبر کی توسط سے فراہم کیئے جانے والے اس رعایتی قرضہ کی سکیم پر انتہائی کم مارک آپ وصول کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ حکومت بنک آف خیبر کے ذریعے اس رعایتی سکیم کے تحت سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے پہلے سے جاری رعایتی سکیم پر مزید سبسڈی فراہم کرے گی جس کے ذریعے صارفین پر مارک اپ کا انتہائی کم بوجھ آئے گا۔انھوں نے کہا کہ اس سکیم کے تحت صوبے کے بے روزگار نوجوان قرضہ کے حصول کے ذریعے باعزت روزگار شروع کرنے کے قابل ہوں گے اور کاروباری حضرات کو موجودہ معاشی حالات میں معاونت بھی حاصل ہو سکے گی۔اور اس سکیم سے مرد اورخواتین دونوں استفادہ کر سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں بنک آف خیبر کے نمائندے شیر محمد،ڈی جی سائنس وٹیکنالوجی سجاد حسین شاہ،سی پی او باسط خلیل بھی موجود تھے۔ اس موقع پر بنک آف خیبر کے نمائندے نے نوجوانوں اورکاروباری حضرات کو قرضہ کے حصول بارے فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور بتایا کہ مذکورہ سکیم کے تحت صوبے کے نوجوانوں اور کاروباری طبقوں کو نرم شرائط پر قرضے دئے جائیں گے اور اس سکیم سے نوجوانوں کو کافی فوائد حاصل ہوں گے۔اس موقع پر نگران وزیر کا کہنا تھا کہ بنک آف خیبر کی توسط سے نوجوانوں اور کاروباری طبقوں کی مالی معاونت کی مذکورہ سکیم صوبے میں بے روزگاری کے خاتمے میں کافی مددگار ثابت ہوگی اور اس کے ذریعے موجودہ معاشی حالات میں سہولت حاصل کرنے والے طبقوں کو بڑی مدد ملے گی۔

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کا ایڈورڈ کالج پشاور، منگا درگئی چارسدہ کا دورہ

ایڈورڈ کالج پشاور کے طالب علم حسن طارق کے قتل کے تناظر میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے نگران وزیر اطلاعات، ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے ایڈورڈ کالج پشاور اور غمزدہ خاندان سے تعزیت اور دعا کے لئے منگا درگئی چارسدہ کا دورہ کیا. اس موقع پر ایس ایس پی آپریشن پشاور کاشف آفتاب عباسی اور ضلعی انتظامیہ پشاور اور چارسدہ کے افسران بھی ان کے ہمراہ تھے. منگا درگئی چارسدہ کے دورے کے موقع پر انہوں نے مرحوم حسن طارق کے والد مفتی طارق خان سے ملاقات کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے تعزیت اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے دعا کی. بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ اس انتہائی افسوسناک واقعہ پر خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے. انہوں نے کہا کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، کیس میں جلد پیشرفت کے لئے سپیشل ٹیمیں مسلسل مصروف ہیں، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے اور پولیس نے تحقیقات میں بھی بڑی پیش رفت حاصل کرلی ہے، ایس ایس پی آپریشن کاشف علی عباسی اور ٹیم نے دن رات ایک کر کے تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا، واقعہ کے فوراً بعد جائے وقوعہ کا دورہ کیا، رات بھر چھاپے لگائے گئے اور جیو فینسنگ کی گئی. دوسری جانب ایڈورڈ کالج کے دورے کے موقع پر نگران صوبائی وزیر اطلاعات نے کالج پرنسپل شجاعت علی خان اور دیگر فیکلٹی ممبران سے ملاقات کی، اس موقع پر ایس ایس پی آپریشن نے انہیں کیس میں پیشرفت پر آگاہ کیا. دورے کے دوران ایڈورڈ کالج کے طلباء نے بھی نگران صوبائی وزیر اطلاعات سے ملاقات کی، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے طلباء سے گفتگو میں کہا کہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے اس پر پولیس مکمل متحرک ہے اور پوری ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دے رہی ہے اور بہت جلد ملزمان قانون کی گرفت میں ہوں گے. طلباء سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے نہ تو نگران حکومت غافل ہے اور نہ ہی ادارے. انہوں نے طلباء سے تاکید کی ایسے واقعات کے بعد ملک دشمن عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لآ اینڈ آرڈر کے مسائل کھڑی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس وجہ سے طلباء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکومت اور اداروں پر اعتمادبحال رکھیں اور تحمل کا مظاہرہ کریں، انہوں نے کہا کہ طلباء اطمینان رکھیں، حکومتی ادارے، پیشرفت پر خاندان اور ادارے کو اپڈیٹ رکھیں گے. نگران وزیر نے ایڈورڈ کالج کے طلباء کو بہترین ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر داد بھی دی. دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا نگران حکومت لا ء اینڈ آرڈر کو اولین ترجیح سمجھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایلیٹ فورس ہو یا سی ٹی ڈی استعداد بڑھانے کے لئے اقدامات اگے بڑھائے گئے ہیں اور سائنسی بنیادوں پر تحقیق کو مزید بہتر کرنے کے لئے فارنزک سائنس لیب پر بھی کام جاری ہے.

سوات کے تاریخ میں پہلی مرتبہ ضلعی انتظا میہ کے زیر اہتمام فیمیل والی بال ٹورنامنٹ فیمیل انڈ ور جیمز میں منعقد

سوات کے تاریخ میں پہلی مرتبہ ضلعی انتظا میہ کے زیر اہتمام محکمہ سپورٹس نے ڈپٹی کمشنر فیمیل والی بال ٹورنامنٹ فیمیل انڈ ور جیمز میں منعقد کیا جس میں 10 مختلف ٹیموں نے حصہ لیا ٹورنامنٹ میں 2 ٹیموں نے کوالیفائی کیا جس میں سیدو گرلز ڈگری کالج نے فائنل کا ٹائٹل اپنے نام کردیا۔ ضلعی انتظا میہ سوات ان مقابلوں کی سرپرستی کررہی ہے جو چاہتی ہے کہ طالبات کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے جس سے طالبات میں صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملی گی اس موقع پرڈپٹی کمشنر سوات ڈاکٹر قاسم علی خان کا کہنا تھا کہ وادی سوات سیاحوں کے لئے کسی جنت سے کم نہیں اور یہاں ہر قسم کے سہولیات دینے سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظا میہ مستقبل میں بھی ایسے سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ایونٹس کے آخر میں نمایاں پوزیشن لینے والے کھلاڑیوں میں نقد انعامات اور ٹرافی تقسیم کی گئی اس موقع پر ریجنل سپورٹس آفیسر شکیل احمد اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عبید اللہ خان موجود تھے۔

خیبرپختونخوا میں موجود معدنی کانوں تک آسان رسائی ممکن بنانا نہایت ضروری ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے معدنیات و معدنی ترقی، منصوبہ سازی و ترقی اور توانائی و برقیات ڈاکٹر سید سرفرازعلی شاہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں موجود معدنی کانوں تک آسان رسائی ممکن بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ ان قدرتی ذخائر کو بروئے کار لانے سے یہاں سماجی و معاشی ترقی کا دور دورا ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ضلع مردان و ضلع صوابی میں ماربل، لائم سٹون اور ڈولومائڈ معدنی کانوں کے دورے کے موقع پر علاقہ عمائدین و افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نگرا ن مشیر ڈاکٹر سید سرفرازعلی شاہ سے لیز مالکان و علاقہ عمائدین نے بھی ملاقات کی، اور انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ نگراں صوبائی مشیر معدنیات نے لیگل لیز ہولڈرز رجحان بڑھانے اور لیز ہولڈرز کیلئے آسانیاں پیدا کرنے سمیت غیر قانونی مائننگ سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر نگراں مشیرِ معدنیات نے غیر قانونی کان کنی میں ملوث افراد کیخلاف خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لانے کیلئے متعلقہ حکام کو ھدایات بھی جاری کیں۔

سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زون رشکئی صنعتی ترقی کی جانب ایک اہم منصوبہ ہے۔

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم شدہ اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا ہے کہ خصوصی اقتصادی زون رشکئی صوبائی حکومت کا صنعتی ترقی کی جانب سفر کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کا قیام سی پیک کے تحت پاکستان اور چین کے باہمی تعاون کے ذریعے عمل میں لایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مزکورہ منصوبہ صوبے میں صنعتکاری کے فروغ اور معاشی ترقی کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگاجبکہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ یہاں پر صنعتیں لگانے والے کاروباری حضرات اور کمپنیوں کو تمام سہولیات دستیاب ہوں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز خصوصی اقتصادی زون رشکئی کا دورہ کرنے کے بعد وہاں پر متعلقہ حکام سے بریفنگ لینے کے موقع پر کیا۔ خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جاوید اقبال ودیگر افسران،سی پیک پراجیکٹ کے افسران اور مزکورہ زون کی تعمیراتی کام میں صوبائی حکومت کساتھ کام کرنے والی کمپنی “چائنہ روڈز اینڈ بلڈنگ کمپنی” (سی آر بی سی) کے عہدیدار اس موقع پر موجود تھے۔ نگران وزیر کو اس موقع پر سی پیک کے تحت قائم ہونے والے مزکورہ خصوصی اقتصادی زون کی صنعتی ترقی کیلئے اہمیت،اس کے منفرد خدوخال اور پہلے مرحلے میں اس کی تعمیراتی ڈھانچے کی تکمیل کا عمیق جائزہ پیش کیا گیا۔ اس طرح ان کو آئندہ مراحل میں زون میں فراہم کی جانے والی سہولیات سے بھی اگاہ کیا گیا۔نگران وزیر کو بتایاگیا کہ خصوصی زون کا قیام سی پیک منصوبے کے تحت ملک میں قائم ہونے والے بڑے منصوبوں میں شامل ہے جو خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ کمپنی اور چائنہ کی تعمیراتی کمپنی سی آر بی سی کے باہمی اشتراک سے تعمیر کیا جارہا ہے۔ ان کو بتایا گیا کہ زون کے پہلے مرحلے کا تعمیراتی کام تقریبا مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ یہ خصوصی زون مجموعی طور پر 1000 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہوگا۔ اسی طرح زون میں702 ایکڑ اراضی صنعتی پلاٹس اور 76 ایکڑ کمرشل پلاٹس کیلئے مختص کی گئی ہے۔ ان کو بتایا گیا کہ اقتصادی زون میں صنعتکاری کیلئے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی صنعت کاروں اور کاروباری حضرات بھی راغب ہو رہے ہیں جبکہ پہلے مرحلے میں اب تک 18 ملکی اور ایک چینی صنعت کیلئے یہاں پلاٹ فراہم کیئے گئے ہیں۔ان کو بتایا گیا کہ زون میں مطلوبہ معیار کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جبکہ اس موقع پر بجلی اور گیس سے متعلق بعض حل طلب امور کے بارے میں نگران وزیر کو آگاہ کیا گیا۔

باجوڑ میں نرخناموں سے تجاوز کرنے پر 15 قصائیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

نگران صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر انوارالحق کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر خار محب اللہ خان نے گرانفروش قصائیوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 15 افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔چند روز قبل ضلعی انتظامیہ نے گوشت کے نرخ مقرر کئے تھے۔جس سے قصائیوں نے انحراف کرتے ہوئے 800 روپے فی کلو گوشت فروخت کرنا شروع کیا تھا۔جس کے بعد 15 قصائیوں کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا گیا۔ یادرہے کہ ضلعی انتظامیہ باجوڑ نے بڑے گوشت کی قیمت فی کلو 650 روپے رکھی تھی۔ اسسٹنٹ کمشنر محب اللہ یوسفزئی نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گرانفروشی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا اور گرانفروشی کرنیوالوں کیخلاف کارروائیاں جاری رہیگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اسی طرح ٹی ایم اے خار کے عملہ نے فرش تنگی اور گنگ روڈ پر غیر قانونی اور غیر ضروری سپیڈ بریکرز ہٹائے۔ اہلکاروں نے سڑک پر بنائے گئے غیر قانونی اور بلا اجازت سپیڈ بریکرز ہٹادی تاکہ عوام الناس کو آمدورفت میں آسانی ہو اور ساتھ ہی سپیڈ بریکرز بنانے والوں کو متنبہ کیا کہ سڑک پر غیر ضروری بلا اجازت سپیڈ بریکرز بنانے سے گریز کریں بصورت دیگر لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 شیڈول 4کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔ حکومت کی اجازت کے بغیر کسی سڑک پر سپیڈ بریکرز بنانا قانونی جرم ہے جس کی سزا پانچ سال قید وجرمانہ ہے۔