Home Blog Page 306

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے مزدوروں کی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اور انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹیٹیوشن کے سارے نظام کو ڈیجیٹائزیش پر منتقل کر کے ای ایس ایس آئی ڈیجیٹائزیشن کا باضابطہ افتتاح کر دیا افتتاح کے موقع پر صوبائی وزیر کے ہمراہ سیکرٹری لیبر ڈیپارٹمنٹ کیپٹن ریٹائرڈ میاں عادل اقبال، وائس کمشنر ای ایس ایس آئی، ڈائریکٹر میڈیکل اور محکمہ محنت کے دیگر افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیرنے ایمپلائز سوشل سیکیورٹی ہسپتال کوہاٹ روڈ پشاور میں ڈیجیٹائزیشن کے تمام طریقہ کار کا جائزہ لیا اور ہسپتال کی مختلف سیکشنز میں ڈیجیٹائزیشن کے طریقہ کار کا تفصیلی معائنہ کیا صوبائی وزیر نے ہسپتال کے میڈیکل سٹور کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر دستیاب ادویات کے بارے میں دریافت کیا جبکہ لیبارٹری کا بھی معائنہ کیا صوبائی وزیر محنت کو ای ایس ایس آئی ڈیجیٹائزیشن کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی صوبائی وزیر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہسپتال میں آنے والے مریض کا تمام ڈیٹا ڈیجیٹائز ہوگا اور مریض کا تمام ریکارڈ کمپیوٹر میں محفوظ رہے گا جب مریض دوبارہ کبھی بھی علاج معالجے کے سلسلے میں ہسپتال آئے گا تو اس کا سارا ریکارڈ ہسپتال کے پاس دستیاب ہوگا جبکہ ہسپتال میں موجود تمام ادویات کے بارے میں ڈاکٹرز کو علم ہوگا اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ای ایس ایس آئی کی ڈیجیٹائزیشن عمل میں مزید بہتری لانے کے لیے اقدامات اٹھائیں انہوں نے کہاکہ ای ایس ایس آئی کی ڈیجیٹائزیشن سے تمام ریکارڈ اور ڈیٹا ایک کلک پر دستیاب ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ محنت میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے انقلابی اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا مزدوروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کے لیے کوشاں ہیں معیشت کے استحکام اور مضبوطی میں محنت کش مزدوروں کا کلیدی کردار ہے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بہت جلد محکمہ محنت ای مزدور کارڈ متعارف کررہا ہے جس سے مزدوروں کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے اور محنت کشوں کو اس کارڈ کے ذریعے بہت سے سہولیات میسر ہونگیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد کی زیر صدارت بادہ ڈیم ضلع صوابی منصوبے کے حوالے سے منگل کے روز پشاور میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری اریگیشن محمد ایاز اور اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بادہ ڈیم کی تعمیرسے متاثرہ زمینوں کے مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی اور بجلی کی فراہمی پر غور خوص کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے ڈیم کے ساتھ منسلک علاقوں پر درخت لگانے اور سڑکوں کی مرمت کرنے کی ہدایات دیں تاکہ علاقے میں شعبہ سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے مقامی باشندوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور زراعت اور آبپاشی کے لیے بھی پانی کی فراہمی منصوبے میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی سے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی سے نیو پشاور ویلی پراجیکٹ ڈائریکٹرعبدالودود نے پشاور میں ملاقات کی۔ اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر جو نیوپشاور ویلی ہاؤسنگ پرا جیکٹ کے قائم کردہ جرگہ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں نے معاون خصوصی کو اراضی مالکان کے ساتھ اب تک کیے گئے جرگوں میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ایکسپریس وے کا دیرینہ مسئلہ جو پندرہ سالوں سے زیر التوا تھا جرگے کے ذریعے حل کر لیا گیا ہے جبکہ مذکورہ ہاؤسنگ منصوبے کے مین گیٹ کی تعمیر پر ایک ماہ کے اندر اندر کا م مکمل ہو جائے گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ پراعتماد کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا رہائشی منصوبہ نیو پشاور ویلی خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے حوالے کیا ہے اور ان کے اعتماد کو کسی قیمت پرٹھیس نہیں پہنچنے دیں گے اور شب وروز ایک کر کے اس رہائشی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا ئیں گے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے معاون خصوصی کو پراجیکٹ کے دیگر امور سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق کنسلٹنٹ نے ماسٹر پلان پر% 70 فیصد کام مکمل کر لیا ہے۔ اور با قی ماندہ کام جلدازجلد مکمل کیا جائے گاجس کے بعد باقاعدہ اخبارات میں اس کی تشہیر کی جائے گی۔علاوہ ازیں منصوبے کی تشہیر کے لئے بل بورڈ بھی ڈیزائن ہو چکے ہیں جو کہ اہم مقامات پر نصب کئے جائین گے اور اس کے بعد فیز ون اور ٹو پر ترقیاتی کام شروع کر دیا جائے گا۔معاون خصوصی نے بریفنگ میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے جس کیلئے تمام تر وسائل اور لگن کے ساتھ معیار اور مقدار کو برقرار رکھتے ہوئے کام کرنا ہو گا۔

پشاور میں قائم ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو میں چین کے نئے سال کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد

پشاور میں قائم ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو میں چین کے نئے سال اور جشن بہاراں کی مناسبت سے رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری اور آئی جی پولیس خیبر پختونخوا اختر حیات خان مہمان خصوصی تھے۔ سکواش کے سابق عالمی چیمپئن قمر زمان اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر کیک بھی کاٹا گیا۔تقریب سے خطاب میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے۔دونوں ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے سے محبت اور چاہت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری دوستی کی مثالیں دنیا بھر میں دی جاتی ہیں۔ ندیم اسلم چوہدری نے کہا عوامی سطح کے رابطوں میں بہتری کا اندازہ اس امر سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کی خوشیوں میں بھرپور شرکت کرتے ہیں جس کی واضح مثال چین کے نئے سال اور سپرنگ فیسٹویل کے حوالے سے پاکستان بھر میں تقریبات کا انعقاد ہے۔ انہوں نے چائنہ ونڈو کے زیر اہتمام تقریب میں اہل پشاور اور اہل خیبر پختونخوا کی جانب سے اہل چین کو نئے سال کی مبارکباد دی۔ تقریب سے خطاب میں آئی جی پولیس خیبر پختونخوا اختر حیات خان نے کہا کہ پاک چین دوستی کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں۔ اختر حیات خان نے کہا کہ چین کی جانب سے پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے اقدامات بھی قابل ذکر ہیں۔ سی پیک منصوبے سے پاکستان بھر میں معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ صوبائی پولیس فورس ان کی حفاظت کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کا ر لا رہی ہے۔سکواش کے سابق عالمی چیمپئن قمر زمان نے تقریب سے خطاب میں اہل چین کو نئے سال کی مبارک دی اور عوامی جمہوریہ چین کی ترقی اور خوشحالی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ قبل ازیں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری، آئی جی پولیس خیبر پختونخوا اختر حیات خان، سکواش کے سابق عالمی چیمپئن قمر زمان اور تاجر امتیاز احمد نے دن بھر جاری رہنے والی تقریبات کا باضابطہ افتتاح کیا۔

جس حکومت نے پیکا کالے قانون پر میڈیا سے دھوکہ کیا وہ پی ٹی آئی سے مذاکرات میں کیسے مخلص ہوسکتی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس حکومت نے پیکا کالے قانون پر میڈیا سے دھوکہ کیا ہے وہ پی ٹی آئی سے مذاکرات میں کیسے مخلص ہوسکتی ہے۔پیکا کے خنجر سے حکومت میڈیا کی گردن اسی طرح کاٹ رہی ہے جس طرح چھبیس ویں ترمیم سے عدلیہ کی گردن کاٹ چکی ہے۔فیک حکومت فیک نیوز کی آڑ میں فیک قانون لا رہی ہے۔حکومت پیکا قانون کے ذریعے میڈیا کو زہر کا ٹیکا لگا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی مذاکراتی کمیٹی کبھی کامیاب نہیں ہوئی جس میں عرفان صدیقی موجود ہوں۔عمران خان اڈیالہ جیل میں آزاد اور شریف خاندان رائیونڈ میں قید ہوچکا ہے کیوں کہ ایون فیلڈ شریف خاندان کے لئے ‘پریزن فیلڈ’ بن چکا ہے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ جعلی حکومت نے ریاستی اداروں کی بنیادیں کھوکھلی کی ہوئی ہیں۔ اقتدار کی خاطر سیاسی اشرافیہ ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جعلی حکومت کے جلد ازجلد خاتمے میں ہی ملک و قوم کی عافیت ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے ٹی ایم اے بنوں کی جانب سے پلازہ کا سنگ بنیاد رکھ کر باضابط افتتاح کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر بنوں عبدالحمید خان، ٹی ایم او یوسف خان اور دیگر افسران بھی موجود تھے صوبائی وزیر پختون یار خان کو محکمہ کی جانب سے پلازہ کی تعمیر اور منصوبے کی تفصیلات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے میڈیا کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مختص کردہ خطیر رقم سے بنوں میں جدید طرز کا پلازہ تعمیر کیا جائے گاجس میں عوام کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ منصوبہ 755 ملین روپے کا ہے اور اسے تین سال میں مکمل کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت جلد ہی اس صوبے کو ایک مثالی صوبہ بنائے گی۔ ہماری حکومت پانچ سالہ مدت کے دوران ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا کر انقلاب برپا کرے گی انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت عوام سے صرف وعدے نہیں کر رہی بلکہ عملی کام کر کے دکھا رہی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بنوں ڈویژن کو ترقیاتی کاموں کے لحاظ سے ایک مثالی علاقہ بنایا جائے گا اور علاقے کی تمام محرومیاں ختم کی جائیں گی انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے مزید برآں، انہوں نے ٹی ایم اے ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر تنخواہوں کی ریلیز کا وعدہ بھی کیا۔

تمباکو فصل کے لئے ریسرچ سنٹرز میں جلد کام شروع کرنے کی ہدایت، وزیر زراعت

صوابی، چارسدہ اور ترناب فارم میں تمباکو پر تحقیقی کام کرنا چاہئیے اور اس سے بہتر کوالٹی کی پیداوار کی حامل اقسام متعارف کرانی چاہئیے۔سجاد بارکوال

تمباکو ہمارے صوبے کے مرکزی اضلاع کی کیش آور فصل ہے اور زمینداروں کو اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔سجاد بارکوال

وزیر زراعت خیبر پختونخوا کی زیر صدارت محکمہ زراعت کے تمام شعبہ جات کا کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری زراعت عطاء الرحمن محکمہ زراعت کے تمام شعبہ جات کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ زراعت کے پراجیکٹ ٹیلی فارمنگ سسٹم کے تحت ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹمHRMIS اورایچ آر مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے محکمہ زراعت کے تمام شعبہ جات کے عملے کا ڈیٹا ڈیجیٹائزکرلیا گیا ہے جس کے ذریعے نہ صرف عملہ کا ڈیجیٹل ریکارڈ دستیاب ہوگا بلکہ ان کی کارکردگی کا مکمل جائزہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کیا جائے گا اور جزا و سزا کا عمل نافذ کیا جائے گا تاکہ زمینداروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں Assets Management Systemکے ذریعے صوبہ میں موجود تمام سرکاری وسائل کو ڈیجیٹائز کیا گیا ہے تاکہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت لائی جا سکے اور ان کو صوبے کے عوام کی بہتری کیلیے استعمال کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر زراعت نے پراجیکٹ ڈائریکٹرسید عقیل شاہ اور تمام ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور تمام ڈائریکٹر جنرلز کو جلد از جلد متعلقہ سسٹم کو زیر استعمال لانے کی تاکید کی وزیر زراعت نے تمام شعبہ جات کو ہدایت جاری کی صوبے میں زراعت کی ترقی کے لیے شب و روز کوششیں کی جائیں اورزراعت میں جدت لانے کے لیے موجودہ منصوبوں اور نئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے اس کے علاوہ وزیر زراعت نے ایگریکلچر پالیسی اورکراپ زوننگ کے حوالے سے جلد از جلد سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی اس سلسلے میں زرعی یونیورسٹی پشاور اور محکمہ زراعت کے تمام شعبہ جات کو ہدایت کی کہ ٓائندہ ہونے والے کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی زوننگ اورایکشن پلان مرتب کر کے فورم کے سامنے پیش کیا جائے، وزیر زراعت نے زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی اور زمینداروں کو جدید ٹیکنالوجی خصوصا ترقی دادہ اقسام کے تخم کی پیداوار کو زمینداروں کو فراہم کرنے پر زور دیا وزیر زراعت نے کھمبی (mashroom)کی کاشت اور زمینداروں میں اس کی آگاہی کے حوالے سے اور زرعی تحقیق و توسیع کو مل کر اس کی کاشت کے بارے میں مجوزہ منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

درہ آدم خیل کو انڈسٹریل زون کا درجہ دینے، اسلحہ سازی کی صنعت کو ملکی معیشت کے لئے بروئے کار لانے کی تجویز

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ درہ آدم خیل کی اسلحہ سازی کی صنعت نہ صرف صوبے بلکہ ملک بھر کے ہنرمندوں کے لیے اہم ہے۔ ہر سال ملک کے زرمبادلہ کا بڑا حصہ اسلحہ کی درآمد پر خرچ ہو رہا ہے، تاہم درہ آدم خیل کو انڈسٹریل زون کا درجہ دینے اور ہنرمندوں کو تربیت فراہم کرنے سے اسلحہ کے امپورٹ پر خرچ ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں درہ آدم خیل کو انڈسٹریل زون قرار دینے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبد الکریم تور ڈھیر بھی شریک تھے۔ ایم ڈی کے پی ای زیڈ ایم سی، ڈی ایس انڈسٹری، پلاننگ آفیسر انڈسٹری، محکمہ داخلہ اور محکمہ قانون کے حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبد الکریم تور ڈھیر نے کہا کہ درہ آدم خیل کی اسلحہ سازی کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اس منصوبے پر قاعدہ و قانون کے تحت عملدرآمد اور صوبائی سطح پر تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔وزیر قانون نے اجلاس میں درہ آدم خیل کے ووکیشنل ٹریننگ ادارے کی بحالی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے مجوزہ انڈسٹریل زون کے قیام کے لیے ضروری قرار دیا اس کے علاوہ اسلحہ سازی کے ساتھ آٹو پارٹس کی تیاری کو بھی فروغ دینے کی تجویز دی گئی۔ علاوہ ازیں اسلحہ کی فروخت کے حوالے سے حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی اقدامات اور علیحدہ فیڈر کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ عبد الکریم تور ڈھیر نے متعلقہ محکموں کی شمولیت، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور تکنیکی عملے کے علاقے کے دورے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف درہ آدم خیل بلکہ پورے صوبے کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔

خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ

خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی میزبانی میں سیاسی و دینی جماعتوں کا ”دہشت گردی کے خلاف قوم کا اتحاد“ کے موضوع پر مشاورتی اجلاس خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں مختلف جماعتوں کے رہنماوں نے شرکت کی جسمیں صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، جمیعت علمائے پاکستان، لیاقت بلوچ، جماعت اسلامی پروفیسر ابراہیم، جماعت اسلامی قاری محمد شیخ یعقوب، پاکستان مرکزی مسلم لیگ صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، مرکزی علماء کونسل سید ناصر عباس شیرازی، مجلس وحدت المسلمین کے علامہ عارف حسین واحدی، اسلامی تحریک پاکستان کے پیر سید ہارون علی گیلانی، ہدیتہ الہادی پاکستان کے مولانا حامد الحق، جمیعت علمائے اسلام پاکستان کے مولانا یوسف شاہ، جمیعت علمائے اسلام پاکستان کے عبدالغفار روپڑی، جماعت اہل حدیث کے قمر قطب الدین، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے علامہ حامد رضا، سنی اتحاد کونسل کے ابراہیم قاسمی، پاکستان راہ حق پارٹی کے اسماعیل بلیدی، سابق سینیٹرمحمد علی درانی، سابق وفاقی وزیربیرسٹر گوہر، پاکستان تحریک انصاف کے اسد قیصر، پاکستان تحریک انصاف کے علامہ شبیر حسین، اسلامی تحریک پاکستان کے مولانا عبدالواسع، جماعت اسلامی پاکستان نے شرکت کی۔ شرکاء اجلاس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک اہم قومی مسئلے پر اس طرح کے مشاورتی اجلاس کا انعقاد انتہائی احسن اقدام ہے،اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اورخیبرپختونخوا پختونخوا حکومت کا کردار قابل ستائش ہے،مشاورتی اجلاس کے انعقاد پر وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور مبارکباد کے مستحق ہیں۔شرکاء نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا یہ اقدام دیگر صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کے لئے قابل تقلید ہے،دہشتگردی، فرقہ واریت، لسانی تعصب اور لاقانونیت جیسے قومی مسائل کے لئے قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اس سلسلے کا دوسرا اجلاس پشاور میں منعقد ہوگا اسکے علاوہ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ہر جمعے کو صوبہ بھر میں امن ریلیوں کا انعقاد کیا جائیگا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاوئسنگ ڈاکٹر امجد علی سے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاوئسنگ ڈاکٹر امجد علی سے ان کے دفتر سول سیکرٹریٹ میں مختلف یونین کے صدورنے ملاقات کی جن میں، سٹینوگرافروں کے صدر سیدبلال خان، ڈرایؤروں کے صدر شیرزمان اور کلاس فور کے سینئر وائس چیئر مین کوآرڈینیشن کونسل خالد جاوید اور صدر الطاف داودئی شامل تھے۔یونین کے صدورنے معاون خصوصی کو سرکاری ملازمین کی رہائشی مشکلات سے آگاہ کیا۔جس پرمعاون خصوصی نے واضح کیا کہ موجودہ صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کو ترجیحی بنیادوں پر مختلف ہاؤسنگ سکیموں میں اپنا گھر بنانے کے لیے ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی وساطت سے پلاٹ فراہم کرے گی۔ جس کے لیے پہلے سے لائحہ عمل تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت ہر سرکاری ملازم کو اپنے کیڈر میں سینارٹی کے لحاظ سے پلاٹ الاٹ کیے جائیں گے اور پلاٹ کی اقساط کی ادائیگی ان کی سروس کی مدت کے مطابق ہوگی جو ان پر بوجھ نہیں بنے گی اس سلسلے میں ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی بھرپور کوشش ہے کہ موزوں جگہوں پر ہاؤسنگ سکیموں میں سرکاری ملازمین کے لیے گنجائش رکھی جائے انہوں نے مزید کہا کہ عنقریب سرکاری ملازمین کی رجسٹریشن کا عمل بھی شروع کیا جائے گا آخر میں یونین کے صدر نے معاون خصوصی کا ان کے بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔