Home Blog Page 31

وفاقی حکومت نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی پر عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کی، شفیع جان

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہسپتال منتقلی پر عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرکے نہ صرف عدلیہ کی توہین کی بلکہ آئین و قانون کی بالادستی کو بھی پامال کیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال منتقل کرنا جعلی حکمرانوں کی بزدلی، ہٹ دھرمی اور عمران خان کے خوف کا واضح ثبوت ،انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو ہسپتال میں رکھنے اور انہیں مطلوبہ طبی سہولیات فراہم کرنے کے واضح احکامات جاری کیے تھے، لیکن بدقسمتی سے
وفاقی حکومت نے عمران خان کو ہسپتال میں رکھنے کے بجائے واپس اڈیالہ جیل منتقل کرکے کھلی توہین عدالت کا راستہ اختیار کیا،شفیع جان نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اس غیر قانونی اور آمرانہ طرز عمل اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواست دائر کی جائے گی۔ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر وفاقی حکومت کو اب حساب دینا ہوگا،انہوں نے کہا کہ مینڈیٹ چور حکومت عمران خان کی صحت سے کھیل رہی ہے، یہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔ وفاقی حکومت نے آمرانہ اقدامات کے ذریعے ظلم کی تمام حدیں پار کردی ہیں، جبکہ مسلسل آئین شکنی اب ناقابل برداشت ہوچکی ہے،صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا فارم 47 کے جعلی حکمران آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں اب انہیں اپنے غیر قانونی اقدامات کا جواب دینا ہوگا،شفیع جان نے کہا کہ وفاقی وزیر عطا تارڑ نے ہسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودگی سے متعلق قوم کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ بولا اور من گھڑت بیانہ بنایا، عطا تارڑ اور کٹھ پتلی وزراء پہلے دن سے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے معاملے پر قوم کو گمراہ کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ہدایات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہفتہ اور اتوار کو ہنگو اور بونیر کا دورہ کریں گے اور اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں پورے ملک کے دورے بھی کریں گے،صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریاں جاری ہیں اور اب ان تیاریوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ عمران خان کی رہائی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے تحریک ہر سطح پر بھرپور انداز میں جاری رہے گی۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کا پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیرِ تعمیر منصوبوں کا تفصیلی دورہ

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے زیرِ تعمیر منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا بذاتِ خود جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے، چیف انجینئر پی ڈی اے اور دیگر متعلقہ افسران بھی چیف سیکرٹری کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران چیف سیکرٹری نے دلازک چوک انڈرپاس، ہزار خوانی اوورپاس اور حیات آباد ٹول پلازہ انڈرپاس پر جاری تعمیراتی کام کا معائنہ کیا، جبکہ ورسک روڈ اور پلوسئی فلائی اوورز کے منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے نے چیف سیکرٹری کو مکمل اور زیرِ تکمیل منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مذکورہ انڈرپاسز اور فلائی اوورز کی موجودہ تعمیراتی صورتحال اور تکمیل کے متوقع ٹائم لائن سے آگاہ کیا گیا۔اس دوران چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ تمام زیرِ تعمیر منصوبے مقررہ معیار اور طے شدہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو تعمیراتی کاموں میں تیزی لانے اور کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر پشاور شہر میں پشاور ریوائیٹیلازیشن پلان کے تحت ٹریفک روانی بہتر بنانے، خوبصورتی میں اضافے اور شہریوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے مختلف مقامات پر انڈرپاسز اور فلائی اوورز کی تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جارہے ہیں، اور اس ضمن میں پی ڈی اے کے منصوبوں کی نگرانی اعلیٰ سطح پر جاری ہے۔

سکولوں کی اراضی پر قبضوں اور عارضی اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ، اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کا تفصیلی جائزہ

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین ذیلی کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی رشاد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے رکن عدنان خان، ایڈیشنل سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ قانون ڈپٹی سیکرٹری صوبائی اسمبلی طارق نور، متعلقہ محکمہ جاتی افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی اراضی و املاک پر غیر قانونی تجاوزات و قبضوں سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔محکمہ تعلیم کے حکام نے کمیٹی کو صوبے کے مختلف اضلاع میں سرکاری سکولوں کی اراضی پر قبضوں کی صورتحال، سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق 109 سکولوں کی اراضی پر قبضوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے 16 سکولوں کی اراضی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کی کوششوں سے واگزار کرائی جا چکی ہے۔ حکام نے بتایا کہ بیشتر قبضہ جات زمین مالکان کی جانب سے اس مؤقف کی بنیاد پر کیے گئے کہ متعلقہ سکولوں میں کلاس فور ملازمین کی بھرتی ان کا حق ہے، جو انہیں نہیں دیا گیا۔ اس موقع پر رکن کمیٹی عدنان خان نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام متاثرہ سکولوں کا مکمل ریکارڈ، بشمول منظوری، قیام، موٹیشن، اراضی کی تفصیل، قبضے کی نوعیت، وجوہات اور دیگر متعلقہ دستاویزات پیش کی جائیں تاکہ غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ضروری کارروائی کی جا سکے۔چیئرمین ذیلی کمیٹی رشاد خان نے سکولوں کی اراضی پر غیر قانونی قبضوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی زمین بچوں کے مستقبل اور تعلیم کے فروغ کے لیے مختص ہے، اس لیے اس پر کسی قسم کا غیر قانونی قبضہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی اور تعلیمی اداروں کے اثاثوں کا تحفظ محکمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی غفلت کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام متاثرہ سکولوں کی اراضی کا ریکارڈ مکمل کرکے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ معاملے کا مؤثر اور مستقل حل یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے مالی سال 2025-26 کے دوران یونیسف پی ٹی سی فنڈ کے تحت پرائمری سکولوں میں عارضی طور پر بھرتی کیے گئے پی ٹی سی اساتذہ کے معاملے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق مذکورہ فنڈ کی مدت اگست میں ختم ہونے کے باعث عارضی طور پر بھرتی کیے گئے اساتذہ کی خدمات بھی ختم ہو گئی ہیں۔ تاہم، بھرتیوں کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہونے پر چیئرمین اور ارکان کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ، تاریخ تقرری، تعلیمی قابلیت، مقررہ معیار اور دیگر متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی، تاکہ بھرتیوں کے عمل کی شفافیت کا جائزہ لیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین ذیلی کمیٹی رشاد خان نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ سکولوں کی اراضی پر قبضوں اور عارضی اساتذہ کی بھرتیوں، دونوں معاملات سے متعلق مکمل، مستند اور تصدیق شدہ ریکارڈ آئندہ اجلاس میں لازماً پیش کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذیلی کمیٹی تمام دستیاب ریکارڈ اور حقائق کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ مرتب کرے گی اور ضروری کارروائی کے لیے اسے قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

Important Meeting on Dengue Action Plan 2026, Directions to Intensify Preventive Measures

Provincial Minister for Health, Khyber Pakhtunkhwa, Khaleeq ur Rehman, chaired an important meeting on the Dengue Action Plan 2026 to review ongoing measures for dengue prevention and control, surveillance mechanisms, and the future course of action.

Secretary Health Khyber Pakhtunkhwa Fayaz Ali Shah, Director General Health Services, Director Dengue Control Programme, District Health Officer Peshawar, and other relevant officials of the Health Department attended the meeting.

The meeting reviewed progress on measures being taken to prevent the possible spread of dengue. Detailed discussions were held on the future action plan, strengthening surveillance, ensuring timely diagnosis and treatment, and enhancing public awareness regarding dengue prevention.

Provincial Minister for Health Khaleeq ur Rehman said that prevention and control of dengue remains one of the government’s key priorities. He stressed the need for effective coordination and a comprehensive strategy among all relevant departments and institutions.

The Provincial Minister directed the concerned authorities to further intensify preventive and protective measures against dengue, identify and eliminate potential breeding sites, and ensure timely diagnosis and treatment of suspected patients.

Khaleeq ur Rehman emphasized that the surveillance system should be further strengthened and public awareness campaigns regarding dengue prevention, precautionary measures, and timely treatment should be expanded.

He directed all concerned authorities to ensure effective implementation of the Dengue Action Plan 2026, strengthen coordination among relevant institutions, and complete all necessary preventive measures in a timely manner to prevent the possible spread of dengue.

In KP, Mega events finalized to mark Rabi-ul-Awwal

The Khyber Pakhtunkhwa government on Friday reviewed and finalized preparations for holding mega events across the province to celebrate the holy month of Rabi-ul-Awwal with religious zeal and fervor. The development came during a high-level meeting chaired by the KP Secretary for Hajj, Auqaf, Minority and Religious Affairs, Ata-ur-Rehman. The session was attended by senior officials from the protocol wing, administration department, information department, traffic police, and Rescue 1122. During the briefing, representatives from the participating departments presented their respective action plans and strategies to ensure the smooth and peaceful execution of the scheduled events.

Secretary Ata-ur-Rehman directed the Information Department to ensure comprehensive media coverage of all religious events. He emphasized utilizing print, electronic, and social media platforms to effectively broadcast the positive message of these celebrations, showcasing a peaceful image of the province. Officials from the Information Department assured the chair that all institutional arrangements for live coverage and publicity had been completed.

The Secretary further stressed the need for seamless coordination among all line departments to finalize security measures, traffic management, and emergency medical services well in time. The traffic police were directed to issue alternative route plans to prevent public inconvenience, while Rescue 1122 was put on high alert. The local administration was also tasked with ensuring city cleanliness and beautification ahead of the grand events.

علامہ محمد اقبال کی سوانح حیات

علامہ محمد اقبال برصغیر کے عظیم مفکر، شاعر، فلسفی اور سیاست دان تھے جنہوں نے مسلمانوں میں خودی، خودداری، اور بیداری کا پیغام عام کیا۔ انہیں پاکستان کا فکری اور روحانی بانی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نیا شعور پیدا کیا بلکہ پوری اسلامی دنیا کو بھی اپنے پیغام سے متاثر کیا۔

ابتدائی زندگی

علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ (پنجاب) میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا۔ ان کا خاندان کشمیری نسل سے تعلق رکھتا تھا اور مذہبی رجحان رکھتا تھا۔
ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اسکاچ مشن اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا۔ یہاں ان کی ذہانت اور محنت نے اساتذہ کو بہت متاثر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کے اساتذہ میں مشہور فلسفی سر تھامس آرنلڈ شامل تھے جنہوں نے اقبال کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

اعلیٰ تعلیم اور یورپ کا سفر

1905 میں اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے۔ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ میں ڈگری حاصل کی، میونخ یونیورسٹی (جرمنی) سے فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی، اور لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ یورپ کے قیام کے دوران انہوں نے مغربی فلسفہ، سیاست، اور تمدن کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس دوران ان کے خیالات میں بڑی وسعت آئی اور انہوں نے مسلمانوں کے زوال کی وجوہات پر غور کیا۔

ادبی اور فکری خدمات

واپسی پر اقبال نے لاہور میں تدریس اور وکالت شروع کی، مگر جلد ہی وہ شاعری اور فلسفے کی طرف متوجہ ہو گئے۔
ان کی شاعری اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں بلند پایہ ہے۔
ان کی مشہور تصانیف میں شامل ہیں:

اسرارِ خودی (1915)

رموزِ بے خودی

بانگِ درا

بالِ جبریل

ضربِ کلیم

ارمغانِ حجاز

ان کی شاعری میں خودی کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو انسان کو اپنی صلاحیتوں، ایمان، اور کردار کے ذریعے بلند مقام حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

فلسفہ اور نظریہ

اقبال کے فلسفے کی بنیاد ایمان، عمل، اور خودی پر ہے۔
انہوں نے مسلمانوں کو اپنی اصل پہچان یاد دلانے کی کوشش کی۔
انہوں نے مغرب کی مادہ پرستی اور مشرق کی جمود پسندی دونوں پر تنقید کی اور اسلام کے روحانی و عملی نظام کو نجات کا راستہ قرار دیا۔
اقبال نے قوم پرستی کے نظریے کو رد کیا اور مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کی وکالت کی۔

سیاسی خدمات

1930 میں علامہ اقبال نے الہٰ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے تاریخی خطاب کیا جس میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ مملکت کا تصور پیش کیا۔
یہی نظریہ بعد میں قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا۔
اگرچہ اقبال خود پاکستان کی آزادی نہیں دیکھ سکے، لیکن ان کا خواب 1947 میں حقیقت بن گیا۔

وفات اور وراثت

علامہ اقبال 21 اپریل 1938 کو لاہور میں وفات پا گئے۔
انہیں بادشاہی مسجد لاہور کے قریب دفن کیا گیا، جہاں آج بھی لوگ ان کے مزار پر عقیدت کے پھول چڑھاتے ہیں۔
اقبال کو شاعرِ مشرق، حکیم الامت، اور مفکرِ پاکستان کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
ان کی سالگرہ 9 نومبر کو پاکستان بھر میں قومی دن کے طور پر منائی جاتی ہے۔

اقبال کا پیغام

اقبال کا پیغام عمل، ایمان، اور عشقِ حقیقی پر مبنی ہے۔
ان کی شاعری انسان کو خود شناسی، حوصلہ، اور ایمان کی قوت عطا کرتی ہے۔
اقبال کا یہ شعر ان کے پیغام کا نچوڑ ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

غیر معیاری خوراک کے خلاف صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن، مضر صحت گوشت، ملاوٹی قیمہ اور مصالحہ جات تلف

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان کی ہدایات پر خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے صوبہ بھر میں غیر معیاری، مضر صحت اور ملاوٹی خوراک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے فوڈ سیفٹی ٹیموں نے پشاور، ایبٹ آباد، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ اور صوابی میں مختلف کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں مضر صحت گوشت، ملاوٹی قیمہ، خراب فروزن چکن، مضر صحت دودھ اور ملاوٹی مصالحہ جات برآمد کرکے تلف و ضبط کیے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے کاروباری افراد پر جرمانے عائد کیے گئے اور متعدد کے خلاف مزید قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیم پشاور نے ڈپٹی ڈائریکٹر ذیشان محسود کی نگرانی میں ع گلبہار کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران 1200 کلوگرام غیر معیاری اور خراب کلیجی و دل برآمد کرکے تلف کر دیے گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق خراب گوشت لاہور سے سپلائی کیا گیا تھا، جبکہ مالکان کے پاس گوشت کی ٹریسی ایبلٹی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ غیر معیاری گوشت کی سپلائی میں ملوث افراد کے خلاف فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد میں کارروائی کے دوران 200 کلوگرام ملاوٹی قیمہ برآمد کرکے تلف کیا گیا۔ اسی دوران موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے دودھ بردار ٹینکر سے دودھ کے نمونوں کی بھی موقع پر جانچ کی گئی۔ ٹیسٹ کے دوران دودھ میں سکم ملک، گلوکوز اور ڈٹرجنٹ کی موجودگی پائی گئی، جس پر تقریباً 1200 لیٹرز غیر معیاریو مضرصحت دودھ تلف کرکے ذمہ دار افراد پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔اسی طرح نوشہرہ میں گوشت کی دکانوں کی چیکنگ کے دوران 500 کلوگرام مضر صحت اور خراب گوشت برآمد کرکے تلف کیا گیا۔ خلاف ورزی پر متعلقہ دکان سیل، جرمانہ عائد اور مزید قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔مزید تفصیلات میں بتایا گیا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے چارسدہ کے شبقدر بازار میں کارروائی کے دوران 100 کلوگرام غیر معیاری اور خراب فروزن چکن پارٹس اور کلیجی برآمد کرکے تلف کردی، جبکہ صوابی کے شیوہ اڈہ میں چکن شاپ سے 50 کلوگرام غیر معیاری فروزن گوشت برآمد کرکے تلف کیا گیا اور جرمانہ عائد کیا گیا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ کہ فوڈ سیفٹی ٹیم کوہاٹ نے انڈس ہائی وے پر ناکہ بندی کے دوران ایک گاڑی سے 800 کلوگرام ملاوٹی مصالحہ جات برآمد کرکے ضبط کیے گئے۔ ملاوٹی مصالحہ جات کی سپلائی میں ملوث افراد پر جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ مزید قانونی کارروائی بھی شروع کی گئی۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کی تیاری، فروخت اور سپلائی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی عوام کی صحت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے فوڈ سیفٹی ٹیموں کی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے شہریوں سے اپیل کی کہ غیر معیاری یا مضر صحت خوراک کی فروخت میں ملوث عناصر کی فوری اطلاع فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ ایسے عناصر کے خلاف بروقت قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

پاکستان کیسے بنا

سولہ سو میں لندن کے چند تاجروں نے مل کر “ایسٹ انڈیا کمپنی” قائم کی۔ ملکہ الیزبتھ سے اجازت لینے کے بعد انہوں نے برصغیر پاک و ہند میں تجارت کا آغاز کیا۔ اس وقت کے حکمرانوں نے ان تاجروں پر مہربانیاں کیں اور بے شمار مراعات دیں، جن سے انگریزوں نے خوب ناجائز فائدہ اٹھایا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد انہوں نے برصغیر کے مختلف علاقوں پر آہستہ آہستہ قبضہ کرنا شروع کر دیا، کیونکہ مغل حکومت زوال کا شکار ہو چکی تھی اور انگریزوں کی جارحیت کو روکنے کے قابل نہ رہی۔

سب سے پہلا حملہ سندھ پر ہوا۔ 1843ء میں میانی کے مقام پر ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی جس میں جنرل چارلس نیپئر کو فتح حاصل ہوئی۔ کشمیر پر قبضے کے بعد انگریزوں نے اسے صرف 75 لاکھ روپے کے عوض راجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے پورا برصغیر انگریزوں کے تسلط میں آ گیا۔

انگریزوں کے اس ناجائز قبضے کے خلاف برصغیر کے مختلف علاقوں میں بغاوتیں شروع ہو گئیں۔ 10 مئی 1857ء کو میرٹھ میں مسلمان اور ہندو سپاہیوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی، مگر یہ جدوجہد ناکام ہو گئی اور انگریزوں نے مزید ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جگہ جگہ قتل عام ہوا اور چوراہوں پر ہندو اور مسلمان باغیوں کو پھانسیاں دی گئیں۔ چونکہ مسلمان اس جدوجہد میں پیش پیش تھے، اس لیے انہیں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ کئی شہر تباہ ہو گئے اور مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی، ثقافتی اور سماجی حالت انتہائی کمزور ہو گئی۔

ایسے حالات میں سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا اور کئی تعلیمی ادارے قائم کیے، جن میں علی گڑھ کالج (بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی) ان کی سب سے بڑی کامیابی ثابت ہوئی۔ 1866ء میں اردو-ہندی تنازعہ پیدا ہوا، جب دفاتر میں اردو کی جگہ ہندی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ انگریزوں نے اس موقع پر مذہبی اختلافات کو ہوا دی۔

اس وقت برصغیر میں صرف ایک بڑی سیاسی جماعت، انڈین نیشنل کانگریس، موجود تھی۔ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک مسلمان تعلیمی میدان میں آگے نہیں بڑھتے، انہیں سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندو سیاسی میدان میں اس لیے آگے ہیں کیونکہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔

سر سید احمد خان کی وفات کے بعد مسلمانوں کے درمیان کئی رہنما سامنے آئے۔ سیاسی شعور بڑھنے کے بعد 1906ء میں شملہ میں مسلمانوں کے ایک وفد نے وائسرائے سے ملاقات کی اور جداگانہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے دسمبر 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم کی، جس کے پہلے صدر سر آغا خان بنے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم فسادات میں شدت آتی گئی۔ 1913ء میں محمد علی جناح کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور ہندو مسلم اتحاد کے حامی بن کر سامنے آئے۔ ان کی کوششوں سے 1916ء میں معاہدہ لکھنؤ ہوا، جس میں کانگریس نے جداگانہ انتخابات کو تسلیم کیا۔ اسی دوران پہلی جنگ عظیم اختتام کو پہنچی اور خلافتِ عثمانیہ کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک خلافت شروع کی، جو بہت بڑی عوامی تحریک بن گئی۔ مہاتما گاندھی نے اس تحریک کا ساتھ دیا، مگر بعد میں اچانک اس سے الگ ہو گئے۔ اس تحریک کے نتیجے میں مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔

1919ء میں انگریزوں نے “رولیٹ ایکٹ” نافذ کیا، جس کے تحت بغیر مقدمہ افراد کو گرفتار یا قتل کیا جا سکتا تھا۔ اس کے خلاف مزاحمت ہوئی، اور اپریل 1919ء میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں انگریزوں نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کر کے 1200 افراد کو شہید کر دیا۔

1920 سے 1922 تک تحریک عدم تعاون چلی۔ 1928ء میں قائد اعظم نے اپنے مشہور 14 نکات پیش کیے، جن میں مسلمانوں کے سیاسی و مذہبی حقوق کا تحفظ مانگا گیا۔ 1930ء میں علامہ محمد اقبال نے اپنے خطبہ الہٰ آباد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں انہوں نے گول میز کانفرنس میں بھی یہی مطالبہ دہرایا۔ 1933ء میں چوہدری رحمت علی نے “اب یا کبھی نہیں” کے نام سے پمفلٹ شائع کیا، جس میں پہلی بار پاکستان کا نام تجویز کیا گیا۔

قائد اعظم اس وقت لندن میں تھے، لیکن علامہ اقبال کے اصرار پر 1934ء میں وطن واپس آ گئے اور مسلمانوں کی آزادی کی تحریک کی قیادت سنبھالی۔ 1937ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کو صرف چند نشستیں ملیں جبکہ کانگریس نے بھاری اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی۔ اس پر مسلمانوں کو شدید مایوسی ہوئی۔ 1939ء میں کانگریس وزارتوں کے استعفے کے بعد مسلم لیگ نے “یومِ نجات” منایا۔

23 مارچ 1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس ہوا، جس میں مولوی فضل الحق نے قرارداد پاکستان پیش کی، جو متفقہ طور پر منظور ہو گئی۔ قائداعظم نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اس لیے ان کے لیے الگ ریاست ضروری ہے۔ اسی نظریے کو “دو قومی نظریہ” کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد تحریکِ پاکستان میں شدت آ گئی۔ ہندو اور سکھ اس کی شدید مخالفت کرنے لگے۔ 1942ء میں کرپس مشن آیا، جسے قائد اعظم اور گاندھی دونوں نے مسترد کر دیا۔ 1944ء میں راجہ گوپال اچاریہ نے مسلمانوں کے الگ وطن کے مطالبے کو تسلیم کیا، لیکن کانگریس اب بھی متحدہ ہندوستان کی حامی رہی۔

1945-46 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے تمام مسلم نشستیں جیت کر قائداعظم کے موقف کو مضبوط کر دیا۔ 1946ء میں کیبنٹ مشن آیا، جس پر مسلم لیگ نے پہلے رضامندی ظاہر کی، لیکن کانگریس نے اسے جزوی طور پر قبول کیا، جس پر قائداعظم نے بھی اعتراض کیا۔ انگریزوں نے مشن کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد 16 اگست 1946ء کو مسلم لیگ نے “یومِ ڈائریکٹ ایکشن” منایا۔

صورتحال بگڑنے پر برطانیہ نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو نیا وائسرائے مقرر کیا۔ 20 فروری 1947ء کو برطانوی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ جون 1948ء تک برصغیر سے برطانوی راج ختم کر دیا جائے گا۔ فرقہ وارانہ فسادات زور پکڑ گئے۔ آخرکار 3 جون 1947ء کو تقسیم ہند کا اعلان ہوا۔ ریڈکلف کمیشن نے پنجاب اور بنگال کی سرحدوں کا تعین کیا۔

14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کی 90 سالہ جدوجہد کامیاب ہوئی، اور دنیا کے نقشے پر ایک نئی آزاد مسلم ریاست “پاکستان” کے نام سے وجود میں آئی۔

مشیر خزانہ مزمل اسلم کی زیرِ صدارت واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں کا اجلاس، اخراجات میں کمی اور اداروں کو پائیدار بنانے کے لیے اہم فیصلے

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیرِ صدارت صوبے بھر کی سات واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں کا اہم اجلاس محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمپنیوں کے انتظامی و مالی امور، اخراجات میں کمی، ملازمین کی اجرت، آڈٹ رپورٹس، بلنگ نظام اور نکاسی? آب کے نظام کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے ہدایت کی کہ صوبے بھر کی واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں میں کام کرنے والے عارضی ملازمین (کنٹیجنٹ اسٹاف) کو ہر صورت صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کم از کم اجرت ادا کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم تنخواہ دینا ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ کم از کم اجرت میں اضافے کے مطابق درکار اضافی فنڈز محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے، تاہم کمپنیوں کو اپنے اخراجات پر مؤثر کنٹرول اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہوگا۔اجلاس میں تمام واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں کو اپنی ایکسٹرنل آڈٹ رپورٹس فوری طور پر محکمہ خزانہ کے ساتھ شیئر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تاکہ کمپنیوں کے مالی معاملات کا مؤثر جائزہ لیا جاسکے اور شفافیت و مالی نظم و ضبط کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔مزمل اسلم نے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں کوہاٹ اور سوات کو غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی، جبکہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی پشاور کی جانب سے اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیاں تجارتی سرگرمیوں کے لیے علیحدہ بلنگ سروسز شروع کریں گی، جبکہ تمام کمپنیوں کے بلنگ نظام کو فوری طور پر آن لائن کیا جائے گا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ آن لائن بلنگ سے نہ صرف نظام میں شفافیت اور کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ افرادی قوت اور اسٹیشنری کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی لائی جاسکے گی۔مزمل اسلم نے نکاسی? آب کے نظام کو متاثر کرنے والی تجاوزات کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور تحصیل میونسپل افسران (ٹی ایم اوز) کے ساتھ مل کر مربوط اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری علاقوں میں نکاسی? آب کا نظام بہتر انداز میں فعال رکھا جاسکے۔مشیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کے نظام کو مؤثر، شفاف اور مالی طور پر پائیدار بنانے کے لیے ضروری اصلاحات اور اقدامات جاری رکھے گی۔

سیکرٹری محکمہ زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان کی زیر صدارت محکمہ زراعت کی آن لائن کھلی کچہری

سیکرٹری محکمہ زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان کی زیر صدارت محکمہ زراعت کی آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں زمینداروں اور کاشتکاروں کے مسائل سنے گئے اور متعلقہ حکام کو ان کے فوری اور موثر ازالے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی۔آن لائن کھلی کچہری میں محکمہ زراعت کی مختلف ونگز کے ڈائریکٹر جنرلز، متعلقہ افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبے کے مختلف علاقوں سے زمینداروں اور کاشتکاروں نے محکمہ زراعت سے متعلق اپنے مسائل، مشکلات اور تجاویز آن لائن سیکرٹری زراعت کے سامنے پیش کیں۔ سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان نے زمینداروں کے مسائل غور سے سنے اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں پیش کیے گئے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور زمینداروں کو ریلیف کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت زمینداروں اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا بے قاعدگی کے مصدقہ شواہد پر ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا کہ زمینداروں کی سہولت اور زرعی شعبے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر سے بہتر فیصلے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھاد کی دستیابی اور کسانوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ صوبے کے زرعی شعبے میں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کے لیے زرعی گریجویٹس کے انٹرن شپ پروگرام کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ نئے گریجویٹس کو عملی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ زراعت کی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں سامنے آنے والی شکایات پر پیش رفت کو یقینی بنایا جائے اور زمینداروں کے مسائل کے بروقت ازالے کے لیے مؤثر رابطہ کاری برقرار رکھی جائے۔