سکولوں کی اراضی پر قبضوں اور عارضی اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ، اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کا تفصیلی جائزہ

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین ذیلی کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی رشاد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے رکن عدنان خان، ایڈیشنل سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ قانون ڈپٹی سیکرٹری صوبائی اسمبلی طارق نور، متعلقہ محکمہ جاتی افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی اراضی و املاک پر غیر قانونی تجاوزات و قبضوں سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔محکمہ تعلیم کے حکام نے کمیٹی کو صوبے کے مختلف اضلاع میں سرکاری سکولوں کی اراضی پر قبضوں کی صورتحال، سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق 109 سکولوں کی اراضی پر قبضوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے 16 سکولوں کی اراضی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کی کوششوں سے واگزار کرائی جا چکی ہے۔ حکام نے بتایا کہ بیشتر قبضہ جات زمین مالکان کی جانب سے اس مؤقف کی بنیاد پر کیے گئے کہ متعلقہ سکولوں میں کلاس فور ملازمین کی بھرتی ان کا حق ہے، جو انہیں نہیں دیا گیا۔ اس موقع پر رکن کمیٹی عدنان خان نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام متاثرہ سکولوں کا مکمل ریکارڈ، بشمول منظوری، قیام، موٹیشن، اراضی کی تفصیل، قبضے کی نوعیت، وجوہات اور دیگر متعلقہ دستاویزات پیش کی جائیں تاکہ غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ضروری کارروائی کی جا سکے۔چیئرمین ذیلی کمیٹی رشاد خان نے سکولوں کی اراضی پر غیر قانونی قبضوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی زمین بچوں کے مستقبل اور تعلیم کے فروغ کے لیے مختص ہے، اس لیے اس پر کسی قسم کا غیر قانونی قبضہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی اور تعلیمی اداروں کے اثاثوں کا تحفظ محکمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی غفلت کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام متاثرہ سکولوں کی اراضی کا ریکارڈ مکمل کرکے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ معاملے کا مؤثر اور مستقل حل یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے مالی سال 2025-26 کے دوران یونیسف پی ٹی سی فنڈ کے تحت پرائمری سکولوں میں عارضی طور پر بھرتی کیے گئے پی ٹی سی اساتذہ کے معاملے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق مذکورہ فنڈ کی مدت اگست میں ختم ہونے کے باعث عارضی طور پر بھرتی کیے گئے اساتذہ کی خدمات بھی ختم ہو گئی ہیں۔ تاہم، بھرتیوں کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہونے پر چیئرمین اور ارکان کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ، تاریخ تقرری، تعلیمی قابلیت، مقررہ معیار اور دیگر متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی، تاکہ بھرتیوں کے عمل کی شفافیت کا جائزہ لیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین ذیلی کمیٹی رشاد خان نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ سکولوں کی اراضی پر قبضوں اور عارضی اساتذہ کی بھرتیوں، دونوں معاملات سے متعلق مکمل، مستند اور تصدیق شدہ ریکارڈ آئندہ اجلاس میں لازماً پیش کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذیلی کمیٹی تمام دستیاب ریکارڈ اور حقائق کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ مرتب کرے گی اور ضروری کارروائی کے لیے اسے قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں