صوبائی مشیر صحت احتشام علی ایڈووکیٹ نے 15 دسمبر2024 سے شروع ہونے والے پولیو پروگرام کا باضابطہ آغاز اپنی رہائش گاہ سے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پولیو کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا اور اپنی بیٹی کو پولیو ویکسین کے قطرے پلا کر اس قومی مہم کا حصہ بنے۔مشیر صحت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے لازمی پلائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو مہم کی کامیابی عوام کے تعاون سے مشروط ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس قومی فریضے میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔احتشام علی ایڈووکیٹ نے انسداد پولیو ٹیموں کی محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ہیروز ہماری قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور پولیو کے خاتمے کے مشن کو کامیاب بنائیں۔
صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کا ایٹا کے زیر اہتمام کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ سینٹر کا دورہ
صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ خیبرپختونخوا کے مختلف عہدوں کے لیے منعقدہ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی (ایٹا) کے زیر اہتمام ٹیسٹ سینٹر کا دورہ کیا۔ یہ ٹیسٹ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور میں منعقد کیا گیا۔ یہ ایٹا کی جانب سے منعقد ہونے والا چوتھا کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ تھا، جس میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ایٹا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عادل سعید صافی نے صوبائی وزیر کو کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ سسٹم کی افادیت، طریقہ کار اور اس کے مثبت اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر نے ایٹا کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ سسٹم خیبرپختونخوا میں شفافیت کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام نقل اور دیگر غیر قانونی طریقوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ نتائج کے بروقت اعلان کو ممکن بناتا ہے۔ ماضی میں امیدواروں کو نتائج کے لیے ہفتوں یا مہینوں تک انتظار کرنا پڑتا تھا، لیکن کمپیوٹر بیسڈ سسٹم کی بدولت اب امیدوار ٹیسٹ کے فوراً بعد نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر مینا خان نے مزید کہا کہ ایٹا نے خیبرپختونخوا میں تعلیمی اور پیشہ ورانہ ٹیسٹنگ کے میدان میں نہ صرف رہنما کردار ادا کیا ہے بلکہ دیگر اداروں کے لیے بھی ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں شفافیت اور میرٹ کا فروغ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ایٹا اس وژن کے تحت جدیدیت کی جانب کامیاب قدم اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ایٹا مستقبل میں مزید انقلابی اقدامات کرے گا اور امتحان و قابلیت کو جانچنے کے نظام کو مزید مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ ایٹا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عادل سعید صافی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ایٹا ملک کی پہلی ٹیسٹنگ ایجنسی ہے جس نے کمپیوٹر بیسڈ امتحانات کے نفاذ کو کامیابی سے یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف امیدواروں کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے بلکہ وقت اور وسائل کی بھی بچت کرتا ہے۔ ایٹا مستقبل میں مزید جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات متعارف کرانے کے لیے پرعزم ہے۔
صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کے مطابق ایٹا کا کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ نظام خیبرپختونخوا میں شفافیت اور میرٹ کے قیام میں انقلاب برپا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام نہ صرف امتحانی عمل کو جدید خطوط پر استوار کرتا ہے بلکہ نقل اور بے ضابطگیوں کے مکمل خاتمے کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹا کی یہ کاوش ایک مثالی اقدام ہے جو پورے ملک کے اداروں کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر کام کر سکتی ہے۔عادل صافی نے مزید بتایا کہ فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے لئے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ میں مختلف آسامیوں پر بھرتی کے لئے کل 412 امیدواروں نے رجسٹریشن کی تھی جس میں 139امیداوار غیرحاضر رہے جبکہ 273حاضر امیداواروں میں ٹوٹل 59 امیدواروں نے ٹیسٹ پاس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ کے نظام کی شفافیت اور بروقت نتائج کی دستیابی کا ثبوت ہیں، جو امیدواروں اور متعلقہ اداروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ یاررہے کہ گزشتہ دنوں ایٹا نے پولیس لوئر کے 1056 امیدواروں کے ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ڈبلیو ایس ایس پی میں بھرتیوں کی مختلف آسیامیوں کے لئے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کرایا۔
صوبائی وزیر قانون کا ڈھوڈہ شریف کوہاٹ میں جاری ترقیاتی کاموں کا دورہ
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم آفریدی ایڈوکیٹ نے عمائدین علاقہ اور پارٹی کی مقامی قیادت کے ہمراہ اپنے حلقہ نیابت کے علاقہ ڈھوڈہ شریف کوہاٹ کا دورہ کیاجہاں انہوں نے دوسرے ترقیاتی کاموں کے علاوہ وہاں روڈ پر جاری کام کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ ڈھوڈہ روڈ گزشتہ 30 سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔وزیر قانون نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عمائدین علاقہ سے مذکورہ روڈ کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا جسے آج ایفا کیا گیا۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے کوہاٹ میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے پر تیزی سے کام شروع کردیا ہے اور انشاء اللہ جہاں جہاں بھی کام کی اشد ضرورت ہوگی، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ وہاں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ آفتاب عالم نے کہا کہ ماضی کے برعکس اب عوامی مفاد کے فیصلے بند کمروں اور ذاتی پسند و ناپسند کی بجائے عوام کی کھلی عدالت میں ہوں گے اور ہر علاقے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی لائحہ عمل طے کریں گے۔وزیر قانون نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر چیک رکھنے کیلئے مقامی کمیٹیوں کو فعال کردیا گیا ہے اور انہیں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ جہاں کہیں کام میں کوئی کمی یا کرپشن نظر آئے تو فوراً ان کے نوٹس میں لایا جائے تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کمیشن اور کرپشن کیلئے ہماری طرف سے زیرو ٹالرنس ہے جو بھی اس میں ملوث پایا گیا اس کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔
مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ
مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہباز شریف حکومت نے اپنی ہی اتحادی جماعتوں کو چارج شیٹ کردیا اور بڑے ڈیفالٹر قرار دے دیا ہے اور میڈیا میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ملک کی سب سے زیادہ بجلی چوری خیبرپختونخوا میں ہوتی ہے جبکہ بجلی چوری کی صورتحال بالکل اس کے برعکس ہو چکی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ذمے بجلی بقایاجات صرف 8.8 ارب روپے ہیں جبکہ سندھ حکومت کے 60 ارب، بلوچستان 40 ارب اور پنجاب کے 38ارب روپے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ حکومت کے خلاف یہ ایک بڑی چارج شیٹ ہے،پنجاب کی ٹک ٹاک حکومت گڈ گورننس کے ہر معاملے میں ٹھپ نظر آتی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو اپنے واجبات کااحساس ہے اور پیسکو حکام کو اس حوالے سے یقین دہانی بھی کر چکے ہیں جبکہ وفاقی حکومت کے ذمے خیبرپختونخوا کے بجلی واجبات اسی سال کے 36 ارب ہیں اور پچھلے اس سے الگ ہیں،وفاقی حکومت کے ساتھ ہم اس معاملے پر بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں،دیگر صوبے اگر وفاق کو واجبات ادا کریں اور وفاق سارے فنڈز خیبرپختونخوا منتقل کرے تو بھی خیبرپختونخوا کے واجبات باقی ہونگے۔مزمل اسلم نے کہا کہ اب تک اس معاملے میں دو بڑے صوبے پاکستان کے اس مسئلہ کے ذمہ دار ہیں۔
مرکزی تقریب میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے شہداء کے خون
15دسمبر بروز اتوار شہداء ڈی چوک کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں جن میں مرکزی دعائیہ تقریب باغِ ناران، حیات آباد، پشاور میں منعقد کی گئی۔مرکزی تقریب میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے شہداء کے خون کے حساب لینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ معصوم شہریوں پر گولی کیوں چلائی گئی۔انہوں نے کہا کہ نہتے کارکنوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ معصوم کارکنوں کا خون بہانا شریف خاندان کا وطیرہ بن چکا ہے، ماڈل ٹاؤن میں بھی حاملہ خواتین پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں، ہر دور میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے شریف خاندان نے معصوم شہریوں کا خون بہایا۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ نہتے کارکنوں کا خون ملک میں آئین و قانون کی بحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت نے ملک میں فسطائیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت یاد رکھے کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا،اتنا ظلم کریں جتنا برداشت کرسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں نے بڑے تحمل سے تمام مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ سانحہ ڈی چوک نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام بدنام کیا ہے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر نے کہا
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مذہبی و ثقافتی رشتے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی طور پر قریبی ہمسائیگی کی وجہ سے ایک دوسرے کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک کے مابین اقتصادی ترقی و تجارتی فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں جس سے استفادہ اٹھانا دونوں ممالک کیلئے انتہائی اہم ہے۔انھوں نے باہمی تجارت کے فروغ کیلئے دونوں ممالک کی منڈیوں سے استفادہ اٹھانے کیلئے تجارتی وفود کے دوروں کو اہم قرار دیا اور یہاں پر صوبے میں افغان طلبہ کو ہنرمندی کی تربیت کے موقع سے استفادہ اٹھانے کیلئے بھی ممکنہ تعاون فراہم کرنے کے حوالے سے یقین دہانی کرائی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کے روز پشاور میں افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ کی سربراہی میں افغانستان کے سفارتی وفد سے بات چیت کے دوران کیا جنھوں نے معاون خصوصی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران سیکریٹری صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عامر آفاق اور خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے حکام بھی موجود تھے۔معاون خصوصی اور افغان سفارت کاروں کے مابین باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے،پاک افغان تجارتی حجم بڑھانے اور سرمایہ کاری کے امکانات سے مزید فائدہ اٹھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔افغان سفارتی وفد نے ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے حائل مسائل کو دور کرنے اور ویزہ پراسیز کو آسان بنانے کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے متعلقہ حکام کیساتھ یہ معاملات اٹھانے کی گزارش کی۔انھوں نے تورخم بارڈر پر بھی درکار سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اپنے معروضات پیش کیئے۔افغان قونصل جنرل نے بتایا کہ روزانہ کی بنیادوں پر ہزاروں درخواست گزار پشاور میں افغان قونصلیٹ کا رخ کرتے ہیں جبکہ وہاں سے پاکستان آنے والوں کے بہاؤ کی تعداد بھی روزانہ ہزاروں میں ہے اس لیئے دونوں ممالک کے مابین عوامی امدورفت کے تواتر کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں مزید سہولیات لانے کی ضرورت ہے۔افغان قونصل جنرل نے پاکستان کے کردار اور تعاون پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر وقت میں افغانستان کو اپنی حمایت اور مدد فراہم ہے جس کی زندہ مثال کئی دھائیوں سے لاکھوں مہاجرین کی مہمان نوازی ہے اور یہاں پر افغان شہریوں کیساتھ کسی بھی شہری سہولت میں کوئی تفاوت نہیں رکھی گئی۔انھوں نے بتایا کہ لسانی و مذہبی ہم آہنگی اور رسم و رواج میں موجود مشترکات نے دونوں ممالک کو ایک مضبوط رشتے میں باندھا ہوا ہے اور باہمی تجارت کا فروغ دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات کو بھی مزید گہرائی تک لے جائے گا۔ملاقات کے دوران معاون خصوصی نے افغان سفارتی وفد کو صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ اس سلسلے میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے نوٹس میں انکے معروضات لائے جائیں گے اور اس سلسلے میں آسانیاں لانے کیلئے متعلقہ وفاقی داروں کو بھی سفارشات ارسال کیئے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ پشاور میڈیکل ٹورزم کے حوالے سے افغان شہریوں کیلئے قریب ترین اور اہم حیثیت رکھتا ہے جبکہ کئی دیگر شعبوں میں بھی یہاں پر سرمایہ کاری کیلئیانھیں پرکشش ترغیبات موجود ہیں لہذا یہاں پر تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے انھیں ہر طرح سے سہولت فراہم کی جائے گی۔انھوں نے کہا سبزیوں،پھلوں و کئی دیگر زرعی شعبوں میں یہاں کے موسمی حالات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درآمدات و برآمدات ایک دوسرے کیلئے اہمیت کے حامل ہیں لہذا ان کی بروقت پہنچ کیلئے تجارت میں آسانیوں کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کا دورہ کیا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کا دورہ کیا اور بورڈ کے ملازمین کے مسائل کے حل کو ترجیحی بنیادوں پر ممکن بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے ملازمین کی اپگریڈیشن کا دیرینہ مسئلہ حل کر دیا گیا ہے، اور جو ملازمین اپگریڈ ہونے سے رہ گئے ہیں، ان کو بھی جلد از جلد اپگریڈ کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ محکمہ محنت خیبر پختونخوا صنعتی مزدوروں اور ملازمین کے مفاد میں جدید اصلاحات لا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ وہ بورڈ کے اپگریڈ ہونے والے ملازمین میں اپگریڈیشن لیٹرز تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے تقریب میں سیکرٹری ڈبلیو ڈبلیو بی محمد طفیل، ڈائریکٹر ایڈمن سیف اللہ ظفر، ڈائریکٹر ایجوکیشن پروفیسر امجد، ڈائریکٹر ورکس انجینئر آصف مجید، ڈپٹی ڈائریکٹر محمد شعیب اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری ڈبلیو ڈبلیو بی نے وزیر محنت کو 267 ملازمین کی اپگریڈیشن کی تفصیلات فراہم کئے اور بتایا کہ باقی ملازمین کی اپگریڈیشن پر کام تیزی سے جاری ہے انہوں نے مذید بتایا کہ خیبر پختونخوا وریکرز ویلفئیر بورڈ اور گورننگ باڈی ورکرز ویلفیر فنڈ اسلام آباد نے کی منظوری کے بعد ڈبلیو ڈبلیو بی کے ملازمین کو اپگریڈ کیے ہیں صوبائی وزیر محنت نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ بورڈ کے ریگولر ملازمین کی پروموشن کیلیے ترجیحی بنیادوں پر ڈی پی سی اجلاس بلایا جائیں اور جو ملازمین پروموشن کی تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں انکی پروموشن کی جائیں انہوں نے کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن کے حوالے سے بھی متعلقہ حکام کو ہدایات کی کہ کنٹریکٹ ملازمین کے مسائل کو جلد حل کیا جائے صوبائی وزیر نے مذید احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صنعتی مزدوروں، ان کے بچوں اور ملازمین کے مسائل کو فوری اور موثر طریقے سے حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں تاکہ صوبے میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنایا جا سکے سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ نے اس موقع پر صوبائی وزیر کو جاری اقدامات اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی میزبانی میں پہلی بار کراچی میں کامیاب انرجی روڈ شو کا انعقاد کیا گیا
خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی میزبانی میں پہلی بار کراچی میں کامیاب انرجی روڈ شو کا انعقاد کیا گیا۔مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم،وائس چیرمین خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ مسعودکنور،چیف ایگزیکٹیو آفیسر خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی عادل صلاح الدین ودیگر حکام کی موجودگی میں محکمہ فنانس کے تعاون سے منعقدہ اس روڈ شو میں پختونخوا ہائیڈل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو) سیڈ (ایڈم اسمتھ)،خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گریڈ کمپنی،خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی اور صوبائی سرمایہ کاری بورڈ نے صوبے میں موجود امکانی سرمایہ کاری شعبوں کو سرمایہ کاروں کی ترغیب کیلئے اجاگر کیاجن میں ٹورزم،انفراسٹرکچر، معدنیات،سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے شعبے شامل تھے جبکہ بورڈ حکام نے صنعت کاروں اور کراچی کے سرمایہ کاروں کو ہائیڈرو اور دیگر صاف توانائی کے متبادل شعبوں کے حوالے سے بھی سرمایہ کاری کی پیش کی۔اس طرح تیل وگیس کے شعبے بھی ان سرمایہ کاری مواقع میں شامل تھے۔ روڈ شو میں سرمایہ کاری بورڈ اور چائنہ پاکستان بزنس اینڈ انوسٹمنٹ پروموشن کونسل (سی پی بی آئی پی سی)کے مابین توانائی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے۔اس موقع پر چیئرمین سی پی بی آئی پی سی طارق گل نے صوبائی تجارت و سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سیانھیں تعاون فراہم کرنے اور صوبے میں سرمایہ کاری لانے پر بورڈ کے کردار کو سراہا۔اس طرح کراچی کے سرمایہ کاروں نے صوبائی حکومت کی جانب سے منعقدہ اس روڈ شو کو ایک اہم قدم قرار دیا۔ کے پی بورڈ آف انوسٹمنٹ نے اس ایونٹ کی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل قریب میں کئی دیگر روڈ شوز کے انعقاد کا پلان بنایا ہوا ہے۔
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کی زیر صدارت محکمہ زراعت کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا جائزہ اجلاس
ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری فنڈز کی مقررہ وقت میں استعمال یقینی بنائی جائے – میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کی ہدایت
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ صوبے میں محکمہ زراعت کے ترقیاتی منصوبوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز فنڈز کے بروقت اور شفاف استعمال کو یقینی بنائیں۔ مقررہ وقت میں اہداف حاصل نہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جو منصوبے مکمل ہوگئے انکے اثاثہ جات کی تفصیل فراہم کی جائیں۔ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام بھرپور طریقے سے ان منصوبوں سے مستفید ہو سکے۔ ضلعی سطح پر قائم جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹز کے اجلاسوں کو بروقت منعقد کیا جائے جن اضلاع میں اس حوالے سے کوتاہی کی گئی انکے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ محکمہ زراعت کے تمام ونگز آپس میں مربوط رابطہ قائم کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زراعت کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت عطاء الرحمان، محکمہ زراعت کی تمام ونگز کے ڈائریکٹر جنرلز، زرعی یونیورسٹیوں کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔صوبائی وزیر نے زرعی شعبے میں آبپاشی کی بہتری کیلئے ریسرچ سینٹر کے قیام اورجاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے فوری اقدامات اٹھا نے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سکیموں کی تکمیل کے لئے جاری رقوم کے شفاف انداز میں استعمال کو جلد یقینی بنایا جائے تاکہ کسانوں کو ریلیف ملے اور ان کی فصلوں میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ہوسکے۔انہوں نے تاکید کی کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی تاخیر اور غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کسانوں کیلئے جدید کاشتکاری کے حوالے سے تربیت پروگرام منعقد کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کے افسران صوبے میں بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لئے بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔تاکہ بنجر زمین کو قابل کاشت بناکر صوبے کی زرعی اجناس کی کمی کو پورا کیا جائے۔ اجلاس میں صوبے کے اندر زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی کا عالمی یوم انسداد بدعنوانی پر پیغام
خیبرپختونخوا کے مشیر برائے صحت احتشام علی نے عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے نظام کو مینول سے ہٹا کر مکمل طور پر آٹومیٹ اور ڈیجیٹلائز کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”جب تک ہمارا نظام مینول رہے گا، بدعنوانی پر قابو پانا ممکن نہیں۔ ہمیں ہر محکمے میں انسانی مداخلت کو کم کرتے ہوئے شفافیت کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر بنیادی طور پر سسٹم کو ٹھیک نہ کیا گیا تو یہ ناسور ہماری جڑوں میں شامل رہے گا۔”مشیر صحت نے اپنے محکمے میں کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے قلمدان سنبھالنے کے فوری بعد پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے نظام کو مکمل طور پر آن لائن کر دیا۔ آج پلیسمنٹ کمیٹی کی پہلی میٹنگ منعقد ہوئی، جہاں صوبے کے تمام علاقوں سے محکمہ صحت کے عملے کی آن لائن درخواستوں پر بغیر کسی سفارش کے فیصلے کیے گئے۔”انہوں نے کرپشن کے خاتمے کے لیے عوام کی شرکت کو ضروری قرار دیتے ہوئے ایک خصوصی ای میل kpministerhealth@gmail.com کا اجرا کیا ہے۔ احتشام علی نے بتایا کہ ”یہ ای میل میں خود مانیٹر کرتا ہوں، اور اب تک 50 شکایات موصول ہوئی ہیں، جن پر کارروائی کرکے مسائل حل کیے گئے ہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ اگر محکمہ صحت میں کسی بھی غیر قانونی مطالبے یا کرپشن کے حوالے سے ثبوت کے ساتھ شکایت ہو تو اس ای میل پر ارسال کریں۔ آپ کو ایک ہفتے کے اندر کارروائی ہوتی دکھائی دے گی۔” انہوں نے کہا ہے کہ ”محکمہ صحت میں ادویات اسکینڈل کے بعد، ادویات کی خریداری اور سپلائی کے تمام مراحل کو بھی ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ عمل آن لائن کیا جائے تاکہ شفافیت قائم ہو اور میرٹ پر لوگ آگے آئیں، جو ہمارے اداروں کو مضبوط بنائیں۔”احتشام علی نے عوام سے اپیل کی کہ کرپشن کے خاتمے میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ نظام کو بہتر اور شفاف بنایا جا سکے۔
