خیبر پختو نخوا کے وزیر زراعت محمد سجاد نے محکمہ زراعت شعبہ توسیع کا دورہ کیا، ممبر صوبائی اسمبلی خورشید خٹک، ڈائریکٹر جنرل زراعت شعبہ توسیع جان محمد،ڈائریکٹر جنرل ضم اضلاع مراد علی خان اور محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع نے وزیر زراعت کو محکمہ کی طرف سے کی جانے والی مختلف سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، وزیر زراعت خیبر پختونخوا نے محکمہ کے افسران کو ہدایت کی کہ ہمارا صوبہ خیبر پختونخوا قدرتی طور پر بہت زرخیز ہے اور اللہ تعالی نے اس کو مختلف موسموں سے نوازا ہے جو کہ ہر قسم کی فصلات و باغات اور سبزیاں اگانے کے لیے موضوع ہے وزیر زراعت نے محکمہ کے افسران کو مزید ہدایت کی کہ صوبے میں زراعت کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے اور صوبہ میں بیروزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو زراعت اور اس سے وابستہ کاروبار کی طرف راغب کرنے اور انہیں ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں وزیر زراعت نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کا زیادہ تر رقبہ بارانی ہے لہذا ان علاقوں میں زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ صوبے کو خوراک کی پیداوار کے حوالے سے خود کفیل بنایا جا سکے، وزیر زراعت نے متعلقہ حکام کو زرعی کھادوادویات میں ملاوٹ کے خاتمے کے لیے یقینی اقدامات ٹھانے کی ہدایات کی، وزیر زراعت نے متعلقہ حکام کو زرعی کھادوں اور ادویات میں ملاوٹ کی خاتمے کے لئے یقینی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
صوبے میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں۔وزیر محنت خیبر پختونخوا
خیبر پختونخواکے وزیر محنت فضل شکور خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے دورس اقدامات اٹھائیں اور جہاں کہیں مسائل درپیش ہوں ان کو فوری نوٹس میں لایا جائے تاکہ بروقت حل کیئے جاسکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز محکمہ محنت کے بارے بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لیبر، ایڈیشنل سیکرٹری لیبر، ڈائریکٹر لیبر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی،اس موقع پر صوبائی وزیر کو محکمہ کے منصوبوں، کارکردگی، اہداف اور اب تک کی کامیابیوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا، صوبائی وزیر نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صوبے میں انڈسٹریل اور سوشل سیکٹر میں کام کرنے والے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر سے بہتر اقدامات اٹھائے جائیں،انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کے بال بچوں کے تحفظ اور انہیں پوری اجرت کی فراہمی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے اور ان کی محنت کے اوقات آٹھ گھنٹے سے متجاوز نہ ہوں، صوبائی وزیر نے ضم اضلاع میں صنعتوں کے فروغ کو بندوبستی اضلاع کی طرز پر انڈسٹری ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ صنعتی مالکان اور مزدور دلجمعی سے صوبے کی تیز تر ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں، صوبائی وزیر نے پنجاب کی طرز پر انڈسٹری مالکان اور مزدوروں کے لیے سہولیات دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جنگلات کی بلین ٹری پلس منصوبہ اور پشاور ۔ڈی آئی خان موٹروے کے حوالے سے اہم اقدامات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے صوبے میں جنگلات کے رقبے میں اضافے کے لئے ایک اہم اقدام کے طور پر بلین ٹری پلس منصوبہ شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں محکمہ جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر جنگلات فضل حکیم کے علاوہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجدعلی خان، سیکرٹری جنگلات نذر حسین شاہ اور محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلی کو محکمے کے انتظامی معاملات، کارکردگی، اہداف اور دیگر امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو جنگلات کی کٹائی روکنے اور محکمے کا ریونیو بڑھانے کے لئے ٹھوس اور حقیقت پسندانہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے محکمہ جنگلی حیات کو ماہی پروری کے فروغ کے لئے قابل عمل تجاویز اور ایکشن پلان تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ صوبے میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے کے لئے جرمانوں کی موجودہ شرح کو اس حد تک بڑھایا جائے کہ جرمانوں کی یہ رقم کاٹی گئی لکڑی کی قیمت سے زیادہ ہو تاکہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کا موثر تدارک کیا جا سکے۔ انہوں نے ٹمبر کی اسمگلنگ پر کڑی نظر رکھنے کے لئے چیک پوسٹوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں جنگلات کی سائنٹفک مینجمنٹ پر عملدرآمد سے متعلق معاملات پر بھی غوروخوض کیا گیا۔
دریں اثناءوزیراعلیٰ نے پشاور ۔ڈی آئی خان موٹروے کے حوالے سے بھی ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں اُنہیں مذکورہ منصوبے پر اب تک کی پیشرفت ، منصوبے کی مجموعی لاگت اور مجوزہ الائمنٹ پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو پشاور۔ ڈی آئی خان موٹروے کو بی اوٹی موڈ (بلٹ آپریٹ ٹرانسفر )پر تعمیر کرنے کے آپشن کو بھی زیر غور رکھنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ موٹروے کی تعمیر پر صوبائی حکومت کا کم سے کم خرچہ ہو ۔ اجلاس کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پشاور۔ڈی آئی خان موٹروے کی کل لمبائی365 کلومیٹر ہے ، مذکورہ موٹروے پر 19 انٹر چینجز جبکہ دوٹنلز تعمیر کئے جائیں گے ۔مزید بتایا گیا کہ یہ منصوبہ سی پیک کے جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی )کے آٹھویں اجلاس میں بھی زیر بحث آچکا ہے اور دونوں اطراف سے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ جے ڈبلیو جی کے آئندہ اجلاس میں دوبارہ اس پر غور وخوص کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا: وزیر زراعت کا زرعی اراضیات کی حفاظت کے لئے اقدامات کیلئے اطلاع دینے کا فریضہ
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت محمد سجاد نے کہا ہے کہ صوبے میں زرعی مقاصد کیلئے پانی کا منظم استعمال انتہائی ضروری ہے اور اس سلسلے میں محکمہ زراعت کا شعبہ سائل اینڈ واٹر کنزرویشن موثر اقدامات اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی اراضیات پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام سے ہماری زراعت کو لاحق خطرات کے پیش نظر کوششیں کی جائیں گی تاکہ غیر قانونی تعمیرات کا راستہ روکا جا سکے۔انھوں نے ہدایت کی کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے پانی کی قلت کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کیلئے اس کے صحیح استعمال کیلئے منصوبہ بندی کی جائے تاکہ اس کا ضیاع روک کر اسے زراعت کی ترقی کیلئے بہتر انداز میں استعمال میں لایا جاسکے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کے روز پشاور میں سائل اینڈ واٹر کنزرویشن کے مرکزی دفتر کا دورہ کرنے کے موقع پر محکمہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران کیا۔بریفنگ میں رکن صوبائی اسمبلی خورشید خٹک نے بھی شرکت کی جبکہ ڈائریکٹر جنرل محمد یاسین وزیر نے صوبائی وزیر کو اس موقع پر محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں اور صوبے میں پانی اور زرعی اراضیات کے بچاؤ کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ محکمہ کا مذکورہ شعبہ صوبہ میں زرعی مقصد کیلئے بارانی اور دیگر ذرائع کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور منظم استعمال میں لانے کیلئے مختلف سرگرمیاں سر انجام دے رہا ہے جبکہ زرعی اراضیات کی حفاظت اور لیولنگ کیلئے بھی اقدامات اٹھاتا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے زرعی اراضیات کی حفاظت انتہائی ضروری ہے اور اس سلسلے میں کل وقتی اقدامات نا گزیر ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں محکمہ ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے تاکہ وہ صوبہ میں زرعی اراضیات کے بچاؤ کی نگرانی کرے جبکہ وہ ذاتی طور پر بھی اس کی مانیٹرنگ کریں گے۔انھوں نے محکمہ کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ زرعی ترقی کیلئے بہترین منصوبے سامنے لائے تاکہ ان پر عمل کرکے زرعی خودکفالت میں مدد مل سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر جنگلات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کا اہم اجلاس
خیبر پختونخوا کے وزیر جنگلات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و جنگلی حیات فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ محکمہ کو مضبوط کرنا اور نظام میں بہترین لانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، جنگلات معیشت کے استحکام میں بہت اہمیت کے حامل ہیں، ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ناگزیر ہے،عوامی مینڈیٹ پر پورا اترنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ کے تعارفی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا سیکرٹری سید نظر حسین شاہ، سپیشل سیکرٹری اور محکمہ کے دیگر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو محکمہ کے جاری اور نئے اے ڈی پی اور اے آئی پی سکیموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں خیبر پختونخوا کے بندوبستی اور قبائلی اضلاع کے منصوبوں کے بارے میں بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی، صوبائی وزیر جنگلات کو واٹر شیڈ،گزارا فار سٹ، کے پی فارسٹ پالیسی 1999 کے پی فارسٹ آرڈیننس 2002, کے پی فارسٹ کاربن ٹریڈنگ سمیت محکمہ کے دیگر اہم امور پر تفصیل سے بتایا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے کہا کہ ہم سب کو مل کر ایک ٹیم کی طرح کام کرنا ہوگا، عوام کے لیے آسانی پیدا کر کے نظام میں بہتری لانا ہوگی اور معیشت کی مضبوطی میں جنگلات کی اہمیت کے پیش نظر ان کی حفاظت اور بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی سربراہی میں پولیو کی صورتحال بارے اجلاس منعقد
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی سربراہی میں صوبے میں پولیو کی صورتحال بارے جائزہ اجلاس
میں خود باقاعدہ طور پر پوسٹ کمپین میٹنگ کی صدارت کرونگا، پولیو کے خاتمے میں سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے پولیو کا خاتمہ یقینی بنانا ہے تو اس دفعہ پولیو کیلئے روایتی انداز سے ہٹ کر سوچنا ہوگا۔ پولیو کے خاتمے کیلئے ڈونرز کی جانب سے فراہم کردہ تعاون پر ان کے مشکور ہیں، پولیو جائزہ اجلاس میں وزیر صحت کا اظہار خیال
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں منعقد ہوا جس میں سپیشل سیکرٹری ہیلتھ برائے انسداد پولیو عبدالباسط کے علاوہ پراونشل ای او سی کے ڈپٹی کوآرڈی نیٹر، ٹیم لیڈ عالمی ادارہ صحت و دیگر اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر صحت کو صوبہ میں پولیو صورتحال، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل بارے بتایا گیا۔ سپیشل سیکرٹری برآئے انسداد پولیو عبدالباسط نے پولیو کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا۔ اجلاس میں جنوبی اضلاع میں پولیو کیسز کی صورتحال پر خصوصی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر صحت نے جنوبی اضلاع میں پولیو کیسز کی بہتات اور بنوں، لکی مروت اور اپر و لوئر وزیرستان میں پولیو کمپینز نہ ہونے کی وجوہات بارے بھی بتایا گیا۔ پولیو کمپینز کے دوران جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی چیلنجز کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا۔وزیر صحت کو بتایا گیا کہ پچھلے سال پولیو کے 6 جبکہ امسال کوئی کیس سامنے نہیں آیااس کے علاوہ انہیں بتایا کہ گیا کہ صوبہ میں پانچ سال سے کم عمر 7.3 ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے ہوتے ہیں۔ وزیر صحت کو پولیو کے لحاظ سے سات ہائی رسک جنوبی اضلاع کے بارے میں بھی بتایا گیا جن میں بنوں۔ لکی مروت، ڈی آئی خان، ٹانک، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان اپر و لوئر شامل ہیں۔ وزیر صحت کے استفسار پر انہیں سیکورٹی چیلنجز اور اس کی وجہ سے مختلف اضلاع میں منسوخ ہونے والے پولیو کمپینز کے بارے میں تفصیلات بتائی گئیں۔ اس موقع پر کوآرڈی نیٹر ای او سی نے وزیر صحت سے درخواست کی کہ پراونشل ٹاسک فورس کی میٹنگ وزیراعلیٰ کی صدارت میں منعقد کرائی جائے۔
وزیر بلدیات، دیہی ترقی و الیکشن کی زیر صدارت لوکل کونسل بورڈ کے اجلاس میں شرکت
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محکمہ بلدیات،دیہی ترقی و الیکشن ارشد ایوب خان کے زیر صدارت بدھ کو بلدیات کمیٹی روم میں لوکل کونسل بورڈ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں لوکل کونسل بورڈ کے انتظامی،مالیاتی اور دیگر مسائل اور چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔اجلاس میں سیکرٹری بلدیات داؤد خان،سپیشل سیکرٹری محمد آصف خان،سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ سلیم خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔لوکل کونسل بورڈ کے حکام نے صوبائی وزیر کو محکمہ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور مسائل سے آگاہ کیا۔اس موقع پر حکام نے صوبہ میں قائم تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے مالی مسائل، مختلف ٹی ایم ایز کی آمدنی بڑھانے،تنخواہوں،ٹیکس نیٹ،لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور انکی کارگردگی کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر ارشد ایوب خان نے کہا کہ عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور مالی طور کمزور ٹی ایم اوز کا ازسرنو جائزہ لیں گے اور اس سلسلے میں انکی مالیاتی کارگردگی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ایم ایز کی ٹرانسفر پوسٹنگ انکی کارگردگی سے مشروط ہوگی اور اس حوالے سے ایک ڈیجیٹل ٹرانسفر نظام لائیں گے۔ارشد ایوب خان نے ضم اضلاع سمیت دیگر اضلاع کی مالی طور کمزور ٹی ایم ایز کا اجلاس اگلے ہفتے بلانے کا فیصلہ کیا اور محکمہ کے حکام سے اس حوالے تجاویز اور سفارشات بھی طلب کی گئیں۔صوبائی وزیر نے حکام سے مخاطب ہوکر کہا کہ سروس ڈیلیوری میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے، عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے احکامات پر مسافروں اور تیمارداروں کیلئے افطار دستر خوان کا اہتمام۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ سوات و ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر سوات کی طرف سے مسافروں اور سیدو شریف ہسپتال آئے ہوئے تیمارداروں کیلئے ضلعی پناہ گاہ/شیلٹرہوم سوات میں افطار دستر خوان کا اہتمام کیا گیا۔کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ثاقب رضا اسلم اور ڈپٹی کمشنر سوات ڈاکٹر قاسم علی خان نے خصوصی طور پر افطار دستر خوان میں شرکت کی اور مسافروں اور تیمارداروں کیساتھ روزہ افطار کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) سوات لقمان خان، ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر سوات اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی عوام دوست و فلاحی پالیسیوں کے باعث افطار دستر خوان کا اہتمام ہر ضلعی سطح پر رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جاری رہیگا۔افطار دستر خوان میں تقریبا 40 سے 50 مرد اور 5 سے 8 خواتین نے روزہ افطار کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی پولیس کو مستحکم کرنے کیلئے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے پولیس کو مستحکم کرنے کیلئے بکتر بند گاڑیوں،اسلحہ اور دیگر جدید آلات کی خریداری کیلئے تین ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو شہداءکوٹہ کے تحت تمام پولیس شہداءکے بچوں کو پولیس فورس میں بھرتی کرنے کیلئے ون ٹائم خصوصی کوٹہ مقرر کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں کابینہ کی منظوری کیلئے کیس تیار کیا جائے ۔ ون ٹائم کوٹہ مقرر کرنے سے شہداءکوٹہ کے تحت بھرتی کے منتظر تمام شہداءکے بچے بیک وقت بھرتی ہو سکیں گے ۔ واضح رہے کہ شہداءکوٹہ کم ہونے کی وجہ سے پولیس شہداءکے بچے کئی سالوں سے بھرتی کے منتظر ہیں۔ یہ ہدایت اُنہوںنے گزشتہ روز امن و امان سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی ۔ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈا پور ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان،متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور پولیس کے دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کومتعلقہ حکام کی جانب سے صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورتحال، چیلنجز ،آئندہ کے لائحہ عمل اور دیگر معاملات پر بریفینگ دی گئی ۔اجلاس میں اہم شخصیات اور تنصیبات کی سکیورٹی کیلئے پولیس کے اندر سکیورٹی ڈویژن قائم کرنے سے متعلق اُمور پر بھی غور و خوض کیا گیا ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ امن و امان کی بہتری صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ پولیس فورس کو موجودہ صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹنے کے قابل بنانے کیلئے ہر لحاظ سے مضبوط اور مستحکم کیا جائے گا اور اس مقصد کیلئے پولیس کو درکارمالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بدھ کے روز وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور وفاقی حکومت سے جڑے صوبے کے مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کے ذمے خیبر پختونخواہ کے بقایا جات، مختلف فیڈرل ٹرانسفرز کے تحت صوبے کے شئیرز، امن وامان سے متعلق معاملات، انتظامی امور، صوبے میں سحری و افطار کے اوقات میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سمیت دیگر اہم معاملات وزیراعظم کے ساتھ اٹھایا۔
ملاقات کے بعد وفاقی وزیر احسن اقبال کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ بحیثیت وزیر اعلی خیبر پختونخوا ان کی پہلی ملاقات تھی جس میں صوبے کے امن و امان اور صوبے کے واجبات کے علاوہ متعدد اہم معاملات پر بات چیت ہوئی، ملاقات بہت ہی مثبت رہی، ملاقات میں جو امور زیر بحٹ آئے ان کے حوالے سے وزیر اعظم نے مکمل سپورٹ جبکہ صوبے کے بقایاجات کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ وفاق سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے جس پر عمل کرنا وفاقی حکومت کے لئے ممکن نہ ہو لیکن صوبے کے حقوق اور عوام کے مسائل کے حل کی بات ضرور کریں گے کیونکہ صوبے کے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور عوام ہم سے توقعات رکھتی ہے اس لئے ہم نے صوبے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے کام کرنا ہے اور ڈیلیور کرنا ہے، وزیر اعلی کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے صوبے کے ساتھ ساتھ ملک کے مسائل کے حل کے لئے بھی کام کرنا ہے، یہ ملک ہمارا ہے اور اس ملک کے لئے ہمارے صوبے کا جو بھی کردار ہوگا وہ ضرور ادا کیا جائے گا۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ملک کو تیل، گیس اور بجلی کی فراہمی میں ہمارا صوبہ اپنا حصہ ڈال رہا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ملک کی بہتری کے لئے ہمارے صوبے کے وسائل استعمال ہو رہے ہیں اور آئیندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ چئیرمین عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں کا معاملہ بھی وزیر اعظم کے ساتھ اٹھایا گیا، عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں اس لئے ضروری ہیں کیونکہ سنیٹ انتخابات اور دیگر سیاسی معاملات پر ان سے مشاورت کرنی ہے اور اگر سیاسی معاملات پر مشاورت سے ملک کے سیاسی مسائل حل کی طرف جائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبے کے سکیورٹی کے جو مسائل ہیں وہ اکیلے صوبے کے نہیں بلکہ پورے ملک کے مسائل ہیں اس لئے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے صوبے کی دوسری نگران حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے بہت سارے اچھے کاموں کی شروعات کی ہیں جو آگے چل کر ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہونگے۔
