خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میاں خلیق الرحمان نے اپنے آفس کا چارج سنبھالتے ہی پہلے دن عوامی مسائل سنے۔ صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان نے کہا کہ ہم عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں اور جتنا ہم سے ہو سکے گا عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے۔وزیراعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور اس حوالے سے بہت واضح ہیں کہ عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے، عوام کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی اور سرکاری دفاترمیں زیرو ٹالرنس فار کرپشن پالیسی پر عمل پیرا ہونگے۔انہوں نے کہا کہ ہم انہی عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آئے ہیں اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان عوام کے لیے کام کریں۔ ایکسائز ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میں پہلے بھی ہم نے بہت سے بہترین اور فلیگشپ منصوبے متعارف کرائے اب مستقبل میں مزید بھی لے کر آئیں گے، ایسے منصوبوں پہ کام کریں گے جو عوام کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور دفتروں کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بھی لے کر جائیں گے تاکہ بد عنوانی کا تدارک ہو۔
وزیر صحت کا خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ پلس کے تحت مفت علاج کی سہولتوں کی بحالی کا اعلان
وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے منگل کو صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں پختونخوا کے عوام کیلئے صحت کارڈ پلس کے تحت مُفت علاج کی سہولیات کی بحالی سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2015 میں صحت کارڈ کا آغاز صوبے کے چار اضلاع سے کیا گیا تھا۔ 2020 میں پورے صوبے تک توسیع پر صحت کارڈ کاسالانہ خرچہ 18 ارب روپے تھا۔ اس موقع پر ان کیساتھ چیف ایگزیکٹیو صحت سہولت پروگرام ڈاکٹر ریاض تنولی اور ڈائریکٹر پروگرام ڈاکٹر اعجاز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ الحمداللہ خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ کی خدمات بحال ہوچکی ہیں۔ پختونخوا کے عوام کیلئے مُختلف النوع سپیشلیٹیز کے 118 سرکاری و نجی ہسپتالوں میں 1800 مختلف بیماریوں کا مُفت علاج شروع ہوچکا ہے۔ انکے مطابق منگل دن بارہ بجے تک سات سو مریضوں کے داخلے پر ایک کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں، یہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ویژن تھا جو کہ آج دوبارہ بحال ہوگیا، اس وقت اوسطا تین ارب روپے ماہانہ صحت کارڈ کے اخراجات ہیں۔ بحالی کے بعد ہسپتالوں میں صحت کارڈ کے تمام کاؤنٹرز کھول دیے گئے ہیں اور حکومت کی جانب سے اس حوالے سے انشورنس کمپنی کو 5 ارب روپے جاری کردیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ نگران حکومت نے صحت کارڈ بند کرکے غریب عوام کا نقصان کیا۔نگران حکومت کے دورانیہ میں توسیع نے اسے مزید نقصان پہنچایا۔صحت کارڈ ایک جُزوقتی نہیں بلکہ دیر پا پروجیکٹ ہے۔وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی رہنمائی میں صوبہ خیبرپختونخوا ترقی کے نئے ادوار دیکھے گا۔محکمہ صحت نے ’صحت سہولت پروگرام‘ کے پینل پر موجود اسپتالوں کی باضابطہ فہرست جاری کردی ہے، جس کے مطابق مریضوں کو 118 اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت نے بتایا کہ صحت کارڈ میں اووربلنگ و دیگر بے قاعدگیوں کو روکھنے کیلئے صحت کارڈ کے تحت چند آپریشنز سرکاری ہسپتالوں تک محدود کردئے گئے ہیں۔ اسی طرح صحت کارڈ پر کام کرنے والے ہسپتالوں کی تعداد 180 سے کم کرکے 118 کردی گئی ہے۔ سسٹم پر 18 ارب روپے کے بقایاجات چھوڑ کر اسے دوبارہ شروع کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ صوبائی اسمبلی نے ابھی ایک مہینے کے بجٹ کی منظوری دی ہے۔ چیلنجز آتے رہیں گے لیکن عوام کی خاطر ان چیلجنز سے نمٹنا ہے
مشیر اطلاعات کا ولی باغ چارسدہ دورہ: علی امین گنڈاپور کی طرف سے اظہار تعزیت
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے منگل کے روز ولی باغ چارسدہ کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے سر براہ اسفندیارولی خان کی اہلیہ اور ایمل ولی خان کی والدہ محترمہ کی وفات پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی طرف سے غمزدہ خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کچھ دیر وہاں رہے اور انہوں نے مرحومہ کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر مشیر اطلاعات بیرسٹرمحمد علی سیف نے مرحومہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہا کرتے ہوئے رب العالمین کے حضور مرحومہ کے درجات کی بلندی اور سوگواران کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔
زراعت کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی ترقی کے لیے افسران اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ وزیر زراعت
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت محمد سجاد نے کہا ہے کہ شعبہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتا ہے اور موجودہ صوبائی حکومت اس شعبہ کو بانی پی ٹی ائی عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپورکے وژن کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینے کی خواہاں ہے۔ اس لیے زراعت سے وابستہ افسران کو سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دینی ہوگی، انہوں نے ہدایت کی کہ ایسے زرعی منصوبے تیار کیے جائیں جن کے اثرات دورس ہونے کے ساتھ ساتھ زمینداروں کی امنگوں کے مطابق ہو، اور ان سے کسانوں کو فوائد مل سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زراعت کے منصوبوں سے متعلق پہلے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری زراعت جاوید مروت سی پی او زراعت، تمام شعبوں کے ڈی جیز اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو جاری ترقیاتی منصوبوں خاص کر اے ڈی پی-24 2023۔ اے ائی پی,بیرونی امداد سے شروع کرد ہ سکیمو ں، وزیراعظم ایمرجنسی زرعی پروگرام، ورلڈ بینک پروگرام،خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی پروگرام،گومل زام ڈیم پراجیکٹ، ماڈل فارم سروسز،سیڈز فارم،سائل کنزرویشن، ان فارم واٹر مینجمنٹ، کراپس رپورٹنگ سروس، زرعی توسیع و تحقیق اور انجینئرنگ کے مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر نے بریفنگ میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے افسران کو ہدایت کی کہ متعلقہ افسران اضلاع کے دور کریں اور زمینداروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں اور ضم اضلاع میں زراعت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئی اے ڈی پی میں ایسے منصوبے شامل کیے جائیں جن کی بدولت زمینداروں کو فائدے مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ میں کمپلینٹ سیل کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور مانیٹرنگ کے نظام کو فعال کرتے ہوئے سزا و جزا کا عمل شروع کیا جائے گا انہوں نے افسران کو تاکید کی کہ وہ باہمی روابط کے ذریعے ایک ٹیم کے شکل میں کام کریں تاکہ اہداف کا حصول آسان ہو انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
خیبر پختونخواہ کے سکولوں کا معیار تعلیم بہتر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے ، وزیر تعلیم
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کا ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن کا دورہ۔ صوبائی وزیر تعلیم کو ڈائریکٹریس ایجوکیشن سمینہ الطاف اور ان کی ٹیم نے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے کمیٹی روم میں تفصیلی بریفنگ دی ۔ بریفنگ کے دوران ڈائریکٹوریٹ کے تمام سینیئر افسران موجود تھے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کا کہنا تھا کہ ہمیں بچوں کو سکولوں میں بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔ ہمارا سب سے زیادہ فوکس بچوں کی معیاری تعلیم پر ہوگا۔ ہم تمام کاموں کے حوالے سے ترجیحی فہرست مرتب کریں گے اور جو مسائل ناگزیر ہوں گے ان پر سب سے پہلے کام کیا جائے گا۔ نہ میں خود غلط کام کرتا ہوں اور نہ ہی کسی اور کو اپنے نام پر غلط کام کرنے کی اجازت دوں گا۔ کسی بھی شخص کو اپنے جائز کام کے لیے محکمہ تعلیم میں سفارش کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب لوگ مل کر ایک ٹیم کی طرح کام کریں گے اور ہماری ٹیم کا اولین مقصد ہمارے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔
شعبہ آبپاشی کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیر آبپاشی خیبر پختونخوا
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ شعبہ آ پاشی کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اسے جدید خطوط پرا ستوار کرنے کی خاطر بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ آبپاشی کی ترقیاتی سکیم نارتھ ریجن سے متعلق بریفنگ کے دوران کیا اس موقع پر سیکرٹری آبپاشی محمد طاہر اور کزئی سپیشل سیکرٹری آبپاشی وقار شاہ، چیف انجینیئر آبپاشی انجینیئر غلام اسحاق خان اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، اجلاس میں چیف انجینیئر آبپاشی نے محکمہ کی کارکردگی اور جاری ترقیاتی سکیموں پر کام کی پیشرفت، اہداف اور کامیابیوں کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی، صوبائی وزیر نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی کی ملکیتی اراضی کی مکمل تفصیل مہیا کی جائے اور جہاں پر بھی محکمہ کی اراضی پر قابضین ہوں تو ان سے فوری طور یہ اراضی واگزار کروائی جائے، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں سول کینال سے متعلق مکمل طریقہ کار تیار کریں جبکہ محکمہ ٓبپاشی کے استعمال کے پانی کے ضیاء کو روکنے کے لیے بھی موثر بندوبست کریں تاکہ زراعت کے لیے وافر مقدار میں پانی مہیا ہو، انہوں نے کہا کہ محکمہ زرعی زمینوں پر پھیلنے والی غیر قانونی آبادی کے کنٹرول کے لیے بھی اقدامات اٹھائیں، انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آبیانہ ٹیکس کی وصولی کے ٹارگٹ کو 100 فیصد مکمل کرے تاکہ صوبے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو،صوبائی وزیر نے یقین دلایا کہ محکمہ کے مسائل کا فوری طور پر حل نکالا جائے گا اور اس میں عملہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے، بعد ازاں وزیرآبپاشی نے محکمہ کے مختلف شعبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور محکمہ کی گاڑیوں، مشینری اور دیگر آلات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں
مساجد اور عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میں دینی مدارس کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے ایک اہم قدم کے طور پر صوبے میں مساجد اور عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میںدینی مدارس کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کو بندوبستی اور ضم اضلاع کے 1000 سے 1500دینی مدارس کو سولرائزیشن کے منصوبے میں شامل کرنے کےلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سولرائزیشن میں تمام اضلاع کے رجسٹرڈمدارس شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں زیر تعلیم ہزاروں طلباءرہائش پذیر ہوتے ہیں جن کی سہولت کےلئے مدارس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنا ضروری ہے۔وہ پیر کے روز محکمہ توانائی و برقیات کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان ، سیکرٹری توانائی و برقیات نثار احمد کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کو محکمہ توانائی کے حکام کی جانب سے محکمہ کے ترقیاتی منصوبوں ، انتظامی و مالی معاملات اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی جلد سے جلد عمل میں لانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پن بجلی کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کوانتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر اندر تکمیل کو یقینی بنایا جائے ۔ جاری منصوبوں میں غیرضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ کرنے والے ٹھیکداروں پر جرمانے عائد کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کےلئے ترجیحات کا تعین کیا جائے اور صوبے کےلئے آمدن کا ذریعہ بننے والے منصوبوں کی فنڈنگ کو پہلی ترجیح دی جائے۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مالی طور پر کمزور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز(ٹی ایم ایز) کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگیوں کےلئے خصوصی فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کواس مقصد کےلئے ڈیڑھ ارب روپے ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ ملازمین کو دو ماہ کی تنخواہیں اور پنشنز ادا کی جائیں تاکہ ان ملازمین کو رمضان کے دوران اور عید پر کوئی مالی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مالی طور پر کمزور ٹی ایم ایز کو گزشہ کئی ماہ سے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگیوں کا مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو مالی مسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ کو اجلاس کے دوران محکمہ بلدیات کے جملہ انتظامی و مالی امور ، ترقیاتی منصوبوںبشمول خیبرپختونخوا سیٹیز امپرومنٹ پروجیکٹ(KPCIP) کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب کے علاوہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹری بلدیات داو¿د خان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
امراض قلب میں مبتلا نادار اور غریب بچوں کا علاج اب مفت ہوگا،ترجمان پی آئی سی
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور قطر چیرٹی پاکستان ادارے کی مشترکہ کاوش سے بے سہارا اور نادار بچوں کے لیے زندگی اور امید کرن پیدا ہوگئی۔ترجمان رفعت انجم کے مطابق پی آئی سی کے چیف ایگزیکٹیو اور میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر شاہکار احمد شاہ اور قطر چیریٹی کے نمائندے سجاد خان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر لیے۔معاہدے کے تحت امراض قلب میں مبتلا 150 سے زائد بچوں کے علاج کے لیے قطر چیریٹی پاکستان مالی معاونت فراہم کرے گا۔ مالی معاونت کا منصوبہ ابتدائی طور پر 4 ماہ کے لیے ہوگا جس کی بعد میں توسیع کی جائے گی۔ قطر چیرٹی کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت کے حوالے سے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے پیڈ کارڈیالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین کا کہنا تھا کہ یہ امداد نادار اور غریب بچوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگی۔مالی معاونت سے دل میں سوراخ اور اوپن ہارٹ سرجری والے بچوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ قطر چیرٹی پاکستان اور قطر کے عوام کے شکر گزار ہیں جو ان نادار بچوں کا سہارا بنے۔
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سی ای او اور میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شاہکار احمد شاہ کا کہنا تھا کہ پی آئی سی بہترین علاج معالجے کی سہولیات اور خدمات کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر مقبولیت اور پذیرائی حاصل کر رہا ہے جس کے باعث انٹرنیشنل اداروں کا اعتماد بڑھا ہے جو ہسپتال کے تمام عملے کے لیے فخر کی بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی آئی سی میں امراض قلب کے ہر مریض اور خصوصا بچوں کو ہر ممکن اور اعلٰی معیار کے علاج معالجے کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔
یاد رہے کہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں امراض قلب میں مبتلا بچوں کے لیے کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری کے اسٹیٹ آف دی آرٹ شعبے اور بہترین انٹرنیشنل کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی ٹیم موجود ہے۔
قبائلی علاقوں میں زراعت کی ترقی، خوشحالی اور فروغ کیلئے کوشاں ہے۔باجوڑ میں ورلڈ بینک پراجیکٹ کے افتتاحی تقریب
قبائلی علاقوں میں زراعت کی ترقی، خوشحالی اور فروغ کیلئے کوشاں ہے۔باجوڑ میں ورلڈ بینک پراجیکٹ کے افتتاحی تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری زراعت اور پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد طاہر کا خطاب۔ زراعت کے فروغ اور ترقی سے ملک ہی میں روزگار اور کاروبار کے مواقع ملینگے۔پروگرام کا بنیادی مقصد زمینداروں کو آگاہی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ سے فصلوں کے پیداواری صلاحیت بڑھانا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری اور پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد طاہر، ڈپٹی کمشنر باجوڑ انور الحق، محکمہ زراعت،ورلڈ بینک اور دیگر محکموں کے اہلکاراور زراعت آفیسر ڈاکٹر سبحان الدین بھی موجود تھیں،افتتاحی تقریب میں کسانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور پروگرام کو چار چاند لگایا۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے ضم شدہ اضلاع میں کسانوں کے سہولت اور زراعت کے فروغ، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور علاقائی ترقی کیلئے جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کا وعدہ کیا جس سے جدید ماحول دوست زرعی ٹیکنالوجیز،ٹنل فارمنگ اور ورٹیکل نیٹ فارمنگ کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت زمینداروں کی تربیت کے ساتھ ساتھ، زراعت میں آسانیاں پیدا کرنا تاکہ جدید ٹیکنالوجیز سے زیادہ فائدہ اور پیداوار حاصل کرسکیں۔پروگرام کے اختتام پر پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ایڈیشنل سیکرٹری زراعت محمد طاہر اور ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے پھلدار پودے لگا کر شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔
حکومت کا مقصد قانون کی بالادستی اور عوام کی فلاح ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین خان گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت ملک میں قانون کی بالادستی ، جمہوریت کے استحکام ، انصاف و شفافیت کے فروغ اور حقدار کو حق کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے۔ ہم پاکستان میں ایسے نظام کے خواہاں ہیں جس میں حقیقی معنوں میںقانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی ہو ۔ ہم اپنے منشور اور نظرئیے کے مطابق جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم ایک ایسا نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں جس میں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو اور ہماری آنے والی نسلیں محفوظ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علی امین خان گنڈاپور نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔ تحریک انصاف اپنے لیڈر کی قیادت میں عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور ہم نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ ہم حکومت کے لئے نہیں بلکہ عوام کی فلاح اور جمہوریت کے استحکام کے لئے کھڑے ہیں۔ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کے لئے ہمارے آباواجداد نے جانی و مالی قربانیاں پیش کیں۔ ایک سوال کے جواب میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ ہونے کی حیثیت سے وہ صوبے کے حقوق کےلئے آواز اٹھائیں گے کیونکہ عوام نے اسی مقصد کے لئے انہیں مینڈیٹ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نظریاتی و سیاسی اختلافات کے باوجود وہ صوبے کے حقوق سے متعلق وفاقی حکومت سے بات کریں گے، ہم اپنے آئینی حقوق کے حصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس مقصد کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ علی امین خان کا کہنا تھا کہ جب مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سازش کی گئی، اس وقت کے معاشی حالات او رآج کے معاشی حالات کا جائزہ لینا چاہیئے۔ آج ملک کوجس سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے اس کی ذمہ دار یہی سیاسی جماعتیں ہیں جو اب مرکز میں بیٹھی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔ اس کے علاوہ غربت کا خاتمہ ، روزگارکا فروغ ، عام آدمی کو سہولیات کی فراہمی ، قانون و انصاف کی بالادستی ، صحت، تعلیم اور سماجی خدمات کے دیگر شعبوں کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی بحالی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ یکم رمضان سے صحت انصاف کارڈ کو مکمل طور پر بحال کرنے جارہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کے مطابق شفاف طریقے سے ساڑھے آٹھ لاکھ مستحقین گھرانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے دینے جارہے ہیں جس کا یکم رمضان سے آغاز کردیا جائیگا۔
