وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انسداد بدعنوانی بریگیڈیئر (ر)مصدق عباسی نے کہا ہے نگران حکومت کے دور میں ہونے والی خریداری کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے احکامات کے مطابق اعلی سطح کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ادویات کی خریداری کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک تاثر دیا جا رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ادویات کی خریداری کے اندر بے تہاشہ کرپشن ہوئی ہے اور وہ چیزیں خریدی گئی ہیں جن کی ضرورت نہیں تھی۔ ان ادویات کی خریداری نگران حکومت نے ایم سی سی 2023-24 کے تحت کی۔ جس کی معیاد یکم جولائی2023 سے شروع ہو کر 30 جون 2024 پر ختم ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی خریداری ایم سی سی 2024-25کے تحت یکم جولائی 2024 سے شروع ہو کر 30 جون 2025 تک جائے گی۔معاون خصوصی برائے انسداد بدعنوانی بریگیڈیئر (ر)مصدق عباسی نے عوام کو یقین دلایاکہ موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے خریداری انشاء اللہ شفاف طریقے سے میرٹ پر ہوگی- انہوں نے مزید کہا کہ جو تخمینے ہمارے پاس آئے ہیں ان کے مطابق پچھلے سال کے مقابلے میں اگرچہ یہ ادویات زیادہ مہنگی ہو چکی ہیں لیکن اسے کے باوجود اب جن چیزوں کی خریداری موجودہ صوبائی حکومت کرے گی وہ معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے مناسب قیمت پر دستیاب ہوں گی – بریگیڈیئر ر مصدق عباسی کا مزید کہنا تھا کہ سنٹرلائز خریداری ختم کر کے اسے ڈی سنٹرلائز کر دیا ہے۔ چیزوں کی قیمتوں کا تعین یہاں پہ کریں گے جو اینڈ یوزر ہوگا وہ ڈیمانڈ کرے گا اور جو وینڈر ہوگا وہ میڈیسن کو وہاں تک پہنچائے گا۔ ادویات کی خریداری میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ادویات معیاری بھی ہوں سستی بھی ہوں اور وقت پر پہنچائی بھی جائیں اور ان کا سٹاک بھی صحیح طور پر برقرار رکھا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کے مسائل کا حل موجودہ صوبائی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے ہم عوام کے سامنے جوابدہ ہیں ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرانا اولین ترجیح ہے۔ خیبرپختونخوا کی یکساں ترقی کیلئے وزیراعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور نے عوامی ایجنڈا کے تحت ایک بہترین پلان ترتیب دیا ہے جس پر عوامی مسائل کے حل اور ترقی و خوشحالی کی سطح پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، عوامی لوگ ہیں اور عوام کے مسائل اور مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے اپنے دفتر پشاور میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی وزیر نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں اور وفود کے مسائل انتہائی توجہ سے سنے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کی یقین دہانی کرائی اور اس ضمن میں مختلف محکموں کو ہدایات جاری کیں جبکہ بعض لوگوں کے مسائل موقع پر ہی حل کئے، اس موقع پر آئے ہوئے مختلف وفود نے بعض مسائل کے فوری حل اور ذاتی دلچسپی لینے پر فضل حکیم خان کاتہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام سے کئے گئے تمام وعدے ایفا ہوں گے اور موجودہ پانچ سال کا دور ترقی کے لحاظ سے خیبر پختونخوا کیلئے تاریخی دور ہوگا پورے صوبے میں مقامی قیادت کی باہمی مشاورت سے کسی قسم کی اقرباء پروری اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالا تر ہو کر تمام ترقیاتی کام خالصتاً میرٹ پر ہوں گے عوام کو ہرگز مایوس نہیں کریں گے 75سالوں کی محرومیاں دور کرنے کی کوشش کرکے ترقیاتی کاموں کا جال بچھائیں گے گھر گھر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے اور ان کے مسائل کا تدارک کریں گے اس موقع پر صوبائی اسمبلی کے سابق امیدوار حاجی ملک محمد اللہ داوڑ بھی موجود تھے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کیا اُنہوں نے کہاکہ وفاق خیبر پختوا کے ترقیاتی کاموں میں روڑے اٹکا رہا ہے مگر ہم ان کے مذموم مقاصد کامیاب نہیں ہونے دیں گے ہم عوام کے حاکم نہیں بلکہ خادم ہیں ہمیں خدمت کرنے کا جو موقع ملا ہے اس سے فائدہ اٹھاکر عوام کے مسائل حل کریں گے اور کبھی بھی عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے اُنہوں نے کہاکہ بنوں کے عوام کیلئے ترقیاتی کاموں کاجال بچھاکر ان کی محرومیاں دور کریں گے میں بحیثیت صوبائی وزیر دن رات عوام کیلئے ایک کرکے بجلی اور دیگر مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہوں گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کیساتھ سرمایہ کار گروپ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر کیساتھ سرمایہ کار گروپXiamen SinoPak International Investment and Consulting Company کے ایک نمائندہ وفد نے خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ آفس پشاور میں ملاقات کی اور انکے ساتھ صوبے میں صنعتوں کی سولرائزیشن کے حوالے سے سرمایہ کاری کے امکانات اور اس سلسلے میں اپنی گروپ کی جانب سے ممکنہ سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا۔اجلاس میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جاوید اقبال خٹک،منیجنگ ڈایریکٹر سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ حبیب اللہ عارف، بورڈ آف انوسٹمنٹ کے حکام اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر سرمایہ کار گروپ کے نمائندوں نے خیبر پختونخوا کے صنعتی شعبے میں شمسی توانائی کے سلسلے میں سرمایہ کاری کے علاؤہ کئی دیگر شعبوں میں اپنی دلچسپی سے معاون خصوصی کو آگاہ کیا۔انھوں نے سولر پاور سلوشن کے سلسلے میں صنعتوں اور کمرشل مقاصد کے تحت سستی نرخ پر توانائی کے اپنی سرمایہ کاری ماڈل سے فورم کو آگاہ کیا جبکہ الیکٹرک بائکس کی اسمبلی فیکٹری کے قیام اور الیکٹریکل سکوٹرز اور ٹرائسائکل جو کم فاصلے کے عوامی آمدورفت کیلئے ایک بہتر سہولت ہوسکتی ہے میں سرمایہ کاری کی اپنی تجویز پیش کی۔اسی طرح 200 cc کے موٹر اینجن کی تیاری اور الیکٹرک منی وین کے شعبوں میں بھی گروپ کی خدمات کے حوالے سے فورم کو آگاہ کیا گیاجو درمیانی فاصلے کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے انتہائی سستی اور مفید گاڑیاں تصور ہوں گی۔اس موقع پر معاون خصوصی نے سرمایہ کارگروپ کی خواہش کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت بیرونی سرمایہ کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہاں پرملکی اور بیرونی کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں کو ہر طرح سے تعاون فراہم کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ حکومت کا عزم بھی یہی ہے کہ یہاں پر سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکے اور کاروبار کیلئے موزوں ماحول میسر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے ہر پہلو سے آسانیاں فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن میں صنعتوں کو سستی توانائی کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھانے پر زیاد توجہ دئے ہوئے ہیں۔دریں اثناں معاون خصوصی نے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون رسالپور کا دورہ کرکے صنعتکاروں کو درپیش توانائی کے مسائل کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی جس میں صوبائی بورڈ آف انوسٹمنٹ کیوائس چیرمین سید محمود، ڈائریکٹر بزنس فیسلٹیشن اقبال سرور، کے پی ایزڈمک کے زون منیجر نوشہرہ شیراز بابر،پیسکو حکام اور دیگر آفسران نے شرکت کی۔معاون خصوصی کو صنعتکاروں نے زون کے اندر مختلف صنعتوں کو درپیش بجلی سے متعلق متعدد مسائل سے آگاہ کیا اور اس سلسلے میں معاون خصوصی سے ممکنہ تعاون کی استدعا کی۔اجلاس میں پیسکو کی جانب سے معاون خصوصی کو یقین دلایا گیا کہ زون کیلئے نیا فیڈر لائن جلد فعال کیا جائے گا کیونکہ اسکا تعمیراتی کام مکمل کیا گیا ہے۔معاون خصوصی نے زون کے صنعتکاروں کو اپنی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر انھوں نے عزیز آئل انڈسٹری کا دورہ بھی کیا اور وہاں پر تیل و گھی کی تیاری کے عمل کا مشاہدہ بھی کیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اپنے حلقہ نیابت کے لوگوں سے پشاور کے اندرون شہر میں گھروں کی فروخت اور مرمت کے حوالے سے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اپنے حلقہ نیابت کے لوگوں سے پشاور کے اندرون شہر میں گھروں کی فروخت اور مرمت کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں بلایا جس میں ڈائریکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیم ڈاکٹر صمد سمیت پی ٹی آئی نئیبر ہوڈ 33 اور35 کے ناظم نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر کو اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اندرون شہر میں آثار قدیمہ نے سروے کیا ہے اور سروے رپورٹ کے مطابق 1800گھر سروے لسٹ میں شامل ہیں جو گھر آثار قدیمہ کی لسٹ میں نہیں ہیں ان کے مالکان کو گھر فرخت، مرمت اور مسمار کرنے کیلیے این او سی کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ مالکان این او سی حاصل کئے بغیر اپنے گھروں کو فرخت، مرمت اور مسمار کرسکتے ہیں تاہم وہ گھر جو آثار قدیمہ کی سروے لسٹ میں ہیں۔ ان کے مالکان این او سی حاصل کرنے کے بعدگھر فروخت اور مرمت کرسکتے ہیں لیکن مسمار نہیں کرسکتے گھروں کے سروے لسٹ آثار قدیمہ اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں موجود ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ شہری مطمئن رہیں موجودہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کیلیے کوشاں ہے صوبائی وزیر نے تحصیل پارک گورگھٹڑی کا دیرینہ مسئلہ حل کرتے ہوئے پارک کے لیے دروازہ جلد از جلد کھولنے کا اعلان کیا دروازہ کھولنے سے لوگوں کی مشکلات اور تکلیف ختم ہوجائیگی اور پارک میں باآسانی داخل ہوں گے۔
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت زراعت کی ترقی کیلئے بھر پور اقدامات اٹھارہی ہے
صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت زراعت کی ترقی کیلئے بھر پور اقدامات اٹھارہی ہے جس سے زمیندار و اور کاشتکاروں کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر مردان جاوید مروت نے اپنی تبدیلی سے پہلے بحیثیت سیکرٹری محکمہ زراعت انتہائی قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں محکمہ زراعت کے اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹس کے ڈائریکٹر جنرلز کی جانب سے نوتعینات سیکرٹری زراعت عطاء الرحمن اور تبدیل ہونے والے سیکرٹری زراعت(موجودہ کمشنر مردان)جاوید مروت کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقارتقریب میں کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں سیکرٹری زراعت عطاء الرحمن، تبدیل ہونے والے سیکرٹری زراعت و (موجودہ کمشنر مردان) جاوید مروت، محکمہ زراعت کے مختلف ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرلز سمیت محکمہ زراعت کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے اپنے خطاب میں صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے تبدیل ہونے والے سیکرٹری زراعت جاوید مروت کی خدمات کو سراہتے ہوئے انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ جاوید مروت نے بھی بحیثیت سیکرٹری زراعت سرانجام دی گئی خدمات کے دوران حاصل کردہ تجربات اور اٹھائے گئے اقدامات کے بارے اظہار خیال کیا انہوں نے محکمہ زراعت کے حکام کی جانب سے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے نئے تعینات سیکرٹری زراعت عطاء الرحمن، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع عبد القیوم نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے اختتام پر تبدیل ہونے والے سیکرٹری زراعت جاوید مروت اور دیگر مہمانان گرامی کو شیلڈ و تحائف بھی دئیے گئے
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم شعبہ آئی ٹی کی تعلیم پرخصوصی توجہ
خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم شعبہ آئی ٹی کی تعلیم پرخصوصی توجہ دے رہاہے اور ڈیجیٹل لیٹریسی پراگرام کے تحت صوبے کے منتخب 1177 سکولوں جن میں قبائلی اضلاع کے 36 سکول بھی شامل ہیں میں ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد طلباء و طالبات کو آئی ٹی کی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پراگرام کو صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی توسیع دی جائے گی۔ جس کیلئے 2 لاکھ 41 ہزار طلباء کو آئی ٹی کی تعلیم تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہمارے سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات نے کئی اہم ایورڈز اپنے نام کئے ہیں۔ اور کوڈنگ، گیمنگ، سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ اور پروگرامنگ میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیجیٹل لیٹریسی پروگرام کے طلباء و طالبات کو انعامات اور شیلڈز دینے کیلئے منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں کیا۔ تقریب میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری اسفندیار خٹک، پراجیکٹ ڈائریکٹر جہانگیر اعظم، ڈائریکٹر ایجوکیشن ثمینہ الطاف، طلباء و طالبات، ان کے والدین اور ٹرینرز نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ پوری دنیا ڈیجیٹائز یشن کی طرف جا رہی ہے اور اس ضمن میں ہم نے بھی بھر پور تیاری کر رکھی ہے۔ خصوصاً حواتین آئی ٹی کو استعمال میں لاکر گھر بیٹھے باعزت روزگار کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو آئی ٹی سیکٹر میں تربیت کے ساتھ ساتھ مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ریسرچ کو دیگر فورمز میں پیش کر سکیں۔ اور اس کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مقابلوں کیلئے بھی تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے طلباء کو ہدایت کی کہ مزید محنت کریں اور اپنے ملک اور صوبے کا نام روشن کریں۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ہم بچوں پہ سکالرشپ کی مد میں کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر عمران خان کے وژن کے مطابق تعلیم ہماری اولین ترجیح ہے اور صوبے کا 21 فی صد بجٹ تعلیم پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ اور اس کے ثمرات ان کامیاب طلباء کی صورت میں ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر کامیاب طلباء اور ٹرینرز کو انعامات، شیلڈز اور تعریفی اسناد بھی دی گئیں۔
بغض عمران میں جعلی حکومت نے انٹرنیٹ کا بھی ستیاناس کر دیا ہے، مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا
> انٹرنیٹ کی سروس نہ ہونے سے بزنس کمیونٹی کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے مگر جعلی حکمرانوں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ بغض عمران میں جعلی حکومت نے انٹرنیٹ کا بھی ستیاناس کر دیا ہے جس کے باعث آئی ٹی شعبے سے وابستہ بزنس کمیونٹی کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے مگر جعلی حکمرانوں کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے اور اگر انہیں کو ئی فکر ہے تو وہ صرف اپنے جعلی اقتدار کو بچانے کی فکر ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ انٹر نیٹ سروس میں رکاوٹ کی وجہ سے پاکستان کے تجارتی اور کاروباری طبقے انتہائی پریشان ہیں اور انہیں اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی جعلی حکومت کو عوام کے مسائل کے حل کرنے اور ملک کو ترقی سے ہمکنار کرنے کا کو ئی احساس ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ عوام کو اس وقت کئی ایک بحرانوں کا سامنا ہے مگر مینڈیٹ چور حکومت کی کانوں پر جو تک نہیں رینگتی۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ انٹرنیٹ کے بارے میں درباری وزراء کے بیانات میں بھی مماثلت نہیں ہے جو اس بات کو ثبوت ہے کہ جعلی حکمران طبقہ اس معاملہ میں جھوٹ بول رہا ہے۔ جعلی حکومت کا ایک وزیر کہتا ہے کہ فائر وال لگی ہے جب کہ دوسرا کہتا ہے کہ فائر وال نہیں لگی ہے۔ اسی طرح ایک وزیر کا بیان آتا ہے کہ زیر سمندر کیبل کٹ گئی ہے اور دوسرا کچھ اور کہتا ہے اس حوالے سے شعبہ آئی ٹی کی وفاقی وزیر شنزہ فاطمہ حماقت کی انتہا کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انٹر نیٹ وی پی این کے باعث سست ہوا ہے حالانکہ نیٹ ٹھیک ہو تو کسی کا دماغ خراب ہے کہ وی پی این لگائے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ جعلی حکمران اپنے اقتدار کے نشے میں ہیں اور ان پٹواریوں سے ایسے ہی بیانات کی توقع کی جاسکتی ہے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ حالیہ طویل ترین نگران حکومت کے بعد محکمہ سیاحت و ثقافت کو مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے مسائل، انفراسٹرکچر کی بہتری، ماحولیاتی چیلنج،بیرونی سرمایہ کاری، سیاحتی صنعت سے وابستہ اہلکاروں کی تربیت اور سیاحتی مصنوعات کی ترقی وہ چیلنجز ہیں جس کے لئے مضبوط منصوبہ بندی اور پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے تخلیقی ونگ کے پروگرام آسک دی منسٹر میں کیا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن اور وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں محکمہ سیاحت کا قلمندان سونپنے کے بعد سیاحتی مقامات پر بہتر سیاحتی ڈھانچہ کی تیاری، ڈیجیٹل ٹورازم، پبلک۔پرائیویٹ پارٹنرشپ، نئی سیاحتی راہوں کے تلاش،ثقافتی اور تہذیبی میلوں کا انعقاد، ماحولیاتی تحفظ سمیت دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے، جس سے سیاحتی صنعت مضبوط ہوگی اور معیشت کو فروغ ملے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کیساتھ مل کر تاریخی عمارات،مساجد و عبادت گاہوں کی بحالی اور مرمت کے حوالے سے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی ہے تاکہ یہ مقامات مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکیں۔تاریخی مقامات کی اہمیت کو زندہ رکھنے کیلئے وہاں سیاحتی سہولیات کی فراہمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مقامی کمیونٹی کی شمولیت کے لیے پر عزم ہیں۔ انہوں نے ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے کہا کہ اورکزئی فیسٹیول کے انعقاد سمیت وہاں کیمپنگ پاڈز اور ریسٹ ہاوسز کے قیام سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملا بلکہ مقامی معاشی حالات میں بھی بہتری آئی ہے۔ مشیر سیاحت نے ایکو ٹورازم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام ڈیویلپمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مل کر ایکو ٹورازم مہم کا آغاز کیا جا چکا ہے جس کے تحت سیاحتی مقامات پر صفائی کے بہتر انتظامات، قابل تحلیل بیگز کی تقسیم، شجر کاری مہم اور حیوانات کی تحفظ کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ زاہد چن زیب نے مزید کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بحالی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی وجہ یہاں قدیم ثقافت مثلاً گندھارا آرٹ اور ثقافت کی موجودگی ہے اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی سیاح یہاں کا رخ کرکے معیشت کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر ملک کی ایک مثبت ایمیج پیش کرنے کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاحتی مقامات پر کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے ٹورازم پولیس کی خدمات اور ٹورازم ہیلپ لائن 1422 کی چوبیس گھنٹے سروس کی فراہمی یقینی بنادی گئی ہے جو ہنگامی حالات میں فوری ریسپانس دے گی۔ ورلڈبینک کائیٹ پراجیکٹ کے حوالے سے مشیر سیاحت نے کہا کہ مذکورہ مالی ادارے کے فنڈز پوری شفافیت اور واضح طریقے سے خرچ کئے جا رہے ہیں جس کے تحت سیاحتی مقامات پر سائن بورڈز کی تنصیب، بھاری مشینری، ریسکیو سٹیشنز، واش رومز کے قیام اور فضلے کے لئے کوڑا دان کی تنصیب کے منصوبے شامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاحتی مقامات پر انفراسٹرکچر کی بحالی اور شاہراہوں کے تعمیر میں وفاقی حکومت کی شمولیت اور تعاون ناگزیر ہے کیوں کہ بیشتر شاہراہیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں۔زاہد چن زیب نے کہا کہ گزشتہ چار مہینوں میں 10 ملین سے زائد سیاحوں نے خیبرپختونخوا کا رخ کیا جو صوبے میں سیاحت کے فروغ کا واضح ثبوت ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کارپ ہیچری اینڈ ٹریننگ سینٹر شیر آباد پشاور کا دورہ کیا
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کارپ ہیچری اینڈ ٹریننگ سینٹر شیر آباد پشاور کا دورہ کیا اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی سلطان روم، ڈائیریکٹر جنرل فشریز محمد ارشد عزیز، ڈی جی لائیو سٹاک ایکسٹینشن ڈاکٹر اصل خان، ڈی جی لائیو سٹاک ریسرچ اعجاز خان اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ تھے دورے کے موقع پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کارپ ہیچری پشاور میں ماہی پروری اور کارپ مچھلیوں کی افزائشِ نسل کے لئے ہونے والی تمام سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور ادارے کی وسعت اور پیداوار بڑھانے کیلئے اپنی ذاتی دلچسپی کے ساتھ اہم تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کارپ ہیچری صوبے کی سب سے بڑی ہیچری کے ساتھ ساتھ ایک ٹریننگ سنٹر بھی ہے جہاں صوبے بھر سے مچھلی فارمرز کو سالہا سال بچہ مچھلی مہیا کی جاتی ہے اور انہیں ماہی پروری سے متعلق ہر قسم کی تربیت فراہم کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ٹریننگ سینٹر کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کو ریسرچ کی سہولیات مہیا کرتی ہے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ محکمہ ماہی پروری اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی خدمت اور ماہی پروری جیسے اہم شعبے کو فروغ دینے میں ہمہ وقت کوشاں رہے انہوں حکام کو ہدایت کی کہ فشریز اینڈ ایکوا کلچر ایکٹ 2022 جو کہ ابھی تک عمل میں نہیں لایا گیا ہے اس کے تمام فشریز رولز تیار کرکے صوبائی حکومت کو حوالہ کردیں تاکہ جلد صوبائی اسمبلی سے پاس کیا جا سکے اور نافذ العمل ہو سکے۔
