وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ یوم استحصال کشمیر منانے کا مقصد کشمیری مسلمانوں کے خلاف ہندوستان کی بربریت اور انکی خصوصی جغرافیائی حیثیت کو ختم کرنے و کشمیر میں طویل محاصرے کے خلاف بھرپور آواز اٹھانا اور دنیا کے سامنے ہندوستان کے داغدار چہرے کو آشکارا کرنا ہے۔انھوں نے 5 اگست یوم استحصال کشمیر کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر میں ہندوستان کی جانب سے دنیا کا طویل ترین کرفیو نافذ ہے اور 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے نہ صرف ہندوستان نے انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی بدترین خلاف ورزی کی ہے بلکہ اس دن سے آج تک کشمیریوں کے قتل عام کا سلسلہ بھی جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان نے زبردستی کشمیر کو اپنے ناجائز قبضے میں رکھا ہوا ہے تاہم ان کا یہ تسلط دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ہندوستان نے یکطرفہ طور پر کشمیروں سے تو خصوصی خودمختاری کی حیثیت چھینی ہے تاہم اس نام نہاد اقدام سے وہ کشمیروں کے دلوں سے حریت کا جذبہ نہیں نکال سکتے۔انھوں نے کہا کہ کشمیری اپنے کاز میں ایک دن کامیاب ہوں گے۔انکی قربانیاں رنگ لائیں گی اور وہ ہندوستان کے تسلط سے آزاد ہوں گے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے
خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے اتوار کے روز اپنے حجرہ مکان باغ مینگورہ میں کھلی کچہری کے دوران لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُن کے مسائل سنے، کھلی کچہری میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود نے انہیں اپنے علاقوں کے مسائل بیان کئے جن میں بعض مسائل کو موقع پر جبکہ باقی کو متعلقہ محکموں کے سربراہان کو حل کرنے کی ہدایات کیں، کھلی کچہری کے دوران صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے عوام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے عوام کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل کرنے کا عزم کر رکھا ہے ہم عوام کو ایک ایسا نظام ڈیلیور کر رہے ہیں جس میں وہ حقیقی معنوں میں تبدیلی محسوس کریں گے ہماری حکومت نے روایتی خود غرضی کی سیاست کو دفن کردیا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف عملی جنگ لڑرہی ہے عوام جب بھی چاہیں تو پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ممبران اسمبلی تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں ہمارے دفتر اور حجرے کے دروازے عوام کیلئے ہر وقت کھلے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی ہر مشکل کو حل کرنے کیلئے اپنی بھرپور جدوجہد کررہے ہیں اور عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑینگے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا یومِ استحصال 5 اگست 2024ء پر پیغام.
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے یوم استحصال پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہندوستان نے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 5 اگست 2019ء کو ہندوستان کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں دوبارہ یکطرفہ کارروائی سے کشمیری عوام کی منفرد شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت کی ان کارروائیوں کا مقصد کشمیری عوام کو حق خود ارادیت کے حق سے محروم کرنا ہے جس کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی قراردادوں میں وعدہ کیا گیا تھا۔
اپنے پیغام میں چیف سیکرٹری نے کہا کہ آج کا دن عالمی برادری کو ہندوستان کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں سول آبادی کے حقوق اور آزادی کو سلب کرنے کے ظالمانہ جنگی جرائم پر ہندوستان کا احتساب کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے،ہم جموں و کشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے اپنے حقیقی مقصد پر آج بھی قائم ہیں۔
خیبرپختونخوا پولیس کی قیام امن کیلئے لازوال قربانیاں ہیں، صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری
شہداء پولیس کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر اوقاف
صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے یوم شہداء پولیس کے حوالے سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی پولیس نے امن و امان کے قیام کے لئے جس جوانمردی سے قربانیاں دیں ہیں اس کی مثال نہیں ملتی، ہمارے پرامن مستقبل کی خاطر ہماری دلیر پولیس کے افسران اور جوان اپنی جانیں نچھاور کرکے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے ہیں، شہداء پولیس ہمارے ہیروز ہیں ان کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، ہمیں بطور قوم پولیس کی قربانیوں پر فخر ہے اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں، قیام امن کی خاطر اپنے فرائض سرانجام دیتے جام شہادت نوش کرنے والے تمام سویلین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار خصوصاً پولیس کے افسران اور جوانوں کی عظیم الشان قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آئیں ہم عہد کریں کہ وطن عزیز کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ ہم بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
یوم شہدائپولیس کے موقع پر مشیر اطلاعات بیرسٹرڈاکٹر سیف کا پیغام
صوبائی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ بہادر سپوتوں کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے،پولیس کے شیر جوان دلیری اور بہادری سے اپنے خون سے تاریخ میں اپنا نام درج کر رہے ہیں۔یوم شہداء کے موقع پراپنے دفتر سے جاری ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ یوم شہداء پولیس کے موقع پر جوانوں اور افسران کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔مشیر اطلاعات شہداء کے اہلخانہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس شہداء کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کا شمار بہترین فورسز میں ہوتا ہے،خیبر پختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انتہائی جانفشانی اوردلیری سے مقابلہ کررہی ہے۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے ہمیشہ امن اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور آج بھی دہشتگردی کی نئی لہر کے سامنے خیبرپختونخوا پولیس سینہ سپر ہے۔
وزیر اعلیٰ کا پولیس شہداء کو خراج تحسین، بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے اہم اقدامات کا اعلان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواسردار علی امین خان گنڈا پورنے پولیس شہداءکی قربانیوں اور ان کے لواحقین کے صبر و استقامت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آج ہم اور ہمارے بچے اپنے گھروں میں محفوظ زندگی گزار رہے ہیں تو یہ ان شہداءکی قربانیوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے ہمارے لئے اپنی جا نیں قربان کردیں اور ان کی قربانیوں کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کریں وہ کم ہے۔ بحیثیت وزیراعلیٰ میں پولیس اور فوج کے شہداءسمیت ان تمام لوگوں کو بھی سلا م پیش کرتا ہوں جنہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔ اتوار کے روزپشاور میں یوم شہدائے پولیس کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس شہداءہمارا فخر ہیں، ان کے بچوں کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے کیونکہ ان شہداءنے ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لئے اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ ایک ایسے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں جو فرنٹ لائن پر ملک کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس صوبے کی پولیس نے اس جنگ میں قربانیوں کی وہ داستان رقم کی ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، الفاظ ختم ہوجائیں گے لیکن پولیس کی قربانیوں کی داستان ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تبھی ایک عظیم قوم بنیں گے جب ہم اپنے ان شہداءکی قربانیوں اور ان کے لواحقین کے درد کو دل سے محسوس کریں گے، ہم نے اپنے شہیدوں اور غازیوں کو سب سے اونچا مقام دینا ہے جب ہم اپنے شہیدوں کو ان کا جائز مقام دیں گے تو ملک کے لئے قربانی دینے والے پیدا ہوتے رہیں گے۔ ہم نے اپنے جوانوں اور غازیوں کی ہمت کو بڑھانا ہے اور کسی بھی ذاتی یا انفرادی فعل کی وجہ سے فورسز کے جوانوں اور افسران کو تضحیک کا نشانہ نہیں بناناچاہیئے کیونکہ وہ اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور انہیں ہمارے تعاون اور سپورٹ کی ضرورت ہے، وہ سینہ تان کر دشمن کے سامنے ہمارے لئے کھڑے ہیںاورمجھے فخر ہے اپنی فورسز کے جوانوں پر جو بارڈر سے لیکر چوراہوں تک کھڑے ہو کر ہماری حفاظت کر رہے ہیں۔ صوبے میں امن و امان کے قیام کو اپنی حکومت کی پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خزانے میں پیسے ہوں یا نہ ہوں پولیس کی تمام ضروریات کو پہلی ترجیح پر پورا کریں گے کیونکہ پولیس کو مستحکم کئے بغیر امن کا قیام نا ممکن ہے اور جب تک امن نہیں ہوگا تب تک خوشحالی نہیں آئے گی۔ اس لئے صوبائی حکومت نے پولیس کی گاڑیاں، اسلحہ اور دیگر آلات کی خریداری کے لئے خطیر فنڈز دے دئیے ہیں اور مزید فنڈز بھی دئیے جائیں گے۔ پولیس شہداءکے بچوں کی فلاح و بہبود کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہداءکے بچوں کی فلاح و بہود پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ ہم سب کے بچے ہیں اور ان کو تعلیم کے حصول یا کسی بھی حوالے سے کوئی مشکل کا سامنا نہ ہو۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بطور اے ایس آئی بھرتی کےلئے ضم اضلاع سمیت صوبے کے پولیس شہداءکے بچوں کے کوٹے کو 100 فیصد بڑھانے جبکہ ٹریفک چالان کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کا 20 فیصد حصہ شہداءکے لواحقین کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ شہداءکے لواحقین وزیراعلیٰ ہاو¿س سمیت جس کسی بھی سرکاری دفتر میں جائیں گے انہیں پہلی ترجیح دی جائے گی اور ان کا مسئلہ سب سے پہلے حل کیا جائے گا۔ سردار علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے پولیس اور فوج سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری محکموں کے دوران ڈیوٹی شہید ہونے والے اہلکاروں کے ورثاءکو سرکاری ہاو¿سنگ اسکیموں میں مفت پلاٹس دینے کا فیصلہ کیا کہ جس پر عملدرآمد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ میں ایک الگ سے سیل کے قیام پر کام کیا جارہا ہے جو شہداءکے لواحقین کے مسائل کو حل کرنے پر کام کرے گا۔
مون سون بارشیں: وزیر اعلیٰ کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت، متاثرین کے لیے فوری امداد کا اعلان
وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے صوبے میں مزید مون سون بارشوں کے امکان کے پیش نظر صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ، محکمہ ریلیف، اور ریسکیو سمیت تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور ان متوقع بارشوں کی وجہ سے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے تمام پیشگی انتظامات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے متوقع بارشوں کے تناظر میں پی ڈی ایم اے کی طرف سے پہلے سے جاری کردہ ہدایات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ وزیر اعلی نے مزید ہدایت کی ہے کہ بارشوں کے دوران ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کے عملے کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنائی جائے، کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں متاثرہ علاقوں میں بروقت ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں شروع کی جائیں، بارشوں کی وجہ سے دریاؤں میں سیلابی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے، ممکنہ سیلابی ریلوں کی وجہ سے بند سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچرز کی بحالی کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں اور اس مقصد کے لئے درکار مشینری اور افرادی قوت کی ہمہ وقت دستیابی یقینی بنائی جائے۔ وزیر اعلی نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے طبی مراکز میں ضروری ادویات کی دستیابی اور طبی عملے کی حاضری یقینی بنانے اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس کے انعقاد کے لیے پیشگی تیاریاں مکمل رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
درایں اثناء وزیر اعلی نے گزشتہ تین دنوں کے دوران بارشوں کی وجہ سے مختلف حادثات کے نتیجے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں 24 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور مال و املاک کو پہنچنے والے نقصانات پر دلی رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلی نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئےمتعلقہ ضلعی انتظامیہ کو زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے جاں بحق افراد کے لواحقین اور دیگر متاثرین کے لئے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے محکمہ ریلیف اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرین کی بروقت امداد کی فراہمی کے لئے ضروری کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ضلعی انتظامیہ کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے وہاں پر ہونے والے نقصانات کا خود جائزہ لیں، متاثرہ خاندانوں کو ریلیف کی فراہمی اور بحالی کے کاموں کی خود نگرانی کریں اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو رپورٹس ارسال کریں۔ انہوں نے انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ بارشوں کی وجہ سے فلیش فلڈز کے نتیجے میں بند رابطہ سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچرز کی بحالی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں اور اس مقصد کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیر اعلی نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں صوبائی حکومت متاثرین کے ساتھ ہے، انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی اور ان کی بحالی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کئے جائیں گے۔
مشیر سیاحت زاہد چن زیب کا وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی ہدایت پر ضلع مانسہرہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ
وزیراعلی کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی ہدایت پر ضلع مانسہرہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور شاہراہوں کا ہنگامی دورہ کیا۔ ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ، کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ریسکیو و سیکورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام بھی انکے ہمراہ تھے۔ مشیر سیاحت نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ مہانڈری میں سیلاب سے بہہ جانے والے پل اور بازار کا معائنہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی۔ انہوں نے سیلاب سے جانی و مالی نقصانات پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار افسوس و تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعلی علی امین گنڈا پور کی ہدایت پر ناران کے دورہ پر آئے ہیں جنہوں نے ناران میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر انتہائی غمزدہ ہیں اور جانی و مالی نقصانات کے علاؤہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پھنسے سیاحوں کے بارے میں بھی پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر مشیر سیاحت نے حکام کو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پھنسے سیاحوں اور مقامی لوگوں کو ریسکیو کرنے کیلئے الک ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے سیاحوں اور مسافروں کے قیام کیلئے ریسٹ ہاؤس اور سرکاری عمارات بھی کھولنے کی ہدایت کی۔ زاہد چن زیب نے کہا کہ قدرتی آفات کا خندہ پیشانی سے سامنا کرنا زندہ قوموں کا شیوہ ہے۔ انہوں نے ناران کی ہوٹل اور تاجر برادری کی جانب سے سیاحوں کو مفت قیام اور کھانے پینے کے اخراجات میں پچاس فیصد رعایت کے اعلان کو بھی سراہا اور ہوٹل مالکان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت آزمائش کی اس گھڑی میں متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑے گی اور ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کے علاؤہ بحالی کا کام بھی شروع کرے گی۔ انہوں نے ناران اور بٹہ کنڈی میں موجود ٹورازم اتھارٹی کے ریسٹ ہاؤسز سیاحوں کیلئے مفت کھولنے کا اعلان کیا اور یقین دلایا کہ ہم سیاحوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی حفاظت کیلئے ٹورازم پولیس اور ٹورازم اتھارٹی کا عملہ ہمہ وقت موجود اور دستیاب ہے۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل تاشفین حیدر نے واضح کیا کہ ناران میں پھنسے سیاح ان نمبرز: 03469343426 اور03409368792 پر مفت رہائش کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاح کسی بھی مدد کیلئے محکمہ سیاحت کی ہیلپ لائن 1422 پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں جہاں متاثرین کو ہر ممکن ریسکیو اور ریلیف کی سہولیات مہیا کی جائینگی۔
مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیر صدارت رواں ہفتے محکمہ خزانہ پشاور میں مختلف محکموں کے قرض جات بارے تفصیلی اجلاسوں کا انعقاد
> اجلاس کا مقصد مستقبل میں صوبے کے قرضہ جات کو محدود کرنا اور اس ان کی مناسب مانیٹرنگ کرنا ہے، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے زیر صدارت رواں ہفتے محکمہ خزانہ پشاور میں مختلف محکموں کے قرضہ جات بارے تفصیلی اجلاس منعقد ہوئے جن میں مشیر سیاحت زاہد چن زیب، سیکرٹری سیاحت محمد بختیار، سیکرٹری توانائی و برقیات محمد نثار خان، چیف انجنیئر فارن ایڈ مواصلات و تعمیرات نوید اقبال، محکمہ فنانس کے ڈیبٹ چیف عبد القیوم، فنانشل اینالسٹ وقاص سمیت متعدد حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ سیاحت، توانائی و برقیات اور مواصلات و تعمیرات سمیت متعدد محکموں کے لیے گئے قرضوں کا جائزہ لیا گیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کو تمام محکموں نے مجموعی طور پر تمام قرض کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفینگ دی۔ بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کون کونسے منصوبے قرض جات سے قائم اور تعمیر کیے جا رہے ہیں اور انکے مختلف زاویوں سے جائزہ لیا گیا اور یہ بھی زیر بحث آیا کہ کہ یہ قرضہ جات کون سی شرائط پر لیے گئے ہیں اور انکی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ مشیر خزانہ کو بتایا گیا کہ مستقبل میں کونسے اہم منصوبوں کی تکمیل اور قائم کرنے کیلئے کونسے مالیاتی اداروں سے قرضہ جات لیے جائیں گے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ان اجلاسوں کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں صوبے کے قرضہ جات کو محدود کیا جائے اور ان کی زیادہ سخت اور مناسب مانیٹرنگ ہو سکے- مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح بیرونی قرضوں کے بوجھ کم سے کم کیا جاسکتا ہے اور مستقبل میں بیرونی قرضوں کی بجائے مقامی وسائل پیدا کیے جائیں جس سے اہم منصوبے مکمل ہوسکیں۔ اجلاسوں میں اس بات پر غور و خوض کیا گیا کہ جو بیرونی قرضہ جات ڈالرز میں لئے گئے ہیں انکی ادائیگی کے لئے اچھا انتظام کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اجلاسوں میں بتایا گیا کہ محکمہ سیاحت اور مواصلات کے منصوبوں خیبرپختونخوا انٹیگریٹڈ ٹورازم پراجیکٹ اور پی آر پی منصوبوں سمیت کچھ منصوبوں میں یہ شکایت آرہی ہیں کہ ٹول پلازہ قائم کرنے کے خلاف عوام مزاحمت کر رہے ہیں جس پر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر ٹول پلازے قائم نہ کیے جائیں تو اس سے دوسروں اہم منصو بے متاثر ہو سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و پرو چانسلر میناخان آفریدی کی زیر صدارت عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و پرو چانسلر میناخان آفریدی کی زیر صدارت عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے 25-2024 بجٹ کے حوالے سے سینیٹ اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا، اجلاس میں محکمہ خزانہ، اعلیٰ تعلیم، اسٹبلشمنٹ، ہائیرایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں سمیت دیگر سینیٹ اراکین نے شرکت کی، اجلاس میں یونیورسٹی کے سال 24-2023 کے نظرثانی شدہ بجٹ اور 25-2024 کے بجٹ پر بھی بحث ہوئی، بجٹ اجلاس میں یونیورسٹی کے سالانہ اخراجات، تنخواہوں، مختلف الاؤنسز، ٹیوسن فیس، گرانٹ ان ایڈ سمیت بجٹ ہیڈز پر تفصیل گفتگو ہوئی، اجلاس میں اراکین کی طرف سے مختلف تجاویز بھی سامنے آئیں، صوبائی وزیر اور دیگر اراکین نے متفقہ طور پر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے سال 25-2024 بجٹ گزشتہ سال کے بجٹ کی تھرڈ پارٹی اور اے جی سے آڈٹ کرانے کی مشروط منظوری دیدی، اس موقع پر صوبائی وزیر میناخان نے ہدایت کی کہ 6 مہینوں میں اے جی اور تھرڈپارٹی آڈٹ کو یقینی بنایا جائے۔
