خیبرپختونخوا کے وزیر برائے جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جنگلات کی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی اور کسی کیلئے کوئی رعایت نہیں ہو گی، خیبرپختونخوا میں درختوں کی کٹائی پر پابندی کے باوجود بٹگرام میں جنگلات کی کٹائی میں ملوث افراد و محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کیخلاف ایکشن لیتے ہوئے 3 اہلکاروں کو معطل کرکے ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے جیل بھیجا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے کوئی بھی معافی کا مستحق نہیں ہوگا۔جنگلات اور سیاحت لازم و ملزوم ہیں اور اس کے لیے خیبر پختونخوا میں ریکارڈ شجرکاری کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار فضل حکیم خان یوسفزئی نے اپنے دفتر پشاور میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ الائی فارسٹ سب ڈویژن بٹگرام میں درختوں کی کٹائی سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو موصول ہوئی تھی جس پر فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے 8 رکنی کمیٹی سید زبیر شاہ رینج فارسٹ آفیسر کی سربراہی میں تشکیل دیتے ہوئے 2 دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔کمیٹی کے رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلات کے 3 اہلکارعام شہری کیساتھ جنگلات کی کٹائی میں ملوث پائے گئے کمیٹی رپورٹ کی بنا پر عام شہری کیساتھ ساتھ محکمہ جنگلات کے 3 اہلکار ملوث پائے گئے 3 اہلکاروں کو نوکری سے معطل کرکے مزید تحقیقات شروع کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں جبکہ ملوث عناصر کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے حکام کو ہدایت بھی کی ہے کہ ایسے واقعات پر کڑی نظر رکھیں اور جنگلات کی کٹائی والوں کیساتھ بلکل رعایت نہ کی جائے جنگلات کے تحفظ کیلئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں، محکمہ جنگلات ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے الرٹ رہے صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف کچھ لوگ سوشل میڈیا پر جنگلات کی کٹائی کے حوالے سے پروپیگنڈا چلا رہے ہیں جس میں پرانی ویڈیوز اور کچھ باہر ممالک کی ویڈیوز شیئر کی جارہی ہیں میری وزارت میں اب تک میں نے ایک درخت کی کٹائی کا حکم نہیں دیا اور نہ مارکنگ کی اجازت دی ہے انہوں نے کہا کہ پابندی لگانے سے پہلے جتنی بھی قانونی طور پر کٹائی ہوئی ہے اس کی مارکنگ 2023 میں ہوئی جس وقت ہماری حکومت نہیں تھی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سرسبز و شاداب خیبر پختونخوا ہمارا ہدف ہے کسی کو جنگلات کی تباہی کی اجازت نہیں دینگے عوام کو جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ علی بابا 40 چوروں کو
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ علی بابا 40 چوروں کو پی ٹی آئی کی مقبولیت برداشت نہیں ہو رہی۔ مینڈیٹ چور سرکار پی ٹی آئی پر لاکھ پابندیاں لگائے لیکن ہم ملک چھوڑنے اور ڈیل کرنے والوں میں سے نہیں۔ پی ٹی آئی ایک نظریے کا نام ہے اور نظریہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مشکل حالات میں چھوڑ کر شریف خاندان دو بار ہ ملک سے بھاگ چکا ہے، پی ٹی آئی نے گزشتہ 20 ماہ سے پابندیوں اور صعوبتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، پی ٹی آئی کے خلاف ہر قسم کی سازشوں، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کے باوجود اس کی شہرت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ہم اسی ملک میں رہ کر تمام مظالم اور غیر آئینی اقدامات کا مقابلہ کریں گے۔ ہماری جنگ آئین کی بالادستی کے لئے ہے اور ملک میں کرپٹ سیاسی ٹولے کے خلاف یہ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں سے کبھی بھی کسی سیاسی جماعت یا تحریک کا تاریخ میں خاتمہ نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے فیصلے کا شمار جعلی سرکار کے احمقانہ فیصلوں میں سب بڑے فیصلے کے طور پر ہوگا، اگر مینڈیٹ چور وفاقی کابینہ نے آج پی ٹی آئی پر پابندی کا بے اصولی فیصلہ کیا تو اگلی باری ن لیگ اور پھر دوسری بھی اس میں ہوں گی۔ سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور میڈیا پر پابندی لگانا مسلم لیگ کا پرانہ وطیرہ ہے۔ پابندی لگانے سے سیاسی جماعت کا خاتمہ ممکن نہیں، پی ٹی آئی پر پابندی لگا کر جعلی حکومت اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہے۔
صوبائی وزیر برائے بلدیات ارشد ایوب خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواسردار علی امین گنڈاپور کی ہدایت پہ
صوبائی وزیر برائے بلدیات ارشد ایوب خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواسردار علی امین گنڈاپور کی ہدایت پہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انتظامیہ کے ذرائع غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ریگولرائز کریں۔ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے بلدیات ارشد ایوب خان نے خیبر پختونخوا کے کمشنرز اور ریجنل میونسپل افسرز سے غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز بارے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر ارشد ایوب خان نے کہا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز زرعی لینڈ اور گرین بیلٹس کو بھی تباہ کر رہی ہیں جس سے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز ماسٹر پلان کے ذریعے بننی چاہیے ایسا نہیں کہ جدر زمین ہو اس پہ سوسائٹی بنا دی جائے۔ تمام انتظامیہ کمشنرز اور ریجنل میونسپل افسر مل کر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن لیں یا انہیں ریگولرائز کرائیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ عوام کو کسی قسم کی مستقبل میں مشکلات کا سامنا ہو۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر سے
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر سے وفاقی ادارے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل نعمان بشیر اور ڈپٹی ڈائریکٹر ذاہد محمد پر مشتمل دو رکنی وفد نے انکے دفتر میں ملاقات کی اور انکے ساتھ تجارت و برآمدات کے فروغ بارے اتھارٹی کی کوششوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دروان آل پاکستان کمرشل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیرمین منہاج الدین، سرتاج خان و دیگر بھی موجود تھے۔اس موقع پر معاون خصوصی نے اتھارٹی کے حکام سے مقامی تجارتی شعبوں کو برآمدی مقاصد کے فروغ دینے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں مختلف نوعیت کے چھوٹے کاروباری کلسٹرز کو ٹریڈ اور برآمدی مقاصد کیلئے فروغ دینے کی ضرورت ہے جس میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔اسی طرح صوبے کے تجارتی شعبوں کیلئے بیرونی مارکیٹ میں رابطے (لنکجز)ہموار کرنے میں بھی ہم اتھارٹی کے کردار کا خیر مقدم کریں گے۔اس موقع پر اتھارٹی کے حکام نے چترال میں آئندہ ہونے والی مختلف تجارتی شعبوں کے حوالے سے مجوزہ نمائش سے معاون خصوصی کو آگاہ کیا۔نمائش میں انوسٹمنٹ کانفرنس کا اہتمام بھی کیا جائے گا جس میں ملک کے بڑے شہروں سے سرمایہ کار شرکت کریں گے۔اس طرح نمائش میں سرمایہ کاری و تجارتی شعبوں کے حوالے سے سٹالز بھی رکھیں جائیں گے۔ معاون خصوصی نے مذکورہ ایونٹ میں محکمہ صنعت کے ذیلی اداروں،خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی،خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ودیگر سٹیک ہولڈرز ی شرکت کے حوالے سے بھی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ اس سلسلے میں وہ ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔
خیبر پختونخوا میں انسداد ڈینگی کی سرگرمیاں تیز، وزیر صحت کا اقدامات پر اطمینان کا اظہار
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کی سربراہی میں انسداد ڈینگی سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ عدیل شاہ، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ پولیو عبدالباسط، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم خان، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر عارف، ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر ارشاد روغانی، ضلعی انتظامیہ، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن کے اہلکاروں نے شرکت کی۔وزیر صحت نے مون سون سیزن کے تیز ہوتے ہی انسداد ڈینگی کی کاروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے لاروا کش سرگرمیاں بڑھانے اور آگاہی مہمات میں تیزی لانے پر زور دیا۔ سید قاسم علی شاہ نے انسداد ڈینگی کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور متاثرہ علاقوں میں عوام میں مچھر دانیاں تقسیم کرنے اور ہاٹ سپاٹس میں ٹارگٹڈ کمپینز چلانے کی ہدایت کی۔ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر ارشاد روغانی نے اجلاس کو ڈینگی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی مانیٹرنگ لازمی ہے اور متاثرہ علاقوں میں مچھر دانیاں تقسیم کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈینگی کیسز پچھلے سال کی نسبت کم ہیں، اب تک 69 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صرف پانچ فعال ہیں اور سبھی اپنے گھروں میں قرنطینہ میں ہیں۔ڈاکٹر روغانی نے بتایا کہ اب تک 1700 سے زائد آگاہی واک اور 92000 سے زائد آگاہی سیشنز منعقد کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کیس مثبت آنے پر عالمی ادارہ صحت کے پروٹوکول کے مطابق فوگنگ اور آئی آر ایس سپرے کیا جاتا ہے۔ڈینگی انٹامالوجیکل سرویلنس کی تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تک 15 لاکھ گھروں کی چیکنگ کی گئی ہے جن میں 500 سے زائد گھروں میں ڈینگی لاروا تلف کیا گیا ہے۔پنجاب میں 133 اور بلوچستان میں 6000 سے زائد ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ تجزیے کے مطابق، اگست میں ڈینگی کا سیزن شروع ہوتا ہے اور ستمبر میں سب سے زیادہ کیسز آتے ہیں۔ امسال پشاور ڈویژن سے صرف 17 کیسز اور ملاکنڈ ڈویژن سے 21 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو نے بنوں میں گزشتہ روز پیش ہونے والے ناخوشگوار واقعہ کے حوالے
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو نے بنوں میں گزشتہ روز پیش ہونے والے ناخوشگوار واقعہ کے حوالے جاری تحقیقات کے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی جرگہ اس معاملے کو مکمل طور پر حل کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں پشاور سے جاری بیان میں کیا۔ظاہر شاہ طورو نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خیبرپختونخوا کی روایات کا علم نہیں ہے۔ بنوں کے معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عطاء تارڑ غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں جو قابل مذمت ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جرمنی میں پاکستانی جھنڈے کی بے حرمتی پر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عمل افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ ظاہر شاہ طورو نے جرمنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ کا فوری نوٹس لے۔
صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے بنوں امن جرگے میں خطاب
صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے بنوں امن جرگے میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخوا کی حکومت بنوں ڈویژن میں امن و امان کے قیام اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں ہے،صوبائی حکومت عوام کی بہتری،ترقی وخوشحالی اور امن و امان کی فضا کی بحالی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ میرا جینا مرنا قوم کے ساتھ ہے، ہم اپنی قوم کو امن کی طرف لے جانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ حاجی ملک محمد اللہ داوڑ،معصوم وزیر و دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی کے فلور پر قوم کیلئے امن کی آواز اٹھانے سے پہلے بھی خوفزدہ نہیں تھا اب بھی خوف محسوس نہیں کیا جائے گا، بلاخوف و جھجک اسمبلی کے فلور پر قوم کی نمائندگی و ترجمانی کی جائے گی، بنوں میں پیش آنے والے واقعات پر گہری نظر ہے انہیں افہام و تفہیم کے ساتھ حل کریں گے، فائرنگ کے حادثات میں شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں کے ساتھ مالی تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا، خاص کر بنوں ڈویژن میں امن کی بحالی کیلئے مل کر جدوجہد کریں گے، امن ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم نے قوم کی ترجمانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، امن و امان کی فضا نہ ہو تو ترقیاتی کاموں کا کیا فائدہ ہے، پہلا کام امن و امان کے قیام کیلئے تگ ودو کرنا ہے۔صوبائی وزیر پختون یار نے کہا کہ آئیں آج یہ عہد کریں کہ ہم سب نے مل کر اتحاد و اتفاق کی فضاء کو بحال کرنا ہے پھر یہ سرزمین بنوں عرفات کا منظر پیش کرے گی اور ہر طرف سفید جھنڈے لہراتے دکھائی دیں گے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے کہا ہے کہ میرا سیاست میں آنے کا بنیادی مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ویژن کے مطابق معاشرے کے اندر اصلاحات لانا ہے جو میری زندگی کا مشن بن چکا ہے، پاکستان کو موجودہ مختلف بحرانوں سے نکالنے اور ان پر قابو پانے کے لیے ہر ایک نے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا،پاکستان کے نظام کوٹھیک کرنا اور اس کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کوئی باہر سے نہیں آئے گا ہم سب نے سوچنا ہوگا اور اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کے اندر اثاثے گنے جاتے ہیں کسی ملک کے اندر انڈسٹریز کسی کے اندر ٹورزم اور کسی کے اندر کوئی اور اس طرح کے اثاثے پائے جاتے ہیں لیکن پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ نوجوان ہیں ان نوجوانوں کو اگر صحیح طریقے سے استعمال کرسکیں اور انکو بہتر پلیٹ فارم مہیا کرکے انکی رہنمائی کی جاسکے تو پاکستان بہت ترقی کر سکتا ہے، نوجوان کسی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار فرنٹیر لاء کالج پشاور میں ڈگری تقسیم کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پشاور یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر حزب اللہ خان، کالج پرنسپل جسٹس ریٹائرڈیحییٰ زاہد گیلانی،کالج کے بانی اختر علی خان نحقی، کوآرڈینیٹرلبنیٰ شمشاد خان، سابق امیدوارپشاور میئر رضوان بنگش اور طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔صوبائی وزیر نے کالج سے فارغ التحصیل طلبہ میں قانون کی ڈگریاں تقسیم کیں، پوزیشن ہولڈرز کو ٹرافیاں دیں اور ان کو مبارکباد دی۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ملک میں قانون و آئین کی بالادستی قائم نہیں ہوتی،آپ لوگ عملی زندگی میں جا رہے ہو آپ کے اوپر بہت ذمہ داریاں ہیں آپ کی تعلیم صرف ڈگری کے حصول تک محدود نہیں بلکہ آگے جاکر پریکٹیکل لائف میں قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے اور امیر غریب کے درمیان فرق کو مٹانے میں کردار ادا کرنا ہوگا عملی زندگی میں اس سوچ کے ساتھ قدم رکھیں کہ ہم نے معاشرے کے اندر قانون کی بالادستی اور لوگوں کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بناکر ملک کی خدمت کرنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر انسان میں صلاحیت موجود ہوتی ہے آپ میں بھی ٹیلنٹ ہے اپنے اندر ٹیلنٹ کو باہر لاکراسکو ملک کی ترقی کیلئے بروئے کار لائیں۔
نو تعینات ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر عبدالوحید خان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد ڈاکٹر عبدالوحید خان بیٹنی نے بطور ڈائریکٹر جنرل پراونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا ہے۔ گریڈ 19 کے مینجمنٹ کیڈر کے افسر ڈاکٹر عبدالوحید اس سے قبل ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پشاور تعینات تھے جبکہ اپنی 27 سالہ سروس کے دوران کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ بطور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر شانگلہ محکمہ صحت کیلئے خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ چیف میڈیکل آفیسر کے طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ٹانک اور ڈی ایچ او ٹانک آفس میں بھی سروس دے چکے ہیں۔ وہ گورنر سیکرٹریٹ میں بطور ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایوالویشن بھی رہ چکے جبکہ ایم ایس سنٹرل جیل ہسپتال پشاور بھی رہ چکے ہیں۔
کے ایم یو نے انسٹیٹیوٹ آف ہلیتھ سائنسز اسلام آباد میں الائیڈ ہیلتھ سائنسزکے مختلف پروگرامات میں داخلوں کے لئے سنٹرالائزڈ ٹیسٹ کا انعقاد کیا۔
آئی ایچ ایس اسلام اباد کا عملہ مختلف طبی تعلیمی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے میں سخت محنت کر رہے ہیں: انعام اللہ خان وزیر
خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)پشاور نے میں اپنے ذیلی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسزاسلام آباد میں ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی، بی ایس نرسنگ، اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز میں داخلوں کے لئے سنٹرالائزڈ ایڈمشن ٹیسٹ کا اہتمام کیا۔ اس ٹیسٹ میں پورے پاکستان سے694 طلباء، طالبات شریک ہوئے۔ کے ایم یو کی انتظامیہ نے ٹیسٹ کے دوران شفافیت کو ترجیح دی اور طلباء کو تمام ترسہولیات فراہم کیں تاکہ امتحانی ماحول کو شفاف بنایا جا سکے۔ داخلہ ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان دو سے تین دنوں میں کیا جائے گا، اور طلباء،طالبات اپنا نتیجہ انہیں cat.kmu.edu.pk کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھ سکیں گے۔ امتحانی عمل کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے رجسٹرارکے ایم یو انعام اللہ خان وزیر، پروفیسرحیدر دارین ڈین الائیڈ ہیلتھ سائنسز، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمشن محمد ارشد خان، سہیل احمد ڈائریکٹر آئی ٹی شیخ عاطف محمود ڈائریکٹر آئی ایچ ایس اسلام آباد اور ساتھ ہی انتظامی عملہ اور فیکلٹی ممبران نے ٹیسٹ کے انتظامات کی نگرانی کی۔ رجسٹرار کے ایم یو انعام اللہ خان وزیر نے آئی ایچ اسلام آباد کیمپس میں طبی تعلیم میں اہمیت کی وضاحت کی۔انھوں نے کہا کہ طلباء، طالبات کے لیے پورے پاکستان سے اسلام آباد کو اپنی تعلیمی روایت بنانے کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کے ایم یو آئی ایچ ایس اسلام آباد کی عزمیت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایچ ایس اسلام اباد کا عملہ مختلف طبی تعلیمی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے میں سخت محنت کر رہا ہے جس سے پورے پاکستان کے طلباء، طالبات کو سنہری مواقع فراہم ہوتے ہیں۔یہ امر قابل ذکر رہے کہ ان طلباء کے لئے دو اضافی ٹیسٹ ارینج کئے جائیں گے جو کسی بھی وجہ سے مذکورہ ٹیسٹ میں شامل نہیں ہوئے تھے طلباء کے لئے ان ٹیسٹوں میں شمولیت لازمی اور حتمی تصور ہوگی۔ یاد رہے کہ کے ایم یو اسلام آباد کیمپس اپنی پرانی بلڈنگ سے ایک جدید بلڈنگ واقع اولڈ آبا سین یونیورسٹی بلڈنگ میں شفٹ ہوگیا ہے جہاں طلبہ کو جدید سہولیات میسر ہونگی۔
