پیراپلیجک سنٹر پشاور میں یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے پروقار تقریب ہوئی جس سے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی آزادی کی خوشیاں بھی دوبالا ہو گئیں۔ صوبائی وزیر صحت میاں خلیق الرحمن اس موقع پر مہمان خصوصی تھے جنہوں نے اپنی موجودگی میں سنٹر میں مزید 20 بستروں کے تیسرے وارڈ کا افتتاح ایک مریضہ سے کرایا نیز پیراپلیجکس کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرم تنظیم فرینڈز آف پیراپلیجکس کے زیراہتمام جشنِ آزادی کا کیک بھی کاٹا۔
تقریب میں سنٹر کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز و سابق چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، ڈائریکٹر ری ہیبلیٹیشن ڈاکٹر امیر زیب، بورڈ کے ایگزیکٹیو ممبر حفظ الرحمٰن و دیگر معزز ممبران، فرینڈز آف پیراپلیجکس کے چیئرمین و جنرل سیکرٹری، سنٹر کے افسران و عملے کے اراکین اور مریضوں و تیمارداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر ڈائریکٹر ری ہیبلیٹیشن ڈاکٹر امیر زیب نے بریفننگ میں پیراپلیجک سنٹر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا ذکر کرتے ہوئے ادارے کے مالی وسائل میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے فالو اَپ پروگرام اور بحال مریضوں کیلئے پیشہ ورانہ تربیتی سکیم دوبارہ شروع کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ بحالی کے بعد افراد باہم معذوری خودمختار اور مفید شہری بن سکیں۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ 20 اضافی بستروں پر مشتمل نئے وارڈ کے افتتاح سے مریضوں کو اضافی سہولیات اور معیاری بحالی خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ انہوں نے پیراپلیجک سنٹر کی ضروریات پوری کرنے کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے جسمانی، نفسیاتی، سماجی اور پیشہ ورانہ بحالی کے شعبوں میں فراہم کی جانے والی جامع خدمات کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ پیراپلیجک سنٹر ملک میں بحالی خدمات کا ایک منفرد اور قابلِ قدر ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افراد باہم معذوری کو خودمختار اور باوقار زندگی کی طرف واپس لانا حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
میاں خلیق الرحمن نے واضح کیا کہ پاکستان کی آزادی کی حقیقی روح اسی وقت اجاگر ہوگی جب معاشرے کا ہر فرد، بالخصوص افراد باہم معذوری، عزت، خودمختاری اور باوقار زندگی کے حق سے مستفید ہوں۔ پیراپلیجک سنٹر پشاور میں 20 نئے بستروں کا اضافہ اسی عزم کی عملی تصویر اور مریضوں کیلئے بہتر مستقبل کی جانب اہم قدم ہے۔
یراپلیجک سنٹر پشاور میں یومِ آزادی پر 20 بستروں کے نئے وارڈ کا افتتاح اور خصوصی تقریب کا انعقاد
معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ جان کاسنٹرل جیل پشاور کا دورہ، مختلف شعبہ جات کا معائنہ، نئی سہولیات کا افتتاح اور یومِ آزادی کے موقع پر شجرکاری مہمکا آغاز
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اورصوبائی حکومت کی ہدایات کے تحت وزیر اعلی کے معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ جان نے پشاور سنٹرل جیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جیل کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا، قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا اور متعدد نئی سہولیات و منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔
یومِ آزادی کے موقع پر پشاور سنٹرل جیل میں خصوصی تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں قومی جذبے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ جیل کے ماحول کو مزید بہتر اور صحت مند بنانے کے لیے شجرکاری مہم کا آغاز بھی کیا گیا۔ معاونِ خصوصی افتخار اللہ جان نے پودا لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا اور جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری کو یقینی بناتے ہوئے جیل کے ماحول کو سرسبز و شاداب بنایا جائے۔ اس موقع پر معاونِ خصوصی نے کہا کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے اور اس کی قدر و حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جیلوں میں بھی اصلاح اور بحالی کے عمل کو مؤثر بناتے ہوئے قیدیوں کو معاشرے کا مفید اور ذمہ دار شہری بننے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔معاونِ خصوصی کو پشاور سنٹرل جیل کے انتظامی امور، سکیورٹی نظام، قیدیوں کو فراہم کی جانے والی طبی و بنیادی سہولیات، فنی تربیت، تعلیمی و اصلاحی پروگرامز اور جاری اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔افتخار اللہ جان نے جیل کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے قیدیوں کے لیے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ قیدیوں کو بنیادی انسانی حقوق کے مطابق تمام ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جیلوں کو محض سزا کے مراکز کی بجائے اصلاح، تربیت، تعلیم اور بحالی کے مراکز بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ قیدیوں کو فنی تربیت اور ہنر سکھانے کے پروگرامز کو مزید وسعت دی جائے تاکہ رہائی کے بعد وہ باعزت روزگار حاصل کرکے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔معاونِ خصوصی نے جیل کے انتظامی و سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے، ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دینے اور قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری لانے کی ہدایات بھی جاری کیں۔انہوں نے کہا کہ جیل خانہ جات میں جاری اصلاحات کا مقصد ایک مؤثر اور جدید نظام تشکیل دینا ہے جس میں سکیورٹی کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی اصلاح، ذہنی و جسمانی صحت، تعلیم، فنی تربیت اور بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔یومِ آزادی کے موقع پر پشاور سنٹرل جیل میں منعقدہ تقریب کے دوران جیل انتظامیہ، افسران اور اہلکاروں کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ جیل خانہ جات کے افسران و اہلکار مشکل اور حساس ماحول میں فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں قابلِ تحسین ہیں۔افتخار اللہ جان نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شجرکاری مہم کو صرف یومِ آزادی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ جیل کے اندر مستقل بنیادوں پر شجرکاری اور پودوں کی نگہداشت کا مربوط نظام بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سرسبز اور صاف ستھرا ماحول نہ صرف جیل میں مقیم افراد کی صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ اصلاح اور مثبت سوچ کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگا۔معاونِ خصوصی نے پشاور سنٹرل جیل میں نئی سہولیات اور منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ جیل خانہ جات کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، سہولیات میں اضافہ کرنے اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔انہوں نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ قیدیوں کے مسائل کے حل، سہولیات میں بہتری، صفائی، طبی نگہداشت، فنی تربیت اور اصلاحی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔آخر میں معاونِ خصوصی افتخار اللہ جان نے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جیل خانہ جات میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرتے ہوئے قیدیوں کو معاشرے کا مفید حصہ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کا 79واں یوم ازادی 14 اگست کے حوالے سے محکمہ جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور میں مرکزی تقریب منعقد سے خطاب
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے محکمہ جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور میں منعقدہ مرکزی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت و خطاب کیا ہے۔ اس موقع پر مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد قومیں اپنے وطن کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانے اور اسے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے عزم کی تجدید کرتی ہیں۔ یومِ آزادی کے موقع پر محکمہ جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی اس موقع پر پیر مصور خان نے فاریسٹ انسٹیوٹ میں پرچم کشائی کی اور پی ایف آئی کی حدود میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا۔تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری شیر علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ منظور احمد سمیت دیگر متعلقہ افسران اور طلبہ نے شرکت کی ہے
تقریب سے خطاب کے بعد پیر مصور خان کی قیادت میں یومِ آزادی واک بھی منعقد کی گئی جس میں محکمہ جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات کے افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی۔
پیر مصور خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے 79 سالہ سفر کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا کیا ہے تاہم قوم نے اتحاد، محنت، قربانی اور عزم کے ذریعے ہر مشکل کا مقابلہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ قائداعظم کا پیغام اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط آج بھی ہماری رہنمائی کا بنیادی اصول ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے ہر شہری کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ موصوف نے یوم آزادی کے موقع پر تمام اہلِ وطن کو جشنِ آزادی پاکستان مبارک باد پیش کی ہے، اور کہا کہ ہم نے ایک قوم بن کر اس صوبے اور ملک کو اگے لے کر جانا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام سے شجر کاری مہم میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صوبے کے لئے شجر کاری مہم انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس مہم سے صوبے سر سبز و شاداب بنے گا جبکہ قدرتی افات کے روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ جنگلات و ماحولیات شجر کاری مہم کو ہر صورت کامیاب بنائی گی۔
خصوصی بچوں کی تعلیم و خودمختاری کیلئے مردان میں بی ایس پروگرام شروع کرنے کا اعلان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، عشر و زکوٰۃ ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ خصوصی بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کیلئے مردان میں بی ایس پروگرام شروع کیا جائے گا، جسے آئندہ سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کیا جائے گا۔ مردان میں پروگرام کے آغاز کے بعد اسے صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار مردان سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس میں یومِ آزادی کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں خصوصی بچوں، اساتذہ، محکمہ سماجی بہبود کے افسران، والدین اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔
مشیر سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خصوصی افراد کو تعلیم کی روشنی سے روشناس کرانا ان کا مشن ہے اور حکومت خصوصی بچوں کی تعلیم، تربیت، بحالی اور خودمختاری کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کو معاشرے کا فعال اور باعزت حصہ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے خصوصی بچوں کیلئے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو مستقل کرنے اور ان کیلئے باقاعدہ سروس سٹرکچر تشکیل دینے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت میں اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے اور حکومت ان کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔
ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خصوصی اور مستحق خواتین کو مختلف ہنر سکھانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ وہ باعزت اور خودمختار زندگی گزار سکیں اور معاشرے کی معزز شہری بنیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ خصوصی افراد اور ہنرمند خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کو مارکیٹ تک رسائی دینے کیلئے ڈویژنل اور صوبائی سطح پر دستکاری کے ڈسپلے مراکز قائم کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت خصوصی افراد کو محض امداد فراہم کرنے کے بجائے انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے خودمختار بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے خصوصی افراد کے مراکز میں موجود صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔
یومِ آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں خصوصی بچوں نے ملی نغمے اور وطن سے محبت کے موضوع پر دل موہ لینے والی مختلف پرفارمنسز پیش کیں۔ بچوں نے اپنی شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے جشنِ آزادی اور پاکستان سے محبت کا بھرپور اظہار کیا، جسے تقریب کے شرکاء نے زبردست سراہا اور بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔
اس موقع پر مشیر سماجی بہبود نے پاکستان کے قیام کیلئے برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد اور ہمارے آبا و اجداد کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، جس کی قدر و حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔تقریب کے موقع پر محکمہ سماجی بہبود کے زیرِ انتظام دستکاری مراکز کی جانب سے مختلف اسٹالز بھی لگائے گئے تھے، جہاں خصوصی افراد اور ہنرمند خواتین کی تیار کردہ مختلف مصنوعات نمائش کیلئے رکھی گئی تھیں۔ مشیر سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان نے اسٹالز کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں رکھی گئی مصنوعات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہنرمند افراد کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ان کی مصنوعات کو بہتر مارکیٹ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔بعد ازاں مشیر سماجی بہبود نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں یونٹ کی کارکردگی، بچوں کے تحفظ کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے مختلف شعبوں کا معائنہ بھی کیا اور بچوں کے تحفظ و فلاح کیلئے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
مشیر سماجی بہبود نے خصوصی بچوں کیلئے قائم سکول کا بھی دورہ کیا اور وہاں بچوں کو فراہم کی جانے والی تعلیمی و تربیتی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سکول انتظامیہ اور اساتذہ سے ملاقات کی اور خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے ان کی خدمات کو سراہا۔
ملک لیاقت علی خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت خصوصی افراد کی فلاح و بہبود، تعلیم، بحالی اور خودمختاری کیلئے موجودہ اقدامات کو مزید مؤثر بنائے گی اور خصوصی بچوں کو معاشرے کا بااختیار، باعزت اور فعال شہری بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
کوہاٹ ڈویژن: یوم آزادی کے مرکزی تقریب میں صوبائی وزراء شفیع جان اور آفتاب عالم، اراکین اسمبلی شہریار آفریدی اورداؤد آفریدی کی شرکت،قومی یکجہتی اور ترقی کے عزم کا اعادہ
ملک کے دوسرے حصوں کی طرح پورے کوہاٹ ڈویژن میں بھی یومِ آزادی اس عہد کی تجدید کے ساتھ منایاگیااور پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے اور اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ڈسٹرکٹ کونسل ہال کوہاٹ میں منعقدہ یومِ آزادی کی مرکزی تقریب میں صوبائی وزیراطلاعات شفیع جان اوروزیر قانون آفتاب عالم، سابق وزیرداخلہ ورکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی اور چیئرمین ڈیڈک ورکن صوبائی اسمبلی داؤد آفریدی سمیت کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ، ڈپٹی کمشنر محمد نواز وزیر، سرکاری حکام، علمائے کرام، اقلیتی نمائندوں، سول سوسائٹی، طلبہ اور شہریوں نے شرکت کی اور قومی اتحاد، امن، ترقی اور خوشحالی کے عزم کا اعادہ کیا۔شفیع جان، آفتاب عالم، شہریار آفریدی، داؤد آفریدی، کمشنر اور دیگر مقررین نے کہا کہ یومِ آزادی برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد اور اسلاف کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کیلئے اجتماعی عزم کی تجدید کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں پر رکھی گئی اور موجودہ حالات میں قومی یکجہتی، باہمی ہم آہنگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کو اپنی صلاحیت اور کردار کے مطابق پاکستان کی خوشحالی میں حصہ ڈالنا ہوگا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی خودمختاری، سلامتی، امن اور ترقی کیلئے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی اور نئی نسل میں قومی ذمہ داری، اتحاد اور حب الوطنی کا شعور اجاگر کیا جائے گا۔قبل ازیں یومِ آزادی کی تقریبات کا آغاز 13 اگست کی شب شاندار آتش بازی سے ہوا جبکہ صبح سرکاری سطح پر پرچم کشائی کی تقریبات منعقد ہوئیں اور ملکی سلامتی، ترقی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔اس موقع پر شجرکاری مہم بھی چلائی گئی جس کا مقصد آزادی کے جشن کو سرسبز پاکستان اور ماحول کے تحفظ کے عزم سے جوڑنا تھا۔ بعد ازاں معززمہمانوں کی قیادت میں آزادی ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں، سرکاری ملازمین، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔شرکاء نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پاکستان سے محبت و قومی یکجہتی کے اظہار کے نعرے لگائے۔ آزادی کیک بھی کاٹا گیا۔تقریبات میں بچوں نے تقاریر، ٹیبلو اور ملی نغمے پیش کئے جنہیں شرکاء نے بھرپور سراہا۔ علاوہ ازیں، کوہاٹ ڈویژن کے اضلاع کرک، ہنگو، اورکزئی اور کرم میں بھی ضلعی و تحصیل سطح پر پرچم کشائی، ریلیوں، شجرکاری، کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ یومِ آزادی کے موقع پر منتخب نمائندوں اورضلعی انتظامیہ نے انسانی ہمدردی کے تحت مختلف ہسپتالوں اور جیل کا دورہ بھی کیا، زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی جبکہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات کرکے ان میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔تقریبات کے اختتام پر مقررین اور شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ، قومی اتحاد کا فروغ اور ملک کو امن، ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں تک پہنچانا ہر پاکستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے
گلوبل ورچوئل سکول کا افتتاح، صوبے بھر کے 500 سے زائد سکولوں کو ورچوئل نظام سے منسلک کرنے کا منصوبہ
وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا ارشد ایوب خان اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے پشاور میں قائم کئے گئے گلوبل ورچوئل سکول کا افتتاح کردیا ہے۔ اس حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں وزیر تعلیم اور چیف سیکرٹری نے ڈیجیٹل بورڈ پر تعلیمی سرگرمیوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان اور ایم ڈی خیبرپختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن قیصر عالم، سینئر صحافی دیگر حکام بھی موجود تھے۔
اس موقع پر ایک جامع بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ گلوبل ورچوئل سکول کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل تعلیم سے آراستہ ایک جدید تعلیمی مرکز کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد صوبے میں تدریسی نظام کو نئی سمت دینا اور دوردراز علاقوں کے طلبہ کو معیاری تعلیم کی جدید سہولتیں ہمہ وقت فراہم کرنا ہے۔
سکول میں سات جدید ورچوئل کلاس رومز، سات ڈیجیٹل لیبارٹریوں، تعلیمی اور آگاہی پروگراموں کی تیاری کے لیے قائم پوڈکاسٹ اسٹوڈیو اور اساتذہ کی تربیت کے لیے جدید ٹریننگ ہال تعمیر کیے گئے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلوبل ورچوئل سکول صوبے بھر میں قائم کیے جانے والے ورچوئل تعلیمی نظام کا مرکز ہوگا، جس کے ذریعے 500 سے زائد سکولوں میں 175 کلاس رومز کو ورچوئل کلاس رومز میں تبدیل کرتے ہوئے گلوبل ورچوئل سکول سے منسلک کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریسی نظام بھی شامل ہے، جس سے طلبہ کو جدید اور انفرادی ضروریات کے مطابق مختلف زبانوں میں تعلیم فراہم کی جا سکے گی۔ اردو، پشتو اور انگلش میں تدریس کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
تقریب سے خطاب میں وزیر تعلیم نے ٹیم کی محنت کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ سکولوں سے باہر طلبہ کو تعلیمی مواقع دے گا، تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرے گا اور اس پورے ملک میں ایک ماڈل منصوبہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے تعلیم اور صحت کو اولین ترجیحات میں رکھا ہے اور ان کے اور چیف سیکرٹری کی بدولت سکولوں کا نظام اور تعلیمی ماحول بہتر ہورہا ہے۔ انہوں نے تعلیمی شعبے کو خصوصی سر پرستی اور توجہ دینے پر چیف سیکرٹری کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت خیبر پختونخوا کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت صوبے کے ہر بچے کو، چاہے وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتا ہو، معیاری تعلیم تک یکساں رسائی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ میں تعلیم کو سب سے اولین ترجیح حاصل ہے۔ یہ ایک انتہائی جدت آمیز منصوبہ ہے اور محکمہ تعلیم نے اسے عملی جامہ پہنانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے حساس علاقوں میں، آفت زادہ علاقوں میں اور ان علاقوں میں جہاں اساتذہ کی کمی اور ڈیوٹی سے متعلق مسائل شامل وہاں یہ زیادہ مؤثر کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ انتہائی باصلاحیت اور پرجوش ہیں، اور یہ موقع انہیں بہتر تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور مستقبل میں اسے مزید وسعت دی جائے گی۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی نے گلوبل ورچوئل سکول ڈیش بورڈ کے ذریعے وزیرستان، باجوڑ اور دیر کے طلباء و طالبات سے بات بھی کی اور کلاسز کا جائزہ لیا۔ چیف سیکرٹری نے اے ائی ٹیچر سے بھی بات چیت کی۔ تقریب کا اختتام دعا سے ہوا۔
پچھلے تین سالوں میں صوبے نے مالی و انتظامی میدان میں غیر معمولی ترقی کی، خزانہ خالی تھا آج مستحکم ہے — مشیرِ خزانہ
سول سیکریٹریٹ پشاور میں جشنِ آزادی کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ 14 اگست کا دن سرکاری افسران اور سیاسی قیادت کے لیے ایک “ریزولوشن” یا عزم کا وقت ہے، جس میں یہ جائزہ لیا جانا چاہیے کہ اگلے ایک سال میں صوبے کے لیے کیا حاصل کیا جائے گا۔مشیرِ خزانہ نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے ذمہ داری سنبھالی تو صوبے کا خزانہ خالی تھا، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا کرنا مشکل ہو رہا تھا اور ترقیاتی اخراجات انتہائی کم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا خیبر پختونخوا مالی،
انتظامی اور طرزِ حکمرانی کے اعتبار سے اُس وقت کے مقابلے میں یکسر مختلف ہے، اور اس تبدیلی کا سہرا صوبائی حکومت، بیوروکریسی اور سب سے بڑھ کر عوام کے سر ہے۔انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل اسٹیٹ بینک کے دورے کے دوران انہیں آگاہ کیا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا ڈیجیٹلائزیشن کے میدان میں تمام صوبوں سے پیچھے ہے اور صرف چار سرکاری سروسز ڈیجیٹل طور پر فراہم کی جا رہی تھیں، جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد چھ تھی۔ مشیرِ خزانہ کے مطابق آج چیف سیکرٹری کی قیادت میں 200 سے زائد سرکاری سروسز کو ڈیجیٹلائز کرنے کا ہدف مقرر کیا جا چکا ہے اور اس شعبے میں خیبر پختونخوا پورے پاکستان میں سرِفہرست آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کیش لیس نظام کا نفاذ بھی اسی تبدیلی کی ایک کڑی ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ مسلسل تبدیلی پر یقین رکھنے والا معاشرہ ہی آگے بڑھ سکتا ہے، اور یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی اور عوام دونوں نے تبدیلی کو قبول کیا ہے۔انہوں نے رواں سال کے بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا عنوان “خوشحال خیبر پختونخوا” رکھا گیا تھا، تاہم اب اس میں “صحت مند” کا اضافہ بھی ضروری ہے کیونکہ صحت کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر مشیرِ خزانہ نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اور بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کے پیشِ نظر حکومت وسائل کی فراہمی سمیت ہر ممکن اقدام کرے گی تاکہ خیبر پختونخوا کو امن کا گہوارہ اور پاکستان میں سرمایہ کاری کا بڑا مرکز بنایا جا سکے۔تقریب میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، انتظامی سیکرٹریز، کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر پشاور و انتظامی افیسرز، دیگر اعلیٰ سرکاری حکام، طلبہ اور محکموں کے ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا سول سیکرٹریٹ میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا ہے کہ جشنِ آزادی منانے کا اصل مقصد تجدیدِ عہد ہونا چاہیے کہ جس مقصد کے لیے پاکستان معرضِ وجود میں آیا، اس مقصدکے حصول کے لیے ہم اپنے اپنے منصب کے مطابق اپنا کردار بخوبی نبھائیں اور یہاں کے رہنے والوں کی خدمت احسن طریقے سے کریں۔وہ سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم، صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام, اور سرکاری ملازمین، سکول کے طلباء و طالبات نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے اپنے خطاب میں کہا کہ بحیثیت سول سرونٹ، سرکاری ملازمین پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ملک میں رہنے والوں کے بہت سے معاملات ان کے ہاتھ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے بہت سے فیصلے کرتے ہیں اور حکومت کے فیصلوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں تاکہ لوگوں کی بہتر خدمت ممکن ہو سکے۔انہوں نے سرکاری افسران و ملازمین سے اپیل کی کہ آج جشنِ آزادی منانے کے ساتھ ساتھ اس عہد کی تجدید بھی کریں کہ اپنے فرائض کو مزید خوش اسلوبی سے نبھایا جائے گا۔خطاب کے اختتام پر چیف سیکرٹری نے دعا کی کہ اگلے یومِ آزادی تک صوبے کے وہ علاقے جنہیں بدامنی کا سامنا ہے، وہاں امن بحال ہو اور تمام سرکاری اہلکاروں کو ان علاقوں اور وہاں کے عوام کی بہتر سے بہتر خدمت کرنے کا موقع ملے۔
Preventing Chief Minister Sohail Afridi from meeting Imran Khan is a blatant violation of court orders: Shafi Jan
Khyber Pakhtunkhwa Minister for Information and Public Relations Shafi Jan said that preventing Chief Minister Sohail Afridi from meeting Founder Chairman Imran Khan is a blatant violation of court orders. He said that, the Punjab government is keeping Imran Khan in solitary confinement and committing serious violations of his fundamental human rights. The ban on meetings with Imran Khan has exposed the Punjab government’s authoritarian mindset before the nation.
He said that the Punjab Police creating obstacles in the way of Chief Minister Sohail Afridi is highly regrettable and condemnable. Creating such obstacles in the way of an elected Chief Minister is a blatant disregard for the Constitution, law, public mandate and democratic values.
Shafi Jan said that the serious negligence of the federal and Punjab governments regarding Imran Khan’s health is unacceptable. Political leadership, family members, personal physicians and lawyers have a constitutional and legal right to meet Imran Khan, and this right cannot be taken away under any circumstances.
The Information Minister said that the ban on meetings with Imran Khan is clear evidence that the “mandate-stealing government” is deeply afraid of Imran Khan, who remains imprisoned. He said the Punjab government has kept Imran Khan in solitary confinement for the past nine months, which is a serious violation of human rights and a stark example of political victimization.
He said that the federal and Punjab governments are pursuing a policy of political victimization to conceal their governance failures. If these rulers had been elected through the public vote, they would have governed the country according to the Constitution and law instead of relying on Form 47.
Shafi Jan said that a strong protest would be held tonight across the country, including Khyber Pakhtunkhwa, against the unconstitutional and illegal actions of the federal and Punjab governments.
He further said that millions of young people would participate in the long march towards Islamabad on September 27. The constitutional, legal and peaceful political struggle for Imran Khan’s release and the supremacy of the Constitution and law will continue..
قیام پاکستان ہمارے اسلاف کی انتھک جدوجہداور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مدبرانہ قیادت کا ثمر ہے، شفیع جان
وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان نے یوم آزادی پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 14 اگست ہماری قومی تاریخ کا ایک عظیم اور درخشندہ دن ہے۔ قیام پاکستان ہمارے اسلاف کی انتھک جدوجہد، لازوال قربانیوں اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مدبرانہ قیادت کا ثمر ہے،انہوں نے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر تحریک آزادی کے عظیم رہنماؤں اور شہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بزرگوں کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ پاکستان کو مزید مضبوط، مستحکم، خوشحال اور خودمختار بنائیں گے،
وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کے نظریے پر عمل پیرا نوجوان علامہ اقبالؒ کے شاہین بن کر پاکستان کو مزید عظیم اور خودمختار بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ علامہ اقبالؒ کی فکر اور عمران خان کے وژن کی بنیاد ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جہاں قانون کی حکمرانی، انصاف اور مساوی حقوق بلا تفریق میسر ہوں۔انھوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہدایت پر خیبرپختونخوا حکومت آج یوم آزادی کے موقع پر ایک ہی دن میں 14 لاکھ پودے لگانے کا تاریخی ہدف حاصل کرے گی،مہم کے تحت سپین خاک کے مقام پر وسیع رقبے پر شجرکاری کی جائے گی،جی پی ایس لوکیشن کے ذریعے شجرکاری مقامات ، نگرانی اور لگائے گئے پودوں کی مجموعی تعداد کے لئے “احساس شجرکاری ویب پورٹل “بھی لانچ کردیا ہے ، رواں سال 23 مارچ کو بھی خیبرپختونخوا میں ایک ہی دن 10 لاکھ پودے لگائے گئے تھے،یہ شجرکاری آنے والی نسلوں کے لیے سرسبز، محفوظ اور خوشحال پاکستان کا تحفہ ہے، آئیے آج عہد کریں کہ بانی چیئرمین عمران خان کے خوددار پاکستان کے وژن کے مطابق ایک مضبوط، خوشحال، خودمختار اور سرسبز پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
