Home Blog Page 39

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عدیل اقبال کی زیر صدارت محکمہ سیاحت، ثقافت، آثارِ قدیمہ و میوزیم کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور محکمانہ امور کے حوالے سے اجلاس منعقد

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عدیل اقبال کی زیر صدارت محکمہ سیاحت، ثقافت، آثارِ قدیمہ و میوزیم کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور محکمانہ امور کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری سیاحت و ثقافت سعادت حسن سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ سیاحت، ثقافت، آثارِ قدیمہ و میوزیم کے جاری منصوبوں پر پیش رفت، تعمیراتی کام کے معیار اور مختلف محکمانہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ اجلاس میں معاون خصوصی ملک عدیل اقبال نے ہدایت کی کہ محکمہ کے جاری منصوبوں میں تعمیراتی کام کے معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبوں کو مقررہ معیار اور ضابطوں کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ تعمیراتی معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ملک عدیل اقبال نے مزید ہدایت کی کہ محکمانہ امور میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور تمام معاملات قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کا مؤثر اور شفاف استعمال حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے منصوبوں اور محکمانہ امور کی مؤثر نگرانی پر خصوصی توجہ دی جائے۔

اہم رٹ درخواستوں میں قانونی حکمت عملی کا جائزہ، وزیر قانون آفتاب عالم کی زیر صدارت اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق ایڈووکیٹ آفتاب عالم کی زیر صدارت محکمہ قانون کے کمیٹی روم میں اہم قانونی و آئینی امور سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں رٹ پٹیشن نمبر 8159-P/2025 اور اس سے منسلک دیگر رٹ درخواستوں، بعنوان “محمد ارشد خان و دیگر بنام حکومت خیبر پختونخوا و دیگر”، پر صوبائی حکومت کی قانونی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں محکمہ قانون کے اعلیٰ افسران، قانونی ماہرین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ شرکائ نے مقدمات کی قانونی حیثیت، متعلقہ قوانین اور قانونی دفعات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ان کے صوبائی حکومت پر ممکنہ اثرات پر غور کیا۔اجلاس کے دوران وزیر قانون ایڈووکیٹ آفتاب عالم نے بالخصوص کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنسز ایکٹ (CNSA) 1997 کی دفعہ 9(اے)(1) کے اطلاق، دائرہ کار اور قانونی مضمرات پر تفصیلی بحث کی۔ اجلاس میں 6 ستمبر 2022 کو مذکورہ دفعہ میں کی گئی ترمیم کے تناظر میں اس کی تشریح اور اطلاق کا بھی جائزہ لیا گیا۔شرکائ نے ترمیم شدہ قانونی شق کا موجودہ قانونی فریم ورک سے تعلق، مقدمات پر اس کے ممکنہ اثرات اور متعلقہ قانونی پہلوؤں کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا۔ اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ صوبائی حکومت کا مؤقف جامع، مضبوط قانونی بنیادوں پر مبنی اور تمام متعلقہ قوانین و عدالتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا جائے۔اس موقع پر وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ ایسے معاملات جن کے قانونی تشریح اور قوانین کے نفاذ پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، ان میں مکمل قانونی تیاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور قانونی ماہرین کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ قانونی دفعات، ترامیم، عدالتی فیصلوں اور مقدمات کے باہمی تعلق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور اس کے بعد صوبائی حکومت کا مؤقف حتمی شکل دیا جائے۔وزیر قانون نے محکمہ قانون، متعلقہ انتظامی محکموں اور قانونی ٹیم کے درمیان مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات سے متعلق تمام حقائق، قانونی نظائر اور متعلقہ قانونی دفعات کو مناسب طور پر مدنظر رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قانونی اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے اور قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ اجلاس سے قبل تمام ضروری قانونی تیاری مکمل کی جائے اور متعلقہ دستاویزات، قانونی دفعات اور دیگر پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جائے۔اجلاس میں منسلک رٹ درخواستوں اور ان سے جڑے وسیع تر قانونی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قانونی ماہرین اور محکمہ کے نمائندوں نے مختلف تجاویز اور آرائ پیش کیں جنہیں غور و خوض میں شامل کیا گیا۔تفصیلی بحث کے بعد اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ صوبائی حکومت کی قانونی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے سے قبل مزید قانونی مشاورت اور غور و خوض ضروری ہے۔ اس سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لینے، مزید قانونی نکات پر غور کرنے اور حکومت کا حتمی مؤقف مرتب کرنے کے لیے آئندہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ضروری قانونی ہوم ورک مکمل کرکے آئندہ اجلاس میں جامع تیاری کے ساتھ شرکت کریں تاکہ رٹ پٹیشن نمبر 8159-P/2025 اور منسلک رٹ درخواستوں میں صوبائی حکومت کا مؤثر، مربوط اور قانون کے مطابق مؤقف پیش کیا جا سکے۔

پشاور پریس کلب کی تعمیر ترقی اور بہبود کیلئے خیبرپختونخوا حکومت بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے۔مشیر خزانہ خیبر پختونخوا

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پشاور پریس کلب کے زیر اہتمام صحافیوں کے سکول اور کالج کے پوزیشن ہولڈر بچوں کیلئے انعامات اور جشن آزادی تقریبات کے حوالے سے نشتر ہال پشاور میں منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی شاہدخان، منیجنگ ڈائریکٹر بینک آف خیبر حسن رضا، ڈائریکٹر کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی، پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، سابق صدر اور سینئیر صحافی شمیم شاہد، خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، پریس کلب ایجوکیشن کمیٹی کے سربراہ ضیائ الحق سمیت بڑی تعداد میں صحافیوں اور انکی فیملیز نے شرکت کی۔مزمل اسلم نے پوزیشن ہولڈرز بچوں اور ان کے والدین کو کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اگر چہ ان کی فیملی کراچی میں ہے لیکن صحافیوں کے بچوں کے درمیان اپنے بیٹھنے کو اپنی فیملی میں موجودگی جیسا محسوس کر رہے ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ صحافیوں کو اس مہنگائی کے دور میں بہت کم تنخواہیں مل رہی ہیں اور یہ تشویشناک امرہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور پریس کلب کی تعمیر ترقی اور بہبود کیلئے خیبرپختونخوا حکومت اپنی استطاعت کے مطابق بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے۔اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت اپنے بجٹ کا 22 فیصد فنڈز تعلیم پر خرچ کر رہی ہے جو باقی صوبوں سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبر پختونخوا نے اینڈومنٹ فنڈز پر مارک اپ کو 10.50 فیصد کردیا ہے،بجٹ میں صحافیوں کے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع اور فلاح و بہبود بشمول صحافیوں کے بچوں کو وظائف اور انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے کے لیے 1000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے 700 بندوبستی اضلاع کے صحافیوں اور 300 ملین ضم اضلاع کے صحافیوں کے لئے ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ صحافیوں کے لیے میڈیا کالونیز کے قیام کے لیے بھی فزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائن کی تیاری کی مد میں 500 ملین روپے مختص کیے گئے جبکہ پشاور پریس کلب کی جدید سہولیات سے آراستہ نئی کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے 150 ملین روپے کی رقوم رکھی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں جرنلسٹس اینڈومنٹ فنڈ کی مالیت 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی ہے۔ اس موقع پرمینیجنگ ڈائریکٹر حسن رضا نے کہا کہ بینک آف خیبر بینکنگ کے ساتھ تعلیم، صحت اور ثقافت کے شعبے میں بھی کام جاری ہے کیونکہ یہ صوبے کا اپنا بینک ہے۔

خصوصی افراد کی فلاح و خودمختاری کیلئے خیبر پختونخوا حکومت کا بڑا اقدام

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، عشر و زکوٰۃ ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے خصوصی افراد کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے 500 ملین روپے کی لاگت سے احساس لون پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ خصوصی طلبہ کے لیے 700 ملین روپے کی لاگت سے احساس اسکالرشپ پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع صوابی میں خصوصی افراد کے لیے منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری سوشل ویلفیئر شریف حسین اور محکمہ سماجی بہبود کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ احساس لون پروگرام رواں سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل ہے، جس کے تحت خصوصی افراد کو بلاسود اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرکے باعزت روزگار حاصل کر سکیں اور معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ خصوصی طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے احساس اسکالرشپ پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت مستحق خصوصی طلبہ کو وظائف فراہم کیے جائیں گے۔ملک لیاقت علی خان نے بتایا کہ احساس امید کارڈ پروگرام کا افتتاح بھی رواں ہفتے کیا جائے گا، جس کے تحت 10 ہزار خصوصی افراد کو ماہانہ 5 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یتیموں اور بیواؤں کے لیے بھی کارڈ پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد کے لیے ماہانہ 5 ہزار روپے مختص کیے جائیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ تمام مالی معاونت کی رقم مستحق افراد کے براہِ راست بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور حقداروں کو ان کا حق براہِ راست پہنچے۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ خصوصی افراد اور دیگر مستحق طبقات کو رجسٹریشن کے لیے دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے، بلکہ رجسٹریشن کی سہولت ان کی دہلیز پر فراہم کی جائے گی۔ محکمہ سماجی بہبود کے اہلکار گھر گھر جا کر مستحق افراد کی رجسٹریشن اور ضروری کوائف کا اندراج کریں گے۔اس موقع پر ایک بزرگ خصوصی فرد کے لیے 50 ہزار روپے مالی امداد کا بھی اعلان کیا گیا، جبکہ مشیر وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو خصوصی افراد کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کے فوری حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ جہیز فنڈ میں خصوصی افراد کے لیے خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے گا تاکہ خصوصی افراد اور ان کے خاندانوں کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دستکاری اور اسکلز سنٹرز کا قیام ان کا مشن ہے اور خواتین کو ہنرمند بنا کر انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ہنر مندی کے مواقع فراہم کرکے خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور انہیں باعزت روزگار کے قابل بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق مستحق اور بے سہارا افراد کی مدد کے لیے پناہ گاہیں اور لنگر خانے قائم کیے گئے ہیں، جہاں ضرورت مند افراد کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔قبل ازیں مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کھلی کچہری میں خصوصی افراد کے مسائل تفصیل سے سنے۔ انہوں نے مختلف درخواستوں اور شکایات پر متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے مسائل کے بروقت ازالے کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ ان کی فلاح، معاشی خودمختاری، تعلیم اور باعزت روزگار کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر توانائی و برقیات نزیر احمد عباسی کی زیر صدارت گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پٹرولیم ٹیکنالوجی  کرک کے منصوبے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر توانائی و برقیات نزیر احمد عباسی کی زیر صدارت گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پٹرولیم ٹیکنالوجی  کرک کے منصوبے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری محکمہ توانائی و برقیات ،ایڈیشنل سیکرٹری توانائی اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ مذکورہ منصوبے کی عمارت کی تعمیر اس انداز میں مکمل کی جائے جس پر وقت اور لاگت کم آئے تاکہ اس میں جلد از جلد کلاسوں کا اجرائ ممکن ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک میں بہت زیادہ ماسٹر ڈگری طلبائ و طالبات بے روز گار ہیں جو سر کاری اداروں میں نوکریوں کی تلاش میںہیں ان کے لئے ہنر مندی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور صوبائی حکومت اس حوالے سے بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ ہنر مندی کی جانب بھی بھر پور توجہ دیں کیونکہ موجودہ زمانے میں جدید مہارتوں کا حصول ضروری ہو گیا ہے۔ اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر آئی پی ٹی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ 2022ئ میں جی پی آئی کرک کی عمارت میں محکمہ صنعت کے تحت قائم کیا گیا۔جس کے لئے
ڈی اے ای ٹیکنالوجیز کے نصاب University of Engineering and Technology, Peshawar کے ذریعے تیار کیے گئے۔ادارے کو 3 سالہ ڈی اے ای ڈرلنگ اور ڈرلنگ فلوئڈز کے لیے بورڈ آف ٹیکنیکل اینڈ کمپری ہینسو ایجوکیشن (BT&CE) پشاور سے منسلک کیا گیا۔اس میںHSE، سروے اور ڈرلنگ کے مختصر دورانیے کے کورسز ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ (TTB) اور NAVTTC سے منسلک ہیں۔3 سالہ ڈی اے ای کی کلاسز 2022ئ سے جاری ہیں۔ہر سال 40 طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے، جن میں 20 نشستیں دیگر صوبوں کے طلبہ کے لیے مختص ہیں۔ طلبہ کوریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے تعاون سے BLS (Basic Life Support) تربیت بھی کروائی گئی ہے۔43 طلبہ نے وزیرِاعظم کے یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تربیت حاصل کی ہے۔بعد ازاں صوبائی وزیر نے پوزیشن ہولڈر طلبائ میں سکالرز شپ کے چیک بھی تقسیم کئے ۔

محکمہ لائیو اسٹاک اور بینک آف خیبر کے درمیان ویٹرنری گریجویٹس کو موٹر بائیکس کی فراہمی کے لیے ایم او یو پر دستخط

محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ (توسیع)، حکومت خیبر پختونخوا اور بینک آف خیبر کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کے تحت بیروزگار ویٹرنری گریجویٹس کو موٹر سائیکلوں کی قسطوں پر خریداری کا موقع ملے گا۔ خیبرپختونخوا میں بے روزگار ویٹرنری گریجویٹس (DVM) کو نقل و حرکت (موٹر بائیکس) کی فراہمی کے ذریعے ویٹرنری ہیلتھ سروسز کی توسیع کے اقدام کا مقصد نقل و حرکت کو بڑھانا اور صوبے بھر میں ویٹرنری صحت کی خدمات کی فراہمی کو آسان بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی خورشید خٹک نے ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی اور اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ بے روزگار ویٹرنری گریجویٹس کو نقل و حرکت کی فراہمی سے نہ صرف نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ نچلی سطح پر ویٹرنری خدمات کو بھی تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ اور بینک آف خیبر کے درمیان تعاون سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے، قابل ویٹرنری گریجویٹس کی مدد اور صوبے میں لائیو سٹاک اور جانوروں کی صحت کی خدمات تک رسائی کو بڑھانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ اس موقع پر محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ اور بینک آف خیبر کے افسران بھی موجود تھے۔ شرکائ نے اس اقدام کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے اور اس کے مقاصد کے حصول کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ یہ ایم او یو ویٹرنری ہیلتھ کیئر سروسز کو مضبوط بنانے، پیشہ ورانہ نقل و حرکت کو بہتر بنانے اور خیبر پختونخوا کے لائیو سٹاک کے شعبے میں تعاون کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

پیراپلیجک سینٹر پشاور میں مزید 20 بستروں کا اضافہ، یومِ آزادی کے موقع پر تاریخی سنگِ میل

پیراپلیجک سینٹر پشاور میں مریضوں کے لیے مزید 20 بستروں کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ چیئرمین بورڈ آف گورنرز پیراپلیجک سینٹر پشاور ڈاکٹر شہزاد بنگش، ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر امیر زیب اور دیگر متعلقہ حکام، عملہ اور مریض بھی موجود تھے۔ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر امیر زیب اور ان کی ٹیم نے صوبائی وزیرِ صحت اور دیگر معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ تقریب کے دوران وارڈ نمبر 3 میں ربن کاٹنے کی تقریب کے ذریعے نئے 20 بستروں کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔اس موقع پر ڈاکٹر امیر زیب نے پیراپلیجک سینٹر کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور مریضوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے بجٹ میں اضافے کی درخواست کی۔ انہوں نے ادارے کے فالو اَپ پروگرام کی بحالی اور زیرِ علاج مریضوں کے لیے اسکلز بلڈنگ پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ مریض بحالی کے بعد زیادہ خودمختار، باوقار اور معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں۔صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے پیراپلیجک سینٹر کے لیے حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے میں عوام کو معیاری، باوقار اور جامع طبی و بحالی کی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور پیراپلیجک سینٹر پشاور اس حوالے سے ایک اہم اور قابلِ فخر ادارہ ہے۔صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ پیراپلیجک سینٹر پشاور صرف خیبر پختونخوا کے مریضوں تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے مریض یہاں علاج اور بحالی کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت دیگر علاقوں سے بھی مریض پیراپلیجک سینٹر پشاور کا رخ کرتے ہیں، جو اس ادارے پر عوام کے اعتماد اور یہاں فراہم کی جانے والی معیاری خدمات کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ پیراپلیجک سینٹر پشاور ملک کا ایک منفرد اور جامع ری ہیبلیٹیشن سینٹر ہے، جہاں مریضوں کو جسمانی بحالی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی، سماجی اور پیشہ ورانہ بحالی کی سہولیات بھی ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس ادارے کی خدمات نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے پیراپلیجک سینٹر کے عملے کی پیشہ ورانہ وابستگی، محنت اور مریضوں کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی ٹیم محدود وسائل کے باوجود مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پیراپلیجک سینٹر کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کی مزید بہتری اور استعدادِ کار میں اضافے کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔تقریب میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے پیراپلیجک سینٹر کے بجٹ اور دیگر ضروری معاونت میں تعاون نے اس ادارے کو ملک بھر میں ایک منفرد مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پیراپلیجک سینٹر پشاور پاکستان میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ادارہ ہے جہاں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، فالج، دماغی چوٹ اور دیگر جسمانی معذوریوں کا شکار افراد کو جامع بحالی کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔نئے 20 بستروں کا اضافہ پیراپلیجک سینٹر کی استعدادِ کار میں اضافے کے ساتھ ساتھ مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے امید، سہولت اور بہتر مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس اقدام سے مزید مریضوں کو بروقت داخلہ، علاج اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر پیراپلیجک سینٹر میں 20 نئے بستروں کا اضافہ ایک مثبت اور بامقصد اقدام ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ آزادی کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ حکومت عوام کو بہتر صحت اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔تقریب 14 اگست، یومِ آزادی پاکستان کی خوشیوں کے ساتھ منعقد ہونے کے باعث پیراپلیجک سینٹر کے مریضوں، عملے اور انتظامیہ کے لیے دوہری خوشی کا موقع بن گئی۔ اس موقع پر نئے 20 بستروں کے اضافے کو ادارے کی تاریخ میں ایک اہم اور یادگار سنگِ میل قرار دیا گیا۔تقریب کے اختتام پر چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر شہزاد بنگش اور پیراپلیجک سینٹر کی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی، جو پیراپلیجک سینٹر کے لیے ان کی خصوصی دلچسپی اور تعاون کے اعتراف کی علامت تھی۔بعد ازاں یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے کیک کاٹنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ صوبائی وزیرِ صحت، چیئرمین بورڈ آف گورنرز، ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹر، پیراپلیجک سینٹر کی انتظامیہ، عملے اور مریضوں نے مل کر کیک کاٹا اور وطنِ عزیز کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مشیر کھیل و امور نوجوانان کا نوشہرہ کا دورہ، سپورٹس سہولیات کی بہتری کی ہدایت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند اور سیکرٹری کھیل محمد آصف نے ضلع نوشہرہ کا دورہ کیا۔ نوشہرہ پہنچنے پر ایم پی اے اشفاق خان اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے ان کا استقبال کیا۔مشیر کھیل نے جشن آزادی فیسٹیول کے تحت جاری باسکٹ بال میچ دیکھا، کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور گورنمنٹ ہائی سکول تارو جبہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے بے پبی سپورٹس کمپلیکس میں صوبے کے سب سے بڑے جمنیزیم ہال کا معائنہ بھی کیا۔ اس موقع پر محکمہ تعمیرات و مواصلات نے منصوبے پر بریفنگ دی۔تاج محمد خان ترند نے جمنیزیم کا کام دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو ماہ بعد دوبارہ دورہ کرکے کام کا جائزہ لیں گے۔ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے نوشہرہ میں کھیلوں کی سہولیات اور منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی اور بتایا کہ 6 سپورٹس فیسیلیٹیز مکمل ہوچکی ہیں۔ مشیر کھیل نے خالی آسامیوں پر جلد بھرتیوں کی ہدایت کی تاکہ نوجوانوں کو تجربہ کار کوچز کی تربیت فراہم کی جاسکے۔انہوں نے ورکس ڈیپارٹمنٹ کو کٹہ خیل سپورٹس کمپلیکس، مانکی شریف کا فوری دورہ کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ مشیر کھیل نے کہا کہ نوجوانوں کو بہتر کھیلوں کی سہولیات اور تربیت کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔