وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی نے الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبے سے وابستہ طلبہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے صوبہ بھر میں پائی جانے والی بے چینی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈگری پروگرامز سے متعلق موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ صوبے کی متعدد جامعات میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے وابستہ طلبہ کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے مختلف تکنیکی اور انتظامی چیلنجز درپیش ہیں، جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ کوئی بھی سرکاری یا نجی جامعہ اپنی مرضی سے الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی نشستوں کی تقسیم نہیں کرے گی بلکہ سیٹوں کی الاٹمنٹ معیار (کوالٹی) کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ جو طلبہ جہاں بھی اس وقت انرولڈ ہیں، ان کی ڈگری کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور وہ اپنی متعلقہ جامعات کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کسی صورت طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔اجلاس میں وائس چانسلر جامعہ گومل، ڈیرہ اسماعیل خان ڈاکٹر ظفر، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے حکام اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے متعلق درپیش تکنیکی چیلنجز کے خاتمے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے گی، جو محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تحت فوری طور پر ایک جامع اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرے گی۔مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے طلبہ کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے کے لیے انہیں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ عملی میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ مینا خان آفریدی نے کہا کہ طلبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے وابستہ طلبہ صحت کے شعبے میں کمیونٹی کے لیے نمایاں خدماتسرانجام دیتے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار، شفافیت اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت حلقہ پی کے 83 سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت حلقہ پی کے 83 سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں چیف پلاننگ آفیسر ابتدائی و ثانوی تعلیم زین گیلانی نے وزیر اعلیٰ تعلیم کو حلقہ پی کے 83 میں تعلیمی سہولیات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ حلقہ پی کے 83 میں مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دو نئے کمیونٹی اسکولز قائم کیے جائیں تاکہ بچوں کو گھر کے قریب معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پرائمری اور ہائر سیکنڈری اسکولز میں خستہ حال کمروں کو فوری طور پر منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کیا جائے تاکہ طلبہ کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم ہو۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے گورنمنٹ پرائمری اسکول ڈبگری روڈ پشاور کی عمارت کی فوری تعمیر شروع کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ پی کے 83 میں واقع تمام اسکولز کو پیرنٹس ٹیچر کونسل (پی ٹی سی) فنڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ اسکولوں کی سطح پر درپیش چھوٹے مگر اہم مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سکولوں میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کی کمی کو دس دن کے اندر پورا کیا جائے گا۔ وزیر نے بتایا کہ حلقہ پی کے 83 میں چالیس سے زائد اسکولوں میں فرنیچر کی فراہمی کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ جنوری کے اختتام تک تمام سکولوں میں سولرائزیشن سسٹمز کی مرمت مکمل کر لی جائے گی۔ اس کے علاوہ جن سکولوں میں ابھی تک سولر سسٹم نصب نہیں، وہاں آئندہ تین ماہ کے اندر سولرائزیشن مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ حلقہ پی کے 83 میں تعلیم سمیت ہر شعبے میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور صوبے بھر میں حقیقی تبدیلی کے فروغ کے لیے حکومت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
کامرس ایجوکیشن و مینجمنٹ سائنسز خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے سروس رولز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا
کامرس ایجوکیشن و مینجمنٹ سائنسز خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے سروس رولز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری اعلیٰ تعلیم، اسپیشل سیکرٹری اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے ڈائریکٹرز (بی پی ایس 19) کے عہدوں پر پروونشل مینجمنٹ سروس یا کسی اور کیڈر کے افسران کی تعیناتی کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ وزیر اعلیٰ تعلیم نے واضح کیا کہ وہ ملازمین جو فیلڈ سے ہو کر محنت اور تجربے کے ساتھ اعلیٰ عہدوں تک پہنچتے ہیں، انہیں انتظامی پوسٹس پر خدمات انجام دینے کا پورا حق حاصل ہے۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ محکمہ جاتی افسران کو انتظامی ذمہ داریاں دینے سے نہ صرف ادارہ جاتی تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے بلکہ ملازمین کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سروس رولز کی تشکیل میں میرٹ، تجربے اور محکمہ جاتی سروس کو بنیادی حیثیت دی جائے۔اجلاس کے اختتام پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا تمام محکموں میں شفاف، منصفانہ اور مساوی ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سروس رولز کو مؤثر اور بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اوربااختیار خواتین کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اوربااختیار خواتین کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی زبیر خان نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبرانِ صوبائی اسمبلی انور زیب خان، نیلوفر بابر، اسماء عالم اور صوبیہ شاہد نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود و خصوصی تعلیم، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے متعلقہ افسران و عملہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں عشر کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں موجودہ طریقہ کار، درپیش مسائل اور عملی اقدامات سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کے اراکین نے عشر کی وصولی اور تقسیم کے عمل میں شفافیت اور بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں اورمحکمہ کی جانب سے کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا اور عشر سے متعلق گزشتہ 20 سال کا ریکارڈ بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی کے فلور پر بل کے ذریعے عشر کو بورڈ آف ریونیو سے علیحدہ کیے جانے کے باوجود اسے دوبارہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیوں کیا گیا۔محکمے نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ عشر کے مؤثر نفاذ کے لیے 100 اسامیوں کی ضرورت تھی جن کی منظوری محکمہ خزانہ نے دی تھی، تاہم بعد ازاں یہ اسامیاں ختم کر دی گئیں جس کے باعث عشر دوبارہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے تحت چلا گیا، جیسا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی رائج ہے۔ کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ عشر ہر زمین سے اگنے والی پیداوار پر دسواں حصہ بنتا ہے اور اس کی ادائیگی زمین مالکان اور زمینداروں کی رضاکارانہ صوابدید پر ہوتی ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ عشر اور زکوٰۃ سے متعلق صوبے کے تمام اضلاع کا جامع ڈیٹا آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔اجلاس میں سپیشل ایجوکیشن حیات آباد کمپلیکس کو گاڑیوں کی فراہمی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ محکمے نے بتایا کہ 23 گاڑیاں خریدی گئی ہیں جن میں سے دو گاڑیاں عنقریب سپیشل ایجوکیشن حیات آباد کمپلیکس کو فراہم کر دی جائیں گی جبکہ باقی گاڑیاں صوبے کے مختلف اضلاع میں تقسیم کی جائیں گی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زکوٰۃ فنڈ بیواؤں، یتیموں، معذور افراد اور مستحق بچیوں کی شادی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے لیے پورے صوبے میں زکوٰۃ کمیٹیاں قائم ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی و برقیات کا اجلاس بدھ کے روز رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین قائمہ کمیٹی داؤد شاہ کی زیر صدارت
پشاورمیں منعقد ہوا جس میں محکمہ پیڈو،پیسکو،سوئی ناردرن گیس اورخیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے سینئر حکام نے اپنے متعلقہ محکموں کی جانب سے نمائندگی کی۔اجلاس میں محکمہ پیڈو نے خیبر پختونخوا میں چھوٹے بڑے ڈیمز کی تعمیر،مساجد و مدارس میں سولرائزیشن سکیموں،صوبائی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر اور دیگر جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ا راکین صوبائی اسمبلی انور زیب خان، محمد ریاض خان،ارباب محمد عثمان خان،جمیلہ پراچہ، گل ابراہیم،شازیہ جدون، گورپال سنگھ، شازیہ طہماس، اشبر جدون،اور خدیجہ بی بی نے شرکت کی اور اپنے حلقوں میں جاری بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ بارے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر چیئر مین قائمہ کمیٹی داؤد شاہ نے کہا ہے کہ کوہاٹ ڈویژن میں گیس و بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ سے عوام کو جلد از جلد چھٹکارا دلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق خیبر پختونخوا کو بجلی اور دیگر مقامی پیداوار میں خود کفیل بنارہے ہیں۔اور اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت سستی بجلی کے لئے اپنی ٹرانسمیشن لائین بنارہی ہے۔انہو ں نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ کی کارگردگی قابل ستائش ہے اور عنقریب اپنا ڈرلنگ سسٹم متعارف کرے گی۔ارباب عثمان،خدیجہ بی بی اور دیگر اراکین اسمبلی نے اپنے حلقوں میں جاری گیس و بجلی لوڈ شیڈنگ سے شرکاء اجلاس کو آگاہ کیا اورکہا کہ مقامی گیس پیداوار پر اس صوبہ کا حق پہلا بنتا ہے لیکن پشاور کوہاٹ ڈویژن اور دیگر اضلاع میں بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ نامناسب ہے اور اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔چیئرمین کمیٹی داؤد شاہ نے بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ اور پیسکو کی ناقص کارگردگی پر اجلاس کے حکام سے کہا کہ پیسکو کو بھی دیگر محکموں کی طرح آوٹ سورس کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اس سے مستفید ہوسکیں۔اور اسکے ساتھ ساتھ عرصہ دراز سے پیسکو کا عملہ ایک ہی سٹیشن پر خدمات انجام دے رہا ہے جسکے فوری تبادلہ کی ضرورت ہے۔اراکین اسمبلی نے بجلی لوڈ شیڈنگ،کم وولٹیج،ٹرانسفر مر کی مرمت،بجلی بلوں کی تقسیم کار،میٹر ریڈرز،سٹاف کی کمی،اوور بلنگ اور لائین لاسز بارے اپنے تشویش سے اجلاس کو آگاہ کیا۔اسی طرح اقلیتی رکن اسمبلی گورپال سنگھ نے اپنے مزہبی مقامات پر سولرایزیشن پلانٹس لگانے کی تجویز دی۔داؤد شاہ نے صوبہ بھر کے انڈسٹریل زون کو سولرائزیشن منصوبوں کے تحت لانے کی تجویز دی اور آئندہ اس حوالے سے کام کی تفصیل لانے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں سیکرٹری انرجی اینڈ پاور نثار احمد،سیکرٹری انڈسٹریز عبداللہ وزیر،چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو،چیف انجینئر پیسکو آصف جان مروت اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی پشاور و نوشہرہ میں بڑی کاروائیاں، 2300 کلوگرام ممنوعہ چائنہ سالٹ اور مضرِ صحت گوشت برآمد
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے پشاور اور نوشہرہ میں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز خفیہ اطلاع پر پشاور فوڈ سیفٹی ٹیم نے اشرف روڈ پر واقع ایک گودام پر اچانک چھاپہ مارا، جہاں سے تقریباً 800 کلوگرام ممنوعہ چائنہ سالٹ برآمد کی گئی۔ ضبط شدہ چائنہ سالٹ کو موقع پر ہی تحویل میں لے کر مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے جبکہ مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ ایک اور کارروائی میں نوشہرہ فوڈ سیفٹی ٹیم پبی بازار میں ایک دکان پر چھاپہ مار کر تقریباً 1500 کلوگرام باسی اور مضرِ صحت گوشت اور چکن پارٹس برآمد کیے، جنہیں موقع پر حفظانِ صحت کے اصولوں کیمطابق تلف کر دیا گیا۔ دکان کو سیل کرتے ہوئے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور واضح الفاظ میں کہا کہ انسانی صحت سے کھیلنے والے عناصر باز آ جائیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ بھر میں خوراک کے معیار کی بہتری کے لیے انسپکشنز اور کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے محکمہ کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے محکمہ کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی قسم کی سستی یا غیر ضروری تاخیر قابلِ قبول نہیں انہوں نے واضح کیا کہ تمام سکیموں کو مقررہ وقت کے مطابق مکمل کیا جائے اور جن سکیموں کا پی سی ون ابھی تک تیار نہیں کیئے گئے انہیں فوری طور پر مکمل کیا جائے اور تمام پی سی ون اگلے ہفتے تک پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (پی اینڈ ڈی) ڈیپارٹمنٹ میں منظوری کے لیے جمع کرائے جائیں تاکہ ترقیاتی عمل میں مزید تیزی لائی جا سکے۔ یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی سکیموں سے متعلق اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں چیف انجینئرز، ایکسیئنز و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں صوبہ بھر میں جاری اور مجوزہ پی ایچ ای سکیموں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا جبکہ صوبائی وزیر کو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی مختلف سکیموں، بالخصوص صوبے میں جاری منصوبوں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ لائحہ عمل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے منصوبوں کی تکمیل کی رفتار اور تکنیکی و انتظامی امور پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز اقدامات یقینی بنانے ہوں گے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیں۔
کامرس ایجوکیشن و مینجمنٹ سائنسز خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے سروس رولز کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا
کامرس ایجوکیشن و مینجمنٹ سائنسز خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے سروس رولز کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا
اجلاس میں سیکرٹری اعلی تعلیم، سپیشل سیکرٹری و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی
وزیر برائے اعلی تعلیم مینا خان افریدی نے ڈائریکٹرز (بی پی ایس 19) کے پوسٹ پر پراونشل مینجمنٹ یا دیگر کیڈر کے افیسر لگانے کی تجویز مسترد کر دی
جو ملازم فیلڈ سے ہو کر اوپر آئے، انتظامی پوسٹ پر خدمات کی انجام دہی ان کا بھی حق ہے۔ مینا خان افریدی
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی پشاور اور نوشہرہ میں بڑی کارروائیاں
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی پشاور اور نوشہرہ میں بڑی کارروائیاں
پشاور: خفیہ اطلاع پر فوڈ سیفٹی ٹیم کا اشراف روڈ پر واقع گودام پر چھاپہ، ترجمان فوڈ اتھارٹی
پشاور: گودام سے تقریباً 800 کلوگرام ممنوعہ چائنہ سالٹ برآمد، مالکان پر بھاری جرمانے عائد، مزید کارروائی کا آغاز، ترجمان
پشاور: پبی بازار نوشہرہ میں فوڈ سیفٹی ٹیم کی کارروائی، ایک دکان سے تقریباً 1500 کلوگرام باسی اور مضرِ صحت گوشت و چکن پارٹس برآمد کر کے تلف، ترجمان
پشاور: دوکان سیل کرکے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج، مزید قانونی کارروائی شروع، ترجمان
پشاور : ایسے انسان دشمن عناصر باز آ جائیں، بصورتِ دیگر سخت کارروائی کے لیے تیار رہیں،ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید
پشاور: شہریوں کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا ، واصف سعید
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا اسمبلی کی سپیشل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ، صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی سمیت کمیٹی کے دیگر اراکینِ صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا اور ان کی ٹیم نے صوبے میں مجموعی امن و امان، سیکیورٹی صورتحال، پشاور، ضم شدہ اضلاع اور حساس علاقوں میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ پولیس حکام کی جانب سے ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی گئی، جس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس فورس کی صلاحیت میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو سراہا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سیکیورٹی کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔اجلاس میں پولیس حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص اینٹی ڈرون سسٹمز، اسلحہ، تھانوں اور پولیس اسٹیشنز کی تعمیر و بہتری، اور فنڈنگ کے طریقہ کار میں بہتری درکار ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں سیکیورٹی منصوبوں پر خاطر خواہ پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہاں فنڈز کی ادائیگی ہو چکی ہے اور آئندہ دو برسوں میں باقی ماندہ کمیوں کو پورا کر لیا جائے گا۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کو مضبوط بنانے کے لیے نئی بھرتیوں، مستقل تربیت اور علیحدہ کیڈر کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ دیگر صوبوں کی طرز پر ایک مضبوط اور مستقل CTD فورس تشکیل دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹیلیجنس نظام کو مؤثر بنانے اور اداروں کے مابین انٹیلیجنس شیئرنگ کو ڈویژنل سطح تک وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں پشاور، ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت سمیت دیگر اضلاع میں سیف سٹی منصوبوں کے جلد آغاز سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اسپیشل سیکورٹی کمیٹی کا یہ آخری اجلاس نہیں، آئندہ اجلاسوں متعلقہ اداروں سے بھی بریفنگ لی جائے گی۔ کمیٹی تمام مشاورت کے بعد اپنی جامع سفارشات صوبائی و وفاقی حکومت کو ارسال کرے گی اور انہیں ایوان میں بھی پیش کیا جائے گا۔اسپیکر نے واضح کیا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور ٹھوس پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں، اور اسمبلی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سیکیورٹی معاملات پر بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔
