خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 ہریپور کا دورہ کیا۔دورے کے دوران صوبائی وزیر نے سکول میں جاری داخلہ مہم کا جائزہ لیا اور طلبہ کے داخلوں کے عمل کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا جعفر منصور عباسی، ڈپٹی سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نور پاؤاور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد اشرف سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔پرنسپل ظفر ارباب عباسی، وائس پرنسپل فواد حسین اور چیئرمین داخلہ کمیٹی نے صوبائی وزیر کو سکول میں جاری داخلہ مہم اور طلبہ کے داخلوں کے عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر ارشد ایوب خان نے داخلہ عمل کا جائزہ لیتے ہوئے سکول انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور طلبہ کوبہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی، معیاری تعلیم اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی پر زور دیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت سرکاری تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کے فروغ اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو جدید اور معیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔دورے کے دوران صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے مون سون شجرکاری مہم کے تحت سکول میں پودا بھی لگایا۔
تیمرگرہ میڈیکل کالج کو جلد از جلد فعال کرنے کا فیصلہ
تیمرگرہ میڈیکل کالج کے حوالے سے سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت پشاور میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن، سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ اور محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں تیمرگرہ میڈیکل کالج کے حوالے سے جاری پیش رفت، درپیش مسائل اور اسے جلد فعال بنانے کے لیے درکار اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کالج کو جلد از جلد فعال کرنے کے لیے تمام ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔اس موقع پرصوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طبی تعلیم کے شعبے کے فروغ اور استحکام کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے۔تیمر گرہ میڈیکل کالج کی تکمیل اور فعالیت سے علاقے کے نوجوانوں کو طبی تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور مقامی سطح پر صحت کی سہولیات میں بھی مزید بہتری آئے گی۔سپیکر صوبائی اسمبلی بابرسلیم سواتی تیمر گرہ میڈیکل کالج کو عوامی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کالج کی فعالیت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور تمام ضروری امور کو جلد مکمل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ اور محکمہ صحت کے دیگر حکام نے اجلاس میں کالج سے متعلق پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ ان شائ اللہ تیمرگرہ میڈیکل کالج کو جلد عملی طور پر فعال کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے محکمہ صحت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گا۔
حکومت خیبرپختونخوا کی سرکاری گوداموں سے فلور ملز کوگندم کی ریلیز جاری، 21 ہزار 319 میٹرک ٹن گندم فراہم کر دی،صوبہ بھر میں 1573 نامزد آٹا ڈیلرز کے ذریعے 6 لاکھ 76 ہزار سے زائد آٹے کے تھیلے عوام کو دیئے گئے
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے عوام کو سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، فلور ملز کو گندم کی فراہمی کا مقصد صوبے میں آٹے کی وافر دستیابی اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنانا ہے، عوام کو سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ نامزد ڈیلرز کے ذریعے عوام کو 20 کلوگرام آٹے کا تھیلا 2520 روپے میں فراہم کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ صوبائی حکومت گندم اور آٹے کی فراہمی کے پورے عمل کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔محکمہ خوراک خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا کہ سرکاری گوداموں سے صوبے کی فنکشنل فلور ملز کو اب تک 21 ہزار 319 میٹرک ٹن گندم فراہم کی جا چکی ہے، جس میں سے 19 ہزار 319 میٹرک ٹن گندم گرائنڈ کی جا چکی ہے۔تفصیلات کے مطابق، صوبے کے تمام اضلاع میں 1573 نامزد ڈیلرز کے ذریعے سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی جاری ہے، جبکہ اب تک 20 کلوگرام آٹے کے 6 لاکھ 76 ہزار 165 تھیلے عوام کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے گندم کی مسلسل فراہمی کا مقصد عوام کو سستے آٹے کی بلاتعطل دستیابی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخ پر آٹے کی فراہمی کے عمل کی مؤثر نگرانی کی جائے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی شکایت کا فوری ازالہ کیا جائے۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری نرخ پر فراہم کیے جانے والے آٹے کے معیار پر بھی نظر رکھیں اور آٹے کے غیر معیاری ہونے یا مقررہ نرخ سے زائد قیمت وصول کیے جانے کی صورت میں محکمہ خوراک کو فوری اطلاع دیں۔
بانی چیئرمین عمران خان کی صحت اور سپریم کورٹ کے باہر دھرنے سے متعلق وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا بیان
بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق خبریں انتہائی تشویشناک ہیں، شفیع جان
عمران خان کی صحت پر وفاق اور پنجاب حکومتوں کی منفی سیاست افسوسناک اور قابل مذمت ہے،شفیع جان
پنجاب حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق تمام حقائق قوم کے سامنے لائے، شفیع جان
عمران خان کی صحت کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھلواڑ ناقابل برداشت ہے، شفیع جان
عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی وفاقی اور پنجاب حکومت کی آمرانہ طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے،شفیع جان
عمران خان سے ان کی بہنوں اور ذاتی معالجین کی فوری ملاقات کرائی جائے، شفیع جان
ذاتی معالجین کی نگرانی میں عمران خان کو بہترین ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں،شفیع جان
ماضی میں نواز شریف اور مریم صفدر کو بھی طبی بنیادوں پر ریلیف اور ضمانت دی گئی تھی،شفیع جان
لیکن عمران خان کو طبی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے، شفیع جان
وفاقی اور پنجاب حکومتیں آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل سنگین خلاف ورزی کر رہی ہیں، شفیع جان
پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی و سینیٹرز آج اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے، شفیع جان
اگر آج عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہ ملی تو جمعرات کو پارٹی پارلیمنٹرینز اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوں گے، شفیع جان
عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی، ہسپتال منتقلی کے لیے ہر آئینی و قانونی فورم سے رجوع کر چکے ہیں،شفیع جان
ہمارے پاس اب لانگ مارچ اور احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، شفیع جان
27 ستمبر کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں نوجوان اسلام آباد کا رخ کریں گے،شفیع جان
وفاق اور پنجاب پر مسلط نااہل ٹولہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کے اعلان سے خوفزدہ ہے، شفیع جان
پشاور میں کچہ گھڑی فارسٹ چیک پوسٹ پر رشوت لینے والا محکمہ جنگلات کا اہلکار موقع پر معطل
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات پیر مصور خان نے پیر کے روز پشاور میں کارخانوں مارکیٹ کے قریب قائم کچہ گھڑی فارسٹ چیک پوسٹ کا اچانک دورہ کیا اور چیک پوسٹ پر تعینات عملے کی حاضری، کارکردگی اور سرکاری فرائض کی انجام دہی کا تفصیلی جائزہ لیا۔اچانک دورے کے دوران مشیر جنگلات نے چیک پوسٹ پر موجود ایک اہلکار کو رشوت لیتے ہوئے پایا جس پر مشیر جنگلات نے نے سخت نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ اہلکار کو فوری طور پر معطل کرنے جبکہ دو اہکاروں کو محکمہ کے ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کئے،مشیر جنگلات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے اور قانون و محکمانہ قواعد کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اختیارات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے اور عوام سے رشوت لینے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پیر مصور خان نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے فیلڈ اسٹاف پر عوام اور حکومت کا اعتماد قائم رکھنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ سرکاری اہلکار عوام کی خدمت، قانون پر عملدرآمد اور محکمہ کی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دینے کے لیے تعینات ہیں، انہیں کسی بھی صورت اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن اور وزیراعلی سہیل آفریدی کے واضح احکامات کی روشنی میں محکمہ جنگلات میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی اہلکار یا افسر کی جانب سے بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال کی شکایت موصول ہونے پر بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔مشیر جنگلات نے کہا کہ اچانک دوروں کا مقصد فیلڈ میں موجود عملے کی کارکردگی کو جانچنا اور محکمانہ امور میں شفافیت یقینی بنانا ہے۔ ایسے اچانک معائنے آئندہ بھی جاری رکھے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں جنگلات کے چیک پوسٹس، ناکوں اور فیلڈ دفاتر کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے، سرکاری ریکارڈ کو باقاعدگی سے چیک کیا جائے اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔پیر مصور خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ جنگلات کو ایک شفاف، فعال اور عوام دوست ادارہ بنایا جائے گا اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
Joint Efforts Essential for Sustainable Peace, Countering Extremism and Building a Safe Society: Tariq Saeed Marwat
Special Assistant to the Chief Minister for Home and Tribal Affairs, Tariq Saeed Marwat, participated as chief guest in a special seminar organized by the Khyber Pakhtunkhwa Centre of Excellence for Countering Violent Extremism (KPCVE).
The seminar featured detailed discussions on counter-terrorism, prevention of violent extremism, sustainable peace and stability, promotion of law and order, and fostering tolerance and social harmony.
Speaking on the occasion, Tariq Saeed Marwat reaffirmed the provincial government’s commitment to establishing lasting peace and combating extremism in Khyber Pakhtunkhwa. He said protection of the lives and property of citizens, maintenance of law and order, and creation of a safe and peaceful society remain among the government’s foremost priorities.
He said that efforts by law-enforcement agencies alone were not sufficient to counter extremism and violence. The government, state institutions, educational circles, civil society and the public must work collectively to address the underlying causes of extremism. He emphasized that promoting tolerance, mutual respect, social harmony and positive thinking could play an important role in preventing extremist tendencies.
Tariq Saeed Marwat said the people of Khyber Pakhtunkhwa had made immense sacrifices for peace and that the provincial government highly valued these sacrifices. He reaffirmed that efforts to establish sustainable peace would be further strengthened through improved coordination among relevant institutions and a more effective and integrated strategy.
The Special Assistant said peace, stability and a secure Khyber Pakhtunkhwa were a shared responsibility, requiring every segment of society to play a constructive role.
He appreciated the efforts of KPCVE in organizing the seminar and promoting awareness, dialogue and informed discussion on preventing violent extremism.
عوام کو معیاری تعلیمی خدمات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے – ارشد ایوب خان
صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا ارشد ایوب خان کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس ہری پور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع ہری پور میں تعلیمی شعبے کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر سیاحت و ثقافت ملک عدیل اقبال ,ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا جعفر منصور عباسی،ڈپٹی سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نور پاؤ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز میل و فیمیل ہری پور،ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر،محکمہ مواصلات و تعمیرات C&W کے حکام اور محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع ہری پور میں تعلیمی معیار کی بہتریطلبہ و طالبات کو بنیادی اور ضروری سہولیات کی فراہمی،تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو محکمہ تعلیم کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی سہولیات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر ارشد ایوب خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ضلع ہری پور کے تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے، طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری تعلیمی خدمات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تعلیمی اداروں میں سہولیات کی بہتری، تعلیمی معیار بلند کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق خبریں انتہائی تشویشناک ہیں، شفیع جان
وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق فوری طور پر قوم کے سامنے لائے جائیں،شفیع جان نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھلواڑ ناقابل برداشت ہے۔ عمران خان سے ملاقاتوں پر مسلسل پابندی وفاقی اور پنجاب حکومت کی آمرانہ طرز حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فیملی، پارٹی قیادت، کارکنان اور پوری قوم ان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر عمران خان سے ان کی بہنوں اور ذاتی معالجین کی ملاقات کرائی جائے ،اور انکے ذاتی معالجین کی نگرانی میں سب سے بہترین ہسپتال میں انکا علاج کرایا جائے ،وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کو گزشتہ نو ماہ قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کی فیملی، ذاتی معالجین اور سیاسی قیادت کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ دوسری جانب ماضی میں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ریلیف دیا گیا تھا جبکہ مریم نواز کو بھی نواز شریف کی تیمارداری کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی تھی۔شفیع جان نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں برسر اقتدار حکمران معمولی بیماری کی صورت میں بھی بیرون ملک علاج کرواتے ہیں، لیکن عمران خان اور انکی اہلیہ بشری بی بی کو بنیادی طبی سہولیات اور ذاتی معالجین تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اعلان کے مطابق پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کل بروز منگل اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔ عمران خان کو بنیادی طبی سہولیات، ہسپتال منتقلی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے پارٹی نے ہر آئینی و قانونی فورم سے رجوع کیا ہے۔وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ اگر کل عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات نہیں کرائی گئی تو جمعرات کو تمام پارلیمنٹیرینز اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی مطالبہ نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات اور انہیں طبی سہولیات کی فراہمی ان کا بنیادی آئینی و قانونی حق ہے، لیکن بدقسمتی سے وفاق اور پنجاب میں برسر اقتدار جعلی حکومتیں آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف کررہی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب بھرپور لانگ مارچ ہوگا کیونکہ لانگ مارچ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔
زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی بحالی کے لیے جامع حکمتِ عملی تشکیل، نئے منصوبوں میں پانی ذخیرہ کرنے کا نظام لازمی کرنے کی ہدایت
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں تیزی سے کم ہوتے زیرِ زمین پانی کے مسئلے کا جائزہ لیا گیا اور اس کی بحالی کے لیے جامع حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ تیار کیے جانے والے تمام پی سی ون میں زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام شامل کرنا لازمی ہوگا تاکہ پانی کی کمی کے مسئلے پر پائیدار انداز میں قابو پایا جا سکے۔ محکمہ بلدیات اس شرط کو عمارتوں کے تعمیراتی قوانین کا حصہ بنائے گا جس کے بعد نئی عمارتوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے بنانا لازمی ہوگا۔عملی طور پر مثال قائم کرنے کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں کم از کم ایک ایسی عمارت کی تعمیر یقینی بنائیں جس میں زیرِ زمین پانی کی بحالی کا نظام نصب ہو۔ اسی طرح واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیاں اور تحصیل میونسپل انتظامیہ بھی ان علاقوں میں خصوصی منصوبے شروع کریں گی جہاں پانی کی قلت زیادہ شدید ہے۔
محکمہ بلدیات کے TMAs/WSSCs شہروں کے سیلاب زدہ نشیبی علاقوں کی شناخت کریں اور وہاں بارش کے پانی کے ذخیرے اور زیر زمین ریچارج کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ کے انتظامات کریں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر ادارے پانی کی کمی کے مسئلے کو سائنسی اور جدید طریقوں سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے مہینوں میں اس منصوبے کو مزید وسعت دی جائے گی۔اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ پانی کے تحفظ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہے اور زیرِ زمین پانی کی بحالی کی یہ مہم عوام کی فعال شرکت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی ادویات کے بجٹ کے استعمال سے متعلق اہم ہدایات
محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے مالی سال 2026-27 کے دوران ضلعی صحت دفاتر اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کو ادویات کی خریداری کے لیے مختص بجٹ کے استعمال سے متعلق سخت ہدایات جاری کی ہیں۔محکمہ صحت کے مطابق ادویات کے لیے مختص بجٹ کو صرف اور صرف ادویات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا اور خریداری منظور شدہ اسٹینڈرڈ میڈیسن لسٹ (SML)، مروجہ قواعد و ضوابط اور متعلقہ رہنما اصولوں کے مطابق کی جائے گی۔واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ادویات کے لیے مختص بجٹ کا کوئی بھی حصہ کسی دوسری سرگرمی، مقصد یا اخراجات کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح گزشتہ مالی سالوں کی پرانی واجبات، بقایاجات یا زیرِ التوا ادائیگیوں کی کلیئرنس کے لیے بھی اس بجٹ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران ادویات کے مختص بجٹ کو مقررہ مقصد کے لیے ہی استعمال کیا جائے اور اس حوالے سے مکمل شفافیت اور قواعد کی پابندی یقینی بنائی جائے۔محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ جاری کردہ ہدایات سے کسی بھی قسم کا انحراف یا بجٹ کا غیر مجاز استعمال سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس کی ذمہ داری متعلقہ افسر پر عائد ہوگی۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی وسائل کا شفاف، مؤثر اور مقررہ مقصد کے مطابق استعمال محکمہ صحت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
