Home Blog Page 419

ایبٹ آباد کے مسائلات پر چیف منسٹر کی ہاؤس میں اہم اجلاس، عوام کے مسائل کا فوری حل کا فیصلہ

ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ایبٹ آباد کے عوامی مسائل کے حل کے لئے ایک اہم اجلاس پیر کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔ نگراں وزیراعلیٰ جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی۔ نگران صوبائی وزراء انجینئر احمد جان، انجینئر عامر ندیم درانی اور وزیراعلیٰ کے ترجمان بریگیڈیئر (ر) سید مجتبیٰ ترمذی کے علاوہ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سید امتیاز حسین شاہ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، کمشنر ہزارہ ڈویژن، آر پی او ہزارہ اور دیگر متعلقہ حکام شرکت کی۔ اجلاس میں عوام کو درپیش مسائل کی فوری نوعیت پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کا مقصد انہیں حل کرنا ہے اور نگران وزیراعلیٰ کی طرف سے ضلع ایبٹ آباد کے حالیہ دورہ کے دوران جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آر پی او ہزارہ اور ضلعی پولیس افسران متعلقہ تھانوں کے اچانک دورے کر رہے ہیں جبکہ شاہراہ قراقرم پر مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے پولیس پٹرولنگ سمیت متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں ہزارہ موٹروے سے متعلق مسائل کے حل کے لئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے اعلیٰ حکام کا خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح چیئرمین نے خیبرپختونخوا سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ پر عمل درآمد کے حوالے سے غیر ضروری تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اس کمزور پر تمام متعلقہ حکام کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس اہم پراجیکٹ سے متعلق معاملات کو مزید حل کرنے کا فیصلہ کیا جا سکے۔ KP-CIP کے نفاذ تک ایبٹ آباد شہر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا انتظام۔ مزید برآں سیلابی پانی کے نکاس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی وضع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کا مقصد ایبٹ آباد شہر کو سیلاب اور بارش کے پانی سے بچانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ایبٹ آباد واٹر سپلائی سکیم پر واضح پیش رفت کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کریں۔

انور شیر خان مکہ مکرمہ میں شہید کیپٹن کرنل شیر خان کے لئے حج کا فریضہ انجام دیں گے۔

خیبر پختونخوا کی نگران صوبائی حکومت نے شہید کیپٹن کرنل شیر خان (نشان حیدر) کے بھائی انور شیر خان کو سرکاری خرچ پر سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ کارگل جنگ کے قومی ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے لئے مکہ مکرمہ میں حج ادا کرسکیں. اس بات کا اعلان نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے صوابی میں کرنل شیر خان کے مزار کا دورہ کرتے ہوئے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے بھائی و خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا. نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ شہید کیپٹن کرنل شیر خان ہمارا فخر ہیں جنہوں نے کارگل جنگ کے دوران پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور جس کی بہادری کے دشمن بھی متعرف ہوئے. ملک پر جان نچھاور کرتے ہوئے ہمارے صوبے کے پہلے نشان حیدر ہونے پر ہمیں ان پر اور ان کے خاندان پر فخر ہے. شہید کے ایسال ثواب کیلئے ان کے بھائی انور شیر خان سرکاری خرچ اور اعزاز کے ساتھ مکہ مکرمہ جائیں گے اور شہید کیپٹن کرنل شیر خان نشان حیدر کے لئے حج کا فریضہ انجام دیں گے. دوسری جانب کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مزار پر مہمانوں کی کتاب میں تاثرات قلمبند کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے قومی ہیرو کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور لکھا کہ پوری قوم شہید کیپٹن کرنل شیر خان کے درجات کی بلندی کے لئے دعاگو ہے۔

محکمہ ہاؤسنگ کے افسران اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔مشیر برائے ہاؤسنگ

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے ہاؤسنگ محمد اشفاق خان کو پیر کے روز محکمہ ہاؤسنگ کے منصوبوں، محکمہ کی کار کردگی اور اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیکر ٹری ہاؤسنگ ڈاکٹر امبر علی اور ڈی جی روشان محسودنے بریفنگ دیتے ہوئے مشیر برائے ہاؤسنگ کو بتایا کہ کہ محکمہ نے خیبر پختونخوا میں اے ڈی پی،سلف فنانس سکیم اور نجی اشتراک سے مختلف رہائشی منصوبے شروع کیئے ہیں جن میں سے جلوزئی ہاؤسنگ سکیم نوشہرہ اورحویلیاں ٹاؤن شپ سکیم ایبٹ آباد سمیت متعدد منصوبے مکمل کر لیئے گئے ہیں اور بعض پر کام جاری ہے جبکہ کچھ منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ برینگ میں بتایا گیا کہ نوشہرہ جلوزئی سکیم، حویلیاں ٹاؤں شپ ایبٹ آباد، ہنگو ٹاؤن شپ، ورسک۔1پشاور،دنگرام ہاؤسنگ سکیم سوات، رحمان بابا کمپلیکس پشاور، ڈیری زرداد چارسدہ، بنی گل سٹی،ورسک۔II، ملٹی پلیکس مردان، ملٹی پلیکس ایبٹ آباد کے منصوبوں کو محکمہ ہاؤسنگ نے سلف فنانس سکیم کے تحت شروع کیا ہے۔اسی طرح پشاور ریزیڈنشیاسرازئی پشاور، کے۔پی۔ ایچ۔ اے میگا سیٹی نوشہرہ، ایگزیکٹو بلا ک جلوزئی، صوبائی اسمبلی کو آپریٹو سو سائٹی کی سکیمیں سلف فنانس اور پارٹنر شپ تحت مکمل کی جا رہی ہیں اوراے ڈی پی میں مکمل کیئے جانے والے منصوبوں میں ملازئی ہاؤ سنگ سکیم،بائی زئی فلیٹ حیات آباد،جرمہ ہاؤ سنگ سکیم کو ہاٹ، سول کواٹر فیز۔Iاور سول کوارٹر فیز۔II شامل ہیں۔ اس موقع پرمحکمہ کے ایکٹ2005 کے حوالے سے بھی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا جبکہ مشیر ہاؤ سنگ نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ محکمہ ہاؤسنگ صوبے کے عوام کو بہترین رہائش کی فراہمی کے منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرے تاکہ عوام ان سے جلد مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ ہاؤسنگ کو اگر ان عوامی منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی دشواری یا رکاوٹ کا سامنا ہو تو اسے فوری ان کے نوٹس میں لائے تاکہ بروقت اس کا حل نکالا جا سکے اور ترقیاتی عمل متاثر نہ ہو۔

نجی اور سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں نشستوں میں اضافے کے حوالے سے اہم اجلاس۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیرِ صدارت صوبے کے سرکاری و نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی نشستوں میں اضافے سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ پشاور میں منعقد ہوا۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور، محکمہ صحت کے اعلی حکام اور صوبے کے سرکاری و نجی میڈیکل کالجز کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں کالجز کی موجودہ استعداد، سیٹوں میں اضافے کی ممکنہ استعداد اور دیگر متعلقہ پہلووں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو خیبر پختونخوا میں نجی اور سرکاری کالجز اور ان کی استعداد کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سرکاری و نجی دونوں شعبوں میں مجموعی طور پر 21 میڈیکل کالجز اور گیارہ ڈینٹل کالجز ہیں جن میں سالانہ نشستوں کی کل تعداد 3210 ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ صوبے کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں سیٹوں کی محدود تعداد کی وجہ سے ہر سال ہزاروں کوالیفائیڈ اُمیدوار داخلوں سے محروم رہ جاتے ہیں جس کے پیش نظر صوبے کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی موجودہ نشستوں میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ انہوں نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی نشستوں میں اضافے کا معاملہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے حکام کے ساتھ اٹھایا ہے اور اور پی ایم ڈی سی نے صوبے کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی استعدادکے مطابق نشستوں میں اضافے سے اصولی اتفاق کرلیا ہے، یہ ایک سنہرا موقع ہے اور ہمیں اس موقع سے بھر پور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے لہذا تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز اس سلسلے میں اپنی اپنی استعداد اور ضروریات کے بارے میں بلاتاخیر صوبائی حکومت کو آگاہ کریں تاکہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد معاملہ حتمی منظوری کے لئے پی ایم ڈی سی کو ارسال کیا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ سیٹوں میں اضافے کے سلسلے میں حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ تعلیمی و تدریسی معیار متاثر نہ ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں پی ایم ڈی سی کے مروجہ معیارات پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کی اضافہ شدہ سیٹوں پر داخلوں میں خیبرپختونخوا کے طلباءو طالبات کو ترجیح دینے اور ان سیٹوں کا 20 فیصد حصہ سکالرشپ پر مستحق امیدواروں کے لیے مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ نگران وزیر اعلیٰ نے اجلاس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا حتمی مقصد مختلف شعبوں میں زیادہ سے زیادہ قابل اور ماہر افرادی قوت تیار کرنا ہے جو خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام کا ایک اہم جزو ہے۔ اجلاس کے شرکاءنے نشستوں میں اضافہ کے حوالے سے نگران وزیراعلیٰ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ وزیراعلیٰ کی بڑی کامیابی اور صوبے کے عوام کی بہت بڑی خدمت ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صنعتی اور سرمایہ کاروں کے لئے ڈیجیٹل موبائل ایپ کا اجراء کیا گیا۔

خیبر پختونخواحکومت نے صوبے میں صنعتکاری کے فروغ اور سرمایہ کاروں و صنعتکاروں کو حکومت کی جانب سے ادارہ جاتی خدمات آسان بنانے کی غرض سے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کی ڈیجیٹل موبائل ایپ متعارف کردی ہے جس کے ذریعے اب صوبے میں سرمایہ کاری کے خواہشمند افراد اور صنعت کاروں کو کمپنی کی جانب سے درکار خدمات،سہولیات اور تمام معلومات موبائل ایپ پر آن لائن دستیاب ہونگی۔ خیبر پختونخوا پورے ملک میں اب پہلا صوبہ بن گیا جس نے سرکاری شعبے میں صنعتکاری کے سلسلے میں اس نوعیت کی ایک جامع اور ہر پہلو سے مفید ایپ متعارف کرادی۔خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے صنعت وحرفت،فنی تعلیم اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کے پی ایزڈمک کے مرکزی دفتر حیات آباد پشاور میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جاوید اقبال خٹک اور دیگر مینجمنٹ کی موجودگی میں بٹن دبا کر ڈیجیٹل موبائل ایپ کا باضابطہ افتتاح کیا۔واضح رہے کہ نگران وزیر نے کمپنی کو اپنی خدمات کی آن لائن دستیابی کیلئے اس سہولت کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے ٹاسک سونپ دیا تھا جس کے سلسلے میں کمپنی کے آئی ٹی شعبے نے پندرہ روز کے اندراندر اس کو عملی جامہ پہنایا۔اس موقع پر نگران وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے اس اہم منصوبے کی تکمیل پر کمپنی کی مینجمنٹ اور پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خیبر پختونخوا میں صنعتی شعبے میں صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے ایک نمایاں اقدام ہے۔انھوں نے کہا کہ اس منصوبے میں ہمارے صوبے نے سرکاری شعبے میں دیگر صوبوں پر سبقت حاصل کی جس پر کے پی ایزڈمک کی پوری ٹیم داد کی مستحق ہے۔ نگران وزیر نے ہدایت کہ اس آن لائن سہولت کو وقت کیساتھ ساتھ ہر پہلو سے مکمل اور مزید سہل بنایا جائے جس میں صنعتوں اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تمام درکار خدمات اور معلومات کا ایک جامع احاطہ موجود ہو۔ انھوں نے کہا کہ ایپ کے استعمال کو کمپنی کے مروجہ قوانین اور ضوابط”بائی لاز”کے لازمی جز کے طور پر شامل کیا جائے۔نگران وزیر نے کہا کہ ایپ میں صوبے کے صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کیلئے تیار خالی پلاٹس کا پوراڈیٹا بھی موجود ہونا چاہیئے تاکہ اس سلسلے میں خواہشمند سرمایہ کاروں کو موبائل ایپ ہی کے ذریعے صوبے کی تمام صنعتی بستیوں میں پرکشش ترغیبات اور صنعتیں لگانے کیلئے پلاٹس کی معلومات کا حصول آسان ہو۔ انھوں نے اس سلسلے میں اس ٹاسک کو ایک ہفتے کے اندر اندر مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی۔

نگران وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں کے لئے فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار فراہم کرنے والے پروگرام کا آغاز کیا۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں جدید مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کی فراہمی کے پروگرام کا باضابطہ اجراءکردیا ہے۔ پروگرام کے تحت ابتدائی مرحلے میں ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، نرسنگ، پیرامیڈیکس اور دیگر شعبوں میں کریش کورسز کروائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے مختلف محکموں اور اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط بھی کئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی نگران وزیراعلیٰ سید ارشد حسین شاہ تھے جبکہ نگران کابینہ اراکین ، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، شراکت دار اداروں کے نمائندوں ، صحافی حضرات اور طلباءو طالبات کی کثیر تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں مختلف محکموں اور اداروں کے مابین سات مفاہمتی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط کئے گئے جن کے باہمی تعاون سے ٹارگٹڈ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں کریش کورسز کروائے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق انسٹیٹوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور نے محکمہ ا±مور نوجوانان اورخیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے ساتھ دو مختلف مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی نے محکمہ اعلیٰ تعلیم اور تیز رفتار سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے ساتھ دو مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے جبکہ خیبرپختونخو ا آئی ٹی بورڈ اور سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ کے درمیان بھی ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کامسیٹس نے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز جبکہ پاک آسڑیا فخہ شولے انسٹیٹوٹ نے خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے ساتھ ایک ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے۔ نگران وزیراعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں بیروزگاری ایک دیرینہ مسئلہ ہے ، اپنے نوجوانوں کو بیروزگار دیکھ کر ہمیشہ سے بڑی تکلیف ہو تی تھی۔ا±نہوںنے کہاکہ اب اﷲ تعالیٰ نے موقع دیا تو ترجیحی بنیادوں پر نوجوان طبقے کی فلاح کیلئے پروگرام کا اجراءکیا ہے۔نگران حکومت کی مدت مختصر ہے اور بنیادی کام عام انتخابات کے صاف و شفاف انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا ہے جس کے لئے ہم ہر ممکن اقدامات یقینی بنائیں گے تاہم اس مختصر مدت کو ہم مخلوق کی بھلائی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بھی استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔

میڈیکل ڈائریکٹرپروفیسر ڈاکٹر محمد آیاز خان کی سربراہی میں انفیکشن کنٹرول کمیٹی کا ہنگامی اجلاس۔

ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز حکومت خیبر پختونخواکے احکامات کی روشنی میں بروز بدھ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا جس میں انفیکشن کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ہاشم الدین اعظم خان، چیئرمین میڈیسن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر اویس نعیم، نرسنگ ڈائیریکٹر عصمت پاشا اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں چیئرمین کنٹرول کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر ہاشم الدین نے کورونا کے نئے ویرنٹ اور دیگر موسمی بیماریوں کے پھیلاؤ کے بارے میں آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا قلیدی کردار اور تمام سٹاف کی قربانیاں بے مثال ہیں ہم نے ماضی میں کورونا کی سخت سے سخت لہرمیں ہر ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی ہیں اور بہت کچھ ہمیں سیکھنے کو بھی ملا اور اسی طرح آنے والی خدانخواستہ کسی بھی وباء کا ہم ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں جس کے لیے انہوں نے ہسپتال انتظامیہ سے کورونا وارڈ دوبارہ بحال کرنے کی بھی درخواست کی جس کے لیے اجلاس میں پرانے آئسولیشن اورپرانی ایمرجنسی عمارت کو مختص کرنے کافیصلہ کیا گیا جس میں تمام تر سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے 24 گھنٹے کی سروسز بحال کی جائے گی۔اجلاس سے اپنے خطاب میں میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد آیاز خان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کی طرح خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے سینیئر ڈاکٹرز ہر وباء اور ایمرجنسی صورتحال میں پیش پیش رہے ہیں یہاں کے تجربہ کار اور ماہر ڈاکٹروں کی عوام کے لیے اور اس ادارے کے لیے خدمات کو ہمیشہ کے لیے سراہا جائے گا، انھوں نے کورونا کے نئے جے این ون ویرنٹ اور سینے کی دیگر بیماریوں کے پھیلاؤاور حکومت خیبر پختونخواکے احکامات کی روشنی میں ہسپتال میں اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں جن میں کورونا کے مریضوں کے لیے ایک الگ وارڈ مختص کرنا، علیحدہ لیبارٹری اور ویکسینیشن کے لیے ڈی جی ہیلتھ کے ساتھ روابط تیز کرنے کے بھی احکامات جاری کیے گئے۔

نگران معاون خصوصی ظفر اللہ خان عمرزئی نے خیبر پختونخوا سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ ظفراللہ خان عمرزئی سے انکے دفتر میں خیبر پختونخوا سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں پر مشتمل ایک وفد نے ایسوسی ایشن کے چئیرمین نثار احمد کی قیادت میں ملاقات کی۔ اس موقع پر کے پی ایسوسی ایشن کے صدر شایان علی شاہ، جنرل سیکرٹری محمد علی، بی آر ٹی کے چیف ایگزیکٹو طارق اور نگران معاون خصوصی کے کوآرڈینیٹر قیصر خان خٹک بھی موجود تھے۔ نگران معاون خصوصی ظفراللہ خان عمرزئی کو سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے صوبے میں سائیکل ریس کے مقابلوں اور سائیکل ریس کھیل کے فروغ کے لیئے ایسوسی ایشن کی جانب سے کیئے گئے اقدامات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔نگران معاون خصوصی ظفراللہ خان عمرزئی نے اس موقع پر کہا کہ کھیلوں کی سرگرمیوں کی انعقاد سے نوجوان نسل کو بہت سے برائیوں سے بچایا جاسکتا ہے صوبے میں کافی ٹیلنٹ موجود ہے جو نہ صرف صوبے کا بلکہ پاکستان کا نام دنیا میں روشن کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں کھیلوں سے وابستہ ایسوسی ایشنز کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد کیلیے بھرپور کوشش کریں اور صوبے کے بہترین ٹیلنٹ کو سامنے لانے کیلیے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کے پی سائیکلنگ ایسوسی ایشن کی مختلف سرگرمیوں کو سراہا اور ایسوسی ایشن کے عہدیداروں پر زور دیا کہ صوبے سے سائیکلنگ کے ٹیلنٹڈڈ اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو سامنے لانے کیلیے بھرپور اقدامات اٹھائیں تاکہ بین الاقومی سطح پر صوبے کے کھلاڑی سائیکلنگ مقابلوں میں خیبرپختونخوا اور پاکستان کا نام روشن کرسکیں۔

ضم اضلاع کو ملک اور صوبے کے دیگر علاقوں کے ساتھ برابر لانے کے لئے جامع اور بڑا معاشی پلان تشکیل دیا گیا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے ضم اضلاع کو ترقی کے سفر میں ملک اور صوبے کے دیگر علاقوں کیساتھ برابر لانے کی غرض سے ایک جامع اور بڑا معاشی پلان”ہائی ایمپیکٹ اکنامک پلان”تشکیل دیا ہے جسکا مقصد اس خطے کے معاشی و پیداواری شعبوں کو ترقی کا محور بناکر انھیں علاقائی ترقی اور استحکام کیلئے بروئے کار لاتے ہوئے ان علاقوں کے مسائل ومشکلات کو حل کرنا اور یہاں معاشی ومعاشرتی زندگی کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ضم اضلاع میں قدرتی وسائل کی کثرت کے پیش نظر ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ اٹھانے کیلئے انھیں مذکورہ ترقیاتی پلان میں ترجیح دی گئی ہے جبکہ اس میں صنعت وحرفت اور ہنرمندانہ تعلیم، کان کنی ومعدنی ترقی،زراعت،توانائی وبرقیات،لائیوسٹاک،جنگلات وماحولیات،آبپاشی وآبنوشی،کھیل،سیاحت وامورنوجوانان،سڑکیں اور مواصلات اورسرحدی معیشت کے 10 اہم شعبوں کو ترقیاتی عمل کیلئے اہم اہداف قرار دیا گیا ہے۔معاشی پلان کے مطابق ان اضلاع میں ترقیاتی اقدامات کیلئے تخمینہ 142,614 ملین روپے لگایا گیا ہے جن میں 139494 ملین روپے صوبائی حکومت فراہم کرے گی جبکہ 3120 ملین روپے ڈونر فنڈ کا حصہ شامل ہوگا۔مجموعی پلان میں ضم اضلاع کے جاری اور نئے تقریبا 96 ترقیاتی منصوبے شامل کئے گئے ہیں جن میں 23 سڑکوں کے منصوبے،11 صنعتوں کے،12زراعت،5معدنیات،8سیاحت وکھیل و امورنوجوانان،3توانائی وبرقیات،7 لائیوسٹاک،7 جنگلات وماحولیات،9 پانی اور 11 سرحدی معیشت یا بارڈر اکانومی کے منصوبے شامل ہیں جو پایہ تکمیل تک پہنچائے جائیں گے۔معاشی پلان کے مطابق ضم اضلاع میں متوقع نتائج کے مطابق تقریبا 61525 ایکڑ اراضی کو آبپاشی کے قابل بنایا جائے گا جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے 41310 ایکڑ۔ فٹ زمینی سطح کی تیاری کی گنجائش پیدا کی جائے گی۔اس طرح پلان کے تحت 3 سالوں کے دوران 629 کلومیٹر سڑکوں کی بحالی اور بہتری کو ہدف بنایا گیا ہے جبکہ 274 کلومیٹر نئی سڑکیں بھی مزکورہ سالوں کے دوران تعمیر کی جائیں گی۔ ضم اضلاع میں 320 زمینداروں کوآئندہ تین سالوں کے دوران ڈیری فارمنگ کی طرف لایا جائے گا جبکہ650 زمینداروں کومویشی پالنے/جدید ہسبنڈری کی تربیت دی جائے گی۔اسی طرح زمینداروں کو 1900 عدد اعلیٰ نسل کے مویشی بھی دیئے جائیں گے۔ اسی طرح سات اضلاع میں grid۔ offسولر سسٹم کے ذریعے 200,000 گھرانوں کو بجلی مہیاکی جائے گی جبکہ384 بنیادی مراکز صحت کو بھیgrid۔ offسولر سسٹم کے ذریعے ہر سال بجلی مہیا کرنا بھی پلان میں شامل کیا گیا ہے۔ اس پلان میں شامل ترقیاتی منصوبوں میں 69 منصوبوں کی فنانسنگ حکومت کرے گی جبکہ زائد اثرات والی 21 سکیموں کو امدادی اداروں کے ذریعے مالی مدد فراہم کی جائے گی جبکہ چھ منصوبوں کو نجی شعبے کے تعاون مکمل کیا جائے گا۔

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے زیر صدارت نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار حاصل کرنے پر ترقیاتی اقدامات پر تفصیلی جائزہ لیا۔

نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت پیر کے روز وزیر اعلی ہائوس پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں جدید تربیت دینے اور انہیں روزگار کے لیے بیرون ممالک بھیجنے کے منصوبے پر اب تک کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نگران صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ کے علاہ منیجنگ ڈائریکٹر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن نصیر خان کاشانی، منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی عامر آفاق، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز ڈاکٹر عثمان غنی اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو مختلف شعبہ جات میں نوجوانوں کو جدید تربیت دینے، بیرون ممالک درکار افرادی قوت، اور صوبے کے نوجوانوں کو بیرون ممالک بھیجنے سے متعلق حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت صوبے کے بیروزگار نوجوانوں کو باروزگار بنانے کے لیے نا صرف پر عزم ہے بلکہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ صوبے میں نرسز کی تعداد کو کئی گنا بڑھانے پر بھی کام جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے لیے بیرون ممالک بھیجا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے ہم نے اسے پائیدار بنیادوں پر ترقی دینے کے لیے اپنا انفرادی و اجتماعی کرادار ادا کرنا ہوگا۔ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کر کے اسے اثاثہ بنایا جائے۔میری کوشش ہے کہ ایک ایسی بنیاد رکھوں جس کو آئندہ حکومت مزید آگے بڑھا سکے اور عوام کی بھلائی ہو۔ اس وقت صوبے کے بڑے مسائل میں سے ایک بیروزگاری بھی ہے جس پر قابو پانے کے لیے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر کام کرنا ضروری ہے ۔