Home Blog Page 43

ایڈز کا عالمی دن ہر سال یکم دسمبر کو اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے

ایڈز کا عالمی دن ہر سال یکم دسمبر کو اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ ایڈز ایک لاعلاج بیماری نہی ہے بلک اس کی بروقت تشخیص سے اس کا علاج ممکن ہے اور افراد ایک صحتمند زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر صحت خیبر پختونخواخلیق الرحمان اور سیکٹری صحت نے عوام کو اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج کے حوالے سے اپنے الگ الگ پیغامات اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس حوالے سے محکمہ صحت کی داخلی رپورٹ میں یہ امر واضح کیا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کیسز کی حالیہ بڑھتی ہوئی تشخیص دراصل انٹیگریٹڈ ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور تھیلیسیمیا کنٹرول پروگرام، محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ اضافہ بیماری کے پھیلاؤ کی علامت نہیں بلکہ بہتر اسکریننگ، توسیع شدہ طبی سہولیات اور عوام میں بڑھتی ہوئی آگاہی کا نتیجہ ہے۔صوباء وزیر خلیق الرحمان نے کہا ہیکہ دسمبر 2023 تک صوبہ خیبر پختونخوا میں 06 ایچ آئی وی علاج و اسکریننگ مراکز فعال تھے۔ جنوری 2024 میں محکمہ صحت نے 07 مزید مراکز کا افتتاح کیا، جس سے صوبہ بھر میں تشخیصی اور علاج کی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی۔ ان مراکز کے قیام کے ساتھ ہی صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں پوشیدہ کیسز کی نشاندہی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔آئی بی بی ایس سروے اور کامن مینجمنٹ یونٹ (CMU) کے تخمینوں کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی کے000 35, سے زائد کیسز موجود ہیں، جن میں سے اب تک ,600 9کیسز کی باقاعدہ شناخت ہو چکی ہے۔ محکمہ صحت اور صوباء حکومت خیبر پختونخوا اس امر کے لیے پرعزم ہے کہ زیادہ سے زیادہ پوشیدہ کیسز کو اسکریننگ کے ذریعے سامنے لا کر انہیں علاج کے نظام میں شامل کیا جائے۔ جتنی زیادہ اسکریننگ ہوگی، اتنے ہی زیادہ کیسز سامنے آئیں گے، اور بروقت تشخیص ہی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ایچ آئی وی/ایڈز کا علاج صوبے کے تمام 13 علاج مراکز میں زندگی بھر مفت فراہم کیا جا رہا ہے، جس کے لیے گلوبل فنڈ کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔صوباء وزیر نے واضح کیا کہ محکمہ صحت علاج کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آگاہی اور بچاؤ کی سرگرمیوں کو بھی مسلسل مزید مضبوط بنا رہا ہے، اور یہ ایک حوصلہ افزا امر ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اب خود آگاہی کے تحت ٹیسٹنگ اور علاج کے لیے مراکز سے رجوع کر رہی ہے۔محکمہ صحت یکم دسمبر سے عالمی ایڈز ڈے کے حوالے سے ایک ماہ پر مشتمل خصوصی آگاہی سرگرمیوں کا آغاز کرے گا۔ محکمہ صحت اور صوبائی حکومت پر عزم ہے کہ بیماریوں کے علاج اور طبی صحولیات کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اور اگاہی کے حوالے سے بھی کام ہو رہا ہے تاکہ عوام اور محکمہ صحت مل کر ایک صحتمند اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت بن سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی روڈمیپ امپلیمنٹیشن کمیٹی کا اجلاس سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ داؤد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت جاری منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی روڈمیپ امپلیمنٹیشن کمیٹی کا اجلاس سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ داؤد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت جاری منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع ایبٹ آباد میں واٹر سپلائی سسٹمز سے متعلق ڈیٹا کلیکشن مقررہ مدت سے قبل مکمل کرلیا گیا ہے Community-Based Information System Module سے متعلق اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع سے ڈیٹا کی اکٹھا اور اپ ڈیٹیشن مکمل ہوچکی ہے، جسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منظم انداز میں شامل کردیا گیا ہے خیبر پختونخوا رورل انوسمنٹ اینڈ انسٹیٹوشنل سپورٹ پراجیکٹ کے بارے اجلاس کو بتایاگیا کہ خیبر، مہمند اور باجوڑ کے لیے تیار کردہ پی سی ون کا ابتدائی مسودہ نظرثانی کے مرحلے میں ہے جبکہ نئی ڈیڈ لائنز بھی مقرر کردی گئی ہیں چس پر سیکرٹری نے متعلقہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ پی سی ون کو تکنیکی معیار اور زمینی ضروریات کے مطابق جلد از جلد حتمی شکل دی جائے آگاہی مہمات اور پانی کے معیار سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ کمیونٹی سینٹرز، مقامی عمائدین اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دی جارہی ہے تاکہ عوام میں محفوظ اور معیاری پانی کی اہمیت سے متعلق شعور اجاگر کیا جاسکے۔ فیلڈ لیبارٹریز اور ٹیموں کو پانی کے معیار کی مسلسل جانچ کے لیے مزید فعال کیا گیا ہے اجلاس کو مذید بتایا گیا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی موبائل ایپ کا پروٹو ٹائپ آخری مراحل میں ہے۔ ایپ کو اگلے آرآئی سی اجلاس میں باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا یہ ایپ شکایات کے اندراج، معلومات کی فراہمی اور فیلڈ ڈیٹا مینجمنٹ میں اہم کردار ادا کرے گی سیکرٹری داؤد خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پوری شفافیت، جدید ٹیکنالوجی اور ٹیم ورک کے ذریعے صوبے کے عوام کو معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس روڈمیپ نہ صرف محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا بلکہ عوامی اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ کرے گاصوبے میں پائیدار ترقی، شفافیت اور عوامی خدمات میں بہتری کے لیے محکمہ مسلسل مؤثر اقدامات کررہا ہے.

معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان/ این ایف سی ایوارڈ

نوجوان وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبے کے وسائل ، این ایف سی شیئرز اور مسائل کے حوالے سے عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کے لیے خیبرپختونخوا کے تمام جامعات میں آج سیمینارز منعقد کیے جارہے ہیں – شفیع جان

سیمینارز کا مقصد طلبہ کو صوبے کے وسائل ، این ایف سی شیئرز اور مسائل سے آگاہ کرنا ہے : شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی این ایف سی پر تمام پارٹیز کے پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لینگے۔ شفیع جان

تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو بھی صوبے کے جائز حقوق کے حصول میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

سابقہ فاٹا کا انتظامی انضمام ہوگیا مگر مالیاتی انضمام ابھی تک نہ ہو سکا جو صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ شفیع جان

2018 سے 2025 تک کا ہمارا جائز این ایف سی شیئر نہیں دیا جا رہا، سابقہ فاٹا کے انضمام کے باوجود این ایف سی کے ہمارے شیئر میں اضافہ نہیں کیا گیا : شفیع جان

کے پی اور ضم شدہ اضلاع کی ضروریات کیلئے این ایف سی میں عبوری ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے : شفیع جان

ضم شدہ اضلاع کی آبادی و رقبہ شامل کرکے صوبے کا حصہ دوبارہ مقرر کیا جائے : شفیع جان

این ایف سی شیئر اس وقت عملاً ساڑھے تین صوبوں میں تقسیم ہو رہا ہے جو آئین کے سراسر خلاف ہے : شفیع جان

دوسری جانب این ایف سی کے اربوں روپے کے بقایاجات بھی صوبے کو ادا نہیں کیے جا رہے جو صوبے کے ساتھ کھلی نا انصافی ہے۔ شفیع جان

ساتویں این ایف سی سے پیدا ہونے والی 1335 ارب روپے کی پسماندگی دور کی جائے : شفیع جان

مستقبل میں ضم شدہ اضلاع کا حصہ آبادی، غربت اور دیگر اشاریوں کی بنیاد پر الگ نکالا جائے : شفیع جان

دہشتگردی کے مد میں ملنے والا ایک فیصد حصہ بڑھا کر تین فیصد کیا جائے — شفیع جان

فاٹا کو بلوچستان و دیگر صوبوں کے مقابلے میں مسلسل کم فنڈز ملے : شفیع جان

انضمام کے بعد کے پی کو مطلوبہ مالی وسائل نہیں دیے گئے : شفیع جان

مالی تاخیر سے ضم شدہ اضلاع میں امن و امان متاثر ہو رہا ہے : شفیع جان

از دفتر معاون خصوصی اطلاعات و تعلقات عامہ

وفاقی وزیر عطا تارڑ کاخیبر پختونخوا حکومت پر الزام تراشیاں/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا سخت ردعمل

وفاقی وزیر اطلاعات کا خیبرپختونخوا حکومت پر الزام تراشی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ،مضحکہ خیزاور حقائق کے منافی ہیں،شفیع جان

عطاتارڑ، نوجوان وزیر اعلی سہیل آفریدی کی حکومت و سیاسی میدان کی حکمت عملی سے بوکھلاہٹ کاشکار ہے، شفیع جان

وفاقی حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کیا،مہنگائی کو آسمان پر پہنچایا،شفیع جان

کارکردگی کی بات وہ کرے جس کے پاس اپنی کامیابی دکھانے کو کچھ ہو،شفیع جان

پی ٹی آئی پر ملک دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ کا الزام دراصل مسلم لیگ ن کی خوف عمران خان کا واضح ثبوت ہے، شفیع جان

ایسی بے تکی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے خود ملک کو عالمی اداروں کے سامنے گروی رکھا ہوا ہے، شفیع جان

وفاقی وزیر اپنی ناکام حکومت کی بدترین کارکردگی چھپانے کے لئے خیبرپختونخوا پر مسلسل الزامات لگا رہے ہیں،شفیع جان

خیبرپختونخوا حکومت پر الزام تراشی سے پہلے وفاق 5300 ارب روپے کرپشن پر جواب دیں، شفیع جان

قوم جانتی ہے کہ کون کام کر رہا ہے اور کون میڈیا پر صرف بیانات دے رہا ہے، شفیع جان

وفاقی وزیر اطلاعات اپنی حکومت کی ناکامیوں کا ملبہ خیبرپختونخوا پر ڈالنے کے بجائے اپنی کارکردگی دیکھیں، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ کر لیا ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے پارٹی کو اختیار دیدیا ہے۔ ضمنی الیکشن میں کلاس فور سے لیکر ڈپٹی کمشنر تک تک کی مکمل انکوائری ہوگی۔ کسی بھی اہلکار یا افسر کے ملوث ہونے پر انکے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ صوبائی حکومت کے ماتحت ملازمین اور افسران دھاندلی میں ملوث نہیں لیکن پھر بھی شفافیت کے لیے انکوائری کر رہے ہیں۔ مبینہ دھاندلی پر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیج رہے ہیں۔ پریذائیڈنگ افسران کے بیانات اور بیان حلفی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے اہلخانہ و پارٹی رہنماؤں کی ملاقات نہ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ منگل کو تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہائی کورٹ جائیں گے – جس کے بعد عمران خان کی فیملی کے ساتھ اڈیالہ جیل جائیں گے۔ اگر بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں سے ملاقات نہ کرائی گئی تو دھرنا اور احتجاج ہوگا۔ مسلم لیگ نون اپنے ماضی کو بھول جاتی ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ رہنما اپنے مجرم قائد سے لندن میں ملاقاتیں کرتے رہے – کابینہ نواز شریف سے لندن میں رہائش کے دوران مشورے کرتے تھے – جبکہ عمران خان کے بیانات و تصویر سے خوفزدہ ہیں۔عمران خان ملک کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ہیں۔ ان کے بیانات روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شفیع جان نے بانی چیئرمین عمران خان کے صحت کے حوالے سے کہا کہ عمران خان کی 4 نومبر سے فیملی کے ساتھ ملاقات نہیں ہورہی- صحت سے متعلق تشویش موجود ہے۔ گڈ گورننس کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اقدامات کا ذکر کرتے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس نوجوان وزیراعلیٰ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تعلیم و صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس کا ہر جمعہ کو انعقاد ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے عوامی نمائندوں کو ووٹ عمران خان کی رہائی کے نام پر ملا، عوام کا واحد سوال یہی ہوتا ہے کہ عمران خان کی رہائی کب ہوگی۔ صوبے کو ضم اضلاع کے واجبات اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے فنڈز نہیں دیے گئے۔ 3 ہزار ارب روپے—این ایف سی، این ایچ پی، آئل گیس ریزرو وغیرہ کی مد میں وفاق پر صوبے کے واجبات ہیں، 4 دسمبر کو این ایف سی اجلاس میں صوبہ بھرپور انداز میں اپنا مقدمہ لڑے گا۔

وفاقی حکومت نے ترقیاتی سکیموں میں خیبر پختونخوا کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔مشیر خزانہ مزمل اسلم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کی تقسی پر کڑی تنقید کی ہے۔مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے 43 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے صرف پنجاب اور سندھ کے لیے منظور کئے جبکہ خیبر پختونخوا کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ شرم کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا کو بلوچستان سے بھی نیچے رکھا گیا۔مزمل اسلم نے مزید کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق 43 ارب روپے میں سے شیر (پی ایم ایل ن) کا حصہ 23.5 ارب روپے ہے جو پنجاب کے ممبرانِ قومی اسمبلی کی اسکیموں کے لیے مختص کیا گیا ہے، مسلم لیگ (ن) کے زیرِ انتظام صوبہ کل رقم کا 54.5% حاصل کرے گا، اور 17.6 ارب روپے کا بڑا حصہ حکومتِ پنجاب کے ذریعے خرچ کیا جائے گا۔ جبکہ وفاقی حکومت پنجاب کے دیہی علاقوں کی بجلی فراہمی منصوبوں پر بھی 5.9 ارب روپے خرچ کرے گی۔ فیصلے کے مطابق مزید 40کروڑ روپے ڈیفنس ڈویژن کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔مزمل اسلم نے کہاکہ سندھ کے ممبرانِ قومی اسمبلی کو 15.3 ارب روپے ملیں گے، اس میں سے 10.3 ارب روپے سندھ حکومت کے ذریعے اور باقی 4.3 ارب روپے پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے ذریعے خرچ ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کو صرف 1.3 ارب روپے ملیں گے اور خیبرپختونخوا کے فنڈز براہِ راست PIDC اور واپڈا کے ذریعے خرچ ہوں گے، جبکہ بلوچستان حکومت کو 2.3 ارب روپے اور اسلام آباد کو 750 ملین روپے دیے جائیں گے۔

تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری و ترقی کے لیے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے- شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان اور سیاست بعد میں ہونی چاہیے۔ ملکی ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صوبے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری کے لیے ایمرجنسی نافذ کی جاچکی ہے۔ ان دونوں اہم شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات جاری ہیں تاکہ عوام کو حقیقی اور فوری ریلیف فراہم کیا جاسکے۔ نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے میں گڈ گورننس کے لئے موثر اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سینٹ جوزف کنوینٹ اسکول اینڈ کالج کوہاٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شفیع جان نے صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک کی طالبات کے لیے وظائف کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح ایم ڈی کیٹ پاس کرنے والے یتیم طلبہ و طالبات کے میڈیکل کالجز کے تمام تعلیمی اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ جو تعلیم دوست پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔صوبے میں گرین انرجی کے فروغ کے حوالے سے شفیع جان کا کہنا تھا کہ صوبے کے سکولوں اور ہسپتالوں کو ترجیحی بنیادوں پر سولر انرجی پر منتقل کرنے جارہی ہے۔ جس سے ان اداروں کو لوڈشیڈنگ کے مسائل سے نجات ملے گی۔ تقریب میں معاونِ خصوصی شفیع جان نے سینٹ جوزف کنوینٹ اسکول اینڈ کالج کوہاٹ میں سولر سسٹم لگانے کا بھی اعلان کیا۔ شفیع جان نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے جس طرح عمران خان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کے امیدواروں کو کامیاب کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں ماؤں اور بہنوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، جسے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ تعلیمی شعبے میں خدمات پر معاونِ خصوصی نے سینٹ جوزف کنوینٹ اسکول اینڈ کالج کوہاٹ کے کردار کو سراہا اور اسے ایک مثالی تعلیمی ادارہ قرار دیا۔

بونیر میں صوبائی حکومت کی جانب سے نوجوانوں کیلئے جدید کھیلوں اور تربیتی سہولیات کا قیام تیزی سے جاری

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی کوششوں سے سواڑئی بونیر میں صوبائی حکومت کی جانب سے نوجوانوں کیلئے جدید، معیاری اور کثیر المقاصد کھیلوں و تربیتی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان منصوبوں میں زیر تعمیر سپورٹس کمپلیکس اور جوان مرکز ضلع بونیر کے نوجوانوں کو قومی معیار کی گِرومنگ، تربیت اور مثبت سرگرمیوں کیلئے ایک ہمہ جہت ماحول فراہم کریں گے۔صوبائی وزیرسید فخر جہان نے ہفتہ کے روز سپورٹس کمپلیکس سواڑئی اور جوان مرکز کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ وزیر موصوف نے انڈور جِمنازیم، سوئمنگ پول، پویلین، کرکٹ اکیڈمی، گراؤنڈز اور دیگر تعمیراتی حصوں کا معائنہ کیا۔انہوں نے کہا کہ معیار پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ منصوبے بونیر کے نوجوانوں کے مستقبل کی سرمایہ کاری ہیں، اس لیے تعمیراتی معیار ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ایسے مواقع فراہم کر رہی ہے جن سے وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر صوبے اور ملک کا نام روشن کریں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بونیر جیسے علاقے میں کھیلوں کی جدید سہولیات کا قیام صوبائی حکومت کی نوجوان دوست پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے نئی نسل کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے گا اور انہیں اپنے ہی ضلع میں عالمی معیار کے کھیلوں اور تفریحی مواقع میسر ہوں گے۔سید فخر جہان نے مزید کہا کہ بونیر کے نوجوانوں میں کھیلوں کے حوالے سے غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں۔ مقامی سطح پر معیاری انفراسٹرکچر کی فراہمی سے نوجوان اپنے ٹیلنٹ کو بہتر انداز میں پروان چڑھا سکیں گے اور قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں جگہ بنا کر اپنے علاقے کا وقار بڑھائیں گے۔جوان مرکز کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ نوجوانوں کیلئے ایک ہمہ جہت سروس سینٹر کا کردار ادا کرے گا جہاں ایک ہی چھت کے نیچے اسکلز ڈویلپمنٹ، ٹریننگ، کیریئر گائیڈنس اور دیگر ضروری سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بونیر میں عوامی ضروریات کے مطابق مزید ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے تاکہ دیرینہ مسائل کا حل اور سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔سید فخر جہان نے کہا کہ وہ بونیر کے عوام کے خادم ہیں اور عوامی نمائندے کی حیثیت سے ہر مرحلے پر ان کے درمیان موجود رہیں گے اور انکے مسائل کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا پاکستان سکاؤٹس کیڈٹ کالج بٹراسی میں سالانہ تقریب سے خطاب

 پاکستان سکاؤٹس کیڈٹ کالج بٹراسی میں سالانہ یومِ والدین کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر وجیہہ قمر بھی موجود تھیں۔ تقریب میں طلباء، اساتذہ اور والدین نے بھرپور شرکت کی۔اپنے خطاب میں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے طلباء کی شاندار کارکردگی، نظم و ضبط اور اعلی تربیت کو سراہا اور کہا کہ یہ نوجوان مستقبل میں ملک کی قیادت سنبھالیں گے۔ انہوں نے کیڈٹس کو نصیحت کی کہ جب وہ ملکی نظام کا حصہ بنیں تو اپنے منصب، عہدے اور ذمہ داریوں کے ساتھ دیانت داری، وفاداری اور ایمانداری کو اولین ترجیح دیں۔ آئین و قانون کی پاسداری کریں اور انصاف کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔ ملک و قوم کی خدمت ہی ان کا اصل ہدف ہونا چاہیے۔اسپیکر نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس ملک کے لوگ خود کو پہچانیں۔ جعلی تقاریر اور کھوکھلے نعروں سے ملک کا نظام مزید نہیں چل سکتا۔ پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات، ایمانداری، اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال اور نیک نیتی پر مبنی قومی سوچ کی ضرورت ہے۔ نوجوان ہی وہ قیمتی اثاثہ ہیں جو ملک کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔وفاقی وزیر وجیہہ قمر کی موجودگی اور تعاون کا ذکر کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ وفاق کی جانب سے اس ادارے کے لیے جو تعاون درکار ہوگا، وہ وجیہہ قمر کی موجودگی میں مزید مؤثر انداز میں فراہم کیا جائے گا۔اسپیکر بابر سلیم سواتی کے ہمراہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے نائب صدر کمال سلیم خان بھی تقریب میں موجود تھے اور انہوں نے بھی کیڈٹس اور ادارے کی تربیتی خدمات کو سراہا۔اختتامی کلمات میں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کالج انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس ادارے کی ترقی، معیارِ تعلیم اور تربیتی نظام کے لیے بھرپور حمایت کرتے رہیں گے۔تقریب کے آخر میں اسپیکر نے اساتذہ اور والدین کو مبارکباد پیش کی اور ادارے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے ہفتہ کے روز پبلک ڈے کے موقع پر اپنی رہائش گاہ ملک پور پیر بابا بونیر میں مختلف وفود، معزز علاقہ، پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور پارٹی عہدیداران سے ملاقاتیں کیں

0

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے ہفتہ کے روز پبلک ڈے کے موقع پر اپنی رہائش گاہ ملک پور پیر بابا بونیر میں مختلف وفود، معزز علاقہ، پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور پارٹی عہدیداران سے ملاقاتیں کیں۔ پبلک ڈے کے موقع پر لوگوں نے صوبائی وزیر کو اپنے مسائل، تجاویز اور عوامی نوعیت کے مختلف معاملات سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے ہر فرد کا مؤقف سنا۔ درجنوں شکایات اور مسائل موقع پر ہی حل کر دیے گئے جبکہ بعض اہم نوعیت کے امور کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ہدایات جاری کی گئیں۔ صوبائی وزیر ریاض خان نے واضح کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریاض خان نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت اور عمران خان کے وژن کے مطابق عوامی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا بنیادی مقصد عام شہری تک سہولیات پہنچانا اور ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں ہر فرد کی آواز سنی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی روزمرہ عوامی مسائل سے آگاہ رہنے کے لیے لوگوں کے درمیان موجود رہتے ہیں تاکہ کسی بھی شکایت کے حل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ صوبائی وزیر نے پارٹی کارکنان اور عہدیداران کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ مضبوط تنظیمیں ہی عوامی رابطے کو مؤثر بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان کی محنت، جذبہ اور عوامی خدمت کا عزم پاکستان تحریک انصاف کی اصل طاقت ہے۔ ریاض خان نے اس عزم کو دہرایا کہ خیبرپختونخوا خصوصاً بونیر کی مجموعی ترقی، عوامی فلاح و بہبود، آبپاشی نظام کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ عوام کو ان کے حقوق اور سہولیات ان کی دہلیز پر میسر ہوں