Home Blog Page 45

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاق پر مسلط کرپٹ ٹولے نے ایک ہارے ہوئے شخص کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف بہتان تراشی کے لئے رکھا ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاق پر مسلط کرپٹ ٹولے نے ایک ہارے ہوئے شخص کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف بہتان تراشی کے لئے رکھا ہوا ہے۔ اختیارولی خود ایک جعلی کوآرڈینیٹر ہے جسے عوام کسی صورت سنجیدہ لینے کو تیار نہیں،اختیارولی ایک غیر سنجیدہ اور ناکام سیاسی کردار ہے، جو روزانہ ایک منتخب صوبائی وزیراعلیٰ کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا کرتا ہے، اختیارولی اور اس کی جماعت خود انتشاری اور منفی سیاست کی علامت ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی کے خلاف اختیارولی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ نوشہرہ کے باشعور عوام نے جعلی کوآرڈینیٹر کو مسترد کر کے اس کی سیاسی حیثیت واضح کر دی ہے۔ عوام کی جانب سے مسترد ہونے کے بعد اب وہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف الزام تراشیوں میں مصروف ہے،انھوں نے اختیار ولی کو مشورہ دیا کہ کی ٹی آئی کے خلاف زہر اگلنے کے بجائے امیر مقام کا مقابلہ کریں کیونکہ امیر مقام نے انھیں اپنے ویلج کونسل میں پارٹی کا صدر بھی بننے نہیں دیا،مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ ن لیگ کی غلط معاشی پالیسیوں نے ملک کو شدید معاشی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود ن لیگ ہر بار آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نظر آتی ہے۔ ملک کو ترقی اور معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے پاس نہ کوئی واضح وژن ہے اور نہ ہی کوئی مربوط حکمت عملی،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی تمام تر توجہ عوامی فلاح اور معیشت کی بہتری کے بجائے اپنی کرپشن چھپانے پر مرکوز ہے۔ پاکستانی عوام باشعور ہیں اور روزانہ کی جھوٹی اور من گھڑت پریس کانفرنسوں کے ذریعے قوم کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا،شفیع جان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مسلم لیگ (ن) کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ ملک پر قابض سیاسی ٹولے نے پی ٹی آئی کے خلاف ظلم، جبر اور فسطائیت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر شدید سردی میں علیمہ خان، پارٹی کارکنان اور پارلیمنٹرینز پر واٹر کینن کا استعمال اس فسطائی طرز عمل کا واضح ثبوت ہے،انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم مسلم لیگ (ن) کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں۔ وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث عوام دن بدن غریب سے غریب تر جبکہ وفاق اور پنجاب پر مسلط جعلی حکمران مزید امیر ہوتے جا رہے ہیں، جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا کرپٹ ٹولہ قومی خزانے کو گدھ کی طرح نوچ رہا ہے۔

Students Engaged as Immunization Ambassadors to Support Polio Eradication Efforts

In a major step to strengthen community awareness and youth engagement in public health, Provincial Emergency Operations Centre Khyber Pakhtunkhwa (EOC) in collaboration with UNICEF launched a school-based initiative aimed at empowering students as Immunization Ambassadors for polio eradication.

Under the initiative, students from selected schools in Peshawar will be engaged and equipped with right tools to enable them to serve as Immunization Ambassadors who will promote awareness, dispel myths, and support vaccination advocacy within their communities.

The first event under this initiative was organized here on Wednesday, at Government Higher Secondary School No. 4, Kakshal, Peshawar City.

The event was attended by Additional Secretary Health/Coordinator Emergency Operations Centre Shafiullah Khan, Technical Focal Person PEI EOC KP Dr. Ali Haidar, Dr. Sardar Alam, Provincial Polio Eradication Officer WHO, Diana Maria Pirga, Social & Behavior Change (Digital) Specialist UNICEF, Sadia Ijaz, Social & Behavior Change Specialist UNICEF KP, Shadab Younas, Communication Officer UNICEF KP, Principal and faculty members of the school as well as a large number of students.

Speaking on the occasion, Additional Secretary Health/ Coordinator EOC Shafiullah Khan thanked school administration, faculty and students for their time and support for the national cause of polio eradication saying that students are powerful messengers and can help us in addressing community misconceptions.

Shafiullah Khan said that youth engagement, particularly through schools, presents a powerful opportunity to strengthen awareness and build long-term community trust adding that school students not only absorb critical health messages but also serve as influential advocates within their families and neighborhoods.

Engaging students in polio advocacy will help reinforce accurate information about vaccination and foster ownership of the polio eradication effort within communities, he said.

Communication Officer UNICEF, Ms. Shadab Younas elaborated that as part of the initiative, students will receive information materials and advocacy tools enabling them to promote positive health behaviors in their schools, homes and neighborhood.

She said that all participating students will be enrolled as members of Immunization Club, while top performers will receive recognition certificates from Provincial EOC, an oversight and management body for polio eradication in the province.

This programme aims to address key challenges such as vaccine hesitancy, misinformation, and limited community ownership,identified as major barriers to polio eradication in Pakistan.

She said that through youth engagement, the initiative seeks to build long-term trust and strengthen community support for essential immunization.

Earlier in the session, a lively theatre performance was staged through known actors, using storytelling, human angle in a light and entertaining manner to help students understand the significance of essential immunization,especially polio vaccination.

The event concluded with a vote of thanks from provincial EOC, school administration and with a pledge from the students for change and to help ensure community embraces polio vaccination.

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے سیکرٹری کامرس اینڈ انڈسٹری کی ملاقات اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوئی، جس میں محکمہ صنعت، تجارت اور فنی تربیتی اداروں کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے سیکرٹری کامرس اینڈ انڈسٹری کی ملاقات اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوئی، جس میں محکمہ صنعت، تجارت اور فنی تربیتی اداروں کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایم پی اے اکرام اللہ غازی اور ڈائریکٹر ٹیوٹابھی موجود تھے۔ملاقات میں ٹیوٹا کے ملازمین کی ممکنہ بحالی کا معاملہ خصوصی طور پر زیرِ غور آیا۔سپیکر بابر سلیم سواتی نے اس سلسلے میں ہدایت کی کہ متعلقہ ملازمین کے معاملات کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے، اور قواعد کے مطابق ان کی بحالی کے لیے مناسب اقدامات تجویز کیے جائیں۔ اس کے علاوہ اجلاس میں حطار اور مانسہرہ انڈسٹریل زون کی بہتری اور اپ لفٹنگ پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔سپیکر نے کہا کہ دونوں زونز میں گنجائش موجود ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ اس پوٹنشل کے مطابق جدید سہولیات اور صنعتی سہارا فراہم کر کے انہیں مزید فعال اور مضبوط بنایا جائے۔مزید برآں، حکومت کی جانب سے حاصل کردہ اراضی کے مالکان کو ادائیگیوں کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ اسپیکر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زمین مالکان کے مسائل کے حل کے لیے بہتر کوآرڈینیشن اور تیز اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔آخر میں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ صوبے کی معاشی ترقی کے لیے صنعتی زونز کی بہتری، تربیتی اداروں کی مضبوطی اور عوامی مسائل کے حل کو حکومت خصوصی ترجیح دے رہی ہے۔

صوبائی ونٹر کنٹنجنسی پلان سے متعلق اجلاس، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے پلان کا جائزہ لیا

موسم سرما میں ممکنہ موسمی حالات کے پیشِ نظر خطرات سے نمٹنے کے لئے صوبائی ونٹر کنٹنجنسی پلان سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔اجلاس میں ڈویژنل کمشنرز، سیکرٹری ریلیف، سیکرٹری زراعت اور دیگر حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں متعلقہ محکموں اور اضلاع میں انتظامیہ کی جانب سے سردیوں میں ممکنہ موسمی سختیوں سے جڑے مسائل سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو ونٹر کنٹنجنسی پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں وسائل کی دستیابی، انتظامی و لاجسٹک انتظامات اور برف باری، سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش جیسے مسائل سے نمٹنے کے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ سردیوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لئے پیشگی منصوبہ بندی، محکموں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے ساتھ تعاون نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کمشنرز کو ہدایت کی کہ سخت موسمی حالات کے حساس علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور مشینری، ایندھن اور ریلیف سامان کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

قواعدِ کار، مراعات, استحقاقات اور حکومتی یقین دہانیوں سے متعلق قائمہ کمیٹی کا اجلاس

قواعدِ کار، مراعات, استحقاقات اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ سے متعلق قائمہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی و چیئرپرسن قائمہ کمیٹی ثریا بی بی نے کی۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی و ممبران قائمہ کمیٹی خالد خان، اکرام غازی، منیر لغمانی, سجاد اللہ، مصور خان، صوبیہ شاہد، مشتاق غنی، شفیع جان، جلال خان، عبدالسلام افریدی، شازیہ جدون ، رشادخان اور تاج محمد ترند نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ محکمہ قانون، پولیس، صحت، موٹروے پولیس، ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن, لوکل گورنمنٹ سمیت متعلقہ محکموں کے وہ افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔اجلاس کے دوران مختلف تحاریکِ استحقاق کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شفیع جان کی جانب سے لوکل گورنمنٹ کے خلاف جمع کرائی گئی تحریکِ استحقاق پر کمیٹی نے فیصلہ دیا کہ متعلقہ افسر آئندہ اجلاس میں اپنا تحریری وضاحت پیش کریں۔ شازیہ جدون کی جانب سے محکمہ صحت کے خلاف تحریکِ استحقاق پر بحث کے بعد کمیٹی نے باقاعدہ انکوائری کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔مشتاق احمد غنی کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریکِ استحقاق پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے وضاحت پیش کی، جسے کمیٹی نے تسلی بخش قرار دیتے ہوئے قبول کر لیا۔ جلال خان کی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے خلاف تحریکِ استحقاق پر کمیٹی نے متعلقہ افسر کے خلاف انکوائری کے احکامات جاری کیے اور رپورٹ آئندہ اجلاس میں جمع کرانے کی ہدایت دی۔ عبدالسلام افریدی کی پولیس کے خلاف تحریکِ استحقاق پر بھی کمیٹی نے انکوائری کا حکم جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔ پیر مصور خان کی موٹروے پولیس کے خلاف تحریکِ استحقاق پر کمیٹی نے متعلقہ افسران کے خلاف انکوائری کی ہدایات دیتے ہوئے رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا حکم دیا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی سپیکر و چیئرپرسن قائمہ کمیٹی محترمہ ثریا بی بی نے کہا کہ اراکینِ اسمبلی اور عوامی نمائندوں کا احترام اور وقار مقدم ہے، اس لیے محکموں کے درمیان تعاون، ذمہ داری اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین اسمبلی میں بنائے جاتے ہیں اور ان پر مؤثر عمل درآمد کرنا محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کا مقصد سرکاری پالیسیوں پر عمل درآمد کی مؤثر نگرانی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مضبوط نظام کو فعال رکھنا ہے۔

وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں مجوزہ خیبر پختونخوا پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی کا جائزہ لیا گیا

وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں مجوزہ خیبر پختونخوا پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میںوزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب ،سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک ،محکمہ اسٹیبلشمنٹ ، محکمہ قانون کے حکام ، ایڈوکیٹ جنرل آفس کے حکام اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی ۔کمیٹی کواس پالیسی پر مفصل بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ موجودہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ 17 نوٹیفکیشنز، ہدایات اور وضاحتی نوٹس پر مشتمل ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ پالیسی میں مختلف آسامیوں پر تعیناتی کی مدت ، پوسٹنگ اور ٹرانسفر آرڈرز کے خلاف اپیلوں، انتظامی افسران کی تعیناتی، پے سکیل میں تعیناتی، قبل از وقت تبادلے، پلیسمنٹ کمیٹیوں، افسران کی پروفائل، اور چارج ہینڈلنگ سے متعلق دفعات کی کمی تھی۔ اسی بنا پر ایک مفصل پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی کی ضرورت تھی۔نئی پالیسی چیف سیکرٹری، خیبر پختونخوا کی جانب سے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو سونپے گئے ٹاسک کے بعد وضع کی گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے تمام انتظامی محکموں سے مشاورت کے بعد “خیبر پختونخوا پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی، 2025” کو مرتب کیا۔اجلاس میں نئی پالیسی کے مختلف پہلوئوں جیسے پلیسمنٹ کمیٹیوںکے قیام ،انتظامی آسامیوں کے لیے اہلیت کے معیار ، اور صوبے بھر میں روٹیشن اور محکموں اور دیگر اداروں پر پالیسی کے اطلاق جیسے امور کا جائزہ لیا گیا۔ ایک دوسرے اجلاس میں رنگ روڈ (بائی پاس)، مردان کے منصوبے سے متعلق اراضی کے حصول کے کیسز میں ڈکریٹل رقم کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے ڈکریٹل رقم کی ادائیگی کے لیے ضروری اقدامات اور مالی انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل مرتب کیا۔

خیبرپختونخوا حکومت کی ڈیجیٹل گورننس کی عالمی سطح پر کامیابی/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان

خیبرپختونخوا حکومت کی ڈیجیٹل گورننس کی عالمی سطح پر کامیابی/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان

خیبر پختونخوا حکومت کی ڈیجیٹل گورننس کی عالمی سطح پر پذیرائی اور اعتراف کیا گیا، شفیع جان

تائیوان میں ایشیئن پیسیفک انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی الائنس 2025 ایوارڈ میں “دستک ایپ” کی شاندار کامیابی

خیبرپختونخوا حکومت کے “دستک ایپ”نے 17 ممالک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کر لی، شفیع جان

گورنمنٹ اینڈ سٹیزن سروسز کیٹیگری میں “دستک ایپ” کو پہلی پوزیشن کا حقدار قرار دیا گیا، شفیع جان

شفافیت، اے آئی کو اپنانے اور بروقت خدمات کی بنیاد پر “دستک ایپ” عالمی معیار کا ماڈل قرار دیا گیا،شفیع جان

تائیوان میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان سے صرف خیبر پختونخوا کی دو ایپلیکیشنز فائنلسٹ قرار ہوئی تھی، شفیع جان

“دستک ایپ” اور “ٹورسٹ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم” فائنلسٹ انٹری میں شامل تھی، شفیع جان

ٹورسٹ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کو بھی عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی، شفیع جان

متعدد ممالک نے خیبر پختونخوا کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اپنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا،شفیع جان

عوام کو گھر کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی کے لیے “دستک ایپ” ایک انقلابی قدم ہے،شفیع جان

ڈیجیٹل گورننس، بدعنوانی کے خاتمے اور بروقت سروس ڈیلیوری کی ضمانت ہے، شفیع جان

خیبر پختونخوا کی عالمی سطح پر کامیابی بانی چیئرمین عمران خان کے ڈیجیٹل وژن کی عملی تصویر ہے، شفیع جان

خیبرپختونخوا ڈیجیٹل پاکستان کے مستقبل کی قیادت کررہا ہے ، شفیع جان

خیبر پختونخوا حکومت کا ڈیجیٹل گورننس ماڈل دیگر صوبوں کے لیے مثال بن گیا ہے،شفیع جان

PML-N is continuously exploiting the May 9 incidents for political point-scoring, CM’s aide Shafi Jan

Special Assistant to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, has said that fear of PTI Founder Chairman Imran Khan has forced federal and Punjab ministers to hold press conferences repeatedly. He said that the people of Pakistan rejected the false and fabricated propaganda of Pakistan Muslim League (N) in the general elections.

Responding to the continuous allegations by Punjab Information Minister Uzma Bukhari and Parliamentary Secretary Daniyal Chaudhry, Shafi Jan has said that the leadership and workers of Pakistan Tehreek-e-Insaf were subjected to political victimization through fabricated cases after the incident of May 9. He said that PML-N leaders have forgotten the fact that the nation gave its mandate to Founder Chairman Imran Khan in the general elections; that is why the opponents are persistently politicizing the May 9 incidents.

He demanded that the federal government constitute a judicial commission on the May 9 incidents so that the truth can be clearly established. Speaking about PTI’s performance, the Special Assistant said that due to better governance and practical performance, the public still places its trust in PTI. During Imran Khan’s tenure in the Federal, industries were revived and the national economy was on the path to growth. Unfortunately, after Imran Khan was removed, the group forcibly imposed on the federation pushed the country’s economy to the brink of destruction.

Shafi Jan further said that the high morale, determination, and courage of Founder Chairman Imran Khan have panicked the corrupt clique imposed on the federation and Punjab; they have become mentally disturbed. He said that PML-N attacked the Supreme Court in the past and today is targeting the Constitution through constitutional amendments.

Shafi Jan advised PML-N to stop leveling allegations against PTI and instead answer the nation regarding its own performance and corruption cases. Criticizing Uzma Bukhari, the Special Assistant said that in the federal government’s Rs 5,300 billion corruption, Uzma Bukhari has also emerged as a partner in crime. The IMF issued a report regarding the federal government, yet explanations are being given by the spokesperson of the Punjab government.

He said that due to collusion by the corrupt clique forcibly imposed on the federation and Punjab, the national economy has been completely devastated, while informal contacts with the Modi government have also long been a practice of this same corrupt group.

Talking about the corruption of the PML-N government, Shafi Jan said that those whose own corruption has been exposed in IMF reports are today delivering lectures on transparency. The real architects of corruption are sitting in power and lying to the nation. However, accountability of those who looted the national treasury has become inevitable, and the nation will certainly hold them to account.

In conclusion, he warned PML-N ministers that those who indulge in luxuries at the cost of public money will not last much longer and will surely be brought within the grip of accountability. Pakistan cannot afford to bear the burden of more corrupt rulers, he said.

Decision taken to establish a new 5,000 bed hospital in Peshawar and four new 1,000 bed hospitals in various districts : Shafi Jan

Special Assistant to Chief Minister Khyber Pakhtunkkhwa on Information and Public Relations Shafi Jan, has said that Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi, has imposed Health Emergency across the province to make healthcare system more effective and people-friendly. The primary objective of this initiative is to improve facilities in hospitals, ensure easier access to medical treatment and provide citizens with quality healthcare services.

” Under the Sehat Card Plus program, people across Khyber Pakhtunkhwa are receiving free treatment and surgeries for various diseases at both public and private hospitals.” Shafi Jan added.

He further said that in several districts, free OPD treatment and medicines are being provided through Zuwand Card, reflecting the welfare-oriented vision of the current government. Two among country’s ten major public hospitals are operational in Peshawar providing improved healthcare services to public. Peshawar’s three major teaching hospitals collectively offer 4,720 beds, including , 1,870 beds at Lady Reading Hospital (LRH), 1,600 beds at Khyber Teaching Hospital (KTH), 1,250 beds at Hayatabad Medical Complex (HMC).

Shafi Jan added that provincial government is actively working on plans to establish a new 5,000-bed hospital in Peshawar and four new 1,000-bed hospitals in different districts. These initiatives will serve as a major milestone in revolutionizing healthcare sector.

Special Assistant Shafi Jan further stated that provincial government has capacity to pay Rs. 100 billion in cash from its available resources. However, Rs. 4 trillion remain outstanding from federal government, funds that are essential for the province’s development and social sectors.

Comparing healthcare facilities in Islamabad, Shafi Jan said that despite abundant resources, federal capital main public hospital has only 1,200 beds facility which highlights the clear difference in performance and priorities. He emphasized that provincial government places health sector at the top of its agenda and enforcement of Health Emergency will bring significant improvements in treatment, facilities and infrastructure.

 خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت پشاور میں ڈی آئی خان سی آر بی سی(ایل سی جی) کے اہم اور بڑے آبی منصوبے سے متعلق اجلاس منعقد ہوا

 خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت پشاور میں ڈی آئی خان سی آر بی سی(ایل سی جی) کے اہم اور بڑے آبی منصوبے سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری محکمہ آبپاشی خیبرپختونخوا عبدالباسط، واپڈا کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعلقہ افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آر بی سی(ایل سی جی) منصوبہ تقریباً 295774 ایکڑ رقبے پر محیط زرعی اراضی کو سیراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے بالائی میدانی علاقوں سے لے کر خیبرپختونخوا صوبہ پنجاب سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ منصوبے کی بنیادی ساخت میں اہم اجزا شامل ہیں جس پاور چینل سے انٹیک اسٹرکچر، فیڈر چینل، پمپنگ اسٹیشن جو پانی کو تقریباً 64 فٹ بلند اٹھا کر مرکزی نہر تک پہنچائے گا، آبپاشی نیٹ ورک اور فلڈ کیریئر چینلز شامل ہیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ جنوبی خیبرپختونخوا کے کسانوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا جس سے نہ صرف سیرابی کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے بلکہ زرعی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے ہر حصے کو تکنیکی بنیادوں پر شفافیت، رفتار اور معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ سیکرٹری آبپاشی عبدالباسط اور واپڈا حکام نے صوبائی وزیر کو یقین دلایا کہ منصوبے پر پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے تمام ادارے مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آر بی سی(ایل سی جی) منصوبہ صوبے کی زرعی معیشت کی بحالی اور کسانوں کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ریاض خان نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے کہا کہ بدعنوانی معاشرتی زوال، ادارہ جاتی کمزوری اور عوامی اعتماد کے کھو جانے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس ناسور کے خاتمے کے بغیر ترقی، انصاف اور شفاف طرز حکمرانی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایات کے مطابق صوبے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے۔ کسی بھی سطح پر بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی اور جو بھی اس لعنت میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کاروائی یقینی بنائی جائے گی۔ ریاض خان نے مزید کہا کہ شہریوں کا فرض ہے کہ وہ بدعنوانی کی نشاندہی میں صوبائی حکومت کا ساتھ دیں کیونکہ صاف اور شفاف نظام کی تعمیر عوام اور حکومت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔