Home Blog Page 45

نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام منگل کے روز نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی شاندار نیلامی کا انعقاد کیا گیا جہاں خواہشمند بڈرز نے غیر معمولی دلچسپی لیتے ہوئے من پسند نمبر پلیٹس بڑے داموں خریدیں۔نیلامی کے دوران سب سے زیادہ بولی وزیر 1 نمبر پلیٹ پر لگی جو 1 کروڑ 50 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔ دوسری سب سے زیادہ بولی آفریدی 1 نمبر پلیٹ پر لگی جو 1 کروڑ 40 لاکھ 50 ہزار روپے میں فروخت ہوئی اور اسے پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے حاصل کیا۔ جبکہ تیسری نمایاں بولی خان 1 نمبر پلیٹ پر رہی جو 1 کروڑ 11 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی اور یہ نمبر پلیٹ ایم پی اے نیک محمد خان کے حصے میں آئی۔ہری پور 1نمبر پلیٹ 80 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی جبکہ یوسفزئی 1نمبر پلیٹ 49 لاکھ 20 ہزار روپے میں نیلام ہوئی۔اسی طرح درانی 1 چوائس نمبر پلیٹ 16 لاکھ اور 60 ہزار روپے،ملاکنڈ 1 ساڑھے 12 لاکھ اور صوابی 1نمبر پلیٹ بھی 12 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔نیلامی سنگل بڈنگ کے تحت ہوئی جبکہ مزید نمبرات کی نیلامی ای بڈنگ کے تحت کی جائے گی۔نیلامی کے عمل میں عوامی جوش و خروش اور بھرپور شرکت نے اس منفرد منصوبے کی کامیابی کو واضح کر دیا۔یہ منفرد اور عوام دوست اقدام محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کی جدید اصلاحات کا حصہ ہے، جو بانی چیئرمین عمران خان کے وژن، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت اور صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان کی سرپرستی میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔نشتر ہال پشاور میں منعقدہ اس خصوصی نیلامی میں شخصی، قبائلی ناموں، سیاسی اور علاقائی شناخت پر مبنی چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی نے بڈرز کی خصوصی توجہ حاصل کی جس سے سرکاری خزانے کو خطیر ریونیو حاصل ہوگا۔اس حوالے سے صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چوائس نمبر پلیٹس کا یہ منصوبہ ایک منفرد اور عوام دوست اقدام ہے، جو الحمدللہ عوام کی بھرپور دلچسپی کے باعث کامیاب رہا۔انہوں نے کامیاب بولی دہندگان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی درخواست اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں مزید من پسند چوائس نمبر پلیٹس کی ای بڈنگ کا انعقاد کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ خواہشمند حضرات اپنی دلچسپی کے مطابق ناموں اور مارکس کے لیے دستک ایپ کے ذریعے یا ڈائریکٹر جنرل ایکسائز کو درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول آئندہ بھی عوامی سہولت، شفافیت اور جدیدیت پر مبنی ایسے مزید اقدامات جاری رکھے گا۔نیلامی کی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول عبد الحلیم خان کے علاؤہ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

با سٹھ ویں نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ کی ٹرافی کی رونمائی

پشاور براق 62ویں نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ کی ٹرافی کی رونمائی کی تقریب پشاور سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوئی تقریب کے مہمان خصوصی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمدخان ترند تھے، جنہوں نے باقاعدہ طور پر ٹرافی کی رونمائی کی۔اس موقع پر ڈی جی سپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر اور دیگر متعلقہ افراد موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر کھیل تاج محمد ترند نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ کا انعقاد خوش آئند امر ہے جس سے صوبے کے نوجوان کھلاڑیوں کو سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع میسر آئیں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے منشور کے مطابق تمام اضلاع کے کھلاڑیوں کو کھیلوں کی معیاری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور آئندہ بھی کھیلوں کے فروغ کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں خیبرپختونخوا کے کھلاڑی بہترین کھیل کا مظاہرہ کریں گے آخر میں صوبائی حکومت کی جانب سے نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ کے لیے پانچ لاکھ روپے کے تعاون کا اعلان بھی کیا۔62 ویں نیشنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ یکم فرور ی سے پشاور سپورٹس کمپلیکس میں شروع ہوگی جس میں ملک بھر سے سو سے زائد مرد وخواتین کھلاڑی شرکت کریں گے۔

انصاف، کمیونٹی کی سطح پر امن کے فروغ، امن و سلامتی کے اداروں میں خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی میں ان کے کردار میں انڈونیشیا کے تجربات سے استفادہ کرنے کے لئے اعلیٰ سطح قومی وفد کا جکارتہ کا دورہ

چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس نے خواتین، امن اور سلامتی (ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی) کے موضوع پر پاکستان–انڈونیشیا ایکسپوژر اینڈ لرننگ وزٹ میں شرکت کے لئے انڈونیشیا کے شہر جکارتہ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ 19 سے 24 جنوری 2026 تک منعقد ہوا جس کا اہتمام یو این ویمن کے تعاون سے کیا گیا۔اس بین الاقوامی فورم میں چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس حکومتِ خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کا حصہ تھیں۔ وفد میں وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق پاکستان خالد صدیق، چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن امے لائلہ، چیئرپرسن بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کرن بلوچ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شامل تھے۔دورے کے دوران پاکستانی وفد نے انڈونیشیا کے سرکاری اداروں، پولیس حکام، قومی خواتین و انسانی حقوق کمیشنز اور سول سوسائٹی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں انصاف کے مربوط نظام، کمیونٹی کی سطح پر امن کے فروغ، امن و سلامتی کے اداروں میں خواتین کی قیادت اور ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی ایجنڈے پر مقامی سطح پر عملدرآمد جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے انڈونیشیا کے ”پیس ولیج ماڈل“، کمیونٹی پولیسنگ، ابتدائی انتباہی نظام اور خواتین کی قیادت میں جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن کا مقصد تنازعات کی روک تھام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ پولیس تربیتی اداروں اور نگران اداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں صنفی حساس پولیسنگ اور عوامی سطح پر خدمات کی فراہمی کے مؤثر طریقوں پر روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر مختلف سیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن کے پی سی ایس ڈبلیو نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے قوانین اور پالیسیاں موجود ہیں، تاہم اصل چیلنج ان پر مؤثر عملدرآمد ہے، خاص طور پر خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں۔چیئرپرسن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا ویمن کمانڈونیشیا کے تجربات سے سیکھتے ہوئے صوبائی اداروں کو مضبوط بنائے گا، امن و سلامتی سے متعلق فیصلوں میں خواتین کی شمولیت بڑھائے گا اور خیبرپختونخوا میں ویمن، پیس اینڈ سیکیورٹی ایجنڈے پر مقامی سطح پر عملدرآمد کو فروغ دے گا۔دورے کے اختتام پر یو این ویمن پاکستان اور یو این ویمن انڈونیشیا کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے ممالک کے درمیان تعاون اور تجربات کے تبادلے کو ممکن بنایا جس سے ان ممالک میں خواتین کو بااختیار بنانے، امن اور انصاف کے لئے پالیسی اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری میں مدد ملے گی۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان، تاج محمد خان ترند نے حالیہ برف باری اور بارشوں سے متاثرہ ضلع بٹگرام میں تمام رابطہ سڑکوں کی فوری بحالی اور برف ہٹانے کے لیے ڈپٹی کمشنر بٹگرام کو ہدایات جاری کر دی ہیں

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان، تاج محمد خان ترند نے حالیہ برف باری اور بارشوں سے متاثرہ ضلع بٹگرام میں تمام رابطہ سڑکوں کی فوری بحالی اور برف ہٹانے کے لیے ڈپٹی کمشنر بٹگرام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔مشیر کھیل نے پشاور میں واقع اپنے دفتر سے بذریعہ ٹیلی فون ڈپٹی کمشنر بٹگرام سے رابطہ کیا اور انہیں ہدایت کی کہ لنگ روڈز، دور افتادہ علاقوں کی سڑکوں اور اہم شاہراہوں کو فوری طور پر کھولا جائے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے بھاری مشینری اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے پر زور دیا۔تاج محمد خان ترند نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں عوام کو روزمرہ ضروریات، علاج معالجے اور آمدورفت میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ افراد جن کے مکانات بارشوں یا برف باری کے باعث متاثر ہوئے ہیں، اپنی درخواستیں ڈپٹی کمشنر آفس بٹگرام میں جمع کروائیں تاکہ بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔مشیر کھیل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد کریں تاکہ بحالی کا عمل مؤثر اور تیز تر بنایا جا سکے۔انہوں نے انتظامیہ کو مزید ہدایت کی کہ ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت الرٹ رہیں۔

بر سوات کو ضلع قرار دینا خوش آئند ہے، تاریخی پہچان اور شناخت برقرار رہی، ڈاکٹر امجد علی

خیبرپختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجدعلی نے کہا ہے کہ بر سوات کو باقاعدہ ضلع کا درجہ ملنا، احسن اقدام ہے، بر سوات کے لوگ خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ بر سوات سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن کے اجراء کے حوالے سے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجدعلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے ترقیاتی منصوبوں کی بہتر انجام دہی اور اس میں تیزی آنے سمیت انتظامی امور میں بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بر سوات کو برسوات کا نام دینے سے اس کی تاریخی پہچان اور شناخت بھی برقرار رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات اور برسوات دونوں کے لیے یہ ایک تاریخی اور خوش آئند اقدام ہے اور دونوں اضلاع باہمی تعاون، اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ترقی و خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سوات کو دو اضلاع بنانے کافیصلہ علاقے کے روشن مستقبل کے لیے بنیاد ثابت ہوگا۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا ہری پور کا دورہ، ملاوٹ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کی ہدایت

ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے گزشتہ روز ضلع ہری پور فوڈ سیفٹی دفتر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ضلعی انتظامی افسران سے بھی تفصیلی ملاقات کی اور فوڈ سیفٹی سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر عبد الستار شاہ اور ڈائریکٹر فنانس ظاہر محمود بھی موجود تھے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری و مضرِ صحت خوراک کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں، اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی یا رعایت برداشت نہیں کی جائے گی۔بعدازاں ڈائریکٹر جنرل نے ہری پور فوڈ سیفٹی ٹیم کے ہمراہ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کا دورہ کیا، جہاں صنعتی زون میں مختلف پروڈکشن یونٹس اور شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ معائنے کے دوران خام مال سے لے کر تیار شدہ مصنوعات تک تمام مراحل کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے فیکٹریوں میں صفائی ستھرائی کے انتظامات اور مصنوعات کے معیار کو تسلی بخش قرار دیا اور فوڈ سیفٹی ایس او پیز پر عملدرآمد کو سراہا۔ انہوں نے فیکٹری مالکان کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔اس موقع پر کاشف اقبال جیلانی نے کہا کہ شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے فیلڈ میں مؤثر نگرانی اور عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

سیکرٹری زراعت ڈاکٹر امبر علی خان کی صدارت میں محکمہ زراعت کی آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد

گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت محکمہ زراعت سے متعلق عوامی شکایات، مسائل اور تجاویز کے مؤثر ازالے کے لیے منگل کے روز پشاور میں آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت سیکرٹری محکمہ زراعت خیبر پختونخوا ڈاکٹر امبر علی خان نے کی۔ کھلی کچہری میں سپشل
سیکرٹری زراعت اورایڈیشنل سیکرٹری زراعت سمیت محکمہ زراعت کی مختلف ونگز کے ڈائریکٹر جنرل اوردیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف اضلاع سے کسانوں اور شہریوں نے زرعی سہولیات، بیج ا ور کھاد کی فراہمی، آبپاشی، فصلوں کی پیداوار، زرعی توسیعی،خدمات اور دیگر اہم امور سے متعلق اپنی شکایات اور مسائل سے آگاہ کیا جبکہ براہ راست اپنی تجاویز و آراء بھی پیش کیں۔سیکرٹری زراعت ڈاکٹر امبر علی خان نے کھلی کچہری کے دوران عوامی مسائل نہایت توجہ سے سنے اور ان کے فوری و مؤثر حل کے لیے متعلقہ افسران کو واضح ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے بعض شکایات کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت نے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت عوامی خدمت، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام اور کسانوں کو براہ راست اپنی آواز حکام تک پہنچانے کا موقع فراہم کرنا اور مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کرنا ہے۔ سیکر ٹری زراعت نے کہا کہ زرعی مشینری، کھاد اور کاشتکاری کی دیگر سہولیات صوبے کے دور دراز پہاڑی علاقوں تک پہنچانے کے لئے بھی محکمہ زراعت بھر پور اقدامات اٹھا رہا ہے اسی طرح زرعی زمینوں کی آبپاشی کے لئے بھی مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اور جس اراضی کا نظام آبپاشی محکمہ زراعت کے تحت حل ہو رہا ہے تو اس کے لئے محکمہ خود اقدامات اٹھائے گا اور جو محکمہ زراعت کے زمرے میں نہیں آتا اسے محکمہ آبپاشی کے ساتھ روابط کے ذریعے حل کیا جائے گا۔انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ ماڈل فارم سروسز میں اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں تاکہ وہ محکمہ زراعت کی خدمات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کسانوں کی فلاح و بہبود، زرعی شعبے کی ترقی اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے، جبکہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے اس طرح کی کھلی کچہریوں کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔

وزیرِ قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم کی زیرِ صدارت مختلف امور کے منصوبوں کے پی سی۔ون پر اہم اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت محکمہ قانون کے تحت اس کے فوجداری اور دیوانی قوانین کا ازسرنو جائزہ لینے اور اس سے جڑے دیگر منصوبوں کے پی سی۔ون (PC-I) پر تفصیلی پریزنٹیشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون، ڈی جی لاء اینڈ ہیومن رائٹس، محکمہ قانون کے حکام اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ قانون کے حکام نے مجوزہ پی سی۔ون کے اغراض و مقاصد، مالی تخمینوں، منصوبے کی افادیت اور متوقع نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور شرکاء کی جانب سے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ دیوانی اور فوجداری قوانین کا بلا واسطہ اثر سماج پر ہوتا ہے لہذا ان قوانین کو ازسر نو جائزہ لینے کے لئے پی سی ون میں منصوبہ کی شمولیت پر زور دیا گیا۔۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ پی سی۔ون کو جدید تقاضوں، شفاف مالی نظم و نسق اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ قانون کی استعداد کار میں بہتری اور نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ترقیاتی منصوبے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی سی۔ون میں دی گئی تجاویز کی روشنی میں ضروری ترامیم کے بعد اسے متعلقہ فورمز سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی شکایات کے فوری اور مؤثر ازالے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ آن لائن کھلی کچہری میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے شرکت کی جبکہ انکے ہمراہ سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایڈیشنل سیکرٹری، چیف انجینئرز اور محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔آن لائن کھلی کچہری کے دوران صوبائی وزیر فضل شکور خان نے براہِ راست ٹیلی فون کالز اور سوشل میڈیا کے ذریعے صوبہ بھر سے موصول ہونے والی عوامی شکایات اور مسائل سنے۔ لوگوں نے پینے کے صاف پانی، نکاسی آب اورجاری ترقیاتی سکیموں سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی اور محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے قیمتی تجاویز بھی پیش کیں۔صوبائی وزیر نے عوامی شکایات پر موقع پر ہی متعلقہ افسران کو فوری اور مؤثر حل کے لیے واضح ہدایات جاری کیں اور اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات کا بروقت اور شفاف ازالہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔فضل شکور خان نے کہا کہ آن لائن کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مضبوط بنانا، انکے مسائل کے فوری حل اور عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایت پر کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جو کہ ایک عوام دوست اقدام ہے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ محدود وسائل کے باوجود صوبائی حکومت عوام کے مسائل کو بھرپور اور سنجیدہ انداز میں حل کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے اور اس ضمن میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو مزید فعال اور جوابدہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق تمام سکیموں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے کھلی کچہری میں لوگوں کی دلچسپی لینے اور شکایات درج کرانے پر شکریہ ادا کیا انہوں نے مزید کہا کہ بعض مسائل کے حل کے لئے لوگ اپنے متعلقہ منتخب رکن صوبائی اسمبلی سے رابطہ رکھیں کیونکہ ترقیاتی سکیموں کے لئے انکے ایم پی ایز کو فنڈز دئیے ہیں تاکہ ان کے علاقہ کی سکیموں کے لئے فنڈز جاری کئے جا سکیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان کا وادی تیراہ سے نقل مکانی سے متعلق وفاقی حکومت کی بیان پر رد عمل

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی و آپریشن کا سارا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا قوم جانتی ہے کہ وادی تیراہ میں آپریشن سے متعلق وفاقی وزراء کی قومی اسمبلی میں تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ڈی سی کی جانب سے جاری لیٹر اور تیرہ کی مقامی 24 رکنی کمیٹی کا موقف بھی سب کے سامنے ہے۔ عاقب اللہ خان نے کہا کہ وادی تیراہ کے لوگ آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کے حوالے سے اپنا مؤقف متعدد بار واضح کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر آپریشن کی مخالفت کی تھی۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پہلے وفاقی حکومت اپنے فیصلے قوم پر مسلط کرتی ہے جبکہ پھر مشکل وقت میں متاثرین کو بھی تنہا چھوڑ دیتی ہے اور وفاقی حکومت کا بیان انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ وزیر برائے ریلیف عاقب اللہ خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے انخلاء کرنے والے متاثرین کو بروقت ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی فنڈز جاری کیے، جبکہ فنڈز کے اجراء کا مقصد متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا تھا اور اس معاملے میں صوبائی حکومت نقل مکانی پر مجبور ہونے والے متاثرین کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء کے حوالے سے وفاقی حکومت کا بیان بے بنیاد، من گھڑت، حقائق کے منافی اور عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش ہے جو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔