Home Blog Page 46

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس منگل کے روز چیئرمین کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی کی زیر صدارت

پشاور میں منعقد ہو جس میں اراکین کمیٹی اکرام غازی، ریحانہ اسماعیل سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے گندھارا تہذیبوں کے نوادرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایسے تمام امور صوبائی حکومت کے اختیار میں آچکے ہیں، لہٰذا وفاق کو اس معاملے میں بلاجواز مداخلت اور تجاوزسے گریز کرنا چاہیے۔اجلاس میں پیڈو ڈیپارٹمنٹ کے دس جاری ہائیڈرل پراجیکٹس پر بھی غور کیا گیا جو تکمیل کے مراحل میں ہیں اور ان سے مجموعی طور پر 250 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، جو نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی۔ چیئرمین احمد کنڈی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ہر ہائیڈرل پراجیکٹ کی علیحدہ تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ان کی افادیت اور اثرات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جاسکے۔مزید برآں، اجلاس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شفافیت کے فروغ کے لیے سفارشات پیش کی گئیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ غیر شفاف تقسیم سے گریز کرتے ہوئے فنڈز حقیقی مستحقین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے منتقل کیے جائیں، تاکہ عوامی فلاح کے اس اہم پروگرام کی شفافیت اور اعتماد کو بحال رکھا جا سکے-

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمن کی زیرِ صدارت محکمہ صحت کے نئے بھرتی ہونے والے 51 میڈیکل آفیسرز کی تقرریوں کے حوالے سے منگل کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمن کی زیرِ صدارت محکمہ صحت کے نئے بھرتی ہونے والے 51 میڈیکل آفیسرز کی تقرریوں کے حوالے سے منگل کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاہد یونس سمیت محکمہ صحت کے تمام متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان ڈاکٹروں کی بھرتی کا عمل جولائی 2025 میں شروع ہوا تھا، جس کے تحت 115 اسامیوں کو EATA کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر مشتہر کیاگیا تھا۔ اب تک 111 ڈاکٹرز کی تقرری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ باقی 51 کنسلٹنٹس کی بھرتی بھی حتمی مراحل میں ہے۔وزیر صحت نے اجلاس میں 24 ڈاکٹروں کو تقررنامے خود بھی حوالے کیے۔اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں ڈاکٹروں اور کنسلٹنٹس کی شدید کمی کو پورا کرنے کے لیے بھرتیوں کے دوسرے مرحلے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ اس مرحلے کے تحت 207 اسامیوں پر بھرتیاں EATA کے ذریعے شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں 32 ڈینٹل سرجنز کے انٹرویوز مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ 165 میڈیکل آفیسرز کا ٹیسٹ بھی ہو چکا ہے اور ان کے انٹرویوز جلد شروع کیے جائیں گے۔تقرر نامے تقسیم کرتے ہوئے وزیر صحت کو انڈکشن کے پورے عمل کی شفافیت اور میرٹ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر صحت نے نئے بھرتی شدہ ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانت داری، محنت اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ نبھائیں تاکہ محکمہ صحت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز کے حل اور اصلاحات کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔وزیر صحت نے بھرتی کے عمل پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھرتی میں کسی بھی قسم کی ناانصافی یا غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ صوبے کو بنیادی صحت کی خدمات مضبوط بنانے کے لیے اہل، ایماندار اور باصلاحیت افراد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے نظام کی بہتری ایک اجتماعی کوشش ہے اور اس کے لیے مضبوط کوآرڈی نیشن اور مینجمنٹ سسٹم کا قیام ناگزیر ہے۔آخر میں وزیر صحت نے نئے میڈیکل آفیسرز میں تقررنامے تقسیم کرتے ہوئے انہیں تعیناتی پر مبارکباد پیش کی۔

سیکرٹری لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹیوز محمد طاہر اورکزئی کی زیر صدارت محکمہ لائیو اسٹاک کی ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری میں بہتری سے متعلق آن لائن اجلاس منعقد ہوا

سیکرٹری لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹیوز محمد طاہر اورکزئی کی زیر صدارت محکمہ لائیو اسٹاک کی ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری میں بہتری سے متعلق آن لائن اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان سمیت صوبے کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں ضلعی سطح پر سروس ڈیلیوری، کارکردگی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری طاہر اورکزئی نے ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری میں بہتری پر افسران کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ لائیو اسٹاک صوبے کی عوامی ضروریات کو پورا کرنے اور زرعی معیشت کو فروغ دینے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے اور خوراک کی ضروریات پوری کرنے میں بھی اس کا کردار انتہائی نمایاں ہے، لہٰذا اس شعبے میں بہتری براہ راست عوامی فائدے سے منسلک ہے۔سیکرٹری لائیو اسٹاک نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ضلعی افسران محکمے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور محنت کریں۔ انہوں نے سختی سے تنبیہ کی کہ جن اضلاع میں کارکردگی 50 فیصد سے کم ہے، وہاں کے افسران فوری طور پر اپنی کارکردگی بہتر کریں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ لائیو سٹاک عوام کو معیاری اور بروقت سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتا رہے گا اور صوبے میں سروس ڈیلیوری کے مجموعی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت محکمہ داخلہ کے کمٹی روم میں کابینہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا

خیبرپختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت محکمہ داخلہ کے کمٹی روم میں کابینہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز ریگولیشن کے قانون کے مجوزہ خاتمے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل اور محکمہ داخلہ کے دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مجوزہ قانون کے خاتمے سے متعلق ضروری قانونی تقاضوں، ممکنہ قانونی پیچیدگیوں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی شمولیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے قانون کے خاتمے کے انٹنیگریم پیریڈ کے قانون کا مختلف پہلوؤں کے حوالے سے بھی غور کیا۔ اجلاس میں حال ہی میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں منعقدہ امن جرگے کے فیصلوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔وزیر قانون نے تجویز دی کہ اس قانون کو اسمبلی سے ریپیل کرانے سے قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔صوبائی کابینہ نے کابینہ کمیٹی کو اس قانون کے قانونی اور پروسیجرل پہلوؤں سے متعلق اختیارات دیے ہیں تاکہ قانون کی منسوخی کے عمل کو موثر اور قانونی طور پر درست بنایا جا سکے اور ان تجاویز کو کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

تیل قیمتیں نومبر 2021 کے بعد سے کم ترین سطح پر ہیں جبکہ دوسری طرف ملک میں گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گیس قیمتوں سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل قیمتیں نومبر 2021 کے بعد سے کم ترین سطح پر ہیں اب 58.6 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہی ہیں جبکہ دوسری طرف ملک میں گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اوگرا نے ایک روز قبل گیس قیمت میں 8 فیصد کمی کی منظوری دی لیکن اچانک اپنا فیصلہ بدل کر 7 فیصد اضافہ کر دیا اچانک اوگرا یوٹرن سے لوگ حیرت اور صدمے میں ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایکسپورٹرز پہلے ہی اپنی غیر مسابقتی حیثیت پر چیخ رہے ہیں اور وزیرِ اعظم نے کاروبار لاگت کم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ ہماری قابل اتھارٹی کتنی اہل ہے۔ ایک دوسرے بیان میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے پاکستانی بینکوں میں جمع کرانے کی بجائے نقدی رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 کھرب روپے سے زائد رقم بینکاری نظام سے باہر کرنسی اِن سرکولیشن میں ہیں جو آئی ایم ایف رپورٹ میں شناخت شدہ 5.3 کھرب روپے کی کرپشن سے دو گنا سے زیادہ ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ کرنسی اِن سرکولیشن میں پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔نقدی رکھنے کی ایک اور وجہ ملک میں بلند ٹیکس شرح بھی ہوسکتی ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومتی ڈیجیٹل لائزیشن کی مہم کسی کام کی ثابت نہیں ہو رہی۔

خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش دھماکے کے روز خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، ایسے سانحے کے دن الزام تراشی کی بجائے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ پشاور کے ایک حساس مقام پر ہونے والے خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے جوان شہید اور زخمی ہوئے۔اس واقعے کے فوری بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنی تمام سرکاری مصروفیات ترک کرکے ہسپتال پہنچے زخمیوں کی عیادت کی اور بعد ازاں شہدائ کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہئے تھا کہ دہشتگردی کے واقعہ پر صوبائی حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتی لیکن افسوس کہ انہوں نے الزام تراشی کو ترجیح دی ہماری روایت رہی ہے کہ سانحات کے موقع پر سیاست نہیں کی جاتی بلکہ غم زدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ مریم صفدر کی سیاست الزام تراشی سے شروع ہو کر نفرت پر ختم ہوتی ہے اور یہی ان کی جماعت کا وطیرہ بھی ہے۔ خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور آج بھی ہمارا صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے صوبے میں امن کے قیام کے لیے امن جرگہ کے ذریعے تمام سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا،صوبے کے حقوق کے حوالے سے وفاق کی سرد مہری پر شفیع جان نے کہا کہ وفاق کا خیبرپختونخوا کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے وفاق خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں واجبات ادا نہیں کر رہا تاہم وفاقی حکومت کی سرد مہری کے باوجود صوبائی حکومت اپنے وسائل سے وزیراعلیٰ کی قیادت اور بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے کی ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے،شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت موٹرویز کی تعمیر، پن بجلی کے منصوبوں، ٹرانسمیشن لائن بچھانے سمیت کئی اہم ترقیاتی منصوبوں پر عملی کام کر رہی ہے۔ضمنی الیکشن پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت فارم 47 کے ذریعے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ 8 فروری کے عام انتخابات سے جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت اور اپنے قائد عمران خان کی رہنمائی میں صوبے کے حقوق اور عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن، آئینی و قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کرنسی سرکولیشن بارے اہم بیان

پاکستانی بینکوں میں جمع کرانے کے بجائے نقدی رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ مزمل اسلم

اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 کھرب روپے سے زائد رقم بینکاری نظام سے باہر کرنسی اِن سرکولیشن میں ہیں۔ مزمل اسلم

جو آئی ایم ایف رپورٹ میں شناخت شدہ 5.3 کھرب روپے کی کرپشن سے دو گنا سے زیادہ ہے۔ مزمل اسلم

کرنسی اِن سرکولیشن مٰیں پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزمل اسلم

نقدی رکھنے کی ایک اور وجہ ملک میں بلند ٹیکس شرح بھی ہوسکتی ہیں۔ مزمل اسلم

حکومتی ڈیجیٹل لائزیشن کی مہم کسی کام کی ثابت نہیں ہو رہی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

انور خان خٹک اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ پی آر او ٹو مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

صوبائی وزیر ایکسائز سید فخرجہان کی زیرِ صدارت بونیر میں انسدادِ منشیات کے حوالے سے کھلی کچہری کا انعقاد

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کی زیرِ صدارت پیر کے روز ڈپٹی کمشنر آفس بونیر میں انسدادِ منشیات کے حوالے سے اعلی سطح کی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم، ڈی جی ایکسائز،ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول عبدالحلیم خان، ڈی پی او بونیر، ڈائریکٹر نارکوٹکس کنٹرول، ایی ٹی او انٹی نارکوٹکس آپریشنز،سرکل آفیسر و ایس ایچ او ایکسائز سوات، فلاحی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں، سیاسی مشران، صحافی برادری اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھرپور شرکت کی۔کھلی کچہری کا مقصدمنشیات کے پھیلاؤ کی روک تھام، آگاہی کے فروغ، اصلاحی سماجی اقدامات کو مضبوط کرنا اور متعلقہ اداروں و فلاحی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ کوششیں و تدابیر وضع کرنا تھا۔کھلی کچہری سے خطاب میں صوبائی وزیر سید فخر جہان نے کہا کہ منشیات ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف نوجوان نسل بلکہ پوریمعاشرتی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بانی چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے ڈرگ فری خیبرپختونخوا کے ویژن کے مطابق بلا امتیاز، سخت اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے اس لعنت کے خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث کسی بھی فرد کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انسدادِ منشیات کیلئے اصلاحی و سماجی اقدامات بھی ضروری ہیں جس میں سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں کا حکومت اور اداروں کیساتھ ایک کلیدی کردار بنتا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت اس لعنت کے خلاف موثر اقدامات اٹھائے گی تاہم معاشرے کو من حیث القوم کمیونٹی کی سطح پر اس سوچ کو مضبوط کرنا ہے کہ منشیات ایک سماجی دشمن ہے اور اس کے خلاف ہر شہری کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے بونیر میں محکمہ ایکسائز کے سب سٹیشن آفس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئے دفتر میں ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت عملہ تعینات ہوگا جس سے ضلع میں انسدادِ منشیات کی کارروائیوں میں تیزی آئے گی اور مقامی نگرانی کا نظام مضبوط ہوگا۔اپنے خطاب کے دوران صوبائی وزیر نے تمام شرکاء، فلاحی تنظیموں، ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ ایکسائز اور سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ ہمارا مشترکہ مقصد ایک محفوظ، باشعور اور منشیات سے پاک خیبرپختونخوا اور ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اداروں، فلاحی تنظیموں اور عوام کی کوششوں کی ہر سطح پر مکمل سرپرستی کرتی رہے گی تاکہ آنے والی نسلیں صحت مند اور محفوظ ماحول میں پروان چڑھ سکیں۔شرکاء نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے اپنی تجاویز اور بعض گذارشات بھی پیش کیں اور صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے تاریخ میں پہلی دفعہ انسداد منشیات کے لئیسنجیدہ اقدامات اٹھاتے ہوئے بونیر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر ڈی پی او بونیر نے کہا کہ پولیس منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور مشترکہ کارروائیاں جاری رکھے گی اور محکمہ ایکسائز کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان نے کہا کہ محکمہ ایکسائز صوبے کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھاتا رہے گا۔سماجی تنظیموں نے یقین دلایا کہ وہ اس مہم میں حکومت کے شانہ بشانہ رہیں گے تاکہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیرصدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت ہفتہ وار گورننس امور پر اجلاس میں پشاور کی ترقی و بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹریز اور ویڈیو لنک کے ذریعے ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت خیبرپختونخوا کے اصلاحاتی اقدامات کے تحت پشاور میں بیوٹیفکیشن اور بحالی پر تیزی سے کام جاری ہے۔ پی ڈی اے کی جانب سے ماہانہ پلان تیار کرلیا گیا۔پہلے مہینے کے اقدامات میں فلائی اوورز کی بہتری، لائٹس کی تنصیب، کرب سٹونز کی تبدیلی، گرین بیلٹس کی بحالی، پیڈیسٹرین برجز کی خوبصورتی شامل ہیں۔ اسی طرح محکمہ سیاحت دس بی آر ٹی فیڈر بسز اور سات بی آر ٹی اسٹیشنز کی تزئین و آرائش بھی کررہی ہے۔اس کے علاوہ پشاور کیلئے 120 کلومیٹر سے زائد روڈز، سمارٹ سٹی اقدامات، ٹریفک مینجمنٹ پلان اور واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز اصلاحات بھی تیار کرلی گئی ہیں۔رنگ روڈ کی بہتری اور یونیورسٹی روڈ کی کارپٹنگ بھی ان اقدامات میں شامل ہے۔جبکہ پشاور کی طرز پر تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اپنے وسائل کیمطابق شہروں کی بہتری کیلئے کام کریں گے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اس حوالے سے پلاننگ کرنے کی ہدایت جاری کیں اور کہا کہ پشاور کے ترقیاتی پیکج کیلئے نفاذی پلان اور درکار وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کام جلد مکمل کیا جائے اور تمام ادارے اس حوالے سے کوآرڈینیشن سے کام کریں۔

وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ، زخمیوں کی عیادت کی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات وتعلقات عامہ شفیع جان نے پیر کے روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والے ایف سی اہلکاروں اور عام شہریوں کی عیادت کی اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات محمد عمران خان اور ہسپتال انتظامیہ بھی موجود تھی،معاون خصوصی نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی ان کے حوصلے اور عزم کو سراہا اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو ہر ممکن بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ انتہائی بزدلانہ اور قابل مذمت فعل ہے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور عوام نے قربانیاں دی ہیں، صوبائی حکومت عوام کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کرے گی،معاون خصوصی نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث بڑا نقصان ٹل گیا۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی خود تمام معاملات دیکھ رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت سیکیورٹی اور امن و امان کے چیلنجز درپیش ہیں تاہم صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور قیام امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خطیر فنڈز فراہم کیے ہیں اسی سلسلے میں صوبے میں امن کے قیام کے لیے حال ہی میں ایک ”امن جرگہ“ بھی منعقد کیا گیا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، سول سوسائٹی نمائندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی،انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی امن کے قیام سے وابستہ ہے جب امن ہوگا تو ترقی بھی ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے افغانستان سے دوحہ میں مذاکرات کیے ہیں، جس پر صوبائی حکومت کو شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے متعلق مذاکرات میں صوبائی حکومت کو بھی اعتماد میں لیا جائے شفیع جان نے واضح کیا کہ امن کا قیام قومی اور مشترکہ ایجنڈا ہے اس اہم قومی مسئلے پر کسی قسم کی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔