Home Blog Page 46

اس وقت ملک میں گندم آٹے کا بحران شاید دنیا کے تیل کے بحران سے بھی بڑا ہو چکا ہے جبکہ وفاقیحکومت عوام سے گندم بحران کے حوالے سے حقائق چھپا رہی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گندمکےآٹے کےبحران اور اشیاء خوردونوش کی ملک کے اندرقیمتوں میں اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں گندم کے آٹے کا بحران شاید تیل کے بحران سے بھی بڑا ہو چکا ہے جبکہ وفاقیحکومت عوام سے گندم بحران کے حوالے سے حقائق چھپا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیزن کے شروع ہونےکے چند مہینوں میں ملک سے گندم کہاں غائب ہوگئی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ کیا وفاق اور صوبائی حکومت کے پیداواری اعدادو شمار ٹھیک تھے اور کس کی کوتاہی کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ حکومت نے اہداف کے مطابق گندم خریداری کیوں نہیں کی اوروہ گندم کس کے پاس ہے۔ پنجاب حکومت نے بین الصوبائی گندم آمد و رفت پر پابندی لگا کر آرٹیکل 151کی خلاف ورزی کیوں کی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صرف جولائی کے مہینے میں گندم کے قیمت میں 6.75 فیصد اور ایک سال میں 77 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور صرف جولائی میں ٹماٹر کی قیمت میں 116 فیصد، سبزیاں 22 فیصد، آلو 21.5 فیصد، پیاز 20 فیصد، مرغی 19 فیصد، انڈے 14.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اشیاء خوردونوش قیمتوں میں اضافہ کی بنیادی وجہ ڈیزل کی قیمتوں میں 70 روپے فی لیٹر اضافہ ہے اور ڈیزل قیمت 70 روپے اضافے کے بعد 392 فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایل پی جی قیمتوں میں 51 فیصد اضافےسے کھانا پکانا مشکل ہوگیا ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہکیا وفاقی حکومت سے مہنگائی اور گندم بحران پر کوئی سوال کرے گا اورکیا میڈیا صرف مثالی تعلقات کی بین بجاتا رہے گا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقیحکومت گندم درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کر کے بار بار آئی ایم ایف کے دروازےپر دستک دے رہی ہے اور عوام پر آمرانہ ٹیکس کا بوجھ ڈالے جا ر ہی ہے

پولیس کا ہر اہلکار اور شہید قوم کا فخر ہے، صوبائی وزیر معدنیات عارف احمد زئی

​خیبرپختونخوا کے وزیر معدنیات عارف احمد زئی نے کہا ہے کہ امن و امان کا قیام معاشرے کی بقاء، انسانی تحفظ اور معاشی و سماجی ترقی کے لیے لازم ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر بے مثال قربانیاں دی ہیں اور قوم اپنے شہداء کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاه سے دیکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں یومِ شہداءِ پولیس کے سلسلے میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ جان، ایم این اے ملک انور تاج، ایم پی اے ارشد عمرزئی، سیاسی قائدین، وکلاء، اعلیٰ حکام، پولیس افسران، علاقہ عمائدین اور شہداء کے لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عارف احمد زئی نے کہا کہ امن ہر نعمت پر مقدم ہے اور ہمارے جوانوں نے عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے مضبوط و مربوط حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے رات گئے تک ڈیوٹی سرانجام دینے، عوامی شکایات پر فوری ردِعمل اور محدود وسائل کے باوجود پولیس فورس کے جذبے اور تندہی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ عارف احمد زئی کا مزید کہنا تھاا کہ صوبائی حکومت بجٹ اور منصوبہ بندی کے ذریعے خیبر پختونخوا پولیس کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور تمام درپیش مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیر اطلاعات شفیع جان کا چہلمِ حضرت امام حسینؓ کے انتظامات کا جائزہ، تمام اداروں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ فرائض انجام دینے کی ہدایت

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے منگل کو چہلمِ حضرت امام حسینؓ کے موقع پر نکالے جانے والے مرکزی جلوس کے روٹ کا دورہ کرتے ہوئے سیکیورٹی، ٹریفک، صفائی، طبی سہولتوں اور دیگر انتظامی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عزاداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور امن و امان کے قیام کیلئے تمام ادارے باہمی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔دورے کے دوران صوبائی وزیر کو ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے جلوس کے روٹ پر کئے گئے انتظامات، سیکیورٹی پلان، ٹریفک کی روانی، صفائی ستھرائی، ہنگامی طبی امداد اور دیگر سہولتوں کے بارے میں بریفنگ دی۔شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت چہلمِ حضرت امام حسینؓ کے موقع پر پرامن، محفوظ اور منظم ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضروری وسائل اور افرادی قوت دستیاب ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جلوس کے شرکاء کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور تمام متعلقہ ادارے اپنے فرائض پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیتے ہوئے باہمی رابطے کو مؤثر بنائیں تاکہ چہلم کے موقع پر مذہبی رسومات پرامن ماحول میں ادا کی جا سکیں۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جلوس کے راستوں پر صفائی، ٹریفک کی روانی، طبی امداد، ہنگامی رسپانس اور دیگر شہری سہولتوں کی مسلسل نگرانی کی جائے جبکہ سیکیورٹی انتظامات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ عزاداروں کو محفوظ اور پرامن ماحول میسر آ سکے۔

وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان کا یوم شہدائے پولیس کے موقع پر پیغام

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر ہم خیبر پختونخوا پولیس کے ان عظیم شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز میں امن و امان کے قیام، قانون کی بالادستی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے یہ بہادر شہداء ہماری قوم کے حقیقی ہیرو ہیں، جن کی لازوال قربانیاں امن، استحکام، قومی وقار اور روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد ہیں۔ پوری قوم ان کے جذبۂ ایثار کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ عزت، احترام اور فخر کے ساتھ یاد رکھے گی۔شہداء کے اہلِ خانہ کی کفالت، عزت و تکریم اور فلاح و بہبود حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت پولیس شہداء کے خاندانوں کی معاونت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ اسی عزم کے تحت شہداء پیکج کے ذریعے مالی معاونت، سرکاری ملازمتوں، تعلیمی سہولیات اور دیگر مراعات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ شہداء کے اہلِ خانہ کو ہر ممکن سہولت، تحفظ اور سہارا میسر آ سکے۔دہشت گردی کا ناسور خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم صوبائی حکومت اس خطرے کے مؤثر سدباب کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔صوبائی حکومت نے رواں مالی سال پولیس کا بجٹ 191 ارب روپے تک بڑھا دیا ، وزیراعلی سہیل آفریدی نے اپنے پہلے کابینہ اجلاس میں بھی پولیس اور سی ٹی ڈی کے استعداد کار کو بڑھانے کےلئے 31 ارب روپے پیکج کی منظوری دی تھی ،دہشت گردی کے نئے خطرات سے نمٹنے کے لئے جدید اسلحہ، اینٹی ڈرون جیمنگ سسٹم، ڈرون سرویلنس، آرمرڈ گاڑیاں اور دیگر جدید آلات کی خریداری کی گئیں، اس موقع پر ہم خیبر پختونخوا پولیس کے ان غازیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر غیر معمولی بہادری، استقامت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنے فرائض سے پیچھے نہ ہٹنے والے یہ جری سپوت ہمارے لیے عزم، حوصلے، ایثار اور حب الوطنی کی روشن مثال ہیں۔ انہی بہادر جوانوں کی قربانیوں اور ثابت قدمی کی بدولت صوبے میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی کوششیں مزید مضبوط ہوئی ہیں۔

شہداءِ پولیس نے امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اہلِ خانہ کی عظمت کو سلام، وزیر قانون آفتاب عالم

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور ایڈووکیٹ آفتاب عالم نے یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں شہدائے پولیس کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے بہادر شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ان نڈر جوانوں کی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن میں امن کے قیام، قانون کی بالادستی، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔وزیر قانون نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے شہداء نے اپنے خون سے امن، انصاف اور قانون کی ایسی روشن داستان رقم کی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیوں کی بدولت آج معاشرہ امن و استحکام کی جانب گامزن ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ آفتاب عالم نے شہداء نے اہلِ خانہ کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا صبر، حوصلہ اور استقامت پوری قوم کے لیے باعثِ احترام ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھے گی اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہدائے پولیس کی قربانیاں اس عزم کی تجدید کا تقاضا کرتی ہیں کہ امن، انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہم سب مل کر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے اور شہداء کے روشن مشن کو آگے بڑھائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے ضلع چارسدہ میں مون سون شجرکاری مہم کا افتتاح کیا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حاجی فضل شکور خان نے ضلع چارسدہ میں محکمہ جنگلات کے زیر اہتمام مون سون شجرکاری مہم کا باضابطہ افتتاح کرتے ہوئے پودا لگا کر مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران اور لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔شجرکاری مہم کے موقع پر صوبائی وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درخت قدرت کا انمول تحفہ ہیں جو ماحول کو آلودگی سے محفوظ رکھنے، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات میں کمی لانے، زمین کے کٹاؤ کو روکنے اور آئندہ نسلوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مون سون شجرکاری مہم محض پودے لگانے تک محدود نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور نشوونما بھی ہماری قومی، مذہبی اور سماجی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے کو سرسبز، صاف ستھرا اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آج پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ شجرکاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ صحت مند ماحول ہی صحت مند اور خوشحال معاشرے کی ضمانت ہے، اس لیے ہر شہری کو چاہیے کہ وہ کم از کم ایک پودا ضرور لگائے اور اسے درخت بننے تک اس کی حفاظت کرے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں، سماجی تنظیموں اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ آئندہ نسلوں کو ایک سرسبز، محفوظ اور خوشحال پاکستان دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ بھی صاف ماحول اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے، کیونکہ صاف پانی اور سرسبز ماحول عوام کی بہتر صحت کے لیے ناگزیر ہیں۔آخر میں صوبائی وزیر نے مختلف اقسام کے پودے بھی لگائے اور شہریوں میں مفت پودے تقسیم کیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شجرکاری کو قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اس مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کا پیغام

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر میں خیبر پختونخوا پولیس کے ان عظیم اور بہادر افسران و جوانوں کو نہایت عقیدت، احترام اور فخر کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے امنِ عامہ کے قیام، قانون کی حکمرانی، ریاست کی رِٹ کے استحکام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ایثار، جرات اور فرض شناسی کی ایسی لازوال داستان رقم کی جو ہمیشہ قوم کے لئے مشعلِ راہ رہے گی۔ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی، انتہاپسندی اور جرائم کے خلاف طویل اور کٹھن معرکے میں ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے۔ انتہائی نامساعد اور پُرخطر حالات میں بھی اس دلیر فورس نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، بے خوف قیادت اور ناقابلِ تسخیر حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تاریخی خدمات سرانجام دی ہیں۔ صوبے کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے میں اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ حکومتِ خیبر پختونخوا شہداء کے معزز ورثاء کی فلاح و بہبود، معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار اور دیگر سماجی تحفظ کے اقدامات کو اپنی اعلیٰ ترین ترجیحات میں شامل رکھے گی۔ شہداء کے اہلِ خانہ کی عزت، وقار اور مؤثر کفالت نہ صرف حکومت کی آئینی و انتظامی ذمہ داری ہے بلکہ پوری ریاست کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، جس کی ادائیگی کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل احساسِ ذمہ داری، خلوص اور تندہی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔آج ہم اپنے عظیم شہداء کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اہلِ خانہ کے صبر، استقلال، ایثار اور بے مثال قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان عظیم قربانیوں نے اس حقیقت کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا ہے کہ امن، استحکام اور قانون کی بالادستی کی قیمت ہمارے ان بہادر سپوتوں نے اپنے لہو سے ادا کی ہے، اور ان کی قربانیاں ہمیشہ ہماری قومی شناخت اور اجتماعی شعور کا قابلِ فخر حصہ رہیں گی۔یومِ شہدائے پولیس ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے شہداء کے مشن کو اسی عزم و استقلال کے ساتھ آگے بڑھائیں گے، قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کریں گے، ریاستی اداروں کی استعداد اور مؤثریت میں مزید اضافہ کریں گے اور دہشت گردی، انتہاپسندی اور ہر قسم کے جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے قومی یکجہتی، اجتماعی ذمہ داری اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمارے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، ان کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل اور استقامت سے نوازے، اور ہمارے ملک کو ہمیشہ امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے ۔آمین۔

کمشنر مردان ڈویژن جاوید مروت نے ویمن یونیورسٹی مردان میں شجرکاری مہم کا افتتاح کیا

کمشنر مردان ڈویژن جاوید مروت نے زیرِ تعمیر ویمن یونیورسٹی مردان میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مردان، وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر مردان اور وائس چانسلر نے بھی پودے لگا کر شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کمشنر جاوید مروت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے، جس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے شجرکاری کو قومی ذمہ داری کے طور پر اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ درخت ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے، درجہ حرارت میں کمی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور آئندہ نسلوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے نئی نسل میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنے اور شجرکاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، لہٰذا ہر طالب علم کو کم از کم ایک پودا لگانے اور اس کی نگہداشت کی ذمہ داری بھی نبھانی چاہیے۔کمشنر نے کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی تحفظ اور سرسبز خیبرپختونخوا کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں شجرکاری مہم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے شجرکاری مہم کو مزید مؤثر اور کامیاب بنائے گی۔اس موقع پر ویمن یونیورسٹی مردان کی تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی سرگرمیوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمشنر جاوید مروت نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں ویمن یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم ہی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے، جبکہ خواتین کو جدید اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس سے قبل کمشنر مردان ڈویژن جاوید مروت کی موجودگی میں ویمن یونیورسٹی مردان اور کوہاٹ یونیورسٹی کے درمیان علمی، تحقیقی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ بعد ازاں کمشنر مردان، ڈپٹی کمشنر مردان اور دیگر متعلقہ حکام نے ویمن یونیورسٹی کے زیرِ تعمیر مختلف بلاکس کا تفصیلی دورہ کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے تعمیراتی منصوبوں کی پیش رفت، مستقبل کی ضروریات اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمشنر نے جاری تعمیراتی کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ معیار اور ٹائم لائن کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ طالبات کو جدید، محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

عوامی خدمت، شفافیت اور کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ڈاکٹر محمد اسرار خان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی فیلڈ ٹیموں میں گزشتہ روز پشاور میں توصیفی اسناد تقسیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح عوام کو شفاف، فوری اور باعزت سرکاری خدمات کی فراہمی ہے، جس پر ہر صورت من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی عوامی خدمت، شفافیت، احتساب اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور احساس ذمہ داری کے ساتھ ادا کرے تاکہ عوام کو محفوظ، معیاری اور حلال خوراک کی فراہمی یقینی بنایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی فیلڈ ٹیموں میں توصیفی اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی، ڈائریکٹر آپریشنز محمد یوسف خان، ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹرز، ضلعی فوڈ سیفٹی افسران اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادارے میں میرٹ، کارکردگی اور احتساب کے اصولوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی جبکہ غفلت اور ناقص کارکردگی پر مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر سمیت انتظامی فیصلوں میں کارکردگی کو بنیادی معیار بنایا جائے گا تاکہ ہر افسر اور اہلکار بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔معاون خصوصی نے کہا کہ وہ خود فیلڈ ٹیموں کی روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی کی نگرانی کریں گے اور کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے اور عوام سے خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ رویے کو ہر سطح پر فروغ دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی گڈ گورننس پالیسی کے تحت عوامی اطمینان کو کارکردگی جانچنے کا اہم پیمانہ بنایا جائے گا، جس کے لیے شہریوں سے باقاعدہ فیڈ بیک حاصل کیا جائے گا تاکہ ادارے کی خدمات میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران اور اہلکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں دیگر ٹیموں کے لیے بھی مثال ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فیلڈ ٹیمیں اسی جذبے اور عزم کے ساتھ عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی اور فوڈ سیفٹی قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں گی۔تقریب کے اختتام پر معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فوڈ سیفٹی افسران اور فیلڈ ٹیموں میں توصیفی اسناد تقسیم کیں اور ان کی خدمات کو سراہا۔

خیبرپختونخوا میں بچوں کی صحت و نشوونما کے لیے ماں کے دودھ کی افادیت کے تحت آگاہی مہم کا آغاز، افتتاح وزیر صحت خلیق الرحمان نے کیا

خیبرپختونخوا میں بچوں کی صحت و نشوونما کے لیے ماں کے دودھ کی افادیت کے تحت ایک ماہ پر محیط آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور اس ضمن میں افتتاحی تقریب پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان تھے۔ تقریب کا انعقاد ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا کے صوبائی نیوٹریشن سیل نے یونیسف، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کے تعاون سے کیا تھا۔ تقریب میں سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، یونیسف، عالمی ادارہ صحت، ورلڈ فوڈ پروگرام، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام، اطفال و نسواں سے متعلق طب کے ماہرین، نیوٹریشن ماہرین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کی زندگی کا پہلا، مکمل اور قدرتی غذائی ذریعہ ہے، جو نہ صرف نومولود کو بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ اس کی جسمانی، ذہنی اور دماغی نشوونما میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیدائش کے پہلے گھنٹے میں بچے کو ماں کا دودھ پلانا اور ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا بچوں کی صحت، غذائیت اور بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بریسٹ فیڈنگ مہم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مؤثر اور کامیاب اقدامات کو مزید مضبوط بنا کر ہر ماں اور ہر بچے تک محفوظ، باوقار اور معیاری غذائیت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ماں اور بچے کی صحت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔صوبائی وزیر کو تقریب کے دوران محکمہ صحت کی جانب سے ماں کے دودھ کے فروغ کے لیے کیے گئے اہم اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ صوبے میں پاکستان انفنٹ اینڈ ینگ چائلڈ نیوٹریشن اسٹریٹجی کو اپنایا گیا ہے، خیبرپختونخوا بریسٹ فیڈنگ ایکٹ 2015 پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف طبی تنظیموں کی استعداد کار بڑھائی گئی ہے، عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق قانون میں بہتری پر کام جاری ہے، بیبی فرینڈلی ہسپتال انیشیٹو کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے، بیبی فرینڈلی کمیونٹی انیشیٹو کو وسعت دی جا رہی ہے، جبکہ کینگرو مدر کیئر سروسز کو بھی صوبے کے مزید مراکز تک توسیع دی جا رہی ہے۔شرکاء کو صوبے میں غذائیت سے متعلق تازہ ترین اعدادوشمار بھی پیش کیے گئے، جن میں بچوں میں غذائی قلت، قد کی کمی، کمزوری، ابتدائی دودھ پلانے کی شرح، صرف ماں کا دودھ پلانے کی شرح اور فوڈ سیکیورٹی کے اشاریوں میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ اگرچہ متعدد شعبوں میں بہتری آئی ہے، تاہم غذائی قلت کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔صوبائی وزیر صحت نے محکمہ صحت کے تمام متعلقہ حکام، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر فیلڈ سٹاف کو ہدایت کی کہ اگست بھر جاری رہنے والی آگاہی مہم کو مؤثر انداز میں چلایا جائے تاکہ ہر ماں تک بروقت اور درست رہنمائی پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور کمیونٹی کی سطح پر ایسی سہولیات اور ماحول فراہم کیا جائے جہاں ماؤں کو اعتماد اور سہولت کے ساتھ اپنے بچوں کو دودھ پلانے میں مکمل معاونت حاصل ہو۔خلیق الرحمان نے کہا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا ماں اور بچے کی صحت، غذائیت میں بہتری، بنیادی صحت کی سہولیات کے فروغ اور آئندہ نسلوں کو صحت مند بنانے کے لیے اپنے تمام ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھرپور اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے میڈیا، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، تعلیمی اداروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ تمام افراد پر زور دیا کہ وہ ماں کے دودھ کے فروغ کے قومی مشن میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ غذائی قلت میں کمی، بچوں کی شرح اموات میں کمی اور ایک صحت مند خیبرپختونخوا کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت نے یونیسف، عالمی ادارہ صحت، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا ماں اور بچے کی صحت اور غذائیت کے شعبے میں مؤثر اصلاحات، پائیدار اقدامات اور عوام دوست پالیسیوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھے گی۔