Home Blog Page 5

Mardan Excise Office exceeds September revenue target by 43 per cent

The Excise and Taxation Office Mardan collected Rs27.433 million in revenue in September 2026, achieving 143 per cent of its assigned monthly target of Rs19.3 million, reflecting its performance in revenue collection.

According to the department, the office collected Rs27,433,083 against the target of Rs19 million and Rs300,000 set for September.

To recognise the achievement, Excise and Taxation Officer Mardan Syed Naveed Jamal distributed certificates of appreciation and cash awards among officers and staff in recognition of their performance.

Speaking on the occasion, he appreciated the officers and staff for their hard work, dedication and sense of responsibility, saying that the collection of revenue beyond the assigned target was the result of their collective efforts.

He urged the staff to maintain the same commitment and professional approach to further improve government revenue collection.

The Excise and Taxation Office Mardan reiterated its commitment to continuing effective administrative measures, facilitating the public and ensuring timely collection of government revenue.

مالی سال 2026-27 کے میگا ہیلتھ منصوبوں کے حوالے سے اہم اجلاس، وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیر صدارت

صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن کی زیر صدارت مالی سال 2026-27 کے میگا ہیلتھ منصوبوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ، محکمہ صحت کے پلاننگ سیل کے حکام، متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے افسران اور دیگر اعلیٰ صحت حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت کو نئے ہیلتھ کمپلیکسز، میگا ہسپتالوں اور دیگر بڑے صحت منصوبوں کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام کی جانب سے مختلف مجوزہ منصوبوں کے لیے موزوں اراضی کی دستیابی، زمین کے انتخاب، نقشہ سازی، منصوبوں کی ضروریات اور مالی و ترقیاتی اخراجات سے متعلق امور پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نئے ہیلتھ کمپلیکسز اور میگا ہسپتالوں کے لیے موزوں اراضی کے انتخاب، زمین کی نقشہ سازی اور دیگر ضروری مراحل کو تیز کیا جائے اور تمام مالی و ترقیاتی اخراجات سے متعلق امور بھی جلد از جلد مکمل کیے جائیں، تاکہ ان اہم منصوبوں پر عملی پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔صوبائی وزیر صحت نے واضح کیا کہ یہ منصوبے صوبائی حکومت کے میگا اور فلیگ شپ منصوبے ہیں، جن کی بروقت تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ادارے باہمی رابطے اور مؤثر کوآرڈی نیشن کے ذریعے کام کریں اور کسی بھی مرحلے پر غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔خلیق الرحمن نے کہا کہ نئے ہیلتھ کمپلیکسز اور میگا ہسپتالوں کا قیام خیبر پختونخوا کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے عوام کو معیاری، جدید اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی، جبکہ بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے اور مختلف علاقوں میں صحت کی سہولیات کو وسعت دینے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو صحت کی بہتر سہولیات ان کی دہلیز کے قریب فراہم کرنے کے لیے بڑے اور پائیدار منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صحت کے شعبے میں ایسے میگا منصوبے شروع کیے جائیں جو نہ صرف موجودہ ضروریات کو پورا کریں بلکہ مستقبل میں بھی عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوں۔وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں سے متعلق تمام ضروری کارروائی، اراضی کے معاملات، نقشہ سازی، مالی تخمینوں اور دیگر انتظامی امور کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے باقاعدگی سے فالو اَپ یقینی بنایا جائے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کو بہتر اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے صحت کے شعبے میں مزید اہم اقدامات اور میگا منصوبے متعارف کرائے گی، جن سے صوبے کے صحت کے نظام میں نمایاں اور دیرپا بہتری لانے میں مدد ملے گی۔

خیبر پختونخوا کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کا اجلاس، اہم قانونی مسودات اور ادارہ جاتی امور پر غور

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کا اہم اجلاس آج پشاور میں منعقد ہوا، جس میں صوبے کی ترقی، معاشرتی انصاف، امن و استحکام اور اچھی حکمرانی کے لیے متعدد اہم قانونی مسودات اور ادارہ جاتی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان، سیکرٹری محکمہ قانون و انسانی حقوق اختر سعید ترک، سیکرٹری محکمہ زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ شگفتہ نوید، سپیشل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم فضل حسین، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نذر، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ و قبائلی امور، ایڈووکیٹ جنرل آفس، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ اعلیٰ تعلیم، بورڈ آف ریونیو، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا معذور افراد کو بااختیار بنانے کے بل 2026 پر خصوصی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کی مجموعی آبادی کا تقریباً 3.60 فیصد حصہ معذور افراد پر مشتمل ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد معذور افراد کے حقوق کا تحفظ، ان کی باعزت شمولیت اور سماجی و معاشی بااختیاری کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے مجوزہ بل کو معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت معذور افراد کو مساوی مواقع، ضروری سہولیات اور باعزت زندگی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بل کی مختلف شقوں کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنایا جائے اور ایسی تجاویز شامل کی جائیں جو عملی طور پر قابلِ نفاذ ہوں۔ وزیر قانون نے مالی ذمہ داریوں میں غیر ضروری اضافے سے بچنے کے لیے بعض شقوں پر نظرثانی اور ضروری شقوں کو حذف کرنے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مشیر برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان نے اجلاس کو بتایا کہ ضلع دیر میں معذور افراد کی بحالی اور خصوصی تعلیم کے لیے مختص 46 آسامیوں پر تاحال تعیناتی نہیں ہوسکی۔ اجلاس میں معذور افراد کے لیے مقررہ کوٹے، ڈس ایبل پرسنز ری ہیبیلیٹیشن فیس اور خصوصی افراد کی تعلیم سے متعلق مختلف تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔ مشیر سماجی بہبود نے خصوصی تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے اس شعبے میں افرادی قوت میں اضافے پر زور دیا تاکہ معذور افراد کی مناسب تعلیم، تربیت، بحالی اور نگہداشت کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی کے لیے قائم سینٹر آف ایکسیلنس کو محکمہ اعلیٰ تعلیم سے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے انتظامی دائرہ اختیار میں منتقل کرنے کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ خیبر پختونخوا سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے حکام نے ادارے کے اغراض و مقاصد، مینڈیٹ اور جاری اقدامات کے حوالے سے جامع پریزینٹیشن پیش کی۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ پرتشدد انتہا پسندی کے سدباب کے لیے مربوط، مؤثر اور ادارہ جاتی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے بالخصوص ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں اور دیگر افراد کے متشدد گروہوں سے وابستہ ہونے کے امکانات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صوبے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے منشیات کے استعمال اور پرتشدد انتہا پسندی کے ممکنہ باہمی تعلق کے حوالے سے بھی فورم کو آگاہ کیا اور متعلقہ حکام کو اس ضمن میں ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں پروگرام کے مختلف موضوعاتی شعبوں کے تحت نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیتیں اجاگر کرنے، خواتین کو بااختیار بنانے اور معاشرے کے مختلف طبقات کی شمولیت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی یکجہتی، امن سازی اور مکالمے کے ذریعے معاشرتی تنازعات کے پُرامن حل کو بھی اہمیت دی گئی۔ کمیونٹی سطح پر ثالثی اور تنازعات کے حل، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے استعدادِ کار اور لچک پیدا کرنے، ثقافتی ورثے اور شناخت کے تحفظ و احیائ، امن کے فروغ میں تاریخی و ثقافتی ورثے کے مثبت کردار، نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور معاشی مواقع کی فراہمی، جبکہ پائیدار ترقی کے لیے پالیسی اور گورننس اصلاحات کو بھی پروگرام کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ شگفتہ نوید نے کہا کہ فنکشنل مینڈیٹ کے لحاظ سے سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کا موجودہ مینڈیٹ برقرار رہے گا، تاہم اس کے انتظامی امور محکمہ داخلہ کے زیرِ انتظام لانے کی تجویز ہے۔اس موقع پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے نان کائنٹیک (Non-kinetic) سرگرمیوں، نوجوانوں کی شمولیت، تحقیق اور سیمینارز سمیت ادارے کے وسیع دائرہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نوجوان نسل کو پرتشدد انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس کا انتظامی تعلق محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ برقرار رہنا چاہیے۔فورم نے قرار دیا کہ سینٹر آف ایکسیلنس کے انتظامی دائرہ اختیار کا حتمی تعین وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے احکامات کی روشنی میں کیا جائے گا، جس کے بعد ضرورت کے مطابق متعلقہ قوانین اور قواعد میں ضروری ترامیم کو حتمی شکل دی جائے گی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2026 پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد پبلک سروس کمیشن کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانا ہے۔اسی طرح خیبر پختونخوا تمباکو بورڈ ایکٹ 2026 پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد تمباکو کے شعبے کے لیے مؤثر ضابطہ کار وضع کرنا اور صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی و انتظامی اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی رہنمائی میں ایسے قوانین مرتب کر رہی ہے جو نہ صرف موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں بلکہ عوام کے حقوق، امن و استحکام اور اچھی حکمرانی کو بھی مضبوط بنائیں۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا جامع جائزہ لے کر واضح، قابلِ عمل اور قانون کے تقاضوں سے ہم آہنگ سفارشات جلد پیش کی جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے تھانہ ایکسائز نوشہرہ کی ایک بڑی کاروائی

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے تھانہ ایکسائز نوشہرہ نے ایک بڑی کاروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 30000 گرام چرس اور 1500 گرام آئس برآمد کردی ہے۔ کارروائی کے دوران ملزم کو گرفتار کرکے انکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق تھانہ ایکسائز نوشہرہ نے جی ٹی روڈ نوشہرہ پر کاروائی کے دوران بھاری مقدار میں منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے موٹر کار سے دوران تلاشی خفیہ خانوں سے 30000 گرام چرس اور 1500 گرام آئس برآمد کی۔کارروائی کے دوران ملزم محمد اللہ ولد شاہ رسول ساکن ضلع اورکزئی کو موقع پر گرفتار کرکے مزید تفتیش اور قانونی کاروائی کیلئے تھانہ ایکسائز نوشہرہ میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔

زرعی یونیورسٹی پشاور میں آر ٹی ایس کمیشن کے زیرِ اہتمام آگاہی سیشن، طلبہ و فیکلٹی کو عوامی خدمات کے حق سے متعلق آگاہی

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام زرعی یونیورسٹی پشاور میں طلبہ اور فیکلٹی ممبران کے لیے ایک خصوصی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد شرکائ کو آر ٹی ایس کمیشن کے قیام کے مقاصد، دائرہ کار، قانونی حیثیت اور شہریوں کو بروقت و شفاف عوامی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔چیف کمشنر آر ٹی ایس کمیشن محمد علی شہزادہ نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن کے قیام کے بنیادی مقاصد، ذمہ داریوں اور قانونی فریم ورک پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ رائٹ ٹو پبلک سروسز قانون کا بنیادی مقصد شہریوں کو مقررہ مدت کے اندر سرکاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا اور عوام کو اپنی قانونی حیثیت اور حقوق سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ نہ صرف خود اپنے حقوق سے آگاہ ہوں بلکہ اپنے خاندانوں اور معاشرے کے دیگر افراد تک بھی اس پیغام کو پہنچائیں۔کمشنر آر ٹی ایس کمیشن شوکت علی یوسفزئی نے شرکائ کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے آر ٹی ایس قانون کے عملی اطلاق، عوامی شکایات کے ازالے کے طریقہ کار اور شہریوں کو دستیاب قانونی سہولیات کے بارے میں تفصیلی وضاحت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی آر ٹی ایس قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور تعلیمی ادارے اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔سیشن کی میزبانی ڈائریکٹر سپورٹس اینڈ یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر، بلال مروت نے کی۔ اس موقع پر طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے آر ٹی ایس کمیشن کے کردار اور عوامی خدمات سے متعلق مختلف سوالات کیے اور سیشن میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر فیکلٹی آف مالیکیولر اینڈ بائیولوجیکل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر اقبال منیر نے شرکائ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے آر ٹی ایس کمیشن کی جانب سے طلبہ اور فیکلٹی کے لیے آگاہی سیشن کے انعقاد کو سراہتے ہوئے عوامی خدمات سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر اقبال منیر کی جانب سے چیف کمشنر محمد علی شاہزاد اور کمشنر شوکت علی یوسفزئی کو ان کی خدمات اور آگاہی کے فروغ میں کردار کے اعتراف میں شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

زیتون کے تیل کے تین پراسیسرز کو آئی ایس او 22000 سرٹیفکیٹس جاری

سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا ہے کہ زیتون کے تیل کی مصنوعات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفائیڈ کرنے سے مقامی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور انہیں ملکی و عالمی منڈیوں تک رسائی کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، جس سے زیتون کے کاشتکاروں کی آمدن اور معاشی حالات میں بہتری آئے گی۔وہ محکمہ زراعت پشاور کے کمیٹی روم میں محکمہ زراعت کے سرٹیفیکیشن پراجیکٹ کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جس میں زیتون کے تیل کے تین پراسیسنگ یونٹس کو بین الاقوامی فوڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم آئی ایس او 22000 کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ تقریب کے دوران زائیکور اولیو آئل پشاور، تیمرگرہ آئل ایکسٹریکشن لوئر دیر اور تالاش اولیو آئل لوئر دیر کو سرٹیفکیٹس دیے گئے۔سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا کہ پراسیسنگ، پیکیجنگ اور تقسیم کے نظام کی بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفیکیشن خیبرپختونخوا میں زیتون کے شعبے کی ترقی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار پر پورا اترنے والی مصنوعات نہ صرف اعلیٰ معیار کی ملکی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں گی بلکہ برآمدی منڈیوں میں بھی جگہ بنانے کے امکانات پیدا ہوں گے۔انہوں نے سرٹیفیکیشن پراجیکٹ کے تحت محکمہ زراعت توسیع، محکمہ زراعت تحقیق اور محکمہ لائیو اسٹاک کے افسران و اہلکاروں کی آئی ایس او 22000 لیڈ آڈیٹر کورس CQI-IRCA کی کامیاب تکمیل کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ سرکاری آڈیٹرز کی دستیابی سے فارم اور پراسیسر کی سطح پر کوالٹی مینجمنٹ سسٹمز کے اندرونی آڈٹ اور معیار کی جانچ کی استعداد میں اضافہ ہوگا اور سرٹیفیکیشن کے نظام کو مقامی سطح پر پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔سیکرٹری زراعت نے سرٹیفیکیشن پراجیکٹ کی جانب سے سرکاری محکموں، کاشتکاروں اور زرعی مصنوعات کے پراسیسرز کی استعداد کار بڑھانے اور جامع کوالٹی ایشورنس فریم ورک کے قیام کی کوششوں کو سراہتے ہوئے منصوبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ڈویلپمنٹ و پراجیکٹ ڈائریکٹر نجمُ السحر ، ایگریکلچر سرٹیفیکیشن پراجیکٹ کے کوآرڈینیٹر سید عمران شاہ نے شرکائ کو منصوبے کے مقاصد، اقدامات اور کامیابیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت زرعی مصنوعات کی سرٹیفیکیشن، معیار میں بہتری اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں سے روابط کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔سرٹیفائیڈ اولیو آئل پروسیسنگ یونٹس کے نمائندگان نے سرٹیفیکیشن پراجیکٹ کی جانب سے تکنیکی استعداد بڑھانے اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کے لیے فراہم کردہ معاونت کو سراہا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں زیتون کے شعبے کو مزید فروغ دینے اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پشاور میں عوام نے ثابت کر دیا کہ خیبر پختونخوا میں صرف عمران خان کا عوامی راج رہے گا،شفیع جان

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کہا ہے کہ پشاور میں حیات آباد انڈر پاس کے افتتاح کے موقع پر عوام کی جانب سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے پرجوش اور بھرپور استقبال نے ثابت کر دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صرف اور صرف عمران خان کا عوامی راج رہے گا۔ پشاور سمیت پورا خیبر پختونخوا پاکستان تحریک انصاف کا مضبوط گڑھ ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے غیور عوام نے پاکستان تحریک انصاف اور بانی چیئرمین عمران خان کو مسلسل تیسری مرتبہ اپنا تاریخی مینڈیٹ دیا ہے۔ صوبے کے عوام کی خدمت اور ان کے حقوق اور عوامی مینڈیٹ کا تحفظ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔شفیع جان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک پرامن،جمہوری اور ملک کی سب سے بڑی مقبول سیاسی جماعت ہے جو ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے اور ان کے خلاف سیاسی انتقام میں ظلم و جبر کی تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بانی چیئرمین سے ان کے اہل خانہ کی ملاقات نہیں کرائی جا رہی، جو کھلی توہین عدالت ہے۔وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاقی وزراء خود فارم 47 کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوئے ہیں۔ ان کی کوئی اخلاقی، سیاسی یا جمہوری حیثیت نہیں ہے اور وہ عوامی نمائندگی کے حق سے مکمل محروم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 4 اکتوبر کو وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں جنوبی خیبرپختونخوا سے بڑا قافلہ لانگ مارچ کے لیے روانہ ہوگا۔

University of Malakand Marks World Podcast Day 2026 with Special Event on the Future of Journalism

The Department of Journalism and Mass Communication at the University of Malakand organized a special event to mark World Podcast Day 2026, bringing together faculty members and students to discuss the growing role of podcasts and emerging digital technologies in journalism.

Themed “The Power of the Journalist Podcast vs Algorithm Tutor,” the event was organized by Assistant Professor Dr. Sajjad Ali of the Department of Journalism and Mass Communication. Dean of Social Sciences Prof. Dr. Arab Naz and Dean of Arts and Humanities Prof. Dr. Qaiser Khan attended the event as chief guests.

Addressing the gathering, the distinguished guests appreciated the students’ participation and highlighted the challenges facing the media in the digital age, emerging opportunities and the future of journalism. They also emphasized the changing trends in digital media and the importance of effectively utilizing modern journalistic tools and platforms.

Head of the Department of Journalism and Mass Communication Assistant Professor Dr. Imtiaz Ahmed, Assistant Professor Dr. Jan Muhammad, Lecturer Masood Hassan and Lecturer Fidaullah were also present on the occasion.

The event also featured screenings of documentaries produced by the students, showcasing their creative skills and highlighting various dimensions of modern digital journalism. The documentaries were appreciated by faculty members and participants.

At the conclusion of the event, the faculty members appreciated the students’ creative efforts and encouraged them to actively engage with digital journalism, podcasting and other emerging media platforms to further develop their professional skills and creative potential.

Provincial Health Minister Khaleeq ur Rehman Inaugurates Influenza and Meningitis Vaccination Centre at Federal Civil Surgeon Hospital

Provincial Minister for Health Khyber Pakhtunkhwa, Khaleeq ur Rehman, today inaugurated the Influenza and Meningitis Vaccination Centre at the Federal Civil Surgeon Hospital, aimed at facilitating citizens requiring mandatory vaccinations, particularly those travelling abroad.

During his visit, the Provincial Health Minister inspected the newly established vaccination centre and reviewed the facilities and arrangements being provided to the public. He was briefed about the vaccination process and the services available for people travelling abroad.

Speaking to the media after the visit, Minister Khaleeq ur Rehman said that **after October 15, relevant vaccinations will be mandatory for people travelling abroad, particularly pilgrims travelling to Saudi Arabia for Hajj and Umrah and workers travelling to Saudi Arabia for employment purposes.

He said that the establishment of the vaccination centre would provide an important facility to citizens who need to fulfil mandatory health and vaccination requirements before travelling abroad. He added that the availability of vaccination services at a designated centre would help make the process more convenient, organized and accessible for the public.

The Provincial Health Minister further said that the government is committed to ensuring that citizens do not face unnecessary difficulties in accessing essential vaccination services. Insha’Allah, vaccination services will also be expanded to the divisional level by establishing vaccination centres in different divisions of the province, enabling people to access these services closer to their homes and reducing the need to travel to Peshawar.

Khaleeq ur Rehman emphasized the importance of strengthening preventive healthcare and ensuring timely vaccination, particularly for individuals travelling to countries where specific vaccination requirements are in place. He directed the concerned authorities to ensure that citizens visiting the centre receive proper guidance, efficient services and all necessary information regarding vaccination requirements for international travel.

He said that effective coordination between the Health Department and relevant federal and airport health authorities would further improve vaccination services and facilitate travellers. The government, he added, would continue taking practical measures to expand access to preventive healthcare services across the province.

The Minister said that the expansion of vaccination facilities at the divisional level would be an important step towards making essential healthcare services more accessible to the people. He reiterated that the government would continue working to strengthen public health services, disease prevention and healthcare facilities across Khyber Pakhtunkhwa.

On the occasion, Dr. Murtaza, Director Border Health Services Pakistan; Dr. Fareezuddin, Airport Health Officer, Bacha Khan International Airport; and Mr. Zia, Airport Manager/Chief Operating Officer, Bacha Khan International Airport, were also present. The relevant officials briefed the Provincial Health Minister on the arrangements, facilities and vaccination services being provided at the centre.

محکمہ ہاؤسنگ کی ای کھلی کچہری، عوامی مسائل اور ہاؤسنگ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ

سیکرٹری ہاؤسنگ خیبر پختونخوا محمد انور خان کی زیرِ صدارت بدھ کے روز محکمہ ہاؤسنگ کے کمیٹی روم میں ای کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ محمد زاہد خان، ایڈیشنل سیکرٹری ہاؤسنگ اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ای کچہری کے دوران عوام نے سوشل میڈیا، ٹیلی فون کالز اور پیغامات کے ذریعے شرکت کی اور سرکاری پلاٹس کے حصول، پشاور ویلی منصوبے، جلوزئی، جرما، ملازئی اور ہنگو ٹاؤن شپ سمیت مختلف ہاؤسنگ منصوبوں سے متعلق سوالات کیے۔اس موقع پر سیکرٹری ہاؤسنگ محمد انور خان نے بتایا کہ خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لیے پینل فائنل کر لیے گئے ہیں اور بہت جلد تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہنگو ٹاؤن شپ میں بجلی اور پانی کی فراہمی کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ نیو پشاور ویلی ایکسپریس وے کی تعمیر کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور ویلی منصوبہ صوبے کا اہم منصوبہ ہے اور اس کی تکمیل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ملازئی ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے سیکرٹری ہاؤسنگ نے کہا کہ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے جبکہ مقامی آبادی کے تعاون اور شمولیت کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم میں اسٹریٹ لائٹس اور سیکیورٹی کے انتظامات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔سرکاری ملازمین کے لیے پلاٹس کی فراہمی کے حوالے سے محمد انور خان نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ میں پانچ سال سے کم عرصہ باقی رہ جانے والے سرکاری ملازمین کو بغیر قرعہ اندازی پلاٹس فراہم کیے جائیں گے، جبکہ دیگر سرکاری ملازمین کو سال 2026 میں سینیارٹی کی بنیاد پر تقریباً دو ہزار پلاٹس قرعہ اندازی کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ محمد زاہد خان نے عوام سے اپیل کی کہ پلاٹس کے حصول اور دیگر معلومات کے لیے دستک ایپ کے ذریعے اپنی معلومات اپ ڈیٹ رکھیں۔