خیبرپختونخوا حکومت نے اقلیتی برادری کی مذہبی آزادی، فلاح و بہبود اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت صوبے بھر کی 117 اقلیتی عبادت گاہوں کو بنیادی سہولیات فراہم کر دیئے. اس سلسلے میں منعقدہ تقریبِ حوالگی میں صوبائی وزیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب میں سیکرٹری اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور عطاء الرحمان، محکمہ اوقاف کے اعلیٰ حکام، گوردواروں، گرجا گھروں اور مندروں کے مذہبی رہنماؤں سمیت اقلیتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔تقریب کے دوران صوبے بھر کی 117 اقلیتی عبادت گاہوں کے لیے مجموعی طور پر 1,122 ضروری اشیاء متعلقہ نمائندوں کے حوالے کی گئیں۔ فراہم کی جانے والی اشیاء میں 30 الیکٹرک واٹر کولرز، 25 ساؤنڈ سسٹمز، ایک ہزار اسٹیل کرسیاں، 37 بڑے سائز کے پتیلے، ایک جنریٹر اور 30 دیگر ضروری اشیاء۔ شامل ہیں، جن کا مقصد عبادت گاہوں میں مذہبی رسومات اور اجتماعات کے انعقاد کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اقلیتی برادری کے مذہبی، سماجی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی عبادت گاہوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک اہم پیش رفت ہے جس سے مذہبی تقریبات کے انعقاد میں آسانی پیدا ہوگی اور اقلیتی برادریوں کو بہتر ماحول میسر آئے گا۔انہوں نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کی 18 اقلیتی عبادت گاہوں کے لیے بھی ضروری سہولیات کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ اس سے قبل بھی حکومت 85 اقلیتی عبادت گاہوں کو مختلف بنیادی سہولیات فراہم کر چکی ہے۔صوبائی وزیر نے مزید اعلان کیا کہ حکومت اقلیتی برادری کے قابل اور ذہین طلبہ و طالبات کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم بھی متعارف کرا رہی ہے تاکہ انہیں جدید تعلیم اور ڈیجیٹل سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے۔اس موقع پر سیکرٹری اوقاف عطاء الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتی برادریوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کو ان کی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ اقلیتی برادری اپنے مذہبی فرائض بہتر انداز میں انجام دے سکے۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے گوردواروں، گرجا گھروں اور مندروں کے نمائندوں میں سہولیات اور سامان تقسیم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود، مذہبی آزادی اور سماجی تحفظ کے لیے آئندہ بھی مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔
وزیر صحت خلیق الرحمان نے ایچ ایم سی میں برن سینٹر، انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کی نئی طبی سہولیات اور دیگر منصوبوں کا افتتاح کیا
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمان نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں برنز اینڈ پلاسٹک سرجری سینٹر، انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے نئے ڈائیلاسز یونٹ، او پی ڈی، وارڈز اور دیگر طبی سہولیات کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر نورالایمان، ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر گلزار احمد خان، میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد خان، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز ڈاکٹر کامران خان، ڈائریکٹر برنز اینڈ پلاسٹک سرجری سینٹر ڈاکٹر تمہید اللہ، ڈائریکٹر پیکو ڈاکٹر ثناء اللہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا صوبے کے بڑے تدریسی ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی، علاج کے معیار میں بہتری اور طبی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت علاج کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔وزیر صحت نے ہسپتال انتظامیہ، ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہتر قیادت، مؤثر ٹیم ورک اور محنت کی بدولت طبی اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ حکومت بہترین کارکردگی دکھانے والے اداروں اور طبی عملے کی ہر ممکن حوصلہ افزائی اور معاونت جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ برن سینٹر کے قیام سے جھلسنے والے مریضوں کو اپنے ہی صوبے میں جدید علاج کی سہولت میسر آئی ہے، جبکہ حکومت اس مرکز کو مزید مضبوط بنانے اور ضروری وسائل کی فراہمی کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔وزیر صحت نے کہا کہ صحت کارڈ عوام کے لیے ایک اہم سہولت ہے اور رواں مالی سال میں اس پروگرام کے لیے تقریباً پچاس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برن مریضوں کو بھی صحت کارڈ کے تحت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز نہ صرف علاج بلکہ تحقیق، تدریس اور طبی ماہرین کی تربیت کے اہم مراکز ہیں۔ حکومت ان اداروں کو مزید مضبوط بنا کر صوبے میں معیاری طبی خدمات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔دورے کے دوران وزیر صحت نے انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا، زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان سے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ مریضوں نے علاج اور ہسپتال کی خدمات پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر برنز اینڈ پلاسٹک سرجری سینٹر ڈاکٹر تمہید اللہ نے ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سینٹر کے قیام کے بعد برن اور ریکنسٹرکٹیو سرجری کی سہولیات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں جدید علاج، تربیتی پروگرامز، ریسرچ اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ برن سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی اور مؤثر قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔
صحافی برادری کو رہائشی سہولیات کی فراہمی کے وعدے پورے کیے جائیں گے، شفیع جان
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کی زیر صدارت کوہاٹ میڈیا کالونی کی تعمیر سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات مطیع اللہ خان، ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ زاہد خان، پریس رجسٹرار محکمہ اطلاعات انصار اللہ خلجی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوہاٹ میڈیا کالونی کے منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ میڈیا کالونی کے لیے 40 کنال اراضی مختص کی جا چکی ہے۔اس موقع پر وزیر اطلاعات شفیع جان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کوہاٹ میڈیا کالونی کے لیے بلا تاخیر کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ منصوبے کی ڈیزائننگ، منصوبہ بندی اور دیگر تکنیکی مراحل جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔شفیع جان نے کہا کہ صحافی برادری کو رہائشی سہولیات کی فراہمی سے متعلق کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں میڈیا کالونیوں کے قیام کے لیے فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ میڈیا کالونیوں کے منصوبوں پر پیش رفت کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ صحافی برادری کو عملی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزاد صحافت کے فروغ اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا
سیاحتی اثاثوں کا مؤثر استعمال، شفاف طرزِ حکمرانی اور عالمی معیار کی سیاحتی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، ملک عدیل اقبال
سوات ہوٹل (سابقہ سوات سیرینا ہوٹل) کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے ٹیکنیکل کمیٹی کااجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سیاحت، ثقافت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر ملک عدیل اقبال کی زیرِ صدارت پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہاں، محکمہ سیاحت، محکمہ خزانہ، محکمہ مواصلات و تعمیرات، خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی، جبکہ وزیر بلدیات مینا خان اور وزیر خزانہ مزمل اسلم بذریعہ زوم اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں سوات ہوٹل کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق قانونی، مالی، تکنیکی اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو مجوزہ ٹرانزیکشن سٹرکچر، آؤٹ سورسنگ کے طریقہ کار، سرمایہ کاری کے امکانات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر جامع بریفنگ دی گئی۔ مختلف محکموں کی آراء اور تجاویز کی روشنی میں آؤٹ سورسنگ کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور سرمایہ کار دوست بنانے کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا۔اس موقع پر معاونِ خصوصی ملک عدیل اقبال نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے سیاحتی اثاثوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے، نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور سیاحت کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات ہوٹل کی شفاف، مسابقتی اور میرٹ پر مبنی آؤٹ سورسنگ سے نہ صرف ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو عالمی معیار کی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ مقامی معیشت مستحکم ہوگی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔معاونِ خصوصی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ آؤٹ سورسنگ کے عمل کو تمام قانونی تقاضوں، حکومتی پالیسی اور مقررہ ٹائم لائن کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الادارہ جاتی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ اس اہم سیاحتی منصوبے کو بروقت مکمل کر کے عوام اور سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے سوات ہوٹل کی آؤٹ سورسنگ کے عمل کو شفاف، بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ یہ اقدام خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
حیات آباد انڈسٹریلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر فیصل کاکاخیل کی مشیر صنعت سے ملاقات، صنعتی پالیسیوں اور صنعتکاروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال
حیات آباد انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر فیصل کاکاخیل نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صنعت ہمایوں خان سے ملاقات کی اور انہیں حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ اور صوبے کے دیگر صنعتوں کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ سابق ڈائریکٹر ریڈیو پختونخوا غلام حسین غازی اور یونین کونسل زیارت کاکا صاحب کے چیئرمین میاں صبیح الدین کاکاخیل بھی موجود تھے اور صنعتی پالیسیوں میں میڈیا کا کردار اجاگر کیا۔ ملاقات کے دوران صنعتکاروں کو درپیش بنیادی مسائل، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ، سرکاری اداروں کے ساتھ بہتر روابط اور کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔اس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ صنعتکاروں کے مسائل کے بروقت حل کیلئے ہر ماہ کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جائے گا جہاں صنعتکار اپنے مسائل براہِ راست متعلقہ حکام کے سامنے پیش کر سکیں گے۔ مشیر برائے صنعت ہمایوں خان نے یقین دہانی کرائی کہ کھلی کچہری میں سامنے آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کرکے ان کے بروقت ازالے کو یقینی بنایا جائے گا۔ صدر حیات آباد انڈسٹریلسٹ ایسوسی ایشن فیصل کاکاخیل نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ باقاعدہ کھلی کچہریوں کے انعقاد سے حکومت اور صنعتکاروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا، اعتماد میں اضافہ ہوگا اور صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کے فوری اور مؤثر حل میں مدد ملے گی، جس سے صوبے میں صنعت اور سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہوگا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان سے پشاور میں عوامی نمائندہ وفد کی ملاقات۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے کہا ہے کہ عوام کی خدمت، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی خیبرپختونخوا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ نیابت سے آئے ہوئے مختلف وفود اور عوامی نمائندوں سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر مختلف علاقوں کے عوامی مسائل، جاری ترقیاتی منصوبوں، جنگلات، ماحولیات اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پیر مصور خان نے عوامی نمائندوں کے مسائل اور تجاویز کو غور سے سنا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل یقینی بنایا جائے گا۔
لائیوسٹاک کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو معیاری وٹرنری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمد خورشید خٹک
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے لائیو سٹاک محمد خورشید خٹک کی زیر صدارت محکمہ لائیو سٹاک، فیشریز و امداد باہمی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک ریسرچ ڈاکٹر اعجاز علی، ڈائریکٹر لائیو سٹاک ضم اضلاع ڈاکٹر میر احمد، وائس چانسلر ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی سوات ڈاکٹر شکیب اللہ سمیت محکمہ لائیو سٹاک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ محکمہ لائیوسٹاک کے تحت مجموعی طور پر 41 ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، جن میں 24 جاری جبکہ 17 نئے منصوبے شامل ہیں۔معاون خصوصی خورشید خٹک نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں ایسے تمام وٹرنری ہسپتالوں کی جامع رپورٹ پیش کی جائے جن کی عمارتیں خستہ حال یا ناقابلِ استعمال ہیں، تاکہ ان کی بحالی اور بہتری کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی محمد خورشید خٹک نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں حکومت لائیوسٹاک کے شعبے کی ترقی اور مویشی پال کسانوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ محمد خورشید خٹک نے اجلاس میں ہدایت کی کہ ملک ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ دودھ کے معیار اور خوراک کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ ان کے ثمرات بروقت عوام تک پہنچ سکیں۔معاون خصوصی لائیو سٹاک نے مزید کہا کہ مویشی پال زمینداروں کی سہولت کے لیے صوبے بھر میں باقاعدگی سے وٹرنری کیمپ منعقد کیے جائیں، جہاں جانوروں کی تشخیص، علاج اور حفاظتی ٹیکہ جات کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایات پر وہ خود صوبے کے مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے اور وٹرنری ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور دیگر سروسز کا تفصیلی جائزہ لیں گے تاکہ عوام کو معیاری اور بروقت وٹرنری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔بریفنگ میں اجلاس کو بتایا کیا گیا کہ نئے منصوبوں میں ڈی وی ایم گریجویٹس کو بلاسود قرضوں کی فراہمی، گوشت کی پیداوار میں اضافے، بائیو گیس کے فروغ، جبکہ بھیڑ اور بکریوں کی نسلوں کی بہتری اور ان پر تحقیق سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد لائیوسٹاک کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مویشی پال حضرات کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے۔
کار ڈیلرز اور شوروم مالکان کو ممکنہ سہولیات کی فراہمی ترجیح، تمام اضلاع میں کمپیوٹرائزڈ سہولیاتی پوائنٹس قائم کیے جا رہے ہیں، صوبائی وزیر سید فخرجہان
خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان سے جمعرات کے روز پشاور میں آل پاکستان کار ڈیلرز ایسوسی ایشن آف سمال ٹریڈرز کے چیئرمین حاجی بخت میر جان، جنرل سیکرٹری معاذاللہ خان اور آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے چیئرمین غلام بلال جاوید کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران کار ڈیلرز اور شوروم مالکان کو درپیش مسائل، محکمہ ایکسائز سے متعلق امور اور کاروباری سہولیات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول عبدالحلیم خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (I) پشاور فیصل خورشید برکی اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (V) پشاور مسعود الحق بھی موجود تھے۔وفد نے صوبائی وزیر کو شوروم مالکان کے لیے گاڑیوں کی خرید و فروخت کے عمل کو مزید شفاف اور آسان بنانے، جدید محکمانہ سہولیات کی فراہمی، ٹیکسیشن میں ممکنہ رعایت اور اس شعبے سے وابستہ کاروباری افراد کو درپیش دیگر مسائل سے آگاہ کیا اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔صوبائی وزیر سید فخرجہان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ایکسائز کے تمام ضلعی دفاتر میں کار ڈیلرز اور شوروم مالکان کی سہولت کے لیے کمپیوٹرائزڈ فیسلیٹیشن پوائنٹس قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں گاڑیوں کی خرید و فروخت کا ریکارڈ، ملکیت و رجسٹریشن کی تصدیق، دستاویزات، چیسز نمبر اور دیگر متعلقہ معلومات ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ کار ڈیلرز کو خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے آن لائن رسائی بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ خریدی جانے والی گاڑی کی مکمل تفصیلات فوری طور پر حاصل کر سکیں اور لین دین میں شفافیت کو مزید فروغ ملے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ ایکسائز عوام اور کاروباری طبقے کو جدید، آسان اور شفاف خدمات کی فراہمی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارکس (شخصی نمبر پلیٹس) کے حصول کے طریقہ کار کو مزید آسان بنایا گیا ہے، جس کے لیے ضروری قانون سازی مکمل ہونے کے بعد صوبائی کابینہ سے منظوری بھی حاصل کر لی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب کسی بھی نام کی پہلی شخصی نمبر پلیٹ 15 لاکھ روپے میں حاصل کی جا سکے گی، جبکہ اسی نام کی دوسری اور بعد کی تمام نمبر پلیٹس 10 لاکھ روپے میں دستیاب ہوں گی۔سید فخرجہان نے مزید کہا کہ کسی مخصوص سیریز کے متعدد نمبر پلیٹس کا لاٹ بھی کسی کاروباری ادارے یا فرد کو جاری کیا جا سکے گا، جس سے کاروباری طبقہ اپنی برانڈنگ اور تشہیر کے لیے اپنی پسند کے نمبرات حاصل کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ موٹر کار ڈیلرز اور شوروم مالکان کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے کاروبار یا شوروم کے نام سے منسوب شخصی نمبر پلیٹس حاصل کریں۔صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس رکھنے والے مالکان گاڑی فروخت کرنے کی صورت میں بھی اپنے نمبرات اپنے پاس محفوظ رکھ سکیں گے، جبکہ یہ نمبر پلیٹس تین سال تک کسی نئی گاڑی کے بغیر بھی ان کے نام برقرار رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں محکمہ ایکسائز کو جدید، شفاف اور عوام دوست ادارہ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جو بانی چیئرمین عمران خان کے عوامی خدمت کے وژن کی عملی تعبیر ہیں۔صوبائی وزیر نے کار ڈیلرز برادری کو یقین دلایا کہ وہ بلا جھجھک ایکسائز و ٹیکسیشن کے دفاتر سے رجوع کریں، ان کے تمام حقیقی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ملاقات کے اختتام پر وفد نے صوبائی وزیر سید فخرجہان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محکمہ ایکسائز میں جاری اصلاحات، کاروبار دوست اقدامات اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمدسہیل آفریدی کے ترقیاتی وژن اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی اسلام زیب کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخوا کی جانب سے “ای-کھلی کچہری” کا انعقاد کیا گیا۔
ای کھلی کچہری کی صدارت سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخوا عدیل شاہ نے کی۔ اس موقع پر محکمے کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ای-کھلی کچہری میں ایک گھنٹے کے دوران 800 سے زائد افراد نے اپنے پیغامات، تجاویز اور شکایات پیش کیں۔ موصول ہونے والی تمام شکایات کے ازالے کے لیے فوری طور پر متعلقہ افسران اور محکموں کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔شرکاء نے شکایات کے فوری ازالے اور بروقت کارروائی پر محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کی اس کاوش کو سراہا۔ کچہری میں عوام نے فون کالز اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور شرکت کی۔ سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقی نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں عوام کی فلاح و بہبود کے حکومت خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ای-کھلی کچہری کے دوران پراجیکٹ ملازمین نے “پراجیکٹ امپلیمنٹیشن پالیسی” کا مسئلہ اٹھایا جس کے جواب میں سیکرٹری پی اینڈ ڈی کا کہنا تھا کہ محکمہ اس پالیسی پر کام کر رہا ہے اور اسے جلد از جلد صوبائی کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جائز مطالبہ ہے اور ہم پراجیکٹ ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے کو بھی جلد حل کریں گے۔دیر ایکسپریس وے کے حوالے سے سوال پر بتایا کہ پی اینڈ ڈی کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ نے اس پر اپنا کام مکمل کر لیا ہے اور اسے جلد متعلقہ کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔ ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خیبر پختونخوا کا ترجیحی منصوبہ ہے اور اس پر بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اسی طرح سوات ایکسپریس وے کے فیز-2 پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے اور اس پر جلد کام کا آغاز ہو جائیگا۔سیکرٹری نے کہا کہ دیر، سوات اور پشاور تا ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر کئی اہم منصوبے حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف صوبے کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ عوام کی زندگیوں پر ان منصوبوں کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ شرکاء نے پراسیکیوشن اکیڈمی کی سہولیات کی کمی، تخت بھائی بس اسٹینڈ، ایبٹ آباد انٹرچینج کو شہر سے ملانے، دارالامان بنوں اور چترال، بی آر ٹی مالز کی فعالی، ٹانک میں میونسپل سہولیات کے لیے ماسٹر پلان، چارسدہ روڈ اور ورسک روڈ پر لائٹنگ، پاڑاچنار روڈ اور تیمرگرہ تا کنڈرو روڈ وغیرہ کے مسائل بھی اجاگر کئے جس پر سیکرٹری پی اینڈ ڈی نے تمام شکایات کو غور سے سنا اور متعلقہ افسران اور محکموں کو ان کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ سیکرٹری پی اینڈ ڈی نے ای کھلی کچہری میں عوامی شرکت کو سراہا اور کہا کہ ان تجاویز پر غور کرکے پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا۔ حکومت خیبرپختونخوا عوامی شمولیت کے ذریعے صوبے میں گورننس کی بہتری کے وژن پر عمل پیرا ہے۔
صوبائی حکومت صنعت و تجارت کے فروغ اور کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ ہے، آفتاب عالم
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرصدارت چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کوہاٹ کی عمارت کے لیے اراضی کی فراہمی سے متعلق درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے ایک اہم اجلاس محکمہ قانون کے کمیٹی روم، پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان، رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انڈسٹری ہمایوں خان، چئیرمین ڈیڈک کوہاٹ داؤد شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری انڈسٹریز امجد علی خان، ڈپٹی کمشنر کوہاٹ نواز خان وزیر، صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کوہاٹ رشید پراچہ، اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خصوصی ہدایات اور ان کے اعلان کی روشنی میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کوہاٹ کے لیے اراضی کی فراہمی کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ کو درپیش قانونی، انتظامی اور ریونیو سے متعلق رکاوٹوں پر غور کیا گیا اور ان کے پائیدار حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ شرکاء کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کوہاٹ چیمبر صوبے کے جنوبی اضلاع کا واحد فعال چیمبر ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات کے مطابق کرک میں سالٹ اور جپسم کے قیام پر کام جاری ہے۔ اجلاس میں اس قانونی نکتے پر بھی تفصیلی بحث کی گئی کہ سرکاری اراضی کسی بھی نجی ادارے کو مستقل منتقل نہیں کی جا سکتی، جس کے باعث چیمبر کو اراضی کی مستقل منتقلی یا خریداری کے امور پر باریک بینی سے غور کیا گیا۔ معاون خصوصی ہمایوں خان نے واضح کیا کہ چیمبر کے ساتھ وقتاً فوقتاً صوبائی حکومت بھرپور تعاون کرتی رہتی ہے۔ وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے بروقت حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ آفتاب عالم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اراضی کی فراہمی کے عمل میں حائل تمام قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کو باہمی مشاورت سے جلد از جلد دور کیا جائے تاکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی عمارت کے قیام کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر سکے۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ذریعے قانونی تقاضوں کو جلد مکمل کریں گے اور اراضی کی فراہمی کے لیے قابلِ عمل اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ محکموں کو ضروری اقدامات تیز کرنے اور پیش رفت سے وزیر قانون کو باقاعدگی سے آگاہ رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ وزیر قانون آفتاب عالم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی مفاد، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے ایسے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
