معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان کی ہدایات پر خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبے کے مختلف اضلاع میں غیرمعیاری اور مضرِ صحت دودھ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ہزاروں لیٹر ملاوٹی دودھ تلف، بھاری جرمانے عائد اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مردان کے رشکئی انٹرچینج پر صبح سویرے ناکہ بندی کے دوران دودھ سپلائی کرنے والی گاڑیوں سے نمونے لے کر موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے جانچ پڑتال کی گئیں جسکے دوران ایک ٹینکر سے کیمیکل ملا 3,500 لیٹر دودھ برآمد ہونے پر موقع پر تلف کر دیا گیا۔اسی طرح پشاور میں ناکہ بندی کے دوران ایک گاڑی سے 40 لیٹر پانی ملا دودھ برآمد ہونے پر تلف کر دیا گیا، جبکہ کارروائی کے دوران 300 کلوگرام مس لیبل آئس کریم بھی ضبط کر لی گئی۔چارسدہ میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے ناکہ بندی کے دوران دودھ میں پانی کی ملاوٹ ثابت ہونے پر جرمانے عائد کیے اور 30 لیٹر غیر معیاری دودھ ضائع کیا۔ مزید برآں ایک آئس کریم گاڑی سے 150 کلوگرام/لیٹر آئس کریم ضبط کرکے موقع پر تلف کر دی گئی۔ادھر ہری پور میں شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کے دوران دودھ سپلائی کرنے والی گاڑیوں کی جانچ کی گئی، جہاں ایک گاڑی سے 150 لیٹر ملاوٹی دودھ برآمد ہونے پر ضائع کر دیا گیا، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف بھاری جرمانے عائد کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔معاونِ خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی کو سراہا اور کہا کہ ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری خوراک میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
گورنمنٹ سٹی گرلز کالج گلبہار میں کالج کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور ترقیاتی امور سے متعلق اہم اجلاس کا انعقاد
گورنمنٹ سٹی گرلز کالج گلبہار پشاور میں ایک اہم اجلاس پرنسپل پروفیسر رابعہ سکندر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں کالج کے سینئر فیکلٹی ممبران اور انتظامی عملے نے شرکت کی۔اجلاس میں کالج کے مجموعی انفراسٹرکچر، تدریسی ماحول کی بہتری اور طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر کلاس رومز کی تزئین و آرائش، مرمت، عمارت کے مختلف حصوں کی بحالی، صفائی و ستھرائی، فرنیچر کی بہتری، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کالج میں موجود بنیادی ضروریات اور درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے بروقت اور مؤثر حل کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ شرکائ نے اس امر پر اتفاق کیا کہ معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔اس موقع پر پرنسپل پروفیسر رابعہ سکندر نے متعلقہ شعبوں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ کالج میں درکار مرمت اور تزئین و آرائش کے کاموں کی ترجیحی بنیادوں پر نشاندہی کرکے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ کے لیے بہتر، محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ کالج کی ترقی، تعلیمی معیار میں بہتری اور جدید سہولیات کی فراہمی ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل مؤثر انداز میں استعمال کیے جائیں گے۔
صوبائی وزیرڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت مختلف محکموں کا اہم جائزہ اجلاس، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی اقدامات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت سوات میں مختلف سرکاری محکموں کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سی اینڈ ڈبلیو، محکمہ صحت، ٹی ایم اے، محکمہ زراعت اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مختلف محکموں کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی سکیموں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، مکمل شدہ اور زیرِ تعمیر منصوبوں سمیت آئندہ کے اہداف پر مشتمل تفصیلی بریفنگ صوبائی وزیر کو دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ عوامی خدمت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام محکمے عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنانے کے لیے پوری دیانت داری، شفافیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور اعلیٰ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ڈاکٹر امجد علی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں، عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، محکموں کے درمیان باہمی رابطہ مضبوط کیا جائے اور منصوبوں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات اور زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر، غفلت یا ناقص معیار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ محکمے عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھیں۔اجلاس کے اختتام پر مختلف محکموں کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد ترقیاتی منصوبوں کی رفتار مزید تیز کرنے، معیار برقرار رکھنے اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں جدید میموگرافی سنٹر کا افتتاح کیا
خیبر پختونخوا کےوزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن نے آج خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) میں قائم کیے گئے جدید میموگرافی سنٹر کا افتتاح کیا، جو صوبے میں خواتین کی صحت کے فروغ، بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور جدید تشخیصی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔افتتاحی تقریب میں سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان، وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر ضیاء الحق، محکمہ صحت اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میموگرافی سنٹر کا قیام خواتین کی صحت کے تحفظ، بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور احتیاطی طبی اقدامات کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ میموگرافی کے ذریعے چھاتی میں ہونے والی ابتدائی تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوتی ہے، جو آگے چل کر بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ بروقت تشخیص سے نہ صرف علاج کے کامیاب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں بلکہ بیماری کی شدت میں کمی آتی ہے، علاج پر آنے والے اخراجات کم ہوتے ہیں اور مریض جلد صحت یاب ہو کر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ نیا میموگرافی سنٹر جدید طبی آلات سے لیس ہے جہاں تربیت یافتہ ماہرین کے ذریعے محفوظ، معیاری اور قابلِ اعتماد تشخیصی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے 40 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین کو باقاعدگی سے میموگرافی اسکریننگ کروانے کی تلقین کی، جبکہ ایسی کم عمر خواتین جن کے خاندان میں بریسٹ کینسر کی سابقہ تاریخ موجود ہو، انہیں بھی اپنے معالج کے مشورے سے بروقت اسکریننگ کروانے کا مشورہ دیا۔خلیق الرحمن نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور بروقت اسکریننگ کو فروغ دینا قیمتی جانوں کو بچانے اور خواتین کی مجموعی صحت بہتر بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت عوام کو جدید، معیاری اور خصوصی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے صحت کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھے گی۔صوبائی وزیر صحت نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی، محکمہ صحت اور میموگرافی سنٹر کے قیام میں کردار ادا کرنے والے تمام متعلقہ اداروں اور افراد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سنٹر خواتین میں بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص، احتیاطی صحت کے فروغ اور بہتر طبی نتائج کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت نے کارکردگی بڑھانے کے لئے پرفارمنس فریم ورک متعارف کرادیا، پہلے مرحلے میں صحت اور انسدادِ پولیو کے لئے اہداف مقرر
خیبرپختونخوا حکومت نے بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمات کے معیار میں بہتری اور سرکاری اداروں میں جوابدہی کو فروغ دینے کے لیے پرفارمنس فریم ورک کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کے پہلے مرحلے میں محکمہ صحت, انسدادِپولیو پروگرام اور توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے ساتھ کارکردگی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔یہ فریم ورک حکومت کی وسیع اصلاحاتی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت مختلف محکموں کے لیے واضح اہداف، مقررہ مدت اور کارکردگی جانچنے کا مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔یہ معاہدے حکومتِ خیبرپختونخوا کی جانب سے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز کے درمیان متعلقہ وزراء کی موجودگی میں طے پائیں گے۔ محکمہ صحت اور انسدادِپولیو سے متعلق ایگریمنٹ کی تقریب چیف سیکٹری آفس میں منعقد ہوئی۔تقریب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) محمد عابد مجید اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات لیفٹیننٹ (ر) اسلام زیب نے بھی شرکت کی۔محکمہ صحت کے ساتھ کارکردگی معاہدے پر چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان نے دستخط کیے۔اس معاہدے کے تحت محکمہ صحت نے صوبے بھر کے بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) اور دیہی مراکز صحت (آر ایچ سیز) میں 500 نئے ڈاکٹرز بھرتی کرکے تعینات کرنے کا حدف مقررکیا ہے تاکہ کوئی بھی مرکز ڈاکٹر سے محروم نہ رہے۔اسی طرح 250 بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کو چوبیس گھنٹے زچگی کی سہولیات فراہم کرنے کے قابل بنایا جائے گا، جس سے دور دراز علاقوں کی خواتین کو محفوظ اور بروقت طبی سہولتیں میسر آئیں گی اور زچگی کے دوران اموات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔محکمہ صحت نے صوبے بھر میں بنیادی اور جامع ایمرجنسی زچہ و بچہ مراکز کی تعمیر، اپ گریڈیشن اور بحالی کا بھی حدف مقررکیا ہے تاکہ ماں اور نومولود بچوں کی صحت کی سہولیات مزید بہتر بنائی جا سکیں۔اس کے علاوہ صوبے کے 62 ضلعی سطح کے ثانوی ہسپتال پیشہ ورانہ اداروں کے سپرد کیے جائیں گے تاکہ ہسپتالوں کے انتظامی نظام اور طبی خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔بعد ازاں پولیو کے خاتمے کے لیے بھی ایک الگ کارکردگی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے پر چیف سیکٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان، ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) پولیو کے کوآرڈینیٹر شفیع اللہ خان اور ای پی آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سہیل فاروقی نے دستخط کیے، جبکہ صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) محمد عابد مجید اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات لیفٹیننٹ (ر) اسلام زیب تقریب میں موجود تھے۔اس سہ فریقی معاہدے کے تحت محکمہ صحت، ای او سی پولیو اور توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (ای پی ائی) نے پولیو کے خاتمے کے لیے مشترکہ اہداف مقرر کیے ہیں۔معاہدے کے مطابق جنوبی اضلاع کے بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں 150 مزید ڈاکٹرز تعینات کیے جائیں گے تاکہ پولیو کے خلاف مہم کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ای او سی پولیو نے جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو مہم کے دوران رہ جانے والے بچوں کی تعداد 10 ہزار سے کم کرنے اور پشاور، بنوں اور شمالی وزیرستان میں مسلسل دو مہمات کے دوران ماحولیاتی نمونوں کو پولیو وائرس سے پاک بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اسی طرح ای پی آئی نے صوبے میں 97 فیصد سے زائد ویکسینیشن مراکز کو فعال رکھنے اور بچوں کی مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح 85 فیصد تک بڑھانے کا عزم کیا ہے تاکہ بچوں کو پولیو سمیت دیگر قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں حکومت نے صحت کے شعبے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ریکارڈ بجٹ مختص کیا ہے، تاہم اس شعبے میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ صوبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صحت کے شعبے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے اور حکومت کا مقصد صوبے کے ہر شہری کو معیاری اور سستی طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر صحت، سیکرٹری صحت اور پوری ٹیم صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ہر بنیادی مرکز صحت میں ڈاکٹر موجود ہو، زچہ و بچہ کی چوبیس گھنٹے طبی سہولیات دستیاب ہوں اور کمزور کارکردگی والے ہسپتالوں کی حالت بہتر بنائی جائے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہسپتالوں کو پیشہ ور اداروں کے سپرد کرنے کی پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ضلع اورکزئی کے مشتی میلہ ہسپتال کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ انتظام سنبھالنے کے بعد وہاں طبی خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے لیے ہر بچے تک رسائی، رہ جانے والے بچوں کو ویکسین لگانے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ پرفارمنس ایگریمنٹ فریم ورک سرکاری اداروں میں کارکردگی، جوابدہی اور نتائج پر مبنی نظام متعارف کرانے کی ایک اہم اصلاح ہے۔ اس کے ذریعے اعلیٰ حکام مختلف محکموں اور افسران کی کارکردگی کو واضح اہداف کی بنیاد پر جانچ سکیں گے، جبکہ بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران کو نہ صرف پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع ملیں گے بلکہ عوام کو بھی بہتر سرکاری خدمات فراہم ہوں گی۔
معاون خصوصی عثمان خان بیٹنی نے پبلک ڈے کے موقع پر عوامی مسائل سنے اور ان کے حل کے لئے احکامت جاری کئے، عوامی مسائل۔ ٹانک کی ترقی کے لئے پرعزم ہیں۔عثمان خان بیٹنی
معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی خیبر پختونخوا، عثمان خان بیٹنی نے اپنے دفتر ٹانک میں پبلک ڈے کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر ضلع بھر سے ووٹرز، سپورٹرز، پارٹی کارکنان، مختلف علاقوں کے عمائدین، سماجی شخصیات، سب ڈویژن جنڈولہ اور ٹانک کے معزز جرگہ مشران نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے انفرادی و اجتماعی مسائل معاون خصوصی کے سامنے پیش کیے۔عثمان خان بیٹنی نے عوامی وفود اور شہریوں سے ملاقاتیں کرتے ہوئے ان کے مسائل تفصیل سے سنے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات اور ترقیاتی امور سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی خدمت، مسائل کا بروقت حل اور علاقے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔اس موقع پر معاون خصوصی عثمان خان بیٹنی کا کہنا تھا کہ پبلک ڈے کا مقصد عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا، عوامی مسائل کو براہ راست سننا اور ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کا سفر مشاورت، رابطے اور باہمی اعتماد سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے، اسی لیے پبلک ڈے کا انعقاد باقاعدگی سے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں ٹانک سمیت جنوبی اضلاع کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور فنی تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ٹانک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔پبلک ڈے کے دوران مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود نے اپنے اجتماعی مسائل بھی پیش کیے جن پر معاون خصوصی نے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ عوام نے ان کی جانب سے مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی لینے اور عوامی رابطے کے مؤثر نظام کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں اجتماعی مسائل کے حل اور عوامی خدمت کے اعتراف میں اہلیان گل امام اور اہلیان رنوال نے معاون خصوصی عثمان خان بیٹنی، ضلعی صدر فرحان حکیم خان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ٹانک حلیم شاہ کنڈی کو روایتی لنگیاں اور ہار پہنائے، جبکہ معاون خصوصی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا گزشتہ رات ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہاٹ کا اچانک دورہ
صوبائی وزیر نے ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور انتظامات کا جائزہ لیا
وزیر اطلاعات مریضوں اور انکے تیمارداروں سے ملے، انکو فراہم کردہ طبی سہولیات سے متعلق آگاہی حاصل کی
مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے، شفیع جان
عوام کو علاج معالجے کی سہولیات میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، شفیع جان
ہسپتالوں میں عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، شفیع جان
صحت کا شعبہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی حصہ اور صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، شفیع جان
موجودہ مالی سال کے لئے بجٹ میں شعبہ صحت کا بجٹ 275 ارب روپے سے بڑھا کر 334 ارب روپے کردیا گیا، شفیع جان
بانی چئیرمن عمران خان کے ویژن کے مطابق یونیورسل ہیلتھ کوریج کے تحت عوام کو مفت علاج کی فراہمی کے لئے 50 ارب روپے مختص کر دیے گئے ہیں، شفیع جان
KP INFO MINISTER ORDERS IMMEDIATE END TO UNANNOUNCED POWER OUTAGES IN KOHAT
Khyber Pakhtunkhwa Minister on Information and Public Relations Shafi Jan has on Thursday directed the WAPDA authorities to immediately end unnecessary and unannounced electricity load-shedding in Kohat, expressing strong concern over prolonged power outages that have disrupted daily life and business activities.
The directives were issued while chairing a high-level meeting at the Deputy Commissioner’s Office in Kohat. The meeting beside others, was also attended by the Deputy Commissioner Muhammad Nawaz Wazir, Assistant Commissioner Naveed Ahmad, former Gumbat Tehsil Mayor Sajid Iqbal, Qasim Zubair, focal person to MNA Shehryar Khan Afridi, local elders and officials of WAPDA.
Participants reviewed the impact of prolonged and unannounced power cuts on residents, commercial activities and public services, stressing that extended outages had created serious hardships for consumers across the district.
Shafi Jan said ensuring the provision of basic public services remained a top priority of the provincial government and that unnecessary power outages were unacceptable. He directed the WAPDA authorities to improve the electricity distribution system, promptly address technical faults and ensure timely resolution of public complaints.
WAPDA officials briefed the meeting on the challenges affecting electricity supply, load management and the measures being taken to improve the power distribution network.
The minister emphasized that tangible improvements should be made without delay to provide immediate relief to the public.
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ عثمان بیٹنی کے پی ٹیوٹا بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرپرسن مقرر
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ عثمان بیٹنی کو خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (کے پی ٹیوٹا) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرپرسن مقرر کیا ہے۔ یہ تقرری خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ایکٹ 2015 کی دفعہ 5(3) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔اس حوالے سے معاون خصوصی عثمان بیٹنی نے کے پی ٹیوٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرپرسن کی تقرری پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کےاعتماد پر پورا اترنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کے پی ٹیوٹا میں مؤثر پالیسی سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو معیاری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جا سکے۔عثمان بیٹنی نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت نوجوانوں کو معیاری فنی و پیشہ ورانہ تعلیم فراہم کرنے اور انہیں ہنر مند بنا کر روزگار کے بہتر مواقع مہیا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کے پی ٹیوٹا کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، صنعت دوست اور مؤثر ادارہ بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ صوبے میں فنی تعلیم کے شعبے کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جا سکے۔
کیپرا کی شاندار کارکردگی
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے مالی سال 2025-26 کے دوران سیلز ٹیکس آن سروسز کی وصولیوں میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کرتے ہوئے 48.71 ارب روپے جمع کیے، جو گزشتہ مالی سال کے 40.60 ارب روپے کے مقابلے میں 8.11 ارب روپے زیادہ ہیں۔ترجمان کیپرا کے مطابق ادارے نے مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 53.7 ارب روپے کے محاصل جمع کیے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران 51.8 ارب روپے کے محاصل جمع کیے گئے تھے۔ کیپرا نے سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں مقررہ 45.5 ارب روپے کا ہدف بھی کامیابی سے عبور کر لیا۔تفصیلات کے مطابق سیلز ٹیکس آن سروسز کی وصولیوں میں نمایاں اضافہ مؤثر ٹیکس انتظام و منصوبہ بندی، بہتر نفاذ، ٹیکس دہندگان کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ادارے کے افسران و اہلکاروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔مالی سال کے دوران انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (آئی ڈی سی) کی مد میں 5 ارب روپے وصول کیے گئے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے نتیجے میں آئی ڈی سی کی وصولیوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ڈائریکٹر جنرل کیپرا، مس ارم ناز نے افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس آن سروسز کی وصولیوں میں نمایاں اضافہ پوری ٹیم کی محنت، مؤثر حکمت عملی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کیپرا ہیڈکوارٹرز اور تمام ریجنل دفاتر نے مالی سال 2025-26 کے لیے اپنے مقررہ اہداف کامیابی سے حاصل کیے، اور انہیں یقین ہے کہ اسی جذبے، حکمت عملی اور لگن کے ساتھ آئندہ مالی سال کے اہداف بھی کامیابی سے حاصل کیے جائیں گے۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم اور سیکرٹری برائے محکمہ خزانہ کیپٹن ریٹائرڈ کامران احمد آفریدی کی رہنمائی اور تعاون پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرپرستی نے کیپرا کی ادارہ جاتی استعداد اور ریونیو اصلاحات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ڈائریکٹر جنرل نے ٹیکس دہندگان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اعتماد اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کا رجحان کیپرا کی کامیابی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے، ڈیجیٹل سہولیات میں اضافے، ٹیکس دہندگان کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی مالی خود انحصاری کے فروغ کے لیے اپنی اصلاحاتی کوششیں جاری رکھے گا۔
