Home Blog Page 85

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا اسمبلی کی سپیشل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ، صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی سمیت کمیٹی کے دیگر اراکینِ صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا اور ان کی ٹیم نے صوبے میں مجموعی امن و امان، سیکیورٹی صورتحال، پشاور، ضم شدہ اضلاع اور حساس علاقوں میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ پولیس حکام کی جانب سے ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی گئی، جس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس فورس کی صلاحیت میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو سراہا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سیکیورٹی کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔اجلاس میں پولیس حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص اینٹی ڈرون سسٹمز، اسلحہ، تھانوں اور پولیس اسٹیشنز کی تعمیر و بہتری، اور فنڈنگ کے طریقہ کار میں بہتری درکار ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں سیکیورٹی منصوبوں پر خاطر خواہ پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہاں فنڈز کی ادائیگی ہو چکی ہے اور آئندہ دو برسوں میں باقی ماندہ کمیوں کو پورا کر لیا جائے گا۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کو مضبوط بنانے کے لیے نئی بھرتیوں، مستقل تربیت اور علیحدہ کیڈر کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ دیگر صوبوں کی طرز پر ایک مضبوط اور مستقل CTD فورس تشکیل دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹیلیجنس نظام کو مؤثر بنانے اور اداروں کے مابین انٹیلیجنس شیئرنگ کو ڈویژنل سطح تک وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں پشاور، ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت سمیت دیگر اضلاع میں سیف سٹی منصوبوں کے جلد آغاز سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اسپیشل سیکورٹی کمیٹی کا یہ آخری اجلاس نہیں، آئندہ اجلاسوں متعلقہ اداروں سے بھی بریفنگ لی جائے گی۔ کمیٹی تمام مشاورت کے بعد اپنی جامع سفارشات صوبائی و وفاقی حکومت کو ارسال کرے گی اور انہیں ایوان میں بھی پیش کیا جائے گا۔اسپیکر نے واضح کیا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور ٹھوس پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں، اور اسمبلی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سیکیورٹی معاملات پر بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔

The Provincial Minister for Health, Khyber Pakhtunkhwa, Khaliq-ur-Rehman, visited the Emergency Satellite Hospital Nahaqi, Peshawar, where he laid the cornerstone of the Comprehensive Emergency Obstetric and Newborn Care (CEmONC) Unit and a warehouse.

The Provincial Minister for Health, Khyber Pakhtunkhwa, Khaliq-ur-Rehman, visited the Emergency Satellite Hospital Nahaqi, Peshawar, where he laid the cornerstone of the Comprehensive Emergency Obstetric and Newborn Care (CEmONC) Unit and a warehouse. The visit reflects the government’s commitment to strengthening maternal and neonatal healthcare services at the secondary level.

The former MPA Arbab Jehandad Khan, HCIP Project Director Dr. Bilal, the Hospital Director, and other concerned officials were also present on the occasion. The establishment of the CEmONC facility will significantly strengthen the gynecology department by providing complete operation theatre facilities, essential medicines, and well-equipped wards for mothers and newborns. This initiative will help reduce emergency referrals to major tertiary care hospitals in Peshawar and ensure timely care at the local level.

During the visit, the Provincial Minister inspected various units of the hospital, including the OPD, Emergency, Medicine Units, and inpatient wards. He issued clear directives to the Hospital Director to ensure the availability and punctual attendance of doctors, nurses, and paramedical staff. He also emphasized maintaining cleanliness and a hygienic environment across the hospital, stating that negligence in service delivery would not be tolerated as this is the only major healthcare facility catering to the local population.

The Minister stated that the Health Department is actively pursuing its reform agenda, under which the required number of doctors, nurses, paramedical staff, and essential medical equipment will be ensured in public sector hospitals. He further added that the Provincial Government is serious about revamping and equipping primary and secondary healthcare units across all districts to reduce the burden on tertiary care hospitals and provide quality healthcare services at the doorstep of the people.

The Provincial Minister informed that the Health Department is also finalizing a new comprehensive health policy aimed at addressing existing challenges in the healthcare system. He directed doctors and local representatives to refrain from political interference in hospital affairs, emphasizing that hospitals are meant to serve humanity without discrimination on the basis of political affiliation or background.

The Minister further directed the Hospital Director to strictly ensure attendance of all staff members, warning that absenteeism would invite strict disciplinary action. He expressed confidence that, with collective efforts and sincere implementation of reforms, positive and visible improvements in healthcare services across the province will be witnessed soon.

نو منتخب پشاور پریس کلب کا جمہوری انتخاب قابل تحسین ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے منگل کے روز پشاور پریس کلب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پشاور پریس کلب کے نو منتخب صدر ایم ریاض اور کابینہ کے دیگر اراکین کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی،اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ پشاور پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کا جمہوری طریقے سے انتخاب جمہوریت کی بہترین مثال ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے کے صحافیوں نے مشکل حالات کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دی ہیں۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے جو جمہوریت کے استحکام اور معاشرتی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے،شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے اور صحافی برادری کے مسائل کا بخوبی ادراک رکھتی ہے،انہوں نے شہید صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ہر سال کی طرح عنقریب صحافیوں کے لیے ایک خصوصی پیکج کا اعلان کرے گی،اس موقع پر صدر پشاور پریس کلب ایم ریاض نے معاون خصوصی شفیع جان کا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے صحافی دوست اقدامات قابل تحسین ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت صحافیوں کے لیے فلاحی اقدامات کا تسلسل برقرار رکھے گی،بعد ازاں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دورہ پنجاب انتہائی کامیاب رہا جہاں پنجاب کے عوام اور پارٹی کارکنوں نے وزیراعلیٰ کا بھرپور استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کا مقصد بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز تھا، جس میں کامیابی حاصل ہوئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں سندھ اور بلوچستان کا بھی دورہ کریں گے، جس کے بعد سیاسی تحریک کی باقاعدہ کال دی جائے گی،معاون خصوصی نے وزیراعلیٰ کے دورہ لاہور کے دوران پنجاب حکومت کے منفی کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں کرفیو، اندھیرے اور مکمل بندش کا سماں تھا۔ چکری سے لے کر لبرٹی اور فوڈ اسٹریٹ تک سڑکیں بند کی گئیں،شفیع جان نے عظمیٰ بخاری کو سیاسی خانہ بدوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی مسلم لیگ (ن) میں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عظمیٰ بخاری کے شوہر فارم 47 کے ذریعے پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ عظمیٰ بخاری کی ہدایت پر اراکین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور نام نہاد صحافیوں کو اسمبلی میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے عظمیٰ بخاری کو صرف پی ٹی آئی پر الزامات لگانے کے لیے استعمال کیا ہے،صوبے میں قیام امن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے حال ہی میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے 31 ارب روپے کے خصوصی پیکج کی منظوری دی ہے اور دونوں اداروں کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کے بقایا جات ادا نہیں کر رہی، تاہم صوبائی حکومت اپنے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی

خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر کا پنجاب اسمبلی کے سپیکر کو وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی سربراہی میں اراکینِ اسمبلی پر مشتمل وفد کے دورہ پنجاب اسمبلی کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر خط

خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں لاہور میں پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے وفد، جس کی قیادت وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کر رہے تھے اور جس میں منتخب اراکینِ اسمبلی اور مدعو مہمان شامل تھے، کو دورے سے قبل باقاعدہ سرکاری رابطوں اور پیشگی اطلاع کے باوجود متعدد رکاوٹوں، غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور پارلیمانی آداب کی صریح خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وفد کے اراکین کو غیر ضروری تاخیر، بار بار سیکیورٹی چیک، جارحانہ سوالات، اور غیر مہذب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔خط کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ اسمبلی کی عمارت کی جانب پیدل جارہے تھے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے روکے گئے اراکین کو دھکے دیے گئے اور نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، جس کے باعث وہ واپس اپنی گاڑی کی جانب جانے پر مجبور ہوئے۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے اس طرزِ عمل کو آئینی تقاضوں اور پارلیمانی روایات کے سراسر منافی قرار دیا۔
خط میں بعض ایسے افراد کے طرزِ عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جو خود کو صحافی ظاہر کرتے ہوئے مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور متنازعہ سوالات کے ذریعے ماحول کو مزید کشیدہ بنانے اور سرکاری دورے کی سنجیدگی کو متاثر کرنے کا باعث بنے۔اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے واضح کیا کہ صوبائی اسمبلیاں آئینی ادارے ہیں اور مختلف صوبوں کے منتخب نمائندوں کے مابین روابط باہمی احترام، ضبطِ نفس اور پارلیمانی آداب کے دائرے میں ہونے چاہئیں۔ خط میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سیکیورٹی سے متعلق امور کو عوامی توہین یا جسمانی تصادم کے بجائے ادارہ جاتی رابطوں اور پیشگی انتظامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔اسپیکر نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مناسب سطح پر مکمل جانچ کی جائے، جہاں ذمہ داری عائد ہوتی ہو وہاں اس کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح اور مؤثر ہدایات جاری کی جائیں۔ خط کی نقول چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو بھی برائے اطلاع ارسال کی گئی ہیں۔خط کے اختتام پر اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر ایسے واقعات کو نظر انداز کیا گیا تو یہ صوبوں کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام اور وفاقی تعاون کے جذبے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سالڈ ویسٹ کو ری سائیکل کرکے نہ صرف ماحولیاتی بہتری بلکہ آمدن بھی حاصل کی جا سکتی ہے، شفیع جان

محکمہ بلدیات و دیہی ترقی خیبر پختونخوا کی جانب سے یونیسف کے تعاون سے کوہاٹ اور ہری پور میں انٹیگریٹڈ ریسورس اینڈ ریکوری سینٹرز کے پائیدار آپریشنز کے پائلٹ منصوبے کے آغاز کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد پشاور میں کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان، محکمہ بلدیات کے افسران، یونیسف کے نمائندگان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ دنیا تیزی سے جدید سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹمز کی جانب بڑھ رہی ہے، چین 2030 تک یومیہ 480 ملین ٹن سالڈ ویسٹ کو ری سائیکل کرکے دوبارہ استعمال میں لانے کا ہدف رکھتا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کچرے کو مؤثر منصوبہ بندی کے تحت ایک قیمتی ریسورس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی سالڈ ویسٹ کو ری سائیکل کرکے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ اس سے خاطر خواہ معاشی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں،شفیع جان نے کہا کہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ منصوبے تو شروع کر دیے جاتے ہیں مگر انہیں برقرار نہیں رکھا جاتا جس کے باعث مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو پاتے، گورننس کے حوالے سے پالیسی میں تسلسل تمام حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے جس پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے منصوبے کے لیے یونیسف کے تعاون کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جو وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں نئے آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، جبکہ جدید تقاضوں کے مطابق کام کرکے صوبے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ معاون خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، کام کا تسلسل برقرار رکھا جائے اور عوام پر بوجھ کم رکھنے کے لیے سروس چارجز کم سے کم رکھے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے کی گورننس مزید بہتر ہو رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رکھی ہے،شفیع جان نے مزید کہا کہ آئندہ ماہ صوبائی حکومت کے 100 دن مکمل ہو رہے ہیں اور ان دنوں کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی گورننس میں محکمہ بلدیات کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور جدید تکنیکس کو بروئے کار لا کر آمدن کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں،انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کی معیشت کی بہتری میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے، پانی سمیت سالڈ ویسٹ کو ری سائیکل کرکے دوبارہ استعمال میں لا کر نہ صرف ماحولیاتی بہتری بلکہ آمدن بھی حاصل کی جا سکتی ہے، معاون خصوصی شفیع جان نے امید ظاہر کی کہ کوہاٹ اور ہری پور میں شروع کیا گیا یہ پائلٹ منصوبہ کامیاب ہوگا اور جدید تکنیکس کے ذریعے صوبے اور ملک کو دیرپا فائدہ پہنچائے گا۔

خیبر پختونخوا میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تحقیق، تربیت و جدت کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

خیبر پختونخوا میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تحقیق، تربیت و جدت کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ خیبرپختونخوا اور پاک آسٹریا فاخشولے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور کے حکام کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔یہ ایم او یو پاک آسٹریا انسٹی ٹیوٹ کے سینٹر آف ایکسی لینس اِن ٹرانسپورٹیشن / ریلوے انجینئرنگ کے ساتھ منگل کے روز چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی موجودگی میں طے پایا۔ایم او یو کے تحت دونوں ادارے انسانی وسائل کی تربیت، تحقیقی سرگرمیوں، مہارتوں کے فروغ اور شہری آمدورفت و ریلوے کے شعبے میں تکنیکی معاونت کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس شراکت داری کے ذریعے محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران ریلوے سسٹمز انجینئرنگ اور ٹرانسپورٹیشن سسٹمز انجینئرنگ میں خصوصی ایم ایس پروگرامز کے علاوہ قلیل مدتی پیشہ ورانہ اور آئی ٹی تربیتی کورسز بھی کر سکیں گے۔معاہدے میں مشترکہ تحقیقی منصوبے، پالیسی معاونت، ٹرانسپورٹ سے متعلق مسائل پر مطالعاتی و عملی مشقیں، اور مختلف ٹرانسپورٹ منصوبوں کے لیے مشاورتی خدمات بھی شامل ہیں، جن میں صوبے میں مضافاتی اور مسافر ریل منصوبوں کی ابتدائی فزیبلٹی اسٹڈیز شامل ہوں گی۔پانچ سالہ مدت کے لیے طے پانے والا یہ ایم او یو صوبائی حکومت کے جدید، پائیدار اور تحقیق پر مبنی ٹرانسپورٹ نظام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس کے ذریعے تعلیمی مہارت سے استفادہ کرتے ہوئے پالیسی سازی اور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنایا جائے گا۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی پشاور پریس کلب آمد/نو منتخب کابینہ کو مبارکباد/ میڈیا سے گفتگو

معاون خصوصی شفیع جان کی پشاور پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کو مبارکباد

نو منتخب کابینہ کا جمہوری عمل کے ذریعے انتخاب جمہوریت کی بہترین مثال ہے، شفیع جان

صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، صوبے کے صحافیوں نے مشکل حالات میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، شفیع جان

صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کر رہی ہے، شفیع جان

معاون خصوصی کا شہید صحافیوں کو خراج عقیدت، عنقریب صحافیوں کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان ہوگا، شفیع جان

صوبائی حکومت کے صحافی دوست اقدامات قابل تحسین ہیں، صدر پشاور پریس کلب ایم ریاض

امید ہے صوبائی حکومت صحافیوں کے لیے اقدامات کا تسلسل برقرار رکھے گی،ایم ریاض

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ پنجاب انتہائی کامیاب رہا،دورے کا مقصد اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز تھا، شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں سندھ اور بلوچستان کا بھی دورہ کریں گے، شفیع جان

اسٹریٹ موومنٹ کے بعد سیاسی تحریک کی کال دی جائے گی، شفیع جان

پنجاب دورے کے دوران لاہور میں کرفیو، اندھیرے اور مکمل بندش کا سماں تھا، شفیع جان

چکری سے لے کر لبرٹی اور فوڈ اسٹریٹ تک راستے بند کیے گئے تھے، شفیع جان

عظمیٰ بخاری ایک سیاسی خانہ بدوش ہیں،کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی ن لیگ میں رہیں، شفیع جان

عظمیٰ بخاری کے شوہر فارم 47 کے ذریعے پنجاب اسمبلی کے رکن بنے، شفیع جان

عظمی بخاری کی ہدایت پر اراکین سے بدتمیزی اور نام نہاد صحافیوں کو اسمبلی پہنچایا گیا، شفیع جان

عظمیٰ بخاری کو ن لیگ نے پی ٹی آئی پر الزامات کے لیے بھرتی کیا ہے، شفیع جان

صوبائی حکومت قیام امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے 31 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی، شفیع جان

پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، شفیع جان

وفاق صوبے کے بقایا جات ادا نہیں کر رہا، صوبے کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، شفیع جان

حکومت کے بیرونی سرمایہ کاری دعوے صرف دعوے ہی رہ گئے پچھلے 5 ماہ میں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری صرف 313 ملین ڈالر رہی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے 2025 کے احتتام پر بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق اہم بیان بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے 5 ماہ میں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری صرف 313 ملین ڈالر رہی۔ حکومت کے بیرونی سرمایہ کاری دعوے صرف دعوے ہی رہ گئے اور پی ایم ایل این کا دعویٰ کہ نواز شریف کے سعودی اور امارات سے تعلقات ہیں تو نواز شریف کے تعلقات کہاں گئے اور بیرونی سرمایہ کاری کہاں گئی۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سربراہ مملکت کے زیادہ بیرونی دورے کا ریکارڈ شہباز شریف کے نام جاتا ہے شہباز شریف نے پچھلے دو سالوں میں تقریباً 40 بیرونی دورے کر چکے ہیں اور 2022 سے تقریباً 60 بیرونی دورے کر چکے ہیں ویسے زیادہ بیرونی دورے کی وجہ سے شہباز شریف کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ہونا چاہیے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ شہباز شریف اگر ہر دورے میں 10 ملین ڈالر لاتے تو 600 ملین ڈالر بنتے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت اور ذرداری صاحب کہہ رہے ہیں کہ انڈیا کو چنے چبوائے گے تب چنے چبوا سکتے ہیں جب معیشت مضبوط ہوگی۔ مضبوط دفاع کیلئے مضبوط معیشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ داد دیتا ہوں افواج پاکستان کو محدود وسائل میں انڈیا کو ٹف ٹائم دیا اور حال ہی میں ہرایا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ انڈیا میں پچھلے سال 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے اور انڈیا سرمایہ کاری سب سے زیادہ صنعت میں ہیں جبکہ ہمارا صنعتی سیکٹر منفی میں ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ مصر اسلامی ملک ہے جس میں رواں سال 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات سے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں لڑائیوں کے باوجود 1.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے اور سری لنکا جو ڈیفالٹ کرگیا تھا رواں سال سرمایہ کاری 827 ملین ڈالر آئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مصر میں ایس آئی ایف سی بھی نہیں ہے ہمارے حکمرانوں کو ایس آئی ایف سی کی بھی سپورٹ حاصل ہے پھر بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ کی روزانہ باتیں کرتے ہیں وھاں سے بھی بیرونی سرمایہ کاری چلی گئی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ بڑے بڑے سرمایہ کار کمپنیاں پاکستان سے جا رہی ہے۔ ٹیلی نار ہاتھ جوڑ کر چلا گیا جبکہ جاز ٹیلی کام نے بزنس ٹاور بیچ دیا۔ اس وجہ سے پاکستان سے مزید ڈالر جائیں گے کیونکہ مقامی کمپنی اتصالات خرید رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے متحدہ ارب امارات کو تین ارب ڈالر واپس کرنے تھے جو نہ کرسکے اسحاق ڈار کہہ رہے کہ دو ارب ڈالر اگلے سال رول اوور کرینگے جبکہ ایک ارب ڈالر کے فوجی فاؤنڈیشن میں شئیرز دینگے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ معاشی کارکردگی کی بجائے حکومت کی کارکردگی صرف آئین میں ترامیم کرانا ہے اور حکومت قوم سے معافی مانگے وہ تقریباً چار سالوں میں معیشت کیلئے کچھ نہ کر سکے۔

کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے خیبر پختونخوا میں ادارہ جاتی اقدامات مضبوط بنانے کا عزم

کم عمری کی شادی کی روک تھام اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے خیبر پختونخوا میں ادارہ جاتی اقدامات کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں ایک صوبائی شوکیسنگ تقریب منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی، گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے)، برطانوی حکومت کے ادارہ برائے خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقی (ایف سی ڈی او)، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور فرنٹ لائن اہلکاروں نے شرکت کی۔تقریب کے انعقاد کا مقصد یہ اجاگر کرنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کو مہم کے ساتھ ساتھ گورننس، سروس ڈیلیوری اور احتسابی نظام کا مستقل حصہ بنایا جائے اور اس ضمن میں اداراجاتی اقدامات کو مزید مستحکم اور منظم کیا جائے۔مقررین نے بتایا کہ محکمہ بلدیات کی کثیر سالہ اصلاحات اب کم عمری کی شادی کی روک تھام کو مقامی حکومت کی بنیادی ترجیح کے طور پر شامل کر چکی ہے۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ 2024 سے اب تک اس اقدام کے تحت خیبر پختونخوا بھر میں 976 فرنٹ لائن اور نگران افسران کو تربیت دی گئی ہے، جن میں 416 نکاح رجسٹرارز، 395 ویلج اور نیبرہوڈ کونسل سیکرٹریز اور 96 نگران افسران شامل ہیں۔ تربیتی پروگرامز میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین، کم عمری کی شادی، صنفی مساوات اور خاندانی قوانین پر خصوصی توجہ دی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ 33 ماسٹر ٹرینرز پر مشتمل ایک ورک فورس تیار کی گئی ہے تاکہ یہ عمل حکومتی ڈھانچے کے اندر مسلسل جاری رہے اور بیرونی معاونت پر انحصار کم ہو۔اس موقع پر ڈائریکٹر محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی خیبر پختونخوا سردارالملک نے کہا کہ نکاح رجسٹریشن کے نظام کو باقاعدہ، شفاف اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق نگرانی اور معائنہ کے نظام کو مضبوط کر کے کم عمری کی شادی کی روک تھام کو روزمرہ انتظامی نگرانی کا حصہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ قانون پر عملدرآمد صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں اور پائیدار بنیادوں پر ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ کم عمری کی شادی کسی ایک طبقے یا کمیونٹی کا مسئلہ نہیں، اس لیے حکومت تمام برادریوں، بشمول اقلیتوں، میں نکاح رجسٹریشن کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کر رہی ہے تاکہ ہر بچے کو برابر قانونی تحفظ مل سکے۔بتایا گیا کہ نکاح رجسٹرارز کے لیے معیاری سرٹیفکیشن اور تجدیدِ سرٹیفکیشن کے اصول وضع کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہری پور اور نوشہرہ میں نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کا پائلٹ منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے، جس سے عمر کی تصدیق، دستاویزات اور احتساب کے عمل کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔سابق ڈائریکٹر آپریشنز سعید الرحمن نے کہا کہ تجربات سے یہ واضح ہوا ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات شواہد پر مبنی ہونی چاہئیں اور فرنٹ لائن عملے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق جب مقامی اہلکار قانون اور کم عمری کی شادی کے سماجی نقصانات کو سمجھتے ہیں تو روک تھام عملی سطح پر ممکن ہو جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ نکاح نامے میں دلہا اور دلہن کی عمر کے لازمی خانے شامل کرنے اور نادرا کے اشتراک سے نکاح رجسٹریشن کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے موبائل ایپ کا پائلٹ منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے ڈپٹی چیف اعجاز احمد خان نے مقامی حکومتوں، نکاح رجسٹرارز اور تحفظاتی اداروں کے درمیان مضبوط رابطے کو بروقت نشاندہی اور مؤثر کارروائی کے لیے ضروری قرار دیا۔خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ نکاح رجسٹریشن قوانین کا مستقل نفاذ بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاستی عزم کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانے اور سی ایم آر اے بل کی منظوری پر بھی زور دیا۔گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمین شیخ نے کہا کہ اس اقدام نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کو ایک وقتی منصوبے کے بجائے حکمرانی کے نظام کا حصہ بنا دیا ہے۔ یو این ایف پی اے کی صوبائی کوآرڈینیٹر ماہ جبین قاضی نے کہا کہ پائیدار نتائج اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب اصلاحات حکومتی نظام کے اندر شامل ہوں۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کم عمری کی شادی کا خاتمہ بچیوں کی تعلیم، صحت، تحفظ اور باوقار مستقبل کے لیے ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ نے سال 2025 میں آنے والی سیلابی آفت میں بونیر اور صوبے کے دیگر علاقوں میں لوگوں کے نقصانات کا ازلہ کرنے کیلئیدوکانات،رکشوں،پٹرول پمپس،گاڑیوں،اٹا کی آبی چکیوں (جرندہ) اور فیکٹریوں کے مالکان کے نقصانات پر مدد کیلئے مالی معاونت کی منظوری دی ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ نے سال 2025 میں آنے والی سیلابی آفت میں بونیر اور صوبے کے دیگر علاقوں میں لوگوں کے نقصانات کا ازلہ کرنے کیلئیدوکانات،رکشوں،پٹرول پمپس،گاڑیوں،اٹا کی آبی چکیوں (جرندہ) اور فیکٹریوں کے مالکان کے نقصانات پر مدد کیلئے مالی معاونت کی منظوری دی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام بونیر کے متاثرین سیلاب اور اس آفت میں متاثرہ دیگر علاقوں کے متاثرین کیلئے صوبائی حکومت کی ایک اہم کاوش ہے جس سے متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا ازالہ ہو سکے گا۔واضح رہے کہ اگست 2025 میں آسمانی بجلی گرنے سے رونما ہونے والے ہولناک سیلاب سے ضلع بونیر میں کافی جانی و مالی نقصانات رونما ہوئے تھے اور صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی گذارش پر وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے اپنے دورہ بونیر کے دوران خصوصی اعلان میں متاثرہ گھروں اور انسانی نقصانات کیلئے معاوضے کو بھی بڑھایا تھا۔اسی طرح سیلاب میں رکشہ و گاڑیوں کے نقصانات،پیٹرول پمپس، پن چکیوں،دوکانات اور ماربل فیکٹریز کے نقصانات معاوضے سے رہ گئے تھے۔اب صوبائی حکومت نے ان کی مالی معاوضے کی منظوری دی یے۔