وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم نے محکمہ بہبود آبادی کے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ ضلع میں تعینات محکمہ کے تمام ملازمین کی اپنے متعلقہ اضلاع میں حاضری اور فرائض کی انجام دہی ہر صورت یقینی بنائی جائے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم نے محکمہ بہبود آبادی کے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ ضلع میں تعینات محکمہ کے تمام ملازمین کی اپنے متعلقہ اضلاع میں حاضری اور فرائض کی انجام دہی ہر صورت یقینی بنائی جائے، جبکہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے یا اپنے تعیناتی والے ضلع میں فرائض سرانجام نہ دینے والے ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز پشاور میں محکمہ بہبود آبادی خیبر پختونخوا کے سالانہ آن لائن جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں سیکرٹری بہبود آبادی ڈاکٹر انیلہ محفوظ درانی، ڈائریکٹر جنرل بہبود آبادی عبداللہ، ڈائریکٹر پلاننگ عمران شاہ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سلمان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران صوبے کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں محکمے کی کارکردگی، بجٹ کے استعمال، جاری سرگرمیوں، عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔طفیل انجم نے کہا کہ محکمہ بہبود آبادی کی خدمات کا براہ راست تعلق عوام کی فلاح و بہبود سے ہے، اس لیے افسران اور اہلکاروں کی بروقت حاضری، ذمہ داری اور فرائض کی دیانت داری سے انجام دہی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ سرکاری وسائل اور افرادی قوت عوام کو بہتر اور بروقت خدمات کی فراہمی کے لیے استعمال ہو۔معاون خصوصی نے مزید ہدایت کی کہ ضلعی سطح پر محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے درپیش مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں، جبکہ ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کے شفاف اور مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ بہبود آبادی کو مزید فعال، مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور ضلعی افسران اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے ادا کریں تاکہ محکمہ کی خدمات کے ثمرات صوبے کے عوام تک مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔

مزید پڑھیں